Tag: جنگ

  • جنگ اور مسلمان خواتین کا کردار

    جنگ اور مسلمان خواتین کا کردار

    جنگ اور مسلمان خواتین کا کردار

    سدرہ منور
    جب نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اعلان نبوت کیا اور اہل مکہ کو دعوت توحید دی تب سے لے کے آج تک دشمنان اسلام اہل ایمان سے ٹکراتے رہیں ہیں۔ اور یہ ٹکراؤ قیامت تک جاری رہے گا کیونکہ کبھی بھی حق اور باطل ایک نہیں ہو سکتے اسلام حق ہے اور حق کے پیروکار کبھی بھی باطل کے سامنے نہیں جھک سکتے۔اسلام کبھی بھی جنگ کا اور خون ریزی کا حامی نہیں ہے۔ مگر اپنے دفاع اور دین کی سربلندی کے لیے جہاد کا حکم دیتا ہے۔

    آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم والسلام نے صحابہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ….

    لوگو! دشمن کے ساتھ جنگ ​​کی خواہش اور تمنا دل میں نہ رکھو۔
    بلکہ اللہ تعالی سے امان اور عافیت کی دعا کیا کرو۔

    البتہ جب دشمن سے مد بھیڑ ہو ہی جائے تو پھر صبر اور استقامت کا ثبوت دو۔
    یاد رکھو کے جنت تلواروں کے سائے تلے ہے،
    اسکے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم والسلام نے یوں دعا کی۔

    «اَللَّهُمَّ مُنْزِلَ الْكِتَابِ، سَرِيعَ الْحِسَابِ مُجْرِيَ السَّحَابِ، هَازِمَ الْأَحْزَابِ، اللَّهُمَّ اهْزِمْهُمْ، وَزَلْزِلْهُمْ».

    ’’اے اللہ! اے کتاب نازل فرمانے والے، جلد حساب لینے والے، بادلوں کو چلانے والے، اور لشکروں کو شکست دینے والے! اے اللہ! انہیں شکست دے اور انہیں ہلا کر رکھ دے۔‘‘
    صحیح بخاری 2966۔
    اسلامی تاریخ میں جس طرح سے مردوں نے بہادری جرات اور جواں مردی کی تاریخ رقم کی اسی طرح سے خواتین نے بھی تاریخ کی اوراق میں اپنا نام سنہری حروف میں لکھوایا غزوات هو یا جنگیں مردوں کے شانہ بشانہ شرکت کی ۔
    جہاد میں خواتین بھی برابر مردوں کے ساتھ شریک ہوتی تھیں۔ صحیح بخاری میں ہے کہ غزوہ احد میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا اپنے ہاتھوں سے مشک بھر بھر کر زخمی سپاہیوں کو پانی پلاتی تھیں۔ ان کے ساتھ دو اور صحابیات حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہ اور ام سلیط رضی اللہ تعالی عنہ بھی اس خدمت میں شریک تھی ۔جنگ کے دوران صحابیات زخمیوں کو پانی پلاتی فوج کے کھانے کا انتظام کرتی شہدا کی قبریں کھود تی زخمی سپاہیوں کو میدان جنگ سے اٹھا کر لاتی اور زخمی سپاہیوں کی مرہم پٹی کرتی ضرورت کے وقت فوج کو ہمت دلانا ان کی مدد کرنا اور میدان جنگ میں خود نکل جانا ان تمام بہادر خواتین کے ذمے تھا ۔
    آج ہمیں اپنے اسلاف کے کارناموں کو پڑھنے کی ضرورت ہے اور اپنے بچوں کو یہ واقعات سنانے کی ضرورت ہے۔
    یہ ان چند غیر مسلم خواتین کے نام ہیں جنہوں نے جنگ میں خدمات سر انجام دی جن کے بارے میں یورپی تعلیمی اداروں میں باقاعدہ بچوں کو بتایا جاتا ہے اور ان کے کارناموں کو سراہا جاتا ہے ۔

    1. *جون آف آرک (فرانس)
    2. *فلورنس نائٹنگیل (برطانیہ
    3. *نور عنایت خان (برطانیہ):
    4. *لیوڈمیلا پاولچینکو (یوکرین/سوویت یونین)
    5. *بوبولینا (یونان)
    6. *ایڈتھ کیول (برطانیہ):
      اس کے مقابلے میں اسلامی تاریخ میں اس قسم کے سینکڑوں واقعات اور سینکڑوں نام ہیں لیکن افسوس کہ ہمارے کان ان سے آشنا نہیں ہے۔ ان بہادر اور عظیم خواتین کے کارناموں سے آشنائی ضروری ہے ۔تاریخ کے اوراق سے چنے چند سنہری واقعات حوالہ قلم کروں گی ۔
      غزوہ خندق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم اور تمام صحابہ رضی اللہ تعالی عنہ یہودیوں سے لڑ رہے تھے کہ بنو قریظہ لڑتے لڑتے اس مقام کے قریب پہنچ کے جہاں مسلمان عورتیں اور بچے چھپے ہوئے تھے۔ اسی اثنا میں ایک یہودی ان عورتوں کی طرف نکل آیا خوف یہ تھا کہ اگر یہ یہودی بنو قریظہ سے کہہ آیا کہ ادھر عورتیں ہیں تو میدان خالی پا کر وہ عورتوں پر حملہ کریں گے ۔حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پھوپھی تھیں خیمے کا ایک ستون اکھاڑ کر خود میدان میں اتری اور اس یہودی کو اسی ستون سے مار کر وہی گرا دیا مورخ ابن اثیرجزری نے لکھا ہے یہ پہلی بہادری تھی جو ایک مسلمان عورت سے ظاہر ہوئی۔
      حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہا کے زمانے میں مسلمہ کذاب نے جب نبوت کا دعوی کیا اور مقام یمامہ میں ایک خون ریز لڑائی کے بعد مسلمہ کذاب مسلمانوں کے ہاتھوں مارا گیا۔ اس جنگ میں جو جنگ یمامہ کے نام سے مشہورہوئی ام عمارہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی شریک تھی اور جب تک ان کا ہاتھ زخمی نہ ہوا دشمنوں سے لڑتی رہی اس دن ام عمارہ رضی اللہ تعالی عنہ کو 12 زخم آئے۔
      جنگ یرموک کے موقع پر جب مسلمانوں کے قدم اکھڑنے لگے رومی فوج عورتوں کے خیموں کے قریب پہنچ گئی مسلمان خواتین انتہائی جوش کے ساتھ فور خیموں سے باہر نکل آئی اور اس زور سے حملہ کیا کہ رومیوں کا سیلاب جو نہایت سرعت سے آگے بڑھ رہا تھا دفعتا تھم کر پیچھے ہٹ گیا اب خواتین نے مسلمان فوج کی ہمت پڑھائی فوج کی پشت پر آ کر مسلمانوں میں جوش پیدا کرنے لگی عورتوں کی ان کوششوں کا یہ اثر ہوا کہ مسلمانوں کے اُکھڑے ہوئے پاؤں پھر سنبھل گئے قریش کی عورتیں تلوار گھسیٹ گھسیٹ کر دشمنوں پر ٹوٹ پڑی اور حملہ کرتے ہوئے مردوں سے آگے نکل گئی حضرت معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی بہن جویریہ رضی اللہ تعالی عنہا نہایت دلیری سے لڑ کر زخمی ہوئی ۔ ضرار بن ازور کی بہن خولہ رضی اللہ تعالی عنہا یہ شعر پڑھ کر مسلمانوں کو غیرت دلاتی تھں۔

    پاک دامن عورتوں کو چھوڑ کر بھاگنے والو تم موت اور تیر کے نشانہ نہ بنو
    حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالی عنہ کی پھپھو زاد بہن اسماء بنت یزید نے تنہا نو رومیوں کو مار ڈالا ۔
    جنگ قادسیہ میں عرب کی مشہور شاعرہ خنسہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی شریک تھی خنسہ رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ ان کے چاروں بیٹے بھی شریک تھے۔ شب کےابتدائی حصے میں جب ہر سپاہی صبح کے ہولناک مناظر پر غور کر رہا تھا آتش بیاں شاعرہ نے اپنے بیٹوں کو یوں جوش دلانا شروع کیا ۔
    ترجمہ
    پیارے بیٹو; تم اپنی خواہش سے مسلمان ہوئے اور تم نے ہجرت کی اللہ واحد لا شریک کی قسم ہے کہ تم جس طرح ایک ماں کے بیٹے ہواسی طرح ایک باپ کے بھی بیٹے ہو میں نے تمہارے باپ سے بد نیتی نہیں کی اور نہ تمہارے ماموں کو ذلیل کیا ۔اور نہ تمہارے حسب و نسب میں داغ لگایا ۔ جو ثواب عظیم اللہ تعالی نے کافروں سے لڑنے میں مسلمانوں کے لیے رکھا ہے تم اس کو خود جانتے ہو۔ خوب سمجھ لو کہ آخرت جو ہمیشہ رہنے والی ہے اس دار فانی سے بہتر ہے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے مسلمانوں! صبر کرو اور استقلال سے کام لو اللہ تعالی سے ڈرو تاکہ تم کامیاب ہو ؛ کل جب خیریت سے تم ان شاءاللہ صبح کرو تو تجربہ کاری کے ساتھ اور اللہ تعالی سے نصرت کی دعا مانگتے ہوئے دشمنوں پر جھپٹ پڑنا ۔اور جب دیکھنا کہ لڑائی زوروں پر ہے اور ہر طرف اس کے شعلے بھڑک رہے ہیں کہ تم خاص آتش دان جنگ کی طرف رخ کرنا ۔اور جب دیکھنا کہ فوج غصے سے آگ ہو رہی ہے تو تم غنیم کے سپہ سالار پر ٹوٹ پڑنا اللہ تعالی کرے کہ تم دنیا میں مال غنیمت اور آخرت میں عزت پاؤ ۔

    جنگ اور مسلمان خواتین کا کردار


    صبح کو جنگ چھڑتے ہی خنساء رضی اللہ تعالی عنہ کا چاروں بیٹے ایک ساتھ دشمن پر جھپٹ پڑے اور آخر کار بڑی بہادری سے لڑ کر چاروں شہید ہوئے خنساء رضی اللہ تعالی عنہ کو جب خبر پہنچی تو انہوں نے کہا اس اللہ تعالی کا شکر ہے جس نے بیٹوں کی شہادت کا مجھے شرف بخشا ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ 800 دینار حضرت خنساء رضی اللہ تعالی عنہا کو ان کے چاروں بیٹیوں کی تنخواہ دیا کرتے تھے۔
    حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ نے جب بنو امیہ کے مقابل حجاز میں اپنی خلافت قائم کی اور حجاج بن یوسف نے ان پر بڑے سر و سامان سے فوج کشی کی تو ان کے ساتھیوں نے ان سے علیحدہ ہونا شروع کر دیا ۔صرف چند مخلص ساتھیوں کی ایک چھوٹی سی جماعت ان کے ساتھ رہ گئی ۔اس وقت حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہا گھبرا کر اپنی ماں سیدہ اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس گئے اور اجازت طلب کی کہ; اگر مناسب ہو تو میں حجاج سے صلح کر لوں ؛ بہادر ماں نے جواب دیا،،
    فرزند من ! اگر تم باطل پر ہو تو آج سے بہت پہلے تم کو صلح کر لینی چاہیے تھی۔ اور اگر حق پر ہو تو ساتھیوں کی کمی سے پریشان نہ ہو حق کی رفاقت خود کیا کم نصرت ہے ؛ ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ ماں کے پاس سے واپس آئے اور تمام ہتھیاروں سے لیس ہو کر ماں سے اجازت طلب کی ماں نے سینے سے لگایا تو جسم بہت سخت نظر آیا پوچھا کیا واقعہ ہے فرمایا میں نے دوہری زرہ پہن لی ہے ۔حضرت اسما رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا یہ شہدائے حق کا شیوہ نہیں ،،ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ نے زرہ اتار ڈالی پھر کہا مجھے ڈر ہے کہ دشمن میری لاش کے ٹکڑے ٹکڑے نہ کر دے ؛فرمایا بیٹا جب بکری ذبح ہو جاتی ہے تو اس کو کھال کھینچنے کی تکلیف نہیں ہوتی ۔ااور اس طرح ماں نے بیٹے کو مقتل میں بھیجا اور حق و صداقت کی قربان گاہ پر اپنے جگر کے ٹکڑے کو نثار کر دیا ۔
    حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کے بعد حجاج نے ان کی لاش کو سر راہ سولی پر لٹکا دیا کچھ دنوں کے بعد حضرت اسماء رضی اللہ تعالی عنہ کا جب ادھر سے گزر ہوا تو بیٹے کی لاش سولی پر لٹکی نظر آئی کون ایسی ماں ہوگی جو اس بھیانک منظر سے تڑپ نہ جائے لیکن وہ نہایت بے پرواہی کے ساتھ ادھر سے گزر گئی اور لٹکی لاش کی طرف اشارہ کر کے یہ بلیغ فقرہ کہا ۔۔کیا اب تک یہ سوار اپنے گھوڑے سے اترا نہیں ۔اس شجاعت اخلاقی جرات اور بے مثال صبر و استقلال کا نمونہ کہاں نظر آ سکتا ہے ۔ان تمام واقعات سے خواتین کا دینی ولولہ قومی ہمدردی غیرت اور بہادری کا جو جذبہ نظر آتا ہے وہ آج کے دور میں ناپید ہے ۔قائرین سے رخصت ہوتے ہوئے اس منظر کو ان کے سامنے کرنا چاہوں گی جب غرناطہ کا آخری سلطان ابو عبداللہ اپنے آخری قلعے کی کنجیاں عیسائی فاتحین کے سپرد کر رہا تھا اور اپنی تھوڑی سی جماعت کے ساتھ اس سرزمین پر جہاں مسلمانوں نے 800 برس حکومت کی آخری نظر ڈالتے ہوئے آنسوؤں اس کی دونوں آنکھوں سے رواں تھے ۔اس وقت سلطان کی والدہ عائشہ آگے بڑھ کر کہتی ہیں کہ ،،بیٹا جس سلطنت کو تم مرد بن کر نہ بچا سکے اب اس کے لیے عورتوں کی طرح مت رو اس ایک جملے میں استقلال اور جرات کی کتنی روح ملتی ہے یہ گزشتہ بہادر مسلمان خواتین کی کارناموں کا ایک دھندلا سا خاکہ تھا ۔
    اب سوال یہ ہے کہ موجودہ خواتین اسلام
    آئندہ کی تاریخ اسلام کے لیے کیا کارنامہ دنیا میں چھوڑ جانا چاہتی ہیں ؟؟؟؟

  • جنگی جنون کا انجام: مودی کی جارحیت کا دندان شکن جواب

    جنگی جنون کا انجام: مودی کی جارحیت کا دندان شکن جواب

    جنگی جنون کا انجام: مودی کی جارحیت کا دندان شکن جواب

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی٭

    جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کے بھارتی رویے کی ایک اور واضح مثال حالیہ ایام میں اس وقت دیکھنے میں آئی جب مودی کی حکومت نے رات کی تاریکی میں بزدلانہ حملہ کرتے ہوئے پاکستانی خودمختاری کو چیلنج کرنے کی ناکام جسارت کی۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی بھارت نے پاکستان کی جغرافیائی یا نظریاتی حدود کو چیلنج کرنے کی کوشش کی، اسے پاکستان کی عسکری، عوامی اور سفارتی سطح پر مؤثر مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔
    بھارت کی جنگی جنون کی تاریخ کوئی نئی نہیں۔ 1965، 1971 اور 1999 کی جنگیں اس کی واضح مثالیں ہیں جن میں بھارتی حکومت نے بار بار پاکستان کو زیر کرنے کی کوشش کی، لیکن ہر بار اسے منہ کی کھانی پڑی۔ خاص طور پر کارگل جنگ کے بعد عالمی برادری کو اس حقیقت کا ادراک ہو چکا ہے کہ بھارتی جارحیت محض داخلی سیاست چمکانے کا ذریعہ ہے، جہاں جنگی ہیجان کو انتخابی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ وہ دن مودی سرکار کو یاد ہوگا جب ہمارے ہیرو لالک جان اور کیپٹن کرنل شیر خان نے بھارت میں گھس کر ان کی فوجیوں کو جہنم رسید کیا تھا۔
    اسی تاریخی تسلسل کا حصہ مودی سرکار کا حالیہ جارحانہ اقدام بھی تھا جس کا مقصد بھارت میں اپنی گرتی ہوئی سیاسی ساکھ کو سہارا دینا، اقلیتوں پر مظالم اور داخلی خلفشار سے عوام کی توجہ ہٹانا اور ایک بار پھر پاک دشمنی کو عوامی جذبات بھڑکانے کے لیے استعمال کرنا تھا۔
    اس کا پاک فضائیہ نے بھرپور جواب دے کر مودی کا غرور خاک میں ملا دیا۔ مودی سرکار کے اس بزدلانہ حملے کا پاک فضائیہ نے نہایت پیشہ ورانہ، جرات مندانہ اور موثر جواب دیا۔ پانچ بھارتی جنگی طیاروں اور سات ڈرونز کی تباہی محض ایک عسکری کامیابی ہی نہیں، بلکہ ایک نظریاتی اور قومی پیغام بھی تھا کہ پاکستان اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔


    یہ جوابی کارروائی نہ صرف عسکری اعتبار سے کامیاب تھی بلکہ اس نے دشمن کو عالمی سطح پر شرمندہ اور داخلی طور پر خوفزدہ کر دیا۔ 25 بھارتی ایئرپورٹس اور کرتارپور راہداری کی بندش اس خوف کا عکاس ہے جس نے بھارت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
    پاکستانی قوم نے قومی یکجہتی کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے اور ہر دل کی یہ صدا ہے کہ پاک فوج قدم بڑھاو ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ پاک فضائیہ کے کامیاب جوابی وار کے بعد ملک بھر میں کراچی سے لے کر چترال تک، بلوچستان سے لے کر کشمیر اور گلگت بلتستان تک جس طرح یکجہتی، حب الوطنی اور عسکری اداروں سے والہانہ وابستگی کا اظہار کیا گیا، وہ قومی شعور اور ذمہ داری کی اعلیٰ مثال ہے۔ پارلیمان سے لے کر گلی کوچوں، گاؤں گاؤں، شہر شہر "پاک فوج زندہ باد”، "پاکستان پائندہ باد” اور "نعرۂ تکبیر” اور نعرہ حیدری کی گونج سنائی دی۔ عوامی ریلیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستانی قوم اپنی افواج کی پشت پر سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہے۔
    سرحدوں پر کشیدگی کے باوجود پاکستان میں معمولات زندگی رواں دواں ہیں۔ پاکستان سپر لیگ کے میچز شیڈول کے مطابق ہو رہے ہیں، جس سے یہ پیغام دیا گیا کہ پاکستان ایک پرامن اور مستحکم ریاست ہے، جو جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے ساتھ ساتھ زندگی کو جاری رکھنے کا ہنر بھی رکھتی ہے۔
    آج کا بھارت مودی سرکار کے ہاتھوں انتہا پسندی، اقلیت دشمنی اور داخلی خلفشار کا شکار ہو چکا ہے۔ مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں اور دیگر اقلیتوں پر مظالم نے بھارت کی سیکولر شناخت کو داغدار کر دیا ہے۔ مودی نے سیاسی ہتھیار کے طور پر پاک دشمنی کو استعمال کرتے ہوئے ایک خطرناک کھیل شروع کر رکھا ہے جو نہ صرف خطے بلکہ خود بھارت کے مستقبل کے لیے بھی خطرناک ہے۔
    اس سلسلے میں پاکستانی میڈیا، صحافی، کالم نگار، سول سوسائٹی اور حکومتی اداروں نے بھی قومی وقار کے تحفظ کے لیے بہترین کردار ادا کیا۔ میڈیا نے جذباتیت سے ہٹ کر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی، کالم نگاروں نے پاکستان اور پاک فوج کے حق میں کالم لکھے ، صحافیوں نے عوامی شعور کو جلا بخشی اور دنیا کو بتایا کہ پاکستان ایک پرامن، مہذب اور دفاعی طور پر مضبوط قوم ہے۔
    پاکستانی قوم اور عساکر نے جس عزم و حوصلے کا مظاہرہ کیا ہے وہ تاریخ کا سنہری باب بن چکا ہے۔ بھارتی جارحیت کو فضاؤں میں راکھ کرنے والا یہ لمحہ، ایک نیا حوصلہ، نیا اتحاد اور نئی توانائی لے کر آیا ہے۔ یہ پیغام ہے کہ پاکستان ایک طاقتور ایٹمی ملک ہونے کے باوجود نہ صرف دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا سکتا ہے بلکہ اپنی قومی خودمختاری، آزادی اور نظریاتی سرحدوں کا دفاع کرتے ہوئے اقوامِ عالم میں باوقار مقام رکھتا ہے۔

    Title Image by H. Hach from Pixabay

  • پاک بھارت فضائی جنگ میں حکمت عملی کا کردار

    پاک بھارت فضائی جنگ میں حکمت عملی کا کردار

    پاک بھارت فضائی جنگ میں حکمت عملی کا کردار

    Dubai Naama

    جو شہر اور قصبے جنگی ہوائی اڈوں کے قریب واقع ہوں وہ زیادہ جانی اور مالی نقصان کے خطرے کی زد میں ہوتے ہیں۔ جن لوگوں نے 1971ء کی آخری بڑی جنگ کو آنکھوں سے دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ کس طرح دن کی روشنی اور رات کی تاریکی میں ہندوستانی جنگی جہاز ان اڈوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے تھے۔ اس پرانی جنگی حکمت عملی کا مطالعہ کریں تو پتہ چلے گا کہ انڈین حملہ آور جہازوں کی پروازیں بہت نیچی ہوتی تھیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نیچی پروازوں میں جنگی جہازوں کو نظر نہ آنے کی وجہ سے ڈیفیس سسٹم اور ریڈار وغیرہ کے زریعے جانچنا اور ڈیٹیکٹ کرنا کافی مشکل ہوتا ہے۔

    اس کے باوجود پاکستانی ایئر فورس نے کمال مہارت کے ساتھ فرانس سے حاصل کیئے گئے جدید ترین بھارتی جنگی جہازوں "رافیل” کو مار گرایا۔ بھارت کے اس نقصان کی تصدیق خود رافیل جنگی جہاز بنانے والی فرانسیسی کمپنی "ڈسالٹ ایوی ایشن” (Dassault Aviation) نے کی ہے جس کے شیئرز میں نمایاں کمی واقع ہو گئی ہے۔

    پاکستان کی جانب سے حالیہ دفاعی کارروائی میں بھارتی فضائیہ کے 3رافیل طیاروں سمیت مجموعی طور پر 5جنگی طیارے تباہ کئے جانے کی اطلاعات ہیں۔ بین الاقوامی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق، یورپی اسٹاک مارکیٹ میں ڈسالٹ کمپنی کے شیئرز منفی رجحان کا شکار ہو گئے ہیں، جسے تجزیہ کار بھارتی فضائیہ کی رافیل طیاروں میں ناکامی سے جوڑ رہے ہیں۔
    رافیل طیارے جدید ترین ٹیکنالوجی کے حامل جنگی طیارے تصور کئے جاتے ہیں، جو بھارتی فضائیہ کے زیرِ استعمال ہیں۔ تاہم پاکستان کی جانب سے ان طیاروں کو مؤثر فضائی دفاعی نظام کے تحت نشانہ بنانا اس بات کی علامت ہے کہ خطے میں اسلحہ کی دوڑ میں صرف مہنگی ٹیکنالوجی فتح کی ضمانت نہیں ہے بلکہ پائلٹس کی بہادری اور مہارت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ ذرائع کے مطابق پاکستان نے حالیہ دفاعی کارروائی میں انتہائی مہارت کے ساتھ دشمن کے 5 طیارے مار گرائے، جن میں 3 رافیل شامل ہیں۔ اس واقعہ کے بعد انٹرنیشنل میڈیا سمیت بھارت کی دفاعی پالیسی پر بھی سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں، جبکہ بھارت میں سوشل میڈیا اور بعض عسکری تجزیہ نگاروں نے بھی اس ناکامی پر بھارت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے آڑے ہاتھوں لیا ہے۔

    چہ جائیکہ کے اب تک پاکستان کو اس فضائی جنگ میں بھاری برتری حاصل ہے اور پاکستان 7مئی کے بھارتی حملوں کا منہ توڑ جواب بھی دے چکا ہے جس میں انڈین فوجی چوکیوں اور اسلحہ کے ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا اور ابھی تھوڑی دیر پہلے پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھی بھارتی فوجی چوکیوں پر شدید حملہ کیا ہے لیکن حیرت کا مقام ہے کہ پاکستان کی سٹریٹیجک وار پالیسی کے بارے میں کچھ حلقے سوالات اٹھا رہے ہیں کہ جب پاکستان کے بہاولپور، لاہور، کراچی، گوجرانوالہ اور راولپنڈی سمیت کم و بیش 7 شہروں پر بھارت نے میزائل حملے کیئے تو پاکستان کا ایئرڈیفینس ڈیٹیکٹو سسٹم کہاں اور کیوں سویا ہوا تھا اور ان میزائلوں کو ہوا ہی میں کیوں تباہ نہیں کیا گیا کہ پاکستان کو ان حملوں کی وجہ سے 25 شہادتوں کا نظرانہ پیش کرنا پڑا؟

    اطلاعات کے مطابق بھارت نے پاکستان سول آبادی پر جو میزائل داغے یا ڈرونز بھیجے وہ اسرائیلی ساخت کے تھے جن کے بارے اطلاعات ہیں کہ وہ "ہاروپ” (Harop) ڈرونز ہیں جو جدید ترین لوئٹرنگ مونیشنز (Loitering Munitions) میں شمار ہوتے ہیں، جن کا بنیادی مقصد دور دراز کے علاقوں میں نگرانی کرنا اور انتہائی درستگی کے ساتھ ہدف کو نشانہ بنانا ہے۔ ہاروپ ڈرونز کو خاص طور پر خطرناک بنانے والی بات یہ ہے کہ ان کا کنٹرول ہیڈکوارٹر، جو بھارت میں واقع ہے، سے مسلسل بروقت ڈیٹا لنک قائم رہتا ہے۔ جیسے ہی یہ ڈرون کسی فوجی یا حساس تنصیب کا سراغ لگاتے ہیں، یہ چند سیکنڈز میں ہائی ڈیفینیشن انٹیلی جنس، مقام، ساخت (Configuration)، اور نقل و حرکت کی معلومات کمانڈ سینٹر کو منتقل کر دیتے ہیں۔ ایسے ڈرونز کی اطلاعات پر اپنے دفاعی نظام کو متحرک (Activate) کرنا خود پاکستان کے دفاعی نظام پر مزید خطرناک حملوں کا باعث بن سکتا تھا جس وجہ سے پاکستان نے انہیں براہ راست فضا سے فضا میں گرانے کی بجائے انہیں اپنی "اسمارٹ دفاعی حکمتِ عملی”
    کا استعمال کر کے تباہ کیا۔

    اس خاموش جنگی حکمت عملی اور اپنے پانچ لڑاکا طیاروں کے نقصان اور حالیہ فضائی جھڑپ میں شرمناک شکست کے بعد، بھارت اب پاکستانی فضائی حدود میں نہ تو جلد لڑاکا طیارے بھیجنے کا رسک لینے کے قابل رہا ہے اور نہ ہی کسی قسم کی جارحیت کے لئے ان کا استعمال کرنے کی جلد بازی کر سکتا ہے۔ اس شرمناک صورتِ حال کے پیشِ نظر بھارت نے بعد میں جدید ٹیکنالوجی سے لیس نگرانی کرنے والے ڈرونز کا سہارا لینا شروع کر دیا۔ گزشتہ بھارتی حملے میں جو لاہور کے قریب والٹن کے علاقے میں کچھ ڈرونز فائر کئے گئے، انہیں پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے فوراً ہی شناخت کر لیا تھا۔

    پاک بھارت فضائی جنگ میں حکمت عملی کا کردار

    چونکہ یہ محض فضائی نگرانی کرنے والے آلات نہیں بلکہ ایک مکمل ذہین جنگی ہتھیار ہیں، جن کا مقصد دشمن کے دفاعی نظام کی مکمل خاکہ سازی (Mapping) کرنا ہوتا ہے۔ یہ ڈرون دشمن کی دفاعی ساخت کو سمجھنے، کمزوریاں تلاش کرنے، اور بعد ازاں حملے کی منصوبہ بندی میں انتہائی مؤثر کردار ادا کرتے ہیں جس وجہ سے پاکستان کی مسلح افواج نے ان ڈرونز کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں یا براہِ راست فضائی حملوں سے فوری طور پر تباہ نہیں کیا تھا۔ اگر ان ڈرونز کو فوراً مار گرایا جائے، تو تباہ ہونے سے پہلے یہ بھارت کو اہم مقامات کے کوآرڈینیٹس اور الیکٹرانک سگنلز بھیج سکتے ہیں۔

    یہ چند لمحے ہی دشمن کے تجزیہ کاروں کے لئے کافی ہوتے ہیں کہ وہ پاکستان کے ریڈار سسٹمز، زمینی کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، اور فضائی دفاعی ڈھانچے سے متعلق کارآمد انٹیلی جنس حاصل کر لیں۔ اسی لئے پاکستانی افواج نے ان ڈرونز کے خلاف نہایت حکمت عملی سے کام لیا، تاکہ دشمن کو کم سے کم معلومات حاصل ہو سکیں اور قومی سلامتی کو لاحق خطرات کا بروقت تدارک کیا جا سکے۔

    اس خطرے سے نمٹنے کے لیئے پاکستان نے ایک ہوشمند دفاعی حکمتِ عملی اپنائی ہے۔ پاکستان نے طویل فاصلے سے نشانہ بنانے کی بجائے، "سافٹ کل” (Soft Kill) نظام استعمال کیا، جن میں جیمنگ ٹیکنالوجی شامل ہے جو فضاء میں ہی ڈرونز کے نیویگیشن اور کمیونیکیشن سسٹمز کو ناکارہ بنا دیتی ہے۔
    اس کے علاوہ، ان ڈرونز کو دانستہ طور پر قریبی حدود میں داخل ہونے دیا جاتا ہے تاکہ انہیں اینٹی ایئرکرافٹ گنز یا قریبی فاصلے کے دفاعی میزائلوں سے انتہائی درستگی کے ساتھ مار گرایا جا سکے۔ یہ اسٹریٹجک تاخیر اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ دشمن کو کوئی اہم معلومات منتقل نہ ہوں اور ڈرونز کو بھی مکمل طور پر غیر مؤثر بنا کر تباہ کیا جا سکے۔

    یہ حکمتِ عملی نہ صرف تکنیکی برتری کو ظاہر کرتی ہے بلکہ دشمن کی جدید جنگی ٹیکنالوجی کے خلاف ایک مؤثر اور محفوظ دفاع بھی فراہم کرتی ہے۔ سادہ الفاظ میں بات کی جائے تو جیسے ہی یہ ڈرونز پاکستانی سرحد کے قریب آتے ہیں، انہیں پاکستانی ریڈارز فوراً شناخت کر لیتے ہیں، مگر فوری ردِعمل دینے کے بجائے، مسلح افواج انہیں سخت نگرانی کے تحت قریب آنے دیتی ہیں اور جیسے ہی یہ ایک خاص، قابو میں رکھے گئے فاصلے تک پہنچتے ہیں، انہیں اس مہارت سے نشانہ بنایا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی حساس دفاعی معلومات کو دشمن تک منتقل نہ کر سکیں۔

    یہ جذبات کی بجائے ذہانت سے کام لینے کی ایک بہترین مثال ہے جس کا مقصد نہ صرف دشمن کی فضائی دراندازی کو انتہائی درستگی سے ناکام بنانا ہے بلکہ پاکستان کے دفاعی نظام کی ترتیب اور پوزیشن کو بھی مکمل طور پر پوشیدہ رکھنا ہے۔

    پاکستان کی جانب سے فرانسیسی ساختہ رافیل اور اسرائیلی ہاروپ ڈرونز کے مار گرائے جانے کے دنیا میں یہ پہلے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں.
    یوں حالیہ فضائی جنگ میں انڈیا کی طرف سے روس، فرانس، اور اسرائیل کے بلند بانگ قسم کے وار ہارڈویئر کو ذلیل کروانے اور پاکستان کی طرف سے ان ٹیکنالوجیز کو خاک میں ملانے کے "ورلڈ ریکارڈ” قائم ہوئے ہیں جس کے بارے بی بی سی ویریفائی نے مختلف ماہرین، نمائندگان سے بات کرنے کے بعد طیاروں کی تباہی کے حوالے سے اپنی رپورٹ بھی جاری کی ہے۔ بی بی سی نے اگرچہ احتیاط سے کام لیا، مگر بین السطور بہت واضح ہے کہ پاکستانی دعوے درست اور وزنی ہیں جبکہ بھارتی الزام اور دعوے ماضی میں بھی غلط ثابت ہوئے اور اب بھی جھوٹ کا پلندہ ہیں جیسا کہ جب ابھینندن کا طیارہ تباہ ہوا تھا تو تب بھارت نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے پاکستان کا ایک ایف سولہ طیارہ تباہ کر دیا ہے۔

    بی بی سی نے امریکی سورس کو کوٹ کر کے کہا کہ امریکیوں نے پاکستانی ایف سولہ طیاروں کی گنتی کی اور وہ پورے پائے گئے۔ جس طرح ماضی میں بھارت کا ایف سولہ طیارے کی تباہی کا دعویٰ غلط تھا، اسی طرح گزشتہ روز والا بھارتی دعویٰ بھی دروغ گوئی پر مبنی ہے، اس لئے کہ پاکستانی ایف سولہ طیارہ حملہ آور ہوا ہی نہیں تو وہ تباہ کیسے ہو جائے گا؟

    Title Image by Defence-Imagery from Pixabay

  • مودی کا جنگی جنون اور پاکستان میں بزدلانہ دراندازی

    مودی کا جنگی جنون اور پاکستان میں بزدلانہ دراندازی

    مودی کا جنگی جنون اور پاکستان میں بزدلانہ دراندازی

    Dubai Naama

    ایسا لگتا ہے کہ بھارتی پردھان منتری نریندر مودی اوقات میں رہ کر عالمی برادری میں اپنی عزت بحال نہیں رکھنا چاہتے ہیں۔ 6سمتبر 1965ء کی طرح اعلان جنگ کیئے بغیر گزشتہ روز بھارت نے ایک بار پھر پاکستان پر فضائی حملہ کیا، ہوا میں زبردست ڈاگ فائٹ ہوئی جس کے بعد بہاولپور کے نزدیک پاکستان کے جے10سی فائٹر جیٹ نے بھارتی رافیل طیارہ مار گرایا۔ مودی گجرات کے وزیراعلٰی تھے تو دنیا نے انہیں گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام کرتے دیکھا۔ اب وہ وزیراعظم ہیں تو بھارت اور گجرات سے باہر ان کی نظر پاکستانی مسلمانوں پر ہے مگر پاکستان انہیں اپنے ہاتھ خون سے رنگنے کا موقع نہیں دے رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے تقدیر کو انہیں رسوا کرنا منظور ہے کہ وہ اپنی عادت سے مجبور ہو کر بار بار سرحدی دراندازی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بھارت نے آزاد کشمیر میں بھی دراندازی کی، جہاں ایک بھارتی ہیلی کاپٹر کو پاکستانی ائیرفورس نے تباہ کر دیا۔ بھارت کی جلد بازی میں کی گئی ان دہشت گردانہ حرکات سے یہ امکان پیدا ہو گیا ہے کہ بھارت کسی وقت بھی زمینی جنگ شروع کرنے کی غلطی کر سکتا یے۔ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے 24گھنٹے قبل آگاہ کیا تھا کہ بھارت سے تصادم کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ بھارت نے پانی روکنے کے لئے تعمیرات کیں تو تباہ کر دیں گے۔
    نریندر مودی کا جنگی جنون کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، وہ جارحیت کے جس خمار میں مبتلا ہیں اس سے پاکستان بے خبر نہیں ہے جس کے پیش نظر پاکستان نے گزشتہ روز ایک ایٹمی میزائل کا کامیاب تجربہ کیا۔ اس پر امریکہ نے بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان اشتعال انگیز صورتحال کو انتہائی سنجیدہ اور پیچیدہ قرار دیا۔ امریکی رکن کانگریس مین کیتھ سیلف نے بھی گزشتہ روز کہا کہا کہ ایٹمی طاقتوں پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ ناقابل تصور ہے، کوئی بھی جنگ ایک بار شروع ہو جائے تو آپ اسے کنٹرول نہیں کر سکتے۔ امریکی ری پبلکن اراکین کانگریس جیک برگمین اور کیتھ سیلف کے اعزاز میں نیویارک کے ہوٹل میں تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں پاکستانی کمیونٹی کی نامور شخصیات نے شرکت کی تھی، شرکا نے پہلگام واقعہ سے پیدا کشیدگی اور بھارت کے جنگی جنون کی جانب اراکین کانگریس کی توجہ دلائی تو اراکین کانگریس نے اعتراف کیا کہ قیام پاکستان سے اب تک پاکستان کے خلاف بھارت کئی "فالس فلیگ آپریشنز” میں ملوث رہا ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ اس بار بھی پہلگام واقعہ کے 10منٹ کے اندر ہی ایف آئی آر درج کر لی گئی جب کہ جس جگہ فائرنگ کی گئی تھی وہاں سے پولیس اسٹیشن کا ایک گھنٹے کا فاصلہ تھا۔ یہی نہیں الزام بھی پاکستان پر عائد کر دیا گیا مگر ثبوت نہیں دیئے گئے۔

    وزیراعظم نریندر مودی ممکن ہے یہ بات بھول گئے ہیں کہ ماضی میں بھی ایسی بھارتی جارحیتیں بے نتیجہ ثابت ہوتی رہی ہیں جس کی آخری مثال ابھی نیندن ہیں جب 27 فروری 2019ء کو پاکستان ایئرفورس نے پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی کوشش پر 2 بھارتی طیارے مار گرائے تھے اور ابھی نندن نے اپنی گرفتاری کے 2سال بعد اپنے ایک بیان میں تسلیم کیا تھا کہ پاکستانی آرمی ایک پروفیشنل فوج ہے، میں پاک فوج کی بہادری سے بہت متاثر ہوا ہوں، لڑائی تب ہوتی ہے جب امن نہیں ہوتا، میں یہ چاہتا ہوں ہمارے دیس میں امن رہے اور ہم سکوں سے رہ سکیں۔ انہوں نے کشمیریوں کے بارے کہا تھا کہ، "نہ آپ کو پتہ ہے اور نہ مجھے معلوم ہے کہ وہاں کیا ہو رہا یے۔”

    پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جنگوں کی تاریخ بتاتی ہے کہ ان دونوں ممالک کے درمیان اب تک جتنی بڑی جنگیں اور محدود جھڑپیں ہوئی ہیں، ان کا بنیادی مرکز و محور عموماً ریاست جموں و کشمیر رہا ہے۔ 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے فوراً بعد ہی بھارت اور پاکستان کے درمیان پہلی جنگ چھڑ گئی، جسے 1947-48 کی جنگ کہا جاتا ہے۔ یہ جنگ جموں و کشمیر کے الحاق کے مسئلے پر ہوئی، جہاں مہاراجہ ہری سنگھ نے بھارت سے الحاق کا اعلان کیا، جس کے جواب میں پاکستان نے قبائلی لشکروں کی مدد سے کشمیر پر حملہ کیا تھا۔ بھارت نے فوری طور پر اپنی فوجیں کشمیر بھیج کر حملہ روکا اور ریاست کے بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کیا۔ یہ جنگ بالآخر اقوام متحدہ کی مداخلت پر رکی، اور ایک لائن آف کنٹرول قائم کی گئی جس کے نتیجے میں کشمیر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ ایک حصہ بھارت کے پاس ہے جو جموں و کشمیر ہے اور دوسرا پاکستان کے پاس ہے جو آزاد کشمیر ہے۔

    دوسری جنگ 1965 میں ہوئی جو کہ کشمیر کے تنازعہ پر ہی دوبارہ بھڑکی جب پاکستان نے "آپریشن جبرالٹر” کا آغاز کیا جس کے تحت کشمیر میں پاکستان نے بغاوت ابھارنے کی کوشش کی، جس کے جواب میں بھارت نے بھرپور فوجی ردعمل دیا۔ دونوں ممالک کے درمیان مغربی سرحد پر شدید لڑائی ہوئی، خاص طور پر لاہور، سیالکوٹ اور راجستھان کے محاذوں پر۔ اس جنگ میں دونوں ممالک نے دعویٰ کیا کہ وہ کامیاب رہے، لیکن دونوں طرف سے کسی واضح فتح کا اعلان نہ ہو سکا۔ اس جنگ کا اختتام سویت یونین کی ثالثی سے ہونے والے "تاشقند معاہدے” پر ہوا، جس میں دونوں ملکوں نے جنگ سے پہلے کی حدود پر واپس جانے پر رضامندی ظاہر کی۔
    1971ء کی جنگ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی سب سے فیصلہ کن اور بڑی جنگ تھی۔ اس جنگ کا آغاز مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش) میں سیاسی بحران، عوامی لیگ کی اکثریت کے باوجود اقتدار نہ ملنے، اور پاکستانی فوج کے سخت گیر آپریشن سے ہوا۔ لاکھوں مہاجرین بھارت میں داخل ہوئے جس کے بعد بھارت نے سیاسی مفادات کی بنیاد پر مشرقی پاکستان میں فوجی مداخلت کی۔ دسمبر 1971ء میں شروع ہونے والی اس جنگ میں بھارتی افواج نے محض 13 دن میں فیصلہ کن برتری حاصل کر کے ڈھاکہ پر قبضہ کر لیا، اور پاکستانی فوج کے 90 ہزار سے زائد فوجیوں نے مصلحتا ہتھیار ڈال دیئے۔ اس کے نتیجے میں نیا ملک بنگلہ دیش معرضِ وجود میں آیا۔ یہ جنگ اگرچہ بھارت کی ایک بڑی سیاسی، فوجی اور سفارتی کامیابی کے طور پر یاد کی جاتی ہے، اور اس میں پاکستان کو شکست ہوئی۔ لیکن اسی جنگ کے مابعد نتائج کی وجہ سے 1999ء میں ایک اور بڑی فوجی جھڑپ کارگل کی پہاڑیوں میں ہوئی، جسے کارگل جنگ کہا جاتا ہے۔ اس میں پاکستانی فوج اور جنگجوؤں نے لائن آف کنٹرول عبور کر کے بھارتی علاقے میں گھس کر اہم پوسٹوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس دوران شدید جھڑپیں ہوئی تھیں، لیکن عالمی دباؤ اور خاص طور پر امریکہ کی جانب سے مداخلت کی بناء پر پاکستان کو اپنی فوجیں پیچھے ہٹانی پڑی تھیں۔

    ان جنگوں کے علاوہ سیاچن گلیشیئر پر بھی 1984ء سے کشیدگی جاری ہے۔ بھارت نے آپریشن میگھدوت کے تحت سیاچن پر قبضہ کیا۔ 2019ء میں ایک اور محدود مگر اہم واقعہ اس وقت پیش آیا جب پلوامہ حملے کے بعد بھارت نے پاکستان کے علاقے بالاکوٹ میں فضائی حملہ کیا، جس میں بھارت نے دہشت گرد کیمپوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ پاکستان نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے بھارتی طیارہ مار گرایا اور پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کر لیا، جسے بعد میں امن کی علامت کے طور پر رہا کر دیا گیا۔ اس واقعے میں دونوں ممالک نے اپنی کامیابی کے دعوے کئے، لیکن بین الاقوامی سطح پر کوئی فیصلہ کن فاتح سامنے نہیں آیا۔

    اگر پاک بھارت جنگوں کی یہ تاریخ بتاتی ہے کہ ان میں کوئی بھی ملک ایک دوسرے پر یکسر اور مکمل برتری ثابت نہیں کر سکا تو اب جبکہ دونوں ممالک "ایٹمی قوت” ہیں اور ایک دوسرے کو فتح نہیں کر سکتے ہیں بلکہ اس کا تصور تک نہیں کر سکتے تو کیوں نہ اس جنگی جنون سے باہر آیا جائے؟ نریندر مودی کو اس بات کا ادراک کرنا چایئے کہ بھارت اور پاکستان دونوں کے پاس خطرناک ترین "کیمیائی ہتھیار” اور "ایٹم بمز” ہیں مگر سرحد کے دونوں اطراف عوام میں بھوک اور مفلسی ناچ رہی ہے۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی، بلکہ دونوں ملکوں کے عوام کو نقصان ہی پہنچاتی ہے تو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی صاحب کو چایئے کہ وہ اپنے اس جنگی جنون سے باہر آئیں۔ پاکستان کو بھی چایئے کہ اب وہ باہمی اختلافات کو مذاکرات، تجارت اور سفارتکاری کے ذریعے حل کرے، تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو جائے اور جو بجٹ جنگی جنون پر خرچ ہو رہا اسے غربت کی چکی میں پستی عوام پر لگایا جائے تاکہ وہ سکھ کا سانس لیں اور وہ بھی پیٹ بھر روٹی کھا سکیں۔

    Title Image by ThePixelman from Pixabay

  • اختر شہاب کی کتاب "الحین بھوم” کا تجزیاتی مطالعہ

    اختر شہاب کی کتاب "الحین بھوم” کا تجزیاتی مطالعہ

    اختر شہاب کی کتاب "الحین بھوم” کا تجزیاتی مطالعہ

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

    حُسنِ ادب پبلشرز، فیصل آباد نے 259 صفحات پر مشتمل اختر شہاب کی کتاب الحین بھوم شائع کی ہے جو کہ ایک بہترین تخلیقی کاوش ہے۔ اردو ادب میں خود نوشت روداد، سفرنامہ اور جنگی یادداشتوں پر مبنی تحریریں ہمیشہ سے قارئین کی توجہ حاصل کرتی رہی ہیں۔ اختر شہاب کی کتاب "الحین بھوم” بھی اسی روایت کا تسلسل ہے جو خاص طور پر خلیج جنگ کے پس منظر میں لکھی گئی ایک منفرد تصنیف ہے۔ اس کتاب کو مصنف نے پردیسیوں کے نام منسوب کیا ہے، جو اس کی فکری جہت کو مزید گہرائی عطا کرتا ہے۔
    اختر شہاب نے پیش لفظ میں جس انداز میں کتاب کے پس پردہ محرکات بیان کیے ہیں، وہ ان کی تحریری سنجیدگی اور مشاہداتی گہرائی کو واضح کرتا ہے۔ وہ اپنی زندگی میں دیکھے گئے تین بڑے جنگی ادوار—1965، 1971، اور خلیج کی جنگ—کا ذکر کرتے ہیں، جو ایک نہایت اہم تاریخی تسلسل پیش کرتا ہے۔ ان کی تحریر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ "الحین بھوم” محض جنگ کی روداد ہی نہیں بلکہ ایک پردیسی کی جدوجہد، مشکلات اور تجربات کا مرقع بھی ہے۔
    یہ کتاب جنگی تجربات، بیرون ملک ملازمت کے مسائل اور سماجی روابط پر مبنی ہے جو اردو ادب میں ایک کم دریافت شدہ موضوع ہے۔ اختر شہاب کی تحریر کی سب سے بڑی خوبی ان کا سادہ، لیکن دلنشین اسلوب ہے، جو قاری کو ابتدا سے آخر تک باندھے رکھتا ہے۔ ان کا طرزِ بیان حقیقت نگاری پر مبنی ہے، جس میں مبالغہ آرائی کے بجائے مشاہدات کو فطری انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
    ڈاکٹر عارف حسین عارف کے مطابق، اختر شہاب کا طرزِ تحریر انتہائی سادہ مگر جاذبِ نظر ہے، جو قاری کو کتاب کے ایک ایک صفحے سے جوڑے رکھتا ہے۔ وہ مستنصر حسین تارڑ اور ابن انشا جیسے ادیبوں کی روایت کو آگے بڑھانے کا ہنر رکھتے ہیں جو اردو ادب کے لیے ایک خوش آئند پہلو ہے۔

    اختر شہاب کی کتاب "الحین بھوم” کا تجزیاتی مطالعہ


    کتاب میں کئی اہم موضوعات کو چھیڑا گیا ہے جن میں خلیج جنگ کے عینی مشاہدات شامل ہیں مصنف نے ایک ایسی جنگ کا حال بیان کیا ہے جسے جدید ترین جنگوں میں شمار کیا جاتا ہے اور یہ پہلو اردو ادب میں بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے۔
    مصنف نے پردیس میں گزارے گئے لمحات کو بھی بیان کیا ہے۔ کتاب میں ایک پردیسی کی ذہنی، جذباتی، اور سماجی کیفیت کو عمدگی سے پیش کیا گیا ہے۔
    حقائق پر مبنی بیانیہ کتاب میں شامل ہے۔ کہیں بھی مبالغہ نہیں بلکہ مصنف نے ہر واقعہ حقیقت کے قریب تر بیان کیا ہے۔
    کہیں کہیں طنز و مزاح بھی ملتا ہے، لیکن یہ شائستگی کی حدود میں رہتے ہوئے بیان کیا گیا ہے۔
    "الحین بھوم” اردو ادب میں ایک منفرد اضافہ ہے کیونکہ یہ خلیج جنگ جیسے موضوع پر لکھی گئی نادر تحریروں میں شامل ہوتی ہے۔ مصنف نے نہ صرف جنگ کے مناظر پیش کیے بلکہ اس کے اثرات، پردیسیوں کی مشکلات اور انسانی زندگی پر اس کے اثرات کو بھی عمدگی سے سمویا ہے۔ ان کی سابقہ کتب "من تراش” ، "ہم مہربان” اور ” سفرین کہانی ” کے بعد یہ تصنیف بھی ان کے ادبی قد کو مزید مضبوط کرتی ہے۔
    اختر شہاب کی "الحین بھوم” ایک ایسی کتاب ہے جو نہ صرف جنگی حالات کا احاطہ کرتی ہے بلکہ پردیسیوں کے احساسات اور جذبات کو بھی سامنے لاتی ہے۔ اس میں حقیقت نگاری، سادہ بیانیہ اور موثر اسلوب کا حسین امتزاج موجود ہے۔ اردو ادب کے قارئین کے لیے یہ کتاب ایک نایاب تجربہ ثابت ہوگا اور خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو جنگ، ہجرت اور بیرون ملک زندگی کے تجربات کو بہتر طور پر سمجھنا چاہتے ہیں۔یہ کتاب بلاشبہ اردو ادب میں ایک بہترین اضافہ ہے، جسے ہر سنجیدہ قاری کو پڑھنا چاہیے۔ میں مصنف کو کتاب کی اشاعت پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

  • تیسری عالمی جنگ ہو گی یا نہیں؟

    تیسری عالمی جنگ ہو گی یا نہیں؟

    تیسری عالمی جنگ ہو گی یا نہیں؟

    Dubai Naama

    اسرائیل پر ایرانی بیلسٹک میزائل حملہ کے بعد روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ اگر تیسری عالمی جنگ ہوئی تو 2فریق ہوں گے ایک روس، چین، ایران، یمن اور شمالی کوریا ہو گا اور دوسرا نیٹو، امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ ہوں گے۔ روسی صدر نے یہ بات 24 فروری 2022 ء کو نہیں کی جب روس نے اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کے لیئے یوکرائن پر حملہ کیا تھا۔ روس اور یوکرائن کی جنگ کا آغاز 2014 ء میں ہوا۔ جبکہ صدر پیوٹن روسی تاریخ کے طویل ترین صدر ہیں جو روس کی کرسی صدارت پر یہ جنگ شروع ہونے سے پہلے 2012 ء میں متمکن ہوئے۔ یوکرائن روس کے بعد مشرقی یورپ کا سب سے بڑا ملک ہے جس کی سرحدیں شمال مشرق تک پھیلی ہوئی ہیں اور جس کی پشت پناہی پر بھی وہی ممالک کھڑے ہیں جو تیسری ممکنہ عالمی جنگ میں امریکہ اور یورپ کے نیٹو ممالک میں شامل ہیں۔ پہلی دونوں عالمی جنگیں (پہلی 2014ء اور دوسری 1939 ء ) کے تلخ اور تباہ کن اثرات زیادہ تر یورپ نے بھگتے اور دونوں عالمی جنگوں کا آغاز بھی یورپ سے ہی ہوا۔ تیسری عالمی جنگ اگر ہوئی تو اس کا آغاز فلسطین اسرائیل تنازعہ کی وجہ سے مشرقی وسطی ٰکے ممالک سے ہو گا۔ ویسے تو تیسری عالمی جنگ کی باتیں اسرائیل پر حماس کے 7 اکتوبر 2023 ء کے پہلے حملہ کے بعد مسلسل ہو رہی ہیں مگر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایران کے اسرائیل پر حملے کو ایک خصوصی رنگ دیا جس کا درپردہ مقصد اسرائیل، امریکہ اور نیٹو ممالک کو دھمکی دینا نہیں بلکہ سیاسی طور پر ان کی آنکھیں کھولنا ہے۔
    اسرائیل ایران کو جنگ میں گھسیٹنے میں دلچسپی رکھتا ہے تاکہ امریکہ اور نیٹو ممالک سے اسے تازہ اور خصوصی کمک مل سکے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے اسرائیل نے 2اپریل کو دمشق میں ایرانی قونصلیٹ پر میزائل حملہ کیا تھا۔ ایران کے لئے یہ صورتحال کافی مشکل تھی کہ وہ اپنی سرخ لکیر قائم رکھنے کے لیئے اسرائیلی حملے کا جواب کس انداز میں دے۔ جب کسی خود مختار ملک پر ایسا حملہ ہوتا ہے تو وہ اس کا جواب 48گھنٹوں ہی میں چکتا کرتا ہے جیسا کہ فروری 2019 ء میں پاکستان نے انڈیا کو 24گھنٹوں میں جوابی حملے کا نشانہ بنایا یا جیسے بلوچستان میں ایرانی حملے کا جواب پاکستان نے ایران پر میزائل حملہ کر کے 24گھنٹوں میں دیا۔ ایرانی کونسلیٹ پر اسرائیل نے 2اپریل کو حملہ کیا تھا جس میں ایرانی پاسداران انقلاب کے لیڈر سمیت 12 افراد شہید ہو گئے تھے۔ اس حملے کے بعد ایرانی فوجی سربراہ جنرل حمد حسین نے شام میں ایرانی قونصل خانے پر اسرائیلی حملے کا بھرپور جواب دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے باوجود ایران نے اسرائیل پر 13اپریل کو حملہ کیا۔ اتنی دیر کے بعد جوابی حملہ کی کئی مجوزہ وجوہات ہو سکتی ہیں جن میں اس حملہ کے بارے دنیا بھر میں ہونے والے تبصروں سے بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اسرائیل پر ایرانی حملے کے پس پردہ اصل حقائق کیا ہو سکتے ہیں۔


    یورپی میڈیا کی اطلاعات کے مطابق اسرائیل پر ایرانی حملہ میں الفتح نے 6 منٹ میں 2 بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے اسرائیل کے شمال مغربی ہدف کو نشانہ بنایا۔ اب ایران اسرائیل پر یہ حملہ کر کے اپنے اہداف حاصل کرنے اور بدلا لینے میں کتنا کامیاب ہوا اس کے بارے یورپی میڈیا کا صرف اتنا کہنا ہے کہ اسرائیل کا دفاعی نظام ’’آئرن ڈوم‘‘اس حملہ کو روکنے میں ناکام ہو گیا۔ عرب میڈیا نے بھی اس سے ملتے جلتے تبصرے کیئے اور کہا کہ اسرائیل نے فوجی اڈے خالی کر دیئے۔ ایرانی حملے سے اسرائیل میں خوف و ہراس اور بھگدڑ کو تو ریکارڈ کیا گیا۔ لیکن اس حملہ میں اسرائیل کے ہونے والے جانی، فوجی یا سول نقصان کی کوئی اطلاعات نہیں ملی ہیں۔ تاہم اس حملہ کی آڑ میں امریکی صدر جوبائیڈن کی دفاعی انتظامیہ پینٹاگون نے اسرائیل کی فوجی مدد اور شام، عراق اور دیگر خلیجی ممالک میں موجود اپنے ٹھکانوں کی حفاظت کے لیئے اپنا دفاعی نظام مزید مضبوط کرنے کا اعلان کیا۔ خبر رساں ایجنسی ’’سی این این‘‘کے مطابق پینٹاگون تیزی سے اپنے فضائی نظام کو طاقتور بنا رہا ہے۔ امریکہ میں انتخابات نزدیک ہیں جو اسی سال 5نومبر 2024 ء کو ہونے جا رہے ہیں۔ امریکی صدر جوبائیڈن یوکرائن کے معاملے میں پہلے ہی منہ کی کھا چکے ہیں اور وہ فلسطین اسرائیل کی جنگ میں کوئی مزید ہزیمت اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔
    اسرائیل نے ایرانی حملے کے بعد حفظ ماتقدم کے طور پر 2روز تک تعلیمی سرگرمیوں کے لیئے سکول بند رکھنے اور اجتماعات پر پابندی لگائی ہے اور 28ممالک میں اپنے سفارتخانے بھی بند رکھنے کا اعلان کیا یے جس میں سیکورٹی خدشات کے پیش نظر نظرثانی کا بھی امکان ہے۔ اس ضمن میں اسرائیل کے فوجی ترجمان ڈینیئل ہیگری نے ٹیلی ویژن پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کا ایئر ڈیفنس تیار ہے تو کیا اس کا یہ مطلب لیا جانا چایئے کہ ایران اسرائیل پر مزید کوئی حملہ کرے گا یا خود اسرائیل اگلے چند دنوں میں ایران پر جوابی حملہ کرنے جا رہا ہے۔
    اس وقت دنیا 2024 ء سے گزر رہی ہے، یہ سال 1914 ء ہے اور نہ ہی 1939ء ہے کہ اب عالمی طاقتیں تیسری عالمی جنگ (Third World War) میں کودنے کی حماقت کریں۔ دو ملکوں کے درمیان کوئی عام جنگ ہو یا چند فریقوں کے درمیان عالمی جنگ ہو دو بنیادی وجوہات کی بنا پر لڑی جاتی ہے جب طاقت کا توازن بگڑ جائے اور یا پھر طاقت کا توازن موجود ہو۔ پہلی دونوں عالمی جنگیں مغربی تہذیبوں پر قہر بن کر ٹوٹی تھیں جس میں تقریبا ًسارا نقصان اہل مغرب ہی کا ہوا۔ دوسری عالمی جنگ میں روس آخری وقت پر پیچھے ہٹ گیا تھا جس کا خمیازہ جاپان کو دو ایٹم بمبوں کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ جرمنی بھی تباہ ہوا مگر یہ دونوں ملک مکمل طور پر دوبارہ اپنے پاں پر کھڑے ہو چکے ہیں۔ پہلے روس کا نام ’’سوویت سوشلسٹ ریپبلکس‘‘ تھا جو 26 دسمبر 1991 ء میں مختلف ریاستوں میں تقسیم ہو کر بکھر گیا اور روس ابھی تک معاشی طور پر اس پوزیشن میں نہیں جا سکا ہے کہ وہ تیسری عالمی جنگ کا سامنے کرنے کے لئے سیدھا کھڑا ہو سکے جبکہ چین عالمی جنگ اپنی معیشت کو بہتر بنانے کے لیئے لڑ رہا ہے اور چین امریکہ اور روس کی طرز کا جارح ملک بھی نہیں ہے کہ وہ فریق ثانی کے طور پر امریکہ اور نیٹو کے مغربی ممالک کو چیلنج کرے۔
    پاکستان سعودی عرب کا دفاعی شراکت دار ہے جبکہ سعودی عرب امریکی اور اسرائیلی اتحادی ہے۔ چائنا نے ایران اور سعودی عرب کی آپسی دشمنی بھی ختم کرانے کا آغاز کرایا۔ سعودی عرب اور ترکی بھی قریب آ رہے ہیں۔ اسی طرح ایران بھارت کا دفاعی پارٹنر ہے اور بھارت امریکہ کا سٹریٹیجک پارٹنر ہے۔ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب بھی ایک دوسرے کے دفاعی اتحادی ہیں جبکہ متحدہ عرب امارات فلسطین کے لیئے امدادی سامان لے جانے والے عملہ پر اسرائیلی حملے کی وجہ سے پہلے ہی اسرائیل سے اپنا سفیر واپس بلا چکا ہے۔
    اس پس منظر میں خود فلسطین (یا حماس) اس سفارتی پوزیشن میں نہیں ہیں کہ ان کے کوئی جنگی اتحادی ہوں یا وہ تیسری عالمی جنگ لڑنے کے لیئے اپنے حق میں اتنی بڑی ہمدردیاں سمیٹ سکے۔ اگر پھر بھی ایسا کوئی امکان ہے تو وہ صرف اتنا ہے کہ فلسطین میں 31184 شہادتوں اور 72889 زخمیوں جس میں خواتین، بچے، بوڑھے اور جوان بھی شامل ہیں، اس کے بدلے میں کسی طور فلسطین کو آزادی نصیب ہو جائے۔ گو آنے والے دنوں میں کیا ہو گا یہ کسی کو معلوم نہیں مگر یہ موقع ضرور ہے کہ تیسری عالمی جنگ کو رد کر کے اس مسئلہ کا کوئی پرامن حل نکالا جائے۔