Tag: جنگ

  • حالیہ خلیجی جنگ میں ایرانی میر جعفر و صادق

    حالیہ خلیجی جنگ میں ایرانی میر جعفر و صادق

    حالیہ خلیجی جنگ میں ایرانی میر جعفر و صادق

    Dubai Naama

    مسلم دنیا کو اپنے گھر کے اندر کا خیال رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ اسرائیل (Israel) سے باہر دنیا میں سب سے زیادہ یہودی ایران میں پائے جاتے ہیں۔ ان یہودیوں (Jews) کے ساتھ کچھ ایرانی مسلمان بھی ملے ہوئے ہیں جو گذشتہ اور موجودہ جنگ میں اسرائیل اور امریکہ کو خفیہ مخبری کرتے رہے ہیں جس کی وجہ سے اسرائیل امریکہ کو ایران کے سپریم لیڈر سید آیت اللہ علی خامنائی کو شہید کرنے کا موقع مل گیا۔ جس جرنیل کو ایران نے گرفتار کیا اور جو 28 فروری 2026ء کے پہلے اسرائیلی حملے اور سید علی خامنائی کی شہادت سے تھوڑی دیر پہلے نکل گیا تھا، اس کا اوپر نیچے تک پورا نیٹ ورک تھا جس پر ابھی تک ایران(Iran) ہاتھ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایسے میر جعفر  صادقوں کی پہلے بیخ کنی کی ہوتی تو ایران کو آج یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ اب بھی وقت ہے کہ ایران اور دیگر مسلم دنیا اپنے گھر کو ٹھیک کرے اور اپنے اتحاد و اتفاق کو مضبوط کرے۔

    ہمارے اسلامی داعی اور  مبلغین دنیا کے مقابلے میں آخرت کے اجر و ثواب پر زیادہ زور دیتے ہیں، حالانکہ قرآنی تعلیمات کے مطابق دنیا اور آخرت دونوں برابر کی اہمیت رکھتے ہیں۔ سورۃ البقرہ (آیت 201) میں اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو سکھاتا ہے کہ، "اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بھلائی عطا کر”۔ قرآن پاک (Quran)کی اجتماعی تعلیمات کی روشنی میں بھی، "مومن وہ ہے جو دنیا میں بھی کامیاب ہوتا ہے اور آخرت میں بھی کامیابی حاصل کرتا ہے۔” دنیا کی کامیابی پہلے آتی ہے یعنی آخرت کی کامیابی دنیا کی کامیابی و کامرانی سے مشروط ہے۔ یوں پائیدار کامیاب مومن مسلمان وہی ہیں جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور نیک اعمال کرتے، ان کے لیے دونوں جہانوں میں کامیابی ہے۔ ہمارے علمائے عظام نے مقابلتا دنیاوی تعلیم کو فوکس کیا ہے اور نہ ہی سائنس اور ٹیکنالوجی کے حصول کے لیئے اسلامی عقائد کو زریعہ بنایا ہے۔

    عموما سائنسی علوم اور  قوانین کی بنیاد "تحقیق اور تشکیک” پر ہے۔ مسلم دنیا کا المیہ ہے کہ وہ اسلامی عقائد پر کامل یقین اور فرائض کی دن رات ادائیگی اور عبادات  کے باوجود سائنسی اور تجرباتی تحقیق کو نظر انداز کرتے ہیں۔ تحریر و تحقیق سے دوری کی وجہ سے ہم حق و باطل کی پہنچان سے بھی دور ہو گئے ہیں۔ اس وجہ سے ہم مسلمانوں کا "اندھا اعتقاد” جہاں ہمیں دنیاوی سمجھ بوجھ سے دور کر رہا ہے وہاں ہم اپنوں پر غیر ضروری اعتماد کی وجہ سے غداری کا شکار بھی ہو رہے ہیں۔ 

    حالیہ خلیجی جنگ میں ایرانی میر جعفر و صادق

    مسلمانوں کو اپنے اندر ہی غدار آسانی سے مل جاتے ہیں۔ "گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے”، کے مصداق یہ غدار اپنے ذاتی مفاد کی خاطر ہر وقت منڈی میں سستے داموں بکنے کے لیئے تیار رہتے ہیں۔ انہیں جب بھی کوئی اچھا خریدار مل جائے یہ بک جاتے ہیں اور اپنے ہی اسلامی بھائیوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے سے بالکل نہیں ہچکچاتے ہیں۔ گزشتہ چند دہائیوں سے یہ گھر کے بھیدی غدار لیبیا، عراق، شام، یمن، ایران اور افغانستان میں کھلے عام بکتے رہے ہیں۔ مسلم دنیا کو تباہ کروانے کیلیے مسلمان ملکوں میں ان غداروں نے امریکہ کی سہولت کاری کی جو کہ ایک انتہائی شرم کا مقام ہے۔ ہمارے اسلامی ممالک کے ان غداروں کا بس چلے تو یہ امریکی صدر ہی کو اپنا مذہبی پیشوا بنا لیں۔ غداروں کی اس کھیپ نے امریکہ کو مشرق وسطی میں غنڈہ گردی کرنے کا موقعہ فراہم کیا یے۔ امریکہ نے اپنے علاوہ اسرائیل کی صورت میں بھی خطے میں ایک بدمعاش پال رکھا ہے جو آئے روز پہلے غزہ اور لبنان میں مسلمانوں کا قتل عام کر رہا تھا اور اب امریکہ کے اشتراک سے ایران پر جنگ کے ذریعے "انسانی بحران” پیدا کر رہا ہے۔

    حالیہ ایران، اسرائیل امریکہ جنگ ہند میں  اسلامی تاریخ کی غداری سے ملتی جلتی ہے۔ میر جعفر صادق ہماری تاریخ کے گھناؤنے ترین کردار ہیں جنہیں ہماری تاریخ کبھی معاف نہیں کر سکتی ہے۔ یہ غداری کے دو تمثیلی ہی نہیں بلکہ حقیقی کردار ہیں جن سے ہم آج بھی حد درجہ نفرت کرتے ہیں لیکن ہماری شومئی قسمت دیکھیں کہ ان سے ملتے جلتے کرداروں ہی نے ایران کے لیئے مخبری کی۔ اس خلیجی جنگ (Gulf War)میں ایران کو نقصان پہنچانے اور سپریم لیڈر کی شہادت کے ذمہ دار بھی یہی اندر کے غدار ایرانی ہیں۔ میر جعفر نے بنگال کے نواب سراج الدولہ کے ساتھ غداری کی اور انگریزوں کے ساتھ ساز باز کر کے بنگال پر انگریزوں کی حکومت قائم کرا دی۔ میر جعفر نواب سراج الدولہ کی فوج کا سپہ سالار تھا، جس نے 1757ء کی "جنگ پلاسی” کے دوران نواب سراج الدولہ کے ساتھ غداری کر کے غدار کے لقب سے شہرت پائی۔ میر جعفر کا پورا نام میر جعفر علی خان بہادر تھا جو متحدہ ہندوستان کی ریاست متحدہ بنگال میں غداری کے ذریعے نواب بنا تھا۔ غداری کی قیمت پر حاصل کی گئی ایسی نوابی پر آج میں درد دل مسلمان لعنت بھیجتے ہیں۔ ہندوستان کی تقسیم سے پہلے بنگال کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا، ایک بنگال پاکستان کے حصے میں آیا جو اپنوں کی غداری سے آج بنگلہ دیش بن چکا ہے، جبکہ دوسرا بنگال جسے مغربی بنگال کہتے ہیں وہ آج بھی بھارت کی اہم ترین ریاست ہے۔ یہ آپسی غداری پورے برصغیر کو غلامی میں جکڑنے کا سبب بنی تھی۔ میر جعفر نے برصغیر میں  مسلمانوں کو غلامی کی دلدل میں دھنسانے کا دروازہ کھولا تو چند ایرانی غداروں نے امریکہ اور اسرائیل سے گٹھ جوڑ کر کے ایران کو امریکہ کی غلامی میں لانے کی ناکام کوشش کی۔ میر صادق کا تعلق جنوبی ہند سے تھا جو ٹیپو سلطان کا وزیر تھا۔ اس نے اپنے آقا یعنی ٹیپو سلطان سے غداری کی۔ وہ صرف زمین، جائیداد اور دولت کے لیے انگریزوں کا آلہ کار بن گیا تھا اس نے ٹیپو سلطان کے اہم خفیہ راز انگریزوں کو پہنچائے۔ اس غدار اور اس کے ساتھیوں کی وجہ سے میسور میں ٹیپو سلطان کی سلطنت انگریزوں کے قبضے میں چلی گئی۔ ایران میں غداری کی جو بدنما تاریخ رقم ہوئی اس نے میر جعفر صادق کی تاریخی غداری یاد دلا دی ہے۔ اگر مسلم دنیا متحد ہو جائے اور اس میں ایسے غداروں کا بھی قلع قمع ہو جائے تو اب بھی مسلم دنیا دوبارہ "سپر پاور” بن سکتی ہے۔ مفکر اسلام اور شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے ایسے ہی کرداروں سے تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا تھا، "جعفر از بنگال و صادق از دکن، ننگِ دیں، ننگِ قوم، ننگِ وطن

  • ایران پر امریکہ اور جی7 کے دباؤ کی حقیقت

    ایران پر امریکہ اور جی7 کے دباؤ کی حقیقت

    ایران پر امریکہ اور جی7 کے دباؤ کی حقیقت

    Dubai Naama

    ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ جی7 ممالک نے مشترکہ طور پر بتایا ہے کہ ایران ہتھیار ڈالنے والا ہے۔ دنیا کی سات بڑی اور ترقی یافتہ معیشتیں "جی7” کہلاتی ہیں، جن میں کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ اور امریک شامل ہیں۔ امریکہ بجٹ اور دفاعی  اعتبار سے بڑا ملک ضرور ہے لیکن یہ امریکہ ہی ہے جو دنیا کا سب سے بڑا مقروض ملک بھی ہے۔ امریکہ کا مجموعی قومی قرضہ مئی 2025 تک 36.2 ٹریلین ڈالر (36 ہزار 200 ارب ڈالر) سے تجاوز کر گیا تھا، جو ملک کی تاریخی بلندی تھی۔ یہ قرض ملک کی کل جی ڈی پی سے بھی زیادہ بنتا ہے اور مسلسل بڑھتا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے یہ دنیا کا سب سے زیادہ مقروض ملک ہے یعنی اس وقت بھی امریکہ کا کل قرضہ 36.2 ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہے  جس کے 36,200,000,000,000 اعداد ہیں۔ یہ امریکہ کا قومی قرضہ ہے۔ ایران پر  12,840,000,000 ڈالر کا بیرونی قرضہ ہے۔ ایران پر امریکہ اور مغربی ممالک کی جانب سے مختلف نوعیت کی پابندیاں تقریباً 45 سال (1979 کے انقلاب ایران) سے عائد ہیں، جن میں شدت اور نرمی آتی رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی 8 سالہ میزائل پابندیاں 18 اکتوبر 2023 کو ختم ہوئیں۔ تاہم امریکی یکطرفہ اقتصادی اور عسکری پابندیاں ایران پر اب بھی جاری ہیں، اور اسے امریکہ و اسرائیل کی جنگ کا بھی سامنا ہے۔ اس  وجہ سے ایران کی کرنسی کی قدر نہ ہونے کے برابر ہو گئی ہے۔ ایک امریکی ڈالر 1,321,725.00 ایرانی ریال کا ہے، جو الفاظ میں تیرہ لاکھ ایرانی ریال سے زیادہ بنتے ہیں۔ ایران میں بکنے والے باغیوں کی کمی نہیں ہے جو ایرانی ٹاپ لیڈرشپ کی مخبری کرنے میں بھی ملوث رہے ہیں جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنائی کی شہادت بھی سرفہرست ہے۔ اگر پیسے سے ملکوں کی غیرت خریدی جا سکتی تو جتنی ایرانی کرنسی ڈؤن ہے اس سے چند سو ایرانی غدار تو کیا پورا ملک ہی خریدا جا سکتا ہے، پھر جنگوں کی ہار جیت یا ہتھیار پھینکنے کا تعلق ملکی معیشت یا ترقی یافتہ ہونے پر ہو تو افغانستان میں روس اور امریکہ کو افغانیوں سے ہتھیار ڈلوانے کے لیئے دہائیوں تک ناک رگڑنے کی کیا ضرورت تھی۔

    بلاشبہ "گروپ آف سیون” دنیا کی سات بڑی ترقی یافتہ اور صنعتی ممالک کی ایک غیر رسمی تنظیم ہے۔ یہ  ایک بااثر بین الاقوامی فورم ہے۔ یہ ممالک عالمی دولت کا 58 فیصد اور خام ملکی پیداوار کا بڑا حصہ رکھتے ہیں، جو عالمی معاشی پالیسیوں، سلامتی اور اہم بین الاقوامی مسائل پر سالانہ اجلاس کے ذریعے مشترکہ لائحہ عمل طے کرتے ہیں۔ ان ممالک کو دنیا کی سب سے بڑی آئی ایم ایف یعنی ترقی یافتہ معیشتوں کے طور پر بھی تسلیم کیا جاتا ہے، جو عالمی سیاست اور اقتصادیات میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ جی7 فورم 1975ء میں قائم ہوا تھا۔ جس طرح آج ایران کے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتوں میں حد درجہ اضافہ ہوا ہے، 1975 میں بھی دنیا کو معاشی بحرانوں اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سامنا تھا۔ ہرمز کی تنگ آبی گزرگاہ پر ایران کو مکمل کنٹرول حاصل ہے جو دنیا کی سب سے اہم آبی گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جہاں سے روزانہ عالمی کھپت کا تقریباً 20 فیصد سے 25 فیصد تک تیل گزرتا ہے۔ اس گزرگاہ میں ایران نے بارودی سرنگیں بچھا دی ہیں جن میں وہ مزید اضافہ کر رہا ہے۔ اس کی خطرناک بندش کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 30 فیصد سے زائد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے برینٹ کروڈ 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر کے 103 ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بھی 98 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی ہے، جو 2020ء کے بعد سے سب سے زیادہ اضافہ ہے۔

    ایران پر امریکہ اور جی7 کے دباؤ کی حقیقت

    ابتدائی طور پر یہ گروپ 6 ممالک پر مشتمل تھا، لیکن جلد ہی کینیڈا کی شمولیت سے یہ جی7 بن گیا۔ اس فورم کا مقصد دنیا کے اہم معاشی اور سیاسی مسائل پر بات چیت اور مشترکہ حل تلاش کرنا بھی تھا۔ ایران کی جنگی پالیسی سے واضح ہوتا ہے کہ وہ بحر ہرمز کی بندش کو ایک عالمی معاشی اور سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ میر تقی میر کے اس شعر کہ، "ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا، آگے آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا”، ڈونلڈ ٹرمپ نے چین اور روس کو دہائی دی ہے کہ وہ ایران سے آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیئے اس کی مدد کریں۔ایران چند ہفتے یا مہینوں  آبنائے ہرمز کو بند رکھے رہنے میں کامیاب رہا اور امریکہ اسرائیل نے بھی ایران حملے کرنے جاری رکھے اور "سیز فائر” نہ ہوئی تو دنیا میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں گی اور دنیا بھر کو تاریخ کا سب سے بڑا معاشی بحران دیکھنا پڑے گا۔ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکہ کچھ ممالک کے ساتھ مل کر آبنائے ہرمز کو کھلا اور محفوظ رکھنے کے لیے جنگی بحری جہاز بھیج رہا ہے، اور پھر بشمول فرانس، جاپان، جنوبی کوریا اور برطانیہ سے درخواست کی کہ وہ بھی اپنے بحری جہاز بھیجیں۔ حد تو یہ ہے کہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے لیئے ڈونلڈ ٹرمپ نے چین اور روس سے بھی مدد مانگ لی، جو جنگ میں ایران کے حلیف ہیں، جبکہ چین روس سے بذریعہ زمین تیل بھی لے رہا ہے، اور امریکہ کی ٹکر کی ان دونوں عالمی طاقتوں کو تیل کی اتنی کوئی مجبوری بھی نہیں ہے۔

    امریکی صدر نے اسی دوران یہ بیان بھی جاری کیا کہ "ہم نے ایران کی فوجی صلاحیت کا 100 فیصد تباہ کر دیا ہے۔” آبنائے ہرمز میں عالمی مدد لینے کے لیئے ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ ایران ہرمز کے قریب ہونے کی وجہ سے وہاں میزائل بھی مار سکتا ہے اور بارودی سرنگیں بھی بڑھا سکتا ہے۔ اگر ایران کی طاقت کو سو فیصد ختم کر دیا گیا ہے تو پھر دنیا کو کسی قسم کے معاشی بحران کا خطرہ نہیں ہونا چایئے۔ امریکی صدر یہ حربے ایران پر صرف نفسیاتی دباؤ بڑھانے کے لیئے استعمال کر رہے ہیں۔

    اگرچہ دنیا کے اقتصادی استحکام، بین الاقوامی سلامتی، توانائی کی پالیسیوں، جمہوریت، انسانی حقوق اور ترقیاتی معاونت جیسے امور میں جی7 کے ممالک اہم کردار ادا کرتے ہیں، دنیا بھر میں ان کا معاشی اثر و رسوخ ہے اور یہ ممالک عالمی دولت کا اٹھاون فیصد اور عالمی جی ڈی پی کا بہت بڑا حصہ بھی رکھتے ہیں لیکن  جنگ تو جنگ ہے جس کا تعلق فتح اور شکست سے ہوتا ہے۔ پھر ویت نام جیسی امریکی جنگ کی طرح بعض جنگیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کا تعلق ہار جیت کی بجائے ان سے نکلنے والے نتائج اور اثرات سے ہوتا ہے۔ اس جنگ میں جہاں امریکہ کو اپنے ہی ملک میں "بیک فائر” ہو رہا ہے وہاں پوری دنیا تیل کی قیمتوں میں اضافے اور معاشی بحران کا الزام امریکہ اور اسرائیل کو دے رہی ہے کیونکہ بے بنیاد الزامات لگا کر اس جنگ کی ابتداء امریکہ اور اسرائیل ہی نے کی تھی۔ 

    جی7 کے اجلاسوں میں یورپی یونین بھی ایک مہمان کی حیثیت سے شرکت کرتی ہے، جس سے اس کی عالمی اہمیت کا وزن بڑھتا ہے لیکن حالیہ برسوں میں، جی7 نے مشرق وسطیٰ کے تنازعات، ایران کے ایٹمی پروگرام، یوکرین روس جنگ، اور چین کے ساتھ تعلقات جیسے اہم معاملات پر مشترکہ بیانات جاری کیے ہیں۔ یہ گروپ عالمی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھنے کے لیے اسرائیل جیسے اتحادیوں کی حمایت اور ایران کی پالیسیوں پر تنقید کرتا رہا ہے۔

    جی7 دنیا کی سات بڑی ترقی یافتہ طاقتوں کا ایک اہم اتحاد ضرور ہے لیکن اس کا حالیہ کلیدی سیاسی کردار جنگ میں ایران کی مخالفت اور امریکہ اسرائیل کے حلیف جیسا ہے۔ کینیڈا میں ہونے والی حالیہ سمٹ میں ایران کو عدم استحکام کا سبب قرار دیتے ہوئے جی7 نے اپنے مشترکہ بیان میں اسرائیل کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ اب اسی پس منظر سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے جی7 کے طاقتور وجود کو ایران کے خلاف ایک اور نفسیاتی دباؤ کے طور پر استعمال کیا ہے اور کہا ہے کہ ایران عنقریب  ہتھیار پھینک دے گا یعنی وہ اپنی شکست تسلیم کر لے گا۔

  • فیصل بن فرحان آل سعود کی برمحل نشاندہی 

    فیصل بن فرحان آل سعود کی برمحل نشاندہی 

    فیصل بن فرحان آل سعود کی برمحل نشاندہی 

    Dubai Naama

    بظاہر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امن کا پرچار کرتے ہیں۔ موصوف نے دنیا کی سات جنگیں بند کروانے کا دعوی کیا۔ وہ امن کا نوبل انعام لینے کے خواہش مند رہے۔ انہوں نے مشرق وسطی میں امن بحالی کے لیئے "غزہ امن بورڈ” بھی بنایا، جس کے وہ تن تنہا تاحیات صدر بن بیٹھے۔ اس کے ساتھ ہی جنیوا میں ایران سے ہونے والے امن مذاکرات کے عین درمیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے 28 فروری کو نیتن یاہو سے مل کر ایران پر حملہ بھی کر دیا، اور موقف یہ اختیار کیا کہ وہ ایسا کر کے خطے میں امن بحال کرنے کے خواہاں ہیں۔ امریکی صدر کے اس امن پسند چہرے کو دنیا نے اچھی طرح پہچان لیا ہے کہ یہ کتنا حقیقی چہرہ ہے۔ کیا اس چہرے کے پیچھے خود ڈونلڈ ٹرمپ بولتے ہیں؟ ڈونلد ٹرمپ  کہہ سکتے ہیں کہ وہ یہودیوں کے ہاتھ استعمال نہیں ہوئے ہیں۔ شائد ڈونلڈ ٹرمپ پہلے امریکی صدر ہیں جو اپنے چہرے پر امن کا ماسک چڑھائے بغیر دنیا میں امن بحال کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ یہ جنگ کے ذریعے انسانی خون بہانے اور امن کے درمیان ایک مدھم اور بلکل نازک سی لکیر ہے۔ ایران پر مسلط کی گئی موجودہ جنگ کی روشنی میں، اب یہ راز پوری دنیا پر کھل گیا ہے کہ امریکی صدر امن کی بحالی کی آڑ میں امن پسندی کے کتنے بڑے دشمن ہیں۔ اس جنگ کے بعد انہوں نے دنیا بھر کو ایک بڑی اور ہولناک تباہی کے کنارے پر لا کھڑا کیا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے امن کے نام پر سلامتی کونسل میں اسرائیل کے حق میں  حسب روایت ایک بار پھر جنگ بندی کو ویٹو بھی کیا۔ اس جنگی حکمت عملی کو ” عالمی دہشت گردی”  کے سوا کوئی دوسرا نام نہیں دیا جا سکتا ہے۔ ٹرمپ اسرائیل کی سلامتی اور بقا چاہتے ہیں جس کا وزیراعظم نیتن یاہو ہیگ میں عالمی عدالت انصاف کا جنگی سزا یافتہ مفرور مجرم ہے۔ ایک سابق امریکی میرین کے بقول یہ جنگ ظلم، ناانصافی اور بربریت کی انتہا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ "اسکول پر پہلے حملے کے بعد، جو بچے بچ گئے تھے، ان کے ماں باپ کو بلایا گیا، جب وہ اکٹھے ہو گئے تو ان پر بمباری کر دی گئی۔” ان کے مطابق، "امریکہ نے جنگ کے پہلے دن ایک ایسے مرکز پر چار کروز میزائل داغے تھے جسے انقلابی گارڈ کمانڈ نے جنگ شروع ہونے سے بہت پہلے خالی کر دیا تھا۔ تین میزائل خالی گوداموں پر لگے، ان میزائلوں میں سے چوتھا میزائل اس مقام کے اوپر منڈلا رہا تھا، معلومات جمع کر رہا تھا اور نقصان کا اندازہ لگانے کے لیے معلومات واپس بھیج رہا تھا۔ لیکن اسرائیل امریکہ نے جس مقام کو نشانہ بنایا تھا، انہوں نے دیکھا کہ وہاں انسانوں کی بڑی تعداد جمع ہو رہی ہے، لوگ اس جگہ کی طرف دوڑ رہے ہیں، تو انہوں نے اس چوتھے میزائل کو حملہ کرنے کا حکم دے دیا۔ یہ میزائل اوپر گیا، پھر نیچے آیا اور ان بچوں اور والدین کو جا لگا۔ اس میزائل میں ایک تھرمو بیریک ہتھیار، یعنی فیول ایئر ایکسپلوسیو تھا۔ چنانچہ انہوں نے بٹن دبایا اور اس اضافی ایندھن کو تھرمو بیریک ہتھیار میں تبدیل کر دیا۔ جن لوگوں کو وہ بھاگتے ہوئے دیکھ رہے تھے، وہ دراصل وہ بچے تھے جو ابتدائی حملے میں بچ گئے تھے۔ انہوں نے اس تھرمو بیریک کروز میزائل کو بم میں بدل دیا، اور ان بچوں جن میں زیادہ تر لڑکیاں تھیں کو زندہ جلا دیا۔ اس سے 170 طالبات، بچے اور ان کے والدین قتل ہو گئے۔ یہ امریکی میرین کہتا ہے، "تم قاتل ہو اور جنگی مجرم ہو۔” لیکن امریکی صدر ٹرمپ اب بھی اپنے اوپر امن پسندی کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہیں۔

    فیصل بن فرحان آل سعود کی برمحل نشاندہی 

    امریکی صدر کی خواہش ہے کہ دنیا کے سارے ممالک ان کی مرضی کے مطابق چلیں, اسکے غلام بن کر رہیں,جو ملک اسکی غلامی سے انکار کر دے تو پھر وہ ایک دم امن کیلیے خطرہ بن جاتا ہے۔ عالی مقام، امریکی صدر کو بس یہی ایک بہانہ چایئے جس کے بعد وہ امن کے نام پر اس کے اوپر چڑھ دوڑتے ہیں۔

    مشرق وسطی کے عرب مسلم ممالک ٹرمپ کا آسان ٹارگٹ ہیں جن کو قابو کرنے کے لیئے امن کی آڑ میں پہلے ٹرمپ نے ان ممالک سے اڈے لیئے اور انہیں اربوں ڈالر کا اسلحہ بیچا اور اب ایران کے خلاف ان کی حفاظت کی بجائے اسرائیل کو بچانے کے لیئے اپنی طاقت استعمال کر رہے ہیں۔ ایک عرب فیصل بن فرحان آل سعود نے اس صورتحال پر بڑی برمحل بات کہی کہ، "36 سال تک ہمیں یقین دلایا جاتا رہا کہ امریکی اڈے ہماری حفاظت کے لیے ہیں مگر پہلی جنگ میں ہی ہمیں معلوم ہوا کہ دراصل ہم ہی ان کی حفاظت کر رہے تھے۔”. ایران کے خلاف اسرائیل امریکہ کی سیاست میں یہ جملہ میزائلوں سے زیادہ اثر رکھنے والا ہے، جو خلیجی ممالک کی آنکھیں کھولنے کے لیئے کافی ہے۔ 

    کبھی کبھی ایک مختصر سا اعتراف بھی دہائیوں کی دفاعی اور سیاسی پالیسیوں پر سوالیہ نشان بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ ان دنوں فیصل بن فرحان آل سعود کا بیان عرب دنیا کے سیاسی ایوانوں کو امریکہ کے بارے اپنی پالیسیاں ازسرنو مرتب کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔ یہ محض ایک سفارتی جملہ نہیں بلکہ اس تاریخ کا آئینہ ہے جس میں دیکھ کر عرب حکمرانوں نے اپنی سلامتی کی ذمہ داری امریکہ اور ٹرمپ جیسے بے وفا صدر کے کندھوں پر ڈال کر خود کو مطمئن رکھنے کی ناکام کوشش کی، اور جب خلیجی اتحادی ممالک کی حفاظت کا وقت آیا تو امریکی نے اس جنگ میں خطے میں امن قائم کرنے کے نام پر مسلم بردار ممالک کو آپس میں لڑانے کے لیئے اکیلا چھوڑ دیا۔

  • خلیجی جنگ میں امریکی گومگو کی حالت

    خلیجی جنگ میں امریکی گومگو کی حالت

    خلیجی جنگ میں امریکی گومگو کی حالت

    Dubai Naama

    امریکہ دلدل میں پھنس گیا ہے۔ یہ وہ آواز ہے جو ہمارے میڈیا پر ہر طرف گونج رہی ہے۔ اس جنگ میں امریکہ فوری نتیجہ چاہتا تھا۔ امریکہ نے خلیج فارس کے پانیوں میں پڑاؤ ڈالنے کے بعد حملہ کرنے میں دیر کی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ امریکہ بھرپور حملے کے لیئے موقع کی تلاش میں تھا۔ 28 فروری کو حملہ کے پہلے روز ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت کی صورت میں اسے یہ موقعہ مل بھی گیا۔ اس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی عوام سے اپیل کی کہ اب وہ اپنی قیادت کا خود انتخاب کریں۔ لیکن جنگ کی طوالت کے ساتھ جہاں "رجیم چینج” ایک خواب بنتا جا رہا ہے وہاں امریکہ کو یہ جنگ کافی مہنگی پڑ رہی ہے۔ امریکہ خلیج سے پیچھے ہٹ پا رہا ہے اور نہ ہی اسے اپنے بنیادی مقصد میں کامیابی حاصل ہو رہی ہے۔

    امریکہ کا اس جنگ میں بنیادی مقصد ایرانی ایٹمی اثاثوں کو تباہ کرنا نہیں تھا بلکہ یہ محض ایک بہانہ تھا، دراصل امریکہ ایران میں رجیم چینج کرنا چاہتا تھا جس میں امریکہ کو ابھی تک کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں ملی ہے، جبکہ موجودہ جنگ  میں امریکہ کو ماضی کی جنگوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ اخراجات بھی برداشت کرنے پڑ رہے ہیں۔ ایران ہوم میڈ سستے میزائلوں اور ڈرونز کا استعمال کر رہا ہے، جبکہ امریکہ ایرانی حملوں کو فضا ہی میں ناکارہ بنانے کے لیئے جو ریسیپٹرز میزائل یوز کر رہا ہے وہ مقابلتا انتہائی مہنگے ہیں۔ ایران کے ایک میزائل کو روکنے کے لیئے امریکہ یا اسرائیل کو کم و بیش سو انٹرسیپٹو میزائل فائر کرنا پڑتے ہیں جس میں سے ہر ایک میزائل کی قیمت کم و بیش دس ملین ڈالر کی ہے۔

    پھر سو فیصد یہ بھی گارنٹی نہیں ہے کہ اتنے سارے مہنگے امریکی اور اسرائیلی ریسیپٹر میزائل ہر ایرانی میزائل کو روک سکیں۔ ایک اندازے کے مطابق امریکہ کو روزانہ اس جنگ میں ایک ارب ڈالر سے زیادہ اخراجات اٹھانے پڑ رہے ہیں، جبکہ امریکہ کو اس مہنگی ترین جنگ میں اسرائیل کے علاوہ کسی مغربی اتحادی کی بھی مدد نہیں مل رہی ہے۔ برطانیہ اور اسپین نے کھل کر اس جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا ہے، جبکہ خطے میں  امریکہ کا جنگی ساز و سامان بھی تیزی سے ختم ہو رہا ہے، کیونکہ اطلاعات ہیں کہ امریکہ جنوبی افریقہ کے اپنے اڈوں سے خلیج میں مزید آرسینلز لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ دوسری طرف یہ اطلاعات بھی آ رہی ہیں کہ خلیج میں امریکہ کے عرب اتحادی بھی امریکہ کو ایران کے خلاف اپنی سرزمین استعمال کرنے سے کترا رہے ہیں۔

    خلیجی جنگ میں امریکی گومگو کی حالت

    قطر نے امریکہ کو ایران کے خلاف اپنی فضائی حدود استعمال کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ قطر کا یہ موقف علاقائی کشیدگی کے عین اس وقت سامنے آیا ہے جب جنگ اگلے انتہائی اہم مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق قطر کا ایران پر حملے کے لیے اپنی سرزمین یا فضائی حدود استعمال نہ کرنے دینے کا فیصلہ  محدود نہیں ہے، بلکہ سعودی عرب، کویت اور متحدہ عرب امارات سمیت دیگر خلیجی ممالک نے بھی امریکہ کو واضح طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف اپنی سرزمین سے کسی بھی فوجی کارروائی کی اجازت نہیں دیں گے۔ رپورٹس کے مطابق اس انکار میں ایرانی سرزمین پر حملوں کے لیے امریکی طیاروں کی ری فیولنگ (ایندھن بھرنے) اور جاسوسی طیاروں کی پروازوں سمیت تمام معاونت شامل ہے۔ قطر امریکہ کا اہم اتحادی ہے اور یہاں خطے میں امریکی فوج کا سب سے بڑا اڈہ، العدید ایئر بیس موجود ہے۔ اس کے باوجود قطر نے اپنی طویل مدتی سلامتی، شراکت داری اور ایران سے براہ راست تصادم سے بچنے کی خاطر توازن قائم رکھنے کی کوشش کی ہے۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حالیہ امریکہ اسرائیل حملوں کے بعد، قطر نے ایک احتیاطی اقدام کے طور پر عارضی طور پر اپنی فضائی حدود پروازوں کے لیے بند کر دی تھیں، اور اپنے فضائی دفاع کو فعال کر دیا تھا۔ ایرانی میزائلوں کو روکنے کا یہ عمل قطر کی خود مختاری کے تحفظ کی کوشش ہے، نہ کہ کسی حملے میں امریکہ کی معاونت ہے۔

    جنگ ایک غیر یقینی صورتحال میں لڑی جاتی ہے جس کی صداقت اور حتمی نتائج کے بارے قبل از وقت کچھ نہیں جا سکتا ہے۔ امریکہ کتنی دیر تک اس مہنگی جنگ کا بوجھ اٹھا سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب خود امریکہ کے پاس بھی نہیں ہے۔ دوسری عالمی جنگ میں امریکہ جاپان اور جرمنی کے خلاف روس کی معیت میں مضبوط اتحادیوں کے ساتھ کھڑا تھا۔ اقوام متحدہ بھی انہی اتحادی قوتوں کے نام پر بنا تھا۔ 2003 کی خلیجی جنگ میں بھی عراق پر حملے کے وقت امریکہ کی پشت پر اسلامی دنیا اور نیٹو ممالک کھڑے تھے۔ لیکن یہ جنگ امریکہ اور اسرائیل اکیلے لڑ رہے ہیں، جبکہ ایران کو چین، روس اور شمالی کوریا کی پشت پناہی حاصل ہے۔ پاکستان نے بھی وزیر دفاع خواجہ آصف کے ذریعے امریکہ کو باور کروایا ہے کہ ایٹمی جنگ کی صورت میں وہ امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں ایران کی مدد کرے گا۔

    یہ موجودہ جنگ کی ایسی تازہ ترین صورتحال ہے کہ ایٹمی جنگ کے آثار بھی نہیں  ہیں اور اس کے بغیر یا ایران میں زمینی فورس اتارے بغیر امریکہ کو ایران میں رجیم چینج کا گول بھی حاصل ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔

    جنگ جلدی ختم نہیں ہو گی۔ اگر ایک دوسرے پر حملوں کی شدت میں کمی نہیں آتی یا فوری طور پر سیز فائر کے لیئے کوئی ملک ضمانتی یا ثالثی کے طور پر سامنے نہیں آتا ہے تو جنگ ایک تو مزید خطرناک ہو سکتی ہے دوسرا اس کی حکمت عملی تبدیل ہو گی اور یہ طوالت پکڑ گئی تو فارسی محاورے کے مطابق امریکہ کے لیئے "نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن” والی صورتحال پیدا ہو جائے گی۔ چند محب وطن اور امن پسند امریکی سینیٹرز کا خیال ہے کہ "ٹرمپ کے پاس ایران جنگ سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہے!” کیا امریکہ واقعی ایک ایسی خونی دلدل میں پھنس چکا ہے جہاں سے واپسی ناممکن ہے؟ واشنگٹن میں ہونے والی ایک انتہائی خفیہ بریفنگ کے بعد ان امریکی سینیٹرز نے جو کچھ بتایا، اس نے پوری دنیا میں تھرتھلی مچا دی ہے! امریکہ عراق جنگ کے تجربہ کار سینیٹر روبن گیلیگو نے دعوی کیا ہے کہ "ہمارے پاس اس جنگ سے نکلنے کا کوئی پلان ہے اور نہ ہی یہ پتہ ہے کہ ‘فتح’ کسے کہتے ہیں!” 

  • ویل ڈن امارات – Well Done Emirates

    ویل ڈن امارات – Well Done Emirates

    ویل ڈن امارات – Well Done Emirates

    Dubai Naama

    ایران اسرائیل جنگ میں متحدہ عرب امارات نے غیر جارحانہ رہنے کا مثالی کردار ادا کیا ہے۔ ابوظہبی اور دبئی کا شمار دنیا کے ان محدود چند شہروں میں ہوتا ہے جہاں کرائم ریٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہاں زندگی کی ہر وہ سہولت موجود ہے جس کا ایک پرامن شہری خواب دیکھ سکتا ہے۔ خصوصی طور پر ریاست دبئی نے اپنے انفراسٹرکچر اور بہتر معیار زندگی کے حوالے سے چند ہی دہائیوں میں "میٹروپولیٹن سٹی” کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔ دنیا کا ہر بڑا انویسٹر یہاں سرمایہ کاری کو محفوظ سمجھتا ہے۔ دبئی پاکستان، انڈیا بنگلادیش، فلپائن اور نیپال جیسے غریب اور ترقی پذیر ملکوں کے افراد کو کھلے دل سے روزگار بھی فراہم کرتا ہے۔ اس معیار کو قائم رکھنے اور لوگوں کا اعتماد بحال رکھنے کے لیئے حالیہ ایران، اسرائیل امریکہ جنگ میں متحدہ عرب امارات نے ایرانی بمباری کے ردعمل کا سردست کوئی جارحانہ جواب نہیں دیا ہے۔ 

    ابوظہبی اور دبئی میں ایرانی اشتعال انگیز بمباری کی وجہ سے غیرملکیوں میں بے چینی ضرور پائی جا رہی ہے لیکن اس کو کم کرنے کے لیئے امارات کی قیادت بڑے شاپنگ مالز میں آ کر ان کے درمیان گھل مل رہی ہے۔ ایران کے ابوظہبی اور دبئی پر میزائل حملے جاری ہیں۔ خاص طور پر ایران دبئی کو روزانہ کی بنیادی پر ہٹ کر رہا ہے۔ لیکن اس کی پراہ نہ کرتے ہوئے چند روز پہلے متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب شیخ زاید بن سلطان آل نہیان اور دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد بن راشد المکتوم، کو عوام کے درمیان دیکھا گیا، جنہوں نے راستے میں آنے والے غیرملکیوں کا حال احوال پوچھا۔ 

    ویل ڈن امارات – Well Done Emirates

    اس سے اگلے روز امارات کے وزیراعظم، نائب صدر اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کو بھی عوام کے درمیان گشت کرتے دیکھا گیا۔ جنگ کے دوران مقامی اور غیر ملکیوں کا حوصلہ بلند رکھنے کی یہ شاندار مثال ہے۔ امارات نے ایران کی جارحیت کے خلاف دفاعی پوزیشن اختیار کر رکھی ہے۔ اس کے باوجود امارات کی فضاؤں میں ایک درجن سے زیادہ لڑاکا طیارے چوبیس گھنٹے گشت پر رہتے ہیں۔ ایران کے زیادہ تر میزائلوں کو فضا ہی میں ناکارہ بنایا جا رہا ہے۔ امارات نے ایران پر جوابی حملے نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو ایک انتہائی مستحسن اقدام ہے۔ جنگ شروع ہوتے ہی جب دبئی اور ابوظہبی کی فلائٹس کینسل ہوئیں تو امارات نے فوری طور پر غیر ملکی مسافروں کو ایڈجسٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ جو لوگ امارات میں چھٹیاں منانے آئے تھے، پھر فضائی حدود بند ہو گئیں اور پروازیں منسوخ ہو گئیں، اب ائیر لائینز نے انکو ہوٹلوں میں قیام کروایا ہے۔ یو اے ای کی حکومت نے ہر ہوٹل کو ہدایت کی ہے کہ مہمانوں کو چیک آؤٹ نہ کریں۔ اخراجات ہم ادا کریں گے۔ ابوظہبی کے محکمۂ ثقافت و سیاحت نے امارات کے تمام ہوٹلز کو ہدایت نامہ بھیج دیا ہے کہ جو مسافر واپس نہیں جا سکتے، ان کا قیام بڑھا دیا جائے اور بل حکومت کو بھیج دیا جائے۔ چند گھنٹوں بعد دبئی نے بھی یہی حکم جاری کر دیا۔ یو اے ای کی جنرل سول ایوی ایشن اتھارٹی نے تصدیق کی یے کہ حکومت تمام متاثرہ مسافروں کی رہائش اور کھانے کے اخراجات ادا کر رہی ہے۔ اماراتی حکومت کے اس اقدام کے بعد نجی کمپنیوں نے بھی اس میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ دبئی کی ہالیڈے رینٹل کمپنیوں نے اپنے اپارٹمنٹس مفت کھول دیئے، اور چند گھنٹوں میں 250 سے زیادہ ہاسٹلز نے بھی ایسا ہی کیا جس کے بعد امارات میں نہ کوئی مہنگائی، نہ ہوائی اڈوں پر زمین پر سونے کی نوبت، اور نہ یہ کہا گیا کہ "اپنا مسئلہ خود حل کرو”۔ امارات ایک ایسی حکومت کا کردار ادا کر رہی ہے جو ہر پھنسے ہوئے مسافر کے گھر واپس جانے تک تمام اخراجات اٹھا رہی ہے۔ اسی دوران دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد بن راشد نے اعلان کیا ہے کہ تمام سرکاری و نیم سرکاری ادارے عید سے پہلے تمام ملازمین کو عیدالفطر سے پہلے  17مارچ تک پیشگی تنخواہوں کی ادائیگی کریں۔

    امارات نے علاقائی کشیدگی کے دوران یہ اقدامات اٹھا کر پوری دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ ان اقدامات کا بنیادی مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ خطے کی صورتحال کے باوجود دبئی میں زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہے اور وہاں کی رونقوں میں کوئی کمی نہیں آئی یے۔ امارات کے صدر مملکت، وزیراعظم اور دبئی کے ولی عہد کا دبئی مال میں موجود عام لوگوں اور سیاحوں سے ملاقاتیں کرنا اور ان کے ساتھ وقت گزارانا، واضح کرتا ہے کہ اماراتی قیادت پرسکون ہے اور ملک میں امن و امان کی صورتحال پر انہیں مکمل بھروسہ ہے۔

    ان اچانک دوروں کی تصاویر سوشل میڈیا پر بھی کافی وائرل ہو رہی ہیں جن میں عوام اپنے رہنماؤں کو اپنے درمیان پا کر خوشی کا اظہار کر رہے ہیں۔

  • ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت اور بعد کی جنگی صورتحال

    ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت اور بعد کی جنگی صورتحال

    ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت اور بعد کی جنگی صورتحال

    Dubai Naama

    ایران اسرائیل اور امریکہ جنگ کے پہلے ہی دن کے آخری لمحات میں اسرائیلی اور امریکی صدور نے اعلان کیا کہ ایران کے سپریم لیڈر سید آیت اللہ علی خامنائی حملوں میں مارے گئے ہیں۔ یہ اعلان پہلے نیتن یاہو اور اس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا۔ ایران پر حملے کی پہل بھی اسرائیل نے کی تھی جس میں امریکہ بعد میں شامل ہوا۔ امریکہ بہادر صحیح معنوں میں اسرائیل کو بچانے میں اس کے "نقش قدم” پر چلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل کے دفاع کی حقیقی ذمہ داری بھی امریکہ ہی اٹھا رہا ہے۔

    مصدقہ اطلاعات کے مطابق اس بمباری میں سپریم لیڈر اور ان کی صاحبزادی بشریٰ خامنائی سمیت ان کے داماد بھی جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں۔ ان کی شہادت کے بعد گلف میں جتنے بھی امریکی بیسز کو ایران کی جانب سے نشانہ بنایا گیا ہے امریکہ کی جانب سے ان میں سے کسی ایک بیس کا بھی دفاع نہیں کیا گیا جبکہ اسرائیل پر ہونے والے ہر حملے کا امریکہ آگے بڑھ کر دفاع کر رہا ہے۔ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ ایران نے سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد جوابی کاروائی کرتے ہوئے جتنے بھی بیلسٹک میزائل امریکی اتحادی عرب ممالک پر برسائے ہیں وہ زیادہ تر شہری اور کاروباری مراکز پر داغے گئے تھے جن کو روکنے میں امریکہ نے کوئی خاص دلچسپی نہیں لی، جبکہ جو ایرانی میزائیل اسرائیل کی طرف جا رہے ہیں، ان سب کو امریکہ ڈیٹیکٹ کرنے میں مستعدی دکھا رہا ہے۔ اس کا ایک سٹریٹجک پلان یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان ممالک کو بوجوہ نقصان پہنچنے دیا جائے یا ایران کی شدید جنگی توجہ اسرائیل کی بجائے ان خلیجی ملکوں پر ہی مرکوز رہے۔ امریکہ کا جیسا یہ وار پلان ہے، ایران کے سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد ابھی تک امریکہ نفسیاتی جنگ جیت رہا ہے، حالانکہ  شروع میں ایران نے بار بار علی خامنائی کے شہید ہونے کی تردید کی تھی۔

    ایران کے خلاف 28 فروری 2026ء کو اسرائیل امریکہ جنگ کا آغاز ہوا اور ایک روز بعد یکم مارچ کو علی الصبح ایران کے سرکاری میڈیا نے سپریم لیڈر کی شہادت کی تصدیق کر دی۔ پہلے دن کے آخری لمحات ہی میں امریکہ اور اسرائیل نے ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت کی خبر دے کر ایرانی عوام کو کہا تھا کہ اب وہ ایرانی حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں، اور ایران میں اپنی مرضی کی نئی حکومت تشکیل دیں۔ ایران امریکی صدر، ان کی سیکورٹی ٹیم اور پنٹاگون کو ایک بار تو ٹف ٹائم دے رہا ہے۔ ایران نے ماسوائے اومان کے بیک وقت 7 خلیجی ممالک پر میزائل داغے اور انہیں جنگ میں بلاخوف گھسیٹ لیا۔ اس سے امریکی انٹیلیجنس کی صلاحیتوں پر سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ پہلی بمباری کے بعد دنیا بھر کے میڈیا پر بس ایران اور اس کے میزائل چھائے ہوئے تھے، کیونکہ ایران ایک ہی وقت میں سات خلیجی ممالک کو انگیج کیئے ہوئے تھا جس میں  بحرین، قطر، کویت سعودی عرب اور امارات وغیرہ شامل ہیں۔ یہاں تک کہ ایران نے ترکی میں نیٹو کے اڈے پر بھی میزائل برسا کر نیٹو کو بھی جنگ میں گھسیٹ لیا، جہاں اطلاعات ہیں کہ اٹلی کے بیس فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ زیر بحث ہے کہ اسرائیل اور امریکہ نے دن دیہاڑے حملہ شروع کر کے اپنی طاقت کی دھاک بٹھانے کی کوشش کی اور ایران کی اعلی روحانی و سٹریٹجک طاقت کو بھی شہید کر دیا مگر ایران کے شدید ردعمل کا اندازہ لگانے میں ان سے غلطی ہو گئی۔ یہاں اسرائیل اور امریکہ یہ سوچ کر پریشان ہو رہے ہیں کہ وہ پہلے حملوں میں ایرانی قیادت کو ہلاک کرنے میں مگن ہو گئے، مگر پہلے ہلے میں ایرانی میزائیل لانچرز کو تباہ کرنے کی طرف کیوں توجہ نہیں دی تاکہ ایران خلیجی اتحادیوں کو نشانہ نہ بنا سکتا۔ ایران کی اس تیاری کا امریکی اور اسرائیلی ایجنسیاں اندازہ کیوں نہ لگا سکیں جبکہ ایران کی میزائل طاقت کو پچھلی جنگ میں بھی اسرائیل بھگت چکا تھا۔ سننے میں آیا ہے کہ اس بحث مباحثے کے نتیجے میں خود امریکی اور اسرائیلی قیادت کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہوئے ہیں جس پر عرب ریاستوں کی طرف سے بھی شدید اعتراضات اٹھائے گئے ہیں۔ 

    ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت اور بعد کی جنگی صورتحال

    ایرانی سپریم لیڈر شہید ہو گئے ہیں اور ان کے ساتھ ہی ایران جنگ کو چند گھنٹوں سے کھینچ کر دنوں تک لے جاتا ہے اور پھر اس وقت کو استعمال کر کے پوری دنیا کی معیشت کو بحر ہرمز کو بند کرنے کے بعد نقصان پہنچاتا ہے تو یہ کامیابی ایران کی اسرائیل اور امریکہ پر برتری کو ثابت کرے گی۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ انہیں معلوم ہے کہ خامنائی کے بعد کون جنگ کو لیڈ کر رہا ہے۔اس کا براہ راست مطلب یہ ہے کہ اب اسرائیل امریکہ ایران کی ذاتی قیادتوں کو نشانہ بنانے پر اتر آیا ہے۔ پس پردہ روس اور چین یہ تماشہ دیکھ رہے ہیں بلکہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف خاموشی سے کھیل رہے ہیں۔ خلیجی ممالک میں دنیا کے سب سے زیادہ مصروف ائیرپورٹس پر ہو کا عالم ہے۔ ساری دنیا میں لاکھوں لوگ ایئرپورٹس پر پھنسے ہوئے ہیں، فلائٹس منسوخ اور پھر ہرمز کو بند کر کے 21 بلین بیرل یومیہ گزرنے والے تیل کو ایران کا روک دینا امریکہ اور اسرائیل ہی کو نہیں بلکہ پوری دنیا کی نقل و حرکت اور کاروبار کو شدید نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔

    اس پر روس کا ردعمل قدرے سخت ہے، سلامتی کونسل کا اجلاس بلا لیا گیا ہے، روس نے امریکی حملے کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ عالمی عدالت پہلے ہی اسرائیل وزیر اعظم کو جنگی مجرم ڈیلئیر کر چکی ہیں اور ہیگ کی عالمی عدالت نے نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کر رکھے ہیں۔ ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد ایران اپنا دفاع کرنے میں حق بجانب ہے۔ سپریم لیڈر کی شہادت کے باوجود ابھی تک جنگی میچ ایران کے ہاتھ میں ہے کیونکہ عوام اپنی موجودہ قیادت کی پشت پر کھڑی ہے جبکہ ٹرمپ انتظامیہ اپنی عوام کی تائید سے محروم اور اس حملے کے اخلاقی جواز سے بھی محروم نظر آ رہے ہیں۔

    تاریخ گواہ ہے کہ صرف فضائی بمباری سے کسی مضبوط حکومت کو گرانا ناممکن ہے۔ اس کی زندہ مثال 2003ء میں عراق میں رجیم چینج کرنے کے لیئے نیٹو سمیت امریکہ کے اتحادیوں کا عراق پر زمینی حملہ ہے۔ اب جبکہ تہران کو یہ پیغام مل چکا ہے کہ یہ اس کی بقا اور سلامتی کی جنگ ہے اور ان کے سٹریٹجک اور روحانی رہنما کی بھی شہادت ہو چکی ہے تو وہ اپنے حملہ آوروں کو زیادہ سے زیادہ نقصان پہنچانے کے لیے ہر ممکن ہتھیار استعمال کرے گا۔ انٹرنیشنل کرائسز گروپ کے علی واعظ کے مطابق ایران کی جانب سے تباہی مچانے کی اصل صلاحیت کو ابھی تک آزمایا ہی نہیں گیا ہے۔ بارہ روزہ جنگ میں ایران نے اپنے مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کروز، میزائل بحری اثاثے، ڈرونز، انڈر واٹر ڈرونز اور اینٹی شپ بیلسٹک میزائلوں کو جان بوجھ کر استعمال نہیں کیا تھا۔ اب ان کے پاس خلیج اور آبنائے ہرمز میں امریکی اور تجارتی جہازوں کی صورت میں اہداف کی ایک وسیع رینج موجود ہے۔ یمن کے حوثی جنہوں نے حال ہی میں ایک امریکی طیارہ بردار جہاز کو بال بال مس کیا ہے وہ یقینی طور پر اس میں شامل ہوں گے اور حزب اللہ بھی دوبارہ طاقت پکڑنے کے بعد اس جنگ کا حصہ بنے گی۔

    واشنگٹن کے ہر وار گیم میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ایسی کسی بھی جنگ میں ایک یا دو امریکی جنگی جہاز لازمی ڈوبیں گے۔ علی خامنائی کی شہادت کے بعد ایران کے وحشی ہونے کا امکان ہے اگر ایسا ہوا تو ٹرمپ کو ایک ایسا تباہ کن جوابی حملہ کرنا پڑے گا جو مشرق وسطیٰ کو ایک نہ ختم ہونے والی بڑی جنگ میں دھکیل دے گا۔

  • ایران پر اسرائیلی حملے 

    ایران پر اسرائیلی حملے 

    ایران پر اسرائیلی حملے 

    Dubai Naama

    اسرائیل نے ایران پر تین فضائی حملے کیئے ہیں۔اس وقت تہران میں اسرائیلی فضائی حملوں کی دوسری لہر جاری ہے جبکہ ایرانی صدارتی محل اور سپریم لیڈر کے دفتر کے قریب دھواں اٹھتا ہوا دیکھا جا رہا ہے۔ رائٹرز کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای تہران میں موجود نہیں اور انہیں ایک محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

    اس وقت بھی تہران میں اسرائیلی فضائی حملوں کی دوسری لہر جاری ہے اور ایرانی صدارتی محل اور سپریم لیڈر کے دفتر کے قریب بمباری ہو رہی ہے۔ ایران پر یہ اسرائیلی حملہ ایران کو جوابی حملہ کرنے پر مجبور کر رہا ہے۔ اس حملے سے قبل  امریکی سفارت خانے کے عملے کو اسرائیل سے فوری انخلاء کا حکم دیا گیا تھا، جبکہ اسرائیل نے ایران کے جوابی حملے کے پیش نظر سکول بند کر دیئے ہیں، اجتماعات پر پابندی لگا دی ہے اور عوام کو گھروں میں رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ ظاہر ہے کہ اب کسی بھی وقت امریکہ بھی اس جنگ میں کود پڑے گا۔ 

    عراق کی جانب سے بھی اسرائیل نے ایران پر میزائیل داغے ہیں۔ ایران پر اسرائیل کا حملہ ہوا ہےتو اب ظاہر ہے کہ ایران کا پہلا ٹارگٹ اسرائیل ہی ہو گا۔ ایران کے بیلسٹک میزائل کافی خطرناک ہیں۔ ان ایرانی میزائلوں کے بارے اسرائیلی میڈیا بھی کافی بدگمانیاں پھیلاتا رہا ہے۔ اسرائیل کا خیال رہا ہے کہ گنتی کے صرف چند ایرانی بیلسٹک میزایل ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرائے گئے ایٹم بموں کے برابر آرسینل برسا سکتے ہیں۔ اگر یہ بات سچ ہے تو  امریکہ بھی بہت جلد اس جنگ میں شامل ہونے جا رہا ہے۔ امریکہ کا لاو’لشکر پہلے ہی خلیج فارس میں موجود ہے۔ جب امریکہ اور اسرائیل مل کر ایران پر حملہ کریں گے، تو حملہ کافی بھرپور ہو گا تاکہ اسرائیل پر ایران کو خطرناک جوابی حملہ کرنے کا موقعہ نہ مل سکے۔   

    اسرائیلی وزیراعظم وقفے وقفے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران پر حملے کے لیئے اکساتے رہے ہیں۔ واشنگٹن میں امریکی صدر سے اپنی آخری ملاقات میں بھی نیتن یاہو نے انہیں ایران پر فوری حملہ کرنے کے لیئے ترغیب دی تھی۔ نتین یاہو کا یہ رویہ "آ بیل مجھے مار” والا تھا۔ ایک شاعرانہ محاورہ ہے کہ، "ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے۔” ایران پر اسرائیلی حملے بعد ایران کے لیئے تختہ یا تختے والا معاملہ پیدا ہو گیا ہے۔ ایران کے ساتھ ہجر جیسا امریکی رومانس 1979 سے شاہ ایران کا تختہ الٹنے سے چلا آ رہا تھا لیکن اب یہ شاعرانہ رومانس ” جنگی وصل” میں گیا ہے۔

    ایران پر اسرائیلی حملے 

    ایران خلیج فارس میں روس اور چین کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقیں کرتا رہا ہے۔ امریکی جنگی جہاز ایف22 اسرائیلی اوودا اڈے کے رن وے پر تیار کھڑے دیکھے گئے تھے، جبکہ مزید سی17 کارگو جہاز میزائل لے کر اسرائیل اترے تھے۔ تل ابیب بن گوریان اڈے پر بھی 20 سے زائد امریکی ایئر ریفیولنگ ٹینکرز جہاز دیکھے گئے تھے جو جنگی لڑاکا جہازوں کو فضا میں ایندھن بھرتے ہیں۔ اسرایلی جنگی طاقت کا جن بوتل سے باہر آ چکا ہے۔ اب روس، چین اور شمالی کوریا بھی امریکہ کی سپر طاقت کے غبارے سے ہوا نکالنے کے لیئے بیتاب ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس جنگ میں چین کھل کر ایران کی مدد نہیں کرے گا کیونکہ امریکہ کے ساتھ اس کی اربوں ڈالرز کی تجارت ہے۔ لیکن آج کے دور میں جنگ سرمایہ کاری سے زیادہ بڑا ذریعہ آمدن ہے۔ یہ جنگ جو بھی رخ اختیار کرے چین کو تجارت کے لیئے نئی عالمی منڈیاں ملنے کا بھی امکان ہے۔ اس سے زیادہ چین کے لیئے یہ بات اہم ہے کہ امریکہ کو شکست یا رسوائی ہوتی ہے تو اس کے بدلے چین کو سپر پاور کے طور پر امریکہ کے مقابلے میں برتری حاصل ہو جائے گی۔ سونے پر سہاگہ یہ ہے کہ روس پہلے ہی چین کی پشت پر کھڑا ہے۔ امریکہ کو ایران پر حملہ کرنے میں تاخیر کے پیچھے یہ بنیادی وجہ شامل ہے کہ اگر امریکہ کو ویت نام اور افغانستان کی طرح ایران میں شکست ہوئی تو اس کا سپر پاور رہنے کا خواب تحلیل ہو جائے گا۔ ایران کے ایٹمی طاقت ہونے کے بارے میں بھی کچھ ایسی ہی اطلاعات ہیں۔ یوں چین ایران کی ہمہ وقت جنگی مدد کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرے گا۔ یہاں تک کہ امریکی حملے میں تاخیر کے پیش نظر ایران کو بھی بعض شعلہ بیان سیاسی تجزیہ کار میڈیا پر سپر پاور کے طور پر دکھاتے رہے ہیں، جو اسرائیل کے وجود کے لیئے انتہائی خطرناک موڑ ہے۔

    ٹرمپ کے قریبی حلقوں کا خیال تھا کہ اگر ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی کا امکان زیادہ ہے۔ خطے میں اس جنگ کے آغاز سے پہلے 11 ممالک کی اپنے شہریوں کو مشرق وسطیٰ کے سفر میں محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ متعدد ممالک نے مشرق وسطیٰ کے بعض مقامات سے سفارت کاروں کے اہل خانہ اور غیر ضروری عملے کو نکالنے کا عمل شروع کر دیا تھا یا اپنے شہریوں کو ایران کے سفر سے گریز کا مشورہ دیا تھا۔ اسرائیلی فوج کی ترجمان ایلا واویہ نے کہا تھا کہ اسرائیلی فورسز نے لبنان کے اندر بعلبک کے علاقے میں حزب اللہ کی "رضوان فورس یونٹ” سے وابستہ آٹھ کیمپوں پر بمباری کی تھی۔ نشانہ بنائے گئے کیمپوں کو جنگی سازوسامان، اسلحہ اور میزائل ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ یہ اسرائیلی حملہ ایران پر حملے کی صورت میں حزب اللہ کے ردعمل کو روکنے کے لیئے کیا گیا تھا۔ عرب ذرائع کے مطابق اگر ایران پر امریکی حملے محدود ہوئے، تو حزب اللہ کا موقف فوجی مداخلت نہ کرنا ہے۔ لیکن اگر ان کا مقصد ایرانی نظام کو گرانا یا رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ذات کو نشانہ بنانا ہوا تو حزب اللہ تب مداخلت کرے گی جس کا نشانہ براہ راست اسرائیل ہو گا۔ 

    اسرائیل کے خیال میں تو ایران پر امریکی حملہ اسرائیلی بقا اور سالمیت کو مستحکم کرے گا لیکن ایران کو اسرائیلی اور امریکی حملوں کے بعد سنھبلنے کا موقعہ مل گیا تو اسرائیل کے صفحہ ہستی سے مٹنے کا موقعہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ امریکی انٹیلیجنس کے پاس جو خفیہ اطلاعات ہیں وہ اسرائیل کے لیئے کافی تشویشناک ہیں۔ امریکہ ایران پر حملہ کر کے جنگ جیت لے یا ہار جائے دونوں صورتوں میں ایران اور اس کے اتحادیوں کا سارا نزلہ اسرائیل پر گرے گا۔ خطے میں ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ نے جو جنگ چھیڑی ہے، اس کا ممکنہ نتیجہ فیصلہ کن ہو گا، اور ایران پر اسرائیل امریکہ حملہ فیصلہ کن ہو گا اور اسرائیل کے خلاف ایران جو "لونگ ویٹڈ” حملہ کرے گا وہ بھی فیصلہ کن ہی ہو گا۔

    Read in English Israeli Offensives Directed at Iran

  • ایران امریکہ کشیدگی کا منطقی نتیجہ 

    ایران امریکہ کشیدگی کا منطقی نتیجہ 

    ایران امریکہ کشیدگی کا منطقی نتیجہ 

    Dubai Naama

    اطلاعات کے مطابق امریکی جنگی بیڑا "یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ” بھی خلیج فارس پہنچ چکا ہے۔ یہ دنیا کا سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز ہے۔ اس کا یہاں لانے کا مقصد ایران سے جنگ کرنا نہیں، بلکہ اس سے اپنی شرائط کے مطابق ڈیل کرنا ہے۔ چند ہفتے قبل اسرائیلی وزیراعظم کی واشنگٹن میں امریکی صدر سے ملاقات ہوئی۔ اس میں نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ پر ایران پر حملے کے لیئے کافی دباؤ ڈالا مگر وہ ٹرمپ کو فوری حملے کے لیئے راضی نہ کر سکے۔ اسرائیل اپنی بقا کے لیئے ہر قیمت پر ایران میں رجیم چینج چاہتا ہے جو صرف ایران پر کامیاب حملے ہی سے ممکن ہے۔ لیکن امریکی حملے کے بعد بھی سو فیصد گارنٹی فراہم نہیں کی جا سکتی کہ ایران میں اسرائیل نواز حکومت قائم ہو سکے گی۔ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملہ ایک مکمل جنگ کو جنم دے گا جس سے پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ ایران بار بار اس بات کا عندیہ دے چکا ہے ایران پر امریکی حملے کی صورت میں وہ جہاں اسرائیل پر بھرپور حملہ کرے گا وہاں وہ خلیجی ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنائے گا۔ امریکی معیشت ڈانواں ڈول ہے مگر ایران پر حملے کا جتنا فائدہ اسرائیل کو ہو گا اس سے کئی گنا زیادہ نقصان امریکہ کو ہو گا کیونکہ جنگ کی صورت میں خلیج فارس میں موجود  امریکہ کے دس بحری بیڑے، دس ہزار امریکی فوجی اور تمام خلیجی ممالک میں امریکی اڈے ایران کے ایٹمی میزائلوں کی زد میں آ جائیں گے۔

    مشرق وسطی کے تمام ممالک امریکہ کو آگاہ کر چکے ہیں کہ ایران پر حملے میں وہ امریکہ سے تعاون نہیں کریں گے۔ ایران پر حملے کے امکان کو مدنظر رکھ کر سعودی عرب اور ایران ایک دوسرے کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ ایران اور روسی مشترکہ جنگی مشقیں بھی خلیج فارس میں جاری ہیں  اور دوسری طرف چین اور اس کے اتحادی بھی ایران کو جنگی تعاون کی مکمل یقین دہانی کروا چکے ہیں۔ اس دفعہ ایران پر امریکی حملہ یقینا تیسری عالمی جنگ کو دعوت دینے کے مترادف ہو گا یا جنگ نہ بھی ہوئی تو اس کا منطقی نتیجہ یہ نکلے گا کہ امریکہ خطے میں مستقل طور پر بیٹھ جائے گا۔ اس تمام صورتحال کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی بھانپ چکے ہیں۔ اسی تناظر میں غزہ امن بورڈ کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جہاں انہوں نے ایران کو اپنی شرائط پر دھمکاتے ہوئے مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت دی، وہاں انہوں نے کانفرنس کے خاتمے پر ایران کے بارے نرم گوشہ اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے پاس دس مارچ تک مذاکرات پر آمادہ ہونے کا وقت ہے۔ اس کے ساتھ ہی امریکی صدر نے ایرانی بچوں کے لیئے دودھ کے ڈبے بھجوانے کا اعلان کیا۔

    دراصل حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور یورپ کی معیشت کمزور ہو چکی ہے۔ اہل مغرب ایران سے جنگ کو جہاں اپنی معیشت کو بچانے کا ذریعہ سمجھ رہے ہیں وہاں وہ مشرق وسطی کے ذرائع اور دولت پر مکمل کنٹرول حاصل کر کے اور اسرائیل کو استعمال کیئے بغیر خلیج فارس میں اپنی مستقل موجودگی کا بہانہ بھی ڈھونڈ رہے ہیں۔ بہت سے تجزیہ کار خلیج فارس میں امریکہ کی بڑھتی ہوئی جنگی طاقت کو "گریٹر اسرائیل” کے منصوبے سے جوڑ رہے ہیں مگر امریکہ کی خلیج میں اتنی طاقت بڑھانے کا واحد مقصد ایران سے جنگ کرنا نہیں، بلکہ یہاں اپنا آزادانہ امریکی بحری اور بری اڈا قائم کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیئے امریکہ کو کویت پر عراقی قبضے کی طرح اگر کسی چھوٹے خلیجی ملک پر قبضہ بھی کرنا پڑا تو اس سے گریز نہیں کرے گا۔ 

    ایران امریکہ کشیدگی کا منطقی نتیجہ 

    اگر امریکہ ایران پر حملہ کر کے اور روس، چین، شمالی کوریا اور ایران سے گرم جنگ میں جیت گیا تو وہ "نیو ورلڈ آرڈر” رائج کرنے کے لیئے دنیا کے سارے رولز بدل دے گا۔ تجارت کے رول، کرنسی کے رول، اقوام متحدہ کے قوانین اور  انٹرنیشنل لاز کو اپنی مرضی سے ازسرنو مرتب کرے گا۔ یہاں تک کہ اقوام متحدہ کا زندہ رہنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ امریکہ کا غزہ امن بورڈ کو قائم کرنا اور اس کا تن تنہا چیئرمین بننا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ یہ جنگ بظاہر امریکی سپر پاور کی بقا کی جنگ ہے جس میں امریکہ خود کو ہیرو اور باقی متحارب دنیا کو ولن ثابت کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ دوبارہ دنیا کا بلاشرکت غیرے حکمران بن کر بیٹھ جائے۔ یہی امریکہ کا خلیج فارس میں اپنی جنگی قوت کو بڑھانے کا مقصد ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بہت ہوشیار ہیں جن کی اولین جنگی حکمت عملی یہ نظر آتی ہے کہ وہ یہ مقصد ایران سے جنگ کیئے بغیر حاصل کر لیں، یہی وجہ ہے کہ وہ ایران پر حملہ کرنے میں بار بار توسیع کر رہے ہیں۔ 

    تاحال امریکہ کی خارجہ پالیسی کا دوسرا محور پاکستان ہے کہ اسے بیک فٹ پر رکھ کر ایران سے کشیدگی کی صورت میں وہ پاکستان کو اپنے سٹریٹجک مقاصد کے لیئے استعمال کر سکے۔ امریکہ اگر پاکستان کو اپنی مرضی کے مطابق  استعمال نہ کر سکا تو اس کی اصل اور حتمی ترجیح ایران پر حملہ ہی ہو گا۔ اگر اسے ایران کے خلاف جنگ میں کامیابی ہوتی ہے اور ایران میں رجیم بھی چینج ہو جاتا ہے تو پھر اسرائیل ایران میں بیٹھ کر بلوچستان میں حالات خراب کرنے کی کوشش کرے گا۔ ادھر بھارت بھی یہی چاہتا ہے کہ اسرائیل کے گٹھ جوڑ سے بلوچستان میں علیحدگی پسندی اور دہشت گردی کو فروغ دیا جائے۔ یہ ایسی ممکنہ صورتحال ہے جس کے خلاف پاکستان کو بھی اپنی سٹریٹجک ترجیحات کو ازسرنو مرتب کرنے کی فوری ضرورت پیش آئے گی۔ اسرائیل نے غزہ امن بورڈ کے تحت فلسطین میں عالمی امن فورس میں پاکستان اور ترکی کی شمولیت کی اسی بناء پر مخالفت کی تھی تاکہ اس مد میں گیم چینجر کی حتمی طاقت اسرائیل اور امریکہ ہی کے ہاتھ میں رہے۔ یہ ایسی پیچیدہ صورتحال ہے جو امریکہ کو "پیچھے ہٹ جاو” یا "جنگ کرو اور مرو” کی طرف دھکیل رہی ہے۔ امریکہ کے ایران کے ساتھ مذاکرات کامیاب ہوں یاناکام  ہوں، یہ ایک امکان ہے۔ جنگ ہو بھی سکتی ہے اور ٹل بھی سکتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ امریکہ خلیج فارس میں مسلسل جنگی طاقت میں اضافہ کر کے اب بند گلی میں دھنستا چلا جا رہا ہے۔ پاکستان پہلے ہی حالت جنگ میں ہے۔ افغانستان میں دہشت گرد گروپوں کو برسوں سے فنڈنگ ہو رہی ہے۔ امریکہ کا افغانستان میں چھوڑا گیا اسلحہ اسی مقصد کے لیے تھا۔ اب شام سے نکلنے والے لوگ بھی اسی طرف بھیجے جا رہے ہیں۔ مقصد یہاں عدم استحکام پیدا کرنا اور ایران اور پاکستان کے گرد آگ لگانا ہے۔ یہ جنگ ہم پر مسلط کی جا رہی ہے۔ ہم چاہیں یا نہ چاہیں، ہمیں مقابلہ کرنا پڑے گا۔ اس لیے پاکستان کو ڈرنے کے بجائے تیار رہنا ہو گا۔ پاکستان کی فوج میں ہمارے اپنے بچے ہیں۔ وہ ہم ہی میں سے ہیں۔ ان کی حفاظت تب ہو گی جب ہم متحد رہیں گے۔ ہمیں چایئے کہ ہم فرقہ پرستی اور دہشت گردی کی مخالفت کریں۔ ہم اندر سے کمزور ہوئے تو باہر والے ہمیں آسانی سے توڑ دیں گے۔ پاکستان کی بقا کا مسئلہ ہوا تو یقینا پاکستانی قوم اور فوج کسی قربانی سے گریز نہیں کریں گے۔

  • جاوید الحسن جاوید کی "ابھی نظمیں ادھوری ہیں”

    جاوید الحسن جاوید کی "ابھی نظمیں ادھوری ہیں”

    جاوید الحسن جاوید کی "ابھی نظمیں ادھوری ہیں”: تجزیاتی مطالعہ


    عتیق الرحمان اعوان


    6 مئی 2024 بہ روز پیر ریاست جموں و کشمیر کے ادبی منظر نامے پر نعت، غزل اور نظم کے حوالے سے رقم معتبر نام جناب جاوید الحسن جاوید سے ان کے دفتر میں ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ محترم جاوید الحسن جاوید سیکرٹری آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر کے عہدہ جلیلہ پر متمکن ہیں اور ان دنوں سیکرٹری اسٹیٹ ارتھ کویک ری کنسٹرکشن اینڈ ری ہیبلی ٹیشن اتھارٹی کے طور پر تعینات ہیں۔ موصوف کی جنم بھومی ضلع سدھنوتی تحصیل پلندری ہے۔ پلندری کی آب و ہوا علم و ادب کے حوالے سے انتہائی سازگار ہے اور ادبی لحاظ سے یہ خطہ ارضی خاصا ثروت مند بھی ہے جہاں پروفیسر عبدالعلیم صدیقی جیسے نابغہ روزگار ادیب پیدا ہوئے اور دھائیوں تک دنیائے ادب کے افق پر چمکے اور اپنی روشنی اور حرارت سے نئے لکھاریوں کو نمو بخشی۔ پروفیسر عبدالعلیم صدیقی کو "ترجمان اقبال” ہونے کا منفرد اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے اپنے بعد پلندری کو کئی گوہر نایاب تلاش اور تراش کر دیئے جو اب اپنے حصے کا کام بہ خوبی نبھا رہے ہیں۔ ان نایاب نگینوں میں ایک نام جناب جاوید الحسن جاوید کا بھی ہے جنہیں براہ راست پروفیسر عبدالعلیم صدیقی کے شاگرد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ موصوف نے جہاں شعر و ادب میں اپنا الگ نام و مقام پیدا کیا وہیں اپنی اعلا اخلاقی اقدار اور پرکھوں سے وراثت میں ملنے والی روایات کی پاسداری میں بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ اعلا حکومتی عہدہ ہونے کے باوجود موصوف عاجزی و انکساری کے جذبے سے سرشار ہیں، انہیں ایک بار ملنے کے بعد بار بار ملنے کو جی کرتا ہے۔

    جاوید الحسن جاوید کی "ابھی نظمیں ادھوری ہیں”

    مگر یہ طے ہے کہ جو ایک بار ہم سے ملے
    کسی کا ہو بھی چکا ہو ہمارا ہوتا ہے

    جناب جاوید الحسن جاوید سے ملاقات اور گفتگو کا سحر گھنٹوں طاری رہا۔ انہوں کمال محبت و شفقت سے نظموں اور قطعات پر مشتمل اپنا شعری مجموعہ "ابھی نظمیں ادھوری ہیں” اپنے دست خط کے ساتھ عنایت کیا، جو میرے لیے باعث اعزاز ہے۔ میری اس تحریر کا بنیادی مقصد ان کے اس مجموعے پر اپنی رائے کا اظہار کرنا ہے۔
    "رمیل ہاوس آف پبلی کیشنز” راولپنڈی کے زیر اہتمام منصہ شہود پر آنے والی اس کتاب کا سرورق گہرے آسمانی نیلے رنگ سے مزین ہے جسے پہلی نظر دیکھنے پر ہی بے اختیار پڑھنے کا جی چاہتا ہے۔ مضبوط اور مربوط جلد بندی اضافی وصف ہے۔ مصنف نے اپنی یہ کاوش دنیا کے تمام مظلوم انسانوں کے نام کی ہے۔ جلد کے اندرونی حصے پر نظر پڑتے ہی آپ جان جائیں گے کہ مصنف کے تن بدن میں وطن کی محبت کس درجہ جاگزیں ہے:

    مانو کہ زندگی کی کہانی وطن سے ہے
    شعروں کا طمطراق جوانی وطن سے ہے
    نغموں کا لوچ حرف کی صورت گری سبھی
    سانسوں کا زیر و بم یہ روانی وطن سے ہے!!!

    نظموں، نغموں اور قطعات پر مشتمل اس مجموعے کا آغاز خاتم الانبیاء و رسل، نبی برحق، محبوب خدا و خلائق حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی محبت میں ڈوبے اس قطعے سے ہوتا ہے:

    وہ داغ دہلوی تھے جو کہتے سنے گئے
    مجھ کو خبر نہیں مری مٹی کہان کی ہے
    میں نقش پا ہوں اپنے محمدؐ کا اور بس
    مجھ کو خبر ملی مری مٹی جہاں کی ہے!!!

    نظموں کا آغاز معاشرتی برائیوں میں موجود "ونی” جیسی قبیح رسم پر قلم کشائی سے کیا گیا ہے:

    میں مویشی تو نہیں ہوں بابا!
    مجھے تاوان میں دینا تھا اگر
    کیا ہی بہتر تھا کہ جب آنکھ کھلی تھی میری
    زندہ درگور ہی کرتے مجھ کو!!!

    ہمارے معاشرے میں موجود اس قبیح رسم کے خلاف اپنے لفظوں کے ذریعے علم جہاد بلند کرنا جناب جاوید الحسن جاوید کا ہی خاصہ ہے۔
    "ابھی نظمیں ادھوری ہیں” کے عنوان سے درج نظم میں شاعر اپنی گزری زندگی پر نظر ڈالتا محسوس ہوتا ہے اور اسے احساس ہو رہا ہے کہ وقت کی مہلت تو ختم ہونے کو ہے اور میزان عمل خالی ہے، شاعر اس بات کو بھی شدت سے محسوس کرتا ہے کہ اسے تو ابھی بہت کچھ کرنا ہے:

    قلم کی روشنائی
    ختم ہونے کو چلی آئی
    مگر کاغذ تو کورا ہے
    ابھی کہنے کی سننے کی
    کئی باتیں ضروری ہیں
    ابھی نظمیں ادھوری ہیں!!!

    جاوید الحسن جاوید کہیں غریب اور بے گھر بچوں کا رونا روتے نظر آتے ہیں تو کہیں اشرافیہ اور حکمران طبقہ پر اس انداز سے طنز کرتے ہیں:

    ہجوم روک کے رستہ کھڑا ہے شاہوں کا
    انہیں خبر ہی نہیں ہے کہ بادشاہ کیا ہے؟
    جو اس کی راہ میں آئے گا مارا جائے گا
    ہجوم شاہ کی عظمت پہ وارا جائے گا!!!

    "مہاجر بچے” کا عنوان لیے نظم کشمیر، فلسطین، روہنگیا، بغداد و مصر کے بچوں کے کرب میں ڈوب کر یوں صورت پذیر ہوتی ہے:

    زمیں پر رینگنے والوں کا کوئی گھر نہیں ہوتا
    نہ ماں کی چھاتیوں میں دودھ ہوتا ہے
    نہ منہ پر نور ہوتا ہے
    بدن پر بس خراشیں اور لہو کے داغ ہوتے ہیں!!!

    انہیں خوابوں کو آنکھوں میں بسانے کی اجازت۔۔۔
    بھی نہیں ملتی!!!
    زباں ہوتی ہے لیکن
    ظلم سہہ کر بھی نہیں ہلتی!!!
    "پہلی دنیا کی اقوام” کے عنوان سے لکھی نظم میں اقوام عالم میں پھیلی انارکی، جنگ و جدل اور ناانصافی کے ذمہ داروں کے خلاف جاوید صاحب یوں سینہ سپر ہیں:

    انہیں معلوم ہے کیسے کہاں پہ جنگ کے بادل اٹھانا ہیں
    کہاں جھکڑ چلانا ہیں
    کسے آگے بڑھانا ہے
    کسے پیچھے ہٹانا ہے
    زمیں کی گیند کو کیسے گھمانا ہے
    مقابل کس کو لانا ہے!!!

    انہیں معلوم ہے کیسے
    کبھی بارود، میزائیل
    جہاز اور فالتو پرزےبنا کر بیچنا ہیں
    کس طرح سے تیسری دنیا کی قوموں کو
    لڑانا اور پھر ان کو لڑا کر امن کا رستہ دکھانا ہے
    انہیں معلوم ہے سب کچھ!

    "امر واقعہ” نامی نظم دور حاضر کی سچی تصویر پیش کرتی اور والدین کے دکھ روتی نظر آتی ہے کہ بچے وقت آنے پر ان والدین سے کیسے منہ پھیر لیتے ہیں جنہوں نے انہیں پالنے پوسنے کی خاطر اپنی عزت نفس تک بیچ ڈالی تھی!

    تو امر واقعہ یہ ہے
    یہ بیوہ ہو گئی تھی
    اور اس نے ناسمجھ بچوں کو یوں ہی بھیک سے پالا ہے پوسا ہے
    جواں بیٹے ہیں اب اپنا کماتے ہیں
    انہیں تو معاشرے میں زندہ رہنا ہے
    سو وہ بھی کیا کریں آخر
    اسے تو مانگتے رہنے کی عادت ہے
    اسی خاطر اسے بیٹون نے اپنے گھر سے بھی باہر نکالا ہے!!!
    آپ کی زیادہ تر نظمیں معاشرتی برائیوں پر وقوع پذیر ہوئی ہیں، کبھی آپ سرکاری معالجوں کے رویے پر شکوہ کناں ہیں تو کہیں کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور عالمی اداروں کی کشمیر میں ہونے والے جبر پر چشم پوشی کو بیان کرتے ہیں۔
    "اقبال جرم” کا عنوان لیے ایک نظم حاکم و محکوم کے کے لیے بنائے گئے الگ الگ قانون کا رونا روتی محسوس ہوتی ہے۔

    بڑی شدت کی اس دن بھوک تھی
    میں نے ڈبل روٹی چرائی تھی
    تو آخر دھر لیا جاتا ہے انساں کو

    فطرت شناس شاعر جاوید الحسن جاوید بہت باریک بیں نگاہ رکھتے ہیں اور چہروں، رویوں اور ارادوں کو بھانپ لیتے ہیں، ان کی نظم "ترقی کا راز” اسی موضوع کے گرد گھومتی ہے کہ کیسے جھوٹ موٹ کی تعریف اور فرضی لگاوٹ انسان کو ترقی کی راہوں پر ڈال سکتی ہے۔
    جاوید صاحب کی نظموں میں کہیں کہیں آپ کو مزاح کا رنگ بھی نظر آئے گا، آپ بہت خوب صورتی سے روز مرہ کی باتوں کو مزاحیہ آہنگ دیتے ہیں ایک نظم "وارننگ” کا مطالعہ آپ کو میرے اس بیان سے متفق کر دے گا۔ جاوید صاحب اپنی شاعری سے متعلق بتاتے ہہں کہ یہ ان کے بچپن کا شوق ہے کہ میں لفظو جوڑوں اور انہیں شعروں کی لڑی میں پرو کر معتبر کر دوں اور یہ سفر جاری ہے۔

    "راول پنڈی شہر” کے عنوان سے لکھی نظم بہت معنی خیز ہے اور اس کا حرف حرف ذومعنی ہے، سوچنے سمجھنے والوں کے لیے اس میں بہت سبق ہے۔
    محبت کے موضوع کو بھی آپ نے اپنی نظموں میں جا بہ جا جگہ دی ہے:
    دل کا دروازہ کھلا رہنے دو
    جانے کس وقت پلٹ آئے وہ جانے والا
    صبح کو بھولا سر شام پلٹ آئے تو بھولا نہ کہو
    دل کا دروازہ کھلا رہنے دو
    یہ ضروری ہے بہت!!!

    اور وطن سے محبت میں لکھی نظموں میں "چودہ اگست”، "وطن کا گیت”، "رد الفساد”، "ڈل کنارے پہ سرخ پھول” اور "نذر وطن” میں موصوف نے بلا کے اشعار تخلیق کیے ہیں جو قاری کے لہو میں محبت کا ابال سا پیدا کر دیتے ہیں اور جذبوں کو نئی توانائیاں بخشتے ہیں۔
    نظموں کے بعد قطعات کو کتاب کا حصہ بنایا گیا ہے جو زیادہ تر معاشرتی موضوعات پر مبنی ہیں اور زندگی میں وقوع پذیر ہونے والے روز مرہ واقعات کو مزاحیہ آہنگ میں بیان کیا گیا ہے۔ جیسا کہ:

    ایلو پیتھی ہو یا کوئی اور ہو طرز علاج
    تم دوا لیتے رہو اک دن شفا ہو جائے گی
    ہر معالج آپ سے مخلص ہے میرے دوستو
    گر دوا نہ چل سکی تو فاتحہ ہو جائے گی!!!

    اور

    ایک خاوند مر گیا تھا دو سے لے لی تھی طلاق
    اب کوئی جھگڑا ہے باقی اور نہ جنجال ہے
    کاسمیٹک سرجری نے کر دیا ایسا کمال
    ساٹھ کی لگتی ہیں لیکن عمر اسی سال ہے

    اسی طرح ایک قطعہ یوں ہے کہ:

    روز محشر جب اکٹھے تھے سبھی چھوٹے بڑے
    حق نے فرمایا کہ کاغذ پر گناہ اپنے لکھو
    ایک حضرت تھے جو دنیا میں بڑے اعلا وکیل
    وہ لگے کہنے کہ پہلے اک اضافی شیٹ دو!!!

    الغرض "ابھی نظمیں ادھوری ہیں” کے مطالعے سے آپ کو اچھی اور بامعنی شاعری کا بھرپور ذائقہ ملے گا۔ جہاں مختلف معاشرتی موضوعات کو اک قرینے سے منظوم کیا گیا ہے۔ جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ جناب جاوید الحسن جاوید شعروں کی تخلیق کا ہنر بہ خوبی جانتے ہیں۔ جو لوگ شعر و شاعری سے شغف رکھتے ہیں انہیں میں "ابھی نظمیں ادھوری ہیں” کے مطالعے کا مشورہ دوں گا۔

  • بھارت کے آٹھویں لڑاکا طیارے کی تباہی

    بھارت کے آٹھویں لڑاکا طیارے کی تباہی

    بھارت کے آٹھویں لڑاکا طیارے کی تباہی

    Dubai Naama

    انڈیا امریکی صدر کے ہاتھوں مسلسل ذلت کا شکار تھا۔ اب جنرل بخشی نے فائٹر جیٹ تیجس کریش کا ملبہ امریکہ پر ڈال کر جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ دبئی کے ایئرشو میں کریش سے صرف ایک روز قبل انڈین پائلٹس اور عوامی وزٹرز پاکستان کے نمائشی لڑاکا طیاروں کو دیکھنے کے لیئے جوق در جوق آ رہے تھے۔ بہت سے انڈین تو پاکستان کے جے ایف17 تھنڈر کے ساتھ تصاویر بھی بنوا رہے تھے۔ اگلے روز جونہی انڈیا کا لڑاکا طیارہ گر کر تباہ ہوا اور جس میں انڈین پائلٹ بھی ہلاک ہو گیا تو اس کا ملبہ جنرل موصوف نے امریکہ پر ڈال کر بھارتی خفت مٹانے کی کوشش کی۔ لیکن کہتے ہیں کہ، "جب گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کا رخ کرتا ہے۔” مئی میں انڈیا نے پاکستان کے ہاتھوں شکست کھائی اور اب اپنی ہوائی قوت کا مظاہرہ کرنے کے لیئے جب بھارت نے دبئی کے ایئر شو میں شرکت کی تو اس نے اپنی رہی سہی کسر دنیا کے سامنے خود ہی پوری کر دی۔

    متحدہ عرب امارات دبئی میں انڈیا کا لڑاکا طیارہ کیا گرا ہے پوری دنیا بھارت کی نہ صرف ایئرفورس کا مذاق اڑا رہی ہے بلکہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انڈیا کے 8 لڑاکا طیاروں کے گرائے جانے کی گواہی بھی عین سچ ثابت ہوئی ہے۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کے تقریبا ہر فورم پر بھارت کے 7 طیارے گرائے جانے کا تسلسل سے ذکر کر رہے تھے اور انہوں نے چند روز قبل ہی اپنے آخری بیان میں ایک مزید طیارہ گرنے کا اضافہ کیا تھا۔ عقل مند کہتے ہیں کہ جب دن برے چل رہے ہوں تو محتاط ہو جانا چایئے لیکن اس سے بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی نے کوئی سبق نہیں سیکھا تھا اور وہ پاکستان کو وقفے وقفے سے جنگ کی دھمکیاں دے رہے تھے۔ جونہی بھارت کا دبئی میں جنگی طیارہ گر کر تباہ ہوا ہے اس سے بھارت کا جنگی جنون وقتی طور پر ٹھنڈا ہو گیا ہے۔ لیکن بھارت کو پاکستان کے ہاتھوں شکست چین سے نہیں بیٹھنے دے رہی ہے اور وہ اندر ہی اندر پیچ و تاب کھا رہا ہے۔ بہتر ہو گا کہ بھارت عقل کے ناخن لے اور پاکستان کے ساتھ اپنے سرحدی تنازعات کو حل کرنے کی کوشش کرے تاکہ خطے میں امن کو بحال کیا جا سکے۔

    پاکستان اور بھارت دو عالمی ایٹمی قوتیں ہیں اور جب تک ان دونوں ممالک کے درمیان امن قائم نہیں ہوتا ہے دنیا پر ایٹمی جنگ کے خطرات مسلسل منڈلاتے رہیں گے۔ پاکستان نے بھارت کے خلاف جارحیت کرنے میں پہل کرنے کی کبھی غلطی نہیں کی ہے۔ مئی 2025ء کی جنگ میں بھی بھارت نے بہاولپور میں رات کی تاریکی میں بزدلانہ بمباری کر کے جنگ کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں 8 پاکستانی شہری شہید اور 35 زخمی ہو گئے تھے لیکن اس جنگ میں بھارت کو عبرت ناک شکست کا سامنا کرنا پڑا اور آج بھی پاکستان بھارت کی جنگی دھمکیوں کے خلاف کوئی جارحانہ ردعمل نہیں دے رہا یے۔ پاکستان نے اپنے دفاع میں بھارت پر حملہ کر کے اسے سبق سکھایا۔بھارت کو چایئے کہ وہ جنگی ماحول قائم کرنے کی بجائے مذاکرات کی میز پر آئے اور "مسئلہ کشمیر” کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی کوشش کرے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر لڑائی کی جڑ ہے جسے حل کیئے بغیر خطے میں جنگ کو روکنا اور دونوں ممالک کے درمیان دوستی قائم کرنا ناممکن ہے۔ ان دونوں ممالک کے درمیان مستقبل کی جنگوں کو روکنے اور دنیا کو ایٹمی جنگ سے بچانے کا یہ واحد حل ہے کہ مسئلہ کشمیر کو حل کیا جائے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیئے عالمی قوتوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چایئے۔ جب تک بھارت پر عالمی طاقتیں دباؤ نہیں ڈالتی ہیں مسئلہ کشمیر کو حل کرنا تقریبا ناممکن ہے۔ لیکن بھارتی حکمرانوں کے ذہن میں "اکھنڈ بھارت” کا خناس شامل ہے۔ بھارت کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی نہ صرف پاکستان کے خلاف دزدیدہ اور نفرت کے عزائم رکھتے ہیں بلکہ وہ بھارت کی مسلم برداری کے بھی دشمن ہیں۔ وہ بھارت میں مسلم کشی کے مرتکب رہے ہیں۔ گجرات کے فسادات میں مسلمانوں کا قتل عام ہوتا رہا بلکہ جب وہ وہاں کے وزیراعلٰی تھے وہ ان فسادات کی حوصلہ افزائی کرتے رہے۔ مودی کے مخالفین انھیں تفرقہ پیدا کرنے والی شخصیت گردانتے ہیں۔ سنہ 2002ء کے گجرات فسادات کے دوران مودی گجرات کا وزیر اعلیٰٰ تھا جس کی وجہ سے ان پر الزام دیا جاتا ہے کہ وہ پس پردہ اس میں ملوث تھے۔ اب وہ بھارت کے وزیراعظم ہیں تو وہ پاکستان کے وجود کو بھی نقصان پہنچانے کی اپنی ناتمام خواہش پر ہاتھ ملتے رہتے ہیں جو نہ صرف اچھے ہمسایہ کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ پوری دنیا کے امن کو بھی داو پر لگانے کے مترادف ہے۔

    جب مئی 2025ء میں بھارت کو شکست ہوئی تو اس وقت بھارت اسلحہ جمع کرنے کے جنون میں مبتلا ہو گیا۔ اس تناظر میں امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت کو مسلسل زچ کیا اور بھارت بلآخر امریکہ سے دفاعی معاہدہ کرنے پر مجبور ہو گیا جس کے تحت امریکہ نے بھارت کو 3 خطرناک جنگی اٹاچی ہیلی کاپٹر فراہم کرنے تھے جو ترکی میں رکے اور واپس امریکہ لوٹ گئے۔ ریٹائرڈ جنرل بخشی نے اپنے بیان میں اس کا الزام بھی امریکہ پر لگایا اور ساتھ ہی بھارت کے دبئی کے ایئرشو میں تیجس طیارہ گرنے کا الزام بھی امریکہ کو دیا کہ اس نے بھارت سے ایک ارب ڈالر لے لیئے مگر تیجس طیارے کے ناقص انجن فراہم کیئے جس سے دبئی کے ایئرشو میں بھارتی جنگی طیارہ گرنے کا واقعہ پیش آیا جو کہ ایک ناعاقبت‌ اندیشی پر مبنی بیان ہے۔ بھارت کے جنرل بخشی ٹی وی پر بیٹھ کر ہمیشہ پاکستان کے خلاف زہر اگلتے رہتے ہیں۔ وہ بھارت کے نمایاں "جنگی بھونپو” ہیں جو اپنے ہر تبصرے میں بھارت کو جنگی اشتعال دلاتے ہیں۔ درحقیقت جنرل بخشی نہ صرف بھارت اور پاکستان کے لیئے خطرہ ہیں بلکہ وہ خطے کے امن کے لیئے بھی ایک بھڑکتی چنگاری ہیں۔ ایک دنیا جانتی ہے کہ جنرل بخشی کا وجود دونوں ممالک کی امن و سلامتی کے لیئے کتنا مہلک ہے۔ ان کی بھاری اور نفرت اگلتی آواز دونوں ملکوں کی عوام کو اشتعال دلاتی ہے کہ امن و سکون اور پرامن رہنے کی بجائے ایک دوسرے کی عوام کا خون بہانا ہے۔ اس واقعہ کے بعد بھارت کو سمجھنا چایئے کہ فطرت کے اشارے کیا کہہ رہے ہیں؟ قدرت ہر ملک اور قوم کو موقع دیتی ہے کہ وہ اس کے اشاروں کو سمجھے اور امن و سکون سے رہے لیکن ایک بھارت ہے کہ وہ روز اول سے پاکستان کے وجود کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے اور اسے جب جب موقع ملتا ہے وہ پاکستان کو جنگ کے دہانے پر لے آتا یے۔

    بھارت کے آٹھویں لڑاکا طیارے کی تباہی

    متحدہ عرب امارات دبئی کے ایئر شو میں جمعہ کی دوپہر کو بھارتی فضائیہ کا لڑاکا طیارہ "تیجس” فضائی کرتب کے مظاہرے کے دوران گر کر تباہ ہوا۔ 15 نومبر سے 21 نومبر تک جاری رہنے والے اس ایئر شو کے دوران دوپہر کو بھارت کا یہ لڑاکا طیارہ اپنے ہوائی مظاہرے میں مصروف تھا کہ اچانک حادثے کا شکار ہو گیا، جس کے بعد ایئر شو عارضی طور پر روک دیا گیا۔ یہ حادثہ المکتوم ایئرپورٹ کے قریب اس مقام پر پیش آیا جہاں بڑی تعداد میں لوگ فضائی مظاہرہ دیکھنے کے لئے موجود تھے۔ مقامی وقت کے مطابق دوپہر 2 بج کر 10 منٹ پر طیارہ فضائی ڈسپلے کے دوران اچانک زمین سے ٹکرا کر مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ انڈین ایئرفورس نے حادثے میں پائلٹ کی ہلاکت کی تصدیق کرنے کے بعد حادثے کی وجوہات جاننے کے لئے تحقیقات تو شروع کر دی ہیں لیکن ہلاک ہونے والا بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر نومنش سیال دنیا میں پلٹ کر واپس کبھی نہیں آئے گا۔
    گرنے والے اس طیارے کے پائلٹ کے بارے میں معلومات لی جا رہی ہیں اور یہ پتہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ طیارہ تکنیکی خرابی کے باعث گرا یا پھر پائلٹ کی ناتجربہ کاری کی وجہ سے گرا۔

    جائے وقوعہ پر موجود عینی شاہدین کی جانب سے بنائی گئی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ طیارے کے گرتے ہی گہرے سیاہ دھوئیں کے بادل فضا میں اٹھنے لگے تھے، جس پر نظارہ دیکھنے کے لئے آئے ہوئے شائقین پریشان ہو گئے۔ چند روز قبل بھی دبئی ائیر شو کے دوران بھارتی لڑاکا طیارے کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں تیجس طیارے کے فیول ٹینک سے تیل لیک ہوتے دیکھا گیا تھا۔ تیجس بھارت میں مقامی طور پر تیار ہونے والا لڑاکا طیارہ ہے، دو سال سے بھی کم عرصے میں اس طیارےکا یہ دوسرا حادثہ ہے۔ مارچ 2024ء میں تیجس لڑاکا طیارہ راجستھان کے شہر جیسلمیر میں گر کر تباہ ہوا تھا، جس میں پائلٹ محفوظ طور پر باہر نکل آیا تھا لیکن اس دفعہ پائلٹ طیارے کے گرنے پر ہلاک ہو گیا۔ اس بھارت کی دنیا بھر میں بدنامی ہوئی ہے۔ اس واقعہ کے بعد کوئی چھوٹا ملک بھارتی ساختہ طیارے بھی نہیں خریدے گا۔ یہ واقعہ انسانی حوالے سے المناک ہے اور بطور انسانی ہمدردی اہل پاکستان کو بھی اس واقعہ پر شدید دکھ ہوا ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اس واقعہ کے بعد بھارت اپنے جنگی جنون سے باز آ جائے اور جنرل بخشی جیسے نامعقول جنگی ماہرین کو تبصروں کے لیئے بلانے کی بجائے کسی امن پسند جنگی تجزیہ کار کو ٹی وی پر بٹھائے جس سے عوام کو امن کا پیغام جائے۔ جنگوں کے بعد اگر مذاکرات کی میز پر جا کر حائل مسائل کو حل کرنے کے لیئے میز پر بیٹھنا ناگزیر ہوتا ہے تو یہ کام جنگ سے پہلے کیوں نہ کیا جائے۔ جنگیں چاہے سلامتی اور امن کے نام پر ہی کیوں نہ لڑی جائیں ان میں جان و مال کا نقصان ہوتا ہے اور پوری انسانیت کی "بقا” خطرے میں چلی جاتی ہے کہ اسلام کے مطابق ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زبان "کالی” ہے وہ جو کہہ رہا تھا وہ ہو گیا اور بھارت کا 8واں جنگی طیارہ بھی گر کر تباہ ہو گیا ہے۔ یہ واقعہ بھارت کی آنکھ کھولنے کے لیئے کافی ہونا چایئے۔ پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کی عوام "امن” چاہتی ہے۔ ہم اہل پاک و ہند صدیوں تک اکٹھے رہتے رہے ہیں کیا ہی اچھا ہو کہ ہم اچھے ہمسایوں کی طرح رہنا بھی سیکھ لیں۔ اگر اہل یورپ تباہ کن اور خونریز جنگوں کے بعد اچھے ہمسائے بن سکتے ہیں تو ہم بھی بن سکتے ہیں۔ امن کو سیاست کی بھینٹ چڑھانا کوئی عقل مندی کا کام نہیں ہے۔