Tag: جنگ

  • دہشت گردی کا افغان اور بھارتی گٹھ جوڑ

    دہشت گردی کا افغان اور بھارتی گٹھ جوڑ

    دہشت گردی کا افغان اور بھارتی گٹھ جوڑ

    Dubai Naama

    اسلام آباد کی ضلع کچہریوں پر دہشت گردانہ حملے کے بعد وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ، "ہم حالت جنگ میں ہیں۔” میرے خیال میں ہم واقعی سرحدوں پر نازک صورتحال سے گزر رہے ہیں۔ بھارت بھیگی بلی بنا ہوا ہے اور اس تاک میں بیٹھا ہے کہ وہ پاکستان کو افغانستان سے جنگ میں دھکیل کر اور پاکستان کے اندر دہشت گردی پھیلا کر یا کوئی موقعہ ڈھونڈ کر پاکستان پر جنگی وار کر کے حساب چکا لے گا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ، "ایں خیال است و محال است و جنوں۔” بلی کو ہمیشہ چھیچھڑوں کے خواب آتے ہیں۔ بھارت کو پاکستان سے بدلہ چکانے کا موقعہ کبھی نہیں ملے گا۔ پاک افغان مذاکرات کے پہلے دونوں ادوار خاطر خواہ طور پر کامیاب نہیں ہو سکے تھے۔ ترکیہ استنبول کے پہلے دو ادوار میں پاکستان نے پوری کوشش کی کہ اپنے ہمسائے اور برادر اسلامی ملک کے ساتھ سرحدی جھڑپیں ختم کر کے افغانستان سے دوستانہ مراسم کو بحال کیا جائے لیکن افغانستان میں طالبان حکومت کی ہٹ دھرمی نے پاکستان کی اس کوشش کو بارآور نہ ہونے دیا۔ ان مذاکرات میں پاکستان کا ایک ہی بنیادی موقف تھا کہ افغان حکومت اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیئے استعمال نہ ہونے دے۔ مذاکرات میں موجود افغان نمائندوں نے پاکستان کے اس جائز موقف کو تسلیم بھی کیا مگر ہر بار کابل میں برسراقتدار طالبانی حکومت نے اسے مسترد کر دیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ استنبول میں 6 نومبر کو ہونے والا مذاکرات کا تیسرا دور بھی کسی مثبت اور صلح جو نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گیا۔

    مذاکرات کے دوران ہی افغان طالبان کی طرف سے پراکسی وار اور اسلام آباد کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے کی مبینہ دھمکیاں دی گئی تھیں۔ برادر مسلم اسلامی ممالک ترکی اور قطر کے تعاون سے ہونے والے ان مذاکرات سے قبل اکتوبر میں ایک طرف افغان حکومت پاکستان سے مذاکرات کا ڈول ڈال رہی تھی تو دوسری طرف افغان وزیر خارجہ امیر متقی بھارت کا ایک ایسے وقت میں دورہ کر رہے تھے جب افغانستان میں پاکستان کی طرف سے فضائی بمباری کی اطلاعات سامنے آ رہی تھیں۔ بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے۔ کہتے ہیں کہ، "دشمن کا دشمن دوست ہوتا ہے۔” ظاہر ہے کہ پاک افغان کشیدگی کے دوران افغان حکومت کو بھارت کی طرف سے جو شہ ملی اور جس فوجی و مالی تعاون کی کابل حکومت کو بھارت نے یقین دہانی کروائی اس کا اثر مذاکرات کے ان تینوں ادوار پر پڑا۔

    اگر اب افغان حکومت اسلام آباد اور کاکول پر دہشت گردانہ حملوں کی معاونت اور پشت پناہی سے انکار کرے یا بھارت بھی اس الزام سے بھاگنے کی کوشش کرے تو کرے لیکن حقائق صاف بتا رہے ہیں کہ بھارت پاکستان سے انتقام لینے کی آگ میں جل رہا ہے اور ابھی وہ پاکستان پر براہ راست حملہ تو نہیں کر سکتا لیکن وہ اسے عملی جامہ پہنانے کے لیئے افغانستان کو استعمال کرنے کی سازش کر رہا ہے۔

    پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف نے بجا طور پر کہا کہ پاکستان حالت جنگ میں ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ جو یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان آرمی یہ جنگ افغان پاکستان بارڈر اور بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں لڑ رہی ہے، وہ آج اسلام آباد کے ضلع کچہریوں پر ہونے والے دہشت گردی کے حملے کو ایک "ویک اپ کال” کے طور پر لے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ، "یہ پاکستان کی تمام قوم کی جنگ ہے، جس میں پاکستان آرمی روزانہ قربانیاں دے رہی ہے اور لوگوں کو محفوظ محسوس کرا رہی ہے۔ اس ماحول میں کابل کے حکمرانوں سے مزید مذاکرات کرنا اور ان کے کامیاب ہونے کی زیادہ امید رکھنا بے سود ہو گا۔ کابل کے حکمران پاکستان میں دہشت گردی کو روک سکتے ہیں، لیکن اس جنگ کو اسلام آباد تک لانا کابل پیغام واضح کرتا ہے کہ اس کے پیچھے بھارت کا گٹھ جوڑ شامل ہے، جس کا جواب دینے کی پاکستان کے پاس پوری قوت موجود ہے۔

    دہشت گردی کا افغان اور بھارتی گٹھ جوڑ

    انڈیا کو عقل کے ناخن لینے ہوں گے اور سمجھنا پڑے گا کہ انتقام اور غصے میں عقل کام نہیں کرتی ہے۔ پاک افغان معاملہ پاک بھارت مسئلہ سے بالکل الگ اور یکسر مختلف ہے. میر تقی میر نے کہا تھا: "پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے، جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو سارا جانے ہے۔” افغانستان کو پوری دنیا جانتی ہے کہ وہاں کی حکومتیں ماضی اور حال میں کتنی قابل اعتبار رہی ہیں یا اپنی پوری تاریخ میں افغانستان کے حکمرانوں نے کس قدر دانش مندانہ فیصلے کیئے ہیں۔ ماضی میں افغانستان کے ناقابل شکست رہنے کا بیانیہ بھی بزعم خویش پاکستان نے کھڑا تھا تاکہ روس اور امریکہ کو افغانستان میں نیچا دکھایا جا سکے اور اب اسی بیانیئے کا بھانڈا بھی اہل پاکستان نے بیچ چوراہے پھوڑا ہے کہ یہ دعوی غلط ہے کہ افغانستان کو کوئی فتح نہیں کر سکا اور وہ سلطنتوں کا قبرستان رہا ہے یعنی جس نے بھی اس پر حملہ کیا وہ نیست و نابود ہو گیا۔ ماضی میں افغانستان پر جن جن حملہ آوروں نے قبضہ کیا اور ان اہل کوہسار کو شکست سے دوچار کیا اب کوئی راز کی بات نہیں رہی ہے۔

    کسی بھی ملک سے تسلیم کیئے جانے کی بجائے، دنیا بھر میں مسلسل نظر انداز ہونے والی یہ افغانستان رجیم نا صرف ہمسایہ ممالک کے لئے، بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک بہت بڑا درد سر ہے. جبکہ پاکستان نہ صرف انڈیا سمیت دنیا بھر میں سفارتی تعلقات رکھتا ہے، بلکہ دنیا کی ساتویں اور اسلامی دنیا کی اکلوتی "ایٹمی پاور” بھی ہے، جس کی افواج دنیا میں اپنا لوہا بھی منوا چکی ہیں. اتنے صبر اور سفارتی و مصالحتی کوششوں میں ناکامی کے بعد اب جبکہ پاکستان کا صبر جواب دے چکا ہے، اور دوست ممالک کی مصالحتی ٹیمیں بھی طالبان کی ہٹ دھرمی کی گواہ ہیں. اور یوں بالآخر پاکستان کے جوابی اقدامات بھارت کے لئے ایسی ہی کسی جسارت کے لیئے کوئی جائز دلیل نہیں ہو سکتے ہیں تو بھارت کو کسی بھی قسم کی مہم جوئی سے پرہیز کرنا ہو گا. بھارت کو مئی بھی ہرگز نہیں بھولنا چایئے کوئی بھی ایسی مہم جوئیانہ کوشش بھارت اور اس کے حکمرانوں کے لئے انتہائی خطرناک ہو سکتی ہے، جس کے منفی اثرات خطے میں دور دور تک پہنچیں گے.

    تاریخ انسانی کی پہلی بڑی سلطنت اڑھائی ہزار سال پہلے ایرانی بادشاہ کوروش اعظم سائرس کی تھی جس کے نقشے میں افغانستان کو مفتوح ہو کر سائرس کی حکومت کا صوبہ دکھایا گیا یے۔ اس کے بعد مقدونیہ کے سکندر اعظم سے لے کر سلیوکس اور دیگر یونانی بادشاہوں نے طویل عرصے تک افغانستان کو غلام بنائے رکھا۔ چندر گپت موریہ اور اس کے جانشینوں کی سلطنت میں موجودہ افغانستان ٹیکسلا اور پاٹلی پتر کے موریہ بادشاہوں کا ایک مفتوحہ علاقہ تھا۔ یہاں تک کہ چند سو سال بعد کے ساسانی بادشاہوں سے لے کر خلفائے راشدین کے دور میں بھی خراسان فتح ہوا اور اموی خلافت قائم ہوئی جس میں سمرقند اور بخارا کے بادشاہوں نے بھی افغانستان پر قبضہ کیئے رکھا۔ حتی کہ گورنر الپتگین اس وقت غزنی کے صوبے پر حکومت کر رہا تھا۔ اس نے خود مختاری کا اعلان کیا تو غزنوی سلطنت قائم ہو گئی۔ الپتگین کے جانشین اور داماد نے لاہور کے ہندو شاہی راجوں سے جنگ چھیڑی تو انہوں نے کابل اور مزار شریف کے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ یہ سب علاقے غزنی کی سلطنت کا حصہ تھے۔ محمود غزنوی چہار اطراف فتوحات کا سلسلہ پھیلاتا گیا اور افغانستان تو کیا لاہور تک کے علاقے اپنی سلطنت میں شامل کر لیئے۔ ترکوں کی یہ حکومت موجودہ افغانستان کے علاوہ بھی بہت سے علاقوں پر قابض تھی۔ اسی طرح جو افغانستان کے ناقابل شکست ہونے کا جھوٹ پھیلایا گیا تھا اس پر سلجوق اور ترک قبائل نے بھی حکومت کی جنہوں نے افغانستان اور کابل سے آگے لاہور کو اپنا مرکز بنائے رکھا تھا۔ افغانستان پر قبضہ کرنے والوں میں سلطان غیاث الدین غوری، سمرقند کا امیر تیمور تاتاری، ازبک سلطان شیبانی خان اور فرغانہ کا حکمران ظہیر الدین بابر بھی شامل یے کہ اورنگ زیب عالمگیر تک مغل بادشاہ اس پر حکمرانی کرتے رہے، اور جب مغلوں کا تسلط کمزور پڑا تو ایرانی بادشاہ نادر شاہ افشار نے افغانستان پر تسلط جما لیا۔ جبکہ احمد شاہ ابدالی نے 1747ء میں افغان علاقوں پر حکمرانی کا دعوی کر دیا۔ اس سے پہلے کابل اور احمد شاہ ابدالی کی سلطنت میں ایرانی شہر نیشا پور، موجودہ افغانستان، موجودہ پاکستان اور راجھستان کے کچھ علاقے شامل تھے۔ آخر میں برطانیہ نے بھی افغانستان سے وسیع علاقے چھین لیئے۔

    افغانستان کے غیرمفتوحہ ہونے کا یہ وہ جھوٹ ہے جس پر تکیہ کر کے بھارت پاکستان سے بدلہ لینے کا سوچ رہا ہے۔ 1878ء سے 1880ء تک ہونے والی دوسری اینگلو افغان جنگ میں افغانستان کو شکست ہوئی اور پورے افغانستان پر برطانیہ کا قبضہ ہو گیا تھا۔ افغانستان کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ بھی سوچا گیا کہ اس کے حصے بخرے کر دیئے جائیں اور ہر حصے پر الگ حکمران بنا دیا جائے لیکن پھر امیر عبدالرحمان کو حکمران بنا دیا گیا۔ معاہدے کے تحت کوئٹہ، کرم اور پشین کی وادیاں، سبی، درہ خیبر سمیت بہت سے علاقے برطانوی راج کو دے دیئے گئے۔ افغانستان کے امور خارجہ بھی برطانیہ کے حوالے کر دیئے گئے تھے۔ بدلے میں برطانیہ نے کسی غیر ملکی حملے کی صورت میں افغانستان کی مدد کرنے کی ذمہ داری لی تھی۔

    ہندوستان اگر افغانستان کو استعمال کرنے کی سازش اور گٹھ جوڑ کر کے پاکستان پر دوبارہ حملہ کرنے کی تاریخی غلطی کرے گا تو یہ غلطی کرنے سے پہلے اسے افغانستان کی یہ مفتوحہ تاریخ ضرور پڑھنی چایئے۔ اصل تاریخ یہی ہے جو اوپر مختصرا بیان کی گئی ہے۔ افغانستان کو پاکستان کے خلاف کھونٹا بنانے سے پہلے بھارت کو سوچنا چایئے کہ حقیقت یہی ہے کہ افغانستان سلطنتوں کا قبرستان نہیں بلکہ ان کا غلام رہا ہے۔

    Title Photo by Zeeshaan Shabbir

  • پاک افغان دوحہ جنگ بندی معاہدہ

    پاک افغان دوحہ جنگ بندی معاہدہ

    پاک افغان دوحہ جنگ بندی معاہدہ

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

    جنوبی ایشیا کی سیاست اور امن و سلامتی کی صورتحال ہمیشہ افغانستان اور پاکستان کے تعلقات سے جڑی رہی ہے۔ دونوں ممالک نہ صرف مذہب، تاریخ اور جغرافیہ کے رشتوں میں بندھے ہیں بلکہ ان کے درمیان موجود سرحدی تناؤ اور دہشت گردی کے خدشات نے گزشتہ دو دہائیوں سے خطے کو غیر مستحکم کر رکھا ہے۔ 19 اکتوبر 2025ء کو قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں ہونے والا دوحہ جنگ بندی معاہدہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دونوں ممالک کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار تھے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کی قیادت میں پاکستانی وفد اور افغان وزیر دفاع ملا محمد یعقوب کے درمیان ہونے والے 13 گھنٹے طویل مذاکرات نے ایک نئی امید کو جنم دیا ہے کہ خطے میں امن و استحکام کی فضا قائم ہو سکتی ہے۔

    پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی دونوں ممالک کی جغرافیائی قربت۔ 1947ء میں پاکستان کے قیام کے بعد افغانستان واحد ملک تھا جس نے ابتدائی طور پر پاکستان کی اقوام متحدہ میں رکنیت کی مخالفت کی تھی۔ 1979ء میں سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے بعد پاکستان نے افغان مجاہدین کی حمایت کی، جس کے نتیجے میں لاکھوں افغان پناہ گزین پاکستان آئے۔
    2001ء میں نائن الیون کے بعد جب امریکہ نے طالبان حکومت کا خاتمہ کیا، تو پاکستان ایک مرتبہ پھر خطے کی بڑی اسٹریٹجک طاقت کے طور پر سامنے آیا۔ تاہم 2021ء میں جب طالبان دوبارہ کابل پر قابض ہوئے تو توقع کی جا رہی تھی کہ پاک افغان تعلقات بہتر ہوں گے، مگر سرحدی دہشت گردی، ٹی ٹی پی کی سرگرمیوں اور افغان حکومت کی خاموشی نے اس امید کو دھندلا دیا۔

    گزشتہ کئی ماہ سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپیں اور دہشت گردانہ حملے بڑھ گئے تھے۔ پاکستانی سیکیورٹی اداروں کی رپورٹوں کے مطابق افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر درجنوں حملے کیے گئے، جن میں فوجی و شہری جانی نقصان ہوا۔ ایسے میں دونوں ممالک کے درمیاں ہونے والے دوحہ مذاکرات ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر سامنے آئے۔ یہ مذاکرات قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہوئے جہاں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر دفاع خواجہ آصف نے کی، جبکہ افغان وفد کی سربراہی وزیر دفاع ملا محمد یعقوب نے کی۔ 13 گھنٹے جاری رہنے والے ان مذاکرات میں قطر کے انٹیلی جنس چیف عبداللہ بن محمد الخلیفہ اور ترکیہ کے سفارتی نمائندوں نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔
    معاہدے کی اہم شقیں مندرجہ ذیل ہیں:
    پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی (Ceasefire) پر اتفاق ہوا۔
    دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی سرزمین کے احترام کا عہد کیا۔
    افغان حکومت نے یقین دہانی کرائی کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔
    25 اکتوبر کو استنبول میں دوسری ملاقات طے پائی ہے جس میں مستقل نگرانی کا نظام وضع کیا جائے گا۔
    قطر اور ترکیہ دونوں ممالک کے مابین امن کے مستقل میکنزم کی تیاری میں مدد کریں گے۔

    پاک افغان دوحہ جنگ بندی معاہدہ

    دوحہ معاہدہ نہ صرف پاک افغان تعلقات میں ایک نیا موڑ ہے بلکہ یہ پورے خطے کے امن کے لیے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بجا طور پر کہا کہ یہ “صحیح سمت میں پہلا قدم” ہے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی (Confidence Building Measures) کے عمل کو فروغ ملے گا۔

    قطر اور ترکیہ کی ثالثی اس امر کی علامت ہے کہ مسلم دنیا کے اندرونی تنازعات کے حل کے لیے اسلامی ممالک کے درمیان سفارتی تعاون ممکن ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت ہوئی ہے جب عالمی طاقتیں جنوبی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی پر گہری نظر رکھے ہوئے تھیں۔

    اگرچہ دوحہ معاہدہ دونوں ممالک کے لیے ایک امید کی کرن ہے، مگر اس کی کامیابی کے لیے عملی اقدامات اور قابلِ اعتماد نگرانی کے نظام کا قیام لازمی ہے۔ پاکستان کی جانب سے یہ خدشات بجا ہیں کہ افغان سرزمین اب بھی ٹی ٹی پی اور دیگر عسکری گروہوں کے استعمال میں ہے۔ اس لیے استنبول میں ہونے والی آئندہ میٹنگ میں اگر ایک مؤثر Verification Mechanism تشکیل پا گیا تو یہ معاہدہ تاریخ ساز بن سکتا ہے۔

    تاہم ماضی کے تجربات بتاتے ہیں کہ افغان حکومت نے بارہا ایسے وعدے کیے جن پر عملدرآمد نہ ہو سکا۔ لہٰذا پاکستان کو اپنی دفاعی حکمتِ عملی کے ساتھ ساتھ سفارتی دباؤ اور علاقائی حمایت کو بھی برقرار رکھنا ہوگا۔

    اس معاہدے سے سب سے زیادہ مایوسی بلاشبہ بھارت کو ہوئی ہے جو طویل عرصے سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بداعتمادی کو اپنے مفاد میں استعمال کر رہا تھا۔
    عالمی سطح پر یہ معاہدہ جنوبی ایشیا میں ایک نئے امن بلاک کی بنیاد بن سکتا ہے، جس میں ترکیہ، قطر اور پاکستان کلیدی کردار ادا کریں گے۔

    یہ معاہدہ اگر پائیدار ثابت ہوا تو چین، روس اور وسطی ایشیائی ممالک بھی خطے کے امن و اقتصادی تعاون کے منصوبوں میں شمولیت بڑھا سکتے ہیں، خصوصاً چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے توسیعی منصوبے میں افغانستان کی شمولیت ممکن ہو سکتی ہے۔

    دوحہ جنگ بندی معاہدہ بلاشبہ پاکستان اور افغانستان کے مابین ایک تاریخی پیش رفت ہے۔ مگر اس کی اصل کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ کیا دونوں ممالک اپنے وعدوں پر قائم رہیں گے یا نہیں۔ اگر افغان حکومت اپنی سرزمین سے دہشت گرد نیٹ ورکس کا خاتمہ کرنے میں سنجیدہ ہو گئی، تو خطے میں امن، تجارت، اور ترقی کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔

    پاکستان کے لیے یہ معاہدہ ایک امید، حکمت اور احتیاط کی علامت ہے امید امن کی، حکمت سفارت کی، اور احتیاط دفاعی تیاری کی۔
    اگر یہ توازن برقرار رہا تو دوحہ معاہدہ نہ صرف پاک افغان تعلقات بلکہ پورے جنوبی ایشیائی خطے کے لیے ایک پائیدار امن کی بنیاد بن سکتا ہے۔

  • پاک افغان Afghan  جنگ بندی معاہدہ

    پاک افغان Afghan جنگ بندی معاہدہ

    پاک افغان Afghan جنگ بندی معاہدہ

    Dubai Naama

    قطر نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی اور خطے میں قیام امن کے لیئے ایک بار پھر اہم کردار ادا کیا۔ قطر اور ترکیہ کے زیر نگرانی ہونے والے سیزفائر مذاکرات کی کامیابی خطے میں قیام امن کے لیئے انتہائی خوش آئند پیش رفت ہے۔ مذاکرات میں اس موضوع کو زیربحث لایا گیا کہ اپنی اسٹریٹجک ضروریات اور مشترکہ چیلنجز سے کیسے نمٹا جائے۔ اس دوران اس بات پر مشترکہ طور پر اتفاق کیا گیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی کی بجائے تعاون کی فضا کو فروغ دیا جائے گا۔

    اس معاہدے کے خطے پر دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردی کی روک تھام سے نہ صرف پاکستان کا امن مستحکم ہو گا بلکہ پورے خطے میں دہشت گردی کے خلاف جاری عالمی جنگ میں بھی ایک نئی طاقت پیدا ہو گی۔ اس معاہدے سے عالمی سطح پر یہ پیغام جائے گا کہ پاکستان اور افغانستان اپنے اختلافات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کے لئے سنجیدہ ہیں۔
    پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی اور قیام امن کا یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی کا ایک نیا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔ اس معاہدے کے ذریعے دونوں ممالک نے اپنے تعلقات میں کشیدگی کو کم کرنے اور باہمی احترام کی بنیاد پر ایک نئے باب کا آغاز کیا ہے۔ اس سے نہ صرف دونوں ممالک کی سیاسی اور سفارتی سطح پر بہتری آئے گی بلکہ پورے خطے میں امن و سکون کا قیام بھی ممکن ہو سکے گا۔ اگر دونوں ممالک اس معاہدے پر سنجیدگی سے عملدرآمد کرتے ہیں تو یہ نہ صرف پاکستان اور افغانستان بلکہ پورے جنوبی ایشیا کے لئے ایک اہم اور مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔پاکستان اور افغانستان کے درمیان یہ معاہدہ ایک کامیاب سفارتی پیش رفت ہے جس کا نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے پر مثبت اثر پڑے گا۔ اس معاہدے کے ذریعے دونوں ممالک نے اپنی خارجہ پالیسی میں سنجیدگی اور تعاون کی بنیاد رکھی ہے، جس سے عالمی سطح پر امن کی کوششوں میں مدد ملے گی۔

    اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ پاکستان اور افغانستان دو برادر اسلامی ممالک ہیں، اور دونوں کا مقصد خطے میں امن، استحکام، اور باہمی احترام پر مبنی تعلقات قائم کرنا ہیں، دونوں فریقین اسلامی جمہوریہ پاکستان اور اماراتِ اسلامی افغانستان نے درج ذیل امور پر باہمی اتفاق رائے قائم کرنے کا اعلان کیا، جس کی درج ذیل دفعات ہیں:

    1. دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ سرحدی علاقوں (چمن، طورخم اور غلام خان) پر ہر قسم کی فائرنگ یا اشتعال انگیزی فوری طور پر بند کی جائے گی۔
    ایک مشترکہ سرحدی رابطہ مرکز قائم کیا جائے گا، جو دونوں ممالک کے فوجی افسران کے درمیان براہِ راست رابطہ رکھے گا۔ 2
    ۔ افغانستان اس بات کی یقین دہانی کراتا ہے کہ اس کی سرزمین کسی بھی ایسے گروہ کو استعمال نہیں کرنے دے گا جو پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرے۔ 3
    ۔پاکستان اس یقین دہانی کے بدلے میں افغان مہاجرین کے ساتھ انسانی اور اسلامی اصولوں کے مطابق تعاون جاری رکھے گا۔ 4
    ۔ دونوں ممالک تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر غیر ریاستی گروہوں کے خلاف معلومات کے تبادلے اور ممکنہ کارروائی پر اتفاق کرتے ہیں۔ 5
    ۔ چمن اور طورخم سرحدوں پر تجارت کے لئے علیحدہ "امن کاریڈور” قائم کیا جائے گا۔ 6
    ۔ عام شہریوں، تاجروں اور مریضوں کے لئے خصوصی پاس نظام بنایا جائے گا تاکہ آمد و رفت محفوظ رہے۔ 7
    ۔ دونوں ممالک کے سرکاری ترجمان اور میڈیا ادارے ایک دوسرے کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دینے سے گریز کریں گے۔ 8
    ۔ باہمی احترام اور اسلامی اخوت کے اصولوں پر مبنی بیانات کو ترجیح دی جائے گی۔ 9
    ۔ ریاستِ قطر اس معاہدے کی میزبانی اور نگرانی کرے گی۔ 10
    ۔ چین اور ایران بطور ضامن ممالک اس معاہدے کی حمایت کرتے ہیں۔ 11
    ۔ ہر تین ماہ بعد ایک جائزہ اجلاس قطر میں منعقد ہو گا۔ 12

    ۔ یہ معاہدہ دستخط کے دن سے نافذ العمل ہو گا اور ابتدائی طور پر 2 سال کے لئے قابلِ عمل رہے گا۔
    اگر دونوں ممالک راضی ہوں تو یہ معاہدہ از خود مزید 2 سال کے لئے بڑھ جائے گا۔

    پاک افغان Afghan  جنگ بندی معاہدہ

    یہ معاہدہ ایک قابل عمل اور پائیدار شقوں پر مبنی دستاویز ہے۔ حکومت قطر نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ اہم قدم دونوں برادر اسلامی ملکوں کے درمیان سرحدی تناؤ کے خاتمے اور خطے میں پائیدار امن کی مضبوط بنیاد رکھنے میں مددگار ثابت ہو گا۔ ترکی حکومت نے بیان جاری کیا کہ دونوں برادر مسلم ممالک خطے میں دیرپا امن و استحکام کے حصول کے لئے اپنی حمایت جاری رکھیں گے۔ مختلف ممالک اور سیاسی رہنماؤں نے دوحہ میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا خیرمقدم کیا اور خطے میں استحکام اور امن کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بارڈر پر بڑھتی کشیدگی کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف کی قیادت میں اعلیٰ سطحی پاکستانی وفد ہفتے کے روز طالبان حکام سے مذاکرات کے لئے دوحہ پہنچا تھا، مذاکرات کا مقصد سرحد پار جھڑپوں کا خاتمہ اور پاکستان کے سکیورٹی خدشات کو دور کرنا تھا۔ دونوں فریقین نے مذاکرات کے بعد فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا اور ایک دوسرے کی خودمختاری کے احترام کا عہد کیا۔
    واضح رہے کہ وفود دوسرے مرحلے کے مذاکرات کے لئے 25 اکتوبر 2025ء کو استنبول میں دوبارہ ملاقات کریں گے۔
    پاک افغان مذاکرات کی ترکیہ کے ساتھ مشترکہ طور پر میزبانی کرنے والے ملک قطر نے امید ظاہر کی کہ یہ اہم قدم دونوں برادر ممالک کے درمیان سرحدی تناؤ کے خاتمے اور خطے میں پائیدار امن کی مضبوط بنیاد رکھنے میں مددگار ثابت ہو گا۔

    پاک افغان سیزفائر معاہدہ خطے میں پائیدار امن اور دو طرفہ احترام کی مد میں ایک انتہائی اہم پیش رفت ہے۔ یہ معاہدہ نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے لیئے خوش آئند اور مثبت پیش رفت ہے بلکہ دنیا بھر میں امن کے قیام کے لیئے اس کے مثبت اور تعمیری اثرات پڑیں گے کیونکہ وہ افغانستان جس پر ماضی کی دہشت گرد تنظیموں "القائدہ” اور "طالبان” کو پناہ دینے کے الزامات لگتے رہے ہیں اب وہی ملک پاکستان کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خاتمے کے لیئے کام کرے گا۔ یہ معاہدہ خطے میں پائیدار امن اور دو طرفہ احترام کی جانب ایک انتہائی مثبت قدم ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی کا یہ معاہدہ پرامن تعلقات کے لیئے دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔ پاکستان ہمیشہ امن، بھائی چارے اور ہمسائیگی کے اصولوں کو مقدم رکھتا ہے، پاکستان کی عوام اور افواج نے قربانیاں دے کر امن کو ممکن بنایا ہے۔ اب اگر افغانستان اس جنگ بندی پر خلوص دل سے پہرا دیتا ہے تو افغانستان کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا ہو گا۔ حالیہ دنوں میں پاکستانی علاقوں پر دہشت گرد حملے اور سرحد پار سے کی جانے والی کارروائیاں نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ اسلامی ہمسائیگی اور برادرانہ تعلقات کے تقاضوں کے بھی منافی ہیں۔ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور ہمیشہ افغانستان کے ساتھ برادرانہ تعلقات کا خواہاں رہا ہے مگر دونوں ممالک کے درمیان مسلسل سرحدی خلاف ورزیوں اور افغانستان کا دہشت گرد عناصر کو پناہ دینے جیسے اقدامات خطے کے امن کو سبوتاژ کر رہے ہیں۔ افغان حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنی سرزمین کسی بھی دہشت گرد تنظیم کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے روکے اور موثر کارروائی کرے۔پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ کیلئے ہر ممکن قدم اٹھانے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

    سابق سپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی کے رہنما اسد قیصر نے پاک افغان امن معاہدے کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تمام تحفظات کو باہمی اعتماد اور تعاون سے حل کیا جانا چایئے۔ انہوں نے پاک افغان امن معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان ہمارا برادر اسلامی اور قریبی ہمسایہ ملک ہے، جس کے ساتھ ہمارے تعلقات مذہبی، ثقافتی اور تاریخی رشتوں میں بندھے ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تمام تحفظات کو باہمی اعتماد اور تعاون سے حل کیا جانا چایئے۔ اسد قیصر نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے اور تجارت کے فروغ کے لئے مذاکرات ناگزیر ہیں۔ افغانستان وسطی ایشیائی منڈیوں تک رسائی کا واحد زمینی راستہ ہے، جس کے ذریعے پاک افغان تجارت سے ترقی و خوشحالی کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔
    ان کا کہنا تھا کہ بہتر تعلقات پورے خطے میں پائیدار امن اور معاشی استحکام لا سکتے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ امن معاہدے کے بعد اعتماد کی فضا مزید مضبوط ہو گی، سرحدیں تجارت کے لئے کھولی جائیں گی اور مثبت پیش رفت کا سلسلہ جاری رہے گا۔

    پاکستان اور افغانستان نے سرحد پر ایک ہفتے تک جاری شدید اور خونریز جھڑپوں کے بعد قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا۔ قطری نشریاتی ادارے "الجزیرہ” کی ایک رپورٹ کے مطابق قطر کی وزارتِ خارجہ نے اتوار کی صبح ایک بیان میں کہا کہ افغانستان اور پاکستان نے جنگ بندی اور دونوں ممالک کے درمیان پائیدار امن و استحکام کو مستحکم کرنے کے لئے طریقۂ کار کے قیام پر اتفاق کیا ہے جس کے نتیجے میں جنگ بندی پر عمل درآمد شروع ہو گیا ہے۔

  • غزہ میں انسانی بحران پر عالمی آوازیں

    غزہ میں انسانی بحران پر عالمی آوازیں

    غزہ میں انسانی بحران پر عالمی آوازیں

    ڈاکٹر  رحمت عزیز خان  چترالی

    فلسطین اور اسرائیل کے مابین تنازعہ ایک صدی سے زائد پرانا ہے۔ 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے یہ مسئلہ شدت اختیار کرتا گیا، جس میں بارہا فلسطینیوں کو زبردستی بے گھر کیا گیا، ان پر حملے کیے گئے  اور ان کی بنیادی انسانی حقوق کو مسلسل پامال کیا گیا۔ غزہ جو کہ فلسطینی سرزمین کا ایک مختصر مگر گنجان آباد علاقہ ہے، کئی دہائیوں سے اسرائیلی ناکہ بندی اور بمباری کا شکار رہا ہے۔

    اکتوبر 2023 میں حماس کی طرف سے اسرائیلی حدود میں حملے کے بعد اسرائیل نے جوابی کارروائیوں کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں غزہ ایک بار پھر انسانی المیے کی علامت بن گیا۔ لاکھوں شہری محصور، بے گھر  اور خوراک و پانی جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہوگئے۔ اس جنگ کے اثرات بین الاقوامی ضمیر کو جھنجھوڑنے لگے اور بالآخر دنیا بھر سے جنگ بندی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔

    یورپی یونین کے 20 ممالک سمیت دنیا کے 25 ممالک کے وزرائے خارجہ اور یورپی کمشنر برائے کرائسز مینجمنٹ نے حالیہ مشترکہ بیان میں اسرائیل کی امدادی پالیسی کو خطرناک اور غیر انسانی قرار دیتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ بیان نہ صرف غزہ کی تشویشناک انسانی صورت حال کو اجاگر کرتا ہے بلکہ اسرائیل کے امدادی ماڈل کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتا ہے جو "ڈرپ فیڈنگ” کے تحت شہریوں کو قطرہ قطرہ امداد فراہم کر رہا ہے۔

    بیان میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ 800 سے زائد فلسطینی، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، صرف امداد کی تلاش میں شہید ہو چکے ہیں۔ ان اموات کی ذمہ داری اسرائیلی حکومت کے اس رویے پر عائد کی گئی ہے جو عالمی انسانی قوانین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

    یہ اعلامیہ صرف ایک سفارتی بیان ہی  نہیں بلکہ بین الاقوامی ضمیر کی بیداری کی علامت بھی ہے۔ اگرچہ ماضی میں بھی عالمی برادری نے فلسطین کے مسئلے پر آواز بلند کی ہے، لیکن عملی اقدامات کی کمی نے ان بیانات کو محض رسمی قرار دیا۔ اس بار  جن الفاظ میں اسرائیلی پالیسی کو "غیر انسانی، خطرناک، اور انسانی وقار کے خلاف” قرار دیا گیا ہے، وہ سفارتی انداز سے ہٹ کر ایک سخت اور کھلا احتجاج ہے۔

    غزہ میں انسانی بحران پر عالمی آوازیں

    یہ بیان اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ امداد کی فراہمی کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا، نہ صرف بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ خطے میں مزید عدم استحکام کو ہوا دینے کے مترادف بھی ہے۔ فلسطینی عوام کو امداد کے لیے قطاروں میں کھڑا کرکے یا حملوں کا نشانہ بنا کر ان کی تذلیل کی جا رہی ہے۔

    دوسری جانب، اسرائیلی یرغمالیوں کا ذکر بھی اس بیان کا حصہ ہے جو متوازن سفارتی لب و لہجہ ظاہر کرتا ہے، لیکن اس توازن کے باوجود بنیادی توجہ غزہ کے انسانی بحران پر مرکوز ہے۔

    بیان میں جنگ بندی کی درخواست موجود ہے لیکن اسرائیل پر سفارتی یا اقتصادی دباؤ ڈالنے کی کوئی حکمت عملی واضح نہیں۔ اس سے ان بیانات کی حیثیت کمزور پڑ جاتی ہے۔

     صرف بیانات اور قراردادیں کافی نہیں، ضرورت ہے کہ یورپی یونین اور دیگر ممالک اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں اور انسانی حقوق کی پامالی کے مرتکب ریاستی عناصر کے خلاف عملی اقدامات کریں۔

     عالمی برادری کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ کسی ایک فریق کے ظلم پر خاموشی اور دوسرے فریق کی مزاحمت کو دہشت گردی قرار دینا ایک اخلاقی تضاد ہے، جس سے بین الاقوامی نظام انصاف کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔

    دنیا کے 25 ممالک کی طرف سے جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ ایک خوش آئند قدم ہے، لیکن اس پر حقیقی اثر تبھی مرتب ہوگا جب یہ محض الفاظ سے نکل کر عمل کی صورت اختیار کرے۔ غزہ میں جاری انسانی المیہ عالمی برادری کے ضمیر کا امتحان ہے۔ اگر یہ امتحان خالی بیانات سے گزارا گیا تو تاریخ عالمی قوتوں کے کردار کو معاف نہیں کرے گی۔

    انسانی وقار، بنیادی ضروریات  اور معصوم جانوں کا تحفظ کوئی سیاسی معاملہ نہیں بلکہ ایک آفاقی انسانی فریضہ ہے۔ فلسطین میں امن صرف جنگ بندی سے نہیں بلکہ انصاف پر مبنی پائیدار حل سے ممکن ہے۔

    Title Photo by Mohammed Abubakr

  • امریکہ، چین اور پاکستان

    امریکہ، چین اور پاکستان

    امریکہ، چین اور پاکستان

    Dubai Naama

امریکہ، چین اور پاکستان

    چائنا نے پاکستان کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے امریکہ کو اڈے فراہم کیئے تو ہم اس سے ہر قسم کے تعلقات ختم کر دیں گے۔ پاکستان کا 1948ء سے آج تک یہ دعوی رہا ہے کہ پاک چین دوستی ہمالیہ کی چوٹیوں سے اونچی ہے، لیکن مئی 2025ء کی پاک بھارت جنگ بندی اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے امریکی دورے کے بعد یہ خبریں تسلسل سے گردش کرتی رہی ہیں کہ وائٹ ہاؤس میں کھانے کی دعوت کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آرمی چیف سے اڈے مانگے تھے جس کے لئے انہوں نے "ہاں” کر دی تھی۔

    پاکستان کی ایک سیاسی جماعت نے اس خبر کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا تھا جب اس کے جذباتی ورکروں نے اس کے خلاف "ایبسولیوٹلی ناٹ” کا بیانیہ قائم کرتے ہوئے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر (اور فوج) کے خلاف حسب معمول زہر اگلنے کی کوشش کی تھی۔ خیر اس کا مطلب یہ تو ہرگز نہیں ہے کہ پاکستان چین کی ناراضگی مول لے کر امریکہ کو علاقائی فوجی مقاصد کے لیئے اپنی ائیر سپیس استعمال کرنے کی اجازت دے۔ البتہ چین کی طرف سے جاری کردہ وارننگ قابل تشویش ضرور ہے۔ پاکستان کو چین سے اپنی دفاعی اور سفارتی ضروریات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے، امریکی دو طرفہ سٹریٹیجک دوستی میں اس حد تک آگے نہیں جانا چایئے کہ جس سے چائنا یہ محسوس کرے کہ امریکہ اس کی بڑھتی ہوئی عالمی فوجی، سیاسی اور سفارتی اہمیت کو پاکستان میں بیٹھ کر چیلنج کرے گا۔ اگر پاکستان اسرائیل کو ایران میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دے سکتا ہے تو چین بھی نہیں چاہے گا کہ امریکہ اس کے خلاف پاکستان میں آ کر بیٹھ جائے۔ چین نے اس معتبر (کریڈیبل) رپورٹ میں باقاعدہ جیکب آباد اور "نور ایئر بیس” اسلام آباد کا حوالہ دے کر یہ وارننگ جاری کی ہے تاکہ پاکستان کو اپنے شدید ردعمل کا احساس دلایا جا سکے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس خبر کو سرے سے مسترد کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ابھی تک اس کی تصدیق کی جا سکتی ہے، جب تک کہ اس پر پاکستان یا چین اپنا ردعمل ظاہر نہیں کرتے ہیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایشیاء اور مشرق وسطی کے سیاسی مشیر اور چیئرمین پاکستان پالیسی انسٹیٹیوٹ یو ایس اے، ڈاکٹر غلام مجتبی اس حوالے سے چند روز قبل شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ، "انٹیلیجنس کی لیک آوٹ ہونی والی اطلاعات کے مطابق چین کی منسٹری آف سٹیٹ سیکورٹی (ایم ایس ایس) کے ڈائریکٹر نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اگر پاکستان نے امریکہ سے اس نوعیت کا کوئی دفاعی معاہدہ کیا تو بیجنگ نہ صرف سی پیک معاہدہ بلکہ اس سے دفاعی تعاون کو بھی ختم کر دے گا۔ اگرچہ یہ خبر بہت سارے پلیٹ فارمز پر نشر کی گئی ہے مگر ابھی تک چین اور پاکستان نے اس کی سرکاری تائید یا تردید نہیں کی ہے۔ لھذا اس پر بات کرنے کے لیئے احتیاط سے کام لیا جانا چایئے۔ یہ خبر اس لحاظ سے بھی بہت اہم ہے کہ پاکستان کو امریکہ اور چین سے متوازن تعلقات رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ امریکہ اور چین دونوں عالمی طاقتیں ہیں۔ چین پاکستان کی بڑے پیمانے پر معاشی مدد کرتا ہے اور اس کا اہم ترین ڈیفینس پارٹر ہے، جبکہ امریکہ پاکستان کا دفاعی اور کونٹر ٹیرورزم میں حصہ دار یے۔”

    اس خبر کا بنیادی ذریعہ غیرجانبدار اور غیرمنافع بخش امریکی ادارہ "رینڈ کارپوریشن” ہے۔ یہ ایک معتبر ترین امریکی تھنک ٹینک ہے جو ریسرچ انسٹیٹیوٹ اور پبلک سیکٹر کنسلٹنگ فرم کے طور پر تحقیق اور کاروبار کے مختلف شعبوں میں کام کرنے کی شہرت رکھتا ہے۔ اس کی رپورٹس کو دنیا بھر میں قدر کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ پاکستان کو بھارت کے خلاف تاریخی کامیابی ملی ہے اور اسے دنیا کے بڑے اور طاقتور ممالک صحیح معنوں میں اہمیت دینے لگے ہیں۔ اگر پاکستان چین اور امریکہ کو قریب لانے میں کوئی اہم کردار ادا کرتا ہے تو دنیا کی نظروں میں نہ صرف اس کی مزید اہمیت بڑھ جائے گی، بلکہ پاکستان دنیا کی دو "سپر پاورز” کو ایک پلیٹ فارم پر لانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس سے دنیا میں امن کی مکمل بحالی کا راستہ بھی ہموار ہو جائے گا۔

    پاکستان کو اس خبر نے ایک دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ممکن ہے یہ خبر چین کا ایک غیر سرکاری اعلامیہ ہے۔ تاہم اس سے پاکستان اپنی آنکھیں کھول سکتا ہے۔ پاکستان امریکہ کو اڈے دے کر نہ چین کو ناراض کر سکتا ہے اور نہ امریکہ کو انکار کر کے اس سے دشمنی کا خطرہ لے سکتا یے۔ پاکستان کو سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے درمیانی راستہ اختیار کرنا چایئے جو کہ چین اور امریکہ کے درمیان تاریخی دوستی کا آغاز کروانے کی بنیاد رکھوانا یے۔

    امریکی صدر اپنے گزشتہ بیانات میں پاک بھارت جنگ بندی کے حوالے سے بارہار پاکستان کی تعریف کر چکے ہیں جبکہ وہ چینی قیادت کے بارے میں بھی مثبت سوچ رکھتے ہیں۔ اس مد میں پاکستان سیاسی بصیرت سے کام لے تو وہ اسی خبر کو ذہن میں رکھ کر اپنا سفارتی کردار ادا کر سکتا یے۔ دنیا بھر کا امن انہی دو سپر طاقتوں کے گرد گھومتا ہے۔ اس وقت دنیا دو بلاکوں میں تقسیم ہے۔ ایک طرف چین، روس، شمالی کوریا اور اس کے اتحادی ہیں اور دوسری طرف امریکہ، برطانیہ اور یورپی ممالک ہیں۔ جو نئے اتحاد مشرق وسطی میں بن رہے ہیں اس میں اب اسرائیل کے برابر ایران کی اہمیت بھی قائم ہو گئی ہے۔ پاکستان کے دوستانہ تعلقات نہ صرف عرب برادر مسلم ممالک سے ہیں بلکہ اب گہرے مراسم ایران سے بھی قائم ہو گئے ہیں۔ جبکہ ایران پہلے ہی چین اور روس کا سٹریٹیجک پارٹنر ہے۔ لھذا پاکستان اس صورتحال سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہے تو وہ چین کو ناراض کرنے کی کبھی بھی غلطی نہ کرے۔

    اگر پاکستان ماضی میں افغانستان کی صورتحال کو مدنظر رکھے اور پرائی جنگ کو اپنے گلے میں نہ ڈالے تو وہ غیرجانبدار رہ کر بھی چین اور امریکہ دونوں سے دوستانہ تعلقات قائم رکھ سکتا ہے۔ پاکستان نے پہلے ہی افغان بھائیوں کے خلاف امریکہ کو اڈے دے کر تاریخی غلطی کی تھی۔ خیر وہ افغانستان تھا۔ اب خدا نہ کرے پاکستان امریکہ کو دوبارہ کوئی ایسی سہولت دے گا تو نقصان دگنا ہو گا، کیونکہ اس بار سامنے دیرینہ دوست چین ہے۔ یہ ایک "کراس روڈ” ضرور ہے مگر اس کے اندر مواقع بھی ہیں جن سے فائدہ اٹھانے ہی میں پاکستان کی سلامتی اور بقا یے۔

    2025ء کے مئی اور جون بہت اچھے رہے۔ پاکستان نے مئی میں بھارت کو تاریخی شکت سے دو چار کیا۔ جون میں ایران نے اسرائیلی اور امریکی جارحیت کا کامیابی سے دفاع کیا۔ ان دونوں مواقع پر امریکی صدر نے پاکستان اور عوام کے گن گائے۔ چین دریں اثنا خاموش رہا ہے۔ اب پاکستان کو چایئے کہ وہ اسے اپنے خلاف نہ بولنے دے۔ دنیا بھر کی نظریں اس وقت امریکہ اور چین کے بعد پاکستان پر ہیں۔ پاکستان کو یہ بھرم برقرار رکھنا ہو گا۔ امریکہ کو "ایبسولیوٹلی ناٹ” نہ کہہ کر بھی پاکستان اپنی سائیڈ سیف کر سکتا ہے۔ ایک محاورہ ہے کہ، "سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی بچ جائے۔” ایسے مواقع پر سفارتی کاری کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ آنے والا وقت سفارتی جنگوں کا دور ہے۔ ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں”۔پاکستان کو ابھی سے تیاری کر لینی چایئے۔

  • جنگ بندی کی اصل کہانی

    جنگ بندی کی اصل کہانی

    جنگ بندی کی اصل کہانی

    Dubai Naama

جنگ بندی کی اصل کہانی

    بغیر سیکورٹی کے ہیلی کاپٹر کی طرف جاتے ہوئے امریکی صدر نے اپنے 59 سیکنڈز کے لاسٹ سیکنڈ میسج میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ، "ایران نے سیز فائر کی خلاف ورزی کی ہے مگر اسرائیل نے بھی کی ہے۔ انہوں نے ڈیل کے بعد اس صبح وہ بم گرائے ہیں جو ہم نے پہلے نہیں دیکھے تھے۔ میں اسرائیل سے بالکل خوش نہیں ہوں، نہ ہی میں ایران سے خوش ہوں۔ دونوں ملک اتنی دیر سے سخت جنگ لڑ رہے ہیں۔” جنگ بندی کی خلاف ورزی کے بارے ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ مختصر پیغام وائٹ ہاؤس کے سرسبز ہیلی پیڈ کی طرف جاتے ہوئے دیا جہاں ایک محفوظ ہیلی کاپٹر ان کا انتظار کر رہا تھا۔ یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہوئی ہے۔ امریکی صدر اکیلے تھے اور انہوں نے کسی دفتری فائل کی بجائے اپنے دائیں ہاتھ میں ایک پلاسٹک ٹائپ سا کوئی لفافہ پکڑا ہوا تھا۔

    جنگ بندی کے بارے ڈونلڈ ٹرمپ کا تاحال آخری ٹویٹ اس سے بھی زیادہ مختصر اور دلچسپ ہے۔ یہ ایک ون لائنر میسج ہے جس کا اردو ترجمہ یہ ہے کہ جس نے بھی بم گرایا وہ ‘گے’ ہو گا۔ اردو زبان میں انگریزی لفظ "گے” کا ترجمہ تھوڑا غیر مہذب ہے مگر یہ فقرہ بہت معنی خیز ہے جس کا مفہوم ایک لائن میں یہ بھی بنتا ہے کہ اب جس فریق نے بھی جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کوئی بم گرایا، اٹھا کر وہی بم اس کی پشت پر مارا جائے گا۔

    قصہ مختصر کہ جنگ بندی کی خلاف ورزی کے باوجود امریکہ کے جنگ میں براہ راست شامل ہو چکنے کے بعد، اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنگ بند کروانے میں واقعی سنجیدہ نظر آتے ہیں۔ اس سے قبل ٹرمپ نے روس اور یوکرین کی جنگ بند کروانے کی کوشش کی، بھارت اور پاکستان کی خطرناک ترین جنگ بند کروائی اور اب تیسری بار انہوں نے ایران اسرائیل جنگ کو بند کروانے کی ایک انتہائی سنجیدہ کوشش کی ہے۔ اس سے ایک تو دنیا بھر میں ان کے اس کردار کو سراہا گیا۔ دوم امریکی صدر سے پاکستان کے فیلڈ مارشل کی ملاقات کے بارے جو وسوسے اور خدشات ابھرے تھے کہ شائد پاکستان نے امریکہ کو ایران کے خلاف اڈے دینے کا وعدہ کیا ہے یا امریکی صدر کو پاکستان نے "نوبل انعام” کے لیئے غلط تجویز کیا تھا، وہ سارے داغ نہ صرف ختم ہوئے ہیں، بلکہ پاکستانی فوج اور فیلڈ مارشل کی، پاکستانی عوام میں ایک بار پھر بہجا بہجا ہو گئی ہے۔

    بعض سیاسی تجزیہ کاروں کا تو خیال ہے کہ یہ جنگ شروع بھی ٹرمپ نے کروائی تھی۔ اگر جنگ بندی مستقل ہو گئی تو اس کا سارا کریڈٹ بھی ٹرمپ کو ہی جائے گا۔ امریکی صدر یہ کہنے میں حق بجانب تھے کہ اچھا نہیں لگا کہ جنگ بندی پر رضامندی کے فوراً بعد اسرائیل نے شدید حملے کئے۔ صدر ٹرمپ کی رائے میں امریکہ نے ایران کی جن تین اٹامک سائٹس پر حملے کیئے اس کے بعد ایران کبھی جوہری پروگرام بحال نہیں کر سکتا، کیونکہ موصوف سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ایران کی جوہری صلاحیت حملہ کر کے ختم کر دی ہے۔ اس سے ایک طرف جہاں اسرائیل کو جنگ بندی کے لیئے "فیس سیونگ” ملی تو دوسری طرف جب ایران نے قطر میں امریکی اڈے پر حملہ کیا تو اس کا بھی جنگ بندی کی طرف جانے کے لئے مکمل بھرم قائم ہو گیا۔

    امریکی صدر کے اس قابل ستائش کردار کے باوجود اسرائیل نے اپنا روایتی صیہونی کردار دہرایا جسے اگر منافقانہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا، جب اسرائیل کے صدر نیتن یاہو اور اس کے کاٹز نامی وزیر دفاع دو متضاد سمتوں میں چلتے دکھائی دیئے اور اسرائیلی وزیر دفاع جنگ بندی معاہدہ کی راہ میں رکاوٹ بن گئے۔ اس نے ببانگ کہا کہ ایران پر حملے جاری رکھیں گے جس کے بعد اسرائیل نے ایران پر سارا دن بمباری جاری رکھی۔ ایک طرف اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو جنگ بندی کے اعلان پر خوش تھے تو دوسری طرف ان کے ہی ایک وزیر نے جنگ بندی کے معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے ایران پر حملے تیز کر دیئے جس سے یہ دونوں اعلیٰ اسرائیلی عہدیدار "گڈ مین، بیڈ مین” کا روایتی یہودی کردار ادا کرتے دکھائی دیئے۔

    ایران پر اسرائیل نے حملوں کا آغاز فوجی قیادت اور نیوکلیئر سائنسدانوں پر حملوں سے کیا تھا تاہم اسے ایران کی ایٹمی تنصیبات کو تباہ کرنے میں بظاہر ناکامی ہوئی تو اسرائیل کی عملی مدد کے لیئے بلآخر امریکہ میدان میں آیا اور ایران کی تین ایٹمی تنصیبات پر بمباری کر کے اسرائیلی وزیراعظم سے منوایا کہ امریکہ کے بغیر یہ کام ناممکن تھا۔

    عارضی 12 روزہ جنگ بندی تک اگرچہ ایران کا زیادہ نقصان ہوا، خاص طور پر اسے اپنے فوجی جرنیلوں اور کم و بیش درجن بھر ایٹمی سائنس دانوں کی شہادت کا نقصان اٹھانا پڑا، لیکن ایران کے آخری جوابی حملوں میں 28 اسرائیلی ہلاک اور ہزاروں زخمی ہوئے، تل ابیب اور حیفہ کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے تھے، جسے غیر جانبدار عالمی میڈیا نے لائیو دکھایا۔ ایران اور اسرائیل دونوں نے اس جنگ کو اپنی فتح قرار دیا۔ جب جنگ بندی کا پہلا اعلان ہوا تو ایران میں جشن منایا گیا، ایرانی پرچم لہراتے ہوئے ہزاروں شہری سڑکوں پر نکل آئے اور فتح کی خوشی میں رقص کرتے رہے۔

    یہ جنگ بندی قائم رہے یا کچھ عرصے کے بعد جنگ دوبارہ شروع ہو جائے، یہ بات دنیا پر واضح ہو گئی ہے، اور خود اسرائیل کو بھی شدت سے احساس ہوا ہے کہ اس کے دفاعی نظام میں بہت زیادہ خلا موجود ہے اور وہ قابل تسخیر ہونے کی وجہ سے اسے مستقبل میں دھوکہ دے سکتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ایران اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے روس اور چین سے تعلقات کس قدر مضبوط کرتا ہے۔ ایران کا فضائی نظام انتہائی کمزور ہے۔ اس کو اپنی ایئرفورس کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ ایران اپنے اتحادیوں سے کس طرح کے نئے مراسم تعمیر کرتا ہے اور کس نوعیت کی ڈیلز کرتا ہے، شاید یہ طے کرے کہ اگلی ممکنہ جنگ میں اصل فاتح کون ہو گا۔

    Title Image by NVD from Pixabay

  • اور ایران پر جارحیت کے بدلے نوبل پرائز

    اور ایران پر جارحیت کے بدلے نوبل پرائز

    اور ایران پر جارحیت کے بدلے نوبل پرائز

    Dubai Naama

    گزشتہ روز امریکی بی ٹو بمبار طیاروں نے تین ایرانی نیوکلیئر سائٹس فردو، نتانز اور اصفہان کو حملہ کر کے تباہ کر دیا. اس سے اسرائیل کو فیس سیونگ تو مل گئی، لیکن جنگ بندی کے امکانات محدود ہو گئے ہیں جس کے لیئے اسرائیل نے خود کو مزید تباہی سے بچانے کے لیئے امریکی صدر کا ترلا کیا تھا۔ اس حملے سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے امریکی دورے کے پس پردہ مقاصد کی بلی بھی تھیلے سے باہر آ گئی ہے کہ یہ چاند چڑھانے سے قبل امریکی صدر پاکستان کے فیلڈ مارشل کو اعتماد میں لینا چاہتے تھے۔

    اس جارحیت کا انتہائی تشویشناک پہلو یہ ہے کہ امریکہ آخر کب تک بلاوجہ دوسرے ممالک پر براہ راست حملے کر کے دنیا کے امن و سکون کو تہس نہس کرتا رہے گا۔ اس حملے سے چند روز ہی پہلے ماسکو کے چینی سفارت خانے نے ان ممالک کی فہرست شائع کی تھی، جن پر جنگِ عظیم دوم کے بعد امریکہ نے بمباری کی تھی جس میں
    جاپان، کوریا، چین، گواتی مالا، انڈونیشیا،
    کیوبا، کانگو، لاؤس، ویتنام، کمبوڈیا، گریناڈا، لبنان، لیبیا، ایل سلواڈور،
    نکاراگوا، ایران، پاناما، عراق، کویت، صومالیہ، بوسنیا، سوڈان، افغانستان، یوگوسلاویہ، یمن، پاکستان اور شام وغیرہ شامل ہیں۔
    یہ فہرست 20 سے زائد ممالک پر مشتمل ہے۔ چین نے اس رپورٹ کو شائع کرنے کے بعد اس بات پر زور دیا تھا کہ "ہمیں کبھی نہیں بھولنا چاہئے کہ دنیا کے امن و شانتی کے لئے اصل خطرہ کون ہے۔”

    اس شدید اور تاریخی امریکی جارحیت کے پس منظر میں پاکستان کی امریکی صدر کو نوبل پرائز کی سفارش کرنے کا بھی کوئی جواز نہیں بنتا تھا۔ حالانکہ امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر یہ حملہ اسے دو ہفتوں کی مہلت دینے سے "یو ٹرن” لیتے ہوئے کیا یعنی امریکہ نے واضح طور پر وعدہ خلافی اور دھوکہ دہی کا مظاہرہ کیا، جس سے مشرق وسطیٰ ایک بڑی اور تباہ کن جنگ کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔
    اس حملے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بڑے فخر سے اعلان کیا کہ امریکہ نے ایران کے تین اہم جوہری مراکز پر کامیاب بمباری کی۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ تمام امریکی طیارے ایرانی فضائی حدود سے محفوظ باہر نکل کر واپس آ گئے، اور اب وقت آ گیا ہے کہ "امن قائم ہو”۔ یہ کس قدر حیرت انگیز ڈھٹائی ہے کہ ایک ملک پر آپ حملہ کر کے اس کی سلامتی کے ضامن کیمیائی ہتھیاروں کو بھی تباہ کریں اور ساتھ میں اسے امن کا پیغام بھی دیں؟

    اس حملے سے چند روز پہلے کنگز کالج لندن میں سیکورٹی سٹڈیز کے ایسوسی ایٹ پروفیسر آندریاس کریگ نے خبردار کیا تھا کہ اگر امریکہ براہ راست ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہوا تو خلیجی خطے میں شدید نوعیت کی کشیدگی بھڑک اٹھے گی۔

    ایران کی طرف سے اس حملے کے بعد تادم تحریر فوری ردعمل تو سامنے نہیں آیا، مگر سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے نے ایک نشریاتی ادارے کے افسر کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان تینوں جوہری مراکز سے تابکار مواد پہلے ہی نکال لیا گیا تھا، جس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ ایران کو پہلے سے اس حملے کا خدشہ تھا۔ ادھر الجزیرہ کی رپورٹر ڈورسا جباری نے قطر سے رپورٹ کیا کہ امریکہ کی طرف سے جن تین مراکز پر حملہ کیا گیا وہ ایران کے جوہری پروگرام کے بنیادی ستون تھے۔ فورڈو اور نطنز وہ مراکز ہیں جہاں ایران 60 فیصد تک یورینیم افزودہ کر رہا تھا، جبکہ اصفہان میں یورینیم کو افزودہ شکل میں تبدیل کیا جاتا تھا۔ سنہ 2022ء کی آئی اے ای اے رپورٹ کے مطابق 90 فیصد افزودہ یورینیم اصفہان ہی میں ذخیرہ کیا گیا تھا۔ ایران میں کل چھ جوہری مراکز ہیں اور امریکہ نے جن تین پر حملہ کیا وہ سب سے اہم شمار ہوتے ہیں۔

    اسی دوران ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے آفیشل ٹیلیگرام اکاؤنٹ پر ان کا ایک پرانا وارننگ ویڈیو دوبارہ شیئر کیا گیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر امریکہ اس جنگ میں اسرائیل کے ساتھ شریک ہوتا ہے تو "سب سے زیادہ نقصان خود امریکہ کا ہو گا۔” جبکہ ایران پر براہ راست امریکی حملے کی صورت میں چین اور روس نے بھی وارننگ دی تھی کہ وہ ایران کے دفاع اور مشرق وسطی کے امن کو تباہ کرنے کی اجازت نہ دیتے ہوئے نہ صرف ایران کا مکمل دفاع کریں گے بلکہ خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں کو بھی نشانہ بنائیں گے۔ اب دیکھنا یہ ہے امریکی صدر کے امن کا یہ جنگجوعانہ پیغام کیا رخ اختیار کرتا ہے۔

    اپنے طور پر تو امریکی صدر دنیا بھر کے اپنے ناپسندیدہ ممالک پر جارحانہ حملے کر کے امن قائم کرنے کی خواہش رکھتے ہیں اور اس کے بدلے خود کو نوبل پرائز کا حقدار بھی ٹھہراتے ہیں مگر یہ طریقہ اپناتے ہوئے امن قائم نہیں کیا جا سکتا۔ امن قائم کرنے کا ایسا جارحانہ رویہ فریب اور مغالطے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ اس سے دنیا میں امن قائم کرنا اور خاص طور پر مشرق وسطی میں جنگ بندی کی لوری دینے کی بین بجانا دھوکہ دینے کے علاوہ کوئی اہمیت نہیں رکھتی ہے۔ یہ طریقہ جنگ کو ہوا تو دے سکتا ہے اسے جنگ بندی یا امن قائم کرنے پر آمادہ نہیں کر سکتا ہے۔ امریکی صدر کو حقیقی دنیا میں رہ کر سوچنا چاہئے۔ جنگ نفع و نقصان کا کاروباری عمل نہیں، بلکہ یہ وسائل اور انسانی زندگیوں سے کھیلنے کی نفرت انگیز سوچ یے۔

    Title Photo by Pixabay

  • پاک بھارت حالیہ جنگ اور کشیدگی

    پاک بھارت حالیہ جنگ اور کشیدگی

    پاک بھارت حالیہ جنگ اور کشیدگی 

    تحریر: عبدالوحید خان، برمنگھم (یوکے) 

    بھارت اور پاکستان کے مابین حالیہ کشیدگی جسے بھارت کے چھپن انچ کی چھاتی کے دعویدار تیسرے مرتبہ منتخب ہوۓ وزیراعظم نریندرا مودی جن پر انکے پہلی مرتبہ وزیراعظم بننے تک آر ایس ایس تنظیم سے تعلق کی وجہ سے کچھ سنگین جرائم کی بنا پر امریکہ میں داخلے پر پابندی عائد تھی، اور غیر ذمہ دار اور شور و غوغا کی بنیاد پر اپنی جھوٹی باتوں کا پرچار کرتے بھارتی میڈیا نے باقاعدہ ایک جنگ میں بدلا جس نے بین الاقوامی سطح پر نہ صرف خود بھارت کے لۓ شرمندگی کا سامان کیا بلکہ بین الاقوامی سطح پر انکی جگ ہنسائی کا خوب موقع فراہم کیا جبکہ پاکستان کو ایک ذمہ دار ملک ثابت کیا اور پاکستان کی جیت کو بین الاقوامی سطح پر دنیا بھر کے میڈیا اور جنگ کے حوالے سے تبصره نگاروں نے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار ملک، پاکستانی ایک باوقار اور دلیر قوم اور افواج پاکستان جدید ٹیکنالوجی اور جدید اسلحے سے لیس ایسی پروفیشنل فوج ہے جو جزبہ ایمانی سے سرشار ہوکر وطن عزیز پاکستان کا دفاع کرنے کی بھرپور صلاحیتوں سے مالا مال ہے- 

    22 اپریل کو پہلگام واقع کے بعد جس طرح بھارت نے بغیر کسی تحقیق، تفتیش اور ثبوت کے پاکستان پر نہ صرف الزام دھر دیا بلکہ 6 اور 7 مئی کی درمیانی رات ایل او سی اور انٹرنیشنل بارڈر کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہوۓ پاکستان پر باقاعدہ حملہ کیا اس نے پہلگام واقع کےبارے میں فالس فلیگ آپریشن کی باتوں کو مزید تقویت دی ہے کہ پاکستان کی طرف سے بین الاقوامی برادری سے غیر جانبدارانہ تحقيقات کی پیش کش کے باوجود بھارتی وزیراعظم نے سخت گیر رویہ اپناتے ہوۓ افہام و تفہیم یا تحقیق اور تفتیش کے بغیر ہی پاکستان پر نہ صرف الزامات کی بوچھاڑ کۓ رکھی بلکہ اپنے تئیں پاکستان کو سزا دینے کے لۓ باقاعدہ طور پر پاکستان پر جنگ بھی مسلط کر دی گئی اور تو اور حیران کن طور پر بین الاقوامی قوتوں نے جنگ کو روکنے کے لۓ عملی طور پر کوئی بارآور کوشش بھی نہیں کی اور ایسا لگتا تھا جیسے پاکستان کو سبق سکھانے کے لۓ باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی تھی اور بھارت نے اپنے حملے کو آپریشن سندور کا نام دے کر پاکستان کے مختلف علاقوں پر میزائل حملہ کیا جس میں کئی بے گناہ چھوٹے معصوم بچے، گھریلو خواتین اور عام شہریوں اور مساجد کو نشانہ بنایا گیا اور بے گناہ لوگوں کو شہید کیا گیا-  

    بھارتی الزام تراشیوں، کھلم کھلا دھمکیوں اور پھر کھلی جارحیت اور اشتعال انگیزی کے باوجود پاکستان نے صبر و تحمل کا دامن نہیں چھوڑا اور ہر معاملے کو باقاعدہ بین الاقوامی قوانین اور مروجہ قواعد و ضوابط کے مطابق سرانجام دے کر دنیا پر یہ بھی واضح کر دیا کہ نہ صرف پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے بلکہ پاکستان کی مسلح افواج بہت پروفیشنل، ذمہ دار اور بہادر افواج ہیں جو وقت پڑنے پر رات کی تاریکی میں کۓ گۓ حملوں کا صبح صادق اور دن کے اجالے میں پوری شدت کے ساتھ جواب دینے کی جرات، صلاحيت اور حیثیت سے مالا مال ہیں اور اس مشکل وقت میں پوری قوم بھی اپنی بہادر افواج کے ساتھ شانہ بشانہ ہے اور کسی کو وطن عزیز کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی اجازت نہیں دے سکتے- 

    پاک بھارت حالیہ جنگ اور کشیدگی

    پاکستان نے آپریشن بنیان مرصوص میں جس طرح بھارت پر حملہ کرکے جوابی کاروائی کی اور بھارت کو شکست دی اس نے نہ صرف پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر ایک نئی شناخت اور پاکستانیوں کو سر اٹھا کر چلنے اور جینے کے لۓ ایک نۓ ولولے اور جوش و جزبے سے ہمکنار کیا ہے بلکہ اس کا اظہار انہوں نے اندرون و بیرون ملک یوم تشکر کی شاندار تقریبات منعقد کر کے اپنی خوشی ، تشکر، اور متاثرین سے بھرپور ہمدردری کا اظہارکر کے کیا ہے- 

    برطانیہ میں بھی یوم تشکر کی زبردست تقریبات کا انعقاد مختلف سطح پر کیا گیا- پاکستانی افواج کی شاندار جنگی حکمت عملی، دلیری، بہادری، جزبہ ایمانی سے سرشاری اور دفاع وطن کے عملی مظاہرے کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس نے روائتی جنگوں کو ہی نہ صرف تبدیل کرکے رکھ دیا ہے بلکہ وار فئیر میں نئی چیزیں متعارف ہو گئ ہیں اور ٹیکنالوجی کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے- پاکستان میں تو باقاعدہ طور پر حکومتی سطح پر یوم تشکر منایا گیا ہے اور حکومت پاکستان نے پاکستان آرمی کے چیف جنرل سید عاصم منیر کو فوج کا سب سے بڑا عہدہ فیلڈ مارشل عطإ کر دیا گیا ہے جبکہ سفارتی محاذ پر بھی بارآور اور مثبت کوششیں جاری ہیں اور ایک وفد دنیا کے مختلف ممالک میں بھیجا جاۓ گا تاکہ پاکستان کا موقف پوری دنیا کو بہنچایا جا سکے اسی طرح کشمیر کمیٹی کا وفد بھی یہاں برطانیہ کا دورہ کر چکا ہے- 

    بھارت اور پاکستان کے مابین ایک مرتبہ پھر مسئلہ کشمیر ایک فلیش پوائنٹ کی صورت سامنے آیا ہے- مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی طرف سے مظالم کا سلسلہ بھی جاری ہے اور یٰسین ملک سمیت کئی حریت رہنما اس وقت بھارت کی جیلوں میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں- جنگ کسی بھی مسئلے کا حل نہیں ہے بلکہ بہت سے مسائل کا آغاز ہوتا ہے اس لۓ جنگ بندی کے لۓ جو کوششیں کی گئیں ہیں یقیناً وہ بہت حوصلہ افزا ہیں لیکن دونوں ممالک کے مابین مستقل جنگ بندی کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق استصواب راۓ ملنا چاہئے اور انہیں بھارت کے مظالم سے نجات ملنی چاہئے جبکہ سندھ طاس معاہدہ جس کا گارنٹر ورلڈ بنک ہے پر بھارت کو اپنی ھٹ دھرمی چھوڑنی ہو گی اور پانی بند کرنے کی دھمکیوں سے اجتناب برتنا ہو گا ورنہ دونوں ممالک کے مابین مستقل اور دیرپا امن کا قیام ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہو گا اور دو نیوکلر پاورز کے حامل ممالک کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی اقوام عالم کے لۓ بھی مستقل خطرہ ثابت ہو گی اس لۓ یو ایس اے اور یو کے سمیت ان تمام ممالک کو جنہوں نے جنگ بندی کے لۓ اپنا کردار ادا کیا ہے اس کشیدگی کے مستقل خاتمے اور دونوں ممالک کے مابین دیرپا اور مستقل قیامِ امن کے لۓ اپنا موثر اور بھرپور کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ برصغیر پاک و ہند پر جنگ اور بدامنی کے بڑھتے بادل چھٹ سکیں اور نسل انسانی کی بقا اور فلاح و بہبود ممکن ہو سکے- (ختم شد)

    Title Image by Ben Kerckx from Pixabay

  • پاک فوج اظہار یکجہتی عشائیہ

    پاک فوج اظہار یکجہتی عشائیہ

    پاک فوج اظہار یکجہتی عشائیہ

    Dubai Naama

    یہ ایک عشائیہ ہی نہیں پاکستانی کمیونٹی کی سوشل گیدرنگ تھی جس میں بھارت کے خلاف جنگ میں پاکستان کی تاریخی فتح اور افواج پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ پاکستانی عوام اس حوالے سے دنیا کی نمبر ون قوم ہے کہ بوقت ضرورت وہ ہر مشکل گھڑی میں متحد ہو جاتی ہے اور اپنی فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہو کر کام کرتی ہے۔ گزشتہ پاک بھارت جنگوں کے دوران رضاکار بھرتی کیئے جاتے تھے مگر اس دفعہ اس کی نوبت ہی نہیں آئی۔جونہی 7مئی کو ہندوستان نے جارحیت کی اس کے تین روز بعد ہی 10مئی کی صبح ہندوستان کے فوجی ٹھکانوں کے پرخھچے اڑا دیئے گئے اور پاکستان کو جنگ میں کامیابی حاصل ہوئی جس کا جشن منانے کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ ایسے مواقع پر پاکستانی قوم کی حب الوطنی اور بھائی چارے کا مظاہرہ دیدنی ہوتا ہے، اور مخیر حضرات اس بارے پروگرامز کروانے میں دل کھول کر خرچ کرتے ہیں تاکہ پاکستانی فوج اور عوام کے جذبے کی تجدید کی جا سکے۔

    چند روز پہلے ایسے ہی ایک عشائیہ میں جانے کا اتفاق ہوا جس کا اہتمام متحدہ عرب امارات کی معروف کاروباری و سیاسی شخصیات شوکت محمود بٹ اور احمد محمد فہد نے ڈیرہ دبئی کریک، کے ایک فائیو سٹار ہوٹل "ریڈیسن بلیو” میں کیا تھا۔ اس پروگرام میں شرکت کے لیئے متحدہ عرب امارات کے علاوہ پاکستان، امریکہ اور انگلینڈ سے آئے ہوئے مہمانوں نے بھی شرکت کی جس میں لندن سے چوہدری افتخار احمد اور پاکستان سے احسان الحق باجوہ، پارلیمانی سیکرٹری برائے سمندر پار پاکستانیز سرفہرست ہیں۔ دعوت نامہ کے مطابق یہ پروگرام 8بجے رات کو شروع ہوا۔ جب میں ہال میں پہنچا تو دیکھا کہ دونوں میزبان پھولوں کے گلدستے اور مالائیں ہاتھوں میں اٹھائے مہمانوں کا استقبال کر رہے تھے۔ ان کے چہروں پر مسکراہٹ رقصاں تھی جیسے وہ کوئی جشن منانے آئے ہوں۔ اس ریسٹورنٹ میں آمنے سامنے مہمانوں کے لیئے 3 حال بک کیئے گئے تھے، دیکھتے ہیں دیکھتے ٹیبلوں کے اردگرد صوفوں اور کرسیوں پر براجمان لگ بھگ ڈیڑھ سو مہمانوں سے یہ تینوں حال بھر گئے۔ میں نے مختلف مہمانوں سے تعارف اور گفتگو کے دوران محسوس کیا کہ مہمانوں کی اکثریت کاروبار کی بجائے پاکستان کے کامیاب دفاع اور پاکستان ایئرفورس کی صلاحیتوں کے موضوعات پر محو گفتگو تھی۔

    اس تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا اور شوکت محمود بٹ صاحب نے شرکاء اور میڈیا سے استقبالیہ خطاب کے دوران کہا کہ پاک آرمی ہمارا افتخار ہے جس نے بھارت کو چھٹی کا دودھ یاد کرا دیا جس سے پاکستان کی عوام اور اوورسیز پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ، "ہم اس بے مثال کامیابی پر اپنی پاک فوج کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے سلام پیش کرتے ہیں، اور خاص طور پر آرمی چیف حافظ عاصم منیر کو فیلڈ مارشل کا عہدہ ملنے پر مبارکباد دیتے ہیں۔”

    پاک فوج اظہار یکجہتی عشائیہ

    اس عشائیہ میں مہمانان خصوصی چوہدری احسان الحق باجوہ اور چوہدری افتخار احمد صاحب نے بھی خطاب کیا جنہوں نے پاک فوج کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔ اس عشائیہ میں مقررین نے جہاں پاکستان کی آرمی کی طاقت اور مہارت کو سراہا وہاں 28مئی "یوم تکبیر” اور ایٹم بم کے حوالے سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ثمر مبارک اور دیگر ایٹمی سائنس دانوں کی خدمات کو بھی بڑی عقیدت و احترام سے یاد کیا۔ تقریب میں پاکستانی بزنس کمیونٹی کی جن دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی ان میں حسن بخاری، شیر یار ملک، پیر صفدر، حمزہ علی، چوہدری ثاقب ڈھیرو گھنہ، چوہدری ایاز، بابر جوئیندہ، غلام مصطفی مغل، عبدالمجید مغل، مرزا ظفر محمود، حیدر جگنو، ملک نبیل، چوہدری اکرام، منور صاحب، عمران مگووال، چوہدری جاوید، ڈاکٹر حماد، چوہدری نواز، شیر بہادر، قمر دھول، شاہ جی، علی ظفر، زبیر مکیانہ، شاہد صاحب، چوہدری الطاف ڈھلہ، میاں جاوید، چوہدری عارف، ارشد جھنڈ، حاجی راجہ شفیق، طارق جاوید قریشی، طارق بٹ، فاروق وڑائچ، محبوب ربانی، راجہ خالد، مختار قریشی، راجہ عابد حسین، چوہدری اکرام جوڑا، ملک آصف، چوہدری جاوید کولیاں اور چوہدری اسد و دیگر شامل ہیں۔ ان تمام مہمانوں نے اجتماعی طور پر پاکستان آرمی سے محبت اور عقیدت کا اظہار کیا۔ انہوں نے شوکت محمود بٹ صاحب کی متحرک شخصیت کی بھی بہت تعریف کی کہ وہ ایسے پروگرام اپنے گھر اور ریسٹورنٹس میں کروانے میں ہمیشہ پیش پیش ہوتے ہیں، جس کے بعد میڈیا پرسنز نے فردا فردا مہمانوں اور مقررین کے انٹرویوز کیئے۔

    پاک فوج کی بھارت کے خلاف جنگ میں تاریخی فتح کو سلام عقیدت پہنچانے کے لیئے منعقد کیا گیا یہ عشائیہ رات آٹھ بجے سے لے کر تقریبا رات بارہ بجے تک جاری رہا۔ پاکستانی قوم کا پاک سرزمین اور اس کی حفاظت کرنے والی پاک فوج سے محبت کا جذبہ ایک بے مثال ہے۔ ماضی کے مارشل لاء شائد اسی محبت کی وجہ سے قابل قبول رہے۔ اگر پاکستان میں "سول سپریمیسی” قائم ہو جاتی ہے اور فیلڈ مارشل عاصم منیر صاحب اس مد میں کسے عہد کا "اعلان” کرتے ہیں بلکہ سابقہ مارشل لاووں پر قوم سے معذرت بھی کرتے ہیں تو یہ بہت جرات مندانہ اقدام ہو گا جس کو پاکستانی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

    پاکستان کی تاریخ نیم فوجی اور نیم سیاسی حکومتوں کی تاریخ ہے۔ محترم المقام جنرل عاصم منیر صاحب کے انتہائی ذمہ دار اور بہادر سپاہی ہیں اور پاکستانی تاریخ میں جتنی عزت پاکستانی قوم نے انہیں دی ہے وہ دوسرے کسی فوجی جنرل کو آج تک نہیں ملی۔ جنرل فیلڈ مارشل صاحب "سول بالا دستی” کے ضمن میں بھی کوئی تاریخی قدم اٹھاتے ہیں تو اس سے عوام کی فوج سے یہ محبت دوچند ہو جائے گی، بلکہ اسے چار چاند لگ جائیں گے۔ اس سے امن و امان میں بہتری آئے گی، فارن انوسٹمنٹ میں اضافہ ہو گا اور اندرون و بیرون ملک کاروبار بھی تیزی سے ترقی کرنے لگے گا جس سے معیشت کو محض چند سالوں میں اپنے پاو’ں پر کھڑا ہونے کا موقعہ مل سکتا ہے۔ اے بسا آرزو کہ خاک شدہ!

  • مودی سرکار : دنیا میں رسوائی، اندر سے تباہی

    مودی سرکار : دنیا میں رسوائی، اندر سے تباہی

    مودی سرکار : دنیا میں رسوائی، اندر سے تباہی


    تحریر محمد ذیشان بٹ


    بھارت، جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہتا ہے، اس وقت ایک ایسے نالائق اور ضدی حکمران کے ہاتھوں یرغمال ہے جسے دنیا "نریندر مودی” کے نام سے جانتی ہے۔ یہ موصوف 2014 سے بھارت کے وزیراعظم ہیں اور مسلسل دوسری بار 2019 میں دوبارہ اقتدار میں آئے۔ مگر اب، 2024 کے الیکشن میں جو پھٹکار عوام نے انہیں دی ہے، اُس کے بعد بھی موصوف کے ہوش ٹھکانے نہیں آئے۔ لگتا ہے جیسے پاکستان دشمنی نے مودی جی کو ایسا اندھا کر دیا ہے کہ اب انہیں نہ اپنی عقل نظر آتی ہے، نہ اپنے ملک کا مستقبل۔
    مودی سرکار کی بنیاد ہی جھوٹ، پروپیگنڈے اور اقلیت دشمنی پر کھڑی ہے۔ ایک طرف ان کی پارٹی بی جے پی، رام مندر اور گائے ماتا کے نام پر ووٹ بٹورتی ہے، دوسری طرف پاکستان کو دشمن نمبر ایک بنا کر ہر الیکشن میں عوام کو ورغلاتی ہے۔ اور تو اور، اس بار بھی الیکشن میں شکست کے آثار دیکھ کر مودی جی نے وہی پرانا راگ الاپنا شروع کر دیا: "پاکستان کو سبق سکھائیں گے، سرجیکل اسٹرائیک، دہشت گردی کے خلاف کارروائی” وغیرہ وغیرہ۔ جیسے عوام کا کوئی اور مسئلہ ہی نہیں، صرف سرحد پار دشمنی ہی جمہوریت کی معراج ہو۔
    مگر ذرا حقیقت کا آئینہ ملاحظہ ہو: آج بھارت اندرونی اور بیرونی، دونوں محاذوں پر عبرتناک رسوائی کا شکار ہے۔ سب سے پہلے اگر ہم خطے کی بات کریں تو وہ بنگلہ دیش، جسے بھارت نے 1971 میں اپنی "کامیابی” سمجھا تھا، اب بھارت سے تنگ آ چکا ہے۔ حسینہ واجد کی حکومت جو برسوں تک بھارت نواز سمجھی جاتی رہی، اب کھل کر بھارتی اثر و رسوخ کے خلاف ہو چکی ہے۔ سرحدی تنازعات، پانی کے مسئلے اور تجارت میں نابرابری نے بنگلہ دیش کو مجبور کر دیا کہ وہ بھارت سے فاصلہ رکھے۔ اور پھر، نیپال اور بھوٹان جیسے ممالک، جنہیں بھارت ہمیشہ اپنی جیب کی چھڑی سمجھتا رہا، اب بھارت کو آنکھیں دکھانے لگے ہیں۔ نیپال نے نقشے میں بھارتی علاقوں کو اپنا قرار دے کر اپنی خودمختاری کا اظہار کر دیا۔ بھوٹان نے بھی چین کے ساتھ بات چیت شروع کر دی ہے، جس سے بھارت کا سر نیچے ہو گیا ہے۔
    اب بات کریں چین کی، تو جناب وہاں تو مودی حکومت نے ایسی چوٹ کھائی ہے کہ عقل ٹھکانے آ جائے۔ لداخ میں چینی افواج نے بھارتی فوجیوں کو ایسا سبق سکھایا کہ "چین چین” کی گردان کرتے مودی حکومت کے ترجمان گونگے ہو گئے۔ پینگونگ جھیل کے کنارے چینی فوجیوں کے ہاتھوں بھارتی جوانوں کو جس طرح مار پڑی، اُس پر بھارت آج تک پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مگر عالمی میڈیا نے سچ سامنے رکھ دیا۔
    اب ذرا مودی کے بین الاقوامی تماشوں پر نظر ڈالیں۔ امریکہ، جو کبھی بھارت کا اسٹریٹجک پارٹنر کہلاتا تھا، اب بھارت کو طفل مکتب سمجھ کر بات کر رہا ہے۔ حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران امریکہ نے واضح اعلان کیا کہ "ہم نے مداخلت کر کے جنگ روکی”، یعنی بھارت کی بڑھک بازی ناکام ہوئی اور اسے شرمندگی اٹھانی پڑی۔ اور کینیڈا؟ وہاں تو مودی حکومت کو کھلی بے عزتی کا سامنا ہے۔ سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے بعد کینیڈا نے بھارت کو عالمی سطح پر دہشت گرد قرار دینے کی مہم شروع کر دی۔
    فرانس میں بھارتی پائلٹس کی تربیت کے دوران ہونے والی نااہلی نے رہی سہی کسر بھی نکال دی۔ رافیل طیارے اڑانے والے بھارتی "ایس” پائلٹ کی کارکردگی پر فرانس کے عسکری ماہرین نے جو تبصرے کیے، وہ مودی کے سینے پر مونگ دلنے کے مترادف تھے۔ بھارت کا غرور خاک میں مل گیا، اور دنیا کو ایک بار پھر یقین آ گیا کہ بھارت صرف بڑھکوں کا بادشاہ ہے، حقیقت میں کھوکھلا سا کاغذی شیر۔
    اب ذرا بھارت کے اندرونی حالات کی تصویر دیکھیں تو بات اور بھی ہولناک ہو جاتی ہے۔ مودی حکومت نے آتے ہی مسلمانوں کو نشانے پر لیا۔ کبھی "لو جہاد” کے نام پر، کبھی "گائے کے ذبح” پر، کبھی "شہریت ترمیمی قانون” کے ذریعے، بھارت کے مسلمان مسلسل ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ دہلی کے فسادات، اتر پردیش میں مسلمانوں کی جائیدادوں پر بلڈوزر چلا کر "نیا بھارت” بنانے کا دعویٰ، درحقیقت ایک فاشسٹ ذہنیت کی عکاسی ہے۔


    سکھ برادری بھی اس ظلم سے محفوظ نہیں رہی۔ کسان تحریک کے دوران جس طرح مودی حکومت نے سکھ کسانوں پر لاٹھیاں برسائیں، انہیں خالصتانی قرار دے کر بدنام کیا، اس سے پنجاب میں بی جے پی کی زمین بالکل کھسک گئی ہے۔ یہاں تک کہ اب مودی پنجاب جانے سے بھی کتراتے ہیں۔
    عیسائی برادری پر بھی چرچ جلانے، مشنری اسکولوں پر حملوں، اور جبری تبدیلی مذہب جیسے واقعات کے ذریعے زہر اگلا جا رہا ہے۔ دلتوں کی تو بات ہی چھوڑیں، وہ تو آج بھی بھارت میں "ان چھوا” ہیں۔ یہ کیسی جمہوریت ہے جہاں مذہب، ذات اور زبان کے نام پر ظلم ہی ظلم ہو؟
    اب بات کرتے ہیں مودی کا سب سے بڑا سہارا: بھارتی میڈیا، جسے پیار سے "گودی میڈیا” کہا جاتا ہے۔ یہ وہ میڈیا ہے جس نے ہر خبر میں پاکستان کا ذکر گھسا کر اپنے ناظرین کو بیوقوف بنایا۔ مگر سچ ہمیشہ چھپتا نہیں۔ سوشل میڈیا نے ان کے جھوٹے پروپیگنڈے کا پول کھول دیا۔ آج ان کے اپنے صحافی، جیسے راویش کمار، سدھیر چودھری، اور دیگر کئی صحافی کھل کر اس میڈیا کی منافقت پر تنقید کر رہے ہیں۔
    مودی جی نے اپنے دورِ اقتدار میں صرف ایک ہی کام پوری ایمانداری سے کیا ہے، اور وہ ہے جھوٹ بولنا۔ نوٹ بندی کے وقت کہا "کالا دھن واپس آئے گا”، نہ آیا۔ جی ایس ٹی لایا، کہا "معیشت بہتر ہو گی”، مگر چھوٹے کاروباری برباد ہو گئے۔ کورونا کے دوران لاک ڈاؤن کا حال سب نے دیکھا: مزدور پیدل چل کر اپنے گاؤں جا رہے تھے، اور مودی جی تھالی بجوا رہے تھے۔
    اب ان کا آخری ہتھیار رہ گیا ہے انتہا پسندی، پاکستان دشمنی، اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا بھارت کے عوام اب بھی آنکھیں بند کیے رکھیں گے؟ کیا وہ اب بھی "مودی ہے تو ممکن ہے” کے نعرے میں امید ڈھونڈیں گے؟
    حالیہ الیکشن نتائج نے بتا دیا ہے کہ عوام اب بیدار ہو چکے ہیں۔ بی جے پی کی نشستیں کم ہوئیں، اتحادی روٹھنے لگے، اور مخالف پارٹیاں مضبوط ہو رہی ہیں۔ اگر بھارت کے سمجھدار لوگ اب بھی ہوش میں نہ آئے، تو آنے والا وقت صرف بھارت کی سیاست کا نہیں، بلکہ بھارت کے وجود کا بھی بڑا امتحان ہو گا۔
    دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اگر انتہا پسندی اور نفرت پر چلے گی، تو پھر جمہوریت کہاں باقی رہے گی؟ مودی سرکار کا زوال اب محض وقت کی بات ہے۔ بھارت کو اگر واقعی ترقی کرنی ہے تو اسے اپنی سمت بدلنی ہو گی، بصورت دیگر، یہ آگ جو مودی نے دوسروں کے لیے جلائی ہے، وہ بھارت کو بھی بھسم کر دے گی۔
    آخر میں ایک سوال
    کیا بھارت کے عوام اب بھی اندھیر نگری میں رہنا پسند کریں گے؟ یا سچائی کو پہچان کر مودی کے طلسم کو توڑ دیں گے؟