بیلنس آف پاور کا امریکی خواب
ایران پر امریکی بمباری کا مقصد تہران پر فوری فتح حاصل کرنا نہیں لگتا۔ امریکہ کی حکمت عملی برسوں سے یہی رہی ہے کہ ایران کو وقفے وقفے سے دبایا جائے، پھر خود ہی معاملہ تھما دیا جائے۔ یہ جنگ نہیں، ایک مسلسل "دباؤ کا کھیل” ہے جس کا مقصد خطے میں امریکہ کی موجودگی کو مستقل بنیاد فراہم کرنا ہے۔
حالیہ عرصے میں پاکستان کے دفاعی معاہدے بھی اسی امریکی سوچ کے سائے میں آگے بڑھے ہیں۔ سعودی عرب کے ساتھ ڈیفنس معاہدہ، لیبیا کی دو حکومتوں میں ثالثی، ترکی، قطر اور کویت کے ساتھ سیکیورٹی میکانزم، یہ سب امریکہ کی خاموش رضامندی سے ممکن ہوئے۔ امریکہ کی نظر میں ایران کے "انقلابی ماڈل” کے مقابلے میں پاکستان کا "پروفیشنل ملٹری ماڈل” زیادہ قابلِ بھروسہ ہے۔ واشنگٹن کو یقین ہے کہ پاکستان خلیجی ممالک کو ایک سیکیورٹی چھتری فراہم کر سکتا ہے۔ لیکن یہاں ایک بنیادی فرق ہے۔ امریکہ پاکستان کے ماڈل کو اسرائیل کے متبادل کے طور پر نہیں دیکھ رہا۔ اس کی وجہ جغرافیائی سیاست ہے۔ پاکستان، ترکی اور مصر تینوں بڑے مسلم ممالک فوجی طاقت رکھتے ہیں، جبکہ سعودی عرب، کویت اور قطر معاشی طاقت ہیں۔ اسرائیل کو اندیشہ ہے کہ کل کو یہ اتحاد "گیم چینجر” بن کر اس کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے۔ اسی لیے تل ابیب اس نئے سنی اتحاد کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔
امریکہ کی اصل چال خطے میں "پرو-اسرائیل بیلنس آف پاور” قائم کرنا ہے۔ اس کا خاکہ کچھ یوں ہے: امریکہ خلیجی ممالک سے اپنی ملٹری بیسز کم کر کے زور اردن اور اسرائیل پر لگانا چاہتا ہے۔ ترکی، اردن اور اسرائیل کا اتحاد پہلے سے موجود ہے۔ اب امریکہ شام اور لبنان کے ساتھ تعلقات معمول پر لا کر ایک مکمل "سیکیورٹی چین” بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد ایران کو سائیڈ لائن کرنا اور اسرائیل کے حق میں توازن قائم رکھنا ہے۔
اسی لیے امریکہ کو پاکستان کے خلیجی معاہدوں سے کوئی مسئلہ نہیں۔ وہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کا ملٹری ماڈل ایران پر دباؤ بڑھائے گا، عرب ممالک کا امریکہ پر انحصار کم نہیں ہو گا، اور اسرائیل کو بھی براہِ راست خطرہ نہیں ہو گا۔
پاکستان اس کھیل کا نیا کھلاڑی نہیں۔ ہم نے افغان جنگ میں امریکہ کے ساتھ رہ کر دیکھا، رجیم چینج کی پلے بک سمجھی، اور پھر بھی اپنا نیوکلیئر پروگرام مکمل کیا۔ پاکستان نے امریکہ کو آنکھ بند کرنے پر مجبور کیا۔ پاکستان سٹریٹجک ذہانت دور اندیشی پر مبنی تھی۔ پاکستان نے کامیابی سے امریکی حلقوں سے کہلوایا کہ: "پاکستانی ہمارے اپنے لوگ ہیں”۔لیکن جب بھارت کے ساتھ جنگ کا خطرہ بڑھا تو پاکستان نے واضح کر دیا کہ خطے کے استحکام پر حملہ ہوا تو نتائج سب بھگتیں گے۔ یہی وہ لمحہ تھا جب امریکہ کو سمجھ آیا کہ پاکستان صرف اتحادی نہیں، ایک آزاد فیصلہ ساز ملک بھی ہے۔
حالیہ ایران-امریکہ کشیدگی نے خلیجی ممالک کو ایک بار پھر یہ باور کرایا ہے کہ امریکی چھتری کے بغیر ایران ان کے لیے کتنا بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ امریکہ اس خوف کو اپنے حق میں استعمال کر رہا ہے۔ وہ ایک طرف ایران کو دکھا کر خلیجی ریاستوں کو اپنے قریب کر رہا ہے، دوسری طرف اسرائیل کو یقین دلا رہا ہے کہ اس کے مفادات محفوظ ہیں۔
یعنی امریکہ سکے کے دونوں رخ اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتا ہے۔ ایران کو دبا کر خلیجی مفادات محفوظ کرے گا، اور ساتھ ہی پرو-اسرائیل پالیسی بھی جاری رکھے گا۔
مشرق وسطی میں جیو-پولیٹیکل شفٹنگ کا اکنامک ماڈل چاہے چین کا ہو، لیکن سیکیورٹی کا کنٹرول ابھی امریکہ کے ہاتھ میں ہے۔ وہ چین اور روس کو یہاں قبول نہیں کرے گا۔ یہ پاکستان کے لیے موقع بھی ہے اور آزمائش بھی۔ موقع یہ کہ خلیجی ممالک ہمیں ایک قابلِ بھروسہ سیکیورٹی پارٹنر سمجھتے ہیں۔ آزمائش یہ ہے کہ ہمیں بیلنس قائم رکھنا ہو گا۔ نہ ہم ایران کو مکمل دشمن بنا سکتے ہیں، نہ اسرائیل کی پالیسی کے اندھے حامی بن سکتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ خطے میں پائیدار امن صرف اسی وقت آئے گا جب طاقت کا توازن کسی ایک ملک یا اتحاد کے حق میں نہ ہو۔ اور اس توازن کو برقرار رکھنے میں پاکستان کا کردار کلیدی ہے۔ شرط صرف ایک ہے: ہم اپنی خارجہ پالیسی امریکہ کی مرضی سے نہیں، اپنے قومی مفاد سے طے کریں۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |