اسٹریس اور ٹینشن کا فرق
جدید دور کے انسان کا روزمرہ کی گونا گوں پریشانیوں اور کشیدہ صورتِ حال سے بچنا انتہائی مشکل ہو چکا ہے۔ زندگی جتنی تیز ہوتی جا رہی ہے، اتنی ہی پیچیدہ بھی ہو رہی ہے۔ مادہ پرستی کے بڑھنے، سوشل میڈیا کے شور اور مسابقت کی دوڑ نے ہر دوسرے فرد کو کسی نہ کسی مسئلے کا شکار بنا دیا ہے۔ ناچاہتے ہوئے بھی ذہنی پریشانیوں سے خود کو الگ رکھنا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔
یہ کہا جائے کہ آئے روز دنیا "مسائلستان” بنتی جا رہی ہے تو بے جا نہ ہو گا۔ عجیب بات یہ ہے کہ اگر کسی کو اپنا کوئی مسئلہ نہ بھی ہو تو وہ دوسروں کے مسائل سن کر ہی پریشان ہو جاتا ہے۔ خبروں کا سیلاب، مہنگائی کی خبریں، رشتوں کے اتار چڑھاؤ، اور مستقبل کا خوف، یہ سب مل کر ہمارے ذہن پر ایک مسلسل بوجھ ڈال دیتے ہیں۔
ماہرین کہتے ہیں کہ "ذہنی صحت جسمانی صحت کی ضمانت ہے”۔ اگر مسائل بڑھتے جا رہے ہیں اور ہم ان کا حل نہیں ڈھونڈتے تو ذہنی کشمکش لامحالہ ہماری جسمانی صحت پر وار کرتی ہے۔ آج کے دور میں ٹینشن یا اسٹریس کو کم کرنا آسائش نہیں بلکہ ضرورت بن چکی ہے۔ خاص طور پر اگر آپ کی جسمانی صحت پہلے ہی کسی مسئلے کا شکار ہے تو ٹینشن اس کے لیے زہر قاتل ثابت ہو سکتی ہے۔
روزمرہ کی عام ٹینشن بھی بڑے نقصانات کا سبب بنتی ہے۔ نیند کے مسائل، بدہضمی، پیٹ کی خرابی، تیزابیت، قبض، سر درد، جلدی امراض اور حتیٰ کہ بلڈ پریشر تک، ان سب کی جڑ کہیں نہ کہیں ذہنی دباؤ سے جا ملتی ہے۔ معدے کا مریض اگر ذہنی طور پر پریشان رہے تو اس پر دوا بھی دیر سے اثر کرتی ہے۔
اسٹریس اور ٹینشن میں بنیادی فرق کیا ہے؟ ہم روزمرہ گفتگو میں "اسٹریس” اور "ٹینشن” کو ایک ہی سمجھ لیتے ہیں، مگر نفسیات کی رو سے ان میں واضح فرق ہے۔ "اسٹریس” Stress دراصل جسم اور دماغ کا ایک فطری "ردِعمل” Reaction ہے۔ جب ہم پر کوئی بیرونی دباؤ یا چیلنج آتا ہے تو جسم الرٹ ہو جاتا ہے۔ مثالیں بہت عام ہیں: امتحان سر پر ہو، دفتر میں ڈیڈ لائن قریب ہو، ٹریفک میں گھنٹوں پھنس جانا، یا گھر کے اخراجات کی فکر ہو۔ اس دوران دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے، ہتھیلیوں پر پسینہ آتا ہے، نیند متاثر ہوتی ہے اور انسان چڑچڑا ہو جاتا ہے۔
اسٹریس عام طور پر "عارضی” ہوتی ہے۔ جیسے ہی مسئلہ حل ہوتا ہے، اسٹریس بھی ختم ہو جاتی ہے۔ بلکہ تھوڑا اسٹریس ہمارے لیے فائدہ مند بھی ہے۔ یہ ہمیں ایکٹیو، الرٹ اور فوکس رکھتی ہے۔ امتحان کی اسٹریس ہی تو طالبعلم کو کتاب کھولنے پر مجبور کرتی ہے۔
دوسری طرف "ٹینشن” Tension اسٹریس کا وہ حصہ ہے جسے ہم اپنے دماغ میں "سوچ سوچ کر” لمبا کر دیتے ہیں۔ اسٹریس باہر کا پریشر ہے، جبکہ ٹینشن اس پریشر کو اندر گھسیٹ لاتی ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ اگر نوکری چلی گئی تو کیا ہو گا؟ لوگ میرے بارے میں کیا سوچیں گے؟ میرا پیٹ کا درد ٹھیک کیوں نہیں ہو رہا؟
پانچ سال پہلے فلاں نے ایسا کیوں کہا تھا؟
یہ وہ سوچیں ہیں جو مسئلہ گزر جانے کے بعد بھی ہمارا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔ ٹینشن کی وجہ سے سر درد رہنے لگتا ہے، کندھے اور گردن جکڑ جاتے ہیں، معدے میں گیس اور تیزابیت بڑھ جاتی ہے، نیند اڑ جاتی ہے اور دماغ میں منفی خیالات کا طوفان آ جاتا ہے۔ زیادہ ٹینشن آہستہ آہستہ جسم کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ گیس، بلڈ پریشر، بالوں کا گرنا، اور قوتِ مدافعت کا کمزور ہونا سب اسی کا نتیجہ ہیں۔
مختصر یہ کہ "اسٹریس” کو کم کر کے ختم کیا جا سکتا ہے، جبکہ "ٹینشن” کو سوچ کا رخ بدل کر ختم کیا جاتا ہے۔ ٹینشن کم کرنے کے 5 فوری اور آسان طریقے ہیں۔ اچھی خبر یہ ہے کہ ٹینشن کو مکمل ختم تو نہیں کیا جا سکتا، مگر اسے قابو میں ضرور رکھا جا سکتا ہے۔ یہاں 5 ایسے طریقے ہیں جنہیں آپ آج سے اپنا سکتے ہیں:
اول سانس اور حرکت ہیں۔ دن میں 3 سے 4 بار گہری سانس کی ورزش کریں۔ 4 سیکنڈ سانس اندر لیں، 4 سیکنڈ روکیں، اور 4 سیکنڈ میں خارج کریں۔ اس کے ساتھ 10 سے 15 منٹ تیز واک یا ہلکی اسٹریچنگ لازمی کریں۔ حرکت سے دماغ میں "خوشی والے ہارمون” یعنی اینڈورفنز خارج ہوتے ہیں اور دل کی دھڑکن فوراً نارمل ہو جاتی ہے۔
نمبر دو چیزیں لکھ کر خود کو ہلکا کریں۔ جو باتیں آپ کو کھائے جا رہی ہیں انہیں ایک کاغذ پر لکھ دیں۔ تحقیق بتاتی ہے کہ لکھنے سے دماغ کا 50 فیصد بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے۔ مسئلہ کاغذ پر آ جائے تو وہ اتنا بڑا نہیں لگتا جتنا دماغ میں لگ رہا ہوتا ہے۔
نمبر تین ڈیجیٹل استعمال کم اور روحانیت سے زیادہ استفادہ کریں۔ موبائل اور سوشل میڈیا سے روزانہ 30 سے 60 منٹ کا بریک لیں۔ مسلسل خبریں اور سکرولنگ اسٹریس کو بڑھاتی ہیں۔ اس دوران قہوہ یا پسندیدہ مشروب پئیں، قرآن پاک کی تلاوت کریں یا کوئی روحانی کتاب پڑھیں۔ ہلکی اور قابلِ ہضم غذا استعمال کریں تاکہ جسم پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔
نمبر چار اپنا "کیتھارسس” Catharsis کریں. اکیلے سوچنا ٹینشن کو بڑھاتا ہے۔ اپنی دل کی بات کسی قابلِ بھروسہ دوست، فیملی ممبر یا بڑے سے شیئر کریں۔ بول دینے سے دل کا بوجھ نصف رہ جاتا ہے۔
نمبر پانچ یہ کہ نیند پوری کریں، پانی برابر استعمال کریں اور شکر ادا کرنا شروع کریں۔
روزانہ 7 سے 8 گھنٹے کی نیند پوری کریں۔ نیند کم ہو تو ٹینشن خود بخود بڑھ جاتی ہے۔ دن میں 8 سے 10 گلاس پانی پئیں کیونکہ ڈی ہائیڈریشن سے چڑچڑا پن پیدا ہوتا ہے۔ اور روز رات کو سونے سے پہلے 3 ایسی نعمتوں کا شکر ادا کریں جو آپ کے پاس ہیں۔ یاد رکھیں کہ "شکرگزاری” ٹینشن کا سب سے بڑا توڑ ہے۔
اگر ان سب کوششوں کے باوجود ٹینشن بہت زیادہ ہے، نیند مسلسل نہیں آ رہی، یا روزمرہ کے کام متاثر ہو رہے ہیں تو اس میں کوئی شرم کی بات نہیں۔ اس وقت کسی ڈاکٹر یا سائیکالوجسٹ سے مشورہ کرنا دانشمندی ہے۔ وہ آپ کو پروفیشنل تکنیکس سکھا کر اس جنگ میں آپ کا ہتھیار بن سکتے ہیں۔
یاد رکھیں، مسائل کا ختم ہونا زندگی کا نام نہیں۔ زندگی کا نام ہے مسائل کے ساتھ جینا سیکھ لینا۔ اسٹریس کو ہم کنٹرول کر کے کامیابی کی سیڑھی بنا سکتے ہیں، اور ٹینشن کو سوچ بدل کر ختم کر سکتے ہیں۔ فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم باہر کے پریشر کو اندر لا کر خود کو بیمار کریں گے، یا اسے موقع سمجھ کر خود کو مضبوط کرنے کا آغاز کریں گے۔ اللہ پاک ہم سب کو ذہنی سکون عطا فرمائے۔ آمین۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں