بھکر کے شہرہِ آفاق اشعار

بھکر کے شہرہِ آفاق اشعار

بھکر کے شہرہِ آفاق اشعار

تحریر و تحقیق : مقبول ذکی مقبول ، بھکر

دُنیائے و شعر و سخن میں شعرائے کرام زندگی بھر طبع آزمائی کرتے رہتے ہیں ۔ اسی طرح وہ قوم کی اصلاح اپنے اشعار کے ذریعے کرتے رہتے ہیں ۔ حقیقی معنوں میں یہی لوگ قوم کے ہیرو ہوتے ہیں ۔ یہ لوگ فطری طور پر شاعر ہوتے ہیں ۔ یعنی پیدائشی شاعر ہوتے ہیں ۔ بنانے سے نہیں بنائے جا سکتے ہیں ۔ یہ اللّٰہ پاک کی طرف سے ان کے اندر ایک خوبی ہوتی ہے ۔ جو اشعار کی صورت باہر آتی ہے ۔
جس ضلع میں 20 لاکھ کے قریب آبادی ہو یہ لوگ وہاں ہزاروں نہیں سینکڑوں نہیں درجنوں نہیں بلکہ اس مقدار میں ہوتے ہیں جو انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں ۔ ان شعرا میں کچھ شعرا بہت خوش قسمت ہوتے ہیں ان کی شاعری میں کسی ایک شاعر کا شعر یا نظم ، غزل یا صنفِ سخن میں کوئی بھی صنف ابتدائی دور میں یا زندگی کے کسی موڑ میں وہ کوئی ایسا شعر کہہ لیتے ہیں جو مقبولِ عام ہو جاتا ہے اور وجہ شہرت بنتا ہے ۔ ہمارے ضلع بھکر میں چند خوش قسمت ایسے شعرا ہیں جن کا کلام صرف بھکر یا پاکستان تک نہیں بلکہ پورے ورلڈ میں مشہور ہے ۔ وہ اشعار پیش خدمت ہیں ۔

بھکر کے شہرہِ آفاق اشعار

شعر

ڈھونڈتے ہو وفا زمانے میں
تم بھی اشرف کمال کرتے ہو

( پروفیسر ڈاکٹر محمد اشرف کمال )

غزل

گھر سے چلتے ہوئے کہسار تک آ پہنچا ہے
مخبرِ دشمنِ جاں غار تک آ پہنچا ہے

مَیں خُرافاتِ ٫٫ من و تُو ،، میں ہوں مصروف ابھی
اور عدو کابل و قندھار تک آ پہنچا ہے

ضبط ٹوٹا ہے تو آنکھوں سے ترے ہجر کا دکھ
اشک بن کر مرے رخسار تک آ پہنچا ہے

اب کوئی صلح کا امکان نہیں ہے کہ وہ شخص
دشمنی میں مرے معیار تک آ پہنچا ہے

کیا عجب شے ہے یہ دولت کہ پیمبر بھی سعید
جنس کے طور پہ بازار تک آ پہنچا ہے

( پروفیسر ڈاکٹر سعید عاصم )

شعر

عرش والے مری توقیر سلامت رکھنا
فرش کے سارے خداؤں سے الجھ بیٹھا ہوں

( کاظم حسین کاظم )

غزل

دریائے غمِ دل میں یہ طوفان سا کیوں ہے
اب اس کی ہر موج میں ہیجان سا کیوں ہے

کہتے ہیں جسے شہر کے سب لوگ مسیحا
وہ شخص مرے درد سے انجان سا کیوں ہے

اظہار کو گر لفظ میسر ہی نہیں تو
سینے میں یہ جذبات کا طوفان سا کیوں ہے

بے عدل ہی ہوتی ہے یہاں رزق کی تقسیم
اس ملک میں انصاف کا فقدان سا کیوں ہے

جو جاتے ہوئے رشتے سبھی توڑ گیا تھا
اُس شخص کے لوٹ آنے کا امکان سا کیوں ہے

مٹی کا بنا ہے تو گُھل کیوں نہیں جاتا
پتھر کا صنم ہے تو وہ انسان سا کیوں ہے

کل ترک تعلق کا جسے شوق تھا ارشد
اب مجھ سے بچھڑ کر وہ پشیمان سا کیوں ہے

( ارشد حسین )

نظم : تل

چاند اور ستارے رات کو چمکیں دیکھے دُنیا ساری
لیکن دن جب آنکھ دکھائے چھپ جائیں بے چارے
میرے ذہن کے پردے پر بھی ہے ایک چاند ستارہ
چاہے سورج آنکھ دکھائے
چاہے رات آ جائے
چاند بھی روشن رہتا ہے تارا بھی ساتھ نبھائے
میرے ذہن کے پردے پر جو بنا ہے چاند ستارہ
چاند ہے تیرا چہرہ
اور معلوم ہے تارا کیا ہے ؟
تیرے نچلے ہونٹ کے نیچے
ہلکا سا اک تل
یعنی میرا دل
چھونا بھی مشکل
پانا بھی مشکل

( پروفیسر قلبِ عباس عابس)

شعر

تم میری تصویر بنا کر لائی ہو
یعنی میں دیوار سے لگنے والا ہوں

( پروفیسر ڈاکٹر شعیب صدیقی )

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest

0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x