کھوڑ میں نعتیہ شاعری کی روایت
تحریر : اظہر سجاد
اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی ہدایت کے لیے حضرت محمد (ﷺ)کو رحمتُ اللعالمین بنا کر مبعوث فرمایا۔ آپ (ﷺ) کی ذاتِ اقدس ہر دور میں محبت، عقیدت اور احترام کا سرچشمہ رہی ہے۔ اِسی والہانہ محبت اور قلبی عقیدت کے اظہار کا سب سے خوب صورت ذریعہ نعتیہ شاعری ہے۔ نعت گوئی اُردو اور پنجابی ادب کی اہم ترین صِنف ہے۔ نعت وہ پاکیزہ صنفِ سخن ہے جس میں شاعر حضور اکرم (ﷺ) کی ذاتِ مبارکہ، آپؐ کے اخلاقِ حسنہ، سیرتِ طیبہ، رحمت و شفقت اور عظمت کو نہایت ادب و احترام کے ساتھ شعری قالب میں پیش کرتا ہے۔ اُردو ادب میں نعت گوئی ایک نہایت مقدس اور باوقار روایت ہے، جس نے ہر دور کے شاعروں کو اپنی طرف متوجہ رکھا اور ادب کو روحانی لطافت عطا کی ہے۔
ویسے تو کھوڑ میں ادبی سرگرمیاں ۱۹۷۰ء سے جاری و ساری ہیں۔ تاہم ۲۰۱۴ء میں ”حلقہ ارباب ذوق کھوڑ“ کے باقاعدہ قیام کے بعد اِن سرگرمیوں میں نہ صرف تسلسل قائم ہوا بلکہ خاطر خواہ اضافہ بھی ہوا۔ ستر کی دہائی میں کوثرؔ جعفری ، محمد امین ، غلام رسول نذؔیر، سجاد نؔذر، جمال صدیقی، شعیب صاحب ، محمد سلیم اور محمد صدیق سوؔز وغیرہ مل بیٹھ کر ادبی محفلیں سجاتے تھے۔ اِن محافل میں حمد، نعت، منقبت، نوحہ، مرثیہ ، غزل، نظم،اور افسانہ وغیرہ پر طبع آزمائی ہوئی۔ دورِ حاضر میں نعت میں متنوع مضامین باندھے جارہے ہیں اور ہیئت کے اعتبار سے نعت نظم اور غزل دونوں طرح سے لکھی جا رہی ہے ۔ البتہ کھوڑ میں نعت کو غزل کے انداز میں ہی زیادہ پذیرائی ملی ۔
عہدِ رفتہ کے شاعر جن کا تعلق کھوڑ سے رہا ہے اُن میں حکیم کوؔثر جعفری کا نام بہت نمایاں ہے۔ غزل اور نظم کے ساتھ ساتھ اُنھوں نے نعت اور منقبت میں بھی بہت عمدہ شاعری کی۔ اُن کی شاعری کے مجموعوں میں نعتوں کا ایک مجموعہ ”محیط ِ رحمت“ بھی شامل ہے۔ ان کے دو نعتیہ اشعار دیکھیں:
محمدؐ ہے توحید کا نقش اوّل محمدؐ ہے لوح و قلم کا سہارا
خدا مبتدا ہے محمدؐ خبر ہے خدا مل گیا جب محمدؐ پکارا
محمدؐ کی تدبیر نظم دو عالم محمدؐ کی تفسیر قرآن سارا
سراج منیرا، بشیراً نذیرا، وما ینطق ہے صریحاً اشارا (کوؔثر جعفری)
ایک اور بزرگ شاعر محمد امین جو کھوڑ میں ریڈیو مکینک اورنامور ادبی شخصیت تھے ۔ اُن کا ایک پنجابی نعتیہ شعر ملاحظہ کریں:
اُودھے نور ہونڑ وِچ کوئی وی تے شک نیئں
اَنیھاں تے مورکھاں دی ویکھن والی اکھ نئیں
(محمد اؔمین)
دورِ حاضر میں ”حلقہ ارباب ذوق کھوڑ“ کے جن شعراء نے نعت میں منفرد اور لاجواب مضامین باندھ کر حضور اکرم (ﷺ) سے اپنی محبت و عقیدت کا اظہار کیا ہےاُن میں ابرار حسین بارؔی (مرحوم)، ضاؔمن جعفری، عقیؔل ملک، عمرؔان بشیر ، اظؔہر سجاد ، راجہ عرفؔان، محمد صؔفی الدین ، طاؔہر شہزاد، تقؔی رضا ، جاؔبر حسین اور شہزاد شناؔور وغیرہ شامل ہیں۔ اگر رجحانات کی بات کی جائے تو ”حلقہ ارباب ذوق کھوڑ“ کے شعراء نے حضور اکرم (ﷺ) کی تعریف و توصیف کے ساتھ ساتھ دعائیہ انداز میں دُنیا اور آخرت کی نجات، تاریخ اور اہل بیت کے مناقب و فضائل کو بھی نعت کا حصہ بنایا ہے۔چند دعائیہ اشعار ملاحظہ فرمائیں:
اپنی ہر عرضی مدینے کی طرف بھیجتا ہوں
گھر بڑا ہو تو بڑا دان لیا جاتا ہے
(عقیؔل ملک)
معصیت مانع مدحت ہے کریمِ بطحا
چند الفاظِ مودت کی عطا مانگتے ہیں
(اظؔہر سجاد)
دلِ بے تاب ہواجاتا ہے لے کر آس مدینے کی
یااللہ! تو پوری کر دے خواہش میرے سینے کی
(راجہ عرؔفان)
ہزار شکر کہ اُن کی دعا کا سایہ ہے
میرے چراغ پہ ورنہ ہوا کا سایہ ہے
( تؔقی رضا)
تلمیحات شاعری کا اہم جزو ہیں کیوں کہ یہ شعر کو نئے معنی اور جہتیں عطا کرتی ہیں ۔”حلقہ ارباب ذوق کھوڑ“ کے شعراء نے بھی تلمیحا ت کو اپنی نعتیہ شاعری میں بڑی مہارت اور عمدگی سے برتا ہے۔ خوبصورت تلمیحات سے مُزَیَّن یہ اشعار دیکھیں:
موسٰی کے تصور میں بھی موجود نہیں تھا
وہ قرب جو معراج کی شب دیکھا گیا ہے
(ابرار بارؔی)
کئی یزید سُلگتے ہیں سوچ کر عمرانؔ
میں کربلا کو مدینے کی انتہا نہ کہوں
(عمرؔان بشیر)
مباہلہ میں عجب شانِ پنج تن دیکھو
جَڑے ہیں تاجِ نبوت میں کچھ نگینے سے
(اظؔہر سجاد)
میری آنکھیں ہیں شوق کا پیکر
طور جیسی جو روشنی ہو جائے
(جاؔبر حسین)
حضور اکرم (ﷺ) سے محبت و الفت کا ایک اور پہلو آپ (ﷺ) کے حُسن وجمال کا تذکرہ ہے۔ نعت کے عمومی مضامین میں آپ (ﷺ) کے پیکر کا ذکر بھی بکثرت ملتا ہے۔ جس کی جھلک مندرجہ ذیل اشعار میں نمایاں طور پر نظر آتی ہے:
سکوت ٹوٹ چُکا ہے تو بر ملا نہ کہوں
ترے جمال کو یزداں کا آئینہ نہ کہوں
خدا کی دین کو سمجھوں فقط دُعا کا کمال
رُخِ رسول کو رحمت کا حاشیہ نہ کہوں
(عمرؔان بشیر)
اِسی لیے تو خوش آہنگ ہے جہانِ ثبات
ایاغ ِ حمد کی قُلقُل میں ہے صدائے رسول
(عقیؔل ملک)
آپ (ﷺ) سے محبت کا تقاضا ہے کہ عجز و انکساری سے کام لیا جائے۔ فطرتاً بھی انسان جس سے سچی محبت اور لگن رکھتا ہے یقیناً اس کے سامنے عاجزی و انکساری سے کام لیتا ہے۔ نعت لکھتے ہوئے ہر شاعر اِس مقدس ہستی سے ہم کلام ہوتے ہوئے اس بات کو ہمیشہ مدِ نظر رکھتے ہیں۔ یہی رویہ مندرجہ ذیل اشعار سے بخوبی واضح ہوتا ہے:
وہ آپ کی محفل میں ادب دیکھا گیا ہے
جو دیکھا گیا مہر بلب دیکھا گیاہے
(ابرار بارؔی)
نام لوں جب بھی محمدؐ کا مچل اُٹھیں چراغ
اِک اُجالا سے اِدھر اور اُدھر ہو جائے
(راجہ عرؔفان)
روزِ محشر کی تشنگی کے لیے
حوضِ کوثر پہ حاضری ہو جائے
(جاؔبر حسین)
ہر لفظ میں مدحت کی نشانی بھی عیاں ہے
کیسے یہاں زندہ ہوں مدینہ تو وہاں ہے
( شہزاد شناؔور)
نعت میں عموماً حضور اکرم (ﷺ)کی ذاتِ گرامی اور اُن کے قرابت داروں کو شاملِ سُخن کیا جا تا ہے۔حضرت محمد (ﷺ)سے عشق دراصل اہلِ بیت سے عقیدت اور مودت ہی کا دوسرا نام ہےاور یہ محبت شاعر کے تخیل میں بہار بن کر مہکتی ہے ، جسے وہ اشعار میں پیش کرتا ہے۔ محبت و مودتِ اہلِ بیت نعتیہ کلام کا بنیادی حصہ بن گئی ہے۔ ”حلقہ ارباب ذوق کھوڑ“ کے شعراء نے بھی حضور اکرم(ﷺ) کی ذات پاک کے ساتھ ساتھ اہلِ بیت سے عقیدت کا بھر پور اظہار کیا ہے۔ چند اشعار دیکھیں:
مودت عترتِ آلِ نبی سے گر نہیں رکھتے
ملا ہے اور نہ ملتا ہے نمازوں کا صِلہ کوئی
(ضاؔمن جعفری)
مانگنے والوں کا مقصود رہی ہے جنت
ہم تو مدفن کے لیے خاکِ شفا مانگتے ہیں
(اظؔہر سجاد)
نمازِ عشق کے سجدے میں تھے حسین و علی
بقائے دیں کے تفضل میں ہے صدائے رسول
(عقیؔل ملک)
نعت میں جدت لانے کی گنجائش اگرچہ بہت کم ہے ، تاہم ملک کے دیگر علاقوں کے شعرائے کرام کی طرح ”حلقہ ارباب ذوق کھوڑ“ کے شعراء نے بھی نئی تراکیب اور تجربات کر کے نئے اور منفرد مضامین باندھنے کی کوشش کی ہے۔ ایسے ہی کچھ مضامین ملاحظہ فرمائیں:
کنیزِ فاطمہ زہرا سلام بھیجتی ہے
سو میں بھی ماں کی طرف سے درود بھیجتا ہوں
(عقیؔل ملک)
میں خواب خواب مدینے پہنچ گیا اِک دن
میرے نصیب میں ایسی بھی ایک رات ہوئی
(طاؔہر شہزاد)
طلب نہیں ہے مسافت میں سائبان مجھے
وہ امتی ہوں کہ جس پر خدا کا سایہ ہے (تؔقی رضا)
آیات اُترتی ہیں تیرے صحن میں آقا
ہے حمدِ خداوند ترا ذکر جہاں ہے
(شہزاد شناؔور)
رحمت ِ عالم (ﷺ) کے حضور ہدیہ عقیدت پیش کرنا نہ صرف آخرت میں نجات کا وسیلہ ہےبلکہ قلب و روح کی تسکین کا باعث بھی ہے۔ اِسی لیے نعت نہ صرف شعرکہنے کی صلاحیت کو جِلا بخشتی ہے بلکہ رحمت و برکت کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔ امید ہے ”حلقہ ارباب ذوق کھوڑ“ کے شعراء اِسی طرح ہمیشہ ادب کی خدمت، اِس کی ترقی اور تجوید میں پیش پیش رہیں گے.

اظہر سجاد کا تعلق کھوڑ کمپنی، تحصیل پنڈی گھیب، ضلع اٹک سے ہے۔ وہ شاعر، افسانہ نگار اور کالم نگار ہیں۔ ان کا افسانوی مجموعہ "تیسری دیوار” شائع ہو چکا ہے، جسے قارئین اور ناقدین کی جانب سے پذیرائی حاصل ہوئی۔ وہ حلقۂ اربابِ ذوق کھوڑ کے سابقہ سیکریٹری رہ چکے ہیں اور طویل عرصے سے ادبی سرگرمیوں میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایم اے (انگریزی ادب) کیا ہے۔ پیشہ ورانہ زندگی میں سپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن (SCO) سے وابستہ رہے، جبکہ اس وقت شعبۂ درس و تدریس سے منسلک ہیں۔ ادب، معاشرتی مسائل اور انسانی نفسیات ان کی تحریروں کے نمایاں موضوعات ہیں
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں