پروفیسر ڈاکٹر شاہد خلیل دلوں کی دھڑکنوں میں امید کی روشنی
تحریر: ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
زندگی میں بعض ملاقاتیں محض ملاقاتیں نہیں ہوتیں بلکہ وہ انسان کی یادداشت میں ایک مستقل باب بن جاتی ہیں۔ کچھ لوگ اپنے علم و ہنر سے متاثر کرتے ہیں، کچھ اپنے کردار سے اور کچھ اپنے حسنِ سلوک سے دل میں جگہ بنا لیتے ہیں۔ طبیب اور مریض کا تعلق بھی ایک ایسا ہی منفرد رشتہ ہے، جہاں مریض اپنا جسم ہی نہیں بلکہ اپنی امیدیں، خدشات اور زندگی کا ایک اہم فیصلہ بھی ڈاکٹر کے سپرد کرتا ہے۔ خاص طور پر جب معاملہ دل کا ہو اور بیماری سرجری کی منزل تک پہنچ جائے تو معالج کی مہارت کے ساتھ اس کا رویہ، اعتماد اور مریض کو حوصلہ دینے کی صلاحیت بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر جاتی ہے پروفیسر ڈاکٹر شاہد خلیل سے میرا واسطہ بھی چند برس قبل زندگی کے ایسے ہی ایک مرحلے میں پڑا، جب عارضۂ قلب کی کہانی بالآخر سرجری تک جا پہنچی تھی۔ راولپنڈی، اسلام آباد اور پشاور کے کئی معالجین سے مشورے کیے۔ مختلف طبی آراء سننے کے بعد ذہنی اضطراب بڑھتا چلا گیا اور بعض مایوس کن ریمارکس نے صورتِ حال کو مزید پریشان کن بنا دیا۔ بیماری کا خوف اپنی جگہ تھا، مگر اس سے زیادہ مشکل سوال یہ تھا کہ اب علاج کس سے اور کہاں کرایا جائے اسی کشمکش کے عالم میں پروفیسر ڈاکٹر شاہد خلیل سے ملاقات ہوئی اور میرے لیے یہ ملاقات ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ پہلی ہی ملاقات میں ان کی شخصیت کا جو پہلو سب سے زیادہ نمایاں ہوا، وہ ان کا نفیس مزاج، ہنس مکھ انداز اور پُراعتماد شخصیت تھی۔ ان کی گفتگو میں غیر ضروری خوف پیدا کرنے کے بجائے اطمینان اور حوصلے کا عنصر نمایاں تھا۔ انہوں نے میری کیفیت کو سمجھا، بیماری اور علاج کے بارے میں بات کی اور مجھے وہ حوصلہ دیا جس کی اس وقت سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ ایک مریض کے لیے ڈاکٹر کے پُراعتماد الفاظ بعض اوقات کسی دوا سے کم اہم نہیں ہوتے پروفیسر ڈاکٹر شاہد خلیل نے مجھے حوصلہ دیا اور علاج کے بارے میں اعتماد پیدا کیا۔ بالآخر ان کی نگرانی میں میری کارڈیک سرجری ہوئی اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے یہ سرجری کامیاب رہی۔ صحت یابی کا سفر اپنے مراحل کے ساتھ آگے بڑھا اور میں دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹ آیا۔ میرے لیے یہ صرف ایک کامیاب طبی عمل نہیں تھا بلکہ زندگی کی طرف ایک نئی واپسی تھی۔ اس تجربے نے میرے دل میں ڈاکٹر شاہد خلیل کے لیے جو احترام پیدا کیا، وہ کسی رسمی تعارف یا پیشہ ورانہ حوالہ کا محتاج نہیں میرے نزدیک ڈاکٹر شاہد خلیل کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو یہی ہے کہ وہ مریض کے مرض کے ساتھ اس کی ذہنی کیفیت کو بھی اہمیت دیتے ہیں۔ ایک مریض جب سرجری کے نام سے خوف زدہ ہو تو اس کے لیے ڈاکٹر کے چند پُراعتماد الفاظ بھی بہت معنی رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی گفتگو، مسکراہٹ اور پُراعتماد انداز نے میرے لیے ایک ایسے وقت میں سہارا فراہم کیا جب بیماری اور سرجری کا تصور خود ایک خوف تھا پروفیسر ڈاکٹر شاہد خلیل نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کارڈیک سرجری جیسے مشکل اور حساس شعبے کے لیے وقف کر رکھی ہے۔ انہوں نے MBBS کے بعد FCPS (Cardiac Surgery) کی پیشہ ورانہ اہلیت حاصل کی اور دستیاب معلومات کے مطابق FACS (USA) سے بھی وابستہ ہیں۔ طویل عملی تجربے کے دوران انہوں نے دل کے مختلف پیچیدہ امراض کے جراحی علاج میں خدمات انجام دیں اور طبی تعلیم و تربیت کے میدان میں بھی اپنا کردار ادا کیا
کارڈیک سرجری طب کے ان شعبوں میں شامل ہے جہاں سرجن کے علم اور مہارت کے ساتھ درست فیصلہ، تجربہ اور غیر معمولی ذمہ داری بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ دستیاب طبی معلومات کے مطابق ڈاکٹر شاہد خلیل کی پیشہ ورانہ مہارت میں کورونری آرٹری بائی پاس سرجری (CABG)، اوپن ہارٹ سرجری، دل کے والوز کی سرجری اور ایورٹک سرجری جیسے اہم شعبے شامل ہیں۔ یہ پیچیدہ جراحی طریقۂ علاج نہ صرف سرجن کی مہارت بلکہ ایک مکمل اور مربوط طبی ٹیم کی مشترکہ کاوش کا تقاضا کرتے ہیں ان کے پیشہ ورانہ سفر میں معروف طبی اداروں سے وابستگی بھی رہی ہے۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق وہ شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں کارڈیک سرجری کے شعبے میں کنسلٹنٹ کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ایک ماہر اور استاد کی حیثیت سے طبی تعلیم اور نئی نسل کے ڈاکٹروں کی تربیت بھی ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا اہم حصہ ہے۔ تجربہ کار ماہرین جب اپنا علم اور عملی تجربہ نوجوان ڈاکٹروں تک منتقل کرتے ہیں تو اس کے اثرات آنے والے برسوں تک طبی شعبے میں محسوس کیے جاتے ہیں
دل کے مریض کی ایک بڑی ضرورت علاج کے ساتھ اعتماد بھی ہے۔ بیماری انسان کو جسمانی طور پر کمزور کرنے کے ساتھ ذہنی طور پر بھی متاثر کرتی ہے۔ ایسے میں ڈاکٹر کا رویہ، اس کی گفتگو اور مریض کو حقیقت پسندانہ امید دینا علاج کے سفر کو آسان بنا سکتا ہے۔ میرے ذاتی تجربے میں ڈاکٹر شاہد خلیل کی یہی خوبی سب سے زیادہ نمایاں رہی۔ انہوں نے مجھے خوف کی کیفیت سے نکال کر علاج کے مرحلے کی طرف اعتماد کے ساتھ بڑھنے میں مدد دی
پاکستان میں دل کے امراض ایک اہم طبی چیلنج ہیں۔ جدید طبی سائنس نے دل کے امراض کی تشخیص اور علاج کے میدان میں غیر معمولی ترقی کی ہے، تاہم ان سہولیات کو مریضوں تک مؤثر انداز میں پہنچانے کے لیے ماہر سرجنز، تربیت یافتہ طبی عملے، جدید آلات اور مسلسل پیشہ ورانہ تربیت کی ضرورت ہمیشہ برقرار رہتی ہے۔ کارڈیک سرجری اسی پورے طبی نظام کا ایک اہم اور حساس حصہ ہے ہم اکثر کسی ڈاکٹر کے بارے میں اس کی ڈگری، عہدے یا شہرت کی بنیاد پر رائے قائم کرتے ہیں، لیکن مریض کا تجربہ کسی بھی معالج کے بارے میں ایک مختلف اور زیادہ ذاتی تصویر پیش کرتا ہے۔ میرے لیے ڈاکٹر شاہد خلیل کا تعارف اسی ذاتی تجربے سے شروع ہوتا ہے۔ ایک ایسا وقت جب بیماری نے پریشان کر رکھا تھا، مختلف آراء نے ذہن کو الجھا دیا تھا اور سرجری کا خیال خوف پیدا کر رہا تھا، اس وقت ایک ڈاکٹر کی مسکراہٹ، اعتماد اور حوصلہ میرے لیے بہت معنی رکھتا تھا آج جب اس واقعے کو چند برس گزر چکے ہیں اور میں معمول کی زندگی گزار رہا ہوں تو اس ملاقات کی اہمیت مزید محسوس ہوتی ہے۔ انسان زندگی کے معمولات میں بہت سی چیزیں بھول جاتا ہے، مگر وہ شخص ہمیشہ یاد رہتا ہے جو کسی مشکل گھڑی میں اس کے کام آیا ہو۔ میرے لیے پروفیسر ڈاکٹر شاہد خلیل کی یہی پہچان ہے ایک اچھے ڈاکٹر کی پہچان اس کے علم اور مہارت سے ہوتی ہے، لیکن ایک قابلِ احترام معالج وہ ہے جو اپنے علم کے ساتھ مریض کے دل میں اعتماد بھی پیدا کرے۔ میرے تجربے میں پروفیسر ڈاکٹر شاہد خلیل نے یہ دونوں ذمہ داریاں نبھائیں۔ ایک ماہر کارڈیک سرجن کی حیثیت سے علاج کیا اور ایک شفیق، نفیس مزاج اور حوصلہ دینے والے معالج کی حیثیت سے ایک مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا میرے لیے ڈاکٹر شاہد خلیل کا ذکر محض کسی طبی ماہر کا تعارف نہیں بلکہ ایک ذاتی تجربے کا بیان بھی ہے۔ میری کامیاب سرجری اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا نتیجہ ہے، جس میں ڈاکٹر صاحب کی پیشہ ورانہ مہارت اور طبی ٹیم کی محنت شامل رہی۔ میں آج صحت مند زندگی گزار رہا ہوں تو اس سفر میں ڈاکٹر شاہد خلیل کا کردار میرے لیے ہمیشہ قابلِ احترام رہے گا زندگی کبھی کبھی انسان کو ایسے موڑ پر لا کھڑا کرتی ہے جہاں اسے اپنی کمزوری کا احساس شدت سے ہوتا ہے۔ ایسے وقت میں اگر کوئی ماہر ہاتھ علاج کے لیے آگے بڑھے اور کوئی پُراعتماد آواز یہ کہے کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں، تو امید کی ایک نئی کھڑکی کھل جاتی ہے۔ میرے لیے پروفیسر ڈاکٹر شاہد خلیل کی شخصیت اسی امید کی علامت ہے۔
دل کا علاج کرنے والے بہت سے ڈاکٹر ہوں گے، مگر مریض کے دل میں اعتماد پیدا کرنا بھی ایک فن ہے۔ میرے ذاتی تجربے میں پروفیسر ڈاکٹر شاہد خلیل نے دونوں ذمہ داریاں نبھائیں۔ شاید اسی لیے ان کے لیے میرے دل میں احترام محض ایک مریض کا اپنے معالج کے لیے احترام نہیں بلکہ اس شخص کے لیے تشکر بھی ہے جس نے زندگی کے ایک مشکل مرحلے میں مجھے حوصلہ دیا، علاج کی امید دلائی اور کامیاب سرجری کے ذریعے صحت کی طرف واپسی میں اپنا کردار ادا کیا اللہ تعالیٰ پروفیسر ڈاکٹر شاہد خلیل کو صحت، سلامتی اور مزید خدمتِ انسانیت کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے ہاتھوں بے شمار مریضوں کو صحت، سکون اور زندگی کی نئی امید نصیب ہو۔ آمین۔

صحافی، کالم نگار، مصنف
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں