نبی پاک ﷺ کا معجزہ شق القمر اور قیامت خیز انسانی ترقی کا انجام
قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے سورۃ القمر کی ابتدائی آیات میں ایک عظیم واقعے کا ذکر فرمایا: "اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ” یعنی ’’قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا۔‘‘ اس کے فوراً بعد ارشاد ہوتا ہے: "وَاِنْ يَّرَوْا اٰيَةً يُّعْرِضُوْا وَيَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ” یعنی ’’اور اگر وہ کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تو ہمیشہ کا جادو ہے۔‘‘ شق القمر کا واقعہ احادیثِ مبارکہ میں مزید تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم سمیت مستند کتبِ حدیث میں حضرت عبداللہ بن مسعودؓ، حضرت انسؓ اور دیگر صحابۂ کرامؓ سے روایات منقول ہیں کہ مکہ کے کفار نے نبی کریم ﷺ سے معجزہ دکھانے کا مطالبہ کیا، جس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی ﷺ کے ذریعے چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا عظیم معجزہ ظاہر فرمایا۔ روایات کے مطابق چاند کے دو حصے دکھائی دیئے اور پھر وہ دوبارہ اپنی حالت پر آ گیا۔
یہ واقعہ محض ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایمان، نبوت اور اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ کی ایک عظیم نشانی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ایک اہم فکری سوال بھی پیدا ہوتا ہے: قرآنِ پاک نے شق القمر کے ذکر کے ساتھ قیامت کے قریب آنے کا تذکرہ کیوں فرمایا؟
اس سوال کا جواب ہمیں آج کے سائنسی دور میں ایک نئے زاویئے سے سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کے معجزات انسانی طاقت اور سائنسی وسائل کے محتاج نہیں تھے۔ معجزہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ظاہر ہوتا ہے اور انبیائے کرام علیہم السلام کے ذریعے اپنی حقانیت کی دلیل بنتا ہے۔ اس کے برعکس انسان اپنی محدود عقل، مشاہدے اور سائنسی تحقیق کے ذریعے کائنات کے راز دریافت کر رہا ہے۔ آج انسان چاند تک پہنچ چکا ہے، مریخ کے بارے میں تحقیق کر رہا ہے، دور دراز سیاروں اور کہکشاؤں کا مشاہدہ کر رہا ہے اور جدید خلائی ٹیکنالوجی کے ذریعے کائنات کے ان گوشوں تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے جہاں کبھی انسانی تصور بھی نہیں پہنچتا تھا۔ امریکی خلائی ادارہ "ناسا” NASA اور دنیا کے دیگر سائنسی ادارے اس مد میں مسلسل نئے تجربات اور تحقیقات میں مصروف ہیں۔
علامہ اقبال نے واقعۂ معراج کے حوالے سے کہا تھا
’’سبق ملا ہے یہ معراجِ مصطفیٰ سے مجھے
کہ عالمِ بشریت کی زد میں ہے گردوں‘‘
یہ شعر انسان کی جستجو اور آسمان کی تسخیر کے جذبے کو ایک خوبصورت فکری انداز میں بیان کرتا ہے۔ لیکن یہاں ایک بنیادی فرق ہمیشہ پیشِ نظر رہنا چایئے: نبی ﷺکا معجزہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا اظہار ہوتا ہے، جبکہ انسان کی سائنسی ترقی اسباب، مشاہدے، تجربے اور علم کے ذریعے آگے بڑھتی ہے۔ قرآنِ پاک نے شق القمر کے واقعے کو قیامت کے قریب آنے سے جوڑا ہے۔ قیامت کب قائم ہو گی، اس کا قطعی علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ اس لیے شق القمر کو جدید سائنسی پیش رفت کے ساتھ براہِ راست جوڑ کر کوئی حتمی پیش گوئی کرنا درست نہیں۔ البتہ یہ واقعہ انسان کو اس حقیقت پر ضرور غور کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ کائنات کتنی عظیم، پیچیدہ اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کے تابع ہے۔ انسان جتنی بھی ترقی کر لے، اسے اپنی حدود اور کائنات کے خالق کو نہیں بھولنا چاہیے۔ علم اگر انسان کو عاجزی، ذمہ داری اور خیر کی طرف لے جائے تو نعمت ہے، لیکن اگر یہی ترقی تکبر اور فطرت کے تباہ کن استحصال کا ذریعہ بن جائے تو یہ پوری انسانیت کے لیے لمحۂ فکریہ بن سکتی ہے۔
شق القمر ہمیں ایک طرف نبی کریم ﷺ کے عظیم معجزے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کی یاد دلاتا ہے اور دوسری طرف یہ پیغام دیتا ہے کہ انسان کائنات کے جتنے بھی راز دریافت کر لے، اسے نظام فطرت کے خالق اور مالک سے بے نیاز نہیں ہونا چایئے۔
یہی وجہ ہے کہ رب کائنات نے اور مفسرین کرام نے شق القمر کے واقعہ کو قیامت کی نشانیوں میں سے ایک قرار دیا ہے جس کی نبی پاک ﷺ نے اس معجزے میں پیش گوئی فرمائی تھی۔ اگر انسان یونہی ترقی کرتا رہا اور اس نے فطرت کی ترجمانی کرنے کی بجائے اسکی نفی شروع کر دی تو عین ممکن ہے اس سے ستارے اور سیارے اپنے مداروں سے ہٹ جائیں اور پھر ایک دن قیامت برپا ہو جائے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں