ایران کیلیئے نو فلائی زون سے بچنے کی ضرورت
تاریخ بار بار یہ سبق دہراتی ہے کہ جنگیں تہذیبیں مٹا دیتی ہیں، معیشتیں تباہ کر دیتی ہیں اور نسلوں کا مستقبل تاریک کر دیتی ہیں۔ آج ایران کے حوالے سے جو صورتحال بن رہی ہے وہ اسی سبق کا ایک اور دردناک باب بنتی جا رہی ہے۔ ایرانی پاسداران کو چایئے کہ وہ فوری طور پر جنگ کی بجائے مذاکرات کا راستہ اپنائیں۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ دنیا کے کسی کونے سے ایران کے حق میں کوئی واضح آواز نہیں اٹھ رہی۔ وہ یورپی، امریکی اور کینیڈین سڑکیں جو کبھی جنگ مخالف مظاہروں سے گونجتی تھیں، آج خاموش ہیں۔ باشعور دنیا نے یہ محسوس کر لیا ہے کہ ایران کی موجودہ پالیسیاں نہ صرف پورے خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔ توانائی کے راستے، تجارت کے شاہراہیں اور سفارتی تعلقات سب جنگ کی زد میں آ چکے ہیں۔ آغاز میں جو امریکہ مخالف مظاہرے ہوئے اب وہ ایرانی خاموش ہو چکے ہیں۔ ایران کو یہ تبدیلی محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔
اب دنیا اس فلم کا "ڈراپ سین” دیکھنا چاہتی ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے وہی غلطی دہرا دی ہے جو ہٹلر نے روس پر حملہ کر کے کی تھی۔ طاقت کے گھمنڈ میں حقیقت سے آنکھیں بند نہیں کرنی چایئے۔ ایران نے اسرائیل کو چھوڑ کر خلیجی ممالک پر بار بار حملے کر کے انہیں ایران سے نفرت اور مخالفت میں کھڑا کر لیا ہے۔ امریکہ نے کسی ملک کو براہِ راست ایران کی مدد سے نہیں روکا، لیکن وہ ایران تک مدد پہنچنے کے ہر راستے کو بند کر رہا ہے۔ سفارتی تعلقات منقطع ہو رہے ہیں، اقتصادی ناکہ بندی سخت ہو رہی ہے اور فوجی دباؤ بڑھ رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگلا مرحلہ ایران کے ہوائی اڈوں کی تباہی اور مکمل ایئر ایمبارگو ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد ایران ایک "نو فلائی زون” بن کر دوسرا عراق بن جائے گا۔ جہاں نہ تجارت ہو گی، نہ رابطے، نہ ترقی۔
یہ وہ انجام ہے جس سے بچانے کے لیے پاکستان نے ہر ممکن سفارتی کوشش کی۔ خطے میں امن کے لیے پاکستان ہمیشہ مذاکرات اور مکالمے کا حامی رہا ہے۔ مگر ایرانی پاسداران پر طاقت کا گھمنڈ اس قدر غالب ہے کہ وہ سیاسی قیادت کی مصلحت آمیز رائے کو بھی نظرانداز کر رہے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایران کی سیاسی حکومت بے بسی سے اپنے ہی ملک کو اندر سے بکھرتا دیکھ رہی ہے، مگر کوئی بڑا فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔
ایرانی عوام اس کشیدگی کی سب سے بڑی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، بین الاقوامی تنہائی اور سماجی بے چینی نے عام شہری کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ عراق، لیبیا اور شام کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ وہاں بھی جنگ کو "امن” اور "عزت” کے نام پر مسلط کیا گیا، اور نتیجہ کھنڈرات، لاشیں اور ٹوٹے ہوئے خوابوں کی صورت میں نکلا۔
اگر پاسداران واقعی ایرانی عوام سے مخلص ہیں تو انہیں اپنی سوچ اور حکمت عملی میں فوری تبدیلی لانا ہو گی۔ بندوق کے زور پر مسئلے حل نہیں ہوتے۔ جنگ ترقی کی رفتار کو نگل جاتی ہے۔ تعلیم، صحت، روزگار اور ٹیکنالوجی وہ میدان ہیں جہاں قومیں آگے بڑھتی ہیں، نہ کہ بارود کے دھوئیں سے۔ ایرانی پاسداران کو سمجھنا چایئے کہ "جنگ” اور "پراکسیز” انقلاب نہیں لا سکتیں۔
ایرانی قیادت کو چاہیے کہ وہ اپنے اندر اتحاد پیدا کرے اور فوراً مذاکرات کی میز پر واپس آئے۔ دنیا سے رابطے بحال کرے۔ خطے کے ممالک کے ساتھ اعتماد سازی کرے۔ پاکستان جیسا ہمسایہ ملک ہمیشہ پل کا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
جنگ سے نہ کوئی فاتح بنتا ہے نہ کوئی مفتوح۔ جنگ سے صرف نسلیں برباد ہوتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ "جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں”۔ ایرانی قیادت کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اپنے ملک کا مستقبل عراق، لیبیا اور شام جیسی غلط فہمیوں میں نہ دھکیلے۔ اس وقت ایران کو امن اور مکالمے کی اشد ضرورت ہے تاکہ قوم کو ایک باعزت مستقبل میسر آ سکے۔ فیصلہ ایران کی سیاسی قیادت اور پاسداران کے ہاتھ میں ہے۔ ایران تیزی سے "نو فلائی زون” کی طرف بڑھنا رہا، اسے اس سے بچنے کی ضرورت ہے۔

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ایڈیٹر / مالک ای میگزین/ ویب سائٹ کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |