Tag: فلسطین

  • دو قومی رویّے

    دو قومی رویّے


    تحریر: محمد ذیشان بٹ

    قوموں پر مشکل وقت آتے رہتے ہیں، مگر زندہ قومیں ان کا سامنا صرف بیانات سے نہیں بلکہ اپنے اجتماعی رویّوں سے کرتی ہیں۔ آج پاکستان ایک بار پھر ایسے ہی کڑے امتحان سے گزر رہا ہے۔ دارالحکومت میں خودکش دھماکے نے نہ صرف شہر کی فضا کو سوگوار کیا بلکہ ہمارے اجتماعی ضمیر کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ معصوم لوگ نماز کی حالت میں، سجدے میں جاتے ہوئے بزدلانہ کارروائی کا نشانہ بنے۔ کئی جانیں شہید ہوئیں، بہت سے زخمی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ زخمیوں کو جلد صحت عطا فرمائے اور شہداء کی مغفرت فرمائے، ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل دے۔ ایسے مواقع پر ہمارا پہلا ردِعمل طنز ہوتا ہے۔ ہم فوراً حکمرانوں کو کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں کہ وزراء کچھ نہیں کر رہے، سب دکھاوا ہے، ایمبولینس کم ہیں، وزیراعلیٰ کے دعوے صرف میڈیا تک محدود ہیں، وزیراعظم بے بس ہیں۔ یہ اعتراضات اپنی جگہ درست ہو سکتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی خود کو بھی اسی کٹہرے میں کھڑا کیا ہے؟ اسی لیے اس تحریر کا عنوان “دو قومی رویّے” رکھا گیا ہے ۔ ایک طرف اسلام آباد لہولہان ہے، اور فرقہ واریت کی آگ کو ہوا دینے کی کوششیں شروع ہو جاتی ہیں کہ کہاں دھماکہ ہوا، کس مسلک کے لوگ نشانہ بنے۔ بھائی! دھماکہ پاکستان میں ہوا ہے۔ مرنے والے پاکستانی تھے۔ ان کا مسلک، رنگ، زبان یا نظریہ کچھ بھی ہو، وہ بے گناہ انسان تھے۔ کوئی بھی انسان کیوں کسی بے گناہ کو مارتا ہے؟ یہ سوال ہمیں انسان ہونے کے ناتے جھنجھوڑنا چاہیے۔ دوسری طرف لاہور ہے۔ زندہ دلانِ لاہور جو بسنت منانے میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔ کہیں سے ویڈیو آئی ہے کہ “بسنت ختم کر کے واپس آ رہا ہوں ؟”، کہیں ڈور کٹی پڑی ہے کہ “پھر کبھی اُڑا لیں گے ؟”۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ بھائی، آج دل نہیں مانتا۔ آج چھت پر نہیں چڑھتے۔ آج خوشی مؤخر کر دیتے ہیں۔ ہمارے بھائی شہید ہوئے ہیں، مگر ہم “آئی بو ” اور “بو کاٹا” کی ویڈیوز ایک دوسرے کو بھیج رہے ہیں۔ پھر حکمرانوں پر تنقید کس منہ سے؟ کالم نگار بارہا اپنے قلم کے ذریعے یہ بات دہراتا آیا ہے کہ نواز شریف ہوں، عمران خان ہوں، مریم نواز ہوں یا کوئی اور یہ سب ہمارے ہی معاشرے کی پیداوار ہیں۔ یہ کسی اور سیارے سے نہیں آئے۔ منتخب ہوں یا غیر منتخب، حکمران ہم میں سے ہی نکلتے ہیں۔ جب عوام میں سے کوئی ایک فرد بھی اپنی تفریح مؤخر کرنے کو تیار نہیں، یہ کہہ کر کہ خرچہ ہو گیا ہے، مہمان آ گئے ہیں، پروگرام طے تھا تو پھر حکمران کیوں ملتوی کریں گے؟ حکمران ہمیشہ عوام کے موڈ کو دیکھتا ہے۔ اگر ایک بار عوام چھتوں سے نیچے اتر آتے، اگر ایک دن کے لیے بھی اجتماعی سوگ دکھایا جاتا، تو کون سی طاقت وزیراعلیٰ کو مجبور نہ کرتی کہ بسنت مؤخر ہو؟ ہم اپنے رویّوں سے خود یہ پیغام دیتے ہیں کہ “مرنے والے مر گئے، دھماکے ہوتے رہتے ہیں۔” یہی پیغام وہ واٹس ایپ اسٹیٹس بھی دے رہے ہیں جن میں اسی وقت پتنگ بازی کی خوشیاں دکھائی جا رہی ہیں، جب اسلام آباد خون میں ڈوبا ہوا ہے۔ پھر ہم کیسے کہیں کہ ہم یکجہتی چاہتے ہیں؟ “پاکستان زندہ باد” اور “ہم سب ایک ہیں” جیسے نعرے تب کھوکھلے لگتے ہیں جب عملی رویّہ اس کے برعکس ہو۔ پنجابی، پٹھان، سندھی، بلوچ، سنی، شیعہ سب کچھ ہیں، مگر کیا ہم واقعی پاکستانی بھی ہیں؟ کیا ہم واقعی مسلمان بھی ہیں؟ اگر ہم اپنی سوچ اور اپنے رویّے نہیں بدلیں گے تو صرف حکمرانوں کو ذمہ دار ٹھہرانا بے معنی ہے۔

    یہاں انڈا مہنگا ہو جائے تو ہم خریدنا نہیں چھوڑتے، اجتماعی بائیکاٹ نہیں کر پاتے، پھر یہ توقع کیسے رکھیں کہ بڑے فیصلے عوامی دباؤ کے بغیر بدل جائیں گے؟ قائداعظم کے مزار پر جا کر کبھی ہم خود سوال کریں کہ یہ ملک کن قربانیوں سے بنا تھا۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں، جسم کے ایک حصے میں درد ہو تو دوسرا حصہ چین سے نہیں بیٹھتا۔ اگر آج ہم اپنے ہی ملک میں سوگ کے عالم میں خوشیاں منائیں گے تو کل فلسطین، کشمیر یا کہیں اور کے مظلوم مسلمانوں کے لیے آواز اٹھانے کا اخلاقی جواز بھی کھو دیں گے۔ دنیا ہمیں اسی لیے سنجیدہ نہیں لیتی کہ اسے معلوم ہے، یہاں ظلم ہو بھی جائے تو لوگ تفریح میں مصروف رہیں گے—پتنگ اُڑتی رہے گی، میچ چلتا رہے گا۔ یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ یہ تحریر تفریح کی مخالفت نہیں۔ کرکٹ دیکھنا، پی ایس ایل انجوائے کرنا، ثقافتی سرگرمیاں سب اپنی جگہ۔ مگر سوال وقت کا ہے، ترجیح کا ہے۔ جب گھر میں فوتگی ہو تو ڈھول نہیں بجائے جاتے۔ تب پتہ چلتا ہے کہ ہم واقعی ایک قوم ہیں یا محض افراد کا ہجوم ۔ آج ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم اپنی آنے والی نسل کو کیا پیغام دے رہے ہیں۔ وہ بچے جو چھتوں پر کھڑے ہو کر “بو کاٹا” سن رہے ہیں، وہ کل کیا سیکھیں گے؟ اگر خدانخواستہ ان کے اپنے کسی عزیز کے ساتھ ایسا سانحہ ہو جائے، تو کیا وہ بھی یہی چاہیں گے کہ باقی لوگ اپنی مصروفیات میں مگن رہیں؟ حکمران عوام کے آئینے ہوتے ہیں۔ اکثریت جیت جاتی ہے، فیصلہ وہیں ہوتا ہے۔ اگر آج پاکستانی اجتماعی طور پر یکجہتی دکھائیں، تو کسی کی جرات نہیں کہ قومی سوگ کو نظرانداز کرے۔ ہمیں دو قومی رویّوں سے نکل کر ایک قوم بننا ہوگا۔ اسلام کو صرف نعرہ نہیں، عمل بنانا ہوگا۔ کم از کم اتنا تو کر سکتے ہیں کہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھا لیں، اپنی خوشی مؤخر کر دیں، اور جہاں ممکن ہو عملی مدد کریں۔ شاید یہی چھوٹے قدم ہمیں ایک بڑی قوم بننے کی طرف لے جائیں۔آخر میں بس یہی کہوں گا: تھوڑا نہیں، مکمل غور کیجیے۔ تجربہ شرط ہے

    دو قومی رویّے
  • ٹرمپ کے امن بورڈ کا ڈرامہ

    ٹرمپ کے امن بورڈ کا ڈرامہ

    ٹرمپ کے امن بورڈ کا ڈرامہ

    Dubai Naama

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے غزہ عالمی امن بورڈ کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس میں ایک ارب ڈالر کی انٹری فیس دینے کے وعدے پر کچھ ممالک نے شمولیت بھی اختیار کر لی ہے لیکن لگتا ایسا ہے کہ، "ایں خیال است، محال است و جنوں”، کے مصداق اس منصوبے کی بیل منڈھے چڑھتی نظر نہیں آ رہی ہے۔ بظاہر غزہ اور مشرق وسطی میں امن کی بحالی کا یہ منصوبہ بہت خوشنما ہے لیکن ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی ہے۔

    امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو غزہ میں امن اور حماس کو غیر مسلح کرنے کی فکر کھائے جا رہی ہے۔ فلسطینوں کی نسل کشی اور جنگ بندی کے لئے اقوام متحدہ نے 8 قرار دادیں پاس کیں، آٹھوں کو امریکہ نے ویٹو کیا۔ انٹر نیشنل کورٹ آف جسٹس نے اسرائیلی وزیراعظم کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کئے لیکن صدر ٹرمپ نے عدالت کے احکامات کی تضحیک کی اور نیتن یاہو کو گرفتار کرنے کے بجائے اسکے ساتھ واشنگٹن میں ملاقات کی اور اسے مدد جاری رکھنے کا یقین دلایا۔ اسرائیل نے ہزاروں فلسطینیوں کو شہید کیا۔ اس میں بوڑھے مرد و خواتین اور معصوم بچے بھی تھے، لاکھوں ٹن بارود گرا کر غزہ کو مٹی کا ڈھیر بنا دیا، انفراسٹرکچر تباہ کیا، امدادی قافلوں پر حملے کیئے اور ہسپتالوں تک کو تباہ کر دیا۔ 

    اس امریکی حمایت اور اسرائیلی جارحیت سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ دھشتگرد حماس نہیں بلکہ اسرائیل ہے۔ ساری دنیا چاہتی ہے کہ غزہ میں امن قائم ہو لیکن اس امن کے لئے اقوام متحدہ کی پاس کردہ قراردادوں پر عمل کیوں نہیں کیا جاتا ہے؟ امن کی تمام کوششوں میں فلسطین کی اتھارٹی کو کیوں نہیں بٹھایا جاتا؟ حماس کو غیر مسلح کرنے کے بجائے اسرائیل سے غزہ کا قبضہ چھڑایا جانا چایئے اور نیتن یاہو کو گرفتار کر کے عالمی عدالت میں جنگی جرائم اور فلسطین میں انسانی مسئلہ پیدا کرنے کے مقدمات چلائے جانے چایئے۔ جب اسرائیل فلسطینوں کی سر زمین سے نکل جائے گا تو حماس خود بخود غیر مسلح ہو جائے گی۔فلسطینی علاقوں پر تو امریکہ کے ایماء پر خود اسرائیل قابض ہے، تو پھر فلسطین کی جہادی تنظیم کو اپنے علاقے واپس لینے کی جدوجہد سے روکنا انصاف پر مبنی نہیں ہے۔ ایکشن تو غاصب ریاست اسرائیل کے خلاف لیا جانا چایئے۔ لیکن امریکہ امن بورڈ کا ڈرامہ رچا کر فلسطینیوں کو بیدخل کر کے غزہ پر خود قبضہ جمانا چاہتا ہے جس کا امریکی صدر بارہا اظہار بھی کر چکے ہیں کہ وہ غزہ کا انفراسٹرکچر بحال کر کے اسے خوبصورت عالمی سیرگاہ بنانا چاہتے ہیں۔ لیکن غزہ میں امن کی بحالی اسی صورت میں ممکن ہے جب فلسطینیوں کے حق رائے دہی اور خودمختاری کا احترام کیا جائے۔

    ٹرمپ کے امن بورڈ کا ڈرامہ

    21 جنوری 2026ء کو 8 اسلامی ملکوں نے غزہ عالمی امن بورڈ میں شمولیت کے مشترکہ فیصلے کا اعلان کیا تھا جس میں پاکستان، انڈونیشیا، مصر، اُردن، متحدہ عرب امارات، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر شامل ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی قرارداد نمبر 2803 کے مطابق غزہ میں قیامِ امن، مستقل جنگ بندی، تعمیرنو، فلسطینیوں کی خواہشات اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری میں حقِ رائے دہی اور فلسطینی ریاست کے قیام کے حق میں اعلامیہ جاری کیا تھا۔ ان ممالک کی نیت اور اخلاص پر کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ امریکی صدر نے 60 ممالک کو شرکت کے دعوت نامے بھیجے جن میں سے صرف 19ممالک معاہدے میں شامل ہوئے۔ دیگر ممالک کے شامل نہ ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس امن معاہدے میں فلسطین کو نمائندگی نہیں دی گئی ہے۔ یہ غزہ کا کیسا عالمی امن بورڈ ہے کہ جسے غزہ اور فلسطین میں امن کی بحالی کے لیئے بنایا گیا یے مگر اس میں فلسطین ہی کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ بعض ممالک اسی وجہ سے شمولیت کرنے باز رہے یا پھر انہوں نے غیر حاضر رہنے کو ترجیح دی۔ اسرائیل کو پاکستان کے کسی عبوری فورس کا حصّہ بننے یا تعمیر نو میں شامل ہونے پر اعتراض ہے۔ دوسری طرف چین، جرمنی، اسپین اور فرانس نے اس بورڈ میں شمولیت سے انکار کر دیا جبکہ روس نے صدر ٹرمپ کی یوکرائن جنگ ختم کرانے کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے امن بورڈ میں شمولیت اپنے اسٹریٹجک پارٹنر ممالک سے مشاورت سے مشروط کر دی۔ البتہ روس نے غزہ امن بورڈ میں ایک ارب ڈالر فلسطینیوں کی امداد کے لئے دینے کا اعلان کیا۔ مغربی ممالک میں برطانیہ، کینیڈا اور اٹلی خاموش ہیں۔ صدر ٹرمپ کا خیال صرف چنیدہ ممالک کے تعاون سے غزہ میں امن کا قیام تھا لیکن بعد میں انہوں نے 60 ممالک کو نہ صرف شمولیت کے دعوت نامے جاری کئے بلکہ بورڈ کو اقوامِ متحدہ کے متبادل کے طور پر بھی پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ صدر ٹرمپ اقوامِ متحدہ پر الزام لگاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ جنگیں رکوانے میں مؤثر طریقے سے کردار ادا نہیں کر رہا ہے لیکن دنیا جانتی ہے کہ فلسطین میں امن کی بحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود امریکہ ہے جس نے اقوام متحدہ کی آٹھ کی آٹھ قرار دادوں کو ویٹو کر کے ردی کی ٹوکری میں پھینکا۔

    حال ہی میں امریکہ نے اقوامِ متحدہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسکی 66 کمیٹیوں سے نکلنے کا عندیہ دیا۔ اقوام متحدہ کے مدمقابل اس سے بڑا اور کیا ڈرامہ کیا ہو سکتا ہے کہ خود صدر ٹرمپ اس بورڈ کے تاحیات چیئرمین ہوں گے اور ویٹو کی واحد طاقت بھی ان کے پاس ہو گی۔ یہ تو صدر ٹرمپ نے پنجابی محاورے، "انھا ونڈے چوریاں مڑ مڑ گھر دیاں نوں”، کے مصداق خود ہی یہ امن معاہدہ بنایا ہے اور خود ہی اس کے ویٹو پاور کے حامل تاحیات چیئرمین بن گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کے باقی مستقل اراکین چین، فرانس، روس اور برطانیہ نے اس میں شمولیت کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔

    امریکی صدر کم و بیش  7 لاکھ فلسطینیوں کے قاتل نیتن یاہو کے ساتھ کمر باندھ کر کھڑے ہیں۔ اب وہ عزہ میں امن معاہدے کا یہ ڈرامہ رچا کر حماس کو غیر مسلح کرنا چاہتے ہیں۔ حماس کی ہمت، استقامت اور ایثار نے اسرائیل کے خلاف مزاحمت کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔ اسرائیل اور امریکہ جتنی مرضی چالیں چلیں، ان کی فلسطینی قربانیوں کے سامنے ایک نہیں چلے گی۔

    پاکستان نے فلسطین کے معاملے پر کبھی اپنی ریاستی پالیسی سے انحراف نہیں کیا۔ غزہ امن بورڈ میں پاکستانی شمولیت اس اعتبار سے خوش آئیند یے کہ پاکستان اس سے باہر رہ کر فلسطین کے حق میں وہ کردار ادا نہیں کر سکتا تھا جتنا اس میں شامل ہو کر اور فلسطینی امن فورس کا حصہ بن کر کر سکتا ہے۔ اسرائیل ایٹمی طاقت کے حامل پاکستان کی شمولیت سے خائف ہے اور  یہی وجہ ہے کہ وہ پاکستان کی اس امن بورڈ میں شمولیت پر سخت سیخ پا ہو رہا ہے۔

    .

  • افغانستان سے پاکستان پر حملے کرنے والی پراکسیز

    افغانستان سے پاکستان پر حملے کرنے والی پراکسیز

    افغانستان سے پاکستان پر حملے کرنے والی پراکسیز

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

    پاک افغان تعلقات کی تاریخ شروع دن سے ہی کشیدگی، مفاہمت، اعتماد اور بداعتمادی کے متوازی ادوار پر مشتمل رہی ہے۔ برصغیر کی تقسیم کے بعد جب 1947 میں پاکستان وجود میں آیا تو افغانستان واحد ملک تھا جس نے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کی مخالفت کی تھی۔ اس تاریخی پس منظر میں دونوں ممالک کے درمیان ایک غیر مستحکم سرحدی تعلق ہمیشہ قائم رہا۔ 1979 میں سوویت یونین کی افغانستان پر جارحیت کے بعد پاکستان نے افغان عوام کی عملی و اخلاقی مدد کی، مگر اسی دوران "مجاہدین” اور بعد ازاں "طالبان” کے اثرات نے پاکستان کی داخلی سلامتی کو بھی براہِ راست متاثر کیا۔ آج جب فیلڈ مارشل سید عاصم منیر افغانستان کی طالبان رجیم سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پاکستان کے خلاف سرگرم پراکسیز کو لگام ڈالے، تو یہ محض ایک سفارتی بیان ہی نہیں بلکہ تاریخی حقائق اور خطے کی سلامتی سے جڑا ایک سنجیدہ انتباہ بھی ہے۔

    افغانستان ہمیشہ سے وسطی و جنوبی ایشیا کے درمیان جغرافیائی و اسٹریٹجک پُل کی حیثیت رکھتا ہے۔ مگر 2001 میں امریکہ کی قیادت میں افغانستان پر حملے کے بعد یہ خطہ عالمی طاقتوں کی کشمکش کا مرکز بن گیا۔ طالبان کی دوبارہ اقتدار میں واپسی (2021) کے بعد پاکستان نے ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم رکھنے کی کوشش کی، لیکن توقعات کے برعکس افغانستان کی سرزمین دوبارہ دہشت گرد گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بنتی جا رہی ہے۔ ٹی ٹی پی، داعش خراسان اور دیگر گروہ پاکستان کے اندر بدامنی اور دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ کہنا کہ "طالبان رجیم کو ان پراکسیوں پر لگام ڈالنی چاہیے جو افغان سرزمین استعمال کر رہی ہیں”، دراصل خطے کی سلامتی اور پاکستان کی خودمختاری کا دفاعی بیانیہ ہے۔

    پاکستان نے قیام کے بعد سے اپنے دفاعی اداروں کو جدید خطوط پر استوار کیا۔ افواجِ پاکستان نے نہ صرف روایتی جنگوں میں دشمن کو شکست دی بلکہ دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ میں بھی بے مثال قربانیاں دیں۔ آرمی چیف کے مطابق “ہماری فوج دو دہائیوں تک سب کنوینشنل میدانِ جنگ میں آزمودہ رہی ہے اور اب روایتی میدان میں بھی دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔” یہ بیان پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی "کریڈیبل ڈیٹرنس” کی بنیاد کو واضح کرتا ہے یعنی ایسا دفاعی توازن جو دشمن کو جارحیت سے روکے۔ پاکستان نے نہ صرف جدید ٹیکنالوجی، راکٹ سسٹمز، فضائی صلاحیت اور انٹیلیجنس نیٹ ورک کو بہتر کیا بلکہ اپنی عسکری تربیت میں اخلاقی اور قومی نظریات کو بھی مرکزی حیثیت دی ہے۔

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے خطاب میں بھارتی فوجی قیادت کو خبردار کیا کہ "جوہری ماحول میں جنگ کی کوئی گنجائش نہیں”۔ یہ انتباہ اس خطے کے حساس ترین مسئلے یعنی بھارت و پاکستان کے درمیان ایٹمی توازن سے جڑا ہوا ہے۔ دونوں ممالک کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہیں، مگر پاکستان کا مؤقف ہمیشہ دفاعی رہا ہے۔ بھارت کی جارحانہ پالیسیاں، مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی اور داخلی سطح پر اقلیتوں کے خلاف تشدد نے جنوبی ایشیا کے امن کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔
    فیلڈ مارشل کا یہ کہنا کہ "ہم اس مقدس سرزمین کا ایک انچ بھی دشمن کے حوالے نہیں کریں گے”، صرف عسکری عزم نہیں بلکہ قومی وحدت، خود اعتمادی اور حب الوطنی کا اعلان ہے۔

    پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ مظلوم اقوام کی حمایت پر مبنی رہی ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے خطاب میں نہ صرف کشمیر بلکہ فلسطین کے مسئلے پر بھی پاکستان کے اصولی مؤقف کو دہرایا۔ کشمیر پر بھارت کے ناجائز قبضے کے خلاف پاکستان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھنے کا اعلان دراصل قائداعظم کے اس نظریے کا تسلسل ہے جس کے مطابق کشمیر پاکستان کی "شہ رگ” ہے۔
    اسی طرح فلسطین کے حوالے سے دو ریاستی حل اور القدس شریف کو دارالحکومت قرار دینے کی حمایت، پاکستان کے عالمی ضمیر اور امتِ مسلمہ کے ساتھ وابستگی کو ظاہر کرتی ہے۔

    افغانستان سے پاکستان پر حملے کرنے والی پراکسیز

    افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد پاکستان نے توقع کی تھی کہ دہشت گرد گروہوں کو محدود کیا جائے گا، مگر حالیہ مہینوں میں پاکستان کے اندر ہونے والے حملے اس امید کے برعکس ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کا انتباہ اس بات کا مظہر ہے کہ پاکستان اب مزید خاموش نہیں رہ سکتا۔ تاریخی طور پر پاکستان نے ہمیشہ افغانستان کے استحکام کی حمایت کی ہے۔ افغان مہاجرین کی میزبانی سے لے کر تعمیرِ نو کے منصوبوں تک، پاکستان کا کردار مثبت رہا ہے۔ تاہم اگر افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی ہے تو یہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے۔

    خطے میں استحکام کے لیے پاکستان نے ہمیشہ متوازن سفارتی پالیسی اپنائی۔ چین کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری اور "چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈور (CPEC)” نے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو مزید مستحکم کیا۔ اسی طرح سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ خاص طور پر حرمین شریفین کے دفاع کی مشترکہ حکمتِ عملی پاکستان کے لیے غیر معمولی اعزاز ہے۔
    فیلڈ مارشل کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ "مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کی جانب ایک قدم ہے۔” اس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان صرف عسکری طاقت ہی نہیں بلکہ ایک "ریجنل سٹیبلائزر” کے طور پر بھی ابھر رہا ہے۔

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے خطاب میں "Post Truth Era” کا ذکر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ آدھے سچ اور جعلی خبروں سے گمراہ نہ ہوا جائے۔ یہ پیغام نہایت اہم ہے کیونکہ آج کی جنگ صرف سرحدوں پر نہیں بلکہ سوشل میڈیا اور نفسیاتی محاذ پر بھی لڑی جا رہی ہے۔ دشمن قوتیں پاکستان کے عوام اور افواج کے درمیان دراڑ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اس کے مقابلے کے لیے قومی یکجہتی، فکری استحکام اور میڈیا شعور کی ضرورت ہے۔

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا خطاب محض ایک عسکری تقریب کی تقریر ہی نہیں بلکہ پاکستان کے قومی نظریے، دفاعی پالیسی اور خارجہ حکمتِ عملی کا جامع منشور بھی ہے۔ انہوں نے قوم کو یہ یقین دلایا کہ پاکستان کی افواج ہر محاذ پر تیار ہیں، دشمن کے عزائم خاک میں ملا دیے جائیں گے اور عوام و فوج کے درمیان رشتہ ایمان و وطنیت پر قائم رہے گا۔ یہ خطاب اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ پاکستان کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا، بلکہ یہ عزم اور استقلال کی نئی منزلوں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ افغانستان، بھارت، کشمیر اور فلسطین کے تناظر میں یہ پیغام واضح ہے کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے مگر اپنی خودمختاری پر کسی سودے بازی کے لیے تیار نہیں۔

    خلاصہ یہ ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا بیان ایک جامع عسکری، سفارتی اور فکری دستاویز ہے جو نہ صرف پاکستان کی داخلی و خارجی پالیسیوں کی سمت طے کرتا ہے بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے لیے اتحاد، امن اور مزاحمت کا پیغام بھی دیتا ہے۔ افغانستان کی طالبان حکومت کے لیے یہ پیغام ایک دوستی پر مبنی انتباہ ہے کہ پاکستان امن کا حامی ہے مگر اپنی سرزمین پر حملے کبھی بھی برداشت نہیں کرے گا۔

  • سعودی عرب کو پہلا نوبیل پرائز مبارک ہو

    سعودی عرب کو پہلا نوبیل پرائز مبارک ہو

    سعودی عرب کو پہلا نوبیل پرائز مبارک ہو

    Dubai Naama

    دو سال سے آگ اور خون میں جھلسنے کے بعد غزہ سے دو اچھی خبریں آئی ہیں۔ پہلی خبر غزہ میں عارضی جنگ بندی کی ہے اور دوسری خبر یہ ہے کہ غزہ کے والدین کے ہاں ایک اومانی مہاجر کیمپ میں پیدا ہونے والے ایک سائنس دان بچے، جس کے پاس اب سعودی عرب کی شہریت ہے، کو کیمسٹری میں "نوبیل پرائز” دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اب یہ بچہ بڑا ہو گیا ہے اور کیمسٹری کا عظیم الشان سائنس دان ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی غزہ میں جنگ بندی اور امن کی بحالی کی بنیاد پر "نوبیل پیس پرائز” حاصل کرنے کے خواہاں ہیں اور اسی مقصد کے پیش نظر انہوں نے غزہ کے لیئے اپنا 21 نکاتی امن منصوبہ پیش کیا اور اب جنگ بندی بھی کروائی ہے۔ خدا کرے! کہ یہ جنگ بندی مستقل بنیادوں پر قائم رہے اور اس کے بعد فلسطین دنیا کے نقشے پر ایک آزاد اور خودمختار ملک کے طور پر ابھرے۔ غزہ میں جنگ بندی اور ڈونلڈ ٹرمپ کے امن منصوبے پر تجزیہ پھر کسی اظہاریہ میں کریں گے، آیئے پہلے ہم فلسطینی سائنس دان کو ملنے والے نوبل پرائز پر بات کرتے ہیں۔

    یہ انتہائی قابل فخر خبر ہے کہ پہلے فلسطینی سعودی شہری، اور بڑے عرصے کے بعد ایک مسلمان سائنس دان کو انسانیت کی خدمت پر کیمسٹری کا نوبیل پرائز دیا گیا ہے۔ یہ کہانی غزہ کی غربت اور دربدر کی ٹھوکریں کھانے والے اس قابل فخر بچے کی ہے جس نے مشکلات کے اندھیرے میں آنکھ کھولی اور پھر روشنی اور امید کی ایسی دنیا تخلیق کی جس میں مایوسی ہاری اور جدوجہد کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ جب قدرت کسی کو کوئی صلاحیت بخشتی ہے تو وہ ریت کی تپتی اور گرم لو کو بھی "باد صبا” میں بدل دیتی ہے۔ یہ بچہ جو ریت کے ٹیلوں میں خلا کو گھورتے ہوئے پیدا ہوا تھا، اس نے اپنی پیدائش پر ہی سوچا ہو گا کہ آگ کے صحرا کے اندر کیا راز چھپے ہوئے ہیں، اور پھر شعور پانے پر برسوں بعد، اس نے مادے کے اندر سے ایسے منعکسی اور جازبی کمرے دریافت کر لیئے جو صحرا کی گرم ہوا سے ٹھنڈا پانی کشید کر سکتے ہیں۔

    عمان کی آگ جیسی شدت رکھنے والی گرمی میں پیدا ہونے والے اس بچے کو نوبیل پرائز ملنے پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقعہ یاد آ گیا ہے جن کے لیئے آگ ٹھنڈی ہو گئی تھی۔ آگ جیسی گرمی میں پرورش پانے والا یہ لڑکا، جہاں پانی اور بجلی کی قلت تھی، ایک ایسے فلسطینی خاندان میں پلنے لگا جو غزہ سے بے دخل ہو کر اپنے پاو’ں پر کھڑا ہونے کی جدوجہد کر رہا تھا۔ لیکن اس لڑکے کی آنکھوں میں غربت اور بے بسی نہیں، بلکہ ایک لامتناہی تجسس تھا۔ اس نے اپنی محرومیوں کو اپنی طاقت بنانے کا فیصلہ کیا جس کے بعد یہ سفر ایک تنگ کمرے سے نکل کر پوری کائنات میں پھیلے دور دارز کے ذروں تک جا پہنچا۔

    سعودی عرب کو پہلا نوبیل پرائز مبارک ہو

    سنہ 1965ء میں پیدا ہونے والے اس فلسطینی بچے کا نام والدین نے "عمر یاغی” رکھا۔ اس کے لئے زندگی آسان نہیں تھی۔ اسے انگریزی زبان اور پیسہ، دونوں بہت دیر سے ملے۔ لیکن اس نے کسی بھی رکاوٹ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ وہ ٹھہرا نہیں، اس نے مڑ کر پیچھے نہیں دیکھا۔ وہ 15 سال کا تھا جب اس کے والدین امریکہ منتقل ہوئے۔ عمر یاغی نے بغیر کسی خاص تیاری کے محض اپنی محنت اور لگن کی بنیاد پر کمیونٹی کالج میں داخلہ لیا، پھر کیمسٹری میں ڈگری حاصل کی، اور ہارورڈ جیسے ادارے سے پوسٹ ڈاکٹریٹ کا اعزاز حاصل کیا۔ اس کی زندگی کا ایک ہی اصول تھا کہ درستگی کے ساتھ تجربات کرو اور پھر اس کے نتائج کو دنیا کے استفادے کے لئے آگے پھیلا دو۔ عمر یاغی نے دنیا کو ایک نئے علم سے متعارف کروایا، جسے اس نے "ریٹیکولر کیمسٹری” کا نام دیا۔ اگر آسان الفاظ میں بیان کیا جائے تو، یہ مالیکیولز کو مضبوط دھاگوں سے بُن کر انہیں کھلے اور کرسٹل جیسے ڈھانچوں میں بدلنے کا انوکھا فن ہے۔ تصور کریں کہ یہ ایسے خول ہیں جن کے اندر بے تحاشا خالی جگہ ہوتی ہے۔ ان کے بنائے ہوئے مٹیریل (ایم او ایف ایس) کا ایک چینی کے دانے کے برابر ٹکڑا اپنے اندر ایک فٹ بال کے میدان جتنی سطح رکھ سکتا ہے، جو کہ ایک بلکل نیا اور حیران کن انکشاف ہے!

    یہ ایک ایسی انوکھی ایجاد کا دروازہ تھا جس سے ہم کاربن ڈائی آکسائیڈ کو پکڑ سکتے ہیں، زہریلے مادوں کو قید کر سکتے ہیں، ہائیڈروجن کو ذخیرہ کر سکتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر، خشک ترین ہوا سے پانی حاصل کر سکتے ہیں۔
    اور پھر دنیا نے ان کی اس بصیرت افروز ایجاد کو اس وقت کھلے دل سے تسلیم کیا جب ستمبر 2025ء میں، کیمسٹری کا نوبل انعام عمر یاغی اور ان کے دو ساتھیوں کو "میٹل آرگینک فریم ورکس کی تیاری” پر دیا گیا۔ یہ صرف ایک انعام نہیں ہے بلکہ اس انقلاب کا ایسا اعتراف ہے جس کی بنیاد عمر یاغی نے رکھی تھی۔ آج ہزاروں قسم کے "ایم او ایف ایس” موجود ہیں، کچھ زہریلے کیمیکلز کو صاف کرتے ہیں، کچھ آلودگی کو توڑتے ہیں، اور کچھ آسمان سے پانی نچوڑ کر لاتے ہیں۔

    سعودی عرب کے شہری عمر یاغی کو یہ کامیابی آسانی سے نہیں ملی، یہ کامیابی زبان کی رکاوٹیں، پیسے کی تنگی، امیگریشن کے مسائل، اور ابتدائی دنوں میں درجنوں بار مسترد کئے جانے کا درد لیئے ہوئے ہے، جس میں عمر یاغی کو خود کو منوانے کے لئے دوسروں سے دگنی محنت کرنی پڑی۔ لیکن اس نے اپنے مقصد کے حصول میں ہمت نہیں ہاری۔ بچپن میں مہاجر کیمپوں میں پانی کی جو کمی عمر یاغی نے محسوس کی تھی، وہی اس کی زندگی کا سائنسی ہدف بن گئی، اور وہ ایک ایسی مشین بنانے میں کامیاب ہو گیا جو صحرا کی ہوا سے، جہاں نمی نہ ہونے کے برابر ہو، روزانہ کئی لیٹر پانی نکال سکتی ہے۔

    عمر یاغی نے سنہ 2021ء میں سعودی شہریت قبول کی، اور وہ نوبیل انعام جیتنے والے پہلے سعودی شہری بن گئے۔ وہ سائنس میں نوبیل انعام جیتنے والے پہلے فلسطینی نژاد سائنس دان بھی ہیں۔ مدتوں بعد کسی مسلمان کو سائنس میں نوبیل پرائز کا اعزاز ملا ہے. عمر یاغی کی شناخت کی بہت سی پرتیں ہیں، لیکن ان کی سائنس ایک ہے، جو کہ پوری انسانیت کے لئے ہے۔

    عمان کے ایک گنجان آباد کمرے سے نکلنے والا ایک نوجوان آج دنیا کو مادے کے اندر کمرے بنانا سکھا رہا ہے۔ اس نے وہاں جگہ بنائی ہے جہاں کسی جگہ ہونے کے بارے کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا، پہلے اپنے لئے، پھر ایٹموں کے لئے، اور آخر میں ان تمام انسانوں کے لئے جنہیں صاف ہوا، پانی اور صنعت کی ضرورت ہے۔

    فلسطینی بچے کی یہ کہانی ہمیں سیکھاتی ہے کہ اگر ایک مہاجر کیمپ میں اپنی زندگی کا آغاز کرنے والا اور دربدر بھٹکتا ہوا بچہ، اپنے خوابوں کا تعاقب کرتے ہوئے، نوبیل پرائز جیت سکتا ہے تو پھر آپ کے اور میرے پاس اپنے خوابوں کو پورا نہ کرنے کا کوئی بہانہ نہیں ہونا چایئے۔ جب انسان کوئی بلند مقام حاصل کرنے کا ٹھان لے تو وہ اسے حاصل کر کے ہی دم لیتا ہے۔

    غزہ کے ماں باپ کے ہاں پیدا ہونے والے سعودی عرب کے مفلوک الحال بچے نے تو نوبیل پرائز جیت لیا ہے، مگر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیئے غزہ میں مستقل امن قائم کر کے نوبیل پرائز جیتنا ابھی باقی ہے۔ مالی طور پر مضبوط مسلم ملک کے لیئے عمر یاغی کا اسے پہلا نوبیل پرائز دلانا بہت بڑا اعزاز پے۔ اس سے نہ صرف سعودی عرب کے طلباء میں علمی جستجو اور سائنس و ٹیکنالوجی میں دلچسپی پیدا ہو گی بلکہ اس سے پوری مسلم دنیا میں بھی علمی آگاہی پیدا جنم لے گی۔ دعا ہے کہ عزہ میں امن قائم ہو جائے، فلسطینی قربانیاں رنگ لائیں اور فلسطین بھی آزاد ہو جائے۔ پھر غزہ کے نام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی امن کا نوبیل پرائز دینے میں یقینا کوئی حرج نہیں ہو گا۔

  • سربراہ کانفرنس کا متضاد بیانیہ

    سربراہ کانفرنس کا متضاد بیانیہ

    سربراہ کانفرنس کا متضاد بیانیہ

    Dubai Naama

    دوحہ مسلم سربراہی کانفرنس اپنے اختتام کو پہنچی۔ اجلاس میں عزت مآب سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، ترک صدر رجب طیب اردوان، پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف، ایرانی صدر مسعود پزشکیاں اور دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس کے اختتامی مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ قطر کے ثالثی عمل پر حملہ اور گریٹر اسرائیل کا ایجنڈا عالمی امن کوششوں پر حملہ ہے۔ قطر کی خود مختاری اور دفاع کے لیے مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا اور قطر پر بزدلانہ اور غیر قانونی حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔

    اسلامی دنیا کی اس ہنگامی کانفرنس میں نیٹو کی طرز پر "اسلامک ٹاسک فورس” کے قیام کی تجویز بھی سامنے آئی مگر اس کا عملی اطلاق اپنے آغاز ہی میں ایک خواب اور فسانہ دکھائی دیا۔ اول اسرائیل کے حملے کے فورا بعد امریکہ سے رجوع کرنے ہی سے یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ قطر اسرائیل پر واپس حملہ کرنے کی بجائے قطر کو دوبارہ حملہ کرنے سے روکنے اور غزہ میں جنگ بندی رکوانے کے لیئے مذاکرات کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔ اس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور پاکستان کی رائے بھی شامل تھی کیونکہ ان کے سربراہان نے اسرائیلی حملے کے فورا بعد قطر کا دورہ کیا تھا اور بظاہر اسی ایجنڈے پر کام کرنے کو حتمی شکل دی تھی۔

    سربراہی اجلاس میں اس سوال پر قطعا غور کیا گیا اور نہ ہی اس کا کوئی لائحہ عمل طے کیا گیا کہ عرب اور مسلم دنیا ایک ساتھ کھڑی بھی ہے یا نہیں؟ قطر پر اسرائیلی حملے کے ایک ہفتہ بعد دوحہ میں عرب لیگ اور دیگر اسلامی ممالک کا یہ مشترکہ اجلاس منعقد ہوا۔ لیکن کیا یہ حسن اتفاق ہے کہ یہ اجلاس اس دن طلب کیا گیا جو "ابراہم ایکارڈ” کے دستخط کی پانچویں سالگرہ کا دن تھا۔ یہ وہی معاہدہ ہے جو 2021ء میں ہوا تھا جس کے نتیجے میں اسرائیل اور عرب ممالک نے معمول کے تعلقات قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    اس وقت بھی یہ سربراہی اجلاس تب ہوا ہے جب مشرق وسطیٰ کے اسلامی ممالک اور اسرائیل کے درمیان سیاسی تناؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ اسرائیل کی غزہ میں جنگی تباہی پھیلاتے ہوئے 3 سال ہونے جا رہے ہیں۔ اسلامک ٹاسک فورس اگر قائم ہو بھی گئی تو اس کی کسی شق میں فلسطین کی آزادی کے لیئے اسرائیل سے جنگ کرنا شامل نہیں بلکہ اس کا بنیادی مقصود ممبران ممالک پر اسرائیلی حملے کے خلاف دفاع کرنا شامل ہے تاکہ کسی ایک ملک پر اسرائیلی حملہ دیگر ممبران ممالک پر حملہ متصور کیا جا سکے، حالانکہ اسرائیل خطے کے دیگر ممالک پر پہلے ہی حملوں اور وہاں تباہ کاریاں پھیلانے کا مرتکب رہا ہے جس میں لبنان، ایران، یمن اور شام پر حملے شامل ہیں۔

    یہاں تک کہ اسرائیل نے گذشتہ ہفتے قطر پر بھی بے دھڑک حملہ کیا جو غزہ جنگ کے خاتمے کی کوششوں کے لیے ثالثی کا کردار ادا کر رہا تھا۔ اس کے باوجود قطر سمیت سربراہی اجلاس میں اسرائیلی حملے کے باوجود دوحہ نے غزہ جنگ کو روکنے کے لیے قاہرہ اور واشنگٹن کے ساتھ اپنی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس کا اعادہ قطر کے وزیرِ اعظم عزت مآب شیخ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے دوحہ میں عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے بند کمرے کے اجلاس کے دوران بھی کیا اور اجلاس میں بھی اس پر زور دیا، اور بین الاقوامی برادری سے بھی کہا کہ وہ اپنا "دوہرا معیار” ترک کریں۔

    سربراہ کانفرنس کا متضاد بیانیہ

    اس کانفرنس میں "مشترکہ عرب فورس” کے قیام اور لائحہ میں شامل بنیادی چیز خطے میں اسرائیلی منصوبہ بندی کی نگرانی اور اس کے توسیع پسندانہ منصوبوں کی مؤثر روک تھام کے لیے ہم آہنگ اقدامات اٹھانا ہیں مگر اجلاس میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے اور عرب و اسلامی ممالک سے اسرائیلی سفیروں کو بے دخل کرنے کا عملی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ کیا حماس کے اس مطالبے پر عمل ہو گا کہ تمام مسلم ممالک اسرائیل کا بائیکاٹ کریں اور اسے سیاسی اور اقتصادی طور پر تنہا کرنے کے لیے کام کریں۔ کانفرنس کے روز حماس کی جانب سے جاری ایک میمورنڈم میں غزہ، مغربی کنارے اور یروشلم میں اسرائیلی "جارحیت اور فلسطینیوں کی نسل کشی کو روکنے” اور اسرائیلی رہنماؤں کے خلاف بین الاقوامی عدالتوں میں مقدمہ چلانے کے لیے دباؤ ڈالنے کا بھی مطالبہ کیا گیا تھا۔ حماس کے رہنما عزت الرشق نے دوحہ سربراہی اجلاس کے شرکا پر زور دیا تھا کہ وہ غزہ میں نسل کشی اور مغربی کنارے، یروشلم، لبنان، شام، یمن، تیونس اور قطر میں صیہونی قبضے کے جرائم کو روکنے کے لیے تاریخی اتفاق رائے کا اظہار کریں۔

    لیکن اجلاس کے مجموعی اقدامات کو ایسی کوئی حتمی و عملی شکل نہیں دی گئی کہ جس سے ظاہر ہوتا ہو کہ اسرائیل اور امریکہ کو ان کی زبان میں عرب یا دیگر مسلم حکومتیں مل کر جواب دے سکتی ہیں۔

    ایسی سربراہی کانفرنس سے بہتر تو اقوام متحدہ کا "نیو یارک ڈیکلریشن” تھا، جس کے ذریعے دو ریاستی حل پر اکثریتی ووٹ سے اتفاق کیا گیا تھا۔ البتہ اس قراد سے حماس کو نکال دیا گیا تھا یا شامل ہی نہیں کیا تھا۔ اس کے بدلے میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کو اہمیت دی گئی۔ البتہ یہ قرار داد جو 142 ووٹوں کی اکثریت سے منظور ہوئی، چند ماہ قبل فرانس اور سعودی عرب کی مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے منعقد کی گئی انٹرنیشنل کانفرنس کی قرادداد کا اعادہ ضرور تھی۔ جنرل اسمبلی کی قرار داد میں اسرائیل اور امریکہ سمیت 10 ممالک نے قراد داد کی مخالفت میں ووٹ ڈالے تھے جن میں ارجنٹائن، ہنگری، پیراگوئے، نیرو، مائیکرونیشیا، پاولو، پاپو نیوگوانیا اور ٹانگو سرفہرست ہیں، جبکہ اپنا ووٹ کاسٹ نہ کرنے والوں میں چیک رپبلک، کیمرون، گانگو، آکواڈور، ایتھوپیا، البانیہ، فجی، گرانتا مالا، ساموعہ، نارتھ میسوڈونیا، مالڈووا اور ساوتھ سوڈان شامل تھے۔ جبکہ اسلامی سربراہوں نے جو قرار داد منظور کی اس میں بھی "حماس” کو شامل کرنے کی ہمت نہیں دکھائی گئی۔

    فلسطین کے نائب صدر اور پی ایل او کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر حسین الشیخ نے جنرل اسمبلی قرارداد کی تعریف کرتے ہوئے وضاحت کی تھی کہ اگرچہ یہ قرار مکمل نہیں مگر اسے ایک اچھی پیش رفت کہا جا سکتا ہے، کیونکہ اس سے 1967 کی سرحدوں کے مطابق دو ریاستی حل میں فلسطینی ریاست کے قیام کی کوئی صورت نکل سکتی ہے۔ لیکن سربراہی کانفرنس میں اس کے مطابق فلسطینی ریاست کے قیام کو ڈسکس کرنے کا کوئی ایجنڈا تھا اور نہ ہی اس کے اختتامی اعلامیہ میں اس کا کوئی ذکر شامل کیا گیا تھا۔

    اقوام متحدہ کی قرارداد کے فورا بعد برطانیہ اور فرانس سمیت کئی مغربی ممالک نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے اشارے دیئے تھے جس سے اسرائیل کو سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اقوام عالم کی اس قرارداد کو اسرائیلی وزیراعظم نے رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ، "فلسطینی ریاست قائم نہیں ہو گی۔”، بلکہ نیتن یاہو نے ویسٹ بنک میں اسرائیلی آباد کاری کو تیز کرنے کے احکامات جاری کیئے تھے۔

    یوں دیکھا جائے تو دوحہ اسلامی سربراہی کانفرنس جہاں متضاد مذمتی بیانات سے آگے نہیں بڑھ سکی ہے وہاں اس سے اسرائیل اور امریکہ پر مسلم دنیا کی کمزوریاں اور ان کا کھوکھلا پن واضح ہوا ہے۔ ایک ہوتا ہے بھرم ہم مسلم دنیا عزت و وقار کے ساتھ وہ بھی نہیں رکھ پا رہے ہیں۔

    اس سے بہتر مسلم لیڈران ایک حقیقت پسندانہ لائحہ عمل یہ طے کر سکتے تھے کہ وہ اس خلا کو پر کریں اور ان شعبوں کو بہتر بنانے کی تجاویز پر بحث کریں کہ جن کے ہوتے ہوئے اسرائیل کو بلا خوف و تردد قطر پر حملہ کرنے کا موقعہ ملا۔

  • غزہ میں انسانی بحران پر عالمی آوازیں

    غزہ میں انسانی بحران پر عالمی آوازیں

    غزہ میں انسانی بحران پر عالمی آوازیں

    ڈاکٹر  رحمت عزیز خان  چترالی

    فلسطین اور اسرائیل کے مابین تنازعہ ایک صدی سے زائد پرانا ہے۔ 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے یہ مسئلہ شدت اختیار کرتا گیا، جس میں بارہا فلسطینیوں کو زبردستی بے گھر کیا گیا، ان پر حملے کیے گئے  اور ان کی بنیادی انسانی حقوق کو مسلسل پامال کیا گیا۔ غزہ جو کہ فلسطینی سرزمین کا ایک مختصر مگر گنجان آباد علاقہ ہے، کئی دہائیوں سے اسرائیلی ناکہ بندی اور بمباری کا شکار رہا ہے۔

    اکتوبر 2023 میں حماس کی طرف سے اسرائیلی حدود میں حملے کے بعد اسرائیل نے جوابی کارروائیوں کا آغاز کیا، جس کے نتیجے میں غزہ ایک بار پھر انسانی المیے کی علامت بن گیا۔ لاکھوں شہری محصور، بے گھر  اور خوراک و پانی جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہوگئے۔ اس جنگ کے اثرات بین الاقوامی ضمیر کو جھنجھوڑنے لگے اور بالآخر دنیا بھر سے جنگ بندی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔

    یورپی یونین کے 20 ممالک سمیت دنیا کے 25 ممالک کے وزرائے خارجہ اور یورپی کمشنر برائے کرائسز مینجمنٹ نے حالیہ مشترکہ بیان میں اسرائیل کی امدادی پالیسی کو خطرناک اور غیر انسانی قرار دیتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ بیان نہ صرف غزہ کی تشویشناک انسانی صورت حال کو اجاگر کرتا ہے بلکہ اسرائیل کے امدادی ماڈل کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بناتا ہے جو "ڈرپ فیڈنگ” کے تحت شہریوں کو قطرہ قطرہ امداد فراہم کر رہا ہے۔

    بیان میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا گیا کہ 800 سے زائد فلسطینی، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، صرف امداد کی تلاش میں شہید ہو چکے ہیں۔ ان اموات کی ذمہ داری اسرائیلی حکومت کے اس رویے پر عائد کی گئی ہے جو عالمی انسانی قوانین کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

    یہ اعلامیہ صرف ایک سفارتی بیان ہی  نہیں بلکہ بین الاقوامی ضمیر کی بیداری کی علامت بھی ہے۔ اگرچہ ماضی میں بھی عالمی برادری نے فلسطین کے مسئلے پر آواز بلند کی ہے، لیکن عملی اقدامات کی کمی نے ان بیانات کو محض رسمی قرار دیا۔ اس بار  جن الفاظ میں اسرائیلی پالیسی کو "غیر انسانی، خطرناک، اور انسانی وقار کے خلاف” قرار دیا گیا ہے، وہ سفارتی انداز سے ہٹ کر ایک سخت اور کھلا احتجاج ہے۔

    غزہ میں انسانی بحران پر عالمی آوازیں

    یہ بیان اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ امداد کی فراہمی کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا، نہ صرف بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ خطے میں مزید عدم استحکام کو ہوا دینے کے مترادف بھی ہے۔ فلسطینی عوام کو امداد کے لیے قطاروں میں کھڑا کرکے یا حملوں کا نشانہ بنا کر ان کی تذلیل کی جا رہی ہے۔

    دوسری جانب، اسرائیلی یرغمالیوں کا ذکر بھی اس بیان کا حصہ ہے جو متوازن سفارتی لب و لہجہ ظاہر کرتا ہے، لیکن اس توازن کے باوجود بنیادی توجہ غزہ کے انسانی بحران پر مرکوز ہے۔

    بیان میں جنگ بندی کی درخواست موجود ہے لیکن اسرائیل پر سفارتی یا اقتصادی دباؤ ڈالنے کی کوئی حکمت عملی واضح نہیں۔ اس سے ان بیانات کی حیثیت کمزور پڑ جاتی ہے۔

     صرف بیانات اور قراردادیں کافی نہیں، ضرورت ہے کہ یورپی یونین اور دیگر ممالک اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں اور انسانی حقوق کی پامالی کے مرتکب ریاستی عناصر کے خلاف عملی اقدامات کریں۔

     عالمی برادری کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ کسی ایک فریق کے ظلم پر خاموشی اور دوسرے فریق کی مزاحمت کو دہشت گردی قرار دینا ایک اخلاقی تضاد ہے، جس سے بین الاقوامی نظام انصاف کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔

    دنیا کے 25 ممالک کی طرف سے جاری کردہ مشترکہ اعلامیہ ایک خوش آئند قدم ہے، لیکن اس پر حقیقی اثر تبھی مرتب ہوگا جب یہ محض الفاظ سے نکل کر عمل کی صورت اختیار کرے۔ غزہ میں جاری انسانی المیہ عالمی برادری کے ضمیر کا امتحان ہے۔ اگر یہ امتحان خالی بیانات سے گزارا گیا تو تاریخ عالمی قوتوں کے کردار کو معاف نہیں کرے گی۔

    انسانی وقار، بنیادی ضروریات  اور معصوم جانوں کا تحفظ کوئی سیاسی معاملہ نہیں بلکہ ایک آفاقی انسانی فریضہ ہے۔ فلسطین میں امن صرف جنگ بندی سے نہیں بلکہ انصاف پر مبنی پائیدار حل سے ممکن ہے۔

    Title Photo by Mohammed Abubakr

  • یونیسکو سے امریکہ کی علیحدگی

    یونیسکو سے امریکہ کی علیحدگی

    یونیسکو سے امریکہ کی علیحدگی

    ڈاکٹر  رحمت عزیز خان  چترالی

    امریکہ کی جانب سے ایک بار پھر اقوامِ متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے یونیسکو (UNESCO) سے علیحدگی کا اعلان عالمی سطح پر حیرت اور بحث کا باعث بنا ہے۔ اس فیصلے کی بنیاد اسرائیل مخالف جذبات کے پرچار کا الزام ہے، جو نہ صرف اقوامِ متحدہ کی بنیادی اقدار سے متصادم ہے بلکہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب دنیا کو باہمی تعاون، امن، ثقافتی ہم آہنگی  اور انسانی حقوق کے تحفظ کی اشد ضرورت ہے۔

    اقوامِ متحدہ کا ادارہ یونیسکو 1945 میں دوسری جنگ عظیم کے تباہ کن نتائج کے بعد قائم ہوا، تاکہ تعلیم، سائنس، ثقافت اور اطلاعات کے ذریعے دنیا میں امن اور بین الاقوامی ہم آہنگی کو فروغ دیا جا سکے۔ امریکہ یونیسکو کے بانی رکن ممالک میں شامل رہا، تاہم اس کی یونیسکو کے ساتھ تاریخ نشیب و فراز سے بھری ہوئی ہے۔

    1984 میں امریکہ نے پہلی مرتبہ یونیسکو پر "بائیں بازو کی سیاست، مالی بدعنوانی اور اسرائیل مخالف تعصب” کے الزامات لگا کر ادارے سے علیحدگی اختیار کی۔

    2003 میں دوبارہ شمولیت اختیار کی گئی، لیکن فلسطین کو 2011 میں مکمل رکنیت دیے جانے کے بعد امریکہ نے یونیسکو کی مالی معاونت روک دی۔

    2017 میں ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت نے پھر علیحدگی کا اعلان کیا، اور اب حالیہ اعلان کے مطابق 31 دسمبر 2026 کو اس فیصلے کا باضابطہ اطلاق ہو گا۔

    یونیسکو سے امریکہ کی علیحدگی

    امریکہ نے یونیسکو پر اسرائیل مخالف ایجنڈا پھیلانے کا الزام عائد کیا، خاص طور پر فلسطین کو مکمل رکنیت دینے اور یروشلم کو فلسطینی ورثہ قرار دینے پر۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا کسی قوم کے ثقافتی ورثے کو تسلیم کرنا تعصب کے زمرے میں آتا ہے یا یہ ایک تاریخی حقیقت کی تائید ہے؟
    یونیسکو ایک غیر جانب دار ادارہ ہے جو تمام اقوام کو برابر سمجھتا ہے  اور اس کا مقصد ثقافتی حقائق کو محفوظ رکھنا ہے نہ کہ کسی سیاسی فریق کی حمایت کرنا ہے۔

    امریکہ کا کہنا ہے کہ یونیسکو کا نظریاتی ایجنڈا "امریکہ فرسٹ” پالیسی سے متصادم ہے۔ لیکن درحقیقت، یونیسکو جیسے اداروں کا مقصد ہی "مشترکہ مفادات” کے لیے کام کرنا ہے نہ کہ کسی ایک قوم کے خودغرضانہ مقاصد کی تکمیل۔

    یونیسکو دنیا بھر میں تعلیمی منصوبے، سائنسی ترقی، صحافت کی آزادی، ثقافتی ورثہ کی حفاظت، لسانی تنوع اور بنیادی تعلیم کے فروغ جیسے منصوبوں میں کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ امریکہ کی علیحدگی ان منصوبوں کو بجٹ اور پالیسی سطح پر شدید متاثر کر سکتی ہے۔

    عالمی برادری کے اجتماعی اداروں سے مسلسل علیحدگی کے فیصلے امریکہ کو اخلاقی و سفارتی طور پر تنہائی کی طرف لے جا رہے ہیں، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک میں اس کے تاثر کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

    اس فیصلے کے کئی ممکنہ اثرات مرتب ہوسکتے ہیں جن میں  فلسطین کے حوالے سے یونیسکو کی سرگرمیاں مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہیں۔ یونیسکو کا بجٹ متاثر ہو گا، جس کا اثر ترقی پذیر ممالک میں تعلیمی اور ثقافتی منصوبوں پر پڑے گا۔ عالمی برادری میں امریکہ کے کردار اور ساکھ پر سوالات اٹھیں گے اور  اسرائیل کو مزید بالواسطہ یا براہِ راست سفارتی تقویت حاصل ہو گی۔

    بین الاقوامی اداروں کو سیاست سے پاک رکھا جائے، یونیسکو جیسے اداروں کو سیاسی و سفارتی تنازعات سے بالاتر ہونا چاہیے۔ رکن ممالک کو چاہیے کہ ان اداروں کو ثقافتی اور سائنسی ترقی کا پلیٹ فارم سمجھیں، سیاسی دنگل نہیں۔ عالمی طاقتیں غیر جانب دار کردار ادا کریں، امریکہ جیسے ممالک کو چاہیے کہ وہ طاقت کے بجائے مکالمے اور ہم آہنگی کو ترجیح دیں۔ یونیسکو جیسے ادارے امریکہ کی اقدار جیسے آزادی، تعلیم اور ثقافتی تنوع کے ترجمان ہیں۔ عالمی برادری مشترکہ لائحہ عمل بنائے، دیگر رکن ممالک کو چاہیے کہ وہ یونیسکو کی مالی و نظریاتی خودمختاری کو تحفظ دیں، اور ایسے ممالک کو واپس لانے کی سفارتی کوششیں کریں جو سیاسی بنیادوں پر ادارے سے علیحدہ ہو چکے ہیں۔

    یونیسکو کو مزید شفافیت اور توازن اپنانا ہوگا، یونیسکو کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی پالیسیوں میں شفافیت، توازن اور رکن ممالک کے خدشات کا جائزہ لے، تاکہ اس پر جانبداری کا الزام نہ لگ سکے۔

    یونیسکو سے امریکہ کی علیحدگی ایک ایسا قدم ہے جو عالمی ثقافتی ورثے، تعلیمی تعاون  اور بین الاقوامی ہم آہنگی کے لیے خطرناک نظیر بن سکتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ عالمی امن اور ترقی انفرادی نہیں، اجتماعی کوششوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اگر طاقتور ممالک اپنی مرضی کے مطابق عالمی اداروں سے وابستگی کو ناپ تول کے پیمانے پر تولیں گے تو نہ صرف ادارے بلکہ انسانی ترقی کا پورا عمل متاثر ہو گا۔ یہی وقت ہے کہ ہم قوموں کے درمیان مکالمے، ثقافتی ہم آہنگی اور تعلیمی تعاون کو ایک نئی روح دیں، اور یونیسکو جیسے اداروں کو مزید مستحکم اور غیر سیاسی بنانے کی کوشش کریں۔

  • جنرل عبدالقیوم ملک اور سرور منیر راؤ کے ساتھ ایک شام 

    جنرل عبدالقیوم ملک اور سرور منیر راؤ کے ساتھ ایک شام 

    جنرل عبدالقیوم ملک اور سرور منیر راؤ کے ساتھ ایک شام 

    تحریر: عبدالوحید خان، برمنگھم (یوکے) 

    برطانیہ میں اکثر و بیشتر وطن عزیز پاکستان سے مختلف شخصیات کا آنا جانا لگا رہتا ہے اور جب پاکستان سے کوئی اہم شخصیت برطانیہ آۓ تو دوست احباب کی کوشش ہوتی ہے کہ نہ صرف ان سے میل ملاقات ہو بلکہ باقاعدہ انکے اعزاز میں مختلف پروگرام اور تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے- 

    قائداعظم  ٹرسٹ برطانیہ کے چئیرمین، معروف سیاسی، سماجی و کاروباری شخصیت راجہ محمد اشتیاق کا دم غنیمت ہے کہ وہ نہ صرف قائداعظم ٹرسٹ کے پلیٹ فارم سے پاکستان کے حوالے سے اہم دنوں پر مختلف قسم کی تقریبات منعقد کرتے رہتے ہیں بلکہ پاکستان سے آنے والے معزز مہمانوں کے ساتھ مل بیٹھنے کے لۓ انکے اعزاز میں استقبالیہ تقریبات سجاتے ہیں جن میں دوست، احباب اور کمیونٹی کو بھی شامل کرتے ہیں گزشتہ روز برطانیہ کے نجی دورے پر آۓ ہوۓ سینٹ آف پاکستان کی سٹینڈنگ کمیٹ براۓ دفاعی پیداوار کے سابق چئیرمین، ایکس سروس مین سوسائٹی کے صدر، نظریہ پاکستان فاؤنڈیشن کے وائس چئیرمین، سینیٹر (ریٹائرڈ) لیفٹیننٹ جنرل عبدالقیوم ملک (ھلال امتیاز ملٹری)، ممتاز براڈ  کاسٹر، کالم نگار اور مصنف سرور منیر راؤ، مسلم لیگ نون کے ایم پی اے چوہدری عمران اکرم جٹ، اور مسلم لیگ قاف اسلام آباد کے رہنما ممتاز کاروباری شخصیت ملک کامران منیر کے اعزاز میں ایسی ہی دعوت استقبالیہ کا اہتمام کیا گیا- تقریب کی صدارت ٹرسٹ کے چئیرمین راجہ محمد اشتیاق نے کی جبکہ پیر سلطان نیاز الحسن قادری، پیر طیب الرحمٰن قادری، علامہ محمود احمد عباسی، طاہر افضل گجر، عبدالوحید خان، اورنگزیب عالمگیر، نوید انجم باجوہ، چوہدری شہزاد کریم، بیرسٹر عمر بنیامین، سہیل منور، چوہدری لیاقت،  راجہ محمد حبیب، چوہدری یاسین گجر، محمد  حنیف چیف انسپکٹر ویسٹ مڈلینڈ پولیس، فرحان احمد شہزاد، ارسلان شوکت، راجہ ناصر محمود، سید عابد کاظمی، ایس ایم عرفان طاہر، اور راجہ سہیل خان سمیت کمیونٹی کی متعدد شخصیات نے شرکت کی- تقریب کا آغاز بیرسٹر عمر بنیامین نے تلاوت کلام پاک سے کیا جس کے بعد مختلف شخصیات نے اظہار خیال کیا- سینیٹر (ریٹائرڈ) لیفٹیننٹ جنرل عبدالقیوم ملک نے اپنے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوۓ کہا کہ پاکستان دنیا کا ہر حوالے سے ایک اہم ملک ہے اور دفاعی طور پر خود انحصاری کی وجہ سے حالیہ پاک بھارت جنگ میں پاکستان نے پوری دنیا کو یہ باور کرا دیا ہے کہ پاکستان کسی بھی حوالے سے غیر اہم نہیں ہے اور نہ صرف پاکستان کی بہادر افواج ہر قسم کی جارحیت کا مقابلہ کرنے اور اپنے سے بڑے دشمن کو سبق سکھانے کے لۓ ہمہ وقت چوکس اور تیار ہیں بلکہ ہماری افواج کنونشنل وار میں بھی دنیا کو حیران کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جس نے انڈیا کے رائزنگ کے بلند و بانگ دعوے، بڑی آبادی، بڑی مارکیٹ، بڑے ملک کے تاثر اور انکے گلوبل پاور ہونے کے خود ساختہ غبارے سے ہوا نکال دی ہے- 

    جنرل عبدالقیوم ملک اور سرور منیر راؤ کے ساتھ ایک شام

    مسئلہ کشمیر اور فلسطین کے حوالے سے سینیٹر ریٹائرڈ جنرل عبدالقیوم ملک نے کہا کہ پاکستان کی شروع دن سے ایک ٹھوس پالیسی ہے کہ ہم ظلم کے مقابلے میں مظلوموں کے ساتھ ہیں اور فلسطین کے نہتے لوگوں پر جو ظلم کیا جا رہا ہے نیتن یاہو پر جنگی جرائم کا مقدمہ چلنا چاہئیے اور فلسطینی عوام کو آزادی ملنی چاہئیے اور اسی طرح مقبوضہ کشمیر کے عوام کو بھی آزادی ملنی چاہئیے جس کے لۓ ان کی بے شمار قربانیاں ہیں انہوں نے تقریب کے انعقاد پر شکریہ ادا کیا اور قائداعظم ٹرسٹ کو اپنی ہر ممکن مدد اور سرپرستی کی یقین دہانی کراتے ہوۓ مل کر پاکستان کے مثبت امیج کے لۓ کام کرنے کی اہمیت پر زور دیا- انہوں نے موجودہ پاکستانی حکومت کی پالیسیوں کو سراہتے ہوۓ معاشی اور سفارتی محاذ پر کامیابیوں کا ذکر کیا اور اوورسیز پاکستانیوں کے وطن عزیز کے لۓ مثبت حوالے سے کام کی بھی تعریف کی- 

    ممتاز براڈ  کاسٹر، کالم نگار اور مصنف سرور منیر راؤ نے تقریب کے انعقاد پر ٹرسٹ کے چئیرمین راجہ محمد اشتیاق اور انکے رفقائے کار کا شکریہ ادا کرتے ہوۓ کہا کہ آپ جیسے اوورسیز پاکستانیز وطن سے دور رہتے ہوۓ بھی پاکستان کے بارے میں فکرمند ہوتے ہیں اور وہاں سے آنے والوں کو جس خوشدلی اور جزبے کیساتھ ملتے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہے- سرور منیر راؤ نے کہا کہ پی ٹی وی کیساتھ وابستگی کے دوران وہ مختلف صدور اور وزراۓ اعظم کیساتھ پوری دنیا گھومے ہیں اور خوش قسمتی سے خانہ کعبہ کے اندر بھی جانے کی سعادت حاصل کی تو سوچا تھا کہ قدرت نے موقع دیا تو نبی آخرالزماں حضرت محمدﷺ کے حوالے سے کام کروں گا اور اب ایک دھائی سے زیادہ کی تحقیقی محنت کے بعد ”مدینہ منورہ: تاریخ کے آئینے میں“ شائع ہو گئی ہے جبکہ مکہ مکرمہ کے حوالے سے کتاب کی اشاعت کے لۓ کام جاری ہے- 

    انہوں نے اس موقع پر جنرل عبدالقیوم ملک اور علامہ محمود احمد عباسی کو اپنی کتاب ”مدینہ منورہ: تاریخ کے آئینے میں“ پیش کی اور کتاب پر ایک دہائی سے زیادہ اپنے تحقیقی کام کے بارے میں بتایا کہ انہوں نے یہ کام نبی آخرالزماں حضرت محمدﷺ سے عشق اور عبادت سمجھ کر سرانجام دیا ہے تاکہ آخرت سنور سکے- 

    جنرل عبدالقیوم ملک اور سرور منیر راؤ کے ساتھ ایک شام

    سرور منیر راؤ نے کتاب کے مواد کے لۓ اپنی تحقیق اور حوالہ جات کے علاوہ تدوین اور اشاعت کے مراحل میں درپیش مختلف مشکلات، مسائل اور پھر مرحلہ وار انکے حل کی مختصر روداد بھی سنائی لیکن اس حوالے سے تشنگی رہی کیونکہ کئی سال پہلے جب انہوں نے اس کام کو شروع کیا تھا تو یہیں برمنگھم میں ان سے ایک نشست میں شہر نبی اور وہاں کے حوالے سے انکی تحقیقی اور علمی گفتگو روحانیت اور عشق رسول سے ایسی لبریز تھی کہ سننے والے کا ایمان تازہ ہو جاۓ- وقت کی کمی بھی تھی اور انہوں نے دوسرے دن مانچسٹر سے اٹلی بھی جانا تھا اس لۓ ان کے اس روحانی علمی و تحقیقی کام کے حوالے سے طویل نشست کی بہرحال کمی محسوس کی گئ-

    مسلم لیگ نون کے ایم پی اے چوہدری عمران اکرم جٹ نے کہا کہ نامساعد حالات میں حکومت سنبھالنے کے باوجود وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں درست سمت میں سفر جاری ہے اور معاشی، سفارتی اور دفاعی حوالے سے پاکستان نے ایسی خاطرخواہ کامیابیاں حاصل کی ہیں کہ پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر لگی ہوئی اور مختلف ممالک کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدے ہو رہے ہیں جبکہ پنجاب حکومت کا کام مریم نواز شریف کی قیادت میں پورے پنجاب میں ہر جگہ نظر آ رہا ہے-

     مسلم لیگ قائداعظم اسلام آباد کے رہنما ممتاز کاروباری شخصیت ملک کامران منیر نے قائداعظم ٹرسٹ کا شکریہ ادا کیا اور اوورسیز پاکستانیوں کی وطن عزیز کی تعمیر و ترقی کے لۓ خدمات کی تعریف کی اور کہا کہ اوورسیز پاکستانی نہ صرف ہر وقت وطن عزیز کے بارے میں سوچتے ہیں بلکہ اپنی رقوم زرمبادلہ کی شکل میں بھیج کر ملکی معیشت کا پہیا چلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں-

    تقریب کے میزبان اور قائداعظم ٹرسٹ کے چئیرمین راجہ محمد اشتیاق نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہمیشہ پاکستان اور پاکستانیت کی بات کی ہے اور ہمارے ٹرسٹ میں ملک کے تمام صوبوں سے تعلق رکھنے والے سنجیدہ لوگ شامل ہیں جو ہر وقت پاکستانی پرچم کو سربلند رکھتے ہیں انہوں نے پاکستانی افواج کو زبردست خراج تحسین پیش کیا کہ جس نے دشمن کو شکست دے کر پاکستانیوں کے سر فخر سے بلند کر دئیے- انہوں نے تجویز پیش کی کہ اگر جنرل عبدالقیوم ملک ایکس سروس مین سوسائٹی یا نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے پلیٹ فارم سے قائداعظم ٹرسٹ کے ساتھ مل کر لاہور میں موجود جناح ہاؤس کو قائداعظم میوزیم کے لۓ حاصل کریں تو قائداعظم ٹرسٹ یوکے نہ صرف اس کی تعمیر و مرمت کی ذمہ داری لے گا بلکہ میوزیم کے لۓ دنیا بھر سے بانی پاکستان سے وابستہ اشیاء وہاں لے جا کر رکھیں گے- 

    جنرل عبدالقیوم ملک اور سرور منیر راؤ کے ساتھ ایک شام

    قبل ازیں عبدالوحید خان، چوہدری شہزاد کریم، بیرسٹر عمر بنیامین اور دیگر نے بھی اظہار خیال کیا اور مہمان شخصیات کی ملک کے مختلف شعبوں میں سرانجام دی جانے والی انکی خدمات کی تعریف کی- 

    آخر میں وطن عزیز کی تعمیر و ترقی، خوشحالی اور استحکام کے لۓ اجتماعی طور پر خصوصی دعا کی گئ اور مہمان شخصیات کے ساتھ انفرادی اور اجتماعی تصویریں بنوائی گئیں (ختم شد)

  • جنگ میں کون کہاں کھڑا ہے؟

    جنگ میں کون کہاں کھڑا ہے؟

    جنگ میں کون کہاں کھڑا ہے؟

    Dubai Naama

جنگ میں کون کہاں کھڑا ہے؟

    ایران کی جس ایٹمی صلاحیت کو آڑ بنا کر اسرائیل نے ایران پر حملہ کرنے میں پہل کی، اس کی بنیاد ایران نے امریکہ کے تعاون سے سنہ 1957ء میں رکھی تھی۔ اس وقت ڈیوڈ آئیزن ہاور امریکہ کے صدر تھے۔ وہ ریاست ہائے امریکہ کے 34 ویں صدر تھے جنہوں نے ایران کے اس اٹامک انرجی پروگرام کا نام "ایٹم فار پیس” رکھا تھا جس کا مطلب "امن کا زرہ” ہے، اور جسے آج اسرائیل اپنے لیئے خطرہ سمجھ کر ایران پر حملہ آور ہوا۔

    سنہ 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں بھی اسرائیل نے عربوں پر حملہ کرنے میں پہل کی تھی جب اسے معلوم ہوا تھا کہ عرب ممالک اسرائیل پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ جنگ صرف 6 دن تک جاری رہی تھی جس میں اسرائیل نے عربوں کو شکست دی۔ اس جنگ میں اسرائیل نے مصر اور شام کی ایئرفورس کو تباہ کر دیا تھا۔ اسرائیل نے اردن کے حملوں کو بھی ناکام بنایا تھا۔ اس جنگ کا خاتمہ اسرائیل کے غزہ سٹرپ، صحرائے سنہا، ویسٹ بنک، گولان کی پہاڑیوں اور ایسٹ یروشلم پر قبضے کی صورت میں ہوا تھا۔

    سنہ 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد ایران اسرائیل کی شدید کشمکش کا آغاز 80 کی دہائی میں ایران عراق جنگ کے دوران ہوا تھا جب اسرائیل نے ایران پر حملہ کر کے اس کے "نیوکلیئر پراسیسنگ پلانٹ” کو تباہ کر دیا تھا۔ اس بار بھی اسرائیل نے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ایران پر حملہ کر کے اس کے ایٹمی پروگرام کو تباہ کرنے کی کوشش کی جس میں ایران کو اعلی فوجی جرنیلوں اور اب تک 80 سے زیادہ سویلین کی شہادتوں کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس کے بدلے میں ایرانی کارروائیوں سے اسرائیل کو کتنا نقصان ہوا؟ ایران کے دعوے اپنی جگہ لیکن دنیا ’’الجزیرہ‘‘ اور "فاکس نیوز” کی رپورٹنگ کو نظرانداز نہیں کر سکتی۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ جنگ ہے اور جنگ کے میدان کی گرما گرمی کے ساتھ "جنگی دعوی جات” فروخت ہوتے ہیں۔ اسرائیل معاشی طور پر ایران سے زیادہ مضبوط ہے۔ یہ دعوی نہیں کیا سکتا کہ ایران یا اسرائیل دونوں جھوٹ بول رہے ہیں۔ البتہ ایک تو اسرائیل میں حالیہ جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی نافذ ہونے والی خصوصی سنسر شپ کی بدولت انہی اطلاعات پر انحصار کرنا پڑے گا جو دستیاب ہوں گی۔ اطلاعات کا ایک ذریعہ سوشل میڈیا کی مختلف سائٹس بھی ہیں۔ ان میں کچھ سنجیدہ تجزیے اور ٹھوس اطلاعات ضرور ہیں۔ دوسرا عالمی میڈیا اسرائیل کے زیر اثر ہے۔ انہی اطلاعات کے مطابق جنگ کے آغاز میں اسرائیل نے برتری حاصل کی مگر اس وقت صورتحال یہ ہے کہ اسرائیل چاہتا ہے کہ امریکہ مداخلت کر کے جنگ بندی کروائے کیونکہ اسرائیل کے مطابق اس نے ایران کی کمر توڑ دی ہے اب وہ اٹھنے کے قابل نہیں رہا ہے یعنی اسرائیل ایران پر حملے سے جو مقاصد حاصل کرنا چاہتا تھا یا تو اس نے وہ مقاصد حاصل کر لیئے ہیں اور یا پھر وہ اندرون خانہ جنگ ہار رہا ہے اور اب وہ جنگ سے فرار چاہتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہی ہے کہ ایرانیوں نے اسرائیلی اندازوں کے برعکس حیران کن جوابی وار کئے ہیں جس سے تل ابیب سے لے کر حیفہ تک اسرائیلی عوام میں خوف کا رقص شروع ہو گیا ہے۔ جنگ کے آغاز میں اسرائیلی شرح اموات کم تھیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ایران کے خلاف جنگی کارروائی کے آغاز پر اسرائیلی حکومت نے اپنے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے لئے کہہ دیا تھا۔

    لیکن سچ یہ ہے کہ جنگ کے ابتدائی چند دنوں کے دوران ایران کی جانب سے اسرائیل پر کئے گئے غیر معمولی اور منظم میزائل حملوں نے مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایرانی حملوں کا صرف عسکری نہیں بلکہ ان کا سیاسی، نفسیاتی اور سماجی اثر بھی نمایاں ہے۔ اسرائیل کے وجود کو جس مسلم ملک ترکی نے سب سے پہلے تسلیم کیا تھا اس کے سربراہ نے بھی اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور گزشتہ سال تک جس سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے اسرائیل کو سعودی عرب اور پاکستان سے تسلیم کروانے کے لیئے اسرائیل کا خفیہ دورہ کیا تھا، اب اسی سعودی عرب کے ولی عہد نے چند روز قبل ایرانی صدر کو فون کر کے جنگی تعاون کی یقین دہانی کروائی اور اپنے ایک بیان میں کہا کہ، "پوری اسلامی دنیا ایران اسرائیل جنگ کے حوالے سے متحد ہے۔”

    اسرائیلی حکومت اور اس کا مین اسٹریم میڈیا دنیا کو یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ صورتحال ان کے مکمل کنٹرول میں ہے، لیکن زمینی حقائق، سوشل میڈیا پر عوامی ردعمل اور غیر سرکاری بیانیئے اسرائیل کے اس سرکاری دعوے کو مکمل طور پر چیلنج کر رہے ہیں۔

    اسرائیل کی سرکاری رپورٹوں کے مطابق، ان حملوں میں اسرائیل کے کم از کم 18 افراد ہلاک اور 200 کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ اب تک درجنوں ایرانی میزائل اور ڈرونز اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ حملوں کا نشانہ بننے والے مقامات میں تل ابیب، حیفہ، بیرشیوا، اشدود، اور دیگر اہم شہر شامل ہیں۔ ان علاقوں میں اسرائیلی پینٹاگان، فوجی تنصیبات، تیل کے ذخائر، ریفائنریز، اسلحہ کے گوداموں اور کارخانوں کے علاوہ کچھ رہائشی عمارات بھی تباہ ہوئیں ہیں۔ عینی شاہدین کے مطابق بعض جگہوں پر آگ کئی گھنٹوں تک لگی رہی، اور اسرائیل کے ریسکیو ادارے مکمل طور پر بے بس دکھائی دیئے۔ اگرچہ اسرائیلی حکام نے صرف چند مخصوص مقامات پر نقصانات کو تسلیم کیا ہے، لیکن مختلف ذرائع سے آنے والی ویڈیوز اور تصاویر یہ ظاہر کرتی ہیں کہ اصل نقصان اس سے کہیں زیادہ وسیع اور گہرا ہے۔

    ان حملوں کے بعد اسرائیل میں معلومات کی ترسیل پر بھی خاصی قدغن دیکھی گئی۔ اسرائیل کے ہزاروں شہریوں نے سوشل میڈیا پر شکایت کی ہیں کہ حملوں کے فوراً بعد کئی علاقوں میں انٹرنیٹ اور موبائل نیٹ ورکس بند کر دیئے جاتے ہیں، خاص طور پر وہ مقامات جہاں نقصانات زیادہ ہوئے ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ بعض صارفین نے بتایا کہ ان کی پوسٹس، جن میں وہ میزائل حملوں کے مناظر یا نقصانات کی ویڈیوز شیئر کر رہے تھے، بغیر کسی وضاحت کے سوشل میڈیا سے ہٹا دی گئیں۔ اسرائیلی صارفین نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کی جنگی رپورٹنگ کو بین کیا جا رہا ہے یا اس کی "پہنچ” کم کر دی جاتی ہے۔ ایران، فلسطین کے الفاظ کی حامل پوسٹ اور جنگی مناظر پر مبنی ویڈیوز، ریلز، اور اسٹوریز "اپ لوڈ” نہیں ہو رہی ہیں، جبکہ دوسرے مواد پر ایسا نہیں ہے۔ اطلاعات ہیں کہ صرف "میٹا” نے جنگ کے پہلے تین دنوں میں 795,000 عربی و عبرانی پوسٹس اور تحاریر ہٹا دیں، اور سوشل میڈیا کے کئی اکاؤنٹس کو سسپینڈ کر دیا۔ یہ تمام اقدامات اس تاثر کو تقویت دیتے ہیں کہ اسرائیلی حکومت معلوماتی کنٹرول کے ذریعے داخلی بے چینی کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔

    اسرائیلی شہری اس دباؤ کو کھلے عام محسوس کر رہے ہیں۔ کئی شہروں میں اسکول بند رہے، بازار محدود وقت کے لئے کھلے، اور لوگ اپنی روزمرہ زندگی کو بم شیلٹرز کے ساتھ ہم آہنگ کرنے پر مجبور رہے۔ سیاحتی شعبہ مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے، اس وقت تقریباً 40 ہزار غیر ملکی سیاح اسرائیل کے مختلف شہروں میں پھنسے ہوئے ہیں کیونکہ فضائی حدود جزوی طور پر بند کر دی گئی ہیں۔ ہوٹلوں، ریلوے سٹیشنز، اور ایئرپورٹس پر غیر معمولی ہجوم دیکھا گیا۔ عوام میں نہ صرف غصہ بڑھ رہا ہے بلکہ ایک قسم کا عدم اعتماد بھی پیدا ہو رہا ہے کہ حکومت ان کے ساتھ مکمل سچائی کا برتاؤ نہیں کر رہی ہے۔

    اس دوران اسرائیلی حکومت نے مغربی کنارے، مشرقی یروشلم، اور دیگر فلسطینی علاقوں میں سیکیورٹی کی آڑ میں شدید پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ درجنوں نئے چیک پوائنٹس قائم کئے گئے ہیں، جن کی وجہ سے فلسطینیوں کی نقل و حرکت سخت متاثر ہوئی ہے۔ کئی جگہوں پر شہریوں کو ہسپتال یا عبادت گاہوں تک جانے کے لئے گھنٹوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ مسجد اقصیٰ کے گرد اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کی موجودگی میں بے پناہ اضافہ کیا گیا ہے۔ صرف معمر افراد کو داخلے کی اجازت ہے۔ جبکہ نوجوانوں اور بچوں کو زبردستی روک دیا گیا ہے۔ اسرائیل میں اگرچہ رسمی طور پر کسی کرفیو کا اعلان نہیں کیا گیا، لیکن اکثر شہروں میں صورتحال عملاً ایک مکمل کرفیو جیسی ہے، خاص طور پر مسلمان اکثریتی علاقوں میں۔

    یہ تمام صورت حال اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ ایران کے میزائل حملوں نے صرف فوجی اہداف کو نشانہ نہیں بنایا، بلکہ اسرائیل کے دہائیوں سے اپنی ناقابلِ تسخیر دفاعی طاقت کے دعووں کو بھی خاک میں ملا دیا ہے۔
    اب خود اسرائیلی عوام سچائی جاننا چاہتے ہیں، اور عبرانی و اسرائیلی سوشل میڈیا پر یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ حکومت اصل نقصان کی تفصیلات فراہم کرے۔ یوں اسرائیلی ریاست اپنے داخلی تضادات سے دوچار دکھائی دیتی ہے۔ اگر یہ رجحان جاری رہا، اور عوامی دباؤ بڑھتا رہا، تو شاید آنے والے دنوں میں اسرائیلی قیادت کو بین الاقوامی محاذ کے ساتھ ساتھ اپنے اندرونی عوامی محاذ پر بھی ایک بڑے چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اطلاعات پر کنٹرول، اظہارِ رائے کی پابندی، اور حقائق سے چشم پوشی کی پالیسی دیرپا نہیں ہو سکتی۔ ایران کے میزائل بے شک اسرائیل پر کم وقت کے لیئے گریں، لیکن ان کا اثر اسرائیل کی داخلی اور سیاسی ساکھ پر برسوں تک قائم رہے گا۔

    بہرکیف یہ سنہ 1967ء ہے اور نہ ہی 80ء کی دہائی ہے۔ اس پر مستزاد امریکی صدارت کی گدی پر امریکی تاریخ کے شاطر ترین صدر مکرمی ڈونلڈ ٹرمپ صاحب بیٹھے ہیں جن کی نظر "نوبل پیس پرائز” پر ہے۔ جس طرح انہوں نے پاک بھارت جنگ بندی کروائی، اسی طرح وہ ایران اسرائیل جنگ بھی امید ہے ضرور بند کروائیں گے۔ لیکن اس سے پہلے بہت سی ایسی رکاوٹیں اور مسائل ہیں جو ابھی حل طلب ہیں۔

    یاد رہے اسرائیل نے ایران پر عین اس وقت حملہ کیا جب ایران اور اسرائیل کے درمیان مشرق وسطی ہی کے دو ممالک میں "مذاکرات” جاری تھے۔ ان مذاکرات کا پہلا دور 12 جون کو ہوا اور ابھی 13 اور 14 جون کو مذاکرات ہونا تھے کہ اسی دوران اسرائیل نے اچانک علی الصبح ایران پر شدید حملہ کر دیا۔

    اگر کبھی جنگ بندی ہو گئی تو اس صورت میں "مسئلہ فلسطین” حل ہو گا، دیگر مسلمان ممالک اسرائیل کو تسلیم کریں گے یا نہیں اور ایران اپنی "پراکسی وارز” کو کہاں تک ختم کرے گا؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب ابھی آنا باقی ہے۔ کیا معطل ایران امریکہ مذاکرات دوبارہ شروع ہونگے اور ہوں گے تو ان کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، ان سوالوں کا سردست صحیح جواب ڈھونڈنا صرف قیاس آرائی ہے۔ مشرق وسطی میں امن کی بحالی دنیا بھر میں امن کی ضمانت ہے۔ دیگر عالمی طاقتوں کو چایئے کہ وہ جنگ بھڑکانے کی بجائے اس کے شعلوں کو بجھانے کے لیئے اپنا کردار ادا کریں، جس میں روس، چین، برطانیہ، فرانس اور جرمنی وغیرہ سرفہرست ہیں۔

  • امکانی طویل جنگ اور مسئلہ فلسطین کا حل

    امکانی طویل جنگ اور مسئلہ فلسطین کا حل

    امکانی طویل جنگ اور مسئلہ فلسطین کا حل

    Dubai Naama

امکانی طویل جنگ اور مسئلہ فلسطین کا حل

    کسی بھی جنگ کو اپنی مرضی سے شروع تو کیا جا سکتا ہے مگر اسے اپنی خواہش کے مطابق ختم نہیں کیا جا سکتا ہے۔ جنگ دو ملکوں اور فریقوں کے درمیان ہوتی ہے۔ ان میں سے ایک فریق جنگ کی شروعات کرتا ہے اور دوسرا فریق جارحیت یا بدلہ لینے کے لیئے جوابی وار کرتا ہے۔ اگر دوسرا ملک تگڑا جواب دے دے تو ہزیمت سے بچنے کے لیئے جنگ میں پہل کرنے والا ملک اس پر دوبارہ حملہ کرتا ہے۔ جنگ کسی بھی فریق، پارٹی یا ملک کو سہنی پڑے تو وہ اپنی بقاء اور سلامتی کے لیئے جارحیت کا جوابی حملہ ہر قیمت پر کرتا ہے، اور حملوں کا یہ عمل دو ملکوں کے درمیان بار بار دہرایا جاتا ہے۔ اگر یہ جنگ دو مذہبی اور نظریاتی دشمن ملکوں کے درمیان ہو تو، دونوں ممالک کے درمیان یہ جنگ اس وقت تک جاری رہتی ہے جب تک کہ جارح یا دفاع کرنے والے ملک کو فتح یا شکست نہیں ہو جاتی ہے۔

    لھذا یہ مصدقہ جنگی حقیقت ہے کہ اگر دو ملکوں کے درمیان ایک بار جنگ شروع ہو جائے تو وہ کبھی بھی برابری کی سطح پر ختم نہیں ہو سکتی ہے کیونکہ دو ملکوں کی جنگ میں جیت ہوتی ہے اور یا پھر ہار ہوتی ہے۔

    ایران اسرائیل کی حالیہ جنگ اسرائیل نے ایران پر حملے میں پہل کر کے شروع کی، اب اگر اسرائیل یا ایران چاہیں بھی تو 13 جون کو ایران پر اسرائیلی حملے سے شروع ہونے والی یہ جنگ فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوئے بغیر ختم نہیں ہو سکتی ہے۔ چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ دھمکی نما تحریری بیان جاری کر کے جنگ بندی کا اشارہ دیا کہ، ‏”ایران کو بار بار ڈیل کرنے کا موقع دیا، ایران جلد معاہدہ کرے، اِس سے پہلے کہ ایرانی سلطنت کہلائے جانے والے علاقے کا کچھ باقی نہ رہے،” لیکن اب صورتحال یہ ہے کہ مشرق وسطی میں امریکہ کے سٹریٹیجک پارٹنرز بھی رخ بدلتے نظر آ رہے ہیں۔ ایک روز سعودی عرب نے قابل تحسین اقدام یہ کیا کہ جس کے تحت حکومت نے ایرانی حجاج کو حالات کے بہتر ہونے تک سعودیہ میں ٹھہرنے کی اجازت دے کر انہیں سرکاری مہمانوں کا درجہ دیا۔ اس سے اگلے روز سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ آج پوری اسلامی دنیا ایران کی سپورٹ میں متحد ہے۔ اگرچہ امریکی صدر نے اسرائیل کے حملے سے پہلے مشرق وسطی کا کامیاب دورہ کیا اور سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور قطر وغیرہ سے فوجی اور سرمایہ کاری کے تاریخی معاہدے کیئے۔ حتی کہ اسرائیلی حملے کے روز پاکستان کو اعتماد میں لینے کے لیئے پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو دعوت دے کر امریکہ بلایا اور اسی دن پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کو بھی اسی مد میں ایک اعلی سطحی وفد کے ساتھ متحدہ امارات کے دورے پر مصروف رکھا۔ لیکن اسرائیلی جارحیت اور ایران کی جوابی کاروائی کے بعد کیا ہوا کہ پاکستان کی قومی اسمبلی و سینٹ کی قرار دادوں اور وزیر دفاع کے پالیسی خطاب نے امریکی توقعات کی امیدوں پر پانی پھیر دیا!

    اسرائیل کے پہلے حملے میں ایران کی فوجی تنصیبات، جرنیلوں، سائنس دانوں اور ایران کے درجنوں معصوم شہریوں کی شہادتوں سے ایران کا جتنا نقصان ہوا اور پھر جس طرح ایران نے اسرائیل پر میزائیلوں اور ڈرونز کے ذریعے شدت سے جوابی حملہ کیا، اور پھر دوسرا حملہ بھی کر ڈالا جس سے تل ابیب اور حیفہ لرز اٹھے، اس سے ثابت ہو گیا ہے کہ ماضی کے برعکس ایران اسرائیل کے درمیان حقیقی دشمنی کی یہ جنگ، جیسا کہ ماضی میں کہا جاتا تھا، کم از کم "نورا کشتی” نہیں ہے جسے ایران، اسرائیل یا امریکہ چاہیں بھی تو وہ کسی فیصلہ کن موڑ پر پہنچے بغیر ختم نہیں کر سکتے ہیں۔

    ایک رائے یہ ہے کہ ایران کے پاس پندرہ سو سے دو ہزار میزائلوں کا محدو ذخیرہ ہے اور جب وہ ختم ہو گا تو جنگ فطری طور پر ختم ہونے کے قریب پہنچ جائے گی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ افغانستان کی جنگی صورتحال کو مدنظر رکھا جائے تو "ایں خیال است و محال است” کے مصداق، جنگ بندی آسانی سے نہیں ہو گی۔ ایران کو جہاں اسلحہ کی رسد اس کے اتحادی پہنچائیں گے، وہاں ایران وقت آنے پر "آبنائے ہرمز” کا راستہ بند کرے گا جس سے دنیا بھر میں تیل کی قیمتیں دگنی ہو جائیں گی اور اسرائیل کے اتحادیوں سمیت عالمی معیشیت کو بھی اتنا بڑا جھٹکا لگے گا کہ صرف اسی ایک جھٹکے کے اثرات سے نکلتے دنیا کو کم و بیش دو سال سے زیادہ کا عرصہ لگے گا۔ اس دوران ایران اسرائیل کے خلاف "گوریلا وار” شروع کر سکے گا۔ اگر امریکہ سمیت اسرائیل کے جنگی اتحادی جنگ میں کُود پڑے یا انہوں نے آیت اللہ کی حکومت بظاہر ختم بھی کر لی (جیسا کہ وہ چاہتے ہیں) تو اس کا دائرہ تہران تک محدود ہو گا اور وہ بھی افغانستان کے کرزئی کی حکومت جیسی مظلوم حکومت ہو گی اور آیت اللہ کی گوریلہ وار جس کا نشانہ نرم مغربی اور اسرائیلی ٹارگٹس ہوا کریں گے، اس سے مڈل ایسٹ میں بھی وہ سورش برپا ہو گی جس سے عرب بادشاہتوں کے پاؤں اکھڑ سکتے ہیں۔

    یہی وجہ ہے کہ مشرق وسطی میں امریکہ کے اتحادی بھی ایران کی اس طرح کی شکست کے حامی نہیں ہو سکتے ہیں۔ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستیں ایران کو "ایٹمی پاور” بنتے نہیں دیکھنا چاہتی ہیں مگر وہ یہ بھی نہیں چاہتی ہیں کہ ایران کا وجود ختم ہو جائے یا خطے میں "گریٹر اسرائیل” قائم ہو۔

    اس مقصد کو حاصل کرنے کے دوران مغرب، امریکہ اور اسرائیل کے خلاف خطے میں نفرت اور شدت پھیلے گی،
    مغرب کو یہاں اُس سے کئی گنا زیادہ پیسہ لگانا پڑے گا جتنا اُس نے افغانستان میں لگایا تھا لیکن یہاں سے مغرب ویسی آسانی سے نکل بھی نہیں پائے گا جیسے وہ افغانستان سے نکلا تھا، کیونکہ رُوس اور چین نکلنے ہی نہیں دیں گے۔ گزشتہ روز چین نے بھی جنگ میں ایران کی مدد کرنے کا واضح اعلان کر دیا۔ فرض کریں آیتُ اللہ کی شہادت کی صورت میں اُن کا بیٹا مزاحمت کا سربراہ ہو گا۔ دنیا بھر میں پھیلے اُن کے فالوورز آسان مغربی ٹارگٹس میں وہ تباہی پھیلائیں گے کہ دنیا وہ دہشت گردی بھول جائے گی جو اس نے گزشتہ پچیس سال کے دوران بھگتی ہے۔ ایسا نہ بھی ہُوا تو ہم اگلی کئی دہائیوں تک مغرب اور مڈل ایسٹ میں ایسی بدامن ہو گی کہ اس سارے ماحول میں سب سے زیادہ نقصان اسرائیلیوں کا ہو گا، کوئی اسرائیلی دنیا میں کسی ایک بھی جگہ محفوظ نہیں ہو گا۔

    یہ جنگ میرے خیال میں ہفتہ یا دو ہفتہ کے بعد بند نہیں ہو گی بلکہ یہ جنگ عالمی جنگ میں نہ بھی بدلی تو یہ جنگ جتنی دیر بھی رہی اس سے فلسطین اسرائیل کے تنازعہ کے حل کا موقع ضرور پیدا ہو گا کیونکہ اس جنگ کی بنیادی وجہ میں ایران کا حماس اور حزب اللہ کی فوجی اور اخلاقی حمایت کرنا سرفہرست ہے۔ جیسا کہ سعودی عرب نے ایران اسرائیل جنگ کے بعد "یو ٹرن” لیا ہے، اس سے مشرق وسطی میں کم از کم "سٹریٹیجک پارٹنرشپ” کی نئی صف بندی کا بھی آغاز ہو گا جس میں چین اور روس بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔

    اسرائیل نے اپنے قیام سے اب تک ایک غاصب ریاست کا کردار ادا کیا ہے جس پر گرتے میزائل اور راکٹ دنیا بھر میں مسلمانوں کی نا صرف اجتماعی تسکین بن رہے ہیں بلکہ وہ تصور بھی بدل رہے ہیں جو ان ممالک کو ناقابل شکست اور ناقابل تسخیر پیش کرتا تھا. یہی طاقت کے زوال کی ابتداء ہوتی ہے. پہاڑ جتنا بھی بلند ہو ایک پگڈنڈی بن جائے تو اسے پار کرنے کا راستہ کھل جاتا ہے. ایران اسرائیل کے مقابلے میں کمزور سہی مگر غاضب ریاست پر گرتے ان راکٹوں کا نقصان اعداد میں نہیں اثرات میں نظر آتا دکھائی دے رہا ہے.

    ایران کی لیڈرشپ مسلم عوام کو اس لئے پسند ہیں کہ یہ غیرت مند ہیں، اپنی قوم کے وفادار اور ہمدرد ہیں، دلیر اور بہادر ہیں، سامراج کے آلہ کار، ایجنٹ اور ٹاؤٹ نہیں ہیں، آزادی پسند ہیں اور خود مختار ہیں، مظلوم کے حمایتی اور ظالم کے دشمن ہیں۔ جبکہ باقی شہادتیں، تکالیف، مشکلات، کمزوریاں اور پابندیاں خود دار اقوام کی حیات میں آتی رہتی ہیں۔ ایرانی قوم کے عقائد سے مسلم دنیا کا کوئی لینا دینا نہیں، مسلمان سامراج دشمنی کے مداح ہیں اور ہمیشہ اُسے سراہتے ہیں۔ اہم بات یاد رکھنے کی یہ ہے کہ اسرائیل کا بنیادی مقصد ایران کی نیوکلئیر صلاحیت کا خاتمہ تھا، باوجود تمام تر کامیابیوں کے اسرائیل اب تک یہ ہدف حاصل نہیں کر سکا ہے۔

    ابتدائی طور پر گو یہ جنگ ایران اور اسرائیل کے درمیان ہے مگر اس وقت پورا مڈل ایسٹ نشانے پر ہے۔ صرف ایران ڈی سیٹیبلائز نہیں ہو گا بلکہ اثرات پورے خطے پر پڑیں گے۔ دوسری بات یہ ہے کی جنگ کا آغاز تو اپنی مرضی و منشاء سے کیا گیا ہے لیکن اس کے نتائج پر ان کا کنٹرول نہیں وہ اللہ کی مرضی پر منحصر ہوں گے۔

    ایران کو طویل جنگ لڑنے کا تجربہ ہے جس نے عراق سے 8سالہ تک جنگ میں اپنے اعصاب پر مکمل قابو رکھا تھا اور وہ جنگ بھی امریکی ایماء پر عراق نے ایران پر حملے میں پہل کر کے مسلط کی تھی، جیسا کہ اسرائیل نے ایران پر حملہ کرنے میں پہل کی ہے۔ جنگ عظیم دوم میں بھی جاپان نے امریکہ کی پرل ہاربور پر حملے کی پہل کی تھی جس کے بعد ناگا ساقی اور ہیروشیما پر امریکہ نے ایٹم بم گرائے تھے۔ امریکہ نے شائد جنگی تاریخ سے سبق نہیں سیکھا ہے کہ وہ ایران کو دھمکانے کے بعد آج اسرائیل جیسے جارح ملک کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ امریکہ اور مغرب اگر دنیا میں امن چاہتے ہیں تو یہ موقع ہے کہ وہ مشرق وسطی میں مستقل اور پائیدار امن قائم کرنے کے لیئے مسئلہ فلسطین کو حل کرنے کے لیئے اسرائیل کی جنگ میں مدد کرنے کی بجائے مذاکرات کی میز پر لے آئیں۔ چونکہ مشرق وسطی دنیا بھر میں امن کی بحالی کے لیئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، لھذا ان کو چایئے کہ وہ جنگ بندی کرانے کے بعد مسئلہ فلسطین کو ترجیحی بنیادوں پر حل کریں، ورنہ یہ جنگ وقتی طور پر بند بھی ہو جائے تو جہاں لانگ ٹرم امن قائم نہیں ہو گا وہاں خطے میں دوبارہ کھلی جنگ اور گوریلا وار پیچیدگی کے امکان میں مزید اضافہ گا۔