Tag: فلسطین

  • ”پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کی جنگ“

    ”پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کی جنگ“

    ”پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کی جنگ“

    تحریر: عبدالوحید خان، برمنگھم (یوکے)

    ریگولر میڈیا اس وقت نہ صرف مکمل طور پر سوشل میڈیا کے حصار میں ہے بلکہ پرنٹ میڈیا تو اپنی بقا کی ایک ایسی جنگ لڑ رہا ہے جس میں اس کے بہت سارے مورچہ نشیں یکے بعد دیگرے ڈھیر ہوتے جا رہے ہیں حال ہی میں لندن سے پاکستان کے ایک بڑے میڈیا ہاؤس کے اخبار نے تقریباً نصف صدی پر محیط اپنا روایتی اخبار کا سفر ختم کر دیا ہے جسکی وجہ سے اسکا پرنٹ ایڈیشن بند کر دیا گیا ہے اور اب قارئین کے لئے صرف انٹرنیٹ پر ڈیجیٹل ایڈیشن دستیاب ہو گا جبکہ اس سے پہلے ایک دو اور بھی معروف اخبارات کاغذ پر پرنٹ ہو کر سامنے آنے سے منہ موڑ چکے ہیں- 

    یقیناً یہ افسوسناک خبر ہے، لیکن اچھا یا برا، معاشرہ بہت تیزی سے پیپر لیس سوسائٹی کی طرف بڑھ رہا ہے اور ڈیجیٹلائزیشن کا دور دورہ ہے، انٹرنیٹ کی بدولت مروجہ قدیمی صحافت بھی تبدیلی کے ماحول کے زیر اثر ہے اور ایسے میں وہی اخبارات جن کی انتظاميہ نے بروقت استحکام اور تبدیلی کا جانب مثبت اور موثر حسن انتظام اپنایا شاید وہ زندہ رہیں گے لیکن ایک مختلف شکل اور مختلف طریقے سے۔ 

    انٹرنیٹ کے آنے اور پھر اس کی ترقی سے سوشل میڈیا کے ظہور نے نہ صرف انسانی معاشرے کو واقعتاً ”گلوبل ویلج“ میں بدل دیا ہے بلکہ اطلاعات کی تیز ترین دستیابی اور باہمی رابطوں میں اضافے کے علاوہ لوگوں کو واقعات کے بارے میں زیادہ جانکاری بھی فراہم کر دی ہے اور شاید حالات و واقعات کے تیزی سے سامنے آنے پر لوگوں کو سوشل میڈیا نے اس پر فوری ردعمل ظاہر کرنے کی تیز ترین سہولت بھی فراہم کر دی ہے لیکن بدقسمتی سے اس تیزرفتاری کی دوڑ میں سچ، جھوٹ اور پروپیگنڈہ کی تفریق تقریباً ختم ہوتی جا رہی ہے جس سے معاشرے اور سوسائٹی میں عملی طور پر اسکے اثرات بھی بڑھتے جا رہے ہیں- 

    ایسے میں مختلف چیزیں، واقعات ، حالات اور حادثات انفرادی ہوں یا اجتماعی، علاقائی ہوں یا ملکی، قومی ہوں یا بین الاقوامی دنیا کو متاثر کرنے کی صلاحیت اور انکی پہنچ بھی اسی طرح سے بڑھ گئی ہے لیکن یہاں پر بات انفرادی ہو یا اجتماعی ، قوموں کی ہو یا ملکوں کی، سب اپنے اپنے مفادات اور ترجیحات کے اسیر نظر آتے ہیں مثلاً مغربی دنیا یا بااثر ممالک کا یوکرین اور روس جنگ پر ردعمل اور اسرائیل فلسطین جنگ پر ردعمل یکسر مختلف آیا تھا اسی طرح جب دیگر کوئی اہم واقعہ یا حادثہ ہوتا ہے تو اس پر بھی مختلف ممالک، قوموں اور سخصیات کا ردعمل بھی یکسر مختلف ہوتا ہے جس میں لوگوں ، اقوام اور ملکوں کی ذاتی پسند و ناپسند، ترجیحات اور مفادات کا بھی بڑا عمل دخل ہے جسکی وجہ سے دنیا بھر میں مختلف معاملات میں اتار چڑھاؤ آ رہے ہیں، ایک طرف جہاں انفرادی سطح پر لوگوں کو زیادہ معلومات حاصل کرنے کے مواقع بڑھ رہے ہیں اور دوسری طرف ملکوں کی سطح پر نئے اتحاد اور نئے معاہدے ممکن ہو رہے ہیں جس سے دنیا بڑی حد تک تبدیل ہو رہی ہے اور اس میں یقیناً ریگولر میڈیا کے علاوہ سوشل میڈیا کا بھی بڑا کردار ہے لیکن یہ امر بحث طلب ہے کہ یہ کردار منفی ہے یا مثبت؟  

    عام طور پر میڈیا کی اصطلاح ذرائع ابلاغ کیلئے استعمال ہوتی ہے جس میں اس کے مختلف میڈیم شامل ہیں لیکن ان دنوں فوری طور پر میڈیا کا نام آتے ہی جو تصور ذہن میں ابھرتا ہے وہ اخبارات، ریڈیو، ٹی وی، فلم اور رسائل کی بجائے سوشل میڈیا پر چھائی سچی یا جھوٹی ان خبروں اور کہانیوں کے بارے میں ہوتا ہے جو موبائل فون کی بدولت عام آدمی کی دسترس میں ہیں اور اس ضمن میں بالخصوص وطن عزیز پاکستان بہت تیزی سے تقریباً اپنی مثال آپ بنتا جا رہا ہے جہاں پر سوشل میڈیا پر طرح طرح کا سچا اور جھوٹا مواد گردش کر رہا ہے جبکہ یہاں برطانیہ میں صورتِ حال قدرے مختلف ہے کیونکہ یہاں ایک تو ڈیٹا پروٹیکشن کے سخت قوانین ہیں اور دوسرا ہتک عزت کے قوانین بھی موجود ہیں جن کی وجہ سے کوئی کسی کی پرائیویسی میں دخل اندازی کر کے یا کسی کے بارے میں جھوٹا پروپیگنڈہ کر کے آسانی کیساتھ جان نہیں چھڑا سکتا اگر معاملہ عدالت میں چلا جائے تو نہ صرف باقاعدہ شنوائی ہوتی ہے بلکہ جھوٹے اور بے سروپا الزامات لگانے والوں پر بھاری جرمانے بھی عائد ہوتے ہیں لیکن وطن عزیز پاکستان میں صورتحال یکسر مختلف ہے اور سچ و جھوٹ میں بسا اوقات تفریق بھی بہت مشکل ہو جاتی ہے اور اس میں ہر کوئی انفرادی اور اجتماعی طور پر بلا خوف و خطر اپنا پروپیگنڈہ جاری رکھتا ہے جسکی وجہ سے منظرنامہ مزید دھندلا ہوتا جا رہا ہے-

    اس میں کوئی شک نہیں کہ سوشل میڈیا کے آنے سے اطلاعات بہم پہنچانے اور پروپیگنڈہ کے لئے تیزترین پلیٹ فارم میسر ہو گئے ہیں جبکہ اس سے پہلے ریگولر میڈیا کی بدولت نہ تو اتنی تیزی تھی اور نہ ہی اتنی آزادی میسر تھی مثلاً پرنٹ میڈیا میں تو مختلف مدارج پر یہ کوشش ہوتی تھی کہ غلطیوں اور جھوٹ سے پاک درست اطلاعات اور صحیح خبر دی جائے جسکا بڑی حد تک معاشرے اور سوسائٹی میں اثر بھی ہوتا تھا جبکہ الیکٹرانک میڈیا کے آنے سے نہ صرف خبر کو چھاننے اور جانچنے کا کردار ادا کرنے والے وہ بہت سے مدارج بتدریج کم ہوئے بلکہ چینلز کی ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی دوڑ میں اخبارات اور رسائل میں جو چیک اینڈ بیلنس کا نظام ہوتا تھا اس سے پرائیویٹ الیکٹرانک میڈیا نے گلو خلاصی کرا لی اور بریکنگ نیوز و تبصروں اور تجزیوں کے نام پر عوام کی سرکاری ریڈیو اور ٹی وی کے برعکس ایک بالکل ہی نئے، جاندار اور تیزرفتار قسم کے میڈیا سے شناسائی ہوئی- اگرچہ سرکاری ریڈیو اور ٹی وی صرف سرکاری پروپیگنڈہ مشین کا کردار ادا کرتے تھے اور پرائیویٹ چینل نے اس کے برعکس عام عوام اور اپوزیشن کو بھی دکھانا شروع کیا لیکن بات یہاں پر رکی نہیں بلکہ سوشل میڈیا نے تو دونوں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو بہت پیچھے چھوڑ کر سب کچھ یوں تہس نہس کیا کہ خبر اور پروپیگنڈے کے فرق کیساتھ ساتھ سچ اور جھوٹ کی تمیز بھی ختم ہو کر رہ گئی ہے لیکن اس حقیت سے انکار بھی نہیں کہ اس سب کے باوجود بہت سے سچے واقعات اور مسائل سوشل میڈیا ہی کی بدولت منظر عام پر آئے- 

    علم معاشیات Economics کے ایک اصول کیمطابق دولت بذات خود نہ تو اچھی اور نہ ہی بری ہوتی ہے بلکہ اس کا استعمال اچھا یا برا ہوتا ہے بالکل اسی طرح سوشل میڈیا بذات خود نہ تو اچھا ہے اور نہ ہی برا بلکہ اس کا استعمال اچھا اور برا ہوسکتا ہے جس طرح علم معاشیات کے مطابق اب یہ دولت کا استعمال کرنے والوں پر منحصر ہے کہ وہ دولت مل جانے کے بعد اس کو اچھے کاموں میں استعمال کرتے ہیں یا برے کاموں میں لگاتے ہیں بالکل اسی طرح سوشل میڈیا کا استعمال کرنے والوں پر بھی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس مثلاً فیس بک، ٹوئٹر جسے اب ایکس کہتے ہیں، انسٹاگرام، یوٹیوب چینل، ٹک ٹاک، میسنجر، وٹس ایپ اور سنیپ چیٹ وغیرہ کے ذریعے کیسا مواد اپ لوڈ اور شئیر کرتے ہیں کیونکہ یہ مواد خواہ کسی پوسٹ کو لائک، کمنٹ کی صورت میں ہو، شئیر کیا گیا ہو یا مختلف گروپوں میں انفرادی طور پر رابطہ کیا گیا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ کیا یہ مثبت ہے یا منفی، اس سے اور اس کے مضمرات سے متعلقہ استعمال کنندہ کا آگاہ ہونا بھی بہت ضروری ہے – 

    یہاں پر زیادہ قصور وار وہ لوگ ہی ہیں جو اس کا مثبت استعمال نہیں کرتے اور پھر تنقید کی زد میں سوشل میڈیا آتا ہے- بہت سے لوگ سوشل میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے اس کے بارے میں گالی نما لفظ استعمال کر کے اس سے تشبیہ دیتے ہیں اور شاید وہ بڑی حد تک درست بھی ہوں کہ آئے روز لوگ دوسروں کے نام سے اکاؤنٹ بنا کر نہ صرف ان کے دوستوں اور عزیزوں سے رقم بٹورنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ ایسے جعلی اکاؤنٹس سے وہ اپنے مزموم مقاصد کی تکمیل کیلئے جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈہ بھی کرتے ہیں جبکہ اکثر سوشل میڈیا صارفین مواد Content کو دیکھے اور سچ و جھوٹ جانچے اور پرکھے بغیر جس طرح تیزی سے لائکس اور کمنٹس کئے جانے کیساتھ ساتھ اسے آگے شئیر کرتے ہیں وہ بھی بذات خود ایک بڑا مسئلہ ہے یقیناً اسکا تدارک بھی بہت ضروری ہے لیکن حکومتوں کو قانون سازی کرتے وقت نہ صرف تمام متعلقہ فریقین سے پوری مشاورت کرنی چاہئے جیسا کہ حالیہ پیکا ترمیمی آرڈیننس 2025 پر  پاکستان کی صحافی برادری اور صحافتی تنظیمیں احتجاج کر رہی ہیں کہ ان سے مشاورت نہیں کی گئی ایک طرح سے دیکھا جائے تو سوشل میڈیا کی وجہ سے ایک طرف وہ خود متاثرین ہیں اور دوسری طرف حکومت وقت سے انہیں کوئی ریلیف یا مدد ملنے کی بجائے ایسے قوانین بنائے جا رہے ہیں جو انکے لئے مزید مسائل پیدا کریں گے- 

  • حماس اسرائیل جنگی بندی معاہدہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کردار

    حماس اسرائیل جنگی بندی معاہدہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کردار

    حماس اسرائیل جنگی بندی معاہدہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کردار

    Dubai Naama

    گزشتہ روز فلسطین کی جہادی تنظیم حماس اور اسرائیلی اتھارٹی کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ طے پا جانا مشرق وسطی میں قیام امن کے لیئے ایک انتہائی خوش آئند پیش رفت ہے۔ اسرائیل نے اپنے ہوائی حملوں میں بڑی تعداد میں فلسطینیوں کے قتل کے علاوہ غزہ کا انفراسٹرکچر تباہ کیا، ہسپتالوں، امدادی قافلوں اور عمارتوں وغیرہ کو نشانہ بنایا مگر اس کے مقابلے میں اسرائیل کا بہت کم جانی و مالی نقصان ہوا۔ اسرائیل نے یہ جنگ امریکی اسلحہ اور امداد کے زور پر جاری رکھی اور امریکہ ہی کی مداخلت پر اب ان دونوں متحارب گروپوں میں قطر میں جاری مذاکرات کے نتیجے میں یہ جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا ہے۔

    امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الیکشن جیتنے کے بعد اپنے پہلے صدارتی خطاب میں مشرق وسطی میں جنگ بندی اور انسانی خونریزی کو بند کرنے کا وعدہ کیا تھا جو ان کے امریکہ کی صدارت کا حلف اٹھانے سے پہلے ہی پورا ہو گیا ہے۔ گو کہ ٹرمپ کا ایک تلخ اور دھمکی آمیز بیان بھی آیا تھا کہ ان کے حلف اٹھانے تک حماس نے اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا نہ کیا تو وہ فلسطین (مشرق وسطی) کو "جہنم کی آگ” میں بدل دیں گے۔ اس بیان کا اشارہ فلسطینی تنظیم کے حمایتی ممالک ایران وغیرہ کی طرف تھا۔ سعودی عرب بھی حماس کی اخلاقی حمایت کرتا ہے اور فلسطین کو امدادی رسد وغیرہ پہنچاتا رہتا ہے۔ البتہ اس بیان کا مثبت نتیجہ یہ نکلا ہے کہ حماس اور فلسطین کے درمیان قطر میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پا گیا ہے جس کا اطلاق 19 جنوری 2025ء سے ہو گا۔

    اس جنگ بندی اور امن معاہدے کا اعلان چند روز قبل قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمٰن الثانی نے دوحہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا جس کا پوری عالمی برادری نے خیر مقدم کیا ہے۔ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ معاہدے کا آغاز اتوار 19جنوری سے ہو گا۔ یہ وضاحت حوصلہ افزا ہے کہ امریکہ، مصر اور قطر مذکورہ معاہدے کی نگرانی کریں گے۔ قطر فلسطینیوں کو تنہا نہیں چھوڑنا چاہتا ہے۔ قطری وزیراعظم نے اس معاہدے میں کردار ادا کرنے پر نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر برائے مشرق وسطیٰ کا شکریہ ادا کیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں 6 ہفتوں کی فائر بندی ہو گی جس دوران 33 اسرائیلی قیدیوں کے بدلے میں تقریباً 2000 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا جن میں 250 وہ فلسطینی بھی شامل ہیں جنہیں اسرائیل نے "سزائے موت” سنا رکھی تھی جو حماس اور فلسطین کے لیئے ایک فتح اور خوشخبری سے کم نہیں ہے۔ اسرائیلی فوجیوں کا غزہ سے انخلا طے شدہ شیڈول کے مطابق مرحلہ وار ہو گا۔ صہیونی افواج مصر اور غزہ کی سرحد فلاڈیلفی کوریڈور (صلاح الدین محور) سے بھی نکل جائیں گی۔

    امریکہ کے دوسری بار منتخب ہونے والے صدر محترم المقام جناب ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے کے اعلان میں سبقت لی اور اپنے الفاظ کی پاسداری کی۔ راقم خصوصی طور پر انہیں امن پسندی کے اس اقدام پر مبارک باد پیش کرتا ہے۔ مذکورہ معاہدہ امریکہ کی بہترین سفارت کاری کا نتیجہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ انسانیت اور امن پسندی کے اس اقدام کو سرا جانا اخلاقی فرض ہے۔ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتیرس، یورپی یونین اور عالمی برادری کی طرف سے بھی جنگ بندی کے اس قابل تعریف فیصلے پر خیرمقدمی پیغامات سامنے آئے ہیں۔

    اس عظیم الشان پیش رفت پر اسرائیل اور غزہ کے علاقوں میں عوامی سطح پر بھی خوشی کا اظہار کیا گیا ہے۔ تاہم ایک افسوسناک بات یہ ہے کہ جنگ بندی کے اعلان سے قبل بدھ کو غزہ اور مقبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی طیاروں نے بھرپور اور بے رحمانہ حملے کیئے جس میں 67 فلسطینیوں کو شہید کیا گیا جبکہ 7 اکتوبر 2023ء کو شروع کی گئی اس جنگ کے 15ماہ سے زائد عرصے میں 46 ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو شہید اور ایک لاکھ دس ہزار سے زائد کو زخمی کیا جا چکا ہے۔ دوسری جانب مزاحمتی گروپوں کی کارروائیوں میں 405 صہیونی فوجی مارے گئے اور اسرائیل کے اندر 1200سے زائد ہلاکتیں ہوئیں۔

    فلسطین کی تنظیم حماس اور صہیونی ریاست اسرائیل کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پانے کی خبر امن کا ایک مثبت پیغام ضرور ہے مگر کئی حوالوں سے امن پسند حلقوں کو فکر لاحق ہے کہ اسرائیل امن معاہدے کی پاسداری کے وعدے پر کس حد تک اور کتنی مدت تک قائم رہے گا؟ اس کے ماضی کے کردار کی روشنی میں حتمی طور پر اس سوال کا پرامید جواب آسان نہیں ہے۔ تاہم واشنگٹن اس باب میں عالمی امن کے مفاد میں کردار کرنا چاہے گا تو وہ موثر بھی ہو سکتا ہے۔

    اس اعتبار سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امن پسند پالیسیوں کو مدنظر رکھا جائے تو وہ تمام سابق امریکی صدور سے زیادہ قابل اعتبار ریکارڈ رکھتے ہیں۔ دنیا بھر کے مسلم ممالک کو بھی چایئے کہ وہ صدر ٹرمپ کے اس خوبصورت کردار کا خیر مقدم کریں۔ ممکن ہے تو اسلامی تنظیم او آئی سی (OIC) کو بھی چایئے کہ وہ جنگ بندی کو مستقل بنیادوں پر قائم رکھنے میں اپنا رول ادا کر سکے۔

  • ٹرمپ کا مشرق وسطی میں امن کا خواب

    ٹرمپ کا مشرق وسطی میں امن کا خواب

    ٹرمپ کا مشرق وسطی میں امن کا خواب

    Dubai Naama

    ٹرمپ کی جیت دنیا میں امن قائم کرنے کی ایک نئی امید لے کر آئی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ میں جنگ مخالف اور روایات شکن امیدوار کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ اگرچہ ان کا انداز سیاست جارحانہ ہے مگر اس کے باوجود انہوں نے اپنے گزشتہ 4سالہ دور اقتدار میں دنیا کے کسی ملک میں امریکہ کو فوجی مداخلت کی اجازت نہیں دی تھی، گو کہ انہیں اپنی پارٹی ری پبلکن کی طرف سے بھی سخت دباؤ تھا۔ اس بار بھی امریکی صدارتی انتخابات میں ٹرمپ نے اپنی پہلی صدارتی تقریر میں دنیا میں امن قائم رکھنے کا اعادہ کیا، جب انہوں نے کہا کہ وہ امریکہ کی ترقی اور خوشحالی کے لیئے کام کریں گے اور دنیا میں کوئی نئی جنگ شروع نہیں کریں گے جس سے امن کو فروغ حاصل ہو گا۔

    کسی نومنتخب امریکی صدر کا اپنی پہلی ترجیح میں ماضی کے برعکس امریکہ کے جنگی جنون کو ترک کرنے کا عہد ایک خوش آئند پیغام ہے جس کا پوری دنیا میں خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔ خاص طور پر مشرق وسطی میں امریکی مداخلت کے حوالے سے اسے ضرور سراہا جانا چایئے۔ انتخابی مہم کے دوران جوبائیڈن نے ٹرمپ کے حامیوں کو کچرا کہا تھا کیونکہ بائنڈن کی رائے میں دنیا میں امن قائم کر کے امریکی بالادستی کو قائم نہیں رکھا جا سکتا ہے، جس کا ردعمل دیتے ہوئے ٹرمپ  انتخابی مہم کے دوران کچرا اٹھانے والے ایک ٹرک پر بیٹھ گئے تھے (اس ٹرک پر جلی حروف میں TRUMP لکھا تھا)۔ 

    سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا تھا کہ سابق امریکی صدر ٹرمپ سبز اور نارنجی رنگ کی ایک ہلکی جیکٹ پہنے ایک کچرا اٹھانے والے ٹرک کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ہیں جو اس بات کی علامت سمجھا گیا کہ ٹرمپ دنیا میں جنگ و جدل کی گندگی کو صاف کرنے کا مصمم ارادہ کر چکے ہیں۔ انتخابی مہم کے دوران ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر وہ صدر ہوتے تو حماس یا حزب اللہ اسرائیل پر حملہ کرتا اور نہ ہی وہ اسرائیل فلسطین جنگ ہونے دیتے۔ اس ضمن میں امریکا کی نائب صدر اور ڈیموکریٹک شکست خوردہ صدارتی امیدوار کملا ہیرس نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ غزہ جنگ بندی معاہدے پر کچھ پیش رفت ہوئی لیکن جب تک حقیقت میں کوئی معاہدہ نہیں ہو جاتا یہ بے معنی تھا۔ اس کی مخالفت میں ٹرمپ کا ایک یہ بیان بھی سامنے آیا تھا کہ اگر وہ امریکی صدر ہوتے تو وہ مشرق وسطی کی جنگ محض چند گھنٹوں میں بند کروا سکتے تھے۔ ٹرمپ کے اس امن پسند موقف کی امریکی ووٹرز خوب ستائش کی اور انہیں صدارتی انتخابات میں کامیاب کرایا۔

    ٹرمپ کی کامیابی ظاہر کرتی ہے کہ اب امریکی عوام کی اکثریت امریکہ کی دوسرے ممالک میں فوجی مداخلت کو ناپسند کرتی ہے۔ امریکہ کی ابھی بھی قطر، اومان، شام، عراق اور کویت وغیرہ میں افواج موجود ہیں۔ امریکہ نے اسرائیل فلسطین جنگ اور خاص کر ایران اور اسرائیل کے حملوں کے بعد فوری ردِ عمل دیتے ہوئے انھیں "ناقابلِ قبول” قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ امریکی جنگی بحری جہازوں نے متعدد ’ایرانی میزائلوں کو نشانہ بنایا۔‘ صدر بائیڈن نے پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ میں فوجیں بڑھانے کا حکم دے رکھا تھا اور اس سے قبل ستمبر کے اواخر میں مشرقی بحیرۂ روم میں امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ’یو ایس ایس ہیری ایس ٹرومن‘ بھیجا گیا تھا۔

    امریکی محکمہ دفاع کے مطابق امریکہ کے 40 ہزار سے زیادہ فوجی مشرقِ وسطیٰ میں مختلف ممالک میں تعینات ہیں۔ لیکن امریکی افواج اپنے ملک سے ہزاروں میل دور مشرقِ وسطیٰ میں اتنی بڑی تعداد میں کیوں موجود ہیں؟ یہ وہ سوال ہے جس کا ٹرمپ اب مثبت جواب سامنے لانا چاہتے یہ

    ٹرمپ نے اپنے پہلے ہی خطاب میں اس بات کو ایک پالیسی سٹیٹمنٹ کے طور پر نمایاں کیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس سیاست کا اتنا عملی تجربہ نہیں تھا۔ انہوں اپنے مشیروں کی ہدایت کے مُطابق ہی الیکشن لڑا۔ یہی وجہ تھی کہ اُنکی تقاریر میں سیاسی تدبر اور بصیرت کمی نظر آئی۔ بلاشبہ، ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس پیسے کی فراوانی تھی، وُہ بہت شاطر اور ذہین مشیروں سے استفادہ کرنے کی پوزیشن میں تھے۔ لہذا انہوں نے پیسے کا استعمال عمدگی سے کیا اور مُختلف طبقوں کے درمیان نفرتوں کو ابھار کر امریکی سیاست کو ایک نیا رنگ دیا جس نے مجموعی طور پر امریکی سیاست پر گہرے اثرات چھوڑے جس پر ٹرمپ کے امن پسندی کے جذبے نے سونے پر سہاگے کا کام کیا جسے مشرقی وسطی میں حماس نے خصوصی طور پر سراہا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ کی اسی امن پسند پالیسی کے پس منظر میں ان کی کامیابی پر ردعمل دیتے ہوئے حماس کے رہنما سمی ابو ذوہری نے کہا ہے کہ ٹرمپ کو ان کے بیانات کے حساب سے جانچا جائے گا کیونکہ انہوں نے کہا تھا کہ وہ بطور صدر غزہ جنگ کو چند گھنٹوں میں روکیں گے۔

    حماس سیاسی بیور کے ممبر باسم نعیم نے بھی ٹرمپ کے امریکہ کے صدر بننے پر اس سے ملتے جلتے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صیہونی ریاست کی اندھی حمایت ختم ہونی چاہئے کیونکہ یہ حمایت ہمارے لوگوں کے مستقبل اور خطے کی قیمت پر کی جاتی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم میں یہ کہتے رہے ہیں کہ وہ مشرق وسطی کو حقیقی اور پائیدار امن کی طرف لوٹتے دیکھنا چاہتے ہیں اور وہ اس عمل کو اچھے طریقے سے آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔

    اگر ٹرمپ اپنے ان سابقہ بیانات کی پاسداری کرتے ہوئے واقعی مشرق وسطی میں جنگ بندی کرواتے ہیں تو پھر اس بات کا قوی امکان ہے کہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کا خاتمہ اور امریکی فوج کی واپسی کا بھی امکان پیدا ہو جائے گا جو دنیا میں وسیع تر امن قائم کرنے کے لئے ایک بنیادی قدم ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ امریکہ ماضی میں جہاں جنگی مداخلتوں سے دنیا کا امن تباہ کرتا رہا، وہ اب یہ مداخلتیں بند کر کے امن بحال بھی کر سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اس کے کریڈٹ کا سارا سہرا ٹرمپ کے سر پر بندھے گا۔

    اسرائیل کی امریکہ پشت پناہی چھوڑ دے تو جہاں اسرائیل فلسطین جنگ بندی میں پیش رفت ہو سکتی ہے وہاں فلسطین بھی آزاد ہو سکتا ہے، اسرائیل کی آزادی کو بھی عرب اور مسلم دنیا تسلیم کر سکتی ہے وہاں دنیا بھر کے امن پر اس کے مثبت اثرات بھی مرتب ہوں گے۔

  • خلیل جبران

    خلیل جبران

    خلیل جبران

    Dubai Naama

    ایک لبنانی مصنفہ جمانہ حداد ایک جگہ لکھتی ہیں کہ، "میں یہ نہیں چاہتی کہ تم میرے جیسا سوچو، نہ یہ کہتی ہوں کہ تم میرے عقائد کو اپنے دل میں بسا لو، نہ یہ طلب کرتی ہوں کہ تم میرے فیصلوں کی تائید کے لئے اپنا ہاتھ بڑھاؤ۔ میری بس ایک درخواست ہے، ایک تمنا ہے کہ تم میرے وجود کا احترام کرو، میرے مختلف اندازِ فکر کا مان رکھو، یہ تسلیم کرو کہ میرے عقائد میرے ہیں، جو تمہارے عقائد سے الگ ہیں، میرے فیصلے میرے ہیں، جو تمہارے فیصلوں سے یکسر جدا ہیں۔ مجھے یہ حق حاصل ہے کہ میں اپنے عقائد اور فیصلوں کو اپنے اس لمحے میں جیوں، یہاں، اسی جگہ، اپنے پورے وجود کے ساتھ، بالکل اُسی طرح جیسے تم اپنے حق کے مطابق جیتے ہو۔”

    لبنان کے مشہور ادیب اور شاعر خلیل جبران کا تعلق بھی لبنان سے تھا جنہوں نے "The Prophet” (پیامبر) جیسی خوبصورت ادبی کتاب لکھی تھی۔ یہ انمول کتاب سنہ 1988ء میں سٹیٹس اینڈ فرنٹیئر ریجن ڈویژن اسلام آباد کے میرے ایک سینئر افسر حنیف اورکزئی نے مجھے تحفتا دی تھی۔ میں نے یہ کتاب دو تین مرتبہ پڑھی مگر ہر بار اس کی ادبی تحریروں سے آزادی اور احساس کی ایک نئی خوشبو کو محسوس کیا جسے میں آج بھی اپنی روح میں ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ایک عورت ہی نہیں بلکہ تمام مرد و زن اپنی من مرضی کی ایک الگ تھلگ دنیا میں جینا چاہتے ہیں۔ سچ کہتے ہیں آزادی ایک نعمت ہے۔ یہ ایک ایسی آزاد اور منفرد دنیا یے کہ جس پر صرف انہی کی بادشاہت ہو۔

    خلیل جبران جدید لبنان کے شہر بشاری میں 6 جنوری 1883ء کو پیدا ہوئے جو ان کے زمانے میں سلطنت عثمانیہ میں شامل تھا۔ وہ نوجوانی میں اپنے خاندان کے ہمراہ امریکہ ہجرت کر گئے اور وہاں فنون لطیفہ کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنا ادبی سفر شروع کیا۔ خلیل جبران اپنی کتاب "پیامبر” کی وجہ سے عالمی سطح پر مشہور ہوئے۔ یہ کتاب انگریزی زبان میں سنہ 1923ء میں شائع ہوئی۔ یہ کتاب فلسفیانہ مضامین کا ایک مجموعہ تھا، گو اس پر کڑی تنقید کی گئی مگر پھر بھی یہ کتاب بہت مشہور ہوئی، بعد ازاں 60ء کی دہائی میں یہ سب سے زیادہ پڑھی جانے والی شاعری کی کتابوں میں شمار ہوئی۔

    کہا جاتا ہے کہ خلیل جبران ولیم شیکسپئیر اور لاؤ تاز کے بعد تاریخ میں تیسرے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے شاعر ہیں۔

    خلیل جبران
    خلیل جبران

    خلیل جبران آزادی کے بارے ایک جگہ لکھتے ہیں کہ، "آزادی کے بغیر زندگی ایسی ہے جیسے روح کے بغیر جسم ہو۔” آج فلسطین اسرائیل کی جنگ کے باعث لبنان بھی آگ اور خون کے شعلوں سے گزر رہا ہے۔ میں اپنے ذاتی تجربے کی روشنی میں کہتا ہوں کہ انسان جتنے بھی من پسند رشتوں میں گھرا رہتا ہو وہ اپنے اندر تشنہ تکمیلیت کا ایک مسلسل احساس محسوس کرتا ہے اور اسے تب تک اطمینان قلب نصیب نہیں ہوتا جب تک اسے سچی ذہنی اور جسمانی آزادی نہیں ملتی ہے جس کے لیئے آج فلسطینی اسرائیل کے خلاف قربانیاں دے رہے ہیں۔

    خلیل جبران نے اپنی مشہور زمانہ کتاب پیامبر کے علاوہ ٹوٹے پر، اشک و تبسم، ارضی دیوتا، اپنا اپنا دیس، آنسو اور مسکراہٹ، آندھیاں اور پاگل آدمی وغیرہ بھی لکھیں۔ ان کی مشہور تحریروں کو خطوط خلیل جبران میں بھی مرتب کیا گیا ہے۔ ان تمام کتب کا اردو سمیت دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے۔ ان کی ہر کتاب ایک ادبی شاہکار ہے۔ لیکن جو لطف "پیامبر” کو پڑھ کر آتا ہے وہ ان کی کسی دوسری تصنیف میں شامل نہیں ہے۔ فلسفے کو ادب کی زبان میں پڑھنا ہو تو یہ کتاب ضرور پڑھنی چایئے۔

    خلیل جبران کی کتب اور تحریروں کے مقام اور درجے کا اندازہ ان کے درج ذیل الفاظ سے بآسانی لگایا جا سکتا ہے۔ خلیل جبران لکھتے ہیں: پھر ایک عورت نے جس کی گود میں بچہ تھا کہا، ہمیں بچوں کے متعلق کچھ بتا۔ اس نے کہا: "تمھارے بچے تمھارے نہیں ہیں۔ وہ قوت حیات اور جذبہ آفرینش کی اولاد ہیں۔ وہ اس زندگی کی اولاد ہیں جس کی فطرت خود اپنی نمو کے لیئے بے قرار رہتی ہے۔ وہ تمھارے واسطے سے بھیجے جاتے ہیں، مگر وہ تمھاری ملکیت نہیں ہوتے۔ تم اپنی محبت ان کو دو جس قدر دے سکو، جس قدر دینا چاہو، مگر اپنا تخیل ان کے حوالے نہ کرو۔ اس لیئے کہ ان کو تمھارے تخیل کی ضرورت نہیں۔ وہ اپنا تخیل اپنے ساتھ لاتے ہیں۔ تم ان کے جسموں کو اپنے گھروں میں آسائش پہنچاو لیکن ان کی روحوں کو آزاد چھوڑ دو۔ اس لیئے کہ ان کی روحیں اس گھر میں رہتی ہے جس کو "فردا” کہتے ہیں۔

    خلیل جبران مزید لکھتے ہیں کہ وہ گھر اس "ماضی” اور "امروز” سے دور ہے جس میں تم سکونت رکھتے ہو۔ اس گھر میں تم نہیں جا سکتے، اس گھر کا تصور بھی تمھارے ذہن میں نہیں آ سکتا۔ تم چاہو تو ان کے قدم بقدم چلنے کی کوشش کرو۔ مگر ان کو ہرگز اپنے قدم بقدم چلانے کی کوشش نہ کرو۔ اس لیئے کہ زندگی پسپا نہیں ہو سکتی، اس کا قدم پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔

  • برق گرتی ہے بیچارے مسلمانوں پر

    برق گرتی ہے بیچارے مسلمانوں پر

    برق گرتی ہے بیچارے مسلمانوں پر

    برق گرتی ہے بیچارے مسلمانوں پر

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت کی ذمہ داری ابھی تک اسرائیل نے قبول نہیں کی ہے۔ گزشتہ روز جب اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیل ہگاری سے ایک صحافی نے اس بارے سوال کیا تو انہوں نے واضح طور پر بیان دیا کہ اسماعیل ہنیہ کی قتل کی رات اسرائیلی فوج نے مشرق وسطیٰ میں کسی علاقے میں فضائی یا میزائل حملہ نہیں کیا تھا جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس شہادت کی ذمہ داری اسرائیل اٹھانے کے لیئے ہرگز تیار نہیں ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق بھی اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیل ہگاری نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ اسرائیلی فوج کے منگل کی رات لبنان میں فضائی حملے میں حزب اللہ کے سینیئر کمانڈر فواد شکر ضرور مارے گئے تھے۔ لیکن ابھی تک عالمی میڈیا اس راز سے پردہ نہیں اٹھا سکا ہے کہ اسرائیل کے خلاف برسرپیکار حماس کے بانی رہنما اسماعیل ہنیہ کے قتل میں ایران ملوث ہے یا اسرائیل اور امریکہ ملوث ہیں۔

    یہ بات اسرائیلی فوج کے ترجمان نے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کہی تھی جس میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ وہ تصدیق کریں گے کہ آیا اسماعیل ہنیہ اسرائیل کے میزائل حملے میں یا پھر وہ بم دھماکے میں مارے گئے تھے۔

    شہید اسماعیل ہنیہ کو ہزاروں سوگواروں کی موجودگی میں 2اگست کو قطر میں سپرد خاک کیا گیا تھا۔ یاد رہے کہ 31جولائی کو ایران کے دارالحکومت تہران میں سابق فوجیوں کے لئے بنائی گئی پاسداران انقلاب کی ایک محفوظ ترین عمارت میں حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کو پُراسرار انداز میں نشانہ بنایا گیا تھا۔اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر ایران اور حماس نے حملے کا ذمہ دار اسرائیل اور امریکہ کو ٹھہرایا تھا۔ تاہم اسرائیل نے اس حملے کی تردید یا تصدیق نہیں کی تھی جبکہ کسی اور گروپ کی جانب سے بھی حملے کی ذمہ داری تادم تحریر قبول نہیں کی گئی ہے۔

    پاسداران انقلاب اور ایرانی کی دیگر خفیہ ایجنسیاں تاحال اس پُراسرار حملے کا سراغ نہیں لگا پائی ہیں۔ تاہم اخباری اطلاعات کے مطابق ایران نے اس حوالے سے اپنے متعدد فوجی و انٹیلیجنس کے افسروں کو ضرور گرفتار کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت ایران میں کسی اندرون خانہ منصوبہ کے تحت ہوئی ہے کیونکہ اگر اسماعیل ہنیہ کی شہادت میزائل حملے سے بھی ہوئی ہے تو اخباری اطلاعات کے مطابق اس میزائیل کو ایرانی ایجنٹوں کے ذریعے عمارت کے بہت قریب سے فائر کیا گیا تھا۔ اس سے قبل ایک امریکی اخبار نے دعویٰ کیا تھا کہ اسماعیل ہنیہ کے کمرے میں بم نصب کیا گیا تھا اور بعد میں برطانوی اخبارات نے بھی دعوی کیا تھا کہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت اسماعیل ہنیہ کے کمرے میں نصب کیئے گئے دھماکہ خیز مواد یا "ٹائم بم” کے پھٹنے سے ہوئی تھی۔دوسری جانب اسرائیلی میڈیا نے اس سے پہلے دعویٰ کیا تھا کہ اسماعیل ہنیہ کو میزائل حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا جس کی ابھی اسرائیلی فوج کے ترجمان نے تردید کر دی ہے۔

    ماضی کی خلیجی تاریخ میں مصر کے صدر انور سادات، فلسطین کے صدر یاسر عرفات کی ہلاکتیں، ایران عراق کی جنگ، عراقی صدر صدام حسین کی پھانسی اور باغیوں کے ہاتھوں لیبیا کے صدر کرنل قذافی کا کسی نامعلوم مقام پر انجام کسی کو بھولا نہیں ہو گا۔

    6اکتوبر سنہ 1981ء کو مصر کے تیسرے صدر انور سادات کو قاہرہ میں سالانہ وکٹری پیریڈ کے موقع پر اس وقت قتل کیا گیا تھا جب مصر اسرائیل جنگ کے دوران مصر اسرائیل کے قبضے سے نہر سویز اور صحرائے سنہائے واپس لینے کے بعد جشن منانے کے لیئے آئے تھے۔

    صدر یاسر عرفات فلسطین کے علامتی صدر کے طور پر سب سے زیادہ مشہور صدر تھے جنہوں نے پی ایل او (PLO) کے اعلان کے مطابق 15 نومبر 1988ء کو یہ عہدہ سنبھالا تھا۔ صدر یاسر عرفات سنہ 1994ء تک فلسطینی نیشنل اتھارٹی کے بھی صدر رہے تھے اور کہا جاتا ہے کہ وہ بھی قدرتی موت نہیں مرے تھے بلکہ ان کی شہادت بھی پراسرار طور پر ہوئی تھی۔

    یاسر عرفات نے سنہ 1950ء میں "الفتح” نامی تنظیم کی بنیاد رکھی تھی جو اسرائیل سے برسر پیکار رہی۔ یاسر عرفات نے سنہ 1988ء میں مذاکرات کے ذریعے اسرائیل کے حق خود مختاری کو تسلیم کر لیا۔ یاسر عرفات کو 1993 میں اوسلو معاہدے اور 2000ء میں کیمپ ڈیوڈ امن مذاکرات کی بناء پر امن کا "نوبل پرائز” بھی دیا گیا مگر اسرائیلی حکومتوں سے ان کے نرم گوشے اور حماس کے عروج پر یاسر عرفات سنہ 2004ء تک دو سال کے لیئے رملا کمپونڈ تک محدود ہو گئے تھے اور 11نومبر 2004 کو جب ان کی غیر متوقع طور پر 75سال کی عمر میں اچانک وفات ہوئی تو اس پر بھی دنیا بھر کے میڈیا نے شکوک و شبہات کا اظہار کیا تھا۔

    اب اس پس منظر میں حماس کے سیاسی رہنما ابراہیم ہنیہ کی ایران میں پراسرار شہادت ایران کے لیئے ایک امتحان کی شکل اختیار کر گئی ہے کہ اگر ایران علامتی طور پر بھی پہلے کی طرح اسرائیل پر کوئی حملہ کرتا ہے تو جہاں ایران اسرائیل کی کھلی جنگ چھڑنے کا امکان موجود ہے وہاں اسرائیل (اور امریکہ و اتحادیوں) کے ہاتھوں حماس کے مزاحمتی رہنماؤں اور فلسطینی باشندوں کے لیئے عرصہ حیات مزید تنگ ہو جائے گا جو بلآخر مسلم امہ ہی کا جانی و مالی ہے۔

    Title Image by Pexels from Pixabay

  • حماس کے سربراہ کی شہادت اور مضمرات

    حماس کے سربراہ کی شہادت اور مضمرات

    حماس کے سربراہ کی شہادت اور مضمرات

    Dubai Naama

    اسماعیل ہنیہ کا پورا نام عبدالسلام احمد ہنیہ تھا۔ اسماعیل ہنیہ 8مئی 1963ء کو مصر کے مقبوضہ غزہ کی پٹی کے الشاطی پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے سنہ 1987 میں یونیورسٹی آف جارڈن سے عربی ادب میں بیچلر ڈگری حاصل کی اور 1987 ہی میں فلسطین کی آزادی کی جنگ لڑنے والی تنظیم حماس کو اس کے بانی احمد یاسین کے اسسٹنٹ کے طور پر جوائن کیا۔انھوں نے 2007ء سے 2014ء تک غزہ کی پٹی پر فلسطین کے وزیراعظم کے طور پر حکومت کی۔ وہ حماس کے پولیٹیکل بیورو چیئرمین تھے جنہیں حماس کا مرکزی سیاسی رہنما سمجھا جاتا تھا۔
    2023ء سے اپنی شہادت تک وہ قطر میں مقیم رہے اور 31جولائی 2024ء کو اسرائیل کے ایک میزائیل حملے میں ایران کے دارالخلافہ تہران میں شہید ہوئے۔

    حماس کے سیاسی سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت سے چند ماہ قبل رمضان میں ان کے تین بیٹے حضیم، عامر اور محمد اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ مغربی غزہ میں الشاتی نامی مہاجر کیمپ کی جانب سفر کے دوران اسرائیلی حملے میں شہید ہوئے تھے۔ ان کے پوتے پوتیوں میں شہید ہونے والوں میں تین بچیاں اور ایک بچہ شامل تھا۔ حماس کی جانب سے ان کے نام جاری کیے گئے تھے جن میں مونا، امل، خالد اور رازان سرفہرست تھے جبکہ اسرائیلی فوج کا دعوی تھا کہ اس نے غزہ کی پٹی پر موجود حماس کے ملٹری ونگ کے تین آپریشن مکمل کئے جو کہ حماس کے عسکری ونگ کے ممبران تھے۔

    حماس کے سربراہ کی شہادت اور مضمرات
    Ismail Haniyeh Head of the Hamas Political Bureau on 13 October, 2022 [Fazil Abd Erahim/Anadolu Agency]

    فلسطین اسرائیل کی جنگ کے دوران جب سے اسرائیل نے حماس کے خلاف کارروائیوں کا آغاز کیا تھا تب سے اب تک ابراہیم ہنیہ خاندان کے 60 افراد شہید ہو چکے تھے۔

    جب اسماعیل ہنیہ کے بیٹے اور پوتے پوتیوں کو اسرائیل نے قتل کیا تو ابراہیم ہنیہ کا کہنا تھا کہ انھوں نے یہ خبر اس وقت سنی تھی جب وہ زخمی فلسطینیوں کی عیادت کے لئے قطر کے دارالحکومت دوحہ کے ہسپتال میں موجود تھے۔
    بعد میں ان کا کہنا تھا کہ اس واقعہ سے حماس کے مطالبات میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ اور اب اسماعیل ہنیہ شہید ہو چکے ہیں تو ہنیہ کے بیٹے اور بہو کا ان کی شہادت کے بعد ویڈیو پیغام سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے اسماعیل ہنیہ کی شہادت کو باعث فخر قرار دیا ہے۔ ابراہیم ہنیہ کے بیٹے عبدالسلام نے والد کی شہادت پر کہا کہ میرے والد ہر روز شہادت محسوس کرتے تھے، ہمیں ان پر فخر ہے اور ہم اپنا سر اونچا رکھتے ہیں کہ ہم بیت المقدس کی جنگ لڑ رہے ہیں، میرے والد کا وہ خواب پورا ہوا جس کا انہوں نے خواب دیکھا تھا۔ ہم اپنے والد کا مشن جاری رکھیں گے اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت میں کسی قسم کی کمی نہیں آنے دیں گے۔ حتی کہ اسماعیل ہنیہ کی بہو نے بھی ویڈیو پیغام میں کہا کہ آج میرے سسر شہدا میں شامل ہو گئے ہیں، غم بہت بڑا ہے، آنکھیں اشکبار ہیں، دل ان کی جدائی میں غمزدہ ہے مگر ہمیں ان کی شہادت پر فخر ہے۔

    حماس کے سربراہ کو ایران کے شہر تہران میں ان کی رہائش گاہ ہر علی الصبح اس وقت شہید کیا گیا جب وہ ایرانی صدر کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیئے تہران آئے ہوئے تھے۔

    ایرانی ٹی وی کے مطابق اسرائیلی حملے میں اسماعیل ہنیہ اور ان کا ایک محافظ شہید ہوئے۔ اس سے پہلے اسرائیل حماس کے رہنماؤں کو فلسطین میں اور اس سے باہر بھی نشانہ بناتا رہا ہے جیسا کہ اسرائیل حماس کے تمام لیڈروں کو ’دہشت گرد‘ سمجھتا ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ جنوری میں بیروت میں ہنیہ کے ڈپٹی صالح الاروری کی ہلاکت کے پیچھے بھی اسرائیل کا ہاتھ تھا۔ اپریل میں بھی ایک اسرائیلی فضائی حملے میں شام میں ایرانی سفارت خانے کی عمارت تباہ ہو گئی تھی جس میں دو سینئر ایرانی فوجی رہنما اور متعدد دیگر افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس وقت بھی ایران نے اسرائیل کے خلاف جوابی کاروائی کی تھی اور اب بھی ایران نے دھمکی دی ہے کہ وہ اسماعیل ہانیہ کی شہادت کا بدلہ لے گا۔

    تاہم اسرائیل کے اس حملے اور ابراہیم ہنیہ کی شہادت سے جہاں ایران کے دفاعی نظام پر طرح طرح کے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں وہاں اس حملے میں ایران میں موجود اسرائیلی ایجنٹوں کے ساتھ ایران کے ملوث ہونے پر بھی شکوک و شہبات ظاہر کیئے جا رہے ہیں کہ یہ میزائل حملہ ایران کے پاسداران انقلاب کے مہمان خانے پر کیا گیا۔ البتہ یہ ایران کے اندر کا معاملہ ہے جسے اسرائیلی بھی اپنا "دوسرا گھر” سمجھتے ہیں۔ اس معاملے میں ایران کی جو بھی خفیہ یا واضح پالیسی ہے اسرائیل فلسطین کی موجودہ جنگ میں 40000 ہزار فلسطینی شہادتوں سمیت اسماعیل ہنیہ کی شہادت سے فلسطین اور القدس کے لیے حماس کی جدوجہد دوچند ہو گئی ہے۔ اس سے درحقیقت حماس کی آزادی پسند مسلح تحریک مزید مضبوط ہو گئی۔اب اسرائیل حماس کے خلاف اپنے "دہشت گرد” تنظیم کے موقف پر قائم رہنے کے لیئے کمزور ہو گیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ امریکہ اور اس کے قریبی اتحادیوں کے علاوہ پاکستان، روس اور چین سمیت دنیا بھر کے ممالک اسرائیل کے اس حملے کی شدید مذمت کر رہے ہیں جس سے فلسطینی کاز دنیا بھر میں انصاف اور حق پر مبنی ایک مظلوم اور ہمدردانہ امیج لے کر ابھرے گی۔

  • ایرانی صدر Iranian Presidentکی شہادت

    ایرانی صدر Iranian Presidentکی شہادت

    ایرانی صدر Iranian Presidentکی شہادت

    Dubai Naama

    ایران کے صدر ایرانی صدر Iranian Presidentکی شہادت ابراہیم رئیسی اور وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کے ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہونے کا اعلان دیر سے کیا گیا۔ جس طرح 17 اگست 1988ء میں سانحہ بہاولپور میں ضیاءالحق کی شہادت کے بارے طرح طرح کی چہ میگوئیاں کی گئی تھیں ایرانی صدر کے ہیلی کاپٹر کو پیش آنے والے حادثے کے بارے بھی انتہائی مخدوش تبصرے کیئے جا رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق صدارتی ہیلی کاپٹر کی حفاظت کے لیئے اس کے آگے پیچھے دو ہیلی کاپٹر مامور تھے جو صحیح سلامت لینڈ ہوئے۔ خدشات یہ ظاہر کیئے جا رہے ہیں ہیلی کاپٹر کو زمین سے میزائل مارا گیا یا اس پر ڈرون کے زریعے حملہ کیا گیا۔

    آزربائیجان کے دورے سے واپسی پر ایرانی صدر ایرانی صدر Iranian Presidentکی شہادت کا فضائی قافلہ تین ہیلی کاپٹرز پر مشتمل تھا جن میں سے ایک میں چار وی وی آئی پیز سوار تھے جبکہ دوسرے دونوں ہیلی کاپٹرز سیکورٹی پر مامور تھے لیکن حیران کن طور پر منفی موسمی حالات کے باعث صرف ایک ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا اور مزید حیران کن طور پر دوسرے دونوں ہیلی کاپٹرز جو سیکورٹی کی خدمات انجام دے رہے تھے انہیں اس حادثے کا علم تک نہ ہوا اور وہ دونوں ہیلی کاپٹرز معمول کے مطابق اپنی منزل مقصود پر لینڈ کر گئے یا اگر یہ حادثہ موسم کی خرابی کی وجہ سے ہی پیش آیا تو دوسرے دو ہیلی کاپٹروں کی بجائے یہ حادثہ صدر موصوف کے ہیلی کاپٹر ہی کو کیوں پیش آیا؟

    ایرانی صدر Iranian Presidentکی شہادت
    شہید ابراہیم رئیسی صدر جمہوری اسلامی ایران – Vahid Salemi/AP Photo

    جب بہاولپور میں ضیاءالحق کے جہاز کو حادثہ پیش آیا تھا تو اس وقت چیف آف آرمی سٹاف جنرل مرزا اسلم بیگ کا جہاز بھی محو پرواز تھا جس کے بعد یہ جہاز واپس بہاولپور ایئرپورٹ پر بحفاظت اتار لیا گیا۔ اس حادثہ کے بارے میں دو اہم وجوہات زیر بحث رہی تھیں کہ اول جہاز میں آموں کی پیٹیوں میں بم رکھا گیا تھا اور دوم یہ کہ صدارتی جہاز کو گراونڈ سے میزائل داغا گیا تھا۔ اگرچہ دنیا میں اس نوع کے حادثات ہوتے رہتے ہیں جن کے بارے حقیقت آج تک منظر عام پر نہیں آئی۔ اس نوعیت کے فضائی حادثات میں جاں بحق ہونے والے صدور کی لسٹ میں پیراگوئے کے صدر (1940)، فلپائن کے صدر (1957)، برازیل کے صدر (1958)، عراق کے صدر (1966)، برازیل کے صدر (1967)، بولیویا کے صدر (1969)، ایکواڈور کے صدر (1981)، موزمبیق کے صدر (1986)، پاکستانی کے صدر (1988)، روانڈا کے صدر (1994)، برونڈی کے صدر (1994)، شمالی مقدونیہ کے صدر (2004)، پولینڈ کے صدر (2010)، چلی کے صدر (2024) اور اب ایران کے صدر ابراہیم رئیسی (2024) شامل ہیں۔ اس حادثے کے بارے میں بھی یہ خدشات ظاہر کیئے جا رہے ہیں کہ ایرانی صدر کی شہادت میں ضرور کوئی سازش شامل ہے۔

    اسرائیل فلسطین جنگ اور اسرائیل ایران کے ایک دوسرے پر میزائیل حملوں کے تناظر میں بھی اس حادثہ پر تبصرے ہو رہے ہیں اور یہ بھی کہا جا رہا ہے ایرانی صدر کو پاکستان کا دورہ کرنے کی سزا دی گئی ہے۔ یہ سوچنا کہ اس حادثہ کے پیچھے کسی بڑی عالمی طاقت کا ہاتھ ہے ایک قبل از وقت بدگمانی ہے۔ تاہم کچھ عرصہ ہوا ایران اور پاکستان نے بھی ایک دوسرے پر میزائل حملے کیئے تھے۔ البتہ پاکستان اور ایران کے قریبی اور برادرانہ تعلقات کو امریکہ اور یورپ میں قدر کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد ایران وہ پہلا برادر اسلامی ملک تھا جس نے پاکستان کو تسلیم کیا۔ یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ امریکہ، برطانیہ اور یورپ پاکستان اور ایران کے تعلقات میں ہمیشہ رخنہ ڈالتے آئے ہیں اور وہ نہیں چاہتے ہیں کہ پاکستان اور ایران کے درمیان برادرانہ مراسم قائم ہوں یا پاکستان ایران سے سستے داموں تیل خرید کر خوشحالی کی جانب گامزن ہو۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ ایران کے مرحوم صدر پاکستان کے دورے کے بعد پاکستان کو ایران کے کافی قریب لے آئے تھے۔ اس سے قبل چین نے ایران اور سعودی عرب کے اختلافات کو ختم کرانے اور انہیں ایک دوسرے کے اچھے دوستانہ تعلقات قائم کرنے میں مدد فراہم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا تھا جس سے یہ لگتا تھا کہ چین اور روس کے خفیہ تعاون سے مشرق وسطی میں اسرائیل اور امریکہ کے خلاف ایک نیا بلاک بننے جا رہا تھا۔

    ایرانی صدر ایرانی صدر Iranian Presidentکی شہادتکے ہیلی کاپٹر کے کریش کی سب سے پہلے خبر اسرائیل نے چلائی تھی۔ حادثہ میں ہلاک ہونے والوں کی ڈیڈ باڈیز نہیں دیکھائی گئیں اور شہید ہونے والوں کے صرف جسم کے ٹکڑے ظاہر کیئے گئے۔ ایران کے پہاڑی علاقوں سے ایک ویڈیو بھی وائرل ہوا ہے جس میں جگہ کا یہ تعین ہو رہا ہے کہ ڈرون حملہ ہوا ہے اور ڈرون حملے کے نتیجے میں پہاڑوں کے بیچ میں ایت اللہ ابراہیم رئیسی اور اس کے دیگر ساتھی شہید ہوئے۔ ایران کے صدر ابراہیم رئیسی کی شہادت پر ایران کے سوشل میڈیا پر بھی متضاد تبصرے سامنے آئے بلکہ جب شہادت کی خبر میں تاخیر کی گئی یا جونہی ایرانی میڈیا نے صدر کی شہادت کا اعلان کیا تو ایران میں رئیسی مخالف کیمپ میں جشن کا سا سماں تھا۔ ابراہیم رئیسی کی شہادت پر ایران میں پانچ روزہ اور لبنان میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا۔
    ایران کے صدر ایرانی صدر Iranian Presidentکی شہادت کی شہادت پر سندھ اور پنجاب کی صوبائی حکومتوں کی جانب سے ایک روزہ سوگ کا اعلان ہوا۔
    سندھ حکومت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق منگل 21 مئی کو سندھ بھر میں سرکاری عمارتوں میں قومی پرچم سرنگوں رہا۔
    ایرانی صدر اور ان کے رفقا کے حادثے میں انتقال پر پنجاب حکومت نے بھی منگل کو یوم سوگ کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔ نوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ صوبے کی تمام سرکاری عمارتوں پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔ اسی روز صدر رئیسی کی ایران میں نماز جنازہ ادا کی گئی۔ المیہ یہ ہے کہ دنیا کے دیگر صدور کی ایسی حلاکتوں کے علاوہ شائد ابراہیم رئیسی کی شہادت کے بارے بھی حقیقت کبھی کھل کر سامنے نہ آ سکے۔

    پاکستان سمیت دنیا بھر کے مختلف ممالک نے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثے میں موت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ایران سے تعزیت کی ہے جبکہ ایران کے سپریم لیڈر نے ملک میں پانچ روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔پاکستان، متحدہ عرب امارات، چین، قطر، انڈیا، روس، ترکی، شام، ملائیشیا، سپین، لبنان اور یورپی یونین نے ایرانی صدر کی موت پر اظہار افسوس کیا۔ دوسری جانب ایران کی مسلح افواج کے چیف آف سٹاف محمد باقری نے اس ہیلی کاپٹر حادثے کی وجوہات کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق ہیلی کاپٹر حادثے میں مرنے والے صدر رئیسی اور ان کے ساتھیوں کی آخری رسومات منگل کو تبریز میں مقامی وقت کے مطابق ساڑھے نو بجے ادا کی گئیں جس کے بعد ابراہیم رئیسی کے جسد خاکی کو تہران لے جایا گیا۔ یہ افسوسناک حادثہ مشرقی آذربائیجان کے صوبے میں پیش آیا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق نائب صدر محمد مخبر کو ملک کی ایگزیکٹو برانچ کا عبوری سربراہ مقرر کرنے کی منظوری دی گئی۔ ایران میں اب رئیسی کے جانشین کے انتخاب کے لئے صدارتی انتخابات سے قبل زیادہ سے زیادہ 50 دن کی مدت دی گئی ہے۔

  • ایران اسرائیل کشیدگی اور ایرانی صدر کا دورہ پاکستان

    ایران اسرائیل کشیدگی اور ایرانی صدر کا دورہ پاکستان

    ایران اسرائیل کشیدگی اور ایرانی صدر کا دورہ پاکستان

    Dubai Naama

ایران اسرائیل کشیدگی اور ایرانی صدر کا دورہ پاکستان

    کہتے ہیں کہ جب گیدڑ کو موت آتی ہے تو وہ گاو’ں کی طرف بھاگتا ہے۔ اس کہاوت کو ایک طرف رکھ دیں اور سوچیں کہ ایران اسرائیل کی بڑھتی ہوئی کشیدگی دنیا کے امن کو تباہ کرنے کے لیئے کیا بھیانک رخ اختیار کر سکتی ہے جس سے نہ صرف فلسطین اسرائیل جنگ پورے خطہ کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی بلکہ اس سے "تیسری عالمی جنگ” (Third World War) کے خطرات بھی دوبارہ شدت اختیار کر جائیں گے۔ 14اپریل کو ایران نے اسرائیل پر جوابی حملہ کیا تو ان تبصروں میں تیزی آ گئی تھی اور اب اسرائیل نے اصفہان کے ایئرپورٹ پر میزائلوں کے ذریعے جوابی کاروائی کی یے تو ایک بار پھر تیسری عالمی جنگ کو ڈسکس کیئے جانے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ دنیا کے کسی بھی خطہ میں لڑی جانے والی جنگ چھوٹی ہو یا بڑی ہو، اسلحہ کم خطرناک ہو یا زیادہ خطرناک ہو، وہ چاہے "ایٹم بم” ہو یا "ہائیڈروجن بم” ہو، ان سے بنی نوع انسانوں ہی کی نسل کشی ہوتی ہے جیسا کہ تاریخ کی پہلی جنگوں میں ہوتا آیا ہے، اب ہو رہا ہے یا آئیندہ ہونے جا رہا ہے۔اسرائیل پر 14اپریل کے پہلے ایرانی حملہ کے بعد ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے دوٹوک الفاظ میں وارننگ کے انداز میں اسرائیل کو خبردار کیا تھا کہ اگر اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا یا اس کو نقصان پہنچایا تو اسرائیل کو فوری، سخت اور وسیع پیمانے پر اس سے بڑا اور سنگین ردعمل دیا جائے گا جس کے لئے وہ مزید 12دن انتظار نہیں کریں گے۔ اس بیان کے اگلے روز "کیمیائی ہتھیاروں” پر بھی تبصرے ہوئے۔ اگرچہ اسرائیل کو امریکی صدر جوبائیڈن نے بھی متنبہ کیا کہ اسرائیل نے ایران کے خلاف ایسی کوئی جارحیت کی تو امریکہ اس کا شریک کار نہیں ہو گا۔ لیکن اسرائیل نے بغیر کسی انتظار کے اگلے ہی روز ایران کے شہر پر حملہ کر دیا جس کی امریکی خبر رساں ایجنسیوں نے تصدیق کی اور ایران نے بھی دعوی کیا کہ اس نے اسرائیل کے میزائل حملہ میں 3ڈرونز مار گرائے ہیں۔ ایران نے اپنے 14اپریل کے حملہ کو "آپریشن سچا وعدہ” (Operation True Promise) کا نام دیا تھا۔اسرائیل پر ایران کے پہلے حملہ کے بعد بہت سے اسلامسٹ مجاہدین نے اس ایرانی حملہ کو اسرائیل کے خاتمہ کی ابتداء قرار دیا تھا۔ کیا اسرائیل نے ایران پر حملہ کر کے اپنی موت کو دعوت دی ہے؟ ابراہیم رئیسی ایک ملک کے سربراہ ہیں جس کا نام ایران ہے اور ملک کے سربراہ کا بیان گیدڑ بھبکی نہیں ہو سکتا کہ اگر اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تو ایران اسرائیل پر دوسرا حملہ پہلے حملے سے زیادہ بڑا کرے گا۔ ماضی میں اسرائیل کو خلیج کا "پولیس مین” کہا جاتا تھا۔ ہمارے کچھ لکھاری اسرائیل کو امریکہ کا "بغل” بچہ بھی کہتے آئے ہیں۔ اس کے بدلے امریکہ نے عرصہ دراز سے "حماس” کو دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ اسرائیل کو لگا کہ وہ جنگ ہار رہا ہے تو وہ خوفزدہ ہو کر ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی غلطی بھی کر سکتا ہے۔ پاکستان "مسلمہ” ایٹمی طاقت ہے۔ یہ وہی ایران ہے جس کے صدر پاکستان آ رہے ہیں جس نے کچھ ہی عرصہ پہلے بلوچستان میں پاکستان پر حملہ کیا تھا جس کے بعد پاکستان نے 24 گھنٹوں میں ایران پر میزائلوں سے جوابی حملہ کیا تھا۔ اب ایران سے کچھ بن نہیں پا رہا تو وہ بھاگ کر پاکستان آ رہا ہے۔ یہ کہاوت کہاں اور کیوں صادق آتی ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ بہرکیف ایران کے صدر عزت مآب ابراہیم رئیسی 22اپریل کو پاکستان کے دورے پر واقعی تشریف لا رہے ہیں۔

    ہمارے ہاں پاکستان میں پرو ایران اور اینٹی ایران دو طبقات پائے جاتے ہیں۔ پہلے طبقہ کا خیال ہے کہ ایران ایک سچا، کھرا اور بہادر مسلمان ملک ہے جو سنہ 1980ء سے آزادی فلسطین کے لیئے جہاد جاری رکھے ہوئے ہے۔ اب ایران نے اسرائیل پر حملہ کر کے اور اس کے دفاعی نظام کو شکست دے کر مسلم ممالک کے دل سے اسرائیل کی فوجی طاقت کا خوف نکال دیا ہے۔ ایران اور پوری دُنیا کے اہل تشیع ہر ماہِ رمضان جمعتہ الوداع پر فلسطینیوں کی حمایت میں اسرائیل کے قبضہ سے فلسطین کو آزاد کرانے کیلئے "یوم قدس” مناتے ہیں۔ اب وقت قریب ہے کہ دوسرے مسلمان ملک بھی ایران کے ساتھ کھڑے ہو جائیں تو نہ صرف فلسطین کو آزادی نصیب ہو گی بلکہ اسرائیل کا خاتمہ بھی نوشتہ دیوار ہے۔ جبکہ ایران مخالف طبقہ کے مطابق ایران امریکہ کا "ایجنٹ” ملک ہے جس نے اسرائیل پر حملہ درپردہ امریکہ کے ساتھ مل کر منصوبہ بندی کرنے کے بعد کیا تاکہ اسرائیل کو وقت مل جائے، اس کا کوئی جانی و مالی نقصان بھی نہ ہو اور اسرائیل کو یہ موقع میسر آ جائے کہ وہ حماس کو تہس نہس کرنے، غزہ میں قتل و غارت گری بڑھانے اور فلسطین میں اپنے قبضہ میں نئی فلسطینی زمینیں شامل کرنے میں اضافہ کر سکے۔

    ایک نقطہ نظر یہ ہے کچھ مسلمان ریاستیں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حیلے بہانے ڈھونڈ رہی ہیں اور درپردہ طور پر فلسطین کی آزادی کے بدلے میں پوری امہ سے اسرائیل کو تسلیم کروانا چاہتی ہیں۔ میرے خیال میں فلسطین اسرائیل جنگ کے عین درمیان میں ایران اسرائیل کی حالیہ چھڑپیں اور اس حساس موقع پر ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کا دورہ پاکستان اس تنازعہ کے حل کے لیئے ایک اہم سنگ میل ہے۔ اسرائیل کو ختم کرنے کی قیمت پر فلسطین کسی صورت بھی آزادی حاصل نہیں کر سکتا ہے۔ پھر ایسی کسی صورتحال میں تیسری عالمی جنگ کا امکان بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ ہم امت مسلمہ کے ماننے والے ہیں۔ اسلام دوسرے ادیان و مزاہب اور اقوام کو جینے کا حق دیتا ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی صدر کے پاکستان کے دورے کی پیش گوئی کی تھی کہ وہ عنقریب پاکستان آئیں گے۔ اگرچہ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ، "اس دورے کا فلسطین اسرائیل تنازعہ سے کوئی تعلق نہیں یہ دورہ پہلے سے طے شدہ تھا۔” خدا کرے! ایرانی صدر کے دورے کا یہی اصل مقصد ہو اور وزیر موصوف کا بیان جھوٹا ہو۔ "ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھ”۔ حسن ظن یہ رکھنا چایئے کہ المقام ایرانی صدر ابراہیم رئیسی پاکستان صلح کا جذبہ لے کر آ رہے ہیں۔ پاکستانی حکومت کو چایئے کہ وہ سفارت کاری کے زریعے امریکہ کے توسط سے ایران اور اسرائیل کے درمیان مصالحت کا کردار ادا کرے تاکہ فلسطینیوں کی حالیہ لازوال قربانیوں اور شہادتوں کو ان کی پرامن آزادی کی طرف لایا جا سکے۔ گیڈر کی قدرتی موت شہر میں نہیں جنگل میں ہی ہو تو بہتر ہے۔ اسرائیل ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی تازہ کشیدہ صورتحال کا یہی ایک واحد مثبت پہلو ہے۔

    Title Image by Robert Waghorn from Pixabay

  • ڈاکٹر رضوان اسد خان کا افسانہ “الوداع”

    ڈاکٹر رضوان اسد خان کا افسانہ "الوداع”

    ڈاکٹر رضوان اسد خان کا افسانہ "الوداع” کا فنی و فکری مطالعہ

    ڈاکٹر رضوان اسد خان ایک چائلڈ سپیشلسٹ ہیں، اس وقت سعودی عرب میں بطور کنسلٹنٹ کام کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دینی امور، حالات حاضرہ، سیاست اور ادب میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔ دور حاضر کے باطل افکار، مثلاً سیکولر ازم، لبرل ازم، فیمن ازم اور الحاد کس طرح مسلم نوجوانوں کو متاثر کر رہے ہیں اور ان کے حملوں سے بچاؤ کی کیا تدابیر ہیں، یہ ان کا خاص موضوع ہے جس پر وہ وقتاً فوقتاً لکھتے رہتے ہیں۔

    ڈاکٹر رضوان اسد خان کا افسانہ “الوداع”
    ڈاکٹر رضوان اسد خان

    فلسطین کے موضوع پر تحریر کردہ ڈاکٹر رضوان اسد خان کا افسانہ "الوداع” حقائق اور سچے واقعات پر مبنی ایک بہترین افسانہ ہے۔ اس افسانے میں رضوان اسد خان نے ایک ایسی داستان تیار کی ہے جو تنازعات سے متاثرہ علاقوں، خاص طور پر فلسطین میں لوگوں کو درپیش تلخ حقائق کو بیان کرتی ہے۔ ایک ماں اور اس کے بیٹے کی باہمی گفتگو کے ذریعے رضوان اسد خان جنگ کے افراتفری کے درمیان معصوم شہریوں کی طرف سے برداشت کی گئی جدوجہد کی ایک واضح تصویر پیش کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ رضوان اسد خان اپنی کہانی کا آغاز یوں کرتے ہیں ” پہلا دن: "ماما، میں نے کل سے کچھ نہیں کھایا۔ مجھے شدید بھوک لگ رہی ہے۔” "اچھا میری جان، میں کچھ کرتی ہوں۔” دو دن بعد: "ماما، مجھے ٹھیک سے دکھائی نہیں دے رہا۔ مجھ سے چلا بھی نہیں جا رہا۔ کیا کہیں سے بھی کھانے کو کچھ نہیں آیا؟ کیا ساری دنیا نے ہمیں بھلا دیا ہے؟” "نہیں بیٹا۔ دنیا والے تو بہت زیادہ امداد بھیج رہے ہیں۔ لیکن یہ ظالم فوجی اسے ہم تک پہنچنے نہیں دے رہے۔ یہ ہمیں بھوکا رکھنا چاہتے ہیں۔” "لیکن کیوں، ماما؟ ہم بچوں نے انکا کیا بگاڑا ہے؟” "بیٹا، وہ ہم سے ڈرتے ہیں۔” (حیرت سے): "وہ کیسے ماما۔ سارے ہتھیار اور طاقت تو انکے پاس ہے۔” "وہ جانتے ہیں کہ اگر یہ بچے بڑے ہو گئے تو یہ اس شدید ترین ظلم کو کبھی نہیں بھولیں گے جو یہ ہم پر کر رہے ہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ شدت سے بدلہ لیں گے جس شدت سے ہمارے کچھ بھائیوں نے نہایت کمزوری کے باوجود انہیں ناکوں چنے چبوا دئیے ہیں۔ تو پریشان نہ ہو، میں پھر سے کچھ تلاش کرنے جاتی ہوں۔”

    کہانی دل دہلا دینے والے جنگوں کے ایک سلسلے کے ذریعے سامنے آتی ہے، جس میں بھوک، مایوسی اور بالآخر قربانی کے وسیع موضوعات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ افسانے کا مرکزی کردار احمد مصیبت کے وقت لچک کی علامت بن جاتا ہے، بھوک کے خلاف اس کی جدوجہد سیاسی بحران کی لپیٹ میں آنے والے لاتعداد لوگوں کی حالت زار کی عکاسی کرتی ہے۔ رضوان اسد خان لکھتے ہیں ” پانچویں دن: اب 4 سالہ احمد خوراک کی مسلسل عدم دستیابی کی وجہ سے نہایت کمزور ہو گیا تھا۔ اب تو اس سے نہ بولا جاتا، نہ ہلا جاتا۔ اکثر آنکھیں موندے لیٹا رہتا یا درد سے کراہتا رہتا۔ آنکھیں اندر کو دھنس چکی تھیں اور جسم کی ساری ہڈیاں باقاعدہ گنی جا سکتی تھیں۔ اس کی ماں ایک ماہر نرس تھی اور جانتی تھی کہ اس کے بچے کے جسم نے اسکے دل اور دماغ کو زندہ رکھنے کیلئے، خوراک کی عدم دستیابی کے چند گھنٹوں بعد ہی جگر میں ذخیرہ شدہ نشاستہ کا استعمال شروع کر دیا تھا۔ اور اگلے 24 گھنٹوں سے پہلے ہی یہ ذخیرہ ختم ہو چکا تھا۔ پھر چربی کی باری تھی۔  لیکن چربی اس میں تھی ہی کتنی !! بس اس نے تین دن بھی نہ نکالے۔ حالانکہ بڑوں میں تو کئی کئی دن نکل جاتے ہیں۔ وہ خود بھی تو بغیر کھائے زندہ تھی اب تک۔۔۔۔ وہ جانتی تھی کہ اگلے چند دنوں میں احمد کا جسم اسکے پٹھے اور ہڈیوں کو گھلانا شروع کر دے گا۔ اور قحط میں مبتلا شخص کیلئے یہ مرحلہ سب سے زیادہ تکلیف دہ ہوتا ہے۔ ایک سست لیکن نہایت اذیت ناک موت۔..!!! احمد بھی ان 23 بچوں کی طرح بھوک کے ہاتھوں ایک الم ناک موت کا شکار ہو جائے گا، جو اب تک اس مہلک ہتھیار کا نوالہ بن چکے تھے۔ اور وہ جانتی تھی کہ اگر وہ بچ بھی گیا تو اس صورت حال کے اثرات اس کی باقی ماندہ زندگی کو بھی متاثر کریں گے۔ وہ کبھی بھی اپنی ذہنی اور جسمانی نشوونما کی تکمیل تک نہیں پہنچ پائے گا۔ اس کا قد چھوٹا رہ جائے گا، دماغ کمزور اور جسم قوت سے عاری رہے گا۔۔۔”

    احمد کی جسمانی اور جذباتی تندرستی کے بتدریج بگاڑ کو واضح تفصیل کے ساتھ پیش کرتے ہوئے رضوان اسد خان نے طویل تنازعات کے نفسیاتی نقصان کو مہارت سے بیان کیا ہے۔ اپنے بچے کی حفاظت کے لیے ماں کا غیر متزلزل عزم مایوسی کے درمیان امید کی کرن کا کام کرتا ہے، جو کہ تاریک ترین وقت اور جنگ کے دنوں میں بھی انسانی روح کی لچک کو ظاہر کرتا ہے۔ رضوان اسد خان لکھتے ہیں ” نہیں، نہیں۔۔۔۔ وہ اسکا تصور بھی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اگر اسکا لخت جگر اگلے مرحلے تک پہنچ گیا تو پھر اسے خوراک مل بھی گئی تو کوئی فائدہ نہ ہو گا۔ اسکا جسم اتنا کمزور ہو چکا ہو گا کہ خوراک کو قبول کرنے اور ہضم کرنے سے انکار کر دے گا۔ یہ خوراک اس کیلئے زہر بن جائے گی۔ اسے کسی ہسپتال کے آئی سی یو میں، ماہر ڈاکٹروں کی زیر نگرانی ہی کچھ دیا جا سکے گا۔ لیکن کون سا ہسپتال؟ کون سا آئی سی یو اور کون سے ماہرین؟ سب کچھ تو ملبے کے ڈھیر تلے دب چکا تھا۔۔۔!!! اب تو اسکے آنسو بھی سوکھ چکے تھے۔۔۔ بھوک اور پیاس کے ساتھ، کھانے کی تلاش میں چکر لگا لگا کر، اور ہر بار مایوس لوٹ کر وہ تھک چکی تھی۔۔۔ گر چکی تھی ایسے میں اور تو اسے کچھ سجھائی نہ دیا۔ بے اختیار اس نے موبائل پکڑا، ڈھانچہ بنے احمد کی تصویر لی اور ایک عالمانہ ویبسائٹ کو ارسال کر کے مفتی صاحب سے پوچھا: "کیا اس حالت میں مَیں اپنے جسم کا ایک حصہ کاٹ کر اپنے بچے کو کھلا سکتی ہوں؟!!!!”

    سخت ترین حالات کی منظر کشی اور جذباتی نثر کے ذریعے رضوان اسد خان قارئین کو جنگ اور نقل مکانی کی تلخ حقیقتوں کے بارے میں غیر آرام دہ سچائیوں کے ساتھ سامنا کرتے ہیں۔ بیانیہ محض کہانی یا افسانہ سنانے سے بالاتر ہے، دنیا بھر میں تنازعات کے علاقوں میں پیدا ہونے والے انسانی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے ہمدردی، خلوص، اور ٹھوس اقدام کی فوری ضرورت پر ایک طاقتور تبصرہ کے طور پر ہمارے سامنے ہے۔ رضوان اسد خان رقمطراز ہیں ” مزید 3 دن گزر گئے۔ ایک امدادی ٹیم کسی نہ کسی طرح وہاں پہنچنے میں کامیاب ہو گئی۔ لیکن سامنے کا دل خراش منظر بھی انہیں دہلا نہ سکا۔۔۔ کیوں کہ وہ اب اس قسم کے مناظر کے عادی ہو چکے تھے۔۔!!!

    ماں، اپنے ڈھانچہ بنے احمد کی لاش سے لپٹی بے ہوش پڑی تھی اور عجیب بات یہ تھی کہ اسکے چہرے پر ایک حسین مسکراہٹ تھی۔۔۔امدادی ٹیم نے فوراً انکی تصویر لی اور امدادی کارروائی شروع کر دی۔ ایک اور تصویر سوشل میڈیا کے ذخیرے میں شامل ہو گئی۔ لیکن وہ بھی جانتے تھے کہ یہ بھی محض ایک کارروائی ہے اور بس۔۔۔!!! بعد میں خدیجہ، احمد کی ماں، نے امدادی نرس کو اپنی مسکراہٹ کی وجہ سے آگاہ کیا: "وہ خواب میں انتہائی خوبصورت فرشتوں کو، انتہائی خوبصورت اور خوشبو دار لباس میں، احمد کی روح کو اپنے ساتھ لے جاتے دیکھ رہی تھی۔ احمد بہت خوش تھا۔ شاید وہ اپنا سارا درد بھول چکا تھا۔ وہ مجھے الوداعی انداز میں ہاتھ ہلاتے کہہ رہا تھا کہ ماما، آپ فکر نہ کریں، میں بہت جلد جنت الفردوس کے دروازے پر آپ کا استقبال کروں گا۔ اور میں اللہ جی کو شکایت لگاؤں گا کہ ہم کس حال میں تھے اور یہ کہ ساری دنیا اپنی مستیوں میں مست رہی اور ہمارے لیے کچھ بھی نہ کیا۔۔۔!!!”

    افسانہ "الوداع” ناقابل بیان مصیبت کے عالم میں انسانی روح کی لچک کو ایک خوبصورت خراج تحسین ہے۔ رضوان اسد خان کا شاہکار افسانہ اپنی کہانی سنانے اور گہری بصیرت کے ذریعے قارئین کو چیلنج کرتا ہے کہ وہ جنگ کے دوران انسانی جان کی قیمت اندازہ لگائیں اور ہماری بڑھتی ہوئی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی اس بے بس اور مطلبی دنیا میں زیادہ سے زیادہ افہام و تفہیم اور یکجہتی کو فروغ دینے کے لیے ناگزیر سچائیوں کا سامنا کریں اور اپنے مسلمان اور مظلوم فلسطینی بہنوں کے لیے آواز بنیں۔

  • کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا!

    کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا!

    کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا!

    Dubai Naama

کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا!

    اب ایسا لگ رہا ہے کہ چار روزہ جنگ بندی کے دوران اسرائیل نے سوشل میڈیا پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ گذشتہ کئی دہائیوں سے شور تھا کہ پوری دنیا کا میڈیا یہودیوں کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن موجودہ اسرائیل فلسطین جنگ میں سوشل میڈیا کی طاقت نے کھل کر فلسطینیوں کا ساتھ دیا۔ یہاں تک کہ امریکہ اور  یورپی ممالک میں فلسطینیوں کے حق میں اربوں انسانوں نے اسرائیل، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف احتجاج کیا جس میں "مستقل جنگ بندی” اور "دو ریاستی” حل کی تجاویز پر زور دیا گیا۔ امریکہ وائٹ ہاو’س کے سامنے 2ارب، لندن تفالگر سکوئیر میں 10لاکھ اور پیرس میں بھی کم و بیش 8لاکھ مظاہرین اکٹھے ہوئے۔ اس موقع پر 66% امریکی شہری صدر جوبائیڈن کے خلاف ہو گئے۔ اسی طرح سپین کی تاریخ میں سب سے بڑا احتجاجی مظاہرہ ہوا جس میں ایک ارب سے زیادہ مظاہرین شامل ہوئے۔ خود اسرائیل میں اسرائیلی صدر نیتن یاہو کو اپوزیشن نے آڑے ہاتھوں لیا اور پرو فلسطینی  یہودیوں نے اسرائیل کو چھوڑ کر احتجاجا مغربی ممالک میں شفٹ ہونا شروع کر دیا۔ اسرائیل فلسطین جنگ کے خلاف یہ مظاہرے سوشل میڈیا کی مہربانی سے ایک قسم کا "بیک فائر” تھا جس کی وجہ سے اسرائیل کی حمایت کرنے والی مغربی حکومتوں کے خلاف خود ان کی عوام نے ردعمل ظاہر کیا۔ اس صورتحال کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بہت جلد بھانپ لیا جس کے بعد اس نے امریکی صدر جوبائیڈن کے ذریعے مصر اور قطر پر دباؤ ڈلوا کر چار روزہ جنگ بندی کروا لی جس کے خاتمے کے اگلے ہی روز صہیونی ایئر فورس نے عزہ پر حملے کر کے 180فلسطینیوں کو شہید کر دیا۔

    اس سے اگلے دن اردنی فیلڈ اسپتال پر فضائی حملہ کیا گیا، جس میں درجنوں شہادتیں ہوئیں اور سینکڑوں افراد زخمی ہوئے۔ اسرائیلی فوج غزہ کے الشفا ہسپتال میں بھی دوبارہ داخل ہوئی، اور اسپتال کے داخلی راستے کے کچھ حصوں کو بھی تباہ کر دیا، بیسمنٹ سمیت ہاسپٹل کے مختلف حصوں کی تلاشی لی گئی جہاں سے یرغمالی ملے اور نہ ہی کسی سرنگ کا نشان ہاتھ آیا۔ جنگ کو دوبارہ شروع ہوئے چار روز گزر گئے ہیں اور صہیونی حکومت ایک بار پھر غزہ پر آگ برسی رہی مگر پہلے کی طرح سوشل میڈیا فلسطین نسل کو کوریج دے رہا ہے اور نہ ہی مستقل جنگ بندی کے کوئی آثار نظر آ رہے ہیں۔    

    آغاز میں عارضی جنگ بندی کو مستقل جنگ بندی کا پیش خیمہ قرار دیا جا رہا تھا مگر ایسا کچھ نہیں ہوا اور چار روزہ جنگ بندی کے بعد اسرائیل کی وحشت پہلے سے کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ خبررساں اداروں کے مطابق غزہ میں اسرائیلی حملوں میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 14 ہزار 128 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 33 ہزار سے زائد زخمی ہیں۔ غزہ کا پورا انفراسٹرکچر کھنڈر کا منظر پیش کر رہا ہے اور کمیونیکیشن کا نظام مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا (تاکہ سوشل میڈیا کا دباو’ بھی ختم ہو جائے)۔

    فلسطین پر اسرائیلی وحشیانہ بمباری تا حال جاری ہے مگر افسوس کا مقام ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان مل کر بھی فلسطین کو اسرائیل کی ننگی جارحیت سے بچا نہیں پا رہے ہیں۔ اسرائیل غزہ میں ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑ رہا ہے اور دنیا بھر کے مسلم ممالک خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اور ایٹمی قوت بھی ہے جس نے بہت دیر کے بعد اسرائیلی حملوں کے خلاف آواز اٹھائی تو چند دیگر اسلامی ممالک نے بھی اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی۔ جبکہ سعودی عرب نے عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کا دعوی بھی دائر کیا۔ ایران جنگ کے آغاز میں اسرائیل کو للکارتا رہا تھا مگر بعد میں (کسی مصلحت کا شکار ہو کر) وہ بھی ٹھنڈا پڑ گیا اور چار روزہ جنگ بندی کے بعد ابھی تک اس نے فلسطین کا ساتھ دینے کا کوئی ارادہ ظاہر نہیں کیا ہے۔

    گزشتہ روز اسرائیلی طیاروں نے وسطی غزہ کے علاقے سبرا میں مسجد پر اس وقت بمباری کی جب باجماعت نماز جاری تھی اور مسجد نمازیوں سے بھری ہوئی تھی۔ اسرائیل کی جانب سے رات گئے طیاروں سے پمفلٹ گرائے گئے تھے جس میں شہریوں سے کہا گیا تھا کہ وہ خان یونس کے مشرقی کنارے پر واقع بانی شوہیلہ، خْزہ، اباسان اور قرارہ کے علاقوں کو خالی کر دیں ورنہ سب کو ہلاک کر دیا جائے گا۔

    ایک حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں کہ اگر جسم کے کسی ایک حصے کو تکلیف ہو تو پورا جسم تڑپ اٹھتا ہے۔ لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے مسلمان اپنی شناخت اور حمیت کھو چکے ہیں جس وجہ سے انہیں فلسطینیوں کا درد محسوس ہی نہیں ہو رہا ہے۔ اسرائیلی افواج مسلسل مساجد اور اسپتالوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ اسرائیل نے حماس کے سربراہ اور غزہ کے وزیراعظم اسماعیل ہنیہ کے گھر کو فضائی حملے میں مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے۔ اسرائیلی فورسز نے مقبوضہ مغربی کنارے میں گھروں پر چھاپے مار کر 69فلسطینیوں کو بھی حراست میں لیا ہے۔ اسی دوران اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے غزہ جنگ میں وقفے اور امدادی راہداریوں کو کھولنے کی قرارداد کو منظور کیا مگر اسرائیل نے اسے مسترد کر دیا، اور امریکہ نے بھی بڑی ڈھٹائی کے ساتھ اسرائیل کا بھرپور ساتھ دینے کا دوبارہ اعلان کیا۔ لیکن اپنے فلسطینی مسلمان بھائیوں کے لیئے مسلمان ملکوں میں اتنی بھی کسک باقی نہیں رہی کہ وہ مستقل جنگ بندی کے لیئے کم سے کم روس و چین سے مل کر اسرائیل اور امریکہ پر سفارتی دباو’ ہی قائم کر سکیں:

    وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا

     کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

    وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر

    اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر

    Title Image by hosny salah from Pixabay