Tag: فلسطین

  • مظلوم فلسطینیوں ہم سے امید مت رکھنا

    مظلوم فلسطینیوں ہم سے امید مت رکھنا

    مظلوم فلسطینیوں ہم سے امید مت رکھنا


    ہے خاکِ فلسطیں پہ یہودی کا اگر حق
    ہسپانیہ پر حق نہیں کیوں اہلِ عرب کا

    اس وقت اگر دنیا میں کوئی خبر ہے تو وہ ایک ہی ہے مظلوم فلسطینیوں اور درندے اسرائیلیوں کے درمیان ہونے والی جنگ اب اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ مسئلہ فلسطین کتنا پرانا ہے اور اس کا آغاز کب ہوا یا حالیہ جنگ کس نے شروع کی اس میں حماس کی غلطی تھی یا نہیں اس نے طاقت کا اندازہ کیے بغیر ہی حملہ کر دیا اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مظلوم فلسطینیوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا فلسطینی اس وقت زندگی گزار رہے ہیں اس سے تو موت کروڑوں درجے بہتر ہے ان کی اپنی زمین کا بھی 40 فیصد سے کم ان کے پاس رہ گیا ہے کچھ عرصہ قبل ناچیز نے ایک کالم لکھا تھا کہ آج دو قومی نظریہ جس میں یہ سوال اٹھایا کہ آخر سر سید احمد خان اور علامہ اقبال کے دماغ میں دو قومی نظریہ کیسے آگیا حاصل بحث یہ تھا کہ قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کی ہدایت کا ذریعہ اللہ تعالیٰ کی آخری الہامی کتاب قرآن کریم نے یہ وضاحت کی ہے کہ دنیا میں قومیں ہمیشہ سے ہی دو رہی ہیں ایک مسلمان اور ایک غیر مسلمان۔ اسی اصول کو بنیاد بنا کہ برصغیر کے مسلمانوں نے ایک علیحدہ اسلامی ملک حاصل کیا یہ الگ بات ہے کہ اسلام کے نام پر بنی ریاست میں آج اسلام نام کی کوئی چیز نہیں آج بھی اگر موجودہ حالات میں آپ دیکھیں عالم کفر سب یکجا ہیں تمام کے تمام اسرائیل کی حمایت میں کھڑے ہیں برطانیہ نے اپنے جہاز بھیج دیے ہیں امریکہ نے کہا ہے جب تک امریکہ ہے اسرائیل کی حمایت جاری رکھے گا فرانس نے بھی حمایت کا اعلان کیا تمام غیر ملکی کافر اقوام ہیں وہ اسرائیل کی حمایت کے لیے کھڑے ہیں جبکہ کہنے کے لیے 57 اسلامی ملک اور سوا ارب مسلمانوں کے حکمران صرف ابھی تک یہ سوچ رہے ہیں کہ ہم فلسطین کی حمایت کریں یا صرف جنگ بندی کی حد تک اپنے آپ کو محدود رکھیں مسلمان کبھی بھی تنگ نظر نہیں ہوتا سرکار علیہ الصلوۃ والسلام کا فرمان ہے کہ مسلمان ایک جسم کی طرح ہوتے ہیں اگر ایک حصے میں درد ہو تو دوسرا بھی اس کو محسوس کرتا ہے جبکہ یہاں فلسطینی خون سے نہائے جا رہے ہیں اور تمام اسلامی ممالک کے حکمران سوئے پڑھے ہیں فلسطینی مظلوموں پاکستان سے بہت امید تھی کیونکہ دنیا کی واحد اسلامی قوت ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان ایک اسلامی قوت ضرور ہے۔ لیکن ہم ان کی مدد کرنے سے قاصر ہیں اب لبرل تائید کریں گے کہ واقعی پاکستان کے معاشی حالات بہت خراب ہیں۔ یہاں کے اپنے لوگوں کی زندگی اجیرن ہے بنیادی ضروریات کی بھی کمی ہے لیکن یہ وجہ نہیں کہ ہم مظلوم فلسطینیوں کی مدد نہیں کر سکتے مسلمان کبھی بھی معاشی حالات پر منحصر نہیں ہوتا اگر اسلام کے ابتدائی دور کو دیکھیں اس وقت بھی مسلمانوں کے پاس لڑنے کے لیے اسلحہ اور سواری جیسی بنیادی ضروریات بھی نہیں ہوتی تھی پھر بھی اس وقت کی سپر پاورز کو للکارا اور ان کا غرور خاک میں ملایا عرب سے اسلام کو پوری دنیا میں پہنچایا اول مسلہ مضبوط قیادت کا ہے۔
    پاکستان اس وقت حقیقی قیادت سے محروم ہے جو برائے نام کی قیادت موجود ہے وہ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے در پہ ہے ۔ عالم اسلام میں کیا ہو رہا ہے مظلوم فلسطینی مر رہے ہیں ہماری خود ساختہ قیادت کو اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ۔ ۔ انفرادی طور ہر مسلمان اور پاکستانی کا دل فلسطین کے ساتھ دھڑکتا ہے وہ فلسطین پہ ہونے والے ظلم کے خلاف ہے لیکن اپنے آپ کو بے بس محسوس کرتا ہے کچھ کر نہیں سکتا حقیقت میں اگر پاکستانی چاہیں متحد ہو جائیں کیونکہ قیادت کے سر پہ سینگ نہیں ہوتے وہ صرف عوام کو ایک راستہ دکھاتے ہیں اگر اج بھی پاکستان کے 25 کروڑ عوام اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیں تو یہ بہت مفید ثابت ہوگا اور اجتماعی طور پر اگر ہم اپنی آواز اٹھائیں جس میں کسی پارٹی کی انفرادیت نہ ہو نہ ہی پارٹی کے جھنڈے نہ ہوں، کسی تنظیم کا ذکر نہ ہو صرف مسلمان ہو اور مظلوم فلسطینیوں کے لیے دل سے مخلص ہو کر باہر نکلے آواز اٹھائیں دنیا کو بتائیں کہ ہم فلسطین کے ساتھ ہیں اور آخر میں ہم سب کو مخلص ہو کر فلسطین کے لیے دعا کرنی ہے کم سے کم بے حسی کے معیار سے تو اوپر رہیں اللہ غیب سے فلسطین کی مدد فرمائے اور عالم کفر کو عبرت ناک شکست دیں اور ہمیں حضرت عمرؓ جیسا نہیں ، حضرت عمر بن عبد العزیزؒ جیسا بھی نہیں ہم ازکم صلاح الدین ایوبیؒ جیسا حکمران عطا فرمائے جس کی زندگی کا ایک ہی مقصد تھا بیت المقدس کو کافروں سے آزاد کروانا اور اس نے کروا کے ہی دم لیا۔

    Title Image by hosny salah from Pixabay

  • جہاد فلسطین اور زمین

    جہاد فلسطین اور زمین

    جہاد فلسطین اور زمین

    کالم نگار:۔ سید حبدار قائم

    پارہ نمبر 17 آیت نمبر 78 میں اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے
    ترجمہ
    ” اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا اس (کی راہ) میں جہاد کرنے کا حق ہے۔اس نے تمہیں منتخب فرمایا اور تم پر دین میں کچھ تنگی نہ رکھی جیسے تمہارے باپ ابراہیم کے دین (میں کوئی تنگی نہ تھی)۔ اس نے پہلی کتابوں میں اور اس قرآن میں تمہارا نام مسلمان رکھا ہے تاکہ رسول تم پر نگہبان و گواہ ہو اور تم دوسرے لوگوں پر گواہ ہوجاؤ تو نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ دو اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو”

    اللہ رب العزت اور اس کے پاک حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت ہم پر واجب کر دی گئی ہے اب ہم نے اسلام کا ہر حکم ماننا ہے اگر نہیں مانیں گے تو ہم مجرم ٹھہریں گے اور مجرم کو سزا ملے گی۔

    آیت کریمہ میں جہاد کا حکم دیا گیا ہے جہاد لفظ جہد سے نکلا ہے جس کے معنی کوشش کرنے کے ہیں جہاد کی بہت ساری اقسام ہیں اب کس جہاد کی ضرورت ہےیہ وقت بتاتا رہتا ہے ان دنوں میں سارا کفر فلسطینی بچے مارنے پر راضی ہے اسرائیل نے فلسطین پر اتنا بارود گرایا ہے کہ جہاں فلسطینی مارے گۓ ہیں وہاں غزہ کا ذرہ ذرہ زخمی ہے اور اس سے لہو ٹپک رہا ہے مسلمانوں نے نہ تلوار اٹھائی نہ ہی امداد بھیجی جن ملکوں نے امداد بھیجی ان کی امداد مسلمانوں تک نہ پہنچنے دی گئی امریکہ اپنی امداد بہم پہنچا رہا ہے اور یہ امداد فوجیوں کی شکل میں بھی ہے اور سامان حرب وضرب کی صورت میں بھی ہے۔

    اس میں قابل غور بات یہ ہے کہ یہ امداد مسلمان ملکوں سے گزر کر جاتی ہے پتہ نہیں ان ممالک کی غیرت کیوں مر گئی ہے جو اس امداد کو روکتے نہیں ہیں۔
    مندرجہ بالا آیت میں جہاد کی فرضیت کے بعد مسلمانوں کی نگہبانی کے لیے اللہ رب العزت نے سردار الانبیا کو مقرر فرما دیا ہے جب حضور ہمارے نگہبان ہیں تو پھر ڈر کیسا ؟ آپ یقین کیجیے کہ مٹھی بھر حماس بنا خوف و خطر لڑ رہے ہیں اور اسرائیل کی چیخیں نکل رہی ہیں اسرائیلی صدر خوف کی وجہ سے ایٹم بم کی دھمکی دے رہا ہے لیکن جہاں غیرت ہو وہاں لوگ اٹم بم سے نہیں ڈرتے چاہے ایٹم چل جاۓ اور جان چلی جاۓ کیونکہ
    جان دی دی ہوئی اسی کی تھی
    حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

    ہم ہر سال سنتے ہیں کہ اوزون کی سطح آلودگی کی وجہ سےٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے درخت لگائیں اور زیادہ دھواں دینے والی گاڑیوں پر پابندی لگاٸیں اور سال میں ایک دو بار کچھ وقت کے لیے روشنی بند کر دیتے ہیں اور برقی قمقمے بجھا دیے جاتے ہیں پوری دنیا میں آلودگی کے خلاف سیمینار کیے جاتے ہیں اس لیے کہ ماحول اور گلوبل ویلج کو آلودگی سے ہونے والے خطرات سے بچایا جا سکے یہ سارا ٹوپی ڈرامہ ہے یہ اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اسرائیل نے ٹنوں کے حساب سے اسی زمین پر بارود برسایا ہے عمارات کھنڈر کی صورت اختیار کر گٸیں ہیں اور اس گلوبل ویلج کا دکھ کسی پاکستانی کو ہوا ہے نہ کسی اور ملک کو کیونکہ قول و فعل میں تضاد ہر قوم میں پایا جاتا ہے لیکن ہم اس میں بھی ٹاپ پر ہیں کسی نے فلسطین میں پھیلائی جانے والی اسرائیلی آلودگی کو چیلنج نہیں کیا ۔
    بات چل رہی تھی فلسطین کے جہاد کی تو عرض یہ ہے کہ تمام مسلمان حاکموں نے ابھی تک دم دباٸ ہوٸ ہے اور اللہ کا حکم ماننے سے انکار کیا ہوا ہے مظلوم بیٹیاں اور نہتے بیٹے بلا رہے ہیں لیکن امت کھا کر ڈکار بھی اس لیے نہیں مار رہی کہ کہیں امریکہ یہ نہ کہہ دے کہ فلاں ملک سے اسرائیل پر گولی چلی ہے۔
    واہ مسلمانو واہ!تم نے تو حد کر دی ہے نہ مال سے جہاد کر رہے ہو نہ تلوار سے نہ مال لگا رہے ہو نہ زبانی کہہ رہے ہو کہ یہ فلسطین پر ظلم ہو رہا ہے یاد رکھو اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے جب چل گئی تو پھر چھپ نہ سکو گے جہاد پر نگہبان حضور ﷺ ہیں جس نے جہاد کیا اس کی بھی اللہ کے دربار میں آقا پاک گواہی دیں گے اور جس نے جہاد نہیں کیا اس کی بھی حضور گواہی دیں گے اور جس کے خلاف گواہی حضورﷺ نے دی اس کو کوئی شخص نہیں بچا سکے گا اس کے بعد جہاد کرنے والے اور نہ کرنے والے کے ہم گواہ بن جائیں گے۔
    اس آیت میں گواہی کےبعد نماز اور زکواة کے قائم کرنے کا حکم ہے لیکن اس کے بعد فوری طور پر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کا حکم ہے اللہ کی رسی تھامنے سے مراد بھی آپس میں ایک دوسرے سے اتفاق رکھنا ہے اور ایک دوسرے کے درد بانٹنا ہے۔
    جہاد فلسطین اور زمین ہم سے تقاضا کرتے ہیں کہ صیہونیوں کے ظلم کو سختی سے روک کر امن کے دیپ جلاۓ جائیں۔

  • فلسطین اور کالا پرچم

    فلسطین اور کالا پرچم

    فلسطین اور کالا پرچم


    کالم نگار:۔ سید حبدار قائم
    فلسطین کی لڑائی عروج پر ہے اسرائیلی فوج کا ظلم بڑھتا جا رہا ہے دنیا کے باقی مسلمان دبکے ہوۓ ہیں میرا آج فلسطین پر آٹھواں کالم ہے میں کوشش کر رہا ہوں کہ مسلمانوں کی غیرت جاگ جاۓ لیکن ابھی تک پاکستان افغانستان اور دیگر عرب ممالک بالکل نہیں جاگے میں الفاظ کا جہاد جاری رکھوں گا ہو سکتا ہے کہ فلسطینی مسلمانوں اور مسجد اقصٰی کی ہمدردی میری نجات کا باعث بن جاۓ کیونکہ نیک عمل والا فرشتہ جو کندھے پر بیٹھا ہوا ہے وہ مسلسل سکون کی حالت میں ہے کیونکہ میرے پاس عمل کا فقدان ہے مسلمانوں کا جگاتے ہوۓ اگر مارا بھی جاوں تو کوئی بات نہیں یہی میری نجات کے لیے کافی ہو گا
    سرکار نے چودہ سو سال پہلے پیشن گوئی کی تھی کہ:۔
    "خراسان کے علاقے سے سیاہ جھنڈوں والے نکلیں گے اور سیدھا مسجد اقصٰی پر اپنے جھنڈے گاڑھ دیں گے”
    ماہنامہ الہام کے نومبر 2023 کے شمارہ کے اداریہ میں خراسان کے متعلق لکھا ہوا یہ جملہ پڑھا جو آپ کی بصارتوں کی نذر کرتا ہوں وہ کہتے ہیں کہ :۔
    "سمجھنے کا نقطہ یہ ہے کہ خراسان کا علاقہ کونسا ہے ؟ خراسان کا دل افغانستان ہے جس میں ایران کا کچھ حصہ مشہد اور کچھ حصہ پاکستان کا ہے جو مالا کنڈ ایجنسی ہے اور کچھ حصہ ترکش ریاستوں کا ہے۔”تہران ایران کا دارلخلافہ ہے اس کے متعلق حضرت علامہ اقبال نے کہا تھا کہ :۔

    تہران ہو گر عالم مشرق کا جنیوا
    شاید کرۂ ارض کی تقدیر بدل جاۓ

    اقبال کے اس شعر کی وجہ سے اب میرے خیال میں خراسان کا وہ حصہ جو ایران کے پاس ہے وہ فلسطین کا جہاد کریں گے کیونکہ حضرت امام رضا علیہ السلام خراسان کے شہر مشہد میں مدفون ہیں اور قم اسلامی سرگرمیوں کا مرکز ہے جہاں کے فارغ التحصیل لاکھوں طالب علم پوری دنیا میں فروغ اسلام کے لیے کوشاں ہیں اور انہی کے پاس کالا جھنڈا ہے اور میرے خیال میں وہ اقبال کے اس شعر پر پورے اترتے ہیں:۔

    بازو ترا توحید کی قوت سے قوی ہے
    اسلام ترا دیس ہے، تو مصطفوی ہے

    جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے تو مجھے یہ نہیں لگتا کہ وہ فلسطین کا جہاد کریں گے کیونکہ وہ زیادہ مسلمانوں کو مارنے والے جہادی ہیں بندے اغوا کرنے والے ہیں شیعہ کش فسادات کرانے والے اور جنگل کا قانون چلانے والے ہیں اور ابھی تک انہوں نے پاکستان کا حقِ میزبانی ہی نہیں ادا کیا اور بھلا وہ کیا کر سکتے ہیں ۔

    فلسطین اور کالا پرچم

    فلسطینی عرب سے مخاطب ہو کر علامہ اقبال نے ضربِ کلیم میں کہا تھا کہ:۔

    ‏زمانہ اب بھی نہیں جس کے سوز سے فارغ
    میں جانتا ہوں وہ آتش ترے وجود میں ہے
    تری دَوا نہ جنیوا میں ہے، نہ لندن میں
    فرنگ کی رگِ جاں پنجۂ یَہود میں ہے
    سُنا ہے میں نے، غلامی سے اُمتوّں کی نجات
    خودی کی پرورش و لذّتِ نمود میں ہے!

    پاکستان کی مالا کنڈ ایجنسی کے بارے میں یہ پیشن گوئی نہیں ہو سکتی کیونکہ اب تک اس ایجنسی کے لوگوں کا کردار ایسا نہیں دیکھا گیا کہ وہ فلسسطین کے جہاد میں شرکت کریں گے یا ان کے پاس کالا جھنڈا ہے یا کہ انہوں نے کہا ہو کہ فلسطینیو ” ہم آ رہے ہیں "
    ترکی میں جہاد کی چنگاری ایسی کہاں روشن ہے کہ وہ اسرائیل کے دانت کھٹے کریں اب مجھے پاکستان سے کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ مل کر فلسطین میں جہاد کریں اور مسلمانوں کو یہودیوں کے ظلم و ستم سے نجات دلائیں اور مسجد اقصٰی پر کالا جھنڈا لہرا دیں اور ہماری نجات کی بھی یہی راہ ہے اگر ہم اسی خطے تک محدود رہے تو عزت و ناموس ہم سے دور بھاگ جاۓ گا اقبال کا شاہین بننے کے لیے اقبال کی تعلیمات پر عمل کرنا پڑے گا میری بہادر پاک فوج بلاشبہ یہ صلاحیت رکھتی ہے اور میرا فخر ہے شائد آج کے جوان کے لیے ہی علامہ اقبال فرماتے ہیں :۔

    منزل سے آگے بڑھ کر منزل تلاش کر
    مل جاے تجھ کو دریا تو سمندر تلاش کر
    ہر شیشہ ٹوٹ جاتا ہے پتھر کی چوٹ سے
    پتھر ہی ٹوٹ جاے وہ شیشہ تلاش کر
    سجدوں سے تیرے کیا ہوا صدیاں گزرگیں
    دنیا تیری بدل دے وہ سجدہ تلاش کر

    فلسطینی مسلمان تقریباً بارہ ہزار شہید ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تعداد بچوں کی ہے میں پونے دو ارب مسلمانوں کی سوئی ہوئی غیرت کو جگانے کی کوشش کر رہا ہوں اور یہ جنگ خفیہ نہیں علی الاعلان لڑنے کی صلاح دے رہا ہوں ۔
    بے شک امریکہ اور اس کے حواری اگر ناراض ہوتے ہیں تو ہو جائیں کیونکہ فلسطینی ہمارے اپنے ہیں ان کی غذائی طبی اخلاق اور جنگی امداد ہم پر فرض ہے اگر یہ امداد نہ کی گئی تو مسلمانوں کی عزت و ناموس مٹی میں مل جاۓ گی اب دیکھنا یہی ہے کہ کالا پرچم مسجد اقصٰی پر کون لہراۓ گا ؟

  • جب کتابوں کی جگہ ڈائنوسار آباد ہونگے

    جب کتابوں کی جگہ ڈائنوسار آباد ہونگے

    جب کتابوں کی جگہ ڈائنوسار آباد ہونگے

    Dubai Naama

جب کتابوں کی جگہ ڈائنوسار آباد ہونگے

    کسی دانشور نے کیا خوب کہا تھا کہ "انسان نے روئے زمین سے اتنا خزانہ حاصل نہیں کیا ہے کہ جتنا اس نے اپنے دماغ میں غوطہ زن ہو کر دریافت کیا ہے۔ کتابیں انسانی دماغ میں ڈوب کر حاصل کیئے گئے خزانے ہیں جن سے وہ لوگ بھی استفادہ کر سکتے ہیں جن کو سوچنے اور غوروخوض کرنے کا فن نہیں آتا ہے۔ کتابوں کی اس افادیت ہی کی وجہ سے دنیا بھر میں کتاب میلے لگتے ہیں۔ درحقیقت کتابیں انسان کی ترقی اور خوشحالی کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں۔ آج تک دنیا میں جتنے بھی بڑے انقلابات آئے ہیں وہ سب کے سب کتابوں ہی کے مرہون منت ہیں۔ شارجہ میں لگنے والا عالمی کتاب میلہ ہر سال نومبر کے مہینے میں گزشتہ 42سالوں سے منعقد کیا جا رہا ہے۔ آج اس میلے کے آخری دو دن تھے اور کتاب دوستوں کا اتنا رش تھا کہ ہمیں "اردو بکس ورلڈ” کے سٹال تک پہنچنے میں کم و بیش 20منٹ لگے۔ متحدہ عرب امارات میں ملکی اور غیر ملکی عوام کی کتابوں سے محبت کو دیکھ کر محسوس ہوا کہ خدا ابھی اپنے بندوں سے مایوس نہیں ہوا ہے۔

    جب ہم کتاب میلے میں داخل ہو رہے تھے تو عین اس وقت دنیا کے ایک تہائی ممالک نے اعلان کیا کہ اسرائیل فلسطین میں عالمی جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے۔ سعودی عرب نے کہا کہ، "سیکورٹی کونسل اسرائیل کے عالمی قوانین کی سریع خلاف ورزی کو روکنے میں ناکام ہو گئی ہے”۔ ایران کا موقف تھا کہ ہم اسرائیل کے خلاف حماس کے مزاحمت کاروں کے ہاتھ چومتے ہیں۔ جبکہ فلسطینی صدر محمود عباس نے بیان دیا کہ فلسطینی اپنی نسل کشی کی جنگ کا سامنا کر رہے ہیں۔ سعودی عرب کے دارالخلافہ ریاض میں منعقدہ اسلامک عرب اجلاس نے اپنے مشترکہ اختتامی اعلامیہ میں "انٹرنیشنل کریمینل کورٹ” پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے خلاف عالمی جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی تحقیقات کرے جن کا وہ فلسطینی علاقوں میں ارتکاب کر رہا ہے۔ یہ اجلاس "او آئ سی” (OIC) اور "عرب لیگ” (Arab League) کا مشترکہ اجلاس تھا جس میں دنیا کو باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ اسرائیل فلسطین کی نسل کشی کر کے امن عالم اور انسانی بقا کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ یاد رہے کہ آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس کے 57 اور عرب لیگ کے 22 اسلامی ممالک ممبر ہیں۔ دنیا کی کل آبادی 195ممالک پر مشتمل ہے جن میں 193ملک اقوام متحدہ کے ممبر ہیں۔ دو ملک اقوام متحدہ کے ممبر نہیں ہیں، یہ مشاہداتی ریاستیں (Observer States) ہیں۔ ان میں "فلسطین” اور "ہولی سی” سرفہرست ہیں۔ یوں 193 آزاد اور خودمختار ملکوں میں کل 79 مسلم ممالک فلسطینی میں ہونے والی انسانیت کشی پر بے چین دکھائی دیتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے امریکہ، برطانیہ اور فرانس میں کئی ملئین لوگوں کے احتجاج کے بعد ایک روز پہلے لندن میں ایک بار پھر احتجاج کیا گیا۔ لندن میں ہونے والی احتجاجی ریلی میں ہر رنگ و نسل کے مسلم و غیرمسلم افراد نے شرکت کی۔ کچھ کے بقول دس لاکھ اور کچھ کے نزدیک آٹھ لاکھ افراد نے نعرے لگا کر اور بینرز اٹھا کر اپنے دکھ اور غم و غصے کا اظہار کیا جن میں عیسائی، یہودی، سکھ اور غیر مذہبوں کی سب سے بڑی تعداد مسلمانوں کے ساتھ موجود تھی۔ مختلف شہروں سے لوگ بسوں، گاڑیوں اور ٹرینوں میں بھر بھر کے لندن پہنچے تھے۔ والدین اپنے چھوٹے بچوں کو بھی اپنے ساتھ لائے تھے۔ ھائیڈپارک اور ماربل آرچ سے ریلی نے زور پکڑا اور امریکن ایمبسی تک گھنٹوں مارچ کیا۔ یہ پرامن احتجاج عراق میں ہونے والی جنگ کے بعد لندن میں سب سے بڑا احتجاجی اجتماع تھا۔عوامی ذہن انسان دوست ہوتا ہے۔ امریکہ اور یورپ کے لاکھوں انسانوں کے احتجاج نے ثابت کر دیا ہے کہ انسان کی اصل طاقت محبت اور امن ہے جو اسی صورت میں قائم کیئے جا سکتے ہیں جب دنیا کے انسانوں کی اکثریت میں شعور اور علم و آگاہی قائم ہو جائے۔

    کتاب میلے میں ہم جہاں بھی گئے اسرائیل فلسطین جنگ کی وجہ سے دل میں ایک افسردگی سی محسوس ہوتی رہی۔ گزشتہ روز کے وزٹ میں ہم "علیم بکس” (حال نمبر6, سٹینڈ نمبر8) پر نہیں جا سکے تھے اس دفعہ وہاں بھی جانا نصیب ہوا. اس وزٹ کی خاص بات یہ ہے کہ چند اہم مصنفین سے ملاقاتیں ہوئیں جن میں کہانیوں پر مشتمل کتاب "لوگ سرگوشیوں میں گویا ہیں” کے خالق راجہ شہزاد، شاعری کی کتب "آنکھیں خواب بنتی ہیں” اور "کمال عشق۔۔۔” کی مصنفہ ڈاکٹر عائشہ زاہد، متحدہ عرب امارات میں مقیم شعراء اور ادباء کے بارے "عطردان” کے مرتب شاداب الفت اور سفر نامہ "قصہ قبلتین” کے مصنف محمد صائم شامل ہیں۔ ان کے 10سالہ بیٹے اور ننے مصنف معاد صائم سے بھی خصوصی ملاقات ہوئی جن کی کتاب "قاموس ڈائنوسار” زیر طبع ہے۔ دنیا کی اشرافیہ کو یہ بات سمجھ نہ آئی کہ کتابوں سے سیکھی گئی دانش و حکمت ہی میں انسان کی "نجات” ہے تو یقینا دنیا میں انسان کی اس نسل کشی کا انجام ایک دن روئے زمین سے انسانی نسل کے خاتمے کی صورت میں نکلے گا۔ پھر انسانوں کی جگہ روئے زمین پر دوبارہ ڈائنوسار آباد ہونگے۔

  • غیرت ہے بڑی چیز

    غیرت ہے بڑی چیز

    غیرت ہے بڑی چیز


    کالم نگار: سید حبدار قائم
    فلسطین کے شہدا کی تعداد دس ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جن میں پانچ ہزار بچے شامل ہیں جو ماں کو ماں نہیں کہہ سکتے تھے جن کی امداد امت پر واجب ہے ان کو امت نے تنہا چھوڑ دیا ہے۔
    اسرائیل کے مظالم پر خود امریکہ کے لوگ چیخ اٹھے ہیں لیکن مسلمانوں کی غیرت مر چکی ہے افسوس کی بات یہ ہے کہ اسرائیل پونے دو ارب مسلمانوں کی بھیجی گئی امداد غزہ میں پہنچنے نہیں دیتا جب کہ اسی اسرائیل کے لیے امریکی امداد مسلم ممالک سے گزر کر جاتی ہے کیونکہ مسلم ممالک کے حکمرانوں میں مذہبی غیرت کا فقدان ہے ان کی پالیسیوں کی وجہ سے ساری امت شرمسار ہے دور دور تک غیرت کے آثار نظر نہیں آتے ہمارے اسلاف غیرت مند تھے جن کی گرج اب بھی فلسطین کی فضاوں میں گونجتی ہے پتہ نہیں اب مسلمانوں کو کیا ہو گیا ہے ملّا ازم نے دین کو اتنا نقصان پہنچایا ہے کہ مسلمان آپس میں دست و گریباں ہیں فروعی اختلافات شدت اختیار کر چکے ہیں اب ان کو جوڑنے والا کوئی نہیں اسی منافقانہ روش کے متعلق علامہ اقبال نے کہا تھا :۔

    دینِ کافر فکر و تدبیرِ جہاد
    دین ملا فی سبیل اللہ فساد

    یعنی کفار مسلمانوں کے خلاف جنگ برپا کرنے کی سازش میں مصروف ہیں جب کہ ملاوں کو اللہ کے نام پر فساد پھیلانے سے ہی فرصت نہیں ہے
    ایسے حالات میں جہاد کرنے والا کوئی نظر نہیں آتا یہودی انسانیت کی دھجیاں اڑا رہے ہیں فلسطینی بچوں کا قتلِ عام اور اقوام متحدہ کی بند آنکھیں گلوبل ویلج پر بدنما داغ ہے مسلمانوں میں ایران کے علاوہ کوئی حاکم ایسا نہیں جو اقوام متحدہ کے دوہرے معیار کی گردن میں ہاتھ ڈالے اور ظلم کو ظلم کہے ایسی غیرت کہاں سے لائیں ؟
    ایسا مومن کہاں سے لائیں؟
    اب تو مسلمان حکمرانوں کی زیادہ تعداد یہودیوں کی دلال لگتی ہے مجھے کہیں اس حدیث "المومن کجسد واحد ” پر اترتا ہوا کوئی مومن نظر نہیں آ رہا
    فلسطینی بچوں اور معصوم عورتوں کی دل دوز چیخیں کون سنے گا؟
    کون ان کے زخموں پر پٹی باندھے گا ؟
    کون ان کو تسلی دے گا ؟
    کون ان کی بھوک اور بے چارگی میں مدد کرے گا اسرائیل کے چند لونڈے پورے مسلمانوں پر حاوی دکھئیٸ دیتے ہیں ہمارے جوان دنیا کی رنگینیوں میں کھو چکے ہیں بوڑھے دیکھ دیکھ کر مسلمان قوم پر ہنس رہے ہیں میں نے ایک جوان سے فلسطین کے حق میں بات کی تو اس نے کہا کہ جہادی تنظیم حماس نے پنگا کیوں لیا ہے جب ان کے پاس جدید ہتھیار نہیں ہیں فائیٹر طیارے نہیں ہیں تو انہوں نے کیوں حملے کر کے پہل کی ہے یہ جواب سن کر میں حیران ہو گیا کہ دیکھو اس جوان کو تاریخ کا ذرا بھر علم نہیں ہے یہ اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے متعلق بالکل نہیں جانتا اسے نہیں معلوم کہ یہودیوں کی یہ ناجائز ریاست مسلمانوں پر کتنے مظالم ڈھا چکی ہے کتنے بچے کتنے جوان اور کتنی عمارتیں بمبار طیاروں کے حملوں سے منہدم کر چکی ہے ؟

    لیکن کون سمجھاۓ؟
    یہ کام اساتذہ کا ہے یہ کام علما کا ہے یہ کام والدین کا ہے یہ کام میڈیا ہے ہم سب اپنی نئی نسل کو بتانے میں ناکام ہو گۓ ہیں پوری مسلمان قوم سواۓ ان کے جو جہاد کی حالت میں ہیں سب ناکام ہو گۓ ہیں سوشل میڈیا پر فرقہ پرستوں نے آگ لگائی ہوئی ہے گوگل پر پورن ویڈیو دیکھ دیکھ کر ہماری غیرت کا جنازہ نکل گیا ہے جس کے متعلق حضرت اقبالؒ نے فرمایا تھا:۔

    غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں
    پہناتی ہے درویش کو تاجِ سردارا

    لیکن ہمیں غیرت سے کوٸ سروکار نہیں کیونکہ ہم یہودیوں کی بنی ہوئی ہر چیز استعمال کرتے ہیں ہماری اپنی بنائی ہوئی ہر چیز میں ملاوٹ ہوتی ہے جہاد تو اس امت سے کوسوں دور ہے ہم صرف فلسطین پر افسوس ہی کر سکتے ہیں ہمارا کوئی ایسا حاکم نہیں ہے جو کفار کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنے آپ کو غیرت مند کہلاۓ دعا کرتا ہوں کہ اللہ پاک مسلمانوں کی غیرت کو اپنے کرم سے جگاۓ تاکہ فلسطین کی مدد کے لیے یہ اٹھ کھڑے ہوں ۔

    Title Image by lisa runnels from Pixabay

  • فلسطین پر علی شاہد ؔ دلکش کی شاعری

    فلسطین پر علی شاہد ؔ دلکش کی شاعری

    فلسطین پر علی شاہد ؔ دلکش کی شاعری کا اظہاریہ مع کھوار ترجمہ

     رحمت عزیز خان چترالی (ورلڈ ریکارڈ ہولڈر)

      علی شاہد ؔ دلکش ایک متحرک اور فعال شاعر و ادیب ہیں۔ عالمی ادبی سطح پر درونِ ہندوستان اور بیرون ملک دیگر ممالک کے ادبی پلیٹ فارم پر ان کی منظوم تخلیقات و نثر نگاری دیکھنے کو ملتی رہی ہیں۔‌ آپ کوچ بہار گورنمنٹ انجینئرنگ کالج ، مغربی بنگال، ہندوستان میں شعبہ کمپیوٹر سائنس میں درس و تدریس کے عہدے پر فائز ہیں۔ اردو زبان و ادب کا اولین آن لائن ماہنامہ ‘کائنات’ کے ایسوسی ایٹ ایڈیٹر ہیں۔ ماہنامہ طلوع ادب، پاکستان اور ہفت روزہ بروقت، کشمیر، انڈیا سے بھی لٹریری طور بر وابستہ ہیں۔ روزنامہ سری نگرِ جنگ، کشمیر کے مستقل کالم نگار بھی ہیں۔

      علی شاہد ؔ دلکش
      علی شاہد ؔ دلکش

    رواں مصائبِ فلسطین کے مدنظر  علی شاہد ؔ دلکش کی اردو شاعری میں فلسطینی عوام اور اس مقدس سرزمین سے یکجہتی اور عقیدت کا دلی اظہار قابلِ ذکر ہے۔ موضوعِ گفتگو علی دلکش کی یہ مرصع غزل ہے جو فلسطین اور اس سے متعلق و منسوب ہے‌۔ اہل فلسطین کی محبت میں لکھی متذکرہ غزل کا ہر شعر اپنے اندر ایک علیحدہ معنویت لیے ہوئے ہے۔ اشارے کنائے  اور استعارے کے ساتھ ساتھ شعریت بھی خوب بے۔ اس غزل کا ہر شعر الگ الگ معانی کو ظاہر کرتا ہے۔

    اس غزل کا آغاز بیت المقدس کے مکینوں کے لیے پرتپاک سلام اور خراج عقیدت کے ساتھ ہوتا ہے، جس میں روحانی تعلق کا احساس ہوتا ہے۔ علی شاہد ؔ  دلکش کی اس غزل میں فلسطینیوں کی معصومیت اور بہادری کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے جنہوں نے انصاف اور آزادی کی جدوجہد میں مشکلات اور قربانیاں برداشت کیں۔ اس نظم میں مسجد اقصیٰ کی اہمیت اور شہداء سے گہرے عقائد کا بھی اعتراف کیا گیا ہے۔

    غزل کا تخلیقی عنصر موضوعِ فلسطینی کاز اور مصیبت میں اس کے عوام کا ناقابل تسخیر جذبہ ہے۔ یہ فلسطینی آبادی کے انصاف اور آزادی کی تلاش اور ان کے ثقافتی اور روحانی ورثے کے تحفظ میں جدوجہد، قربانی اور اٹل ایمان کو اجاگر کرتا ہے۔

     مرصع غزل کو مربوط اور تسلسل کی ایک سیریز کے طور پر تشکیل دی گئی ہے۔ ہر ایک شعر میں سلام عقیدت ، توجہات اور ستائشی کلمات شامل ہیں۔ شاعر کا لہجہ فلسطینی عوام کے لیے احترام، تعریف اور گہری ہمدردی کا ہے۔ شاعر پوری غزل میں ایک مستقل تال اور بہاؤ کو برقرار رکھتا ہے، جس سے اس کے جذباتی اثرات اور غزل کے حسن میں اضافہ ہوتا ہے۔

     ‘فلسطین’ سے منسوب مرصع غزل میں مندرجہ ذیل ادبی آلات بھی استعمال کیے گئے ہیں:

    تصویر کشی: اس غزل میں فلسطین کی کچلی ہوئی معصومیت، عزم کے مضبوط درختوں اور ظلم کے طوفان میں جلتے چراغوں کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ یہ منظر کشی قارئین میں ایک طاقتور جذباتی ردعمل کو جنم دیتی ہیں۔

    علامتیت: بیت المقدس، مسجد اقصیٰ، اور قبلہ اول فلسطینی جدوجہد، ان کیب روحانی اہمیت اور ان کے اٹل عزم کی علامتی نمائندگی کرتے ہیں۔

    "قبلہ اول سے محبت کرنے والی روحوں کو سلام” جیسے جملے میں دہرائی جانے والی آوازوں کا استعمال متذکرہ غزل میں ایک سریلی کیفیت کا اضافہ کرتا ہے۔

    استعارہ: شہداء کا معصوم فرشتوں سے موازنہ اور فلسطین سے محبت کرنے والوں کے خون کو یقین کی علامت سے منظوم نگاری کی گہرائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ نِڈر ہو کر معرکہ آرائیاں کرنے والے فلسطین کے غازیوں اور جواں مردوں کو عزم آہن لیے مضبوط شجر کا استعارہ بھی لا جواب ہے۔

    مخصوص غزل کا آغاز بیت المقدس اور فلسطین کی گلیوں اور شہریوں کو سلام پیش کرتے ہوئے مزید احترام اور تعلق کا رشتہ قائم کرتے ہوئے ہوتا ہے۔ "پاک دامن / خالص پاؤں” کا حوالہ بے دردی سے کچلنے والے فلسطینی عوام کی معصومیت اور کمزوری کی علامت ہے جنہوں نے مصائب کا سامنا کیا ہے۔ شاعر نے فلسطینیوں کی نڈر مزاحمت کو خوب خراج تحسین پیش کرتا ہے اور اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو  عمدہ خراج عقیدت بھی۔

    "عزم آہن لیے مضبوط درخت” نیز "ظلم کے طوفان میں جلتے چراغ” کی تصویر کشی انصاف کے حصول میں فلسطینیوں کے غیر متزلزل جذبے کی حقیقی و سچی نشاندہی کرتی ہے۔ قابل ذکر طور پر فلسطین سے محبت کرنے والوں کے خون کو ناحق بہائے جانے سے تعبیر کیا گیا ہے، جس میں لوگوں کو درپیش ناانصافیوں اور مصائب پر زور دیا گیا ہے۔

    فلسطین پر علی شاہد ؔ دلکش کی شاعری
    Image by DEZALB from Pixabay

    غزل کا اختتام قبلہ اول کی طرف جھکنے، مسجد اقصیٰ کے زائرین کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ہی فلسطینی کاز کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ہوتا ہے۔ 

    مجموعی طور پر موضوعِ بحث غزل کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ علی شاہد ؔ دلکش کی شاعری فلسطین کی محبت و حمایت کا ایک متحرک اور ہمدردانہ اظہار ہے، جو جذبات کی گہرائی اور اس کے لوگوں کے قوتِ برداشت کو بیان کرنے کے لیے ادبی آلات کا استعمال کرتی ہے۔ راقم الحروف (رحمت عزیز خان چترالی) کا کھوار ترجمہ علی شاہد ؔ دلکش کے فلسطین کے لیے طاقتور شاعرانہ پیغام کی رسائی کو مزید وسعت دیتا ہے، جس سے چترال، مٹلتان کالام اور گلگت-بلتستان کے وادی غزر کی کھوار برادری کے وسیع تر قارئین تک رسائی ممکن ہو جاتی ہے۔ اہل فلسطین سے منسوب علی شاہد دلکش کی غزل  مع کھوار ترجمہ زیر نظر یوں ہے:

    سر زمیں بیتِ مقدس کے مکینوں کو سلام

    اے فلسطین ترے شہر کی گلیوں کو سلام

     کھوار:بیت المقدسو سرزمینہ ہال باک رویانتے مه سلام، اے فلسطین ته شہرو گنزولانتے سلام

     پاک دامن جو بے رحمی سے کچل ڈالے گئے

     اَن گِنے پھول کی معصوم سی کلیوں کو سلام

    کھوار:پاکدامن روئے کا کہ بے رخمیو سورا لیچھی مارونو ہونی، بے اشمار گمبوریان معصوم بڑوکھانتے مه سلام

    غاصبوں سے لڑے جی جاں سے نڈر ہو کے سبھی

    جاں ہتھیلی پہ لِیے سارے شہیدوں کو سلام

    کھوار:یہودیان سوم ژنگ آرینی نو بوھرتوئیی سف، ژانان پھانہ لاکھیرو سف شہیداننتے سلام

    ہیں ڈٹے ظلم کے طوفان میں جتنے بھی شجر

    عزم آہن لیے مضبوط درختوں کو سلام

    کھوار:ظلمو طوفانو پروشٹہ روپھی شینی کندوری کی کآن مان، چومرو غون ڈنگ جذبہ گنیرو ہے مضبوط کانانتے سلام

    ظلم کے خون سے بچے ہوئے جتنے بھی شہید

    ان فلسطین کے معصوم فرشتوں کو سلام

    کھوار: ظلمو لیاری کندوری کی پھوپھوک شہید ہونی، فلسطینو ہے معصوم فرشگاننتے سلام

    بیت اقدس کے لیے دست دعا ہے جو اُٹھا

    قبلہ اول سے محبت بھرے جذبوں کو سلام

    کھوار:بیت المقدسو بچے کاکی ہوستان اسنیے دعا آریر، قبلہ اولو بچے محبتاری ٹیپ جزبانتے سلام

    تیز اور تند ہوا میں بھی ہے روشن جو چراغ

    ظلم کی آندھی میں ان جلتے چراغوں کو سلام

    کھوار:تیز اوچے تھن ہوا دی کیہ دیوا کی روشت شیر، ظلمو تیز طوفانہ ہے چوکیرو چراغانتے مه سلام

    خوں محبانِ فلسطین کا ناحق جو بہا

    ناز بردار شہیدوں کے عقیدوں کو سلام

      کھوار: فلسطینو سوم محبت کوراکان کوس کی ناحق لیئی یو چوٹیتائے، ہتے ناز بردار شہیدانن عقیدانتے سلام

    اولیں قبلہ پہ سر سب کا جو شاہد ؔ ہے جھکا

    مسجدِ اقصیٰ کی اطہر گلی کوچوں کو سلام

    کھوار:اے شاہد قبلہ اولو معژیتہ سفان سور سجدا بغانی، اقصو معزیتو پاک گنزول اوچے کوچاہانتے سلام

  • فلسطین ہمارا گال ہے

    فلسطین ہمارا گال ہے

    فلسطین ہمارا گال ہے

    کالم نگار:۔ سید حبدار قائم

    اسرائیل نے غزہ پر ایٹم بم گرانے کی دھمکی دے دی ہے اس دھمکی پر اسرائیل کے اپنے لوگ اسرائیل کی پالیسی پر احتجاج کر رہے ہیں امریکہ میں آج بھی پرزور احتجاج ہوا اور امریکی صدر اور وزیراعظم کو سختی سے عوام نے کہا ہے کہ اگر ووٹ لینا ہے تو امریکہ فلسطین پر حملے بند کراۓ اور اسرائیلی حمایت چھوڑ دے۔

    دوسری طرف جہادی تنظیم حماس کے ساتھ مسلمانوں نے ملنا شروع کر دیا ہے اور حماس نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کو ناکام بنا دیا ہے اور ان کے بہت سارے ٹینک تباہ کر دیے ہیں ایران ایک شیر کی طرح گرج رہا ہے اور اسرائیلی گیدڑ بھبکیوں کی پرواہ کیے بغیر حزب اللہ کے مجاہد مدد کے لیے بھیج رہا ہے۔

    اسرائیلی اپنے ظلم و ستم کی وجہ سے مشہور ہیں لیکن اس بار حماس نے ان کے دانت کھٹے کر دیے ہیں امریکی شہریوں کے احتجاج کے بعد اب پاکستانی بھی جلوس نکالیں گے اور احتجاج کریں گے  ہر شہر میں بینر لٹکاۓ جائیں گے بڑی بڑی تقاریر سننے کو ملیں گی امریکہ اور اسرائیل مردہ باد کے نعرے لگیں گے ان کے خلاف بد دعائیں کرائی جائیں گی سلطان صلاح الدین ایوبی کے حملے یاد کیے جائیں گے میڈیا آدھی رپورٹیں سنسر کر کے دکھاۓ گا اور یوں بد دعاوں کی صداوں کے بعد گہری خاموشی چھا جاۓ گی عمل سے کوسوں دور یہ قوم نہ پہلے سنوری تھی نہ اب سنورے گی۔

    فلسطین ہمارا گال ہے
    Image by krystianwin from Pixabay

    ہو سکتا ہے کہ اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے احتجاج بھی کیا جاۓ اور عرضداشت بھی پیش کی جاۓ کیونکہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے اور یوں فلسطین کی گھر بیٹھے بٹھاۓ مدد ہو جاۓ گی اور یہ جہاد باللسان ہوگا۔

    مسلمانوں کے پاس ہتھیاروں کی کمی نہیں لیکن یہ ہتھیار استعمال کے لیے نہیں یہ صرف نمائش اور پریڈ وغیرہ میں دکھانے کے لیے ہیں بندے مارنا کہاں کی مسلمانی ہے فلسطین ہمارا ایک گال ہے اس پر اسرائیلی تھپڑ کے بعد ہم کوئی دوسرا گال پیش کر دیں گے چاہے وہ ایران کی صورت میں ہو یا پاکستان کی صورت میں۔

    جہاد باالسیف یا جہاد باالمیزائل ہمارے نصابوں سے دور ہوتا دکھائی دیتا ہے کیونکہ ہم انگریزی تعلیم کو ترجیح دیتے ہیں اس لیے  ہم مظلوم کی آہ کو نہیں سنتے ہمیں تھپڑ کھانے کا شوق ہے ہمارے پاس چیتے کا جگر اور شاہیں کا تجسس نہیں ہے جس کے متعلق حضرت اقبال نے کہا تھا

    ہے یاد مجھے نقطہ ٕ سلمان خوش آہنگ

    دنیا نہیں مردان جفاکش کے لیے تنگ

    چیتے کا جگر چاہیے شاہیں کا تجسس

    رہ سکتے ہیں بے روشنی دانش و فرہنگ

    لیکن یہ قوم اب بے روشنی کہاں رہ سکتی ہے ویسے اس قوم کو حکمرانوں نے لوڈ شیڈنگ کا تحفہ دے کر بے روشنی کیا ہوا ہے ہمارے اپنے ملک میں جہاد کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے لیکن حکمرانوں کے سامنے یہ ماند پڑ جاتا ہے کیونکہ حکمران دوسرا گال پیش کرنے کے انتظار میں ہیں ویسے اسرائیلیوں نے فلسطین کے سکول ہسپتال اور مساجد اپنے حملوں سے اڑا دیے ہیں اب اسرائیل کو بد دعا سے ڈرانا یا فلسطین کے حق میں دعا کرنا ہی ہمارا منشور ہے فلسطین کا گال پیش کرنے کے بعد اب مسلمان کون سا گال پیش کریں گے اس کا ساری امت کو انتظار رہے گا کیونکہ حاکم ہی وہ بنتا ہے جو امریکہ کا منظورِ نظر ہو ہم بھلا کیسے جہاد باالسیف کر سکتے ہیں ؟ ویسے سیاست دانوں کے خیال میں فلسطین کی حمایت کرنا اپنی حکومت کو ختم کرنے کے مترادف ہے تو پھر یہ پنگا کیوں لیا جاۓ فلسطینیوں نے ہمیں کیا دینا ہے غزہ ہمارے لیے کیسے سود مند ہو سکتا ہے وہاں سے ہمارا کمشن کیسے آ سکتا ہے؟ فلسطین ہمارا گال ہے تو کیا ہوا ہم اسرائیل کو دوسرا گال بھی پیش کر دیں گے اس تھکی ہوٸ قوم کے تھکے ہوۓ لیڈر موت کو بھول گۓ ہیں

    لیکن یاد رکھو میرے دیس کے حاکمو !

    اگر فلسطین کی مدد جہاد باالسیف نہ کی گئی تو اپنے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیسے منہ دکھاو گے حشر کے دن کیسے شفاعت طلب کرو گے ؟ حضور ﷺ کی امت کے چیتھڑے فلسطین کے در و دیوار پر تمہیں مدد کے لیے پکار رہے ہیں اور تم صرف دعا اور بد دعا سے کام لے رہے ہو کہاں ہے تمہارے اندر کا مسلمان جو مرا ہوا ہے اسے زندہ کرو کیوں تمہاری غیرت کو زنگ لگ گیا ہے۔  تم نے موت کو بھلا دیا ہے تو کوئی بات نہیں  موت تمہیں ہمیشہ یاد رکھے گی۔

    Title

  • غزہ کا میدان جنگ

    غزہ کا میدان جنگ

    غزہ کا میدان جنگ


    کالم نگار: سید حبدار قائم


    غزہ کی فضائیں بارود اور انسانی خون سے اٹی ہوئی ہیں انسانیت شرما رہی ہے بین الاقوامی انصاف کہیں دکھائی نہیں دیتا مسلمانوں پر دہشت گردی کا لیبل لگا کر ظلم و ستم روا رکھا گیا ہے اور اسے اس وقت تک نہیں روکا جا سکتا جب تک مسلمان اکھٹے نہیں ہوتے۔
    اسرائیل جتنے ہتھیار بنا کر بیچتا ہے ان پر ” بیٹل ٹسٹڈ” کی مہر لگاتا ہے اور جو بھی نیا ہتھیار لانچ کرتا ہے اسے غزہ کی پٹی پر ئکر کے ٹسٹ کرتا ہے اس میں جتنے زیادہ مسلمان بچوں جوانوں اور عورتوں کے اجسام کے چیتھڑے اڑتے ہیں ہتھیار اتنا کار آمد سمجھا جاتا ہے اور بیٹل ٹیسٹد ہتھیار سب سے زیادہ مسلمان ملک لیتے ییں غزہ کی صورت حال دن بدن بگڑ رہی ہے مسلمان شہدا کے لہو کی مہک اور جلے ہوۓ بدن جگہ جگہ ملتے ہیں مسلمان حاکم اپنے عہدوں کے نشے میں چس لے رہے ہیں ایران کے علاوہ کسی اسلامی ملک کی فوجی قیادت ابھی تک سامنے نہیں آئی جس نے کہا ہو کہ اسرائیلیو ہم آ رہے ہیں یا ہمارا فائئر آ رہا ہے یہ بزدل ڈرے ہوۓ اپنے گھروں میں سہمے ہوۓ ہیں دوسری طرف اقوام متحدہ کی فوج ابھی تک جنگ رکوانے کے لے آگے نہیں بڑھی اور مجھے تو ڈر ہے کہ اگر فوج وہاں گئی بھی تو کہیں فلسطین کے خلاف نہ چلی جاۓ کیونکہ دہشت گرد مسلمان ہی دکھایا جاتا ہے ان کے بچے جوان اور عورتوں کے لاشے بھی نہیں دکھاۓ جاتے اور نہ ان پر افسوس کیا جاتا ہے اسرائیل نے غزہ کو بیٹل فیلڈ بنا رکھا ہے جب چاہے اپنے ہتھیار غزہ پر ٹسٹ کر سکتا ہے کبھی کسی مسلمان ملک نے بھی کہا ہے کہ ہم اسرائیل کی ناجائز ریاست کو بیٹل فیلڈ بنا کر اپنا میزائل داغنا چاہتے ہیں کیونکہ اپنے ہتھیاوں پر "بیٹل ٹسٹڈ ” لکھوانا ہماری بھی خواہش ہے۔

    غزہ کا میدان جنگ
    Image by hosny salah from Pixabay


    ہتھیاروں کی دوڑ میں یہودی سب سے آگے آگے ہیں مسلمانوں کے پاس ایک ہی ٹیکنالوجی ہے جو وہ اپنے دشمنوں کے خلاف استعمال کرتے ہیں اور وہ ٹیکنالوجی ” ویڈیو لیک ہو گئ ہے” ہے غزہ کی صورتِ حال جتنی مرضی گھمبیر ہو جاۓ ہمارے میزائل خاموش رہیں گے کیونکہ ہمارے میزائل نمک حلال ہیں جن کا کھاتے ہیں ان کے گیت گاتے ہیں انہیں پتہ ہے کہ یہودی قرض دیں گے تو ملک چلے گا نہیں تو ہم کنگال ہیں اور یہ صورتِ حال صرف پاکستان کی نہیں سب مسلمان ملکوں کی ہے جو ملک تگڑے ہیں اُن کے افراد صرف دوبئی کے ہوٹلوں میں حسن و شباب پر دولت لٹاتے ہیں انہیں غزہ کا یا امت مسلمہ کا کوئی درد نہیں ہے حضرت اقبال نے کہا تھا:۔

    قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت
    یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان

    غزہ کی موجودہ صورتِ حال دیکھیں تو دنیا میں کہیں بھی مسلمان نظر نہیں آٸیں گے کیونکہ نہ ان میں کوئی قہاری ہے اور نہ ہی ان میں غفاری ہے نہ ان میں کوئی قدوسی ہے نہ ان میں جبروتی دکھائی دیتا ہے یہ چاروں صفات اللہ پاک کی ہیں اگر کوئی کلمہ گو ان صفات کا مالک ہو تو اسے مسلمان کہتے ہیں۔
    فلسطین میں مسلمان سسک رہے ہیں اسرائیلی جنگی طیاروں کی الشفا ہسپتال کے گیٹ پر شدید بمباری سے 60 سے زائد فلسطینی شہید اور 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں اس لیے وہاں ایندھن کی کمی کی وجہ سے ہسپتال کا نظام تباہ ہوگیا ہے زخمی افراد طبی امداد کے منتظر ہیں اردگرد کے مسلمان اس دہشت گردی پر خاموش بیٹھے ہوۓ ہیں اگر یہ سارے بزدل لڑ بھی نہیں سکتے تو کم از کم غذائی اجناس اور طبی امداد تو بھیج سکتے ہیں اس ساری صورت حال میں جہادی تنظیم حماس امت مسلمہ میں واحد روشنی کی کرن ہے جو تا دم جہاد میں سرگرمِ عمل ہے اور غزہ کا دفاع کر رہی ہے باقی مسلمان لمبی لمبی دعائیں کر رہے ہیں حالانکہ جانتے ہیں ک دنیا دارالعمل ہے یہاں وہ ہی کامیابی کے جھنڈے گاڑتا ہے جو جہد مسلسل پر یقین رکھتا ہے۔
    تاریخ شاہد ہے کہ 1192 میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے رچرڈ کو جب شکست دی تھی تو رچرڈ اپنے گھوڑے سے گر گیا تھا ایوبی نے اپنی فوج سے اسے گھوڑا دیا اور مقابلہ کرنے کے لیے دعوت دی لیکن وہ خوف کے مارے بھاگ گیا تھا اور اسی سن میں شہاب الدین غوری نے پرتھوی راج کو شکست دی تھی ہمارے اسلاف بہادر تھے لیکن ہم انتہائی بزدل نکلے ۔
    سنا ہے ایرانی مجاہد تنظیم حزب اللہ والے حرکت میں آۓ ہیں اور اسرائیل کے خلاف اعلان جہاد کر دیا ہے میری باقی مسلمانوں سے گزارش ہے کہ وہ بھی آگے بڑھیں اور مسلمانوں کا قتلِ عام روکیں۔ جنگ روکنے کی کوشش کی جاۓ اگر نہیں رکتی تو غزا کا میدان یہودیوں کا قبرستان بنا دیا جاۓ تاکہ وہ مسلمانوں کا خون اتنا سستا نہ سمجھیں اور کسی کی دوبارہ حملہ کرنے کی جرأت نہ ہو۔

  • کوفیوں کی غداری

    کوفیوں کی غداری

    کوفیوں کی غداری

    Dubai Naama

کوفیوں کی غداری

    یہ مظلوم فلسطینی عوام کے حق میں ایک تاریخ ساز موقعہ ہے جو مسلم دنیا کے ضمیر کو بھی جھنجھوڑ رہا ہے کہ اس جنگ میں 2100 صہیونیوں کے مقابلے میں اسرائیل نے جنگی جرائم کا ارتکاب کرتے ہوئے 40% معصوم بچوں سمیت کم و بیش 9500 فلسطینی قتل کیئے مگر اسرائیل کے خلاف احتجاج مسلم ممالک کی بجائے ابھی تک زیادہ تر امریکہ، برطانیہ اور فرانس وغیرہ میں ہو رہا ہے۔

    اس 29روزہ جنگ کا وہ کونسا لمحہ ہے جب اسرائیلی طیاروں اور میزائلوں نے محض مجاہدین کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے؟ اسرائیل اوسطا ہر 3منٹ بعد غزہ کی رہائشی آبادیوں، ہسپتالوں، ایمبولینسوں اور مسجدوں کو نشانہ بناتا رہا ہے جس میں اب تک 60ہزار عمارتیں کھنڈرات کا نمونہ پیش کر رہی ہیں جس کے ملبے سے بچوں، بوڑھوں اور جوانوں کے زخمی اور بریدہ جسموں کو نکالا جا رہا ہے۔ ابھی ان مرنے اور زخمی ہونے والوں کو زندہ فلسطینی سنبھال رہے ہوتے ہیں کہ ان کے اوپر اور آس پاس ایک نیا بم آ کر پھٹتا ہے، جس میں وہ خود بھی شہید ہو جاتے ہیں۔

    حتی کہ اسرائیل نے نہ صرف غزہ کی پٹی میں بجلی، پانی اور انٹرنیٹ کو بند کیا بلکہ وہاں باہر سے آنے والی خوراک اور ادویات کی سپلائی کو بھی نشانہ بنایا۔

    اس وقت غزہ کی پٹی کربلا کا منظر پیش کر رہی ہے اور یہ وہی صورتحال ہے جو حضرت امام حسینؑ اور اہل بیتؑ کو پیش آئی تھی مگر "اہل کوفہ” خاموش تماشائی بنے رہے تھے۔

    یہ جنگ عین عروج پر ہے صہیونی ریاست بدمست ہاتھی کی طرح فلسطینوں کو کچل رہی ہے۔ حماس نے بھی اپنے ہم وطن فلسطینیوں پر ترس کھا کر جنگ بندی کے لئے امن کا کوئی "سفید جھنڈا” نہیں لہرایا۔ جنگ میں اسرائیلی ڈیفینس فورس(IDF) کی وحشت کو مدنظر رکھتے ہوئے اسرائیلی دوستوں کا خیال ہے کہ غزہ کی پٹی میں دو سے تین ہفتوں تک "مسلم تہزیب” کو ملیا میٹ کر دیا جائے گا۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ غزہ میں بہت کم لوگ جو بچ جائیں گے وہ حماس کے حمایتی ہونگے یا خود حماس کے مجاہدین ہونگے جن کو اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو "دہشت گرد” اور ان کے خلاف جنگی جرائم پر مبنی جنگ کو "مقدس جنگ” کہتا ہے۔ حالانکہ نیتن یاہو کے اس موقف کو کسی ایک بھی حقیقی یہودیت کا عقیدہ رکھنے والے بڑے "ربی” کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ یہاں تک کہ پوب (Pope) نے بھی اس جنگ کے حل کا "دو ریاستی” فارمولہ پیش کیا تھا۔ ایسے معقول یہودی تو کھل کر بیان دے رہے ہیں کہ یہ جنگ صہیونی حکومت (Zionist Rule) کے فلسطینیوں پر ایک لمبے عرصہ کے ظلم کا نتیجہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود اسرائیل میں نیتن یاہو کے گھر کے باہر اس کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں اور اسرائیلی عوام کا ایک معتبر طبقہ اس سے استعفی طلب کر رہا ہے۔

    جبکہ چند گھنٹے قبل امریکہ، برطانیہ اور فرانس میں عوام کا جم غفیر اسرائیل کے خلاف اور فلسطین کے حق میں نعرے لگا رہا ہے۔ جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں تو اس وقت واشنگٹن ڈی سی "فریڈم سکوئیر” پر 100000 امریکی فلسطینیوں کے حق میں جمع ہو چکے ہیں جن کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے اور اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ تعداد ایک ملین تک پہنچ جائے گی۔ لندن کے تفالگر سکوئیر میں بھی 100000 برطانوی فلسطینیوں کے حق آزادی کے لئے جمع ہو گئے ہیں۔ اسی طرح بتایا جا رہا ہے کہ فلسطینیوں کی حمایت میں پیرس میں بھی 300000 لوگ گھروں سے باہر نکل کر ایک جلوس کی شکل میں جمع ہو گئے ہیں۔

    امریکہ نیو جرسی سے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر ڈاکٹر غلام مجتبی نے ابھی واٹس پر اطلاع دی ہے کہ آخری آدھے گھنٹے میں واشنگٹن ڈی سی کے احتجاج میں شامل ہونے کے لئے کیلیفورنیا اور فلوریڈا کی ریاستوں سے 450 مختلف تنظیمیں کے مظاہرین احتجاج کے لئے "وائٹ ہاوس” کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اس احتجاج میں حصہ لینے والوں کی تعداد ایک ملین سے زیادہ متصور کی جا رہی ہے۔ ان کے اعداد و شمار کے مطابق یہ "پرو فلسطین” مظاہرین امریکہ کے صدر جوبائیڈن کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ یہ 66% امریکی فلسطین کی آزدی چاہتے ہیں۔

    جی ہاں! عین اس وقت تاریخ جب نیا موڑ لے رہی ہے، وائٹ ہاوس کے سامنے 66% نمائندہ امریکی شہری، فلسطین کی آزادی کی خاطر اپنے صدر کے خلاف جلوس نکال رہے ہیں، اسرائیلی بمباری پر احتجاج کر رہے ہیں اور "شرم کرو” کے نعرے لگا رہے ہیں اور فلسطینی مسلمانوں کے "مسلمان بھائی”، خاموشی کا کفن اوڑھے سو رہے ہیں یا شائد پھر انہیں بھی کچھ ش ر م آ ہی جائے مگر:

    کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
    ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

  • فلسطینی ہمارے ہیں

    فلسطینی ہمارے ہیں

    فلسطینی ہمارے ہیں


    کالم نگار:۔ سید حبدار قائم

    سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں دیکھا ہے کہ اسرائیلی فوجی دو مسلمان بچوں کو پکڑ کر زبردستی گاڑی میں بٹھا رہے ہیں بچے گھبراۓ ہوۓ ہیں یہ آنسووں اور آہوں کی روداد جاری ہے میرے ہمنوا لکھاری دبکے ہوۓ ہیں اٹک شہر سے مجھے سعادت حسن آس فلسطین کے غم میں تڑپتے ہوۓ دکھائی دیتے ہیں باقی وہ شعرا اور ادیب جو لکھتے لکھتے تھکتے نہیں ہیں وہ اپنے قلم کے ساتھ خاموش ہیں مسلمان بچوں کی لاشیں فلسطین میں بلا رہی ہیں مائیں تڑپ رہی ہیں ان کے لیے ہماری زبانیں گنگ ہو گئی ہیں اور قلم خاموش ہیں اگر ہم معاشی اور اخلاقی طور پر اتنے گر چکے ہیں کہ جہاد باالسیف نہیں کر سکتے تو جہاد باللسان اور جہاد بالقلم تو کر سکتے ہیں لیکن ہم موت اور یہودیوں کے خوف سے اتنے ڈر گۓ ہیں کہ اسرائیل کی جارحیت پر بول بھی نہیں سکتے میرے ہمنوا شاعر ادیب اور صحافی مکمل خاموش ہیں اسی طرح مذہبی تنظیمیں بھی راکھ کا ڈھیر بن چکی ہیں صیہونی طاقتیں ہر لحاظ سے ہم پرحاوی ہیں اور اپنا جبر دکھا رہی ہیں فلسطینی بہنوں کی نظریں کسی سلطان صلاح الدین ایوبی کو دیکھ رہی ہیں جو نہ مسلمانوں کی عسکری قیادت کے پاس ہے اور نہ سیاست دانوں اور مجاہدین کے پاس۔
    بہرحال حماس نے یہودیوں کے سامنے ڈٹ کر مسلمانوں کے قبلہ اول پر جانیں قربان کی ہیں جنہیں میں سلیوٹ کرتا ہوں ایران بھی یہودیوں کے سامنے ڈٹا ہوا ہے جوانمردی کسی کسی کے حصہ میں آتی ہے کئی لوگ میدان جنگ سے غازی بن کر نکلتے ہیں اور کئی گھر یا بازار جاتے وقت حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں پاکستان اور افغانستان کے نام نہاد مجاہدین ابھی تک سامنے نہیں آۓ کیونکہ یہ مجھے کٹھ پتلی ہی لگتے ہیں فلسطین کا دکھ روز بروز بڑھ رہا ہے سیاست دان اور فوج مل کر اس مسئلے کو حل کرانے کے لیے مثبت کردار ادا کریں تو بہتری آ سکتی ہے اگر ایسا نہ ہوا تو یہودی مسلمانوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے سوشل میڈیا پر کچھ درد دل رکھنے والے افراد دعائیں کروا رہے ہیں لیکن یہ کام صرف دعا سے نہیں عملی اقدامات کر کے حل کیا جا سکتا ہے۔
    محرم الحرام میں جیسے مسلمان اگر حسینؑ حسینؑ نہ کرتے تو پوری دنیا یزیدی دکھائی دیتی بالکل اسی طرح اگر ہم فلسطین فلسطین نہیں کریں گے تو پورا عالمِ اسلام یہودی دکھائی دے گا۔ یہودی مصنوعات سے لے کر یہودی دوستی تک کبھی مسلمان کے لیے کارگر ثابت نہیں ہوئی پھر کیوں مسلمان خاموش ہیں اور فلسطین کے حق میں نہیں بولتے بہت کم لوگ فلسطین کے حق میں لکھ رہے ہیں حالانکہ پاکستان میں لکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے مسلمان حاکم اقوام متحدہ سے رجوع کیوں نہیں کرتے۔ کیوں نہیں زبانیں کھولتے کیا ان کی غیرت مر گئی ہے یا یہودی طاقت سے مرعوب ہیں ۔

    فلسطینی ہمارے ہیں
    Image by Kevin Snyman from Pixabay


    اساتذہ نے ابھی چند دن پہلے اپنے حقوق کے لیے دھرنا بھی دیا اور کافی دن ہڑتال بھی کی لیکن بہت افسوس کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ فلسطین کے حقوق کے لیے مکمل خاموش ہیں پاکستان کے ہر شہر سے پر امن ریلیاں نکالی جائیں اور اسرائیل کے خلاف کھلم کھلا احتجاج ریکارڈ کرایا جاۓ جس میں ہر مکاتب فکر کے بندے شرکت کریں تاکہ اسرائیل اپنے ستم سے باز آ جاۓ۔
    مساجد خاموش ہیں علما اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں اور میڈیا مسلمان ہونے کا ثبوت دے کہیں یہ مصیبت آپ کے بچوں پر بھی آ سکتی ہے جو فلسطینی مائیں جھیل رہی ہیں لیکن تب وقت گزر چکا ہو گا فلسطین میں شہدا کی تعداد بہت بڑھ چکی ہے اسے روکا جاۓ اور اگر یہ نہ روکا گیا تو عالمی جنگ چھڑ جاۓ گی جس سے گلوبل ویلج تباہ و برباد ہو جاۓ گا اسی درد کو محسوس کرتے ہوۓ اٹک شہر کے معروف نعت گو شاعر سعادت حسن آس نے کیا خوب لکھا ہے قارئین کی بصارتوں کی نذر کرتا ہوں :۔
    فلسطینی مظلوموں کے نام

    آ صرف ایک بار فلسطین دیکھ جا

    اے رب کائنات بجا تجھ کو سب پتہ
    جب سے یہاں چراغ جلا تیرے نام کا
    صہیونیوں نے ظلم کی کر دی ہے انتہا

    آ صرف ایک بار فلسطین دیکھ جا

    اقصیٰ کی آنکھ تیرے لیے بے قرار ہے
    تو جانتا ہے کب سے اسے انتطار ہے
    سینے پہ اس کے زخم لگا پھر نیا نیا

    آ صرف ایک بار فلسطین دیکھ جا

    راتوں کی نیند اڑ گئی صبحوں کا چین بھی
    جذبات نے پچھاڑ دئیے بڑھ کے بین بھی
    مسموم ہوگئی ہے غزہ شہر کی فضا

    آ صرف ایک بار فلسطین دیکھ جا

    کتنے ہیں سر بریدہ بدن چور چور دیکھ
    کتنے ستم رسیدہ وطن سے ہیں دور دیکھ
    کتنے گھروں پہ آج بھی پہرہ ہے موت کا

    آ صرف ایک بار فلسطین دیکھ جا
    حرمت عبادتوں کی ہوئی پائمال بھی
    برباد مسجدیں بھی ہوئیں ہسپتال بھی
    ہر شخص جاں بلب ہے نہ کھانا ہے نہ دوا

    آ صرف ایک بار فلسطین دیکھ جا
    انسانیت کے خون کی ہولی ہے چار سو
    ایمان کی لگی ہوئی بولی ہے چار سو
    اے منصفو تمھارا ضمیر اب کہاں گیا

    آ صرف ایک بار فلسطین دیکھ جا
    بڑھنے لگے ہیں ساۓ بھی کوفہ و شام کے
    ہم مسلمان رہ گئے اب صرف نام کے
    حق سچ کی راہ پہ آج بھی برپا ہے کربلا

    آ صرف ایک بار فلسطین دیکھ جا
    تجھ پر ہماری آس تو ہی اپنا غم شناس
    اپنے کرم سے تشنہ لبوں کی بجھا دے پیاس
    صدقہ ترے حبیب کا
    تجھ سے ہے التجا

    آ صرف ایک بار فلسطین دیکھ جا۔

    آخر میں دعا ہے کہ اللہ رب العزت تمام مسلمانوں کو اتفاق و اتحاد کی دولت سے مالا مال کرے تاکہ اسرائیل کے خلاف اٹھ کر حق کی آواز بلند کریں کیونکہ فلسطینی ہمارے ہیں۔