فلسطینی ہمارے ہیں

فلسطینی ہمارے ہیں


کالم نگار:۔ سید حبدار قائم

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں دیکھا ہے کہ اسرائیلی فوجی دو مسلمان بچوں کو پکڑ کر زبردستی گاڑی میں بٹھا رہے ہیں بچے گھبراۓ ہوۓ ہیں یہ آنسووں اور آہوں کی روداد جاری ہے میرے ہمنوا لکھاری دبکے ہوۓ ہیں اٹک شہر سے مجھے سعادت حسن آس فلسطین کے غم میں تڑپتے ہوۓ دکھائی دیتے ہیں باقی وہ شعرا اور ادیب جو لکھتے لکھتے تھکتے نہیں ہیں وہ اپنے قلم کے ساتھ خاموش ہیں مسلمان بچوں کی لاشیں فلسطین میں بلا رہی ہیں مائیں تڑپ رہی ہیں ان کے لیے ہماری زبانیں گنگ ہو گئی ہیں اور قلم خاموش ہیں اگر ہم معاشی اور اخلاقی طور پر اتنے گر چکے ہیں کہ جہاد باالسیف نہیں کر سکتے تو جہاد باللسان اور جہاد بالقلم تو کر سکتے ہیں لیکن ہم موت اور یہودیوں کے خوف سے اتنے ڈر گۓ ہیں کہ اسرائیل کی جارحیت پر بول بھی نہیں سکتے میرے ہمنوا شاعر ادیب اور صحافی مکمل خاموش ہیں اسی طرح مذہبی تنظیمیں بھی راکھ کا ڈھیر بن چکی ہیں صیہونی طاقتیں ہر لحاظ سے ہم پرحاوی ہیں اور اپنا جبر دکھا رہی ہیں فلسطینی بہنوں کی نظریں کسی سلطان صلاح الدین ایوبی کو دیکھ رہی ہیں جو نہ مسلمانوں کی عسکری قیادت کے پاس ہے اور نہ سیاست دانوں اور مجاہدین کے پاس۔
بہرحال حماس نے یہودیوں کے سامنے ڈٹ کر مسلمانوں کے قبلہ اول پر جانیں قربان کی ہیں جنہیں میں سلیوٹ کرتا ہوں ایران بھی یہودیوں کے سامنے ڈٹا ہوا ہے جوانمردی کسی کسی کے حصہ میں آتی ہے کئی لوگ میدان جنگ سے غازی بن کر نکلتے ہیں اور کئی گھر یا بازار جاتے وقت حادثے کا شکار ہو جاتے ہیں پاکستان اور افغانستان کے نام نہاد مجاہدین ابھی تک سامنے نہیں آۓ کیونکہ یہ مجھے کٹھ پتلی ہی لگتے ہیں فلسطین کا دکھ روز بروز بڑھ رہا ہے سیاست دان اور فوج مل کر اس مسئلے کو حل کرانے کے لیے مثبت کردار ادا کریں تو بہتری آ سکتی ہے اگر ایسا نہ ہوا تو یہودی مسلمانوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے سوشل میڈیا پر کچھ درد دل رکھنے والے افراد دعائیں کروا رہے ہیں لیکن یہ کام صرف دعا سے نہیں عملی اقدامات کر کے حل کیا جا سکتا ہے۔
محرم الحرام میں جیسے مسلمان اگر حسینؑ حسینؑ نہ کرتے تو پوری دنیا یزیدی دکھائی دیتی بالکل اسی طرح اگر ہم فلسطین فلسطین نہیں کریں گے تو پورا عالمِ اسلام یہودی دکھائی دے گا۔ یہودی مصنوعات سے لے کر یہودی دوستی تک کبھی مسلمان کے لیے کارگر ثابت نہیں ہوئی پھر کیوں مسلمان خاموش ہیں اور فلسطین کے حق میں نہیں بولتے بہت کم لوگ فلسطین کے حق میں لکھ رہے ہیں حالانکہ پاکستان میں لکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے مسلمان حاکم اقوام متحدہ سے رجوع کیوں نہیں کرتے۔ کیوں نہیں زبانیں کھولتے کیا ان کی غیرت مر گئی ہے یا یہودی طاقت سے مرعوب ہیں ۔

فلسطینی ہمارے ہیں
Image by Kevin Snyman from Pixabay


اساتذہ نے ابھی چند دن پہلے اپنے حقوق کے لیے دھرنا بھی دیا اور کافی دن ہڑتال بھی کی لیکن بہت افسوس کے ساتھ لکھ رہا ہوں کہ فلسطین کے حقوق کے لیے مکمل خاموش ہیں پاکستان کے ہر شہر سے پر امن ریلیاں نکالی جائیں اور اسرائیل کے خلاف کھلم کھلا احتجاج ریکارڈ کرایا جاۓ جس میں ہر مکاتب فکر کے بندے شرکت کریں تاکہ اسرائیل اپنے ستم سے باز آ جاۓ۔
مساجد خاموش ہیں علما اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں اور میڈیا مسلمان ہونے کا ثبوت دے کہیں یہ مصیبت آپ کے بچوں پر بھی آ سکتی ہے جو فلسطینی مائیں جھیل رہی ہیں لیکن تب وقت گزر چکا ہو گا فلسطین میں شہدا کی تعداد بہت بڑھ چکی ہے اسے روکا جاۓ اور اگر یہ نہ روکا گیا تو عالمی جنگ چھڑ جاۓ گی جس سے گلوبل ویلج تباہ و برباد ہو جاۓ گا اسی درد کو محسوس کرتے ہوۓ اٹک شہر کے معروف نعت گو شاعر سعادت حسن آس نے کیا خوب لکھا ہے قارئین کی بصارتوں کی نذر کرتا ہوں :۔
فلسطینی مظلوموں کے نام

آ صرف ایک بار فلسطین دیکھ جا

اے رب کائنات بجا تجھ کو سب پتہ
جب سے یہاں چراغ جلا تیرے نام کا
صہیونیوں نے ظلم کی کر دی ہے انتہا

آ صرف ایک بار فلسطین دیکھ جا

اقصیٰ کی آنکھ تیرے لیے بے قرار ہے
تو جانتا ہے کب سے اسے انتطار ہے
سینے پہ اس کے زخم لگا پھر نیا نیا

آ صرف ایک بار فلسطین دیکھ جا

راتوں کی نیند اڑ گئی صبحوں کا چین بھی
جذبات نے پچھاڑ دئیے بڑھ کے بین بھی
مسموم ہوگئی ہے غزہ شہر کی فضا

آ صرف ایک بار فلسطین دیکھ جا

کتنے ہیں سر بریدہ بدن چور چور دیکھ
کتنے ستم رسیدہ وطن سے ہیں دور دیکھ
کتنے گھروں پہ آج بھی پہرہ ہے موت کا

آ صرف ایک بار فلسطین دیکھ جا
حرمت عبادتوں کی ہوئی پائمال بھی
برباد مسجدیں بھی ہوئیں ہسپتال بھی
ہر شخص جاں بلب ہے نہ کھانا ہے نہ دوا

آ صرف ایک بار فلسطین دیکھ جا
انسانیت کے خون کی ہولی ہے چار سو
ایمان کی لگی ہوئی بولی ہے چار سو
اے منصفو تمھارا ضمیر اب کہاں گیا

آ صرف ایک بار فلسطین دیکھ جا
بڑھنے لگے ہیں ساۓ بھی کوفہ و شام کے
ہم مسلمان رہ گئے اب صرف نام کے
حق سچ کی راہ پہ آج بھی برپا ہے کربلا

آ صرف ایک بار فلسطین دیکھ جا
تجھ پر ہماری آس تو ہی اپنا غم شناس
اپنے کرم سے تشنہ لبوں کی بجھا دے پیاس
صدقہ ترے حبیب کا
تجھ سے ہے التجا

آ صرف ایک بار فلسطین دیکھ جا۔

آخر میں دعا ہے کہ اللہ رب العزت تمام مسلمانوں کو اتفاق و اتحاد کی دولت سے مالا مال کرے تاکہ اسرائیل کے خلاف اٹھ کر حق کی آواز بلند کریں کیونکہ فلسطینی ہمارے ہیں۔

مستقل لکھاری

میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے 1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

streamyard

Next Post

''شہر خالی، جادّہ خالی، کوچہ خالی، خانہ خالی'' کا شاعر امیر جان صبوری

ہفتہ نومبر 4 , 2023
امیر جان صبوری فارسی زبان کے ممتاز شاعر ہیں، آپ نے اپنی شہرہ آفاق شاعری ” شہر خالی، جادّہ خالی، کوچہ خالی، خانہ خالی” سے عالمگیر شہرت حاصل کی
”شہر خالی، جادّہ خالی، کوچہ خالی، خانہ خالی” کا شاعر امیر جان صبوری

مزید دلچسپ تحریریں