Tag: فلسطین

  • اسرائیلی حملہ اور دو ریاستی حل

    اسرائیلی حملہ اور دو ریاستی حل

    اسرائیلی حملہ اور دو ریاستی حل

    Dubai Naama

اسرائیلی حملہ اور دو ریاستی حل

    ایک طرف فلسطینیوں پر زمین مزید تنگ ہوتی جا رہی ہے۔ دوسری طرف اسرائیل نے ایران پر ایک اور حملہ کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس حملے میں ایران کی ٹاپ ملٹری قیادت، نیوکلئیر سائنس دانوں، میزائل کے اڈوں اور کم از کم ایک نیوکلئیر پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا جس سے کچھ اہم ایرانی جنرل اور دو ٹاپ نیوکلئیر سائنس دان شہید ہوئے۔ اسرائیل نے دعوی کیا کہ ایرانی فوج کے سربراہ چیف آف اسٹاف جنرل محمد باقری شہید کر دئیے گئے۔ تاہم بعض ایرانی ذرائع اس کی تردید کر رہے ہیں۔ البتہ پاسداران اسلام کے چیف جنرل سلامی کی شہادت کنفرم ہو گئی ہے۔ جنرل غلام علی رشید اور نیوکلئیر سائنس دانوں ڈاکٹر تہرانچی اور فریدون عباسی کی شہادت کی بھی تصدیق ہوئی ہے۔

    ایرانی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ وہ شدید بدلہ لیں گے۔ امریکہ نے آفیشل سطح پر اس حملے کی واضح تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس حملے میں اس کا کوئی ہاتھ نہیں۔ اطلاعات ہیں کہ شائد صدر ٹرمپ اس موقعہ پر یہ کارروائی نہیں چاہتے تھے۔ لیکن امریکہ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ ایرانی حملوں کو روکیں گے۔ مڈل ایسٹ میں امریکہ نے اپنا عملہ اور ملٹری بیسز سے پہلے ہی طیارے نکال لیئے تھے۔ اس وقت ہر طرف ہائی الرٹ چل رہا ہے اور ایران کی طرف سے شدید جوابی حملے کی توقع کی جا رہی ہے۔

    لگتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا غزہ کو اپنی "رئیل اسٹیٹ” بنانے کا منصوبہ اپنے آغاز کے قریب آ رہا ہے۔ اس حملے سے قبل اچانک سپین، جرمنی اور کچھ دیگر یورپی ممالک نے اسرائیلی بربریت پر اسے پابندیاں لگانے کی دھمکیاں دی تھیں۔ اس حملے سے قبل امریکہ نے بھی بظاہر اسرائیل پر دباو’ بڑھایا تھا تاکہ مشرق وسطی میں فلسطین کے مسئلے پر اگلے "گیم پلان” کو شروع کیا جا سکے۔

    دوسری طرف جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرقِ وسطی کے دورے پر گئے تھے تو وہ اسرائیل نہیں گئے تھے۔ ایک امریکی صدر مِڈل ایسٹ جائے اور اسرائیل نہ جائے، ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ اس دورے کے دوران اربوں ڈالر کی آرمز ڈیلز سائن ہوئیں، حماس کے ساتھ مذاکرات کے بعد ایک امریکی ہاسٹیج کی رہائی یقینی بنائی گئی، شام پر لگی امریکی پابندیاں ہٹانے کا اعلان کیا گیا، اور یمن میں حوثیوں کے خلاف فضائی حملے ختم کر دیئے گئے۔ اُدھر ایران کے ساتھ مذاکرات کی خبریں بھی آتی رہی تھیں، اور حماس نے بھی اِس بات کی تصدیق کی کہ وہ غزہ پر امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کر رہا ہے۔

    عرب ممالک کی طرح اگر پاکستان بھی عقل مندی اور عالمی سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرے تو فلسطین کے بارے میں اسے زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اہل پاکستان فلسطینیوں کے پاکستان کے بارے نظریات اور خیالات سے بھی اچھی طرح آگاہ ہیں۔ اس معاملے میں مسلم ممالک کی بے حسی پر بات کریں تو وہ بہت حد تک علاقائی مسائل سے وابستہ ہے۔ اس کو بزدلی سے ہرگز تعبیر نہیں کیا جا سکتا ہے۔ اس کی مثال پاک بھارت مئی 2025ء کی جنگ ہے جس میں پاکستان نے بھارت سے کئی گنا چھوٹے اور معاشی طور پر کمزور ہونے کے باوجود بھارت کو منہ توڑ شکست سے دوچار کیا۔

    جب غزہ کی جنگ کا آغاز ہوا تھا تو اس میں حماس نے اسرائیل پر حملہ کرنے میں پہل کی تھی۔ پاکستان پر حملہ کرنے میں بھی بھارت نے پہل کی جسے منہ کی کھانی پڑی۔ اب اتنا نقصان کروانے کے باوجود فلسطین کا جلد کوئی حل نہیں نکلتا ہے چاہے وہ "دو ریاستی” حل ہی کیوں نہ ہو تو مصدقہ بات ہے کہ فلسطینیوں کی بے رحمانہ نسل کشی یونہی جاری رہے گی۔
    دنیا کے جمہوریت اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کی معنی خیز خاموشی انتہائی تکلیف دہ ضرور ہے مگر جب ہم آزاد اور خود مختار "یہودی ریاست” کو تسلیم کرنے کی بات کرتے ہیں تو اس میں بہت سی علاقائی مصلحتیں ہمارے آڑے آتی ہیں۔ اگر آپ یہ کھوکھلا دعوی کریں کہ عرب بے حس ہیں تو وہ فلسطینیوں کی خاطر اسرائیل سے لڑ کر سبق سیکھ چکے ہیں.
    انہیں فلسطینیوں کے کردار کا بھی علم ہے. شائد پاکستانی سوچے سمجھے بغیر امت امت پکارتے ہیں اور اس "خیالی امت” کے غم میں دبلے ہو رہے ہیں. مسلمانوں کی ساری تاریخ آپس میں لڑائی اور مار کٹائی سے عبارت ہے. ایران عراق جنگ کے دوران "مسلم امہ” کہاں سو رہی تھی؟ آج بھی آپ نظارہ کر لیں کہ عراق، شام، یمن، سوڈان، صومالیہ، لیبیا، اور خود اپنے عزیزم پاکستان میں مسلمان ہی مسلمان کو مار رہے ہیں۔ آپ اعداد و شمار نکال کر دیکھ لیں "غزہ” میں جتنے بچے مرے ہیں ان سے کہیں زیادہ "یمن” میں مر چکے ہیں. لیکن ہمارا المیہ ملاحظہ ہو کہ یمن کے نام پر پاکستان میں "چندہ” ملنا مشکل ہے. اس لئے یمن میں ہونے والی اموات کا کوئی ذکر ہی نہیں کرتا ہے۔

    اسرائیل کو اگر مسلم امہ کی عظیم ترین عثمانی سلطنت کا جد امجد ترکی تسلیم کر سکتا ہے، مصر، اردن اور متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک تسلیم کر سکتے ہیں تو فلسطین کو مکمل آزادی ملنے کی قیمت پر پاکستان اسے کیوں تسلیم نہیں کر سکتا ہے؟ اسرائیل اور ترکی کے درمیان سنہ 1949ء میں اسرائیل کے قیام کے ایک سال کے اندر ہی سفارتی تعلقات قائم ہو گئے تھے اور ترکی مسلم اکثریت کا وہ پہلا ملک تھا جس نے سب سے پہلے اسرائیل کو تسلیم کیا!

    حالانکہ فلسطین کا مسئلہ حل ہونے کے عین قریب تھا اور یہ ان کی اپنی غلطی سے ہوا کہ انہیں فلسطین کا آباد علاقہ اور دیگر شہر مل رہے تھے. لیکن انہوں نے تقسیم قبول نہیں کی اور اسرائیل پر حملہ کر دیا، جس پر یہ مثال صادق آتی ہے کہ، "آدھی چھوڑ ساری کو جاوے ، آدھی رہے نہ ساری پاوے.”

    بے شک ظُلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے اور انشااللہ یہ ظلم بھی مٹ کر ہی رہے گا۔ لیکن افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ خود مسلم دنیا "گریٹر اسرائیل” کو پروموٹ کرتی ہے کہ اس سے ہمسایہ عرب ممالک بھی ایک دن لپیٹ میں آ سکتے ہیں۔ "تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے، ہے جُرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات!” مسلم دنیا کو چایئے کہ وہ اسرائیل کو آگے بڑھنے اور مزید طاقتور بنانے سے روکنے کے لیئے اس کی آزادی کو تسلیم کر لیں تاکہ خطے میں امن قائم ہو جائے اور اور غزہ میں سسکتی ہوئی انسانیت کو بھی زندہ رہنے کا حق مل سکے۔

    غزہ کے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ ہونا افسوسناک ہے مگر اس کے بدلے میں غزہ کے مسلمان پناہ گزینوں کو قانونی طور پر یورپ، امریکہ، آسٹریلیا اور کنیڈا وغیرہ ایڈجسٹ کرتا ہے تو اس میں حرج ہی کیا ہے۔ ٹھیک ہے مصر اور اردن غزہ کے برباد مسلمان بھائیوں کو قبول نہیں کرتے تو نہ کریں اس سے "امہ” کا تصور باقی بچتا ہی کہاں ہے کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے پر بضد ہے۔

    اس دور میں سوشل میڈیا سب سے بڑی آواز اور ایک ناگزیر طاقت ہے، اس لئے ہم سب کو مظلوم فلسطینیوں کے لئے آواز اٹھاتے رہنا چاہیئے جتنا ہم کر سکتے ہیں اتنا ہمیں کرنا چایئے کہ جب تک اسرائیل کی طرح فلسطین کو ایک مکمل اور خود مختار ریاست کا درجہ نہیں ملتا ہے تب تک دنیا فلسطین کے مسئلے سے منہ موڑے رکھے گی۔

    اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ واقعی غزہ کو ایک پرامن اور پرآسائش "سیر گاہ” بنانا چاہتے ہیں تو اس کا خوش دلی سے خیر مقدم کرنا چایئے تاکہ فلسطین کا مسئلہ حل ہو سکے جو نہ صرف مشرق وسطی کے امن کے لیئے خطرہ ہے بلکہ پوری دنیا کو بھی ایک دن آگ میں جھونک سکتا ہے۔

    اسرائیل کے ایران پر اس تازہ حملے کا پس منظر بھی مسئلہ فلسطین کے ساتھ جڑا ہوا ہے کیونکہ ایران کے ایٹمی منصوبوں اور میزائل طاقت سے اسرائیل خوف زدہ ہے جس بناء پر وہ وقفے وقفے سے ایران پر حملے کرتا رہتا ہے۔ بلفرض، مسئلہ فلسطین دو ریاستی بنیادوں پر حل ہوتا ہے تو غزہ ایک "بفر سٹیٹ” کا درجہ حاصل کر لے گا، اور اس سے آئیندہ پوری دنیا کا امن بھی متاثر نہیں ہو گا۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ مشرق وسطی میں پائیدار امن قائم کرنے کے لیئے مسلم دنیا بشمول پاکستان مسئلہ فلسطین کے "دو ریاستی حل” کی تجویز پر آمادگی ظاہر کریں کیونکہ جب تک مشرق وسطی میں امن قائم نہیں ہوتا دنیا بھر کا امن مسلسل خطرے میں رہے گا۔

  • مجلس اتحاد امت: فلسطینی کاز پر مذہبی جماعتوں  کا اتحاد

    مجلس اتحاد امت: فلسطینی کاز پر مذہبی جماعتوں  کا اتحاد

    مجلس اتحاد امت: فلسطینی کاز پر مذہبی جماعتوں  کا اتحاد

    ڈاکٹر  رحمت عزیز خان چترالی

    ان دنوں پاکستانی  سیاست میں ایک تازہ اور اہم پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان کی دو بڑی مذہبی جماعتوں، جمعیت علمائے اسلام (ف) اور جماعت اسلامی نے غزہ پر اسرائیلی مظالم کے خلاف "مجلس اتحاد امت” کے نام سے ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیا ہے۔ اس اتحاد کے تحت 27 اپریل کو مینار پاکستان، لاہور میں ایک بڑا جلسہ اور احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا جس میں تمام مذہبی جماعتیں اور مکاتب فکر فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کریں گے۔

    پاکستانی سیاست میں مذہبی جماعتوں کے اتحاد کی روایت کوئی نئی بات نہیں۔ ماضی میں بھی متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم پر انہی دونوں جماعتوں نے یکجہتی کا مظاہرہ کیا تھا۔ 2002ء کے عام انتخابات میں ایم ایم اے کو غیر معمولی کامیابی حاصل ہوئی تھی جس نے نہ صرف خیبر پختونخوا میں حکومت بنائی بلکہ قومی اسمبلی میں بھی قابل ذکر نشستیں حاصل کیں۔

    تاہم وقت کے ساتھ سیاسی مفادات اور داخلی نظریاتی اختلافات کی بنا پر یہ اتحاد تحلیل ہو گیا۔ لیکن فلسطینی مسئلے جیسے امت مسلمہ کے اجتماعی درد نے ایک مرتبہ پھر ان جماعتوں کو قریب لا کھڑا کیا ہے۔

    مشترکہ پریس کانفرنس میں مولانا فضل الرحمن اور حافظ نعیم الرحمن نے واضح کیا کہ فلسطین کی موجودہ صورتحال امت مسلمہ کے لیے ایک آزمائش ہے۔ ان کا یہ بیان صرف مذہبی جذبات نہیں بلکہ عالمی سیاسی بےحسی پر ایک تنقید بھی ہے۔

    ان رہنماؤں کا یہ بھی کہنا تھا کہ امت مسلمہ کو اپنے حکمرانوں کے غیر مؤثر کردار پر شدید اعتراض ہے کیونکہ وہ مظلوم فلسطینیوں کے حق میں عالمی سطح پر مؤثر سفارتی جدوجہد نہیں کر سکے۔

    قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ رہنماؤں نے تشدد کی راہ اختیار کرنے کو سختی سے رد کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل فوڈ چینز یا املاک پر حملے کرنا  ملک کا اپنا نقصان ہے اور فلسطینی کاز کی خدمت نہیں۔

    یہ رویہ اسلامی جمہوری سیاست میں پرامن اور باوقار احتجاجی کلچر کی ترویج کا مظہر ہے اور اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مذہبی سیاست اب صرف نعروں سے آگے بڑھ کر دانشمندی اور سفارتی تدبر کی طرف مائل ہو رہی ہے۔

    اگرچہ دونوں جماعتوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے اپنے پلیٹ فارم سے سیاسی جدوجہد جاری رکھیں گی  لیکن اس پریس کانفرنس میں ملکی مسائل جیسے صوبوں کے وسائل، نہری نظام، اور عوامی ملکیت جیسے موضوعات پر بھی گفتگو ہوئی۔ یہ اشارہ ہے کہ مجلس اتحاد امت مستقبل میں ایک بڑے سیاسی اتحاد یا اپوزیشن گرینڈ الائنس کی بنیاد بن سکتا ہے۔ اب سوال یہ بھی اٹھتا ہے کیا یہ اتحاد صرف دینی اتحاد ہے یا مذہبی اتحاد یا سیاسی اتحاد بھی ہے؟ اگر یہ سیاسی اتحاد ہے تو کیا اس میں سپاہ صحابہ اور اہل تشیع بھی  مستقبل میں شامل ہوسکتی ہیں؟

    ن لیگ کے رہنما ملک محمد احمد خان نے اس اتحاد کو "سیاسی طور پر خوش آئند” قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ حکومت کے لیے کوئی خطرہ نہیں، لیکن سیاسی تجزیہ نگار اس رائے سے مکمل اتفاق نہیں رکھتے کیونکہ اگر مذہبی جماعتیں عوامی مسائل پر مشترکہ مؤقف اپناتی ہیں، تو وہ اپوزیشن کا مؤثر متبادل بن سکتی ہیں۔

    مجلس اتحاد امت کے قیام کو محض ایک علامتی یا وقتی احتجاجی عمل نہیں سمجھا جا سکتا، بلکہ یہ امت کے اجتماعی شعور کی بیداری اور اسلامی سیاسی وحدت کا مظہر ہے۔ اگر یہ اتحاد مستقل مزاجی، عوامی شمولیت، اور بین المسالک ہم آہنگی کو اپنی بنیاد بناتا ہے، تو یہ نہ صرف فلسطین کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کرے گا، بلکہ پاکستانی سیاست میں ایک نئی اخلاقی اور نظریاتی تحریک کی بنیاد بن سکتا ہے۔

  • فلسطین کے حق میں احتجاج

    فلسطین کے حق میں احتجاج

    فلسطین کے حق میں احتجاج

    ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی

    آج غزہ و فلسطین ایک بار پھر صیہونی بربریت کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ لیکن ہم مسلمان ہونے کے باوجود خاموش ہیں۔ معصوم بچوں، خواتین اور عام شہریوں پر اندھا دھند بمباری اور فائرنگ کے واقعات نے پوری مسلم دنیا کو غم و غصے میں مبتلا کر رکھا ہے۔ لیکن ہم مسلمان ہونے کے باوجود خاموش ہیں۔ فلسطینی عوام پر ہونے والا ظلم کسی ایک قوم، مذہب یا علاقے کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ انسانیت کے وقار اور ضمیر کا امتحان بن چکا ہے۔ لیکن ہم مسلمان ہونے کے باوجود خاموش ہیں۔ تاریخ کے اوراق میں جب بھی مظلومیت کا ذکر آئے گا فلسطین کی بے بسی اور امت مسلمہ کی خاموشی ایک کربناک باب کے طور پر لکھی جائے گی۔ لیکن ہم مسلمان ہونے کے باوجود خاموش ہیں۔
    فلسطین پر یہودی ریاست کے قیام کی سازش 1917ء میں بالفور ڈیکلیئریشن سے شروع ہوئی جب برطانوی سامراج نے فلسطین کو یہودی وطن بنانے کا وعدہ کیا۔ 1948ء میں اسرائیل کے ناجائز قیام کے بعد سے آج تک فلسطینی قوم مسلسل تشدد، جبری ہجرت، نسل کشی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا شکار ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم تھم نہیں رہے۔ حالیہ مہینوں میں غزہ پر بمباری، اسپتالوں، اسکولوں، عبادت گاہوں اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانے سے عالمی ضمیر بھی جھنجھوڑا جا رہا ہے۔ لیکن ہم مسلمان ہونے کے باوجود خاموش ہیں۔
    مسلمانوں کے دل میں فلسطین کی حالت زار پر جو غم و غصہ ہے وہ فطری ہے۔ لیکن اس غصے کا اظہار حدود کے اندر رہتے ہوئے ہونا چاہیے۔ گزشتہ دنوں پاکستان کے مختلف شہروں میں غیر ملکی فوڈ چینز کے ریسٹورنٹس پر پرتشدد حملے، توڑ پھوڑ اور جان لیوا واقعات نے اس احتجاجی تحریک کو نقصان پہنچایا ہے۔ شیخوپورہ اور راولپنڈی کے واقعات میں نہ صرف قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا بلکہ اس سے فلسطینی کاز کو نقصان پہنچا کیونکہ احتجاج کا رخ ظلم کے خلاف ہونا چاہیے، نہ کہ اپنے ہی معاشرے اور لوگوں کے خلاف ہونا چاہئیے۔
    اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر راغب حسین نعیمی اور ممتاز عالم دین مفتی تقی عثمانی نے بجا طور پر اس امر کی وضاحت کی ہے کہ اسرائیل اور اس کی حمایت کرنے والی کمپنیوں کا بائیکاٹ ایک مؤثر اور شرعی طور پر جائز قدم ہے، لیکن اس کی آڑ میں کسی شخص یا ادارے کی املاک یا جان کو نقصان پہنچانا شریعت کی رو سے سختی سے منع ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ "لا ضرر ولا ضرار” (نہ خود نقصان پہنچاؤ اور نہ کسی کو نقصان دو) جیسے اصول پر عمل لازم ہے۔ جذبات میں آ کر توڑ پھوڑ اور فسادات اسلامی تشخص کے منافی ہیں۔


    بائیکاٹ ایک خاموش لیکن مضبوط ہتھیار ہے۔ جنوبی افریقہ کی نسل پرست حکومت کے خلاف معاشی بائیکاٹ کی کامیاب مثال ہمارے سامنے ہے۔ فلسطین کے حق میں اگر پوری دنیا کے مسلمان دانشمندانہ اور پُرامن طریقے سے اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں تو یہ ان کے لیے زہرِ قاتل بن سکتا ہے۔ سوشل میڈیا، تعلیمی ادارے، مساجد اور علمی و ادبی حلقے اس شعور کی بیداری کے لیے کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
    فلسطینیوں سے یکجہتی صرف جذباتی نعرے بازی سے ممکن نہیں بلکہ شعور، علم، حکمت اور اسلامی تعلیمات کے عملی نفاذ سے ہی ممکن ہے۔ ہمیں ایسے ہر اقدام سے گریز کرنا چاہیے جس سے ہمارا احتجاج بدنام ہو یا دشمن کو اس کا فائدہ ملے۔ ایک طرف مظلوم فلسطینی بچہ خون میں لت پت ہے اور دوسری طرف ہم اپنی گلیوں میں اپنے ہی بھائیوں کے کاروبار کو نقصان پہنچا کر اُن مظلوموں کا مقدمہ کمزور کر رہے ہیں۔
    اسلام ہمیں ظلم کے خلاف اٹھنے اور مظلوم کی حمایت کا حکم دیتا ہے، لیکن طریقہ کار وہی ہونا چاہیے جو نبی کریم حضرت محمد مصطفی ﷺ کی سیرت سے ہمیں ملتا ہے۔ صبر، حکمت، استقامت اور قانون کی پاسداری بہت ضروری ہے۔ فلسطین کے لیے ہماری دعا، ہماری آواز، ہمارا شعور، ہمارا قلم اور ہمارا بائیکاٹ ، سب کچھ لازم ہے مگر صرف اس حد تک جو اسلام اور انسانیت کے دائرہ اخلاق میں آتا ہو۔

  • دعا مومن کا ہتھیار ہے

    دعا مومن کا ہتھیار ہے

    دعا مومن کا ہتھیار ہے


    تحریر محمد ذیشان بٹ


    انسان کا اپنے رب سے وہ رشتہ ہے جو الفاظ سے زیادہ جذبات سے جُڑا ہوتا ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جس پر چل کر ایک بندہ اپنے رب کے دربار میں حاضر ہوتا ہے، اپنی محرومیوں کا شکوہ کرتا ہے، اپنی امیدوں کا اظہار کرتا ہے، اور دل کی گہرائیوں سے مانگتا ہے۔ دعا، بندے کی کمزوری اور رب کی قدرت کا اعتراف ہے۔ جب کوئی بندہ کہتا ہے کہ "یا اللہ”، تو گویا وہ اپنی عاجزی، لاچاری اور ضرورت کو تسلیم کرتے ہوئے اُس ذاتِ باری تعالیٰ کو پکار رہا ہوتا ہے جو "کُن فیکون” کہنے پر قادر ہے۔
    دعا محض زبان سے ادا کیے گئے الفاظ نہیں، بلکہ ایک روحانی کیفیت ہے۔ یہ ایک سچا تعلق ہے جو صرف اللہ کے ساتھ جڑتا ہے۔ یہ وہ دروازہ ہے جو کبھی بند نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ خود فرماتے ہیں کہ "مجھ سے مانگو، میں تمہاری دعا قبول کروں گا۔” اس میں نہ وقت کی قید ہے، نہ جگہ کی، نہ زبان کی شرط ہے، اور نہ ہی کوئی دُور رہنے کی حد۔ دعا وہ ذریعہ ہے جس سے ایک غریب، بادشاہ کے برابر ہو جاتا ہے اور ایک گناہ گار، ولیوں کی صف میں کھڑا ہو جاتا ہے۔
    دعا کے لیے دل کا نرم ہونا ضروری ہے، آنکھوں کا نم ہونا ضروری ہے، اور سب سے بڑھ کر، رزق کا حلال ہونا بہت اہم ہے۔ ایک حدیثِ پاک ہے کہ ایک شخص سفر میں ہوتا ہے، گرد آلود ہوتا ہے، ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا ہے: "یا رب، یا رب”، مگر اس کا کھانا حرام، لباس حرام، اور پیٹ حرام سے بھرا ہوا ہوتا ہے، تو اللہ کیسے اُس کی دعا قبول کرے؟ یہ حدیث ہمیں واضح پیغام دیتی ہے کہ دعا کے اثر میں رزقِ حلال کا کردار بنیادی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری دعائیں قبول ہوں، تو سب سے پہلے ہمیں اپنی کمائی کو پاک اور حلال بنانا ہوگا۔
    حضرت امام احمد بن حنبل کا واقعہ بہت مشہور ہے۔ وہ ایک سفر میں تھے اور ایک مسجد میں رات گزارنے کا ارادہ کیا، مگر وہاں کے نگہبان نے اجازت نہ دی۔ امام صاحب نے بہت اصرار کیا مگر وہ نہ مانا۔ امام صاحب نے مسجد کے دروازے کے قریب ہی سونا چاہا، تو نگہبان نے انہیں وہاں سے بھی ہٹا دیا۔ بالآخر ایک نانبائی نے انہیں اپنے گھر لے جا کر مہمان بنایا۔ رات کو وہ نانبائی اپنے معمول کے مطابق آٹا گوندھتے ہوئے مسلسل استغفار کرتا رہا۔ امام صاحب نے حیرت سے پوچھا: "تم کب سے یہ عمل کر رہے ہو؟” نانبائی نے کہا: "برسوں سے، اور اللہ نے میری ہر دعا قبول کی ہے۔” امام صاحب نے پوچھا: "کیا کبھی کوئی دعا قبول نہ ہوئی ہو؟” نانبائی بولا: "بس ایک دعا ابھی باقی ہے، کہ امام احمد بن حنبل سے ملاقات ہو جائے۔” امام صاحب مسکرائے اور بولے: "اللہ نے تو تمہاری یہ دعا بھی قبول فرما دی، دیکھو میں خود تمہارے دروازے پر آیا ہوں۔” یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ دعا کے لیے مسلسل استغفار، اللہ سے لو لگانا، اور دل سے مانگنا ضروری ہے۔ یہ محض الفاظ کا تکرار نہیں، بلکہ ایک روحانی سفر ہے، جس میں بندہ رب کے قریب ہوتا چلا جاتا ہے۔


    ریاض، سعودی عرب کے مشہور آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر احمد کا ایک واقعہ بھی بہت سبق آموز ہے۔ وہ ایک بار ایک شدید زخمی مریض کا آپریشن کر رہے تھے، مریض کی حالت نازک تھی۔ ڈاکٹر احمد نے بتایا کہ انہوں نے اس وقت اپنے تمام تر تجربے کے باوجود خود کو بے بس محسوس کیا، اور دل ہی دل میں اللہ سے دعا کی: "یا اللہ، تُو ہی شفا دینے والا ہے، میری کوشش کو قبول فرما۔” اس کے بعد مریض کی حالت بہتر ہونے لگی اور آپریشن کامیاب ہوا۔ ڈاکٹر احمد نے یہ واقعہ کئی بار بیان کیا ہے کہ ایک وقت آتا ہے جب علم، مہارت اور تجربہ سب ایک حد تک کام آتے ہیں، مگر اصل سہارا دعا کا ہوتا ہے۔ انسان کتنا ہی قابل ہو، مگر جب رب کی مدد شامل نہ ہو تو کامیابی ممکن نہیں۔
    سب سے مقبول دعا درود شریف ہے۔ امامِ کعبہ الشیخ صالح پر دل کا آپریشن ہوا، مگر کامیاب نہ ہو سکا۔ حالت مزید بگڑ گئی، اور ڈاکٹرز دوبارہ آپریشن کی تیاری کرنے لگے۔ اسی دوران ایک لبنانی نرس آئی اور ادب سے کہا: "یا شیخ، کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھنا شروع کیا؟” امام صاحب نے فوراً درود شریف کا ورد شروع کیا — "اللهم صل على محمد وعلى آل محمد” — اور مسلسل پڑھتے رہے۔ کچھ دیر بعد دل کو سکون ملنے لگا، طبیعت بہتر ہوئی، اور جب ڈاکٹرز نے دوبارہ جانچ کی تو حیران رہ گئے: دل نارمل ہو چکا تھا۔ دوسرا آپریشن منسوخ کر دیا گیا۔ امام صاحب خود کہتے ہیں کہ یہ شفا درود شریف کی برکت سے ملی۔ یہ واقعہ درود کی روحانی طاقت، دعا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تعلق کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔
    صحابہ کرام اور تابعین کا عمل دعا کے معاملے میں مثالی تھا۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے تھے: "مجھے اپنی دعا کی قبولیت کی فکر نہیں، بلکہ مجھے دعا کرنے کی توفیق کی فکر ہوتی ہے، کیونکہ دعا کی توفیق ملنا ہی اللہ کی طرف سے قبولیت کی نشانی ہے۔” حضرت علی کرم اللہ وجہ فرمایا کرتے تھے کہ "دعا مؤمن کا ہتھیار ہے۔” تابعین رات کی تنہائی میں اٹھ کر رب کو یاد کرتے، دروازے بند کر کے، دل کھول کر گڑگڑاتے، روتے اور مانگتے۔ ان کے پاس دنیاوی وسائل کم تھے، مگر رب کی رحمت کے خزانے اُن کے لیے ہر وقت کھلے تھے۔
    دعا کے اوقات بھی اہم ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر رات کے آخری پہر آسمانِ دنیا پر نزول فرماتے ہیں اور آواز دیتے ہیں: "ہے کوئی مانگنے والا کہ میں اسے عطا کروں؟” یہ وقت دعا کی قبولیت کا خاص لمحہ ہوتا ہے۔ اسی طرح اذان کے بعد، فرض نماز کے بعد، جمعہ کے دن کی آخری گھڑیاں، روزے کی حالت میں، افطار کے وقت، بارش کے وقت، والدین کی دعا، مظلوم کی فریاد، مسافر کی پکار — یہ سب ایسے مواقع ہیں جب دعا رد نہیں کی جاتی۔
    اللہ تعالیٰ انسان کی دعا کو کئی طریقوں سے قبول فرماتا ہے۔ یا تو وہ مانگی ہوئی چیز فوراً دے دیتا ہے، یا اس سے بہتر چیز دیتا ہے، یا کوئی مصیبت ٹال دیتا ہے، یا آخرت کے لیے ذخیرہ کر دیتا ہے۔ ہر صورت میں بندے کا فائدہ ہی ہوتا ہے۔
    آخر میں ایک نہایت اہم بات یہ ہے کہ دعا کسی سے زبردستی نہیں لی جا سکتی۔ اکثر لوگ کہتے ہیں: "ہمارے لیے دعا کریں” — حالانکہ دعا دل سے نکلتی ہے، محض زبانی درخواست پر دعا مانگی نہیں جاتی، وہ لی جاتی ہے۔ یعنی انسان ایسا عمل کرے، ایسا اخلاق اختیار کرے کہ دوسروں کے دل سے اس کے لیے دعا خود بخود نکلے۔ دعا لینے کے لیے دل جیتنا پڑتا ہے، محبت بانٹنی پڑتی ہے، اور سب سے بڑھ کر عاجزی اختیار کرنی پڑتی ہے۔
    دعا میں ایک عجیب طاقت ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جو کبھی بند نہیں ہوتا۔ یہ وہ دروازہ ہے جو ہر حال میں کھلا رہتا ہے۔ انسان جب سب طرف سے مایوس ہو جائے تو دعا ہی وہ سہارا ہے جو اسے امید کی نئی روشنی دیتا ہے۔ یہ وہ تحفہ ہے جو ہر وقت، ہر جگہ اور ہر حال میں ممکن ہے، بس دل کو نرم کرنے اور لبوں کو سچا بنانے کی دیر ہے۔ رب تو کہتا ہے، مانگنے والا چاہیے — اور وہ دینے والا بن کر منتظر ہے۔
    رب ہمیں اپنی بارگاہ میں سچی دعا کرنے کی توفیق عطا فرمائے، فلسطین سمیت پوری دنیا میں مظلوم مسلمانوں کے لیے دل سے دعائیں کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری دعاؤں کو اپنی رحمت سے قبول فرمائے، آمین۔

    Title Image by Mohamed Hassan from Pixabay

  • فلسطین: ایک درد، ایک دکھاوا

    فلسطین: ایک درد، ایک دکھاوا

    فلسطین: ایک درد، ایک دکھاوا


    تحریر محمد ذیشان بٹ
    یہ انتقام ہے یا احتجاج ہے کیا ہے
    یہ لوگ دھوپ میں کیوں ہیں شجر کے ہوتے ہوئے
    “جب احتجاج بھی مفاد کا ذریعہ بن جائے، تو ظلم کو طاقت ملتی ہے، مظلوم مزید تنہا ہو جاتا ہے۔”
    فلسطین کا دکھ نیا نہیں، پرانا ہے۔ مسلسل دہائیوں سے جاری یہ زخم آج بھی تازہ ہے۔ ہر بمباری، ہر شہادت، ہر آنسو ہمیں ایک لمحے کے لیے جھنجھوڑتا ضرور ہے، لیکن پھر ہم اپنی دنیا میں مگن ہو جاتے ہیں۔ فلسطین کا مسئلہ اب ایک نعرہ بن چکا ہے، ایک علامت، جسے جب چاہا استعمال کیا، اور پھر رکھ دیا۔ پاکستانی معاشرہ بھی اسی روش پر چل نکلا ہے۔ یہاں ہر شخص، ہر تنظیم، ہر جماعت، فلسطین کے نام پر صرف اپنی دکان چمکانے میں مصروف نظر آتی ہے۔
    سیاسی جماعتیں جلسے کرتی ہیں، بڑی بڑی اسکرینوں پر فلسطینی پرچم لہراتی ہیں، مگر ان کے منشور میں فلسطین کا کوئی مقام نہیں ہوتا۔ مذہبی تنظیمیں خطبے دیتی ہیں، ریلیاں نکالتی ہیں،فلسطین کے نام پر چندے وصول کر کے اپنا الو سیدھا کرتے ہیں لیکن ان کا اتحاد صرف سوشل میڈیا پر نظر آتا ہے، حقیقت میں نہیں۔ مشہور شخصیات، سوشل میڈیا ایکٹوسٹس، یوٹیوبرز، سب فلسطین کے لیے ویڈیوز بناتے ہیں، تاکہ اپنی ریٹنگز حاصل کر سکیں مگر انہی اسرائیلی مصنوعات کے برانڈ ایمبیسیڈر بھی ہوتے ہیں جن کے بائیکاٹ کی تلقین عوام کو کرتے ہیں۔
    یہ دوغلا پن صرف فرد کی سطح پر نہیں، حکومتی سطح پر بھی ہے۔ آج جن سے فلسطین کے لیے آواز بلند کرنے کی امید رکھی جا رہی ہے، وہ خود ہی مفاداتی معاہدوں کی پیداوار ہیں۔ جب ان کی اپنی صداقت مشکوک ہو، تو وہ کسی مظلوم کے حق میں کہاں تک جا سکتے ہیں؟ ان سب کو قائد اعظم کا فرمان یاد رکھنا چاہے اسرائیل امت مسلمہ کے دل میں گھونپا گیا خنجر ہے ۔ یہ ایک ناجائز ریاست ہے جسے پاکستان کبھی تسلیم نہیں کرے گا۔


    اس وقت ہمارا احتجاج صرف "ردعمل” ہے، "عمل” نہی اگر ہم دنیا کی زندہ قوموں کو دیکھیں، تو وہ احتجاج کو ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ وہ سڑکوں پر صرف نعرے نہیں لگاتیں، منظم تحریکیں چلاتی ہیں۔ ان کے احتجاج میں یکجہتی، قیادت، تسلسل اور حکمت عملی ہوتی ہے۔ وہ احتجاج کو مقصد سے جوڑتی ہیں، نہ کہ مفاد سے۔
    ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ احتجاج تب مؤثر ہوتا ہے جب:
    اس میں صرف جذبات نہیں بلکہ شعور ہو
    قیادت خالص اور دیانت دار ہو
    قوم خود بیدار ہو، صرف ہدایت کی محتاج نہ ہو
    احتجاج محض ریلی یا واک نہ ہو بلکہ پالیسی تبدیلی کا محرک بنے
    ہمیں فلسطین کے لیے صرف جذباتی نہیں، عقلی، اخلاقی اور عملی سطح پر کھڑا ہونا ہوگا۔ ہمیں اپنا طرزِ زندگی بدلنا ہوگا۔ بائیکاٹ صرف سوشل میڈیا کی حد تک نہیں بلکہ روزمرہ زندگی میں نظر آنا چاہیے۔ ہمیں اپنی اولاد کو فلسطین کی اصل تاریخ سکھانی ہوگی، تاکہ وہ اگلی نسلیں بھی اس کاز کو زندہ رکھ سکیں۔ ہمیں اپنے حکمرانوں سے حقیقی اقدام کا مطالبہ کرنا ہوگا، خالی بیانات نہیں۔ ووٹ دیتے وقت اگر آپ کی سوچ نلکے یا سڑک پکی کروانے تک ہو گئی تو ان حکمرانوں سے توقع مت رکھیں کہ یہ فلسطین کے لیے آواز اٹھائیں گے
    یہ وہ وقت ہے جب ہمیں صرف ہجوم نہیں بلکہ قوم بننا ہے۔ اگر ہم واقعی چاہتے ہیں کہ ہماری آواز مظلوموں کے ساتھ ہو، تو ہمیں اپنے اندر وہ اخلاص، وحدت اور عمل پیدا کرنا ہوگا جو کسی بھی احتجاج کو زندہ اور طاقتور بنا دیتا ہے۔ اور روزانہ انفرادری طور پر نماز کے بعد گڑگڑا کر اللّہ پاک کے حضور صدق دل سے فلسطین کے لیے یہ کہ کر دعا کریں کے مولا ہم تو بے بس ہیں جس طرح ممکن تھا بایکاٹ بھی کیا مال بھی لگایا توانائی بھی صرف کی تو مولا اپنے غیب سے فلسطین کے مسلمانوں کی مدد فرما بھیج پھر کوئی صلاح الدین ایوبی جو بیت المقدس کو آزاد کروانے
    ورنہ ہماری ریلیاں، نعرے، اور ہیش ٹیگز، صرف ایک اور موسمی جذبہ بن کر رہ جائیں گے، اور فلسطین کا زخم یونہی رسے گا، یونہی بہتا رہے گا۔ بات فلسطین تک نہیں رکے گی انڑ نیٹ کا استعمال کر کے گریٹر اسرائیل کا منصوبہ بھی پڑھ لے تھوڑا نہیں مکمل غور کیجے

    Title Image by hosny salah from Pixabay

  • اسلامک کانفرنس کے جسد خاکی کو زندہ کرنے کی ضرورت

    اسلامک کانفرنس کے جسد خاکی کو زندہ کرنے کی ضرورت

    اسلامک کانفرنس کے جسد خاکی کو زندہ کرنے کی ضرورت

    Dubai Naama

اسلامک کانفرنس کے جسد خاکی کو زندہ کرنے کی ضرورت

    21 اگست 1969ء میں مسجد اقصی کو آگ لگانے کے واقعہ پر اسرائیل کی ایک سابقہ خاتون وزیراعظم گولڈا میئر نے کہا تھا کہ ”میری زندگی کا سب سے برا اور خوشگوار دن وہ تھا جب میں نے مسجد اقصٰی کو آگ میں جلتے دیکھا تھا۔”
    جب اس سے وجہ پوچھی گئی تھی تو اس نے کہا تھا کہ
    بُرا دن اس لئے تھا کہ جس دن میں نے مسجد اقصٰی جلتے دیکھی تھی تو میں ساری رات سو نہ سکی تھی کہ کہیں صبح عالم اسلام ہم پر حملہ نہ کر دے کیونکہ اگر ایسا ہو گیا تو پھر اسرائیل کا وجود صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا اور
    خوشگوار اس لئے کہ ساری رات گزر گئی، اگلے دن کا سورج نکلا اور میں نے مسجد اقصٰی کے جلانے پر مسلمانوں کا رد عمل دیکھا کہ مسلم حکمرانوں میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ سب اسرائیل پر حملہ کرتے بلکہ وہ لوگ تو خود اپنی عوام کو جنگ سے ڈرانے اور روکنے میں پیش پیش نظر آ رہے تھے. یہ سب دیکھ کر میں مطمئن ہو گئی تھی کہ اب اسرائیل عرب دنیا کی حدود میں محفوظ ہے اور ہمیں امت مسلمہ سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔

    اس روز مسجد اقصی کو آگ لگانے والا شرپسند بدبخت ایک آسٹریلوی یہودی ڈینس مائیکل روحان تھا جس سے مسجد اقصی جو مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے تین گھنٹے تک آگ کی لپیٹ میں رہی تھی جس سے جنوب مشرق اور عین قبلہ کی جانب مسجد کا بڑا حصہ گر گیا تھا۔ محراب میں موجود 800سالہ پرانا منبر بھی نذر آتش ہو گیا تھا جسے صلاح الدین ایوبی نے فتح بیت المقدس کے بعد نصب گیا تھا۔ اس المناک واقعہ کے بعد مسلم دنیا کا اتنا ردعمل ضرور سامنے آیا تھا کہ اس کے بعد خواب غفلت میں ڈوبی ہوئی امت مسلمہ کی آنکھ ایک لمحے کے لئے بیدار ہوئی اور اس سانحہ کے بعد مفتی اعظم فلسطین کی پکار پر سعودی عرب اور مراکش نے قائدانہ کردار ادا کیا، جن کی کوشش سے مراکش کے شہر رباط میں مسلم دنیا کے سربراہ اکٹھے ہوئے اور 25ستمبر 1969ء کو اسلامی سربراہی کانفرنس کی باقاعدہ بنیاد رکھی گئی۔

    اسلامی سربراہی کانفرنس کے قیام کے 6ماہ بعد ایک مرتبہ پھر سعودی عرب آگے بڑھا اور اسلامی ممالک کے تمام وزراء خارجہ کا پہلا باقاعدہ اجلاس جدہ میں منعقد کیا۔ سنہ 1972ء میں او آئی سی کو باقاعدہ تنظیم کی شکل دی گئی اور یہ طے پایا کہ اس کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہر سال ہو گا جبکہ سربراہی اجلاس ہر 3 سال بعد ہوا کرے گا۔ 57مسلم ممالک کی اس عالمی سربراہی کانفرنس کے اجلاسوں کی تاریخ پر اگر نظر ڈالی جائے تو پاکستان میں 1974ء میں منعقد ہونے والی سربراہی کانفرنس ابھی تک کی واحد کانفرنس ہے جس میں دنیا کے سب سے زیادہ ممالک نے شرکت کی تھی۔ اس کانفرنس کو کامیاب کرانے میں بھی سعودی عرب کے سربراہ شاہ فیصل نے بنیادی کردار ادا کیا تھا، یہی وہ کانفرنس تھی جس میں ذوالفقار علی بھٹو، شاہ فیصل، معمر قذافی اور یاسر عرفات عالمی لیڈر بن کر اُبھرے تھے۔ پاکستان میں ہونے والی سربراہی کانفرنس میں پہلی دفعہ فلسطین کو علیحدہ مملکت کا اسٹیٹس دیا گیا تھا، جس کے بعد اسی بنیاد پر اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے فلسطین لیڈران کو خطاب کرنے کا موقع ملا۔ 1974ء میں لاہور میں منعقد ہونے والی سربراہی کانفرنس میں مفتی اعظم فلسطین امین الحسینی، فلسطین سے یاسر عرفات، سعودی عرب سے شاہ فیصل، یوگنڈا سے عیدی امین، تیونس سے بومدین، لیبیا سے کرنل قذافی، مصر سے انور سادات، شام سے حافظ الاسد، بنگلہ دیش سے شیخ مجیب الرحمان اور ترکی سے فخری کورو سمیت تمام بڑے مسلم رہنما شریک ہوئے تھے۔

    اس وقت تنظیم کے عروج کا یہ عالم تھا کہ 1980ء میں پاکستان کے صدر محمد ضیاءالحق نے امت مسلمہ کے متفقہ لیڈر کے طور پر اقوامِ متحدہ سے خطاب کیا تھا اور ان کے خطاب سے قبل ریکارڈڈ تلاوت قرآن پاک بھی چلائی گئی تھی اور پھر اس کے بعد اس تنظیم کے زوال کا یہ عالم تھا کہ یہ تنظیم ایران عراق جنگ کو بند کرانے میں ناکامی کے بعد ہر گزرتے دن کے ساتھ غیرموثر ہوتی چلی گئی۔ اگست 1990ء کو عراقی فوج نے کویت پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا مگر آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن (او آئی سی) صدام حسین کے حملے کا کوئی آبرو مندانہ حل نہ نکال سکی۔ آج کشمیر اور فلسطین کے مسائل جوں کے توں ہیں۔ او آئی سی کے ساتھ ایک دردناک حقیقت یہ بھی وابستہ ہے کہ اس کے عروج سے جڑے تمام کردار آہستہ آہستہ غیر طبعی موت مارے گئے۔

    گزشتہ چند روز ہوئے اسرائیل نے غزہ میں قیامت صغری برپا کر رکھی ہے۔ رمضان کے ماہ مقدس میں اور اس کے بعد اسرائیل تقریبا ہر سال فلسطینی مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلتا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا کہ ہم مشرق وسطیٰ کا نقشہ تبدیل کر کے رکھ دیں گے۔ نیتن یاہو کے اس بیان سے پہلے مشرق وسطیٰ کی ہر ریاست یہی سوچ رہی تھی کہ اگر ہم فلسطینیوں کو مرنے دیں گے تو خود بچ جائیں گے، یاہو نے یہ بیان دے کر ثابت کر دیا ہے کہ خاموشی اور بے حسی مشرق وسطیٰ کے عربوں کو کسی صورت نہیں بچا پائے گی. عراقی صدر صدام، کرنل قذافی اور حافظ الاسد وغیرہ کی صورت میں اسرائیلیوں کے سامنے جو رکاوٹیں تھیں وہ عرب مسلمانوں نے خود ہی رضاکارانہ طور پر ختم کر دی ہیں۔ آج غزہ کی تباہی پر اسلامی کانفرنس (اور آئی سی) مگر مچھ کے آنسو بہانے سے بھی قاصر ہو چکی بلکہ اس کی کارکردگی یہ ہے وہ بیانات اور قراردادیں پاس کرنے سے بھی محروم ہو چکی ہے۔

    کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس اسلامی تنظیم پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا قبضہ ہے اور عملا یہ تنظیم کب کی مر چکی ہے جس کے جسد خاکی کو بس دفنانا باقی یے۔

    اسرائیلی عزائم سے تو یہی نظر آ رہا ہے کہ اب اس خطے میں ترکی، اسرائیل اور سعودی عرب کے تین ممالک ہی دنیا کے نقشے پر نظر آئیں گے۔ خلیجی ممالک کو چایئے کہ وہ اپنی آزادی اور سلامتی کو برقرار رکھنے کے لیئے اسرائیلی وزیراعظم کے اس بیان کے خلاف رد عمل ظاہر کریں اور آئیندہ کا اپنا لائحہ عمل طے کریں۔ عرب ممالک کو یورپی یونین کی طرز پر اپنا تحفظ کرنا چایئے جو اسی صورت میں ممکن ہے کہ خلیجی ریاستیں اپنے درمیان فوجی اور اقتصادی تعاون کو مزید بہتر بنائیں۔ حالانکہ مسلم سکالرز کی تبلیغی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو "گریٹر اسرائیل” کا تصور بھی او آئی سی کی طرح خود ہم نے ہی تخلیق کیا تھا اور اس کے نتائج بھی ہم مسلمانوں ہی کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ اگر مسلم اتحاد ہو جائے چاہے او آئی سی کے مردہ گھوڑے ہی میں جان ڈالی جائے تو کچھ بعید نہیں ہے کہ اسرائیل کی سابقہ خاتون وزیراعظم گولڈا میئر کی طرح موجودہ وزیراعظم نیتن یاہو کی بھی نیندیں اڑ جائیں۔

  • رمضان المبارک میں درود شریف کثرت سے پڑھیں

    رمضان المبارک میں درود شریف کثرت سے پڑھیں

    رمضان المبارک میں درود شریف کثرت سے پڑھیں

    اٹک(ہشام خان اعوان سے/نیوزایڈیٹر)رمضان المبارک کے مقدس ماہ میں درود شریف پڑھنے کی کثرت کرنی چاہیے کیونکہ رمضان کے مہینہ میں ہر نیکی کا ثواب 70گنا bڑھا دیا جاتا ہے، جو شخص روزانہ313مرتبہ درود شریف پڑھتا ہے اس کا شمار کثرت سے درود شریف پڑھنے والوں میں کیا جاتا ہے جبکہ جو شخص ایک ہزار مرتبہ روزانہ درود شریف پڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ دردو شریف کے صدقے اس شخص کی تمام پریشانیاں اور مشکلات دور کر فرما دیتے ہیں،ہمارے پیارے نبی آخرالزمان حضرت محمد ؐ کی حدیث مبارکہ ہے کہ ”جس نے مجھ پر ایک مرتبہ درود پاک پڑھاتو اللہ تعالیٰ اس پر10رحمتیں بھیجتے ہیں اور اسکے نامہ اعمال میں 10نیکیاں لکھتے ہیں“،ان خیالات کا اظہار حضرت علامہ مولانا حافظ نعیم اسلم عطاری نے واک گروپ اور جناح پارک اٹک کی انتظامیہ کے زیر اہتمام فائیر بریگیڈ بلدیہ اٹک کے دفتر نزد بالمقابل ضلع کونسل سٹیڈیم اٹک میں 17رمضان المبارک 1446ھ بمطابق 18مارچ2025ء بروز منگل کو ام المومنین اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے یوم وصال اور حضور نبی اکرم ؐ کے پہلے غزوہ بدر کے دن کے موقع پر محفل درود پاک کے بہت بڑے اجتماع میں درود پاک کے فضائل بیان کرتے ہوئے کیا ہے، سب سے بابرکت اور مقدس اسلامی ماہ رمضان المبارک کے موقع پر درود پاک کی بابرکت محفل میں 2 کروڑ مرتبہ درود پاک پڑھا گیا،جبکہ 12 مرتبہ قرآن پاک کی تکمیل کو مکمل کیا گیاہے،جن تمام ختم کا ایصال ثواب ام المومنین اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور تمام غزوات کے شہداء صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم خصوصاََ غزوہ بدر کے شہداء کی ارواح کے علاوہ تمام دنیا کے مومنین مسلمانوں اور حاضرین مجلس کے رفقاء کو خصوصی طور پر ہدیہ کیا گیا ہے

    رمضان المبارک میں درود شریف کثرت سے پڑھیں

    درود پاک کی بابرکت محفل کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا، جس کی سعادت ڈویژنل فاریسٹ آفس اٹک کی مسجد کے امام و خطیب محکمہ جنگلات حضرت علامہ مولانا حافظ قاری محمد سلیم نے حاصل کی ہے اور حضور نبی کریم ؐ کی بارگاہ میں خصوصی نعت شریف معروف نعت خواں محمدحسنین شاہ اورغفران محمود نے پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ہے، اس موقع پر تقریب میں ورکس سپروائیزر بلدیہ اٹک ملک آصف علی،اسسٹنٹ ورکس سپروائیزرملک رضوان اختر، اسسٹنٹ واٹر ورکس برانچ بلدیہ اٹک محمد سرفراز خان، جنرل پوسٹ آفس کے ریٹائرڈ ملازم محمد سجاد خان، صدر پنجاب پریس کلب رجسٹرڈ اسلام آباد اٹک ملک کامران اختر، چیئرمین آل پاکستان پرنٹ اینڈ الیکٹرانک اینڈ سوشل میڈیاضلع اٹک موسٹ سینئر صحافی ہشام خان اعوان، ہیڈ کلرک ایف پی او اٹک سید وصی حیدر شاہ،محمد شہزاد،محمد جمیل خان، ملک ناصر، نقاش علی خان، ڈرائیور کامران خان، طارق محمود، نوید احمد، محمد رفیع خان، طاہر جمیل کے علاوہ محکمہ جنگلات،محکمہ وائلڈ لائف،ضلع کونسل اٹک،ڈسٹرکٹ سپورٹس آفس،ریسکیو1122،محکمہ پنجاب پولیس،مونسپل کمیٹی اٹک کے ملازمین،اٹک شہر سمیت گردونواح کی اہم مذہبی ودینی شخصیات اور علاقہ بھر کے معززین نے کثیر تعداد میں شرکت کی ہے، رمضان المبارک کے مقدس ماہ میں ختم قرآن پاک اور درود پاک کی بابرکت محفل کی اختتامی دعائیہ تقریب حضرت علامہ مولانا حافظ نعیم اسلم عطاری نے قرآن پاک کے آخری چاروں قل شریف کی تکمیل کر کے ملک پاکستان کی سلامتی، استحکام کے علاوہ فلسطین،لبنان اور مقبوضہ کشمیر کی مظلوم مسلمانوں کیلئے خصوصی دعائیں مانگی گئی ہیں، محفل درود پاک کے اختتام پرتمام روزہ داروں کو بہترین افطاری کروانے کے بعد افطار ڈنر کے خصوصی لنگر سے شرکائے محفل کی تواضع کی گئی ہے۔

  • چین کا متوازی نیو ورلڈ آرڈر

    چین کا متوازی نیو ورلڈ آرڈر

    چین کا متوازی نیو ورلڈ آرڈر

    Dubai Naama

چین کا متوازی نیو ورلڈ آرڈر

    امریکی نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ صرف ایک ماہ کے اندر ہی بے پردہ ہو گئے ہیں۔ امریکہ جیسی بلاشرکت غیرے سپر پاور کو ڈونلڈ ٹرمپ جیسا صدر شائد زیب دیتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ برق رفتار سیاسی طبیعت کے مالک ہیں۔ موجودہ عالمی سیاسی صورتحال ٹرمپ کی شخصیت کا کرشمہ ہے یا اندرون خانہ امریکی اسٹیبلشمنٹ کا کوئی کارنامہ ہے؟ یہ سوال جہاں انتہائی دلچسپ ہے وہاں یہ حیرت انگیز بھی ہے۔ عالمی سطح پر خفیہ سیاسی منصوبہ بندی نہیں ہوا کرتی۔ ڈونلڈ ٹرمپ اپنی صدارت کی دوسری مدت میں آغاز ہی میں کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ اس حوالے سے آئندہ چند ماہ اہم ہیں جب امریکہ کی بالادستی کو چیلنج کرنے کے لیئے جہاں مسلم ممالک متحد ہوتے نظر آ رہے ہیں وہاں روس اور چین بھی امریکہ کو چیلنج کر رہے ہیں۔

    مشرق وسطی کی صورتحال یہ ہے کہ اسرائیلی صدر نیتن یاہو جو امیدیں لے کر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس وائٹ ہاو’س گئے تھے اس کا برملا اور اعلانیہ اظہار دونوں صدور نے مشترکہ طور پر کیا۔ امریکی صدر نے غزہ کی بحالی کے پردے میں اس پر قبضہ کرنے کا اعلان کیا اور فلسطینیوں کو ان کے وطن سے نکال کر اردن اور مصر وغیرہ میں بسانے کا اعلان کیا جسے دونوں ممالک نے سختی سے نہ صرف رد کر دیا بلکہ اس بیان کو مشرق وسطی میں قیام امن کے لیئے خطرناک بھی قرار دیا جس سے خطے میں کشیدگی بڑھنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ سعودی عرب ایک بڑا ملک ہے "فلسطینی ریاست” کو سعودی عرب میں قائم کیا جانا چایئے جس کی سعودی عرب نے سختی سے تردید کی بلکہ اس کے جواب میں سعودی عرب کے ایک وزیر نے بیان دیا کہ فلسطینی ریاست کو امریکی ریاست "الاسکا” میں کیوں نہ قائم کیا جائے۔ اس پس منظر میں ترکی نے بھی اسرائیل اور امریکہ کی مذمت کی۔ جبکہ پاکستان نے اس کا شدید ردعمل دیتے ہوئے سعودی عرب سے مکمل اظہار یکجہتی کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی دلیرانہ بیان دیتے ہوئے سعودی عرب کے موقف کی بھرپور حمایت کی اور کہا کہ فلسطین کا دارلخلافہ "القدس” ہی ہو گا جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان نے موقف اختیار کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی تجویز انتہائی پریشان کن اور غیر منصفانہ ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ نے دوست ممالک کے ہم منصبوں سے بھی گفتگو کی اور پاکستانی وزارت خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ فلسطینی ریاست کا حق مسلمہ ہے، اور اسرائیل کی ذہنیت ایک قابض اور انتہاپسند ملک جیسی ہے۔ جبکہ متحدہ عرب امارات نے بھی کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم کی تجویز بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اسی کے پیش نظر عرب ممالک نے 27فروری کو "عرب لیگ” کا اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں اسلامی کانفرنس (OIC) کا اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا تاکہ اسلامی ممالک نئی صورتحال میں فلسطین کے مسئلہ پر ایک مشترکہ اور ٹھوس لائحہ عمل تیار کر سکیں۔

    امریکی نیو ورلڈ آرڈر کے بانی یہودی نژاد سابق امریکی وزیر خارجہ ڈاکٹر ہینری کسنجر تھے جنہوں نے لمحہ تھامیئے (Seize The Moment) کتاب لکھی تھی جس میں انہوں نے ایک باب اسلامک ورلڈ (Islamic World) کا شامل کیا تھا۔ اس باب میں انہوں نے مسلم ممالک اور مسلمانوں کے بارے میں بہت تلخ اور شرانگیز زبان استعمال کرتے ہوئے کہا تھا کہ دنیا میں مسلمان بنیاد پرست ہیں اور انسانی ترقی کے دشمن ہیں، جنہیں گھروں سے نکال کر اسی طرح مارا جانا چایئے جیسے سانپوں کو بلوں سے نکال کر مارا جاتا ہے۔ لیکن اب ڈونلڈ ٹرمپ کی شکل میں نیو ورلڈ آرڈر اپنے پر باہر نکال رہا ہے جس کی مخالفت میں نہ صرف مسلمان اکٹھے ہونے کے لیئے پر طول رہے ہیں بلکہ امریکی اور اسرائیلی صدور کے بیانات کی روس اور چین نے بھی سختی سے مذمت کی یے۔

    ایران کا موقف ہے کہ امریکہ کے "نیو ورلڈ آرڈر” کا شیرازہ بکھر چکا ہے۔ حالانکہ امریکہ نے ایران کو یہ لوری دی ہے کہ ایران اگر امریکہ سے معاہدہ کر لے تو اسرائیل ایران پر مستقبل میں حملہ نہیں کرے گا۔ نوے کے عشرے میں سوویت یونین کا شیرازہ بکھرنے کے بعد صیہونی مغرب نے جو پہلی تھیوری پیش کی اور جس کا پروپیگنڈہ کیا اور اس سے فائدہ اٹھایا وہ یہ تھی کہ اب امریکی قیادت کے سامنے کوئی چیلنج یا کوئی حریف نہيں ہے۔
    اس سلسلے میں ہینری کسنجر کے علاوہ دیگر کتب بھی لکھی گئیں مثال کے طور پر فوکویاما نے اپنی معروف کتاب The End of History and the Last Man میں لکھا کہ اب سب کچھ مکمل ہو گیا ہے اور انسان اپنی اصلی تکمیل تک پہنچ گیا یے۔ لبرل سیکولرزم پوری دنیا پر چھا جائے گا اور اسلامی انقلاب اور اس طرح کی دیگر مزاحمتوں کا مکمل طور پر خاتمہ ہو جائے گا۔ اسی طرح ہینٹنگٹن نے اپنی کتاب Clash of Civilizations میں لکھا کہ موجودہ جنگوں اور تنازعات کی تھیوری، ثقافتی میدان تک پہنچ گئی ہے اور ان سب کو لبرل سیکولرزم کے مقابلے میں شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس بناء پر ہم آخری فاتح نظریے کے حامل ہيں اور عالمی سطح پر امریکہ اور صیہونی مغرب کی قیادت نے اپنا مشن مکمل کر لیا ہے۔ اس کے بعد اس نظریہ کے ساتھ کہ دنیا کا دوسرا بلاک ختم ہو چکا ہے اور اب سپر پاور ہونے کے لئے امریکہ کے سامنے کوئی چیلنج نہیں ہے جس کا آغاز انہوں نے عراق و افغانستان پر حملہ کر کے کیا۔ جب امریکہ کو افغانستان اور عراق پر حملوں کے مقاصد حاصل نہ ہوئے تو اب ڈونلڈ ٹرمپ کو آزمایا جا رہا ہے۔ اس مد میں ابتداء ہی میں جو عالمی ردعمل آیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نیو ورلڈ آرڈر کے مقاصد کو حاصل کرتے ہوئے تاریخ میں وہ نام لکھوائیں گے جو روس کی تاریخ میں صدر گوربا چوف نے لکھوایا تھا۔

    سابق روسی صدر گوربا چوف کے نظریات آغاز میں بڑے پرکشش تھے۔ وہ مغرب اور سرمایہ دارانہ جمہوریت کی آنکھوں کا تارا تھے جس پر انہیں "نوبل انعام” سے بھی نوازا گیا تھا۔ گوربا چوف ایک فلسفی نما کیمونسٹ آئیڈیالوجی کے رہنما تھے جنہوں نے گلاسنوسٹ (Glasnost) اور پیراسٹرائیکا (Perestroika) جیسے دو تصورات پیش کئے۔ گلاسنوسٹ کے مطابق آزادی رائے اور جمہوریت کی اہمیت اور پیراسٹرائیکا کے تحت تمام معاشی پالیسیوں کو آزاد مارکیٹ کے ساتھ منسلک کرنا تھا۔ ان دونوں نظریات نے سوویت یونین کے بنیادی نظریاتی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے جونہی صدارت سے استعفی دیا امریکہ کے مدمقابل سرد جنگ کا طاقتور روس اور سنہ1991ء تک پوری دنیا کے مزدوروں کو بادشاہی کے خواب دکھانے والا سوویت یونین 15 چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہو گیا جن میں چھ مسلمان ریاستیں تاجکستان، ازبکستان، کرغستان، ترکمانستان، قازقستان اور آذربائیجان بھی شامل تھیں۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جس شوخی اور سج دھج سے دوسری بار اقتدار کی مسند پر متمکن ہوئے ہیں وہ پھولوں کی سیج نہیں اور نہ ہی یہ 90 کی دہائی والا سرد جنگ کا زمانہ ہے۔ روس اپنی ازسرنو تشکیل کر چکا ہے۔ دوسری طرف چین نے بھی ایک نیو ورلڈ آرڈر پیش کر رکھا ہے جس کا آغاز سعودی عرب سے ہوا۔

    امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سمجھنا چایئے کہ چین کے تعاون سے مارچ 2023ء میں عالمی سیاسی افق پر ایک نئی تبدیلی آئی جو ایران اور سعودی عرب میں صُلح اور سفارتی تعلقات کی بحالی تھی۔ اس صلح کا محرک چین تھا۔ چین نے ماضی کے ان دشمنوں کو قریب لانے کے لیے خفیہ ثالثی کی اور یہی بات امریکہ اور اس کے قریبی اتحادیوں کے لئے جہاں کسی بڑے دھچکے سے کم نہیں تھی وہاں چین کے ایک نیو ورلڈ کی بنیاد بھی تھی جس کی پذیرائی کے لیئے آج پاکستان اور دیگر اسلامی ملک امریکی صدر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کے قابل ہوئے ہیں۔

    Title Image by will zhang from Pixabay

  • صدر ٹرمپ کے عزائم اور عالمی منظر نامہ

    صدر ٹرمپ کے عزائم اور عالمی منظر نامہ

    صدر ٹرمپ کے عزائم اور عالمی منظر نامہ

    Dubai Naama


صدر ٹرمپ کے عزائم اور عالمی منظر نامہ

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک مقولے کو غلط ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ کہاوتیں، حکایتیں اور مقولہ جات وغیرہ بہت سبق آموز ہوتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کی واحد سپر پاور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے صدر ہیں۔ کہانیوں سے اخذ کی گئی کہاوتوں میں عقل و دانش اور حکمت کا نچوڑ ہوتا ہے۔ گو کہ ٹرمپ اور ان کی ٹیم اور مشیران میں چوٹی کے جہاندیدہ اور زہین ترین افراد شامل ہوں گے۔ لیکن ابھی تک ڈونلڈ ٹرمپ کے زیادہ تر بیانات اور فیصلوں میں جہاں بانی، انصاف اور دانش کی کمی نظر آتی ہے۔ محاورے اور مقولے لکھنے والے دانشوران اپنے تجربات کو دلکش کہانیوں کی صورت میں لکھتے ہیں تاکہ اس سے پڑھنے والوں کے دل پر گہرے اثرات مرتب ہوں۔ لیکن صدر موصوف ڈھنگ کی سیاست نہیں کر پا رہے ہیں اور محاورتا کچھوے کی چال چلنے کی بجائے خرگوش کی سرعت سے آگے بڑھ رہے ہیں۔

    سکول کے زمانے میں ایک کچھوے اور خرگوش کی دوڑ کے بارے کہانی پڑھی تھی۔ یہ کہانی بہت سبق آموز تھی اور اگر کوئی اسے سمجھنا چاہے تو آج بھی اس سے کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن صدر ٹرمپ ہوا کے گھوڑے پر سوار ہیں ان کے لیئے اس کہانی سے کوئی سبق لینا جوئے شیر لانے کے مترادف دکھائی دیتا ہے۔ لیکن ہمارا فرض ہے کہ دنیا میں ہم آہنگی اور امن قائم کرنے کے لیئے ہم کچھ سمجھائے دیتے ہیں۔

    اس کہانی کے مطابق جب دوڑ شروع ہوتی ہے تو خرگوش آنا فانا چھلانگیں بھرتا ہوا آنکھوں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔ لیکن کچھوا اپنی فطری چال کے مطابق دھیرے دھیرے چلتا ہے اور پیچھے رہ جاتا یے۔ جب خرگوش میاں دیکھتے ہیں کہ کچھوا کہیں نظر نہیں آ رہا تو وہ ایک درخت کے سائے میں کچھ دیر آرام کرنے کے لیئے لیٹتے ہیں تو وہ سو جاتے ہیں جبکہ کچھوا بغیر سستائے آہستہ آہستہ چلتا رہتا ہے اور اپنی منزل پر خرگوش سے پہلے پہنچ جاتا ہے۔

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ خرگوش کی رفتار سے چل رہے ہیں اور اپنے ملکی و عالمی منصوبوں پر عمل کرنے میں بہت جلدی دکھا رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو عہدہ سنبھالے ابھی ایک ماہ سے بھی کم وقت ہوا ہے مگر انہوں نے بیک وقت اندرون اور بیرون ملک کئی محاذ کھولے ہیں جس میں کینیڈا کو امریکی ریاست کے طور پر شامل کرنا، روس، چین، یورپی ممالک حتی کہ برطانیہ وغیرہ سے درآمدات پر ٹیریف کی شرح میں غیر معمولی اضافے کا اعلان کرنا شامل ہے۔ اس کے جواب میں ان ممالک نے فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بھی نہ صرف اسی حساب سے اپنی برآمدات کی قیمتوں میں اضافہ کریں گے بلکہ وہ امریکی درآمدات پر بھی ٹیکس زیادہ لگائیں گے۔ اس سے ایک تو دنیا بھر میں مہنگائی کا سیلاب آئے گا اور دوسرا ڈونلڈ ٹرمپ کی ستائش دنیا کی نظروں میں کم ہو جائے گی۔

    اس پر مستزاد امریکی صدر نے اسرائیلی وزیراعظم کے ساتھ مل کر غزہ پر قبضے کے بارے جو پریس کانفرنس کی ہے اسے پوری دنیا نے نہ صرف یکسر مسترد کر دیا ہے بلکہ اسے احمقانہ بھی قرار دیا ہے۔ ٹرمپ نے دعوی کیا کہ فلسطینیوں کو غزہ کے علاقوں سے نکال کر مصر اور اردن وغیرہ میں آباد کیا جائے گا۔ اس پلان کی مخالفت کا اعلان ٹرمپ کے اعلان کے فورا بعد خود حماس، مصر اور اردن نے کیا، اور ساتھ میں چین، روس، آسٹریلیا، سعودی عرب اور دیگر ممالک نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کو مسترد کر دیا بلکہ الٹا فلسطینی ریاست کی حمایت کا اعلان کیا۔

    کہتے ہیں کہ آنے والے واقعات اپنی پرچھائیاں پہلے چھوڑتے ہیں (Coming Events Cast Their Shadows Before) جو کہ ایک زمینی حقیقت ہے۔ کچھوے اور خرگوش کی کہانی میں بھی یہی کچھ کہا گیا ہے کہ آہستگی، تسلسل اور مستقل مزاجی ہی کامیابی کی ضمانت ہیں Slow and Steady Wins the Race کہ صدر موصوف آگے دوڑ کر پیچھا چوڑ کرتے رہیں گے تو خود امریکی اور عالمی معاملات سلجھنے کی بجائے الجھتے چلے جائیں گے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ لاابالی طبیعت کے مالک ہیں اور کاف جذباتی بھی ہیں۔ ان کی شخصیت کی یہ دونوں صفات سیاسی بصیرت (سٹیٹس مین شپ) میں نہیں آتی ہیں۔ لھذا لگتا نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ اسی تیزی کے انداز میں اور بے صبری سے غیردانشمندانہ فیصلے کرتے رہے تو وہ امریکہ کے کامیاب ترین صدر ثابت ہوں گے۔

    ڈونلڈ میاں کو چایئے کہ وہ بلند مرتبت کامیابیاں لینا چاہتے ہیں یا کوئی نئی تاریخ رقم کرنا چاہتے ہیں تو خرگوش بننے کی بجائے کچھوے کی چال چلیں۔ یہ مصدقہ حقیقت ہے، فلسطین کی تاریخی جدوجہد اور قربانیوں کو چند دنوں اور مہینوں میں جھٹلایا جا سکتا ہے اور نہ ملیا میٹ کیا جا سکتا ہے۔ یہ اچھا موقع ہے کہ امریکی صدر سیاسی اور عالمی بصیرت سے کام لیں۔ فلسطینی ریاست کی آزادی ہی غزہ کے مسئلے کا واحد اور یکتا حل ہے جسے ساری دنیا متحدہ طور پر قبول کر سکتی ہے۔

  • تَذليل نہیں، حُسنِ سُلوک 

    تَذليل نہیں، حُسنِ سُلوک 

    تَذليل نہیں، حُسنِ سُلوک 

    تحریر: عبدالوحید خان، برمنگھم (یوکے)

    وطن عزیز پاکستان میں سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں حالیہ دنوں میں ستھرا پنجاب پروگرام کے تحت نہ صرف بازاروں ، سڑکوں اور راستوں کی صفائیاں کی جارہی ہیں بلکہ تجاوزات بھی ہٹائی جا رہی ہیں اور جن لوگوں نے اپنی دکانوں کے باہر بڑے بڑے تھڑے یا چھجے بنا رکھے ہیں وہ بھی مختلف شہروں کے بازاروں میں گرا دئیے گئے ہیں اور بتدریج یہ مہم دوسرے شہروں میں بھی جا رہی ہے- اسی طرح قبضہ کی گئی جگہ پر بنائے گئے مختلف ہوٹل، دکانیں اور بزنس بھی مسمار کر دئیے گئے ہیں جس کی عوامی سطح پر تعریف کی جا رہی ہے لیکن کچھ حلقوں کی طرف سے بجا طور پر یہ اعتراض اور سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ جب قبضے اور تجاوزات ہو رہی ہوتی ہیں تو سرکاری مشینری کہاں غائب ہوتی ہے اور کیوں چپ رہتی ہے جسکی وجہ سے یوں نہ صرف غلط کام کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے بلکہ مختلف وسائل بشمول وقت، محنت اور سرمائے کا ضیاع بھی ہوتا ہے جس طرف یقیناً پالیسی سازوں کو توجہ دینے کی ضرورت ہے- 

    سرکاری افسران و اہلکاروں کو بھی اس بات کا ادراک ہونا بہت ضروری ہے کہ جب وہ تجاوزات ہٹانے جیسے اقدامات کرتے ہیں تو انہیں بہرحال صبر و تحمل کیساتھ متعلقہ لوگوں کے ساتھ پیش آنا چاہئے کیونکہ جب وہ لوگوں کے خلاف اقدامات کر رہے ہوتے ہیں تو انہیں متاثرہ لوگ پھولوں کے ہار تو نہیں پہنائیں گے اس لئے انہیں متعلقہ لوگوں کے خلاف قانونی طریقہ کار کے مطابق کاروائی کرتے ہوئے اخلاق کا دامن نہیں چھوڑنا چاہئے ان دنوں مختلف سوشل میڈیا کلپس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کیسے افسرشاہی اور سرکاری اہلکار عوام کے ساتھ انتہائی دھونس اور رعونت سے پیش آتے ہیں- تجاوزات ہٹانے کے علاوہ غلط پارکنگ پر جہاں صرف جرمانہ کرنا چاہئے وہاں لوگوں کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہوتا ہے، کئ ایسے کلپس گردش کر رہے ہیں جن میں مختلف گاڑیوں کے ٹائر پھوڑے جا رہے ہیں جو یقیناً کچھ اچھا تاثر نہیں دیتے کہ بہرحال سرکاری محکموں کا کام قانون کے نفاذ کے ساتھ ساتھ عوام کے جان و مال کا تحفظ بھی ہے – 

    جس طرح سرکاری سکولوں میں کچھ سال پہلے ”مار نہیں پیار “ کا سلوگن رائج کیا گیا تھا اور طلبإ و طالبات کو پڑھاتے ہوئے مارنے کی سختی سے ممانعت کر دی گئی ہے اسی طرح وطن عزیز کے مختلف سرکاری محکموں اور عام زندگی میں بھی ”تذلیل نہیں، حسن سلوک“ کے سلوگن کو رائج اور عام کرنے کی اشد ضرورت ہے جبکہ اس نعرے کی بنیاد پر وفاقی و صوبائی حکومتیں اور مقامی سطح پر انتظامیہ، عدلیہ، پولیس اور دیگر تمام شعبہ جات میں اصلاحات کی جانی چاہئیں ویسے بھی بطور مسلمان ہمیں حکم ہے کہ ہم دوسروں سے ہمیشہ حسن سلوک سے پیش آئیں اور دوسروں کی دل آزاری سے بچیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بہت تیزی سے اچھی روایات اور عمدہ انسانی قدریں دم توڑتی جا رہی ہیں اور پرتشدد واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے- 

    برطانیہ میں رہتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں کے مختلف معاملات اور مسئلے مسائل پر جب جلسے جلوس ہوتے ہیں تو نہ صرف منظم طریقے سے اکثر لوگ اکٹھے ہوتے ہیں، اور نہ ہی کوئی پکڑ دھکڑ ہوتی ہے بلکہ بڑے بڑے مظاہرے بھی یوں ہوتے ہیں کہ لاکھوں کی تعداد میں لوگ نکلتے ہیں لیکن بامقصد اور پر امن طریقے سے لوگ اپنی بات کہتے ہیں اور پھر اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں- اسی طرح جب فلسطین میں غزہ کی صورتحال کے خلاف یہاں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا تھا تو پولیس کو کہا گیا کہ وہ ان مظاہروں کی اجازت نہ دیں اور مظاہرین کو بزور روکا جائے لیکن پولیس نے قانونی طریقہ کار کے مطابق حکومت کو بتایا کہ وہ مظاہرین کو نہیں روکیں گے اور پھر ایسا ہی ہوا جس کی وجہ سے بغیر کسی لمبی چوڑی کشیدگی کے لوگوں نے بڑے اور بھرپور مظاہرے کئے تھے اور اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا تھا- 

    ہندوستان میں جب انگريز حکومت کر رہے تھے تو وہاں دفعہ 144 کا ایک ایسا قانون متعارف کروایا تھا کہ جو پاکستان میں اب تک لاگو ہے اور بدقسمتی سے ہر حکومت خواہ وہ آمریت ہو یا جمہوریت کی پیداوار اس دفعہ 144 کو بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے اور اپنے مخالفین کا جی بھر کر مکو ٹھپا جاتا ہے جبکہ مختلف قوانین کا سہارا لے کر انہیں ہر ممکن حد تک دبانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے کہ گلیاں ہو جان سنجیاں تے وچ مرزا یار پھرے کے مصداق ماحول بنے اور مخالف آوازیں کہیں بھی سنائی نہ دیں لیکن جو یہ سوچ کر اپنی گلیاں خالی کروا رہے ہوتے ہیں وقت کا پہیہ یوں چلتا ہے کہ وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوتا اور یار لوگوں کے چل چلاٶ کا وقت آ جاتا ہے اور پھر وقت کی سوئی جب الٹا چلنا شروع کرتی ہے تو وہ بھی رگڑے میں آ جاتے ہیں جو دوسروں کو رگڑے پے رگڑا دھر رگڑا لگا رہے ہوتے ہیں- 

    بات یہیں پر نہیں رکتی بلکہ زبوں حال معیشت کے حامل پیارے ملک میں ایک دوسرے کے خلاف ذاتی انتقام کے لئے سرکاری وسائل کو بے دریغ استعمال کرکے ایسے ایسے مقدمات بنائے جاتے ہیں کہ سارا سسٹم کسی ایک فریق کے خلاف لٹھ لے کر چڑھ دوڑتا ہے اور یوں ریاست کے وہ ادارے جنہوں نے ملک اور عوام کو ایک پرامن، خوشگوار اور خوشحال ماحول فراہم کرنا ہوتا ہے وہ خود انتقامی کاروائیوں کی آلودگی کا شکار ہو جاتے ہیں اور گورننس کا سسٹم جو پہلے ہی گڈگورننس کے حوالے سے کوئی اچھا اور قابل تعریف معیار نہیں رکھتا مزید مسائل کا شکار ہو جاتا ہے اور جہاں سسٹم اچھے طریقے سے نہ چل رہا ہو وہاں بلاشبہ مسائل حل نہیں ہوتے بلکہ وقت کیساتھ ساتھ ان میں اضافہ ہوتا رہتا ہے جبکہ دنیا میں مسائل کو حل کیا جاتا ہے نہ کہ کسی پہلے سے موجود مسئلے میں سے مزید مسائل کشید کئے جائیں- 

    یہاں برطانیہ میں لکھا ہوا آئین نہ ہونے کے باوجود آئین و قانون کی پاسداری کی جاتی ہے ایک وزیراعظم قبل ازوقت انتخابات کا اعلان کرتا ہے تو اس پر ہاہاکار نہیں مچتی، نہ ہی کوئی کورٹ کچہریوں میں جاتا ہے بلکہ تمام سیاسی جماعتیں اور سیاستدان انتخابات کی تیاریوں میں لگ جاتے ہیں اور تو اور کوئی نگران حکومت بھی معرض وجود میں نہیں آتی کیونکہ یہاں کے لوگوں کو یہاں کے سسٹم پر اعتماد ہوتا ہے اور لوگ اگر ایک دوسرے کی مخالفت بھی کرتے ہیں تو اس میں بھی شائستگی اور حسن سلوک کا دامن نہیں چھوڑا جاتا بلکہ یہاں تک کہ کوئی کسی پر بے سروپا الزامات نہیں لگا سکتا- یہاں پر ہتک عزت اور ڈیٹا پروٹیکشن ”مواد کی حفاظت“ کے بڑے سخت قوانین رائج ہیں جن پر ہر کوئی سختی سے کاربند ہے کہ یہاں بصورت دیگر دوسروں کی پگڑی اچھالنے والوں کو لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں- 

    بیوروکریسی کا جس طرح کا مضبوط، طاقتور اور اختیارات کا حامل ڈھانچہ وطن عزیز پاکستان میں موجود ہے مثلاً کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور اسسٹنٹ کمشنرز پر مشتمل کوئی عہدے اور عہدیدار یہاں پر موجود ہی نہیں ہیں لیکن ہر ادارہ اپنے کام، اپنی کارکردگی اور اپنی کوتاہی کا خود ہی ذمہ دار ہے اسی طرح بیوروکریسی کا ڈھانچہ محدود اور مختصر ہے کہیں پر کوئی کھلی کچہریاں نہیں لگ رہی ہوتی ہیں، نہ ہی کوئی ون ونڈو آپریشن اور نہ ہی کوئیک ریسپانس سروس کے جھمیلے ہیں، نہ آٹے کے تھیلوں پر کسی کی تصویر اور نہ صحت کارڈ یا کسی بھی طرح کے سہولت کارڈ ہیں اور نہ ہی ان پر کسی رہنما کی تصویر بلکہ یہاں تو شہریوں کے پاس شناختی کارڈ بھی نہیں ہیں لیکن اس سب کے باوجود ہر شخص اور ہر محکمہ بشمول صحت، تعلیم، پولیس، بلدیات اور حکومت اپنے اپنے دائرہ کار میں اپنا اپنا کام کر رہے ہوتے ہیں اور اپنی کارکردگی کیلئے ہر سطح پر عوام کو اور میڈیا کو جواب دہ ہوتے ہیں جبکہ عدالتیں اور پارلیمنٹ اپنا کام کرتے ہیں اور تو اور عدالتوں میں سیاسی مقدمات نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ آئین اور قانون کی تشریح کے نام پر اعلیٰ عدلیہ میں سرکاری خرچے پر لمبی لمبی بیٹھکیں نہیں لگائی جاتی ہیں اور سچ پوچھیں تو عام فہم الفاظ میں نہ تو کوئی بریکنگ نیوز کی چیختی چنگھاڑتی سرخیاں اور نہ ہی شام سے رات گئے تک سیاسی پروگراموں کی بہتات ہوتی ہے بس یوں سمجھ لیں کہ آجکل کے سرد اور ٹھنڈے موسم کی طرح یہاں کا سیاسی درجہ حرارت بھی سرد ہی ہے لیکن ہر کوئی اپنے کام سے کام رکھتا ہے اور زندگی کا پہیہ رواں دواں رہتا ہے اور اسی میں انکی کامیابی ہے

    Title Image by CARLOS MEDELLIN from Pixabay