کہ ہو رنج کی بھلا کیا خبر، مجھے درد اتنا رہا نہیں
رشید حسرتؔ
رشید حسرتؔ، کوئٹہ
آزما کر دوستوں کو باری باری دیکھنا
حدود میں وہ مری سلطنت کی آ پہنچا
میں کچھ بھی کر نہ سکا بس کمان تھامے رہا
گئے دنوں کے درد پھر جگا دیئے گئے تو کیا
سب نے اپنی استطاعت کا لتاڑا ہے مجھے
مجھے یہ خوش گمانی، بے غرض حسرتؔ کیے ہوں گے