کیا دِکھاؤں اہلِ دنیا! دل دِکھانے کا نہیں شاعری غزل کیا دِکھاؤں اہلِ دنیا! دل دِکھانے کا نہیں رشید حسرتؔ اپریل 28, 2026 سب نے اپنی استطاعت کا لتاڑا ہے مجھے Read More Read more about کیا دِکھاؤں اہلِ دنیا! دل دِکھانے کا نہیں
زمستاں ہے یہاں تو ہو رہا انسان یخ بستہ شاعری غزل زمستاں ہے یہاں تو ہو رہا انسان یخ بستہ رشید حسرتؔ اپریل 15, 2026 مجھے یہ خوش گمانی، بے غرض حسرتؔ کیے ہوں گے Read More Read more about زمستاں ہے یہاں تو ہو رہا انسان یخ بستہ