Tag: نماز شب

  • روبر و ہے ادیب: سید حبدار قائم

    روبر و ہے ادیب: سید حبدار قائم

    روبر و ہے ادیب: سید حبدار قائم

    تحریروملاقات: ذوالفقار علی بخاری

    حوصلہ افزائی آگے بڑھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

    جناب حبدار حسین شاہ جو کہ سید حبدار قائم کے نام سے معروف ہیں۔آپ 1987سے ادب عالیہ اور ادب اطفال سے وابستہ ہیں۔آپ کی نو کے قریب کتب منظرعام پر آچکی ہیں جن میں نماز شب (نثر)، حضرت رحمت اللہ شاہ رح بخاری المعروف چھانگلا ولی موج دریا کی سیرت (نثر)، اکھیاں وچ زمانے (پنجابی نثر)،مدح شاہِ زمن (پہلا شعری نعتیہ مجموعہ)، صبح نعت دوسرا نعتیہ مجموعہ 2024، انتقادات و تاثرات (نعتیہ کتابوں پر تبصرے) 2024، ارتسام خیال (کتابوں پر تبصرے)2024، روحِ جمال نعتیہ مجموعہ2025، شامل ہیں۔

    بچوں کے لیے تقریباََپچیس کہانیاں اورپندرہ نظمیں شائع ہو چکی ہیں۔آپ کوکئی اداروں کی جانب سے ایوارڈز بھی مل چکے ہیں۔ گورنمنٹ گریجویٹ کالج برائے خواتین راجن پور، غازی یونیورسٹی۔ڈیرہ غازی خان کے شعبہ اردو کی طالبہ ماہا فاروق نے سید حبدار قائم کے نعتیہ مجموعہ’مدحِ شاہِ زمن‘ پر تحقیقی مقالہ بھی لکھا ہے۔ اِس مقالے کی نگران لیکچرر ار نوشابہ قنبر تھیں۔

    زیر نظرمصاحبہ میں جناب سید حبدارقائم سے اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی ہے جو آپ کویقینی طور پر محظوظ کرے گی۔

    س۔ آپ کو کب علم ہوا کہ آپ کے اندر ایک تخلیق کار بیدار ہو چکا ہے اوراْسے منظرعام پر لانا چاہیے؟
    ج۔ 1985 کے بعد جب میں نے علی احمد تبسم کی کہانی پڑھی تو مجھے خیال آیا کہ میرے گاوں غریبوال کا بندہ کہانیاں لکھ رہا ہے تو کیوں نہ میں بھی لکھوں۔ چناں چہ میں نے ایک ناقابل فراموش واقعہ لکھا اور ماہنامہ سلام عرض کی طرف بھیج دیا۔جس کو انہوں نے شائع کیا تو میرے دوستوں نے پسند کیا۔اس پزیرائی نے مجھے مزید لکھنے پر ابھارا اور یوں میں آج نو کتابوں کا مصنف بن گیا۔

    روبر و ہے ادیب: سید حبدار قائم

    س۔ پہلی تخلیق کب اور کہاں شائع ہوئی؟
    ج۔ پہلی تخلیق کی درست تاریخ مجھے یاد نہیں، لیکن قیاس ہے کہ 1987 میں شائع ہوئی۔
    اولین کتاب، نظم اورمضمون پر پذیرائی کو آج کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
    ج۔ میری پہلی کتاب ”نمازِ شب“ ہے جسے روزنامہ اساس میں شائع ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ میر اابتدائی کلام بے وزن تھا جس کی اصلاح توکل سائل مرحوم سے لیتا تھا۔در اصل میں نثر نگار تھا اور چھوٹی چھوٹی کہانیاں لکھتا تھا۔اگر ماہنامہ ”سلام عرض اور جواب عرض“ میری کہانیاں شائع نہ کرتے تو آج میں لکھاری نہ ہوتا۔

    س۔بطور ادیب مطالعے،مشاہدے اورتجربات کو کس قدر اہم سمجھتے ہیں؟
    ج۔ دیکھیں جی۔ مطالعہ مشاہدے اور تجربے کو قرطاس پر لانے کی کنجی ہے۔ اگر مطالعہ نہیں تو آپ کی تحریر کس طرح کاغذ کا سینہ منور کر سکتی ہے۔

    س۔کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ادیبوں کے لیے حوصلہ افزائی آکسیجن کا درجہ رکھتی ہے؟
    ج۔ جی۔میں اس بات سے اتفاق کرتا ہوں حوصلہ افزائی آگے بڑھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ لیکن مجھے اس بات پر افسوس ہے کہ ادیب حوصلہ افزائی نہیں کرتے اور اس معاملے میں کنجوسی کرتے ہیں۔


    س۔ہمارے ہاں علاقائی سطح پر ادیبوں کو جو پذیرائی دی جا رہی ہے،کیا اْس سے مطمئن ہیں؟
    ج۔ علاقائی سطح پر ادیبوں کی پارٹی بازیاں ہیں، مشاعروں میں بھی داد سٹیٹس اور من پسند افراد کو ہی دی جاتی ہے۔ میرے اپنے شہر میں بھی صدارت اور مہمانِ خصوصی کا اعزاز وکیلوں اور سیاسی لوگوں کو دیا جاتا ہے، اس لیے میں اس سے مطمئن نہیں ہوں۔


    س۔آپ جب نعت لکھ رہے ہوتے ہیں تو روحانی طور پر خود کو کیسا محسوس کرتے ہیں؟
    ج۔ جب نعت لکھتا ہوں تو یوں محسوس کرتاہوں جیسے حضور ﷺمیرے سامنے تشریف فرما ہوں اور میں سامنے دو زانو ہو کر بیٹھا ہوں اور نعت لکھ رہا ہوں۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ میری کسی نعت میں حضورﷺ کو تْو، تیرے، تم یا تمہارے کے الفاظ سے مخاطب نہیں کیا جاتا۔بل کہ آپ کہ کر مخاطب کرتا ہوں۔بہت سارے دوست شعرا میری اس بات سے اتفاق نہیں کرتے اور بہت بڑے شعرا کی مثالیں دے کر مجھے سمجھاتے ہیں۔لیکن میرا دل نہیں مانتا کہ حضورﷺ سامنے ہوں اور میں انہیں تم کہ کر مخاطب کروں اور یہ میرا ذاتی خیال اور عشق ہے۔


    س۔آپ بیک وقت اردو اور پنجابی زبان میں لکھ رہے ہیں، کس صنف میں لکھتے ہوئے زیادہ جذباتی ہوتے ہیں؟
    ج۔ دیکھیے جس شعر میں دل کی بات اور ذبات ہوں تو لکھتے وقت رونا آ جاتا ہے۔میں نے بچوں کے لیے ایک کہانی ”چینی والی روٹی“ لکھی ہے۔ اب تک جس جس کو سنائی ہے میرے ساتھ وہ بھی رو پڑا ہے۔ میں جتنی دیر یہ کہانی لکھتا رہا، ہر لفظ کے ساتھ روتا رہا، اصل میں کردار جیسا تخلیق کیا جائے ویسا ہی اس کا پہلا ری ایکشن اپنے آپ پر ہوتا ہے۔


    س۔کسی بھی زبان کا فروغ کیا ادب اطفال کے بغیر ممکن ہے؟اِس کے لیے کن اقدامات کی ضرورت محسوس کرتے ہیں؟
    ج۔ بچوں کا ادب بنیادی سیڑھی ہے جو والدین فراہم کرتے ہیں۔علاقائی زبانوں کا ادب نشوونما پا کر قوم کے دھارے میں اتر کر نکھرتا ہے۔ میرے خیال میں والدین اور اساتذہ دونوں کوشش کریں تو یہ فروغ پا سکتا ہے۔


    س۔دورحاضرکے ادب اطفال سے کس قدر مطمئن ہیں؟
    ج۔دورِ حاضر میں بچوں کے ادب پر سنجیدہ کوشش نہیں کی جا رہی ہے، کیوں کہ اس میں ادیب کو واہ واہ نہیں ملتی۔ لیکن میرے خیال میں بچوں کے ادب کو نظر انداز کرنا مجرمانہ غفلت ہے۔حکومت کو اس پر سنجیدہ ہو کر کوشش کرنی چاہیے تاکہ لکھاری بچوں کا ادب بھی تخلیق کریں۔


    س۔بطور ادیب کیا سمجھتے ہیں کہ ایسے کون سے عوامل ہیں جنھوں نے بچوں کو رسائل اور کتاب سے دور کیا ہے؟
    ج۔ والدین کا رویہ اہم کردار ہے۔ وہ بچوں کو وقت نہیں دیتے،وقت کی جگہ موبائل تھما دینا ہی بچوں کے ادب کا قتل ہے۔ اگر گھر میں بچوں کے لیے کتب اور رسائل رکھے جائیں تو بچے خود بخود ان کی طرف مائل ہوں گے۔


    س۔کتاب میلے کی اہمیت آپ کی نظر میں کیا ہے؟
    ج۔ کتاب میلہ اْسی وقت اہم کردار ادا کر سکتا ہے جب اس کی راہ گھر سے بچوں کے لیے ہموار کی جائے۔ میں نے دیکھا ہے کہ سکولوں سے جبراً بچے اٹھا کر میلے میں لائے جاتے ہیں جو کتابیں دیکھ کر فوٹو شوٹ کر کے چلے جاتے ہیں اور کتاب نہیں خریدتے ہیں۔میں نے میلے میں یہ بھی دیکھا ہے کہ سرکاری افسران کی چہل پہل صرف فوٹو شوٹ، فیتا کاٹنے اور میڈیا کو انٹرویو دینے تک ہوتی ہے۔اگر حکومت سنجیدہ ہو کر کتاب بینی کو فروغ دینا چاہتی ہے تو ادیبوں کو اہمیت دیں اور ان کو کتاب شائع کرانے کے لیے مناسب فنڈ مہیا کریں۔میں نے تو کبھی نہیں دیکھا کہ کتاب میلے میں اعلان ہو کہ ڈی سی نے کتاب لکھنے والوں کی مدد کی ہو بس مفت کتابیں لے کر رفوچکر ہو جاتے ہیں۔


    س۔والدین کی کن خوبیوں کے معترف ہیں؟
    ج۔ والدین کا کردار بہت اہم ہے۔میرے والد صاحب گھر میں کتابیں لاتے تھے جن کو پڑھ کر میں نے بہت کچھ سیکھا۔


    س۔آپ فرصت کے لمحات کو کیسے گزارتے ہیں؟
    ج۔ فرصت کے لمحات میں کتاب پڑھ کر وقت گزارتا ہوں۔


    س۔آپ کے مجموعے پرتحقیقی کام بھی کیا گیا ہے،آپ کے خیال میں تخلیقات پر تحقیقی کام ہونا کیا ادیبوں کو تاریخ میں امر کرتا ہے؟
    ج۔جی۔۔۔میرے نعتیہ مجموعہ ”مدحِ شاہِ زمن“ کا تجزیاتی مطالعہ برائے سیشن 2020۔2024 پر بی ایس لیول کا تھیسز لکھا گیا ہے۔جس کی نگران مطالعہ مس نوشابہ قنبر تھیں اور یہ ڈیرہ غازی خان یونیورسٹی کی طالبہ ماہا فاروق نے لکھا ہے۔تخلیقات پر تحقیقی کام کی اہمیت تب ہی ہو سکتی ہے جب یہ تھیسز شائع کر کے مارکیٹوں اور اداروں تک پہنچایا جائے۔عموماً ہمارے ہاں یہ ہوتا ہے کہ اس کی ایک کاپی تیار کر کے یونیورسٹی میں جمع کروا دی جاتی ہے اور شاعر کو نہیں دی جاتی،ہونا تو یہ چاہیے کہ جب طالب علم کو سند دی جائے تو ادیب کو بلا کر تھیسز کی ایک کاپی اور سند دی جائے کیوں کہ داد و تحسین پر اس کا بھی حق ہے۔


    س۔زندگی کا کوئی ایسا دل چسپ واقعہ ہے جس نے سوچ کادھارا بدلا ہو؟
    ج۔ میرے شہر میں اکثر ادیب میرے اشعار کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ جس سے میں پریشان ہونے کی بہ جائے مطالعہ کرتا رہا اور آگے بڑھتا رہا اور محنت کرتا رہا۔ جس کی وجہ سے میرا اللہ مجھے سرخرو کرتا گیا اور آج میں نو کتابوں کا مصنف ہوں جن میں تین نعتیہ شاعری کے مجموعے ہیں اور چھ نثری کاوشیں ہیں۔مزے کی بات یہ ہے کہ میرا مذاق کرنے والوں کی ابھی تک کوئی کتاب نہیں چھپی۔


    س۔نوجوان نسل کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف کرنے کے لیے نجی اورسرکاری اداروں کو کیا کرنا چاہیے؟
    ج۔ سرکاری اداروں کو پولیس افسران، انتظامیہ اور اشرافیہ کو اسٹیج پر نہیں بٹھانا چاہیے۔اسٹیج کی زینت جب ادیب بنیں گے تو ادیب کو عزت ملے گی۔ آج کل غیر ادیب لوگوں کو سٹیج پر بٹھا کر ادیب کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ نوجوان نسل اسی وقت مثبت سرگرمیوں کا حصہ بنے گی جب اسے ادیبانہ ماحول ملے گا۔


    س۔معاشرے میں ادیبوں کا مقام کس طرح سے بلند کیا جا سکتا ہے؟
    ج۔جہاں علم و حکمت کی بات ہو جہاں قلمْ کتاب اور دوات کی بات ہو وہاں صرف ادیبوں کو سٹیج پر بٹھانا چاہیے اور جب ادیب محفل میں آئے تو اشرافیہ کو کھڑے ہو کر اس کا ادب کرنا چاہیے ایسا کرنے سے قوم سیکھ سکتی ہے۔


    س۔مستقبل کے ارادے کیا ہیں؟
    ج۔ جو کتابیں ابھی تک شائع نہیں ہوئیں،ان کو شائع کرنے کی کوشش کروں گا۔ پنجابی شاعری اور ایک نثر کی کتاب لکھنے کا ارادہ ہے۔ ان شاء اللہ


    س۔قارئین کے نام کوئی پیغام دینا چاہئیں گے؟
    ج۔ قارئین کو میرا سلام دے دیجیے اورپیغام بس یہی ہے کہ اسلام کے ساتھ جڑے رہیں۔ایک دوسرے کے ساتھ محبت سے پیش آئیں پاک وطن سے وفا کریں اور خصوصاً ایک دوسرے کے ساتھ رواداری سے پیش آئیں۔
    ۔ختم شد۔

  • جس پہ سرکار ﷺ کا ہو جائے کرَم

    جس پہ سرکار ﷺ کا ہو جائے کرَم

    جس پہ سرکار ﷺ کا ہو جائے کرَم، وہ خوش بخت
    بھول جاتا ہے سبھی رنج و الَم، وہ خوش بخت

    جو ہدیّے میں اُنھیں بھیجے دُرودوں کے گلاب
    یوں لگا لے جو شفاعت کی قلَم، وہ خوش بخت

    جو بھی لپکے ترے روضے کی طرف، وہ خوش ذوق
    تیری دہلیز پہ رکھے جو قدَم، وہ خوش بخت

    تشنہء دید کو مل جائے اگر شربتِ دید
    جی اٹھے ساقیء کوثر کی قسَم، وہ خوش بخت

    جس کو محبوب وہی طُولِ نمازِ شب ہو
    جس کے پیروں میں چلا آئے ورَم، وہ خوش بخت

    اُس کی قسمت میں کوئی پیچ نہیں رہ سکتا
    جس کا جیون ہو تری زلف کا خَم، وہ خوش بخت

    گوہرِ نعت جو یاورؔ کو عطا ہو گیا ہے
    اب کسی بات کا کرتا نہیں غَم، وہ خوش بخت

    Title Photo by Hatice

  • ہمارا زوال

    ہمارا زوال

    ہمارا زوال


    کالم نگار:۔ مظہر علی خان کھٹڑ

    آج اگر ہم کو اپنے وطن میں سب سے زیادہ ہجوم نظر آ رہا ہے تو وہ تین جگہوں پر نظر آ رہا ہے
    آٹا لینے والی قطاروں میں
    ہسپتالوں میں
    عاملوں کے آستانوں پر
    میں ساتھ یہ بھی عرض کر دوں کہ یہاں عاملوں کے آستانوں سے مراد جعلی پیر ہیں
    میں اللہ کے ولیوں کا منکر نہیں میں خود اللہ کے نیک بندوں کے مزارات پر جاتا ہوں اللہ والوں کے پاس دعا کے لیے بیٹھ جاتا ہوں مگر جادو ٹونے والے عاملوں کے آستانوں پر نہیں جاتا
    تو میں بات ہجوم کی کر رہا تھا کہ ان تین جگہ پر سب سے زیادہ ہجوم نظر آتا ہے کیا اس ہجوم کی وجہ جاننے کی ہم نے کبھی کوشش کی ہے کیوں کہ آج سے تقریباً تیس سال پیچھے چلیں جائیں تو مزارات پر ہجوم ہوتا تھا مگر یہ آٹے کی لیے قطاریں نہیں ہوتی تھیں

    ہمارا زوال


    ہسپتالوں میں ڈاکٹر بیٹھے مریضوں کا انتظار کر رہے ہوتے تھے مگر آج ایسا نہیں ہے یہ کیوں ہو رہا ہے آئیں اس کی وجہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں دوستو مجھے اس کی جو بنیادی وجہ نظر آ رہی ہے وہ اپنے رحیم و کریم رب سے دوری ہے ہم نے اپنے رب کو یاد کرنا چھوڑ دیا ہے ہم نے اپنے رب کے ذکر سے رخ موڑ لیے ہیں اور آج ہم مہنگائی کی چکی میں پستے جا رہے ہیں اور طرح طرح کی بیماریوں نے ہمیں اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے جب بیماری آتی ہے دوا کے لیے ہمارے پاس پیسے نہیں ہوتے ہم عاملوں کے پاس دوڑ پڑتے ہیں وہ ہمیں کہتے ہیں کہ آپ پر کسی نے کالا جادو کر دیا ہے آپ پر جنات کا سایہ ہے وہ ہمیں شف شف کر کے جو ہمارے پاس تھوڑی بہت بچی کچی رقم ہوتی ہے بٹور لیتے ہیں حالانکہ ایسی حالت میں بھی ہمیں خدا یاد نہیں آتا ہم سارا سارا دن آٹے کی لائن میں دھکے کھا رہے ہوتے ہیں لائن میں کھڑے کھڑے نماز قضا کر دیتے ہیں بتائیے کیا اس طرح مسائل حل ہو جائیں گے نہیں نہیں اس طرح کبھی مسائل حل نہیں ہونگے ہر مسئلے کا حل اللہ پاک کی پاک کتاب میں بیاں کر دیا گیا ہے اللہ پاک کی پیاری کتاب قرآن مجید کی تلاوت کریں ترجمہ اور تشریح کے ساتھ قرآن پاک کو پڑھیں اور اللہ پاک کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرامین پڑھیں تو پتا چلتا ہے کہ کامیابی اللہ پاک کے ذکر اور اس کے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے طریقے پر چلنے میں ہے


    آئیے ہم سب اپنے اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کریں وہ غفور و رحیم ہے وہ ضرور ہمیں معاف کر دے گا اپنے رب سے سچی توبہ کریں اور پنجگانہ نماز کی پابندی کریں اور نماز تہجد ادا کر کے اپنے لیے اپنے تمام مسلمان بھائیوں کے لیے اور وطن عزیز کے لیے دعا مانگیں اللہ پاک ہم پر رحم فرما دے گا تہجد گزاری پر سید حبدار قاٸم نے اپنی کتاب ”نماز شب “ کے صفحہ نمبر 114 پر بہت خوبصورت مضمون لکھا ہے ملاحظہ کیجیے

    ” اللہ کا ذکر دل کا سکون ہے
    امام جعفر صادق ؑ کے منور ارشادات نمازِ شب کی ترغیب دلاتے ہیں کیونکہ نماز شب سے دلوں کو سکون ملتا ہے اور دلوں کا زنگ دور کرنے کے لیے رات کے پچھلے پہر اللہ کا ذکر کرنا اکسیر ہے۔ اور جو لوگ اپنے دلوں کو رات کے ستاروں کی حسیں ٹمٹماہٹ کے سنگ انوارِ خدا وندی کا خزینہ بناتے ہیں ۔ ان کے دل اللہ کی یاد سے کبھی غافل نہیں رہتے۔ اور ان کے دل کو اللہ رب العزت اپنی رحمتوں سے سکون آمیز بنا دیتا ہے۔ وہ ہمیشہ فرحت محسوس کرتے ہیں ۔
    سورہ الرعد کی آیت نمبر 28 میں ارشاد باری تعالٰی ہے۔
    الا بذکر اللہ تطمئن القلوب
    یعنی بے شک اللہ کے ذکر سے دلوں کو سکون ملتا ہے۔
    اللہ تعالی تہجد گزار کا سینہ اپنے مقدس انوار سے بھر دیتا ہے۔ اور اس کی روح کو پاکیزگی کے اعلٰی مدارج پر فائز کر دیتا ہے ایسا انسان جب بھی بولتا ہے تو اس کی پاک زبان سے پھول جھڑتے ہیں ۔ اس کے حسن بیان سے کلیاں نکھرتی ہیں غنچے رقص کرتے ہیں اور اسکی شخصیت اللہ کے رنگ میں رنگی جاتی ہے ۔ اس کی زیست کی ساری ترجیحات معمولات اور پسند و نا پسند خوشنودی ٕ رب العزت کے حوالے سے ترغیب پا کر معراجِ بندگی حاصل کرتی ہیں۔ کیونکہ اسکی محبت کا معیار بلندیوں کو چھوکر اس کو اس مقام پر لے آتا ہے جسکا ذکر قرآن حکیم کی سورہ الانعام کی آیت نمبر 162 میں اللہ رب العزت یوں بیاں فرماتا ہے: ۔
    قل ان صلاتی و نسکی ومحیای ومماتی للہ رب العلمین۔
    آپ کہہ دیں کہ بلاشبہ میری نماز ،میری قربانی،میرا چلنا،اور میرا مرنا یہ سب اللہ کے لیے ہیں جو سارے جہانوں کا مالک ہے۔
    یہی معیارِ تقوٰی ہے اور نمازِِ شب کا یہ اعجاز ہے کہ انسان اپنی خواہشاتِ نفسانی کو ختم کر کے اعمالِ صالح کی جانب رواں دواں ہوتا ہے۔ اپنے ہر عمل کا محاسبہ کرتا ہے ۔ اور آرائشِ عمل و انکساری کے لیے اپنے دل میں تقوٰی کی حقیقی صورت اختیار کرتا ہے۔ کیونکہ خداوند قدوس کے حضور جواب دہی کا احساس دراصل تقوٰی کی ہی اساس ہے۔ جو لوگ خوف سے دامن گیر ہوکر خدا وند عالم کے حضور راتوں کو قیام کرتے ہیں۔ اور تسبیح و تہلیل میں اپنی زندگی کی ساعتیں گزارتے ہیں ۔ خدا وند تعالٰی ان سے جنت میں انعام و اکرام کا وعدہ کرتا ہے۔ ان لوگوں کے دل ہی سکون کی دولت سے مالا مال ہوتے ہیں۔“

    سید حبدار قاٸم کے اس مضمون کو پڑھ کر مجھے بہت سکون ملا ہے اگر ہمیں زوال سے بچنا ہے تو ہمیں اللہ سے لو لگانی ہو گی عمل کرنا ہو گا کیوں کہ عمل کرنے سے زوال عروج میں بدل جاتا ہے عمل سے قوم مردہ دلی سے نکل کر زندہ دلی کا مظہر بن جاتی ہے تو کوٸی ہے جو فکر کرے اور عمل کر کے زوال سے نجات حاصل کرے۔

  • نماز شب پڑھنے کا طریقہ

    نماز شب پڑھنے کا طریقہ

    دین رسولؐ مبین میں اتنا زیادہ مقام عرفان عطا کرنے والی نمازِ شب  صرف گیارہ رکعت پر مشتمل ہے جس کا وقت نماز عشاء کے بعد سے صبح کی اذان سے پہلے تک ہے۔

     اس میں بہترین وقت آدھی رات کے بعد سے صبح صادق سے پہلے تک ہے۔ آٹھ رکعت نماز تہجد، دو رکعت نماز شفع اور ایک رکعت نماز وتر پر مشتمل یہ نماز پڑھنے سے انسان کا شمار اللہ رب العزت کے نیک بندوں میں ہوجاتا ہے اس کے پڑھنے کا طریقہ کچھ یوں ہے: ۔

    نماز تہجد: دو دو رکعت کرکے آٹھ رکعت نماز تہجد پڑھیں۔

    نماز شفع:دورکعت نماز شفع کی نیت سے پڑھیں اس میں قنوت کے پڑھنے یا نہ پڑھنے سے کوئی فرق نہیں پڑھتا۔

    نماز وتر: ایک رکعت نماز وتر کی نیت سے اسطرح ادا کریں کہ سورہ الحمد کے بعد کوئی بھی دوسری سورہ پڑھ کر قنوت کے لیے ہاتھ بلند کریں اور جتنی دعائیں مانگنا چاہیں رب سے مانگیں عربی زبان میں دعاوں کے ساتھ بے شک اردو یا پنجابی میں بھی دعا مانگیں دعاوں کے بعد ستر مرتبہ استغفار پڑھیں۔

    استغفراللہ ربی واتوب الیہ o

    اس کے بعد سات مرتبہ کہے 

    ھذا مقام العائذبک من النار o

    یعنی جہنم سے تیری پناہ  لینے والا یہ کھڑا ہے۔ پڑھیں اس کے بعد چالیس مومنین ،مومنات کے لیے مغفرت کی دعا مانگیں۔

    الھم اغفر۔۔۔۔خالی جگہ پر بندہ کا نام لیں اس کے بعد تین سو مرتبہ

    العفو العفو العفو 

    یعنی تین سو مرتبہ معافی دے۔ معافی دے ۔ معافی دے 

    اور یہ یاد رہے کہ عربی نہ آئے تو اردو زبان میں یہ الفاظ ادا کریں۔ اللہ بخشنے والا ہے۔ اس قنوت کے بعد رکوع اور سجود بجا لائیں اور نماز کو تشہد پڑھ کر مکمل کر کے تسبیح حضرت فاطمہؑ پڑھیں اور دعا کر کے رب کا شکر ادا کریں۔ 

    قنوت میں درست تعداد کے ادا کرنے کے لیے تسبیح  استعمال کرسکتے ہیں۔

    تو ہے کوئی بارہ آئمہ معصومین کا حقیقی شیعہ بننے والا ؟

    نماز شب ادا کرنے والا؟

    کیونکہ سورہ توبہ کی آیت نمبر 112 میں اصلی مومنین کی درج ذیل صفات بیان کی گئی ہیں :۔

    التائبون العبدون الحمدون السائحون الرکعون السجدون الامرون  بالمعروف والناھون عن المنکر والحفظون لحدود اللہ ۔ وبشر المومنین o

    یعنی مومن

    توبہ کرنے والے ہیں۔

    عبادت کرنے والے ہیں۔

    حمد کرنے  والے ہیں ۔

    ہجرت کرنے والے ہیں ۔

    رکوع کرنے والے ہیں۔

    سجدہ کرنے والے ہیں۔

    نیکی کا حکم کرنے والے ہیں۔

    برائی سے منع کرنے والے ہیں۔

    اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔

    ایسے مومنین کو بشارت سنا دیجیے۔

    تو آیئے اپنے قلب و نظر میں حقیقی مومن کی صفات پیدا کرکے ختم رسل ،مولائے کل اور انکی طاہر اہلبیت عظام کا حقیقی شیعہ بننے کی کوشش کریں ۔ خداوند غفار سے دعا ہے کہ وہ مجھے اور آپ سب کو حقیقی مومن بننے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔

    تمت باالخیر

    hubdar qaim

    سیّد حبدار قائم

    کتاب ” نماز شب ‘ کی سلسلہ وار اشاعت

  • حضرت امام زین العابدینؑ کا تقوٰی

    حضرت امام زین العابدینؑ کا تقوٰی

    سورہ النازعات کی آیت نمبر 40,41میں ارشاد باری تعالی ہے۔ 

    واما من خاف مقام ربہ ونھی النفس عن الھوی o فان الجنة ھی الماوی o

    وہ اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا ہوگا۔اور نفس کی خواہشات  کو روکا ہوگا تو اس کا ٹھکانہ بہشت ہے۔

    اللہ تعالٰی سے ڈرنے کا درس کربلا والوں سے ملتا ہے اور کربلا والے ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ایک راوی سے روایت ہے کہ جب امام زین العابدینؑ نماز کے لیے وضو کرتے تھے۔ تو آپ کے سارے جسم پر کپکپی طاری ہوجاتی تھی۔ اور آپ کی مبارک آنکھوں میں اشکوں کی روانی سے آپ کی داڑھی مبارک تر ہو جاتی تھی۔ جب اس کے متعلق اُن سے استفسار کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ جب میں وضو کرتا ہوں تو میرے ذہن میں بس ایک ہی سوال ہوتا ہے۔ کہ اب میں اللہ کے ساتھ ہمکلام ہونے والا ہوں  ۔ اور کہاں وہ اعلٰی و ارفع ذات اور کہاں میں!

    جی ہاں! یہی تقوٰی کا معیار ہے امام سجادؑ ساری ساری رات عبادت میں صرف کرتے تھے اور اللہ رب العزت کی عظیم بارگاہ میں پاک و معطر اشکوں کے نذرانے نچھاور فرماتے۔

    حضرت امام زین العابدینؑ کا تقوٰی

    آپ اپنے مومنین کو بھی امر بالمعروف ونہی عن المنکر کی ترغیب دیتے۔ عظیم تر تقوٰی اور خوفِ الٰہی کی بدولت عبادت الٰہی کی حقیقی روح آپ کے دل و دماغ میں رچ بس گئی تھی۔ آپ ہر وقت اللہ کی تعریف و توصیف، مدح و ستائش میں مصروف رہتے اور نماز شب میں خالق و مالکِ کائنات کی پاکی اور تسبیح بیان فرماتے اور محبت و عقیدت اور نیاز مندی کا اظہار راتوں کو سجدہ ریز ہوکر فرماتے۔ اور یہ سب کچھ موجودہ دور کے بے عمل مسلمان کے لیے مشعل راہ ہے۔ کیونکہ اللہ سے محبت عجز و انکساری کی روش انسان  کو عظیم تر بنادیتی ہے۔ اور اللہ سے محبت تو مومنین کا خاصہ ہے۔

    والذین امنو آ اشد حبا للہ۔

    اور مومنین تو اللہ سے ہی قوی محبت رکھتے ہیں۔

    لطف کی بات یہ ہے کہ یہی مومنین محبت کی معراج پاکر عظیم تر ہو جاتے ہیں اور ان کی محبت رضائے الٰہی کا باعث بنتی ہے۔

    ان کا ہر عمل خوشنودی باری تعالٰی کے لیے ہوتا ہے۔ اور ان کی آنکھیں کان ہاتھ اور پاوں ہر اس جگہ جاتے ہیں۔ جہاں انہیں ذکرِ الٰہی اور عبادت الٰہی کی تابانی ملے۔ یہی لوگ شیطان ملعون کے شر سے بھی بچتے ہیں۔ اور عمل صالح بجا لاتے ہیں۔ ان کا بڑھنے والا ہر قدم شر اور خیر کی تمیز کرکے اٹھتا ہے۔ 

    بقول شاعر:۔

    نہ کی جنوں میں بھی توہین آبلہ پائی

    وہاں پہ رک گئے،کانٹے ہمیں جہاں نہ ملے

    مومن جب شر سے بچ کر خیر کی طرف بڑھتا ہے تو خدا وند عالم اسے عبادات میں محو رہنے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ اور اس کی عجز و انکساری میں اضافہ کر دیتا ہے اور یہ شخص نماز شب کی لذت اور شب بیداری میں آہوں کی مالا پروکر مغفرت کے ہار بُنتا ہے۔ جو کہ جنت الفردوس میں اسکی کامیابی کی ضمانت بنیں گے۔ اور آنحضور اور آپکی طاہر اہلبیت اسکے شفاعت کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے ۔ اور فرمائیں گے کہ یا اللہ اسے بخش دے اور انعام و اکرام  سے نواز کیونکہ اس نے نماز شب پڑھ کر ہمارے اسوہ حسنہ کو زندہ کیا ہے۔

    مومن جب نماز شب خشوع و خضوع سے بجا لاتا ہے تو اسکی شخصیت نکھر جاتی ہے۔ اور اللہ کے رنگ میں رنگی جاتی ہے۔ اسی پاکیزہ عمل کی وجہ سے اس کی ترجیحات ،معمولات اور پسند و ناپسند خوشنودی رب العزت کے حوالے سے ترغیب پاکر معراج بندگی پر فائز ہوتے ہیں۔ ایسے شخص کے لیے موت تحفہ ثابت ہوتی ہے۔ اور جن کے دروازے اس کے لیے کھول دیے جاتے ہیں کیونکہ نماز شب  میں اس شخص نے اپنے آپ کو اللہ کے رنگ میں رنگا ہوتا ہے۔

    سورہ البقرہ کی آیت نمبر 138  میں ارشاد ہے۔

    صبغة اللہ o ومن احسن من اللہ صبغة o

    یعنی اللہ کارنگ اختیار کرو اور اللہ کے رنگ سے بہتر اور کس کا رنگ ہوگا۔

    اللہ کے رنگ میں رنگے جانے سے مراد یہ ہے کہ اللہ رحیم ہے تو انسان بھی دوسروں پر رحم کرے اللہ اگر رازق ہے تو انسان بھی صاحب حیثیت ہو تو غریبوں میں رزق بانٹے اللہ اگر سخی ہے تو انسان بھی اپنے آپ کو اللہ کے رنگ میں رنگے اور سخاوت کرے۔ اللہ اگر پاک ہے تو انسان بھی نجاستوں کو پاس نہ بھٹکنے دے اور زبان و لباس کو پاک صاف رکھے۔ یعنی اللہ کی صفات کو اپنائے اور زمین پر خلیفہ بننے کے لائق بن جائے۔ اللہ کی ذات میں اپنے آپ کو فنا کر کے بقا حاصل کرے اور اللہ سے دن رات محو کلام ہونے کا شرف حاصل کرے۔ اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے صرف اسی کے لیے اپنی سانسوں کو وقف کرے۔ 

    اللہ اللہ کی صدا ،اذکار، اوراد کی زبان و دل میں گرمی  محاسبے مراقبے اور مکاشفے کی ضیا انسان کو معرفت کا نور اور قلب و جگر کو وجد اور سرور عطا کرتی ہے۔

    آنحضور نے اللہ کے رنگ میں اپنے آپ کو ایسا رنگا کہ قرآن آپ کا اخلاق حسنہ بنا اسی لیے آپ کے اخلاق میں نوخیز کلیوں کی نرمی حسن اور مہک تھی۔ اور آپ کے تبسم میں دلآویز معصومیت تھی اور آپ کے طاہر جسم میں عنبر کی سی مہک رچی ہوئی تھی۔ اللہ تعالٰی سے محبت اور لو لگانے کے لیے کئی طریقے ہیں ۔ وہ تو فرماتا ہے۔

    ادعو اربکم تضر عا و خفیة o

    پکار  اپنے رب کو گڑ گڑا کر اور آہستہ۔

    اور جب انسان دن کی روشنی اور رات کی تاریکی ،ابر کی دھمک میں اور زندگی کی مہک میں ،خلوت میں یا جلوت میں اسکو پکارتا ہے گڑگڑا کر یا آہستہ تو وہ رب  جسے نہ نیند آتی ہے اور نہ اونگھ ،پکارنے والے کی پکار کو سنتا ہے ۔ اسی لیے تو اپنے پاک کلام میں ارشاد فرماتا ہے۔

    اجیب دعوة الداع اذا دعان فلیستجیبو الی o

    میں پہنچتا ہوں پکارنے والے کی پکار کو جس وقت مجھے پکارتا ہے پس ان کو چاہیے کہ میری بات مانیں۔

    ضرورت ہے تو اس امر کی کہ اسوہ رسولؐ اور اسوہ اہلبیت عظامؑ  پر عمل کیا جائے اور نماز شب زندگی بھر رات کی ساعتوں میں ادا کرنے کی کوشش کی جائے۔

    hubdar qaim

    سیّد حبدار قائم

    کتاب ” نماز شب ‘ کی سلسلہ وار اشاعت

  • اللہ کا ذکر دل کا سکون ہے

    اللہ کا ذکر دل کا سکون ہے

    امام جعفر صادق ؑ کے منور ارشادات نمازِ شب کی ترغیب دلاتے ہیں کیونکہ نماز شب سے دلوں کو سکون ملتا ہے اور دلوں کا زنگ دور کرنے کے لیے رات کے پچھلے پہر اللہ کا ذکر کرنا اکسیر ہے۔ اور جو لوگ اپنے دلوں کو رات کے ستاروں کی حسیں ٹمٹماہٹ کے سنگ انوار خدا وندی کا خزینہ بناتے ہیں ۔ ان کے دل اللہ کی یاد سے کبھی غافل نہیں رہتے۔ اور ان کے دل کو اللہ رب العزت اپنی رحمتوں سے سکون آمیز بنا دیتا ہے۔ وہ ہمیشہ فرحت محسوس کرتے ہیں ۔  

    سورہ الرعد کی آیت نمبر 28 میں ارشاد باری تعالٰی ہے۔

    الا بذکر اللہ تطمئن القلوب

    یعنی بے شک اللہ کے ذکر سے دلوں کو سکون ملتا ہے۔

    اللہ تعالی تہجد گزار کا سینہ اپنے مقدس انوار سے بھر دیتا ہے۔ اور اس کی روح کو پاکیزگی کے اعلٰی مدارج پر فائز کر دیتا ہے ایسا انسان جب بھی بولتا ہے تو اس کی پاک زبان سے پھول جھڑتے ہیں ۔ اس کے حسن بیان سے کلیاں نکھرتی ہیں غنچے رقص کرتے ہیں اور اسکی شخصیت اللہ کے رنگ میں رنگی جاتی ہے ۔ اسکی زیست کی ساری ترجیحات معمولات اور پسند و نا پسند خوشنودی رب العزت کے حوالے سے ترغیب پا کر معراج بندگی حاصل کرتی ہیں۔ کیونکہ اسکی محبت کا معیار بلندیوں کو چھوکر اس کو اس مقام پر لے آتا ہے جسکا ذکر قرآن حکیم کی سورہ الانعام کی آیت نمبر 162 میں اللہ رب العزت یوں بیاں فرماتا ہے: ۔

    قل ان صلاتی و نسکی ومحیای ومماتی للہ رب العلمین۔

    آپ کہہ دیں کہ بلاشبہ میری نماز ،میری قربانی،میرا چلنا،اور میرا مرنا یہ سب اللہ کے لیے ہیں جو سارے جہانوں کا مالک ہے۔

      یہی معیار تقوٰی ہے اور نمازِ شب کا یہ اعجاز ہے کہ انسان اپنی خواہشات نفسانی کو ختم کر کے اعمال صالح کی جانب رواں دواں ہوتا ہے۔ اپنے ہر عمل کا محاسبہ کرتا ہے ۔ اور آرائش عمل و انکساری کے لیے اپنے دل میں تقوٰی  کی حقیقی صورت اختیار کرتا ہے۔ کیونکہ خداوند قدوس کے حضور جواب دہی کا احساس دراصل تقوٰی کی ہی اساس ہے۔ جو لوگ خوف سے دامن گیر ہوکر خدا وند عالم کے حضور راتوں کو قیام کرتے ہیں۔ اور تسبیح و تہلیل میں اپنی زندگی کی ساعتیں گزارتے ہیں ۔ خدا وند تعالٰی نے ان سے جنت میں انعام و اکرام کا وعدہ کرتا ہے۔ ان لوگوں کے دل ہی سکون کی دولت سے مالا مال ہوتے ہیں۔

    hubdar qaim

    سیّد حبدار قائم

    کتاب ‘ نماز شب ‘ کی سلسلہ وار اشاعت

  • برے بندے کی روح کا آسمان کی طرف سفر

    برے بندے کی روح کا آسمان کی طرف سفر

    نیک اور پارسا بندے کے بعد رسولؐ اللہ  نے فرمایا کہ کافر بندہ جب دنیا سے تعلقات کو ختم کرنے والا اور آخرت کی جانب متوجہ ہونے والا ہوتا ہے تو سیاہ چہروں والے عذاب کے فرشتے اس کے آس پاس آتے ہیں اور جہنمی ٹاٹ ان کے پاس ہوتے ہیں وہ اتنی دور جا بیٹھتے ہیں ۔ جہاں تک نگاہ جاتی ہے پھر موت کا فرشتہ آتا ہے اور اس کے سرہانے بیٹھ جاتا ہے اور کہتا ہے اے خبیث و ناپاک روح خدا کے غضب کی طرف چل ۔

    آنحضرتؐ نے فرمایا کہ کافر کی روح (یہ سن کر) بدن میں دوڑتی پھرتی ہے ۔ اور جسم سے باہر نکلنے سے ڈرتی ہے پس فرشتہء موت روح کو کھینچتا جاتا ہے اور اس کو بہت سختی سے جسم سے باہر نکالتا ہے اور وہ پلک جھپکنے کی دیر میں ملک الموت سے اس روح کو دوسرے فرشتے چھین لیتے ہیں ۔ تو اس سے سخت بدبو نکلتی ہے۔ جیسے کسی مردار کی بدبو ہو جو کہیں زمین پر پائی جاتی ہے۔ پھر فرشتے اس روح کو آسمان کی طرف لے جاتے ہیں۔ اور فرشتوں کی جس جماعت کے قریب سے یہ روح گزرتی ہے وہ یہی کہتی ہے کہ یہ کس ناپاک کی روح ہے ؟

    فرشتے جواب دیتے ہیں کہ یہ فلاں شخص کا بیٹا ہے اور  اس کے ان تمام برے ناموں اور القاب کا ذکر کریں گے جن سے دنیا میں اُس کو مخاطب کیا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ اس کو لے کر فرشتے آسمانی دنیا پر پہنچیں گے اور دروازہ کھلوائیں گے لیکن دروازہ نہ کھولا جائے گا اس کے بعد رسولؐ اللہ نے یہ آیت پڑھی۔

    لا تفتح لھم ابواب السماء ولا یدخلون الجنة حتی یلج الجمل فی سم الخیاط

    (یعنی نہیں کھولے جاتے کافروں کے لیے دروازے آسمانوں کے اور نہ وہ داخل ہوں جنت میں جب تک داخل نہ ہو اونٹ سوئی کے ناک میں (یعنی ان کا جنت میں جانا ناممکن ہے) پھر خدا وند تعالٰی حکم دے گا کہ اس کے نامہ اعمال کو سجین میں رکھو جو ایک ایسی جگہ کا نام ہے جو ساتویں زمین کے اندر ہے پھر اسکی روح پھینک دی جائے گی۔ اس کے بعد رسولؐ اللہ نے یہ آیت پڑھی۔

    ومن یشرک باللہ فکانما خر من السماء فتخطفہ الطیر اوتھوی بہ الریح فی مکان سحیق۔ (سورہ حج)

    (جس کسی نے خدا کے ساتھ کسی کو شریک کیا۔ وہ گویا آسمان سے منہ کے بل گرا پس اچک لیتے ہیں اسکو پرندے یا پھینک دیتی ہے اسکو ہوا دور دراز جگہ میں) اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ پھر ڈالی جاتی ہے روح جسم میں اور وہ فرشتے آ کر بٹھاتے ہیں اور پوچھتے ہیں تیرا دین کیا ہے؟

    وہ کہے گا ہائے ہائے میں نہیں جانتا پھر اس سے پوچھا  جائے گا وہ شخص کون تھا جو تم میں بھیجا گیا ؟

    وہ کہے گا ہائے ہائے میں نہیں جانتا۔ ایک پکارنے والا خدا کی طرف سے پکار کر کہے گا ۔ یہ جھوٹا ہے ۔اس کے لیے آگ کا فرش اور ایک دروازہ دوزخ کی طرف کھول دیا جائے گا اور دوزخ کی گرمی اور گرم ہوا اسکو پہنچے گی اور اسکی قبر کو تنگ کر دیا جائے گا۔ یہاں تک کہ اس کی پسلیاں ادھر سے ادھر ہو جائیں گی پھر ایک بد صورت شخص میلے کچیلے کپڑے پہنے اس کے پاس آئے گا جس سے سخت بد بو آرہی ہو گی۔ وہ اس سے کہے گا خوشخبری ہو تجھ کو اس چیز کی جو تجھ کو بری معلوم ہوگی۔ یہ وہ دن ہے جسکا تجھ سے وعدہ کیا گیا تھا میت اس سے پوچھے گی تو کون ہے؟

     تیرا چہرہ نہایت برا ہے اور برائی کو ساتھ لایا ہے وہ کہے گا میں تیرا برا عمل ہوں ۔ یہ سن کر میت کہے گی ۔ اے میرے پروردگار !تو قیامت کو نہ کر۔۔۔۔۔۔۔

    مشکوة شریف کی اس مذکورہ حدیث میں متقی اور گناہگار انسان کے متعلق بتایا گیا ہے کہ ان کی روحوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جائے گا ۔ان کو ایسا اذیت ناک عذاب دیا جائے گا ۔ عذاب الٰہی سے بچنا ہے تو تقوٰی کی راہ اختیار کیجیے۔ اور تقوی کی راہ کی طرف پہلا قدم عاجزی و انکساری ہے اور عاجزی و انکساری کا اظہار کرنا مقصود ہو تو نماز شب پڑھیے ۔ اس میں خدا وند کریم کی رحمت کا عالم دیکھیے جو ذرے کو آفتاب کن کہہ کر بنا دیتا ہے۔

    بقول شاعر:

    گناہ گن کے میں کیوں اپنے دل کو چھوٹا کروں

    سنا ہے تیرے کرم کا کوئی حساب نہیں

    اس غفور و رحیم کے رحم و کرم کی کوئی انتہا نہیں ہے لیکن یہ صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ جب اسوہ رسولؐ پر چلنے کی کوشش کریں۔ اور اپنے گناہوں کا کفارہ ادا کریں اور گناہوں کا کفارہ ہی نماز شب ہے۔

    حدیث نبویؐ ہے:

    عن ابی امامة قال قال رسول اللہؐ علیکم بقیام اللیل فانہ راب الصلحین قبلکم وھو قربتةلکم الی ربکم و مکفرة للسیات ومنھاة عن الاثم۔(رواہ ترمذی) 

    حضرت ابو امامہ کہتے ییں رسولؐ نے فرمایا کہ لازم کرلو تم اپنے آپ پر رات کے قیام کو (یعنی تہجد کی نماز پڑھنے کو) کہ یہ طریقہ ان نیک لوگوں کا ہے جو تم سے پہلے تھےاور رات کا قیام تمہارے لیے اللہ کی نزدیکی کا سبب ہے گناہوں کا کفارہ ہے ،اور گناہوں سے روکنے والا ہے ۔ اسوہ رسولؐ ہمیں شب بیداری کی ترغیب دلاتا ہے۔ اور شب بیداری تقوٰی و پرہیزگاری سے ہی ممکن ہے ۔ آنحضورؐ نے اپنے عمل سے ہمیں شب بیداری کی ترغیب دلائی۔ اگر ہم آج  بھی اسوہ رسولؐ پر عمل پیرا ہوں تو” آگ کر سکتی ہے انداز گلستان پیدا” کے مصداق ہم بھی جنت کے حقدار بن سکتے ہیں لیکن اس کے لیے اسوہ رسولؐ پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے سیرت آئمہ معصومین پر گامزن ہونے کی ضرورت ہے ۔ اسی لیے تو علامہ اقبال نے بھی اپنے اس شعر میں آنحضورؐ کے فرامین پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دلائی ہے:۔

    بہ مصطفٰیؐ برساں خویش راکہ دیں ہمہ اوست

    اگر  بہ او نہ رسیدی تمام بولہبیست

    یعنی اپنی زندگی حضورؐ کے احکامات کے مطابق گزارو کہ دین اسی کا نام ہے اگر اپنی زندگی میں یہ مطابقت پیدا نہ کی تو یہ تمام ابو لہب کا سا کام ہوگا۔

    hubdar qaim

    سیّد حبدار قائم

    کتاب ‘ نماز شب ‘ کی سلسلہ وار اشاعت

  • نیک بندے کی روحِ معطر کا آسمان کی طرف سفر

    نیک بندے کی روحِ معطر کا آسمان کی طرف سفر

    خون دل سے آرائشِ بہارِ نمازِ شب کرنے والے ہی (متقی لوگ) جنت میں جائیں گے اور آئمہ طاہرینؑ کی راہ پر نہ چلنے والے بدکار لوگ جہنم کی وادی میں دھکیل دئیے جائیں گے۔ چونکہ ہم سب نے مرنا ہے۔ اور مرنے کے بعد جزا و سزا کا مرحلہ آنا ہے۔ جس کی ہم سب کو تیاری کرنی ہے ۔فرائض نمازوں کے ساتھ ساتھ نمازِ شب کی کثرتوں میں رکوع و سجود ادا کر کے گڑ گڑانے والے لوگ فرشتوں سے بشارت سنیں گے جبکہ بے نماز اور بے عمل لوگوں پر خدا وند تعالٰی اور فرشتے لعنت کریں گے موت مومن کے لیے خو شخبری جبکہ کافر کے لیے عذاب ثابت ہوگی۔ موت کے وقت مومن کے لیے آسانیاں اور کافر کے لیے عذاب ہو گا اور اس کے بارے میں  "مشکواة شریف”میں تلقینِ میت کے باب میں (حضرت براء بن حارث سے روایت ہے کہ "رسول اللہ  ﷺکے ہمراہ ہم ایک انصاری شخص کے جنازے پر گئے جوں ہی ہم اسکی قبر پر پہنچے ابھی تک ان کو دفن نہ کیا گیا تھا رسول  ﷺبیٹھ گئے اور ہم بھی آپؐ کے گرد اس طرح سرنگوں اور خاموش بیٹھ گئے گویا ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہیں۔ آپؐ کے ہاتھ میں اس وقت ایک لکڑی تھی جس سے آپ  ﷺزمین کرید رہے تھے پھر (یکایک) آپؐ نے سر اٹھایا اور فرمایا خدا سے پناہ مانگو قبر کے عذاب سے۔ دو یا تین مرتبہ آپؐ نے یہ الفاظ فرمائے اور اس کے بعد فرمایا جب بندہ مومن کا تعلق دنیا سے منقطع ہونے والا ہوتا ہے اور وہ آخرت کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو اس کے پاس آسمان سے فرشتے آتے ہیں۔ جن کے چہرے ایسے روشن ہوتے ہیں گویا ان کے منہ آفتاب ہیں۔ ان کے ساتھ جنت کے کفن اور خوشبوئیں ہوتی ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اس قدر دور بیٹھ جاتے ہیں جتنی دور تک نگاہ جاتی ہے۔ پھر موت کا فرشتہ آتا ہے اور بندہ مومن کے سرہانے پر بیٹھ جاتا ہے۔ اور کہتا ہے کہ اے پاک روح خدا کی بخشش اور رضامندی کی طرف چل۔

    نیک بندے کی روحِ معطر کا آسمان کی طرف سفر
    Image by Gerd Altmann from Pixabay

    رسول اللہؐ نے فرمایا کہ روح اس طرح بہتی ہوئی جسم سے نکلتی ہے جس طرح پانی کا قطرہ مشک سے بہتا ہوا نکلتا ہے۔ پس فرشتہء موت اس روح کو لے لیتا ہے اور فورا ہی ملک الموت سے اس روح کو دوسرے فرشتے لے لیتے ہیں (یعنی اس قدر جلد کہ پلک جھپکنے کی دیر نہیں ہوتی) اور اس کو اُس کفن اور خوشبو میں رکھ لیتے ہیں۔ جس کو وہ لائے تھے اور اس روح سے وہ بہترین خوشبو نکلتی ہے۔ جو روئے زمین پر سب سے بہتر ہوتی ہے پھر فرشتے اُس روح کو آسمان کی طرف لے جاتے ہیں ۔ اور فرشتوں کی جس جماعت کے قریب سے وہ روح گزرتی ہے وہ جماعت کہتی ہے کون ہے یہ پاک روح ؟

    وہ فرشتے جو اس روح کو لے جاتے ہیں کہتے ہیں یہ فلاں شخص ہے اور فلاں کا بیٹا ہے یعنی وہ اس کے نام و لقب کو عمدہ طریق پر بتاتے ہیں۔ جن سے وہ دنیا میں  موسوم ہوتے ہیں ۔ حتٰی کہ یہ فرشتے آسمانی دنیا پر پہنچتے ہیں ۔ اور اس کے لیے آسمان کا دروازہ  اس وقت کے لیے کھولا جاتا ہے اور ہر مسلمان کے فرشتے دوسرے آسمان تک اس کے ساتھ جاتے ہیں ۔ یہاں تک کہ اس روح کو ساتویں آسمان تک پہنچایا جاتا ہے اور اللہ فرماتا ہے۔ میرے بندہ کے نامہء اعمال کو مقام علیین میں جہاں ارواحِ سعید رہتی ہیں) رکھو اور اسکو زمین کی طرف لے جاو ۔(یعنی اسکے مدفون جسم میں لوٹا دو )میں نے مٹی ہی سے جسموں کو پیدا کیا اور  مٹی ہی میں ان کو واپس بھیجتا ہوں اور مٹی ہی سے ان کو دوبارہ نکالوں گا۔ اس کے بعد رسولؐ اللہ نے فرمایا کہ بس روح کو پھر اس کے جسم میں ڈال دیا جاتا ہے اور پھر اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں۔ اور پوچھتے ہیں تیرا رب کون ہے؟

    اس کے جواب میں وہ کہتا ہے میرا پروردگار اللہ ہے۔

    پھر وہ پوچھتے ہیں تیرا دین کیا ہے؟

    وہ کہتا ہے میرا دین اسلام ہے ۔

     پھر وہ پوچھتے ہیں یہ کون شخص ہے جو تم میں بھیجا گیا تھا؟

    وہ کہتا ہے وہ خدا کے رسولؐ ہیں پھر وہ پوچھتے ہیں تو نے ان کا رسول ہونا کس طرح جانا ؟

    وہ کہتا ہے میں نے خدا کی کتاب کو پڑھا اس پر ایمان لایا اور اسکی تصدیق کی۔ پھر ایک پکارنے والا آسمان سے پکار کر کہتا ہے (یعنی خدا کی طرف سے اعلان کرتا ہے) کہ میرا بندہ سچا ہے اس کے لیے جنت کا بستر بچھاؤ اور جنت کا لباس اس کو پہناؤ اور جنت کی طرف ایک کھڑکی کھول دو ۔ چناں چہ کھڑکی کھول دی جاتی ہے اور اس سے جنت کی ہوا اور خوشبو آتی ہے پھر اسکی قبر کو حد نظر تک کشادہ کردیا جاتا ہےاس کے بعد رسولؐ نے فرمایا کہ پھر اس کے پاس ایک خوبصورت شخص آتا ہے جو بہترین لباس پہنے اور خوشبو لگائے ہوتا ہے اور اس سے کہتا ہے خوشخبری ہو تجھ کو اس چیز کی جو تجھ کو خوش کرنے والی ہے (یعنی تیرے لیے تمام نعمتیں موجود ہیں) اور یہ وہ دن ہے جس کا تجھ سے وعدہ کیا گیا تھا پس میت اس سے پوچھتی ہے کہ تو کون ہے کہ تیرا جسم و جمال کامل ہے اور تو بھلائی کو لایا ہے اور خوشخبری سناتا ہے؟ وہ کہے گا میں تیرا عملِ خیر ہوں۔ میت یہ سن کر کہتی ہے اے میرے پروردگار ! قیامت کو قائم کر ۔ کہ میں پھر اہل و مال کی طرف جاؤں ” ۔

    hubdar qaim

    سیّد حبدار قائم

    کتاب ‘ نماز شب ‘ کی سلسلہ وار اشاعت

  • حضرت زینبؑ کا سفر شام اور نمازِ شب

    حضرت زینبؑ کا سفر شام اور نمازِ شب

    کتاب ” سیرت المومنین "کی سطریں اس لیے اس کتاب میں شامل کی ہیں تاکہ شیعہ اثناء عشری اور جو بھی مسلمان کتابِ ھذا کا مطالعہ کرے اسکو نمازِ شب کی اہمیت کا علم ہو۔ حضرت علیؑ  نے اجل کی مشکل گھڑیوں میں بھی درسِ نماز دیا اور آپؑ کے دیے ہوئے درس پر اہل بیتؑ کے بقیہ افراد نے کچھ ایسا عمل کیا کہ تاریخ کا سینہ ان سجدہ ریز جبینوں کے ذکر سے منور ہوا پڑا ہے۔

     امام حسینؑ کے جسم پر ایک سو تیرہ سوراخ تیروں کے تھے، تینتیس زخم نیزوں کے تھے اور چونتیس زخم تلواروں کے تھے اتنے زیادہ زخموں اور کربلا کے دکھوں کے باوجود نماز کو ترک نہ کیا بلکہ نمازِ شب کا دامن بھی نہ چھوڑا اور مولا علیؑ کی معظمہ بیٹی اور اپنی بہن حضرت زینب سلام اللہ علیہا کو آخری وقت الوداع کرتے ہوئے نمازِ شب کی تاکید کی۔ بی بی پاک نے آپ کے دیے ہوئے درسِ نماز شب پر اسطرح عمل کیا کہ کہ بہتر شہداء کی لاشیں بے گور و کفن چھوڑنے کے باوجود، ہاتھ رسیوں سے بندھے ہوئے ہونے کے باوجود ، اپنے سامنے بھاگتے ہوئے اونٹوں سے گرتے ہوئے معصوم  بچوں کو اونٹوں کے پاوں تلے کچلا ہوا دیکھا جانے کے باوجود چار ہزار پانچ سو چھیانوے۔

    (4596) میل کی مسافت 36 اور بعض روایتوں کے مطابق 26 شہر ،(72)بہتر بازار 1446 گلیوں اور 288 موڑوں پہ دو دو لاکھ کے ہجوم میں پر نم آنکھوں سے یہ دیکھنے کے باوجود کہ کوئی آکر مجھ سے کہے گا کہ تیرے علی اکبرؑ کا بڑا افسوس ہے ۔ تیرے علی اصغر ؑکی تشنہ لبی میں حرمل کا تیر ستم پیوست ہونے کا بڑا افسوس ہے،تیرے بھائی عباسؑ کے بازووں کے کٹ جانے کا بڑا افسوس ہے،تیرے مظلوم بھائی حسینؑ کا لاشیں اٹھا اٹھا کر تھک جانے کا بڑا افسوس ہے اور تیری سکینہ ؑ کا زنداں میں گھٹ گھٹ کر مرجانے کا بڑا افسوس ہے اور تیرے پاک قافلے کے لٹ جانے کا بڑا افسوس ہے تیرے زین العابدین ؑکے اسیر ہوکر آنکھوں سے خون رونے کا بڑا افسوس ہے۔ ان کیفیتوں کے باوجود بی بی زینب سلام اللہ علیہا نے نمازِ شب کو ترک نہ کر کے ایک درسِ عظیم دیا ہے۔ اور اکثر نمازیں بی بی نے اپنی سواری کی پیٹھ پر پڑھی ہیں۔ پاک بی بی نے یہ قندیل اسی لیےروشن کی تھی کہ زمانے میں ہم جیسے لوگ اللہ جل شانہ سے لو لگانے کی کاوشِ پیہم کریں۔ خوشنودیء رب العزت کے حصول کے لیے صعوبتوں کا برداشت کرنا ہی بندگی کی معراج ہے۔ حضور اکرم صلٰی اللہ علیہ وآلہ وسلم  رات کو بہت طویل قیام کرتے  جس کی وجہ سے آپ ﷺ کے پائے اقدس پر ورم پڑ جاتے۔ جب صحابہ کرام استفسار کرتے کہ آپ ﷺتو معصوم ہیں اور آپ ﷺکو اس قدر تکلیف و الم اٹھانے کی ضرورت نہیں ہے تو آپ ﷺجواب میں ارشاد فرماتے کیا میں شکر گزار بندہ نہ بنوں۔ گویا اللہ کا شکر ادا کرنے کا بہترین وقت آدھی رات کے بعد ہی ہوتا ہے۔ ویسے تو دن کی کسی ساعت میں بھی شکر ادا کرنا رحمت خداوندی کے حصول کا موجب ہے لیکن جو مزہ اور تڑپ رات کے سناٹوں میں ہے۔ وہ دن میں نہیں۔ خون دل سے جو چراغ جلائے جاتے ہیں ان کی روشنی جاوداں ہوتی ہے۔ اس لیے راتوں کو زیادہ سے زیادہ اپنے جسم کو تکلیف دے کر رضائے  الٰہی خریدی جاسکتی ہے۔ جس کا بہترین انعام جنت ہے۔ کیونکہ بقول شاعر

    اسی کو حق ہے فضائے چمن میں رہنے کا

    جو اپنے خون سے آرائش بہار کرے 

    hubdar qaim

    سیّد حبدار قائم

    کتاب ‘ نماز شب ‘ کی سلسلہ وار اشاعت

  • مولا علیؑ کی نظر میں دنیا ایک دھوکہ

    مولا علیؑ کی نظر میں دنیا ایک دھوکہ

    علامہ مفتی جعفر اپنی کتاب”سیرت امیرالمومنین” کے صفحہ ١٢٢ اور ١٢٣ پر رقم طراز ہیں ایک مرتبہ ضرار ابن ضمرہ حنبائی معاویہؓ کے ہاں آئے۔ معاویہؓ نے کہا کہ تمہیں تو علیؑ کی صحبت میں رہنے اور انہیں قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ کچھ ان کے متعلق بیان کرو۔

    ضرار نے معذرت چاہی۔ جب اصرار زیادہ ہوا تو مولا علیؑ کے متعلق یہ کہا :۔

    "خدا کی قسم اُن کے ارادے بلند اور قوی مضبوط تھے۔ فیصلہ کن بات کہتے اور عدل و انصاف کے ساتھ حکم کرتے۔ ان کے پہلووں سے علم کے سوتے پھوٹتے اور کلام کے گوشوں سے حکمت و دانائی کے نغمے گونجتے تھے۔ دنیا اور اس کی رونق و بہار سے وحشت کھاتے ۔ رات اور اس کے سناٹوں سے جی بہلاتے آنکھوں سے ٹپا ٹپ آنسو گرتے اور فکر و سوچ میں ڈوبے رہتے لباس وہ پسند آتا جو مختصر ہوتا اور کھانا وہ بھاتا جو روکھا و پھیکا ہوتا۔ وہ ہم میں ایک عام آدمی کی طرح رہتے سہتے۔ ہم کچھ پوچھتے تو جواب دیتےاور کچھ دریافت کرتے تو بتاتے۔ خدا کی قسم باوجود قرب کے ان کی ہیبت و جلال کے سامنے ہمیں لب کشائی کی جرات نہ ہوتی تھی۔ اہل دین کی تعظیم کرتے مسکینوں کو قرب کا شرف بخشتے۔ طاقتور کو یہ توقع نہ ہوتی تھی کہ بے راہروی میں ان کی ہمدردی حاصل کر سکے گا۔ اور کمزور کو ان کے انصاف سے مایوسی نہ ہوتی تھی۔ خدا شاہد ہے میں نے بعض مقامات پر جبکہ رات کے پردے آویزاں اور ستارے پنہاں ہوتے تھے۔ انہیں دیکھا ہے کہ اپنی ریش مبارک کو ہاتھوں میں پکڑے ہوئے اس طرح تڑپتے تھے۔ جس طرح کوئی مارگزیدہ تڑپتا ہے اور اس طرح روتے تھے جیسے کوئی غمزدہ روتا ہے اور کہہ رہے ہوتے تھے کہ اے دنیا جا کسی اور کو فریب دے ۔کیا میرے سامنے اپنے آپ کو لاتی ہے۔ یا مجھ پر فریفتہ ہو کر قریب آئی ہے۔ یہ کیونکر ہو سکتا ہے میں تو تجھے تین بار طلاق دے چکا ہوں جس کے بعد رجوع کی صورت نہیں ۔

    تیری عمر چند روز اور تیری اہمیت بہت کم ہے۔ افسوس زادِ راہ تھوڑا ،سفر دور دراز اور راستہ وحشت ناک ہے۔”

    یہ ہے کردارِ حیدر جو مکمل رودادِ ہستی ہے۔ یہ ہے رات کے سناٹوں میں مناجات و نوافل اور عاجزی و انکساری کا عظیم درس اور یہ ہے اجل کو یاد کرنے کا غم ناک انداز اور یہ ہے دنیا کی چند روزہ زندگی کے بے ثباتی کا تذکرہ۔ جو ہمیں در حیدر سے ورثے میں ملا ہے قبر اور موت کے متعلق یاد دہانی اور دنیا کو چھوڑنے کا۔ ان ہونی موت کے متعلق شاعر نے کیا خوب کہا ہے:۔

    قبر کے چوکٹھے خالی ہیں انہیں مت بھولو

    جانے کب کون سی تصویر لگا دی جائے

    رات کی تنہائیوں ، تاریکیوں بلکہ ماہتاب کی چھلکتی ضیا میں اور ستاروں کی انجمن  میں جو شخص نماز شب کے لیے اٹھتا ہے تو اہل فلک کو وہ ایک روشن ستارہ ہی نظر آتا ہے اور یہی وہ ساعتیں ہوتی ہیں ۔ جب خالق کائنات بار بار پکار کر فرماتا ہے۔ کہ ہے کوئی توبہ کرنے والا ۔ ہے کوئی مغفرت کا طالب۔ اور ہے کوئی موت کی تلخیوں کی بجائے جنت کی بشارت حاصل کرنے والا۔ کیونکہ موت برحق ہے جس کا ہر کسی کو ذائقہ چکھنا ہے۔ جس طرح پھول کی پنکھڑیوں پر شبنم کی ساری کائنات آفتاب کی تمازت ختم کر دیتی ہے۔ اسی طرح موت ہر ذی روح کو زندگی کی حسیں ساعتوں سے محروم کر دیتی ہے اور زندگی کی یہ مختصر ساعتیں اگر شب بیداری میں ذکر خدا وند متعال میں گزری ہوں تو امر ہو جاتی ہے۔ اور ان کا اجر بہت ہی زیادہ اور عظیم ہے۔

    ہمیں چاہیے کہ ہم موت کی تلخیوں کو یاد رکھیں اور اپنی جبینوں کو رات کے اندھیروں میں

    خدا وند متعال کے آگے جھکائے رکھیں کہ چند ساعتہ زندگی کا یہی تقاضا ہے زندگی کے مختصر ہونے کے متعلق قصیر مشہدی اپنے اس شعر میں یوں کہتا ہے:۔

    کُھل گیا یہ راز، کتنی  مختصر ہے زندگی

    خاک میں ملتے ہوئے گلہائے خنداں دیکھ کر

    موت کی آغوش اور زندگی کی بے ثباتی کا تذکرہ انسان کو تدبر کرنے پر مجبور کر دیتا ہے شیعہ اثنا عشری کو یہ شرف حاصل ہے کہ  آئمہ معصومین نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر موت کو ششدر کر دیا۔ مولا علیؑ سے لے کر گیارہویں امام تک کے اعمال سے یہ بات عیاں ہوجاتی ہے۔ کہ نماز شب کو ہمارے ان عظیم آئمہ نے کبھی بھی ترک نہ کیا۔ مولا علیؑ  کی زیست کی آخری ساعتیں ہی لیجیے ۔آپ کے متعلق السید اولاد حیدر صاحب فوق بلگرامی اپنی کتاب سراج المبین فی تاریخ امیر المومنینؑ کے صفحہ ۴٢١ اور ۴٢٢ اور ۴٢٣ پر لکھتے ہیں کہ:۔

     جناب امیر المومنین پر جو کیفیت اُس رات کو طاری تھی وہ علی العموم تمام اسلامی کتابوں میں درج ہے۔ دن بھر کا روزہ رات بھر کی شب بیداری طول و طویل رکوع و سجود ۔ ایفائے عہد کا خیال اہل و عیال کی مفارقت کچھ ایسی بے چینی اور اضطراب کی کیفیت تھی”کہ امیر المومنین نے وہ تمام رات اسی اضطراب میں بسر کی۔

     اس سے آگے مزید لکھتے ہیں کہ۔

    ” امیرالمومنینؑ کا معمول تھا کہ رات ہی مسجد میں جاتے اور اُسی وقت سے عبادت الٰہی میں مصروف ہوتے تھے یہاں تک کہ صبح کے آثار نمایاں ہوتے۔ خدا کے  عبادت  گزار بندے اسکی عبادت کے لیے مسجد میں جمع ہوتے تھے۔ امیر المومنین ان کے ساتھ نماز باجماعت پڑھتے تھے۔ اور خطبہ وغیرہ سے فراغت پاکر دن چڑہے گھر واپس آتے تھے اس دن بھی حسب معمول امیرالمومنین اسی طرح مسجد میں تشریف لے گئے گھر سے نکلتے ہی آپ نے یہ اشعار پڑھے

    أَشدُد حيازَيمكَ لِلمَو تِ فَإِنَّ المَوتَ لاقيكا وَلا تَجزع مِنَ المَوتِ إِذا حَلَّ بِواديكا

    اپنی کمر کو موت کے لیے باندھ لو۔ موت بہت جلد تجھ سے ملاقات کرنے والی ہے اپنی موت سے جبکہ وہ تیرے پاس آئے تو مت گھبرا”

    مسجد میں تشریف لائے۔ جو لوگ صحن میں سو رہے تھے انکو بیدار فرما کر خود خدا کی تسبیح و تقدس میں مصروف ہوئے تو عبدالرحمن ابن ملجم اور اس  کے ہمراہی بھی مسجد ہی میں شام سے گھات لگائے ہوئے تھے جب نمازِ صبح کا وقت ہوا اور امیرالمومنین محراب عبادت میں تشریف لا کر نماز میں مصروف ہوئے تو عبدالرحمن ابن ملجم سب سے پہلے صف میں کھڑا ہوگیا۔

    امیرالمومنین نے سجدہ اول سے فراغت پاکر دوسرے سجدہ میں جونہی اپنا سر جھکایا کہ ابن ملجم نے اپنی زہر آلودہ تیغ کی ضرب لگائی۔ اتفاق سے اسکی تلوار اسی مقام پر ڈوبی جہاں عمر ابن عبد ود کی تلوار تیس برس پہلے لگ چکی تھی۔ کاسہء سر سے لے کر جبین مبارک تک شگافتہ ہوگئی اور خدا کے برگزیدہ مصلٰی کا خون پانی کی طرح مصلے پر چاروں طرف بہنے لگا ابن ملجم نامراد کی تلوار کھاتے ہی امیرالمومنینؑ نے باآواز بلند کی۔

    بسم اللہ وباللہ وعلی ملت رسول اللہ فذت برب الکعبہ

    سوانح عمری ٨٠٦ با سند ابن اشبر۔

    زخم کی شدت نے اس وقت اس سے زیادہ نہ کہنے دیا۔ دونوں ہاتھوں سے جبین مبارک تھام کر آپ خدا کی راہ میں جھک گئے اور دیر تک اپنے خون میں لوٹتے رہے۔ تھوڑی دیر کے بعد اٹھے اور مسجد کی خاک لیکر زخم پر چھڑکتے جاتے اور ذیل کا آیہ تلاوت فرماتے جاتے تھے۔

    آیت:

    منھا خلقنکم وفیھا نعید کم و منھا نخرجکم تارة اخری o

    ہم نے تم کو زمین سے پیدا کیا اور اسی کی طرف تم کو پھیریں گے اور پھر اس سے تم کو دوبارہ نکالیں گے۔

    وہ جان نثار اور خالص الایمان مقتدی جو امیرالمومنین کے ساتھ نماز میں شریک تھے اس درد ناک واقعہ کو دیکھ کر دو تین حصوں میں ہو گئے۔ کچھ لوگ تو دولت سرٰی کی طرف خبر دینے کے لیے دوڑے اور کچھ وہیں آپکے پاس رہے بقیہ ابن ملجم کی تلاش میں لگے رہے: ۔

    حضرت علی کرم اللہ وجہہ رات بھر عبادت میں مشغول رہتے تھے اور اللہ رب العزت کی حمد و تسبیح اور استغفار کرتے تھے تا کہ آنے والی نسلوں کو نمازِ شب کی اہمیت معلوم ہو جائے اور وہ آپ کی اطاعت میں نماز شب ادا کرتے رہیں۔

    hubdar qaim

    سیّد حبدار قائم

    کتاب ‘ نماز شب ‘ کی سلسلہ وار اشاعت