Tag: نماز شب

  • ہمارے شیعہ کون ھیں؟ فرمان حضرت امام باقرؑ

    ہمارے شیعہ کون ھیں؟ فرمان حضرت امام باقرؑ

    شب بیداری میں نماز شب اور صدقہ و خیرات ادا کرنے سے خداوند متعال انسان کی بخشش فرما کر اسکو اعلی و ارفع مدارج پر فائز کر دیتا ہے اور  یہی شیعہ اثنا عشری کا وطیرہ ہے۔ شیعہ اثنا عشری جن اوصاف کے مالک ہیں ۔ ان کا ذکر کرتے ہوئے آغا محمد سلطان مرزا دہلوی نے اپنی کتاب نورالمشرقین من حیات الصادقین کے صفحہ نمبر 212 اور صفحہ نمبر 213 پر لکھا ہے ۔ جناب محمد باقرؑ فرماتے ہیں کہ”

     خدا کی قسم ہمارے شیعہ صرف وہ ہیں جو احکام الٰہی کی اطاعت گزاری کرتے ہیں اور فرمایا امام باقرؑ نے  یہ کہنا کافی نہیں کہ کوئی شخص محض اپنے منہ سے کہلائے کہ میں اہلبیت رسولؐ سے محبت  رکھتا ہوں۔ قسم بخدا  ایسا کوئی شخص ہمارا شیعہ نہیں ہے

    سوائے اس شخص کے جو خدا کی اطاعت کرتا ہے اور اس سے ڈرتا ہے (اور ہم سے محبت کرتا ہے)ہمارے شیعہ کی علامتیں یہ ہیں: ۔

    ١۔ تواضع و فروتنی

    ٢۔ خشوع

    ٣۔ ترکِ خیانت

    ۴۔ کثرتِ ذکرِ خدا

    ۵ ۔صوم

    ٦ ۔صلوة

    ٧ ۔والدین سے حسنِ سلوک

    ٨ ۔قول کا سچا ہونا

    ٩ ۔فقراء و مسکین ،قرضداروں ،اور یتیموں کے ساتھ نیکی کرنا

    ١٠ ۔تلاوتِ قرآن

    ١١ ۔لوگوں کی برائی سے اپنی زبان کو روکنا

    ١٢ ۔دوستوں اور رشتہ داروں کے درمیان دیانتداری اور امین ہونا۔

    فرمایا جناب محمد باقر ؑ نے کہ” خدا کی قربت صرف اطاعتِ الٰہی کے ذریعہ حاصل ہوسکتی ہے۔ پس تم میں سے جو خدا وند تعالٰی کے حکم کا پابند ہے۔ اس کو ہی محبت فائدہ پہنچا سکتی ہے۔ اور تم میں سے جو خدا وند تعالٰی کی نا فرمانی کرتا ہے۔ اسکو ہماری محبت فائدہ نہیں پہنچائے گی ۔ دیکھو تم دھوکہ نہ کھاو ۔ تم دھوکہ نہ کھاو : ۔

     وہ لوگ جو صرف شیعیان اہلبیت منہ سے کہہ دینا ہی کافی سمجھتے ہیں ۔ اس فرمان پر غور کریں شیعیان اہلبیت کے اوصاف و حقوق تو بہت ہیں اور جنت ان کے لیے یقینی ہے لیکن شیعہ ہونے کی شرائط بھی تو پوری کریں۔ جی ہاں! یہی شرائط  ہیں شیعہ اثناء عشری ہونے کی۔ اگر آپ امام باقرؑ کے ان فرامین پر پورا اترتے ہیں۔ تو آپ شیعہ ہیں۔ اور آپ کو جنت کی بشارت دیتا ہوں۔ اور اگر آپ ان فرامین  پر عمل پیرا نہیں ہیں۔ تو آپ صرف نام لیوا ہیں شیعہ ہرگز نہیں ہیں۔

     اگر آپ شیعہ بننا چاہتے ہیں۔ تو ان فرامین کی روشنی میں زیست کی آئندہ ساعتیں گزاریں امام نے شیعہ کے اوصاف میں کثرتِ ذکرِ خدا اور تلاوتِ قرآن کا ذکر فرمایا ہے۔ اور یہی دونوں امر نمازِ شب میں زیادہ سے زیادہ ادا کیے جا سکتے ہیں ۔ اپنی خود احتسابی کیجیے اور وہ یہ کہ نمازِ شب نہ پڑھنے کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں جیسا کہ مشہور کتاب "دارلحکمت ” میں مصنف نے مولا علی علیہ السلام کا ایک فرمانِ ذیشان نقل کیا ہے مولا فرماتے ہیں :۔

    "جس شخص سے دن کے وقت کوئی گناہ سرزد ہو جاتا ہے تو خدا وند کریم اسے نمازِ شب پڑھنے کی توفیق نہیں دیتا”

    اس کا مقصد یہ ہوا کہ نماز شب کا تعلق دن کے درخشاں و تاباں اوقات کے ساتھ جُڑا ہوتا ہے

    جو شخص اپنا دن خوشنودی ء رب العزت کی خاطر امر بالمعروف و نہی عن المنکر جیسے عظیم کاموں میں گزارے اسے ہی خدا وند عالم رات کی تاریک ساعتوں میں اپنے ذکر کی توفیق عطا فرماتا ہے۔ مومن اور کافر کی ایک پہچان رکھی گئی ہے کافر جب اپنے اطوار کے مطابق  مذہب کی پیروی کر کے فارغ ہو جاتا ہے تو اگر وہ تاجر ہے تو تجارت کو اپنی ذات کے نفع کے لیے استعمال کرے گا اور اگر اس کا تعلق کسی اور شعبے سے ہے تو پھر بھی وہ اپنے مذہب سے کٹ کر اپنا کام سرانجام دیتا ہے لیکن مسلمان کی یہ خوبی ہے کہ وہ مکمل ضابطہء حیات یعنی اسلام کی جاوداں تعلیمات پر زیست کے تمام معاملات حل کرنے کی کوشش کرے گا وہ مذہب کی طرح معاملات میں بھی کھرا ہو گا۔اس کا ہر عمل رضائے الٰہی کے حصول کی خاطر ہو گا وہ آفاق کی ناپائیدار چمک میں کبھی گم نہیں ہوگا بلکہ اسلام کی روشنی اسے منور کر دے گی۔ شاعر مشرق جناب علامہ اقبال رح نے کافر اور مومن کے معاملات کو کس خوبی سے بیان فرمایا ہے ملاحظہ کیجیے:۔

    کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہیں

    مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہے آفاق

    یہی تعلیم یہی فلسفہ ہمیں آئمہ  معصومین علیہ السلام کی منور سیرت سے حاصل ہوتا ہے وہ شب بیداری میں مناجات و نوافل، ذکر و فکر، سوز و گداز اور خوف خدا سے اتنا گریہ کرتے ہیں کہ ریش تک آنسووں سے بھیک جاتی ہے۔ حضور اکرمؐ سے لے کر اہل بیت کے ہر مرد و عورت پر نگاہ دوڑائیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ شب بیداری کو آپ سب نے اپنی زندگی میں بہت اہمیت دی۔

    اللہ تعالی سے لو لگانے کا معیار آپ کے ہی در سے ملتا ہے آپؐ نے بھی اللہ پاک کی عظیم بارگاہ میں اشکوں کے نذرانے نچھاور کیے اس لیے کہ عاجزی و فروتنی رات کے سناٹے میں رو رو کر بہارِ مغفرت سے ہمکنار کرتی ہے۔ شائد اسی کے متعلق سراج لکھنوی نے یہ شعر لکھا تھا :۔

    اب کہیں جا کے محبت میں بہار آئی ہے

    پھول دامن پہ نہ تھے دیدہ ء تر سے پہلے

    شب بیداری اور دیگر علم و حکمت،مناجات و نوافل کے متعلق حجتہ الاسلام علامہ مفتی جعفر اپنی مشہور کتاب "سیرت امیر المومنین” میں رقم کرتے ہیں کہ ہمیں رات کی تاریکیوں میں سجدہ ریز ہونے کی تعلیم مولا علیؑ نے دی ہے۔ علامہ جعفر مولا علی کرم اللہ وجہہ کے اخلاق و عادت کے متعلق اپنی کتاب ”  سیرت امیر المومنین” کے صفحہ نمبر 121 اور صفحہ نمبر 122 پر رقم طراز ہیں :۔

    مولا علیؑ بغض و کینہ اور انتقامی جذبات کو پاس نہ بھٹکنے دیتے۔ حیرت انگیز حد تک عفو و درگزر سے کام لیتے دینی معاملات میں سختی برتتے اور عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتے۔حق و صداقت کے جادہ پر گامزن رہتے اور کسی کی رو رعایت نہ کرتے ۔دشمن کے مقابلے میں مکر و فریب اور داو پیچ سے کام نہ لیتے رات کا بیشتر حصہ مناجات و نوافل میں گزارتے۔ صبح کی تعقیبات کے بعد قرآن و فقہ کی تعلیم دیتے خوفِ خدا سے لرزاں و ترساں رہتے اور دعا و مناجات میں اتنا روتے کہ ریش مبارک تر ہو جاتی”۔

    یہ تھا اسوہء حیدر جو مختصرا "سیرت امیرالمومنین” سے لیا گیا ہے یہی وجہ تھی کہ مولا علیؑ نے رضائے الٰہی خرید لی تھی اور آپ کو حضور اکرمؐ نے جنت اور دوزخ کے تقسیم کرنے والا کہا ہے۔ کیونکہ آپ نے اپنا نفس بیچ کر رضائے الٰہی خرید لی تھی۔ آپ کی ہر دعا بارگاہِ خدا میں مستجاب ہوتی تھی۔ آپ نے دن کے اجالوں اور رات کی تاریکیوں میں ہمیشہ رب کریم کو یاد رکھا ہماری بھی ہر دعا قبول ہو سکتی ہے لیکن شرط یہ ہے کہ ہر عمل قرینے سے کیا جائے ۔ معروف شاعر صفی لکھنوی نے لکھا ہے:۔

    کون سی دعا ہے جو اثر نہیں رکھتی

    ہاں مگر یہ لازم ہے مانگیے قرینے سے

    hubdar qaim

    سیّد حبدار قائم

    کتاب ‘ نماز شب ‘ کی سلسلہ وار اشاعت

  • حضرت امام جعفر صادق ؑ اور خوفِ خدا

    حضرت امام جعفر صادق ؑ اور خوفِ خدا

    جہانِ رنگ و بو میں عاجزی و انکساری اور تقوٰی کے متعلق انبیاء کرام کے ساتھ آئمہ معصومینؑ نے بہت زور دیا ہے۔ اللہ کا خوف  دل میں لائیں تو نیند نہیں آتی بلکہ آنکھوں سے اشک رواں ہوتے ہیں خوفِ خدا دامن گیر ہوتا ہے اور انسان شب بیداری سے محبت کرتا ہے۔ خوف خدا کے متعلق آغا محمد سلطان مرزا دہلوی نے اپنی کتاب نور المشرقین من حیات الصادقین کے صفحہ 415 پر لکھا ہے۔

    مالک بن انسؒ فقیہ مدینہ کہتے ہیں کہ میں اکثر اوقات جناب امام جعفر صادقؑ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا۔ جب بھی میں ان کے پاس گیا ہوں۔ تین حالتوں میں سے ایک حالت میں اُن کو ضرور پایا۔ یا روزہ دار تھے۔ یا نماز میں کھڑے ہوئے تھے۔ یا ذکر خدا کر رہے تھے۔

    بہت بڑے عابد تھے۔ سب سے زیادہ زاہد تھے۔

    خدا وند تعالٰی سے بہت ڈرتے تھے۔ جناب رسول ﷺ کی احادیث بہت بیان فرمایا کرتے تھے۔ اور آپ کی مجلس میں بیٹھنے سے بہت فوائد حاصل ہوتے تھے۔ ایک سال میں نے ان کے ساتھ حج کیا۔ جب تلبیہ کا وقت آتا تھا لبیک کا لفظ ان کے حلق میں اٹک جاتا تھا اور آواز نہیں نکلتی تھی۔ اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اب سواری سے گر پڑیں گے۔ میں نے وجہ دریافت کی تو فرمایا کہ میں لبیک کہنے کی کیونکر جرات کروں ۔ ڈرتا ہوں کہ خدا یہ نہ فرما دے ۔

    لا لبیک ولا سعدیک

    امام جعفر صادقؑ کا تقوٰی اور خوف خدا سے اس کیفیت میں ہونا ہمارے لیے ایک بہترین نمونہ ہے۔ ہم بھی اس طرح  کا عمل بجا لائیں تو ہماری زندگیوں میں بھی عزت ،وقار، مشیت خدا، تقوٰی، اور عجز و انکساری آسکتی ہے۔ لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ "عمل سے بنتی ہے زندگی بھی جنت بھی جہنم بھی ” کے مصداق ہم بھی سیرت معصومین پر چلنے کی سعی کریں۔ اور خوف خدا سے دامن گیر ہو کر شب بیداریوں میں سجدہ ریز ہونے کی سعی کریں  کیونکہ یہی شیعہ اثناء عشری ہونے کی پہچان ہے رات کی تاریکی میں نمازِ شب سے پہلے یا بعد میں صدقہ دینے کی بہت فضیلت ہےکیونکہ رات کی خیرات آتشِ غضبِ خداوندی کو ٹھنڈا کرکے گناہان کبیرہ کو محو کرتی ہے۔

    رات کو صدقہ و خیرات کرنے کے متعلق ہی آغا محمد سلطان مرزا دہلوی نے اپنی کتاب نورالمشرقین من حیات الصادقین کے صفحہ نمبر 416 پر لکھا ہے کہ علامہ کلینی نے لکھا ہے کہ جب رات ہوجاتی ہے تو امام جعفر صادقؑ ایک مشک میں روٹیاں ،گوشت اور درہم بھر لیتے تھے اور اپنی پیٹھ پر اٹھا کر لے جاتے تھے اور لوگوں کو یہ راز نہ معلوم ہوتا تھا کہ انہیں یہ چیزیں کون دے رہا ہے۔ جب آپ کا انتقال ہوگیا تو لوگوں نے معلوم کیا کہ یہ امام جعفر صادقؑ لایا کرتے تھے۔

    hubdar qaim

    سیّد حبدار قائم

    کتاب ‘ نماز شب ‘ کی سلسلہ وار اشاعت

  • قبر اندھیرے کا گھر ہے

    قبر اندھیرے کا گھر ہے

    اللہ تعالٰی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے نماز شب کی اہمیت اس وقت کچھ اور ہی  بڑھ جاتی ہے جب انسان دنیا کی رونق  نکہتِ گل، ماہتاب سے پھوٹی ہوئی کرن اور آفتاب کی ضیا کو بھول کر لحد کے اندھیروں اور موت کے مشکل ترین لمحوں کو یاد کرتا ہے۔ کیونکہ قبر انسان کو ہر روز صدا لگاتی ہے۔ کہ میں اندھیرے کا گھر ہوں، میں سانپوں اور بچھووں کا گھر ہوں لیکن ان لوگوں کے لیے نہیں جو توشہ آخرت میں نماز شب کی ضیا پاشیاں ساتھ لے کر آئیں۔ اور ان کی پیشانیاں سجدوں کے نشانوں سے روشن ہوں۔

    نماز شب قبر کے اندھیرے میں روشنی بن جاتی ہے۔ اور چونکہ ہر مرنے والے انسان کی موت میں فرق ہوتا ہے۔ کسی کو عذاب قبر ہوتا ہے۔ اور کسی کے لیے قبر جنت الفردوس کا پہلا دروازہ ثابت ہوتی ہے۔ اس لیے نمازِ شب سے اپنی قبر کو روشن کرنا چاییے۔

    موت ایک ایسا پھل ہے۔ جس کا ذائقہ ہر کسی نے چکھنا ہے۔ زندگی چار ساعتوں پر مشتمل ایک امتحان کا نام ہے۔اور موت ایک اٹل حقیقت اور ایک نئی زندگی کا نام ہے۔ دنیا میں لیے جانے والے چند سانس جنت کی چابی بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔اور جہنم کی چابی بھی۔ موت انسان کی زندگی میں طلاطم بپا کر دیتی ہے۔ یہ اس  ساعت کا نام ہے جسکو انبیاء نے بھی پسند نہیں کیا اور اس کا ذائقہ چکھنا ہے۔

    زندگی کی اسی بے ثباتی کا ذکر کر کے علامہ اقبال فرماتے ہیں۔

    زندگی انسان کی ہے مانندِ مرغِ خوش نوا

    شاخ پر بیٹھا کوئی دم،چہچہایا، اڑ گیا

    آہ! کیا رائے ریاضِ دہر میں ہم کیا گئے

    زندگی کی شاخ سے پھوٹے، کھلے مرجھا گئے۔

    موت کی بدحالی کو خوشحالی میں بدلہ جاسکتا ہے۔ اور اس کا بہترین حل نماز شب میں پوشیدہ ہے۔ کیونکہ نمازِ شب لحد کے اندھیروں میں آفتاب کی اُس پھوٹی ہوئی کرن کی مانند ہے جو زندگی کی کھیتی کو ہرا کرتی ہے۔ نمازِ شب جنت میں لے جانے کا مختیار نامہ ہے۔ عذاب قبر اور عذاب حشر کی بدحالی سے بچاو کا ذریعہ ہے ۔

     مومنین کی خوشحالی کے لیے خدا وند عالم کے پاک پیغمبرؐ نے مولا علیؑ سے ارشاد فرمایا۔ یا علیؑ! تین کام مومن کی خوشحالی کا سبب بنتے ہیں:۔

    ١ ۔ مومن بھائیوں کی ملاقات

    ٢۔ روزہ دار کا روزہ افطار کرانا

    ٣۔ آخرِ شب میں نماز شب پڑھنا

    گویا نماز شب دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی خوشنودی خداوند متعال کا باعث ہے۔

    اور اس رب العزت کی خوشنودی جب ہی ممکن ہے کہ ہم اسوہ رسولؐ اور اسوہ اہلبیت عظام سے محبت کریں ۔ اہل بیت سے محبت ،رسول خدا سے محبت ہے اور رسول اللہ سے محبت اللہ سے محبت ہے۔ محمدؐ و آل محمدؐ کے بغیر جب آپ اللہ سے محبت کا دعوٰی کریں تو محبت کے لیے محبوب کا وجود لازمی ہے اور اس خالقِ کائنات کا جسم نہیں ہے۔ وہ جس سے محبت کرتا ہے۔ اسی کا ہاتھ بن جاتا ہے۔ اسی کی زبان بن جاتا ہے۔ اسی کی آنکھ بن جاتا ہے۔ اور اس نے اپنی پہچان کے لیے اپنے بندوں میں سے بندے چن لیے ہیں۔ اور اسی کے متعلق پارہ نمبر ٢٠ سورہ قصص کی آیت نمبر ٦٨ میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے۔

    وربک یخلق ما یشاء ویختار ما کان لھم الخیرة o سبحان اللہ وتعالی عما یشرکون o

    "اے میرے حبیب! تمہارا پروردگار جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور چن لیتا ہے بندوں کو (انتخاب کا) کوئی اختیار نہیں ہے جن چیزوں کو یہ شریک ٹھہراتے ہیں اللہ ان سے منزہ اور برتر ہے”۔

    جناب قائمِ آل محمدؐ سے اسی کے متعلق استفسار کیا گیا کہ لوگوں کو (امام) چن لینے کا اختیار کیوں نہیں دیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ کیسا امام ؟

    اصلاح کرنے والا یا فساد پھیلانے والا ؟

    عرض کیا گیا کہ اصلاح کرنے واالا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ ممکن ہے یا کہ نہیں ۔ کہ لوگ جسے اپنے خیال  سے اصلاح کرنے والا منتخب کریں وہ حقیقتٙٙا مفسد ہو۔ عرض کیا گیا کہ ایسا تو ممکن ہے۔ آپ نے فرمایا پس یہی وجہ ہے کہ ہے کہ لوگوں کو انتخابِ امام کا اختیار نہیں دیا گیابلکہ اللہ نے یہ کام اپنے ہی ذمے رکھا ہے۔

    تو بات ہو رہی تھی محبتِ الٰہی کی ۔ تو ثابت ہوا کہ آنحضورﷺ اور آپ کی طاہر اہلبیتؑ سے محبت کا اظہار ہی الفت خدا وند قدوس ہے۔ اور محبت کا معیار یہ ہے کہ محبوب کی خوشی میں خوشی منائی جائے اور محبوب کے غم میں دل مضطرب کیا جائے ۔ اور محمدؐ و آل محمدؐ  سے محبت کا بہترین اظہار ان کے بتائے ہوئے درس پر عمل پیرا  ہونا ہے۔ تقوٰی و پرہیزگاری آپ کے ہی در سے حاصل ہوتی ہے۔ کوئی مثلِ سلیمان فارسیؓ اپنے افعال کو بجا لائے تو محبت افشا ہوگی اور اس کا ثمر بھی "سلیمان اہل بیت منی” سے ظاہر ہو گا۔

    محبت کے لیے علامہ اقبال فرماتے ہیں :۔

    محبت کے شرر سے دل سراپا نور ہوتا ہے

    ذرا سے بیچ سے پیدا ریاضِ طور ہوتا ہے

    محبت ہی وہ منزل ہے کہ منزل بھی ہے صحرا بھی

    جرس بھی،کارواں بھی،راہبر بھی،راہزن بھی ہے

    جلانا دل کا ہے گویا سراپا نور ہوجانا

    یہ پرواز جو سوزاں ہو تو شمعِ انجمن بھی ہے

    اللہ جل شانہ کی محبت کے لیے شب بیداری آئمہ معصومین کا بتایا ہوا انمول خزانہ ہے۔

    تقوٰی و راست بازی، عاجزی و انکساری،اور آہوں سے اظہار استغفار کے لیے جب دل حالت اضطراب میں بار بار تڑپے تو انسان کو نماز شب میں اللہ رب اللعالمین سے گڑگڑا کر لذتِ فریاد ، لذت اشک فشانی اور لذتِ استغفار مانگنے کے لیے رجوع کرنا چاہیے ۔ اسی سوز دل سے علم و عمل کا آفتاب روشن ہو کر تیرہ و تار دنیا کو بدل کے رکھ دیتا ہے۔ اور انسان بندگی کے عمل سے معراج انسانیت پر فائز ہوجاتا ہے۔ زیست کی تاریک راتوں کو تاباں کرنے کے لیے آہ سحر بہت ضروری ہے اور یہ پوشیدہ درد دل کے نہاں خانوں میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ علامہ اقبال نے شائد اسی کے متعلق لکھا ہے:۔

    جلانا ہے مجھے ہر شمع دل کو سوزِ پہناں سے

    تیری تاریک راتوں میں چراغاں کرکے چھوڑوں گا

    ہویدا آج اپنے زخم پنہاں کر کے چھوڑوں گا

    لہو رورو کے محفل کو گلستان کر کے چھوڑوں گا

    hubdar qaim

    سیّد حبدار قائم

    کتاب ‘ نماز شب ‘ کی سلسلہ وار اشاعت

  • تسبیح و تہلیل میں مصروف کائنات کی ہر چیز

    تسبیح و تہلیل میں مصروف کائنات کی ہر چیز

    انسان کی گفتار اور کردار دو ایسی چیزیں ہیں جو اسے معراج تک لے جاتی ہیں ۔ گفتار کردار سے معرض وجود میں آتی ہے۔ جیسا کردار ہوگا ویسی ہی گفتار ہو گی جب کردار قرآن و سنت اور آئمہ معصومین کی ضیا افروز تعلیمات کی روشنی میں تعمیر ہوگا تو گفتار سے علم و آگہی کے موتی جھڑیں گے۔

    لب جب بھی حرکت کریں گے۔ قرآن کی تفسیر بیان کریں گے۔ آنحضورﷺکا اسوہ حسنہ بیان کریں گے اور آئمہ طاہرین کی محبت سے لبریز  بیان دیں گے۔ اور یہ ایسی صورت میں ممکن ہے۔ کہ جب انسان کے دل و روح اور عمل میں نماز شب رچ بس گئی ہو کیونکہ نماز شب معراج بندگی و انکساری و فروتنی ہے۔ اور اگر انسان سوچے اور قرآن پڑھے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ بندگی و تسبیح انسان کو کائنات میں پھیلی ہوئی نباتات و جمادات بھی سکھاتے ہیں جیسا کہ سورہ بنی اسرائیل پارہ نمبر 15 کی آیت نمبر 44میں باری تعالٰی ارشاد فرماتا ہیں۔

    وَ اِنۡ مِّنۡ شَیۡءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمۡدِہٖ وَ لٰکِنۡ لَّا تَفۡقَہُوۡنَ تَسۡبِیۡحَہُمۡ ؕ

    یعنی کائنات کی ہر شے اسکی تسبیح بیان کرتی ہے مگر تم اسکی تسبیح کو سمجھ نہیں سکتے۔

    جب کائنات کے تمام شجر و حجر پھول، کانٹے ، پرند چرند اور نباتات و جمادات اللہ رب العزت کی ثنا بیان کرتے ہیں ۔ تو انسان تو اشرف المخلوقات ہے اسے اشرف ہوتے ہوئے سب سے زیادہ ثناء بیان  کرنی چاہیے اور نماز شب میں اپنے قیام و رکوع و سجود کو خشوع و خضوع سے طول دینا چاہیے۔ وقت سحر جب تسبیح خوان طیور  انسان کے ضمیر کو جگانے کی سعی کرتے ہیں ۔ تو انسان اس وقت ہی اشرف المخلوقات کہلانے کا مستحق ہےکہ جب اسکی صدائے اللہ اکبر اور سبحان اللہ کا ورد پرندوں سے پہلے جاری ہو اور یہ ورد پرندوں کو جگائے۔ پرندوں کی چونچ "سبحان تیری قدرت انسان” کی صدائے لا الہ الا اللہ انسان کے بعد حرکت کرے اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب عاجزی اور فقر حد سے بڑھے اور انسان اپنی جبیں نماز شب کے لیے رات کی تاریکیوں اور سناٹے میں خالق کائنات کے سامنے جھکا دے۔ تسبیح اور نماز تو پرندے بھی پڑھتے ہیں۔ اگر انسان صرف فرض نمازوں تک محدود ہو جائے تو اسکی بندگی بندگی تو ہے۔ لیکن اس میں اشرف المخلوقات ہونے کی قدرو منزل نہیں ۔ کیونکہ یہ نماز اور تسبیح (فرائض) تو پرندے بھی کرتے ہیں ۔ علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے۔

    خصوصیت نہیں کچھ اس میں اے کلیم تیری

    شجر،حجر،بھی خدا سے کلام کرتے ہیں

    اشرف المخلوقات بننا ہے تو نماز شب ادا کیجیے۔ سورہ نور پارہ نمبر 18کی آیات نمبر 41سی چیز کا درس دے رہی ہے۔ ارشاد رب العزت ہے۔

    اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یُسَبِّحُ لَہٗ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ الطَّیۡرُ صٰٓفّٰتٍ ؕ

    "جتنے پرندے اڑتے ہیں تمام پرندے اللہ کی تسبیح کرتے ہیں ۔ ان پرندوں کو اپنی نماز کا بھی علم ہے اور اپنی اپنی تسبیح کا بھی”۔

    قیامت کی ہولناکیوں اور عذابِ الٰہی کا خوف دامن گیر کیے نماز شب پڑھنے والے کی آنکھ اشکبار ہو ، دل غم سے فگار ہو اور سسکیوں اور آہوں کی بہتات ہو تو تقوٰی و راست بازی کا چراغ روشن ہو جاتا ہے اور علم و عمل کا آفتاب پوری آب و تاب سے جگمگانے لگتا ہے ۔ کیونکہ نماز شب انسان کے قلب و روح کو بصیرت افروز درس سکھاتی ہے۔

    نماز شب کے متعلق ایک روایت ہے۔ جس کے راوی عباس ابن عباس ہیں ۔ فرماتے ہیں کہ آنحضور نے ارشاد فرمایا میری امت کے اشراف حاملین قرآن اور شب ذندہ دار (تہجد گزار) ہیں ۔

    نماز شب کی فضیلت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ نماز شب میں ریاکاری کو دخل نہیں یہ عمل اس وقت بجا لایا جاتا ہے جب بنی نوح انسان اپنے اپنے گھروں میں نیند کے مزے لے رہے ہوتے ہیں ۔

    تہجد گزار کو چاہیے کہ نماز شب کو مخفی رکھے اور نماز شب پر غرور و تکبر سے گریز کرے کیونکہ ایسا کرنے سے عقل کی نورانیت کم ہوجاتی ہے۔ اسی کے متعلق مولا علیؑ ارشاد فرماتے ہیں ۔کہ انسان کا عجب میں مبتلا ہونا (یعنی نماز شب پڑھنے پر غرور کرنا) عقل کے حساد میں سے ہے عقل کے دشمنوں میں سے ہے

    انسان دنیا میں رہتے ہوئے کئی قسم کے گناہوں کا ارتکاب کرتا ہےجھوٹ، مکرو فریب، غیبت، چغل خوری اور دیگر صغیرہ و کبیرہ گناہوں کا عذاب بہت سخت ہوگا ۔ اور جب تک ان کا کفارہ ادا نہ ہوگا انسان عذاب میں گرفتار رہے گا۔

    نماز شب کی یہ فضیلت اور اعجاز ہے کہ یہ گناہوں کا کفارہ بن کر عذاب قبر اور عذاب حشر سے نجات دلائے گی۔ گویا نماز شب جنت کی چابی ہے ۔ اسکے متعلق آنحضورؐ نے حضرت علیؑ سے فرمایا کہ گناہوں کا کفارہ بننے والے اعمال یہ ہیں ۔

    سلام کا عام کرنا

    کھانا کھلانا

    نماز تہجد پڑھنا جبکہ لوگ سو رہے ہوں

    جسطرح تاریکی شب کے دامن میں پلنے والی آفتاب کی کرن سپیدہء سحر کا پیام بن کر دن کے اجالے کا رخ انور بنتی ہے۔ بالکل اسی طرح نماز شب پڑھنے والے کی آہیں،سسکیاں اور دلفگار دل  تقوٰی و عاجزی کا سماں پیدا کرتے ہیں ۔ اور نماز شب میں جب تک دل و روح تڑپ کر جبیں کو سجدہ ریز نہ کرائیں اس وقت تک مزہء گفتار نہیں مل سکتا جیسے کہ علامہ اقبال نے اپنی بانگ درا میں لکھا ہے۔

    لطف کلام کیا جو نہ ہو دل میں درد عشق

    بسمل نہیں ہے تو تڑپنا بھی چھوڑ دے

    سوداگری نہیں،یہ عبادت خدا کی ہے

    اے بے خبر!جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے

    hubdar qaim

    سیّد حبدار قائم

    کتاب ‘ نماز شب ‘ کی سلسلہ وار اشاعت

  • پلِ صراط اور مولا علیؑ کی سند

    پلِ صراط اور مولا علیؑ کی سند

    آنحضورﷺ سے پل صراط کے متعلق استفسار کیا گیا تو آپ ﷺ نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ "ارق من الشعر حرا من النار احد من السیف” یعنی یہ پل صراط بال سے زیادہ باریک آگ سے زیادہ گرم اور تلوار کی تیز دھار سے زیادہ تیز ہے۔

    اور اس سے گزرنے کے لیے محبِ علیؑ بننا پڑے گا اور شیعان علیؑ میں تب ہی بندہ داخل ہو سکتا ہے جب دل و نگاہ سے آپ سے محبت کرے اور آپ کے بتائے ہوئے راستوں پر چلنے کی کوشش کرے۔مولا علیؑ پلِ صراط سے گزرنے کے لیے ایک رسید یا سند عطا فرمائیں گے جس کے پاس وہ سند ہوگی وہ نہ کٹے گا نہ جلے گا اور نہ جہنم کی آگ میں گرے گا۔

    شیعہ سنی دونوں بھائیوں نے اس روایت کو نقل کیا ہے۔

    صواعق محرقہ میں درج ہے کہ

    لا یجوز احد الصراط الا من کتب لہ علی الجواز o

    "کوئی شخص پلِ صراط سے پار جنت میں نہیں جا سکتا جب تک علیؑ لکھ کر نہ دیں۔”

    گویا جنت میں جانے کے لیے  پل صراط پر مولا علیؑ سے رسید لینا پڑے گی۔ اور آپ وہ رسید اسی کو دیں گے جس نے آپ کے فرامین کو مان کر صحیح مومن بننے کا عملی مظاہرہ کیا ہو گا آپ نے ارشاد فرمایا۔

    "کہ مومن کو چاہیے ۔ کہ دن رات کے اوقات کو تین حصوں میں تقسیم کرے۔ ایک وقت میں اپنے پروردگار سے مناجات کرے دوسرے وقت میں اپنی معاش کی تلاش کرے اور تیسرے وقت میں حلال اور نیک لذتوں سے فائدہ اٹھائے۔”

    اب مولا علیؑ  کے اس فرمان کے مطابق عبادت کا ایک حصہ  بتایا گیا ہے۔ اب جو لوگ آپ کے اس فرمان پر عمل نہیں کریں گے ان کے بارے میں ذرا سوچئے کہ کیا مولا علیؑ ان سے راضی ہوں گے۔ اور آیا یہ کہ ان کو پل صراط سے گزرنے کے لیے رسید دیں گے۔

    میرا جواب تو نفی میں ہے۔ کیونکہ آپ اُس شخص کی شفاعت کر کے سند سے نوازیں گے جو آپ کے بتائے ہوئے درخشاں فرامین پر عمل کرتا رہا ہو گا ۔

    شب بیداری ایک ایسے معطر جھونکے کی مانند ہے جسکی خوشبو فرشتے بھی محسوس کرتے ہیں ۔ شب بیداری کرنے والا انسان لذت عبادت سے سر شار ہو کر دنیا و آخرت میں ایسے سرخرو ہوتا ہے۔ کہ اس کے مقام پر فرشتے رشک کرتے ہیں۔ کیونکہ کائنات کی ہر شے جب حالت سکوت اور خامشی کی کیفیت میں ہوتی ہے۔ تو اس وقت اللہ کا ذکر دلوں کو سکون بخشتا ہے۔ کیونکہ مکمل تنہائی اور سناٹے کے عالم میں تہجد گزار جب سبحان ربی اللہ العظیم وبحمدہ کا ورد حالت رکوع میں کرتا ہے تو عجیب کیف محسوس کرتا ہے۔ اور اللہ رب العزت کی بڑائی اور عظمت اس کے  دل میں عاجزی و فروتنی کے فروغ کا باعث بنتی ہے۔ رکوع میں اللہ کو عظیم کہنے کے بعد جب انسان قیام کی حالت میں سمع اللہ لمن حمدہ کا ورد کرتا ہے تو دل کی گہرائیوں سے کہ رہا ہوتا ہے کہ اللہ تعالٰی ہر حمد کرنے والے کی حمد سنتا ہے۔

    اور چونکہ اللہ سمیع و بصیر ہے۔ اسی لیے مجھ جیسے گناہ گار کے لبوں کی جنبش میں اپنی ثنا ضرور سن رہا ہوتا ہے۔ اور سجدہ جو کہ بندگی سے مقامِ  عرفان تک لے جاتا ہے اُس میں جس وقت انسان اپنی جبین زمین پر رکھ دیتا ہے تو نماز شب کا یہ لمحہ انسان کے گھمنڈ اور تکبر کو مٹا کر اسے بندگی کا بہترین نمونہ بنا دیتا ہے۔ کیونکہ جب اس کے لبوں پر سبحان ربی الا علی و بحمدہ کا ورد ہوتا ہے تو اس کے دماغ میں قرآن مجید کے یہ الفاظ کہ ہم نے انسان کو ایک گندے نطفے سے پیدا کیا ہے ۔ اس کے تکبر کو مٹا کر اس کو خالق کائنات کے پاک اور بلند و برتر و اعلٰی ہونے کا درس دے رہے ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ سبحان ربی الاعلٰی کا معنی کیا ہے۔ یعنی اللہ کی ذات پاک ہے بہت اعلی ہے۔ اور وبحمدہ کہہ کر اس چیز  کا اظہار کرتا ہے کہ یا اللہ میں کمترین بندہ،حقیر بندہ،فقیر بندہ،اور مسکین بندہ تیری حمد بیان کرتا ہوں ۔

    نماز شب سے علم و آگہی کے درخشاں موتی حاصل ہوتے ہیں جو انسان کو بلندی اور عظمت عطا کرکے اللہ کے قریب کر دیتے ہیں۔ اسی لیے آئمہ معصومین نے نماز شب کے متعلق بہت زیادہ زور دیا ہے۔ اور اپنے مومنین کرام کو نماز شب کے متعلق بہت تاکید فرمائی ہے۔

    حضرت امام جعفر صادقؑ ارشاد فرماتے ہیں۔

    "مومن کا شرف شب بیداری اور عزت لوگوں سے بے نیازی میں ہے”۔

    hubdar qaim

    سیّد حبدار قائم

    کتاب ‘ نماز شب ‘ کی سلسلہ وار اشاعت

  • سورہ دھر میں نماز شب اور بشارت

    سورہ دھر میں نماز شب اور بشارت

    نماز شب کے فضائل قیامت کی ہولناکیوں میں کام آئیں گے۔ نمازِ شب سے متعلق سورہ الدھر میں حکم دیا گیا ہے ارشاد باری تعالٰی ہے۔

    وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًاۖۚ(۲۵)وَ مِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَیْلًا طَوِیْلًا(۲۶)

    یعنی

    ” اور صبح و شام اپنے پروردگار کا نام لیتے رہو اور راتوں کو اسے سجدے کیا کرو اور بڑی رات تک اس کی تسبیح پڑھا کرو”۔

    سورہ دھر میں اللہ جل شانہ نے آغاز میں انسان کی تخلیق کے متعلق ارشاد فرمایا کہ ہم نے انسان کو مردو زن کے نطفے سے پیدا کیا۔ اس کے بعد قیامت کے عذاب سے ڈراتے ہوئے سورہ دھر میں ہی ارشاد فرمایا کہ ہم نے انسان کو صراط مستقیم بتا دیا ہے اب یا وہ شکر گزار بنے یا نا شکرا، لیکن ساتھ ہی نا شکرے افراد کے لیے اللہ جل شانہ نے عذاب کی بشارت بھی دی ہے۔ سورہ دھر کے الفاظ میں۔

    اِنَّاۤ اَعۡتَدۡنَا لِلۡکٰفِرِیۡنَ سَلٰسِلَا۠ وَ اَغۡلٰلًا وَّ سَعِیۡرًا﴿۴﴾

    "یقینا ہم نے منکروں کے لیے زنجیریں اور طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔”

    ان الفاظ کے بعد اہل جنت کے لیے میٹھے پانی جن میں کافور ملا ہوگا کی بشارت دی گئی ہے۔ اور اللہ کی رضا کی خاطر یتیموں ، غریبوں اور قیدیوں کو کھانا کھلانے والوں کے لیے بھی بشارت دی گئی ہے۔ کہ وہ جنت میں تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے اور انہیں شرابِ طہورا پلایا جائے گا۔ جہاں وہ جنت میں نہ سخت دھوپ دیکھیں گے اور نہ ہی زیادہ سرد ہوا ہوگی۔ سورة الدھر میں جنت کی پاکیزہ شراب سلسبیل اور چاندی کے برتنوں اور دیگر نعمتوں کے ذکر کے بعد اللہ جل شانہ نمازِ شب میں سجدہ اور تسبیح کا ذکر بیان کرتا ہے ۔

    اس کلام سے بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ نماز شب ادا کرنے والوں کو جنت میں بہت ساری فضیلتیں اور انعام و اکرام سے نوازا جائے گا۔ جب کہ جہنمیوں کے چہرے جلے ہوئے اور بگڑے ہوئے بتائے گئے ہیں۔ جہنم کی آتش سے بچنے کے لیے اور جنت میں راحت کے حصول کے لیے نماز شب ایک سند کی مانند ہے۔

    عاجزی و انکساری اور تقوٰی کی اہمیت اگر اتنی زیادہ نہ ہوگی تو مولا علیؑ سرداران جنت کو یہ نصیحت نہ فرماتے۔

    امیرالمومنین حضرت علیؑ نے اپنے فرزند اکبر حضرت امام حسن مجتبٰیؑ کو نصیحتیں کرتے ہوئے فرمایا۔

    "کہ اے میرے نور نظر میں تمہیں تقوٰی پرہیزگاری اور خوف خدا کی تاکید کرتا ہوں اور اس بات کی تاکید کرتا ہوں کہ اللہ تعالٰی کے امور کی پابندی کرو۔ دل کو اسکی یاد سے آباد رکھو۔ اسکی اطاعت و فرمانبرداری کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو۔جو راستہ اور وسیلہ خدا کے قرب کا باعث ہو اس کو اختیار کرو۔ اپنے دل کو امر باالمعروف و نہی عن المنکر اور وعظ نصیحت سے زندہ رکھو۔ اپنے نفس کو زہد اور تقوٰی سے مار دو۔ علم و حکمت سے دل کو نورانی کرو۔ موت کے ذکر سے دل کو ذلیل کرو۔ دنیا کے عیبوں سے دل کو آگاہ کرو۔ دنیا کے ہجوم اور دن رات کے گرداب سے اسے ڈراو۔ گزرے ہوئے لوگوں اور ان پر گزرنے والے واقعات و حادثات سے دل کو آشنا کرو۔ گزشتہ لوگوں کے آثار کو جا کر دیکھو۔ اور اس بات پر غور کرو کہ انہوں نے کیا کیا اور کہاں جا بسے۔ کہاں وہ اترے اور کہاں انہوں نے منزل کی اور میرے بیٹے جب تم انہیں دیکھو کہ وہ تم سے جدا ہو کر تنہائی کی سرائے اور غربت کے مکان میں آبسے ہیں تو عبرت حاصل کرو۔ کیونکہ تمہیں بھی تھوڑے عرصے کے بعد ان کی مانند ہی ہو جانا ہے۔”

    مولا علی کرم اللہ وجہہ کی اس نصیحت میں زندگی کے نشیب و فراز  کے راز مضمر ہیں ۔ اسلام دین فطرت ہے اور مکمل ضابطہ حیات پیش کرتا ہے۔ اور اگر کوئی انسان اپنی فکر تجسس اور علم کو مولا علیؑ کے ان فرمودات پر مرکوز کر دے۔ تو وہ نماز شب بھی پڑے گا امر با المعروف و نہی عن المنکر بھی کرے گا۔ اور عاجزی و انکساری کا نمونہ بھی بنے گا۔ کیونکہ پل صراط سے گزرنے کے لیے زاد راہ ساتھ لے کر جانا پڑے گا۔ اور وہ پل صراط کیا ہے؟ جو تلوار کی دھار سے تیز تر ہے جس سے ہر انسان کو گزرنا ہو گا پل کے نیچے بھڑکتی ہوئی آگ ہو گی جس کے نیک اعمال کا پلڑا بھاری ہو گا وہ آسانی کے ساتھ اوپر سے گزر جائے گا اور جس کے گناہ زیادہ ہوں گے وہ جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں گر جائے گا اس کا ٹھکانہ جہنم ہو گی جو کہ ایک برا ٹھکانہ ہے۔

    hubdar qaim

    سیّد حبدار قائم

    کتاب ‘ نماز شب ‘ کی سلسلہ وار اشاعت

  • حضرت امام حسینؑ کا عظیم سجدہ

    حضرت امام حسینؑ کا عظیم سجدہ

    خدا کی محبت کے لیے نمازِ شب کی سجدہ ریزی بہت اہمیت کی حامل ہے۔ کیونکہ ہمارے امام حسینؑ نے شبِ عاشور کا ایک حصہ نماز شب کے لیے وقف کر دیا تھا۔ امام جانتے تھے کہ میرا آج کا عمل آنے والے مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہوگا۔ اس لیے آپ نے جنگ کے بھڑکتے ہوئے شعلوں میں بھی خدائے بزرگ و برتر کی حمد و ثنا کو نہ چھوڑا بلکہ ساری کائنات کو پاوں کی ٹھوکر مار کر سجدہ ریزی کی ایسی مثال قائم کی کہ جسے دیکھ کر فرشتے محو حیرت ہوئے۔ آپ ہی کے متعلق اقبال لکھتے ہیں ۔

    آنکہ کہ زیر تیغ گوید لا الہ

    آنکہ کہ از خونش بدوید لاالہ

    یعنی وہ جو تلوارکے نیچے لا الہ کہے اور جس کے خون سے لا الہ نمو پائے۔

     لا الہ کی نمو طاہر خون سے ہو تو اس کا سرور ہی الگ ہوتا ہے ۔ لا الہ کی نمو میدانِ کربلا میں اس طرح ہوئی کہ حسینؑ ابن علیؑ میدان جنگ کی طرف بڑھتے ہیں۔ اور یہ وہ وقت تھا جب آپ کے عزیز ترین دوست اور رشتہ دار شہید کیے جاچکے تھے۔ پیاس کا یہ عالم تھا کہ تشنہ لبی آپؑ کے پاک لبوں سے ہویدا تھی۔ وہ لب کہ جن پر آنحضورؐ  بوسے دیا کرتے تھے۔ میدان جنگ میں لاکھوں مارنے والے تھے اور ایک مظلوم و بے کس زخموں سے چور تھا۔ کوئی نیزے کا وار کرتا  تو کوئی تیر مارتا ، کوئی پتھر مارتا تھا تو کوئی تلوار سے وار کرتا تھا زمین کی حدت اور پیاس کی شدت میں آپ گھوڑے سے گرتے ہیں۔ تو آپ کو ہر عزیز  یاد آتا ہے ۔ اکبر کی جوانی۔ اصغر کی پیاس ۔ جناب عباس کے بازو۔ عون و محمد کے ٹکڑے۔ قاسم کے چہرے کے نقش لیکن یہ سب عزیز رشتے آپ ذہن کے دریچوں سے ہٹا کر اپنی جبیں خالقِ کائنات کے آگے جھکا دیتے ہیں ۔ اور اللہ رب العزت سے اپنی عاجزی و انکساری کا اظہار یوں فرماتے ہیں: ۔

    "رضا بقضائک و تسلیما لامرک”

    یعنی اے رب کعبہ میں تیری قضا پر راضی ہو گیا اور تیرے امر کو تسلیم کرتا ہوں ۔

    "وصبرا علی بلائک”

    اور تیرے امتحان پر صبر کرتا ہوں۔

    "لا معبود سواک”

    تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔

    "یا غیاث المستغیثین”

    اے بے پناہ دینے والے۔

    اور سجدہ کے آخر میں اپنے رب سے ایک ایسی دعا فرمائی کہ جس کا ابتدائے آفرینش میں اللہ جل شانہ سے وعدہ کیا تھا۔ یعنی یا اللہ میں نے اپنے وعدے کو پورا کیا اب تو اپنے وعدے کو پورا کر ۔کربلا کی سر زمین پر ایسا سرِ اقدس رکھا کہ پھر خود نہ اٹھایا۔

    یہ وہ مثال تھی جو اثناء عشری اور ہر مسلمان کے لیے ایک درس ہے آپ نے تقوٰی کا معیار اس عظیم سجدے سے افشا کیا۔ اور اپنے ماننے والوں کو بتا دیا کہ اپنی جبیں صرف اور صرف اس خدا کے آگے خم کرو جو اس کا سزاوار ہے۔

    آپؑ انبیاء کرام کی سیرت و کردار کو مشعل راہ بنانے کا درس دے گئے کیونکہ آپ وارث آدمؑ و نوحؑ تھے۔ کیونکہ آپ وارث ابراھیمؑ و موسٰؑی و عیسٰؑی تھے چونکہ آپ وارث دو جہاں حضرت محمدؐ تھے۔ اس لیے آپ نے تقوی و پرہیزگاری کی قندیل روشن کر کے اللہ تعالی کے اس فرمان

    "ان اکرمکم عندا اللہ اتقاکم”

    یعنی اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ وہ محترم و مکرم ہے جو زیادہ متقی ہے کی درخشاں تفسیر بیان فرمائی اسی لیے تو شاعر اہلبیت سید فیضی نے لکھا ہے: ۔

    حسینؑ نام ہے سجدے میں سر کٹانے کا

    حسینؑ دیدہ یعقوب ہے زمانے کا

    صداقتوں کی ضیا کو حسینؑ کہتے ہیں۔

    جہانِ صبر و رضا کو حسینؑ کہتے ہیں۔

    مدینہ، شہر نجف، کاظمین ،کرب و بلا

    حسینؑ جلوہ فگن ہے ،حسین جلوہ نما

    حسینؑ "انتم الاعلون” کی حسین تصویر

    حسینؑ پردہ ظلمت میں چاندنی کی لکیر

    زمین کرب و بلا کا حسینؑ ہے وہ گداز

    جہاں کی خاک بھی ہے سجدہ گاہ بہر نماز

    حسینؑ کی نہ اگر دل میں روشنی ہوتی

    نماز ہوتی نہ انسان سے بندگی ہوتی

    جب حسینؑ پردہ ظلمت میں چاندنی کی درخشاں لکیر ہیں ۔ تو کیا وجہ ہے کہ ہم سیرتِ حسینؑ پر عمل پیرا کیوں نہیں ہوتے؟ ۔ کیا وجہ ہے! کہ ہم نے شب بیداریوں کو ترک کر کے شیطان کی پیروی شروع کردی ہے۔ کیا ہمارے ان پرا گندہ ذہنوں اور علم و عمل کے نہ ہونے پر ہماری شفاعت ہو گی۔

    یہ ایک سوال ہے۔

    یہ لمحہء فکر ہے۔

    یہ سوال بار بار ذہن میں کچوکے لگاتا ہے۔

    روز قیامت جب ہمارے اعمال میزان پر تولے جائیں گے تو امام ہم سے یہ ضرور ارشاد فرمائیں گےکہ محبت کا معیار یہ ضرور ہے کہ تم ہمارے غم میں غم مناتے اور ہماری خوشی میں خوشی۔

    لیکن کیا وجہ ہے۔ کہ ہماری عظیم قربانیوں کے باوجود تم نے ہمارے اور ہمارے نانا پاک کے اسوہ حسنہ پر چلنے کی سعی اختیار نہ کی۔ ہم نے تو تمہیں قبل از وقت کہہ دیا تھا کہ” وہ شخص ہمارے شیعوں میں سے نہیں ہے جو کہ تارک نماز شب ہو”۔

    پھر کیا وجہ ہے؟کہ تم شب بیداری کی بجائے غفلت کی نیند پوری کرتے رہے اور ایک مردار لاشے کی طرح سوتے رہے۔

    روزِ محشر میزان میں نیک اعمال کے وزن کی کمی کیسے پوری ہو گی اور جو آنکھ غم حسینؑ کے ساتھ شب بیداری میں محو عبادت رہی اسکو عجیب صلہ دیا جائے گا۔ اسکے مرتبے کو بلند سے بلند تر کر دیا جائے گا۔ اہل جنت اس سے سوال کریں گے کہ کیا وجہ ہے کہ جنت الفردوس میں تجھے بلند مقام دیا گیا ہے۔

    تو وہ کہ دے گا۔

    کہ میں غمِ حسینؑ منانے کے ساتھ ساتھ شب بیداریوں میں اللہ تعالٰی کے سامنے سجدہ ریز رہا میں نے حتی الا مکان یہ کوشش کی کہ اسوہ محمدؐ وآل محمدؐ پر زیادہ سے زیادہ عمل کروں اسلئے اللہ رب العزت نے میری خطاوں کو معاف فرما کر مجھے جنت میں  انعام و اکرام اور بلند مقام سے نوازا ہے۔

    جنت میں کامیابی کی بنیادی وجہ یہ ہے۔ کہ حضرت امام باقرؑ نے ارشاد فرمایا تھا کہ

     "جب ہم اہل بیتؑ کا ذکر کیا جاتا ہے اور ہمارے ذکر سے مومنین کے دل نرم ہوجاتے ہیں تو ملائکہ ان کی پشت پر ہاتھ پھیرتے ہیں اور ان کے کل گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ الا وہ گناہ جو ایمان ہی سے خارج کر دے”۔

    مسلمانوں کے تقریبا سارے ہی فرقے اس بات پر متفق ہیں۔ کہ امام حسینؑ نے اسلام بچایا ہے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ وہ اسلام کیا ہے؟اس اسلام کا سراپا کیا ہے؟ اس اسلام کی مہک کیسی ہے؟جسے امام حسین نے بچایا تھا؟

    غور کریں تو پتہ ہے کہ وہ اسلام پانچ اصولوں (توحید، عدل، نبوت، امامت، قیامت)اور دس فروعوں (نماز، روزہ،حج، زکوة، خمس، جہاد، تبرا، تولٰی، امر بالمعروف، ونہی عن المنکر) پر مشتمل ہے۔

    جس شخص کا ان پانچ اصولوں اور دس فروعوں پر مکمل یقین ہے اور وہ یہ جانتا ہے کہ انہیں امام حسینؑ نے اپنی عظیم قربانی دے کر جلا بخشی ہے۔آپ نے اپنے مجاہدانہ کردار سے ہمیشہ کے لیے یزیدیت ابھرنے کے دروازے بند کر دیے۔ اگر آج ہم امام حسینؑ کے بچائے ہوئے اصولوں اور فروعوں پر عمل نہیں کر رہے تو یہ کہنا بجا ہوگا کہ ہم حسینی مشن کی مخالفت کر رہے ہیں۔

    امام حسینؑ نے نمازِ شب کی اہمیت اپنی آخری شب میں کچھ اس طرح  بیان فرمائی کہ جب نویں(٩) محرم الحرام یزیدی فوجوں نے آپ اور آپ کے ساتھیوں کی طرف بڑھنا شروع کیا تو آپ نے حضرت عباس جناب حبیب ابن مظاہر، زبیر اور دوسرے مخصوص اصحابؓ کو قومِ فجار کی طرف بھیجا کہ ان سے جاکر پوچھو کہ اتنی جلدی کیوں کر رہے ہیں؟۔ جب آپ کے ساتھیوں نے یزیدیوں سے استفسار کیا تو انہوں نے جواب میں کہا عبیداللہ ابن زیاد نے حکم دیا ہے کہ امام حسینؑ اور ان کے ساتھی اگر بیعت کر لیں تو بہتر اور اگر بیعت نہ کریں تو ان سے جنگ کرو۔

    حضرت عباس نے انہیں کہا کہ تم انتظار کرو میں اسکا جواب تمہیں امام حسینؑ سے پوچھ کر بتاتا ہوں ۔ چناچہ حضرت عباسؑ نے سارا ماجرا امام کے گوش گزار کر دیا۔

    کتاب ذریعہ النجات صفحہ ٧٨ پر مصنف لکھتا ہے۔

    کہ حضرت امام حسینؑ نے ساری گفتگو سماعت فرما کر تھوڑی دیر سوچا اور حضرت عباسؑ سے مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا:۔

    "اِرجِع فاِنِ استطعت ان توخر ھم الی غدوتد

    فعھم عن العیشتہ لعلنا نصلی لربنا اللیلة

    وندعوہ و نستغفرہ فھو تعلیم انی قد کنت احب الصلوة لہ و تلاوة کتاب وکثرة الدعاء والاستغفار” 

    میرے بھائی!اس قوم کی طرف دوبارہ جاو اور ایسی سعی کرو کہ جنگ آج کے بجائے کل تک ملتوی ہو جائے تاکہ آج کی رات ہم عبادت نماز، دعا، استغفار میں صرف کر سکیں اللّہ تعالٰی جانتا ہےکہ تحقیق میں نماز سے محبت کرتا ہوں اسی طرح تلاوت قرآن اور اکثر دعاو استغفار کا بہت شائق ہوں۔

    آج کے مومن کے لیے لمحہ فکر!

    ذرا غور کرنے پر آپ کے پورے مشن کی وضاحت خود بخود ہو جاتی ہے۔ کہ آپ نے دینوی مقصد کے لیے نہیں بلکہ عبادت و استغفار اور تلاوت قرآن کو رات کے سناٹے میں اللہ رب العزت کی عظیم بارگاہ میں عمل بجا لانے کے لیے ایک رات کی مہلت مانگی۔

    نماز شب بھی ادا کی کیونکہ نماز عشاء کی تو صرف چار رکعتیں ہیں۔ وہ تو چند لمحوں میں ادا کر لی تھی۔ لیکن رات نماز شب بمع دیگر نوافل کے ادا کرنے کا مقصد آج کے بے عمل لوگوں کے لیے ایک درس تھا۔ جو کہ یہ کہتے ہیں کہ صف عزاداری ء امام حسینؑ ہی کافی ہے۔ حالانکہ حضرت امام باقرؑ کا ارشاد ہے۔

    "کہ روز قیامت اگر انسان کی نماز قبول ہوئی تو باقی اعمال کی قبولیت کی امید رکھے اور اگر نماز رد کر دی گئی تو سارے اعمال رد کر دئیے جائیں گے”۔

    شیخ مفید اپنی کتاب مقتل ذریعہ النجاة کے صفحہ ٧۴ (چوہتر) پر یوں رقم طراز ہیں۔

    "فقام لیلتہ کلھا یعلی و یستغفرو یدعو و تیضرع وقام اصحابہ کذائک یصلون ویدعو فستغفرون”

    حضرت امام حسینؑ اور آپ کے تمام ساتھی ساری رات عبادت میں کھڑے رہے اور نہایت خشوع و خضوع سے نماز پڑھتے رہے اور دعا و استغفار میں مشغول رہے۔

    کربلا والوں کے مصائب اور فضائل بیان کرنے کا اصل مقصد امر با المعروف و نہی عن المنکر ہی تو ہے۔ اور یہ واضح ہے کہ شیعہ اثناء عشری کے لیے دنیا کی بڑی سے بڑی جنگ اور بارود کا دھواں بھی ترکِ نماز کا بہانہ نہیں بن سکتا۔نماز کی اہمیت کے متعلق امام جعفر صادقؑ نے واضح الفاظ میں ارشاد فرمایا تھا۔

    "بے نماز شخص اور ایسا شخص جو نماز کو معمولی عمل سمجھے ایسے افراد کی ہم شفاعت نہیں کریں گے۔”

    نوک نیزہ پہ تلاوت کی سعادت حاصل کرنا حسینی مشن کا اعجاز ہے۔ آپ نے عاجزی و انکساری کا ایسا نمونہ پیش کیا کہ روز قیامت تک کوئی بھی زاہد و عابد ایسا نہ کر سکے گا اسی لیے شاعر بے اختیار کہ اٹھتا ہے:۔

    بچوں کی تشنگی کا کوئی ذکر کیا کرے

    سوکھے لبوں سے کوزہ و ساغر سے پوچھ لو

    کس کس نے خون پاک بہایا حسینؑ کا

    نوک سناں سے ناوک و خنجر سے پوچھ لو

    اعجاز سے تلاوت قرآن سناں پر کی

    مصحف سے اہل بیت سے یاسر سے پوچھ لو

    hubdar qaim

    سیّد حبدار قائم

    کتاب ‘ نماز شب ‘ کی سلسلہ وار اشاعت

  • کائنات کا ذرہ ذرہ سجدہ ریز ہے

    کائنات کا ذرہ ذرہ سجدہ ریز ہے

    کائنات کا ذرہ ذرہ تسبیح و تہلیل میں محو ہے۔ ہر شے اللہ رب العزت کی ثناء کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ پھولوں کی مہک ہو یا آبشاروں کی روانی، ستاروں کی ضیا ہو یا دھنک کے فرحت بخش خوشنما رنگ سبھی خدائے وحدہ لا شریک کے گن گاتے ہیں۔ اسی لیے تو ارشاد ہے۔

    ” ما مِن شئی ءِِ اِلّٰا لہ لِسان ملکُوتِی”

    یعنی کوئی شے ایسی نہیں جسکی زبان ملکوتی نہ ہو۔ 

    جو تسبیح و تقدیس و تہلیل و تمجید الٰہی  میں محو نہ ہوتی ہو۔

    سورج چاند ستارے سارے سجدہ ریز ہیں سورج کی گردش پر غور کریں تو اس کا قیام رکوع اور سجدہ نظر آتا ہے اسی طرح چاند کی روزانہ گردش بھی قیام و رکوع و سجود کے  آثار ظاہر کرتی ہے ستاروں کا ٹمٹمانا بھی اللہ کی حمد و ثنا بیان کرتا ہے کائنات کا پتا پتا اس کی وحدانیت کے گیت گا رہا ہے ایک درخت کی کونپل جب پھوٹتی ہے تو قیام کی حالت میں ثنا بیان کرتی ہے لیکن جب مکمل  پتے کی شکل اختیار کرتی ہے تو جھک جاتی ہے  یہ اس کا رکوع ہے رکوع کرنے کے بعد یہی پتا سجدہ ریز ہوتا ہے تو زمین بوس ہو جاتا ہے اور یہ وہ سجدے کی حالت ہوتی ہے جس میں پتا اپنی ہستی کو رنگِ فنا دے کر سفرِ بقا کی طرف رجوع کرتا ہے یہ سلسلہ جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا۔ ہر ذرے میں دل ہے اور دل میں اللہ کا قیام ہوتا ہے ہر ذرہ بھی تسبیح و تہلیل میں مگن ہے جانور اپنی زبان میں حمد کرتے نظر آتے ہیں پرندوں کی غذا اس وقت تک ہضم نہیں ہوتی جب تک وہ اللہ کی تسبیح بیان نہ کر لیں۔ سورہ رحمان میں بیلوں اور اشجار کے سجدے کا ذکر کرتے ہوئے اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے:۔

    وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَانِ (6) 

    "اور بیلیں اور درخت سجدہ کر رہے ہیں”

    جب کائنات کا ہر ذرہ سجدہ ریز اور تسبیح و تقدیس میں محو ہے تو اشرف المخلوقات حضرت انسان کو بھی چاہیے کہ خدا کی طرف ہر مسرت کی آمد پر سجدہ کرے، ہر اضطراب و پشیمانی کی آمد پر سجدہ کرے، ہر کامیابی و کامرانی پر سجدہ کرے، ہر نعمت و راحت کے ملنے پر سجدہ کرے۔ ہر خطا کے سرزد ہو جانے پر سجدہ کرے۔ کیونکہ جو جبین اللہ رب العزت کی ہیبت اور رعب و جلال کے سامنے جھک جاتی ہے اور اپنی عاجزی و انکساری کا اظہار کرتی ہے وہ جبیں پھر کسی غیر معبود کے سامنے خم نہیں ہوتی۔اس لیے سجدہ کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ زیادہ سے زیادہ سجدہ ریزی کرنے سے سکون قلب ملتا ہے اور انسان شرک سے بچ جاتا ہے

     اپنی کتاب "ضرب کلیم” میں علامہ  اقبال فرماتے ہیں:۔

    تری خودی سے ہے روشن تیرا حریمِ وجود

    حیات کیا ہے اسی کا سرور و سوز و ثبات

    بلند تر مہ و پرویں سے ہے اسی کا مقام

    اسی کے نور سے پیدا ہیں تیرے ذات و صفات

    حریم تیرا خودی غیر کی معاذ اللہ

    دوبارہ زندہ نہ کر کاروبار لات و منات

    یہی کمال ہے تمثیل کا کہ تو نہ رہے

    رہا نہ تو تو نہ سوزِ خودی نہ ساز حیات

    وہ اک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے۔

    ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

    کلام پاک انسان کو صراط مستقیم کی طرف دعوت دیتا ہے تو کوئی ہے جو اس دعوت پر عمل کر کے سجدہ ریز ہو جائے کیونکہ یہی سجدہ بندگی کی معراج ہے۔ نمازِ شب میں سجدہ ریزی قاب قوسین کی یاد دلاتی ہے اور معراج کی حقیقت سے قریب تر کرتی ہے کیونکہ اللہ رب العزت انسان کی شہہ رگ سے بھی قریب ہے۔ اس قربِ خدا کو سجدے میں محسوس کرنا انتہائے بندگی ہے۔ سجدے کی حالت میں نفی اثبات کیجیے اور خدا کا قربِ ظاہر سانسوں میں تلاش کیجیے  یہی کامیابی کی کلید ہے کیونکہ سجدے میں جس کی خودی زندہ ہو جائے وہ ہر وقت حالتِ نماز میں رہتا ہے۔ اسے رب کے علاوہ دوسرا کوئی نظر نہیں آتا۔ تو کوئی ہے جو اپنی سجدہ ریزی سے اللہ رب العزت کو ڈھونڈے؟

    hubdar qaim

    سیّد حبدار قائم

    کتاب” نماز شب “کی سلسلہ وار اشاعت

  • شافعء محشر آنحضورؐ کی نمازِ شب

    شافعء محشر آنحضورؐ کی نمازِ شب

    آنحضورؐ ساری ساری رات اللہ رب العزت کی پاک بارگاه میں قیام ، رکوع اور سجود میں محوِ عبادت رہتے تھے بہت زیادہ عبادت و ریاضت اور راتوں کو جاگنا خداوند قدوس کی بارگاہ میں سر تسلیم خم کرنا آپؐ کا وطیرہ تھا۔

    رات کی تاریکیوں میں بہت زیادہ ذکر کرنا الفتِ الٰہی کا مظہر ہے۔ اللہ رب العزت کو اپنے پاک حبیبؐ کی شب بیداری کرنا اور تکلیف اٹھانا اچھا محسوس نہ ہوا تو رحمت خداوندی اپنے پاک حبیبؐ کی پاکیزہ محبت کے جوش میں آئی اور ارشاد فرمایا۔

    یایها المزمل

    قم الليل إلا قليلا

     نصفہ  اوانقص منه قليلا

    او زد عليه ورتل القران ترتیلا 

    إنا سنلقی علیک قولا ثقيلا

     انا ناشئتہ اللیل هی اشد وطا واقوم قيلا

     انا لك فی النهار سبحا طويلا

    واذکر اسم ربک وتبتل اليه تبتیلا

    ترجمہ:

    ” اے چادر لپیٹنے والے (رسولؐ ) تم رات کو (نماز کے لیے ) اٹھا کرو مگر کم (یعنی) آدھی رات یا اس میں سے کچھ کم کر دو

    یا اس پر کچھ بڑھا لو اور قرآن مجید کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا کرو عنقریب ہم تم

    پر ایک سخت حکم نازل کریں گے۔

    یقینا رات کا اٹھنا بڑا سخت اور ذکر کا بہت ٹھیک وقت ہے ۔

    بے شک دن میں تمہارے لیے بڑی فراغت ہے اور تم اپنے پروردگار کے نام کا ذکر کیا کرو اور سب طرف سے ٹوٹ کر اسی کے ہو کے رہو” ۔

    علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے:۔

    یہ خاموشی کہاں تک ؟ لذت فریاد پیدا کر

    زمین پر تو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میں

    سورہ مزمل کی مذکورہ ابتدائی آیات میں اللہ جل شانہ نے اپنے پاک حبیبؐ کو نمازِ شب کے متعلق احکام صادر فرمائے ہیں ۔ اللہ

    رب العزت نے اپنے محبوبؐ سے اپنی محبت کا اظہار یوں فرمایا

    ہے کہ اے میرے حبیب آپ زیادہ تکلیف میں نہ رہا کریں یعنی آپ راتوں کو زیادہ نہ جاگیں بلکہ کچھ آرام بھی کر لیا کریں

    آپ کی اتنی تکلیف اللہ جل شانہ نے برداشت نہ کی اور عبادت کم کرنے کے لیے کہہ دیا اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ آپؐ  دن کو فراغت کے لمحات میں عبادت کیا کریں اور ساری دنیا کو بھول کر اسی سے لو لگانے کی سعی کیا کریں ۔ سجدہ ریزی انتہائی عقیدت اور عاجزی کا مظہر ہے۔ سجدہ انبیاء کا شعار ہے سجدہ اولیاء کی زندگی ہے سجدہ محبت کی گہرائی و گیرائی ہے سجدہ خدا کی معرفت کی تلاش  کے لیے زینہ ہے ۔ سجده انتہائے بندگی ہے۔ سجدہ زیست کی ضیا کا نام ہے سجدہ معرفت قلب کا خزینہ ہے۔ سجدہ انتہائے زندگی ہے سجدہ منشائے رب ہے۔

    سجدہ کمالِ حیاتِ انسان ہے سجدہ سعادتِ انسان ہے ۔ سجده علم و آگہی و عرفان ہے ۔ سجدہ معرفت انسان ہے اللہ جل شانہ کی برکت اور درخشان و تاباں و معطر کلام میں لفظ "سجده ” چونسٹھ مرتبہ دہرایا

    گیا ہے ۔ اور ہر بار ایک نئی خوشبو ایک نئے زاویے ، ایک نئے اندازِ فکر اور ایک نئے اسلوب سے بیان کیا گیا ہے۔ کائنات کا ذرہ ذرہ، ڈالی ڈالی، پھول پھول، کلی کلی ،شجر شجر، اپنی جبین کو خدائے بزرگ کے سامنے سجده ریز کرتا ہے ۔ سوره رعد میں اس کے متعلق اللہ رب العزت فرماتے ہیں۔

    ولله یسجد من فی السموات والأرض طوعااو کرها وظلالهم بالغدو والاصال .

    زمین و آسمان میں جو کچھ بھی موجود ہے سب کے سب اللہ رب العزت کو سجدہ کرتے ہیں ۔ وہ ہی نہیں ان کے اظلال (سائے) بھی سجدہ کرتے ہیں۔

    نماز شب میں یہی سجدہ جب عاجزی و انکساری اور پرنم آنکھوں کے ساتھ ادا کیا جائے تو خداوند کریم اپنی رحمتیں اور خزانوں کی چابیاں انسان کے سپرد کر دیتا ہے۔ کیونکہ اس کو انسان کا اپنے گناہوں پر نادم ہونا

    بہت زیادہ پسند ہے ۔ اپنے برگزیدہ بندوں کی نشانیاں بیان فرماتے ہوئے اللہ جل شانہ ارشاد فرماتا ہے ۔ کہ جب ایسے لوگوں کے سامنے میری آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو

    اذا اتتلیٰ علیھم اٰیات الرحمٰن خرو اسجد وبکیا

    یعنی ” روتے روتے سجدہ میں گر پڑتے ہیں”۔

    جب انسان کے دل پر اللہ رب العزت کا خوف اور ہیبت طاری ہوتی ہے تو وہ روتے روتے زمین پر سجدہ ریز ہو جاتا ہے۔ آہوں سسکیوں اور آنسووں کا نزرانہ لے کر رب کے حضور گڑگڑاتا ہے اور معافی کا خواستگار ہوتا ہے۔ اُس کی رات کی سجدہ ریزی اور اشکوں کے گوہر قربِ الٰہی کا ذریعہ بنتے ہیں وہ گناہوں کو یاد کر کے اللہ کا خوف دل پر وارد کر کے معافی کی طلب کرتا ہے تو اس انسان کو نویدِ شفاعت اور نویدِ بخشش سنا دی جاتی ہے۔ کیونکہ اللہ بہت کریم ہے بہت رحیم ہے۔

    زیرِ نظر حدیث پاک کی رو سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تہجد کی نماز اہل سنت بھائیوں کے مطابق گیاراں رکعت  ہے اگرچہ شیعہ اثناء عشری کا بھی طریقہءنمازِ شب گیاراں رکعت ہی ہے (حوالہ جات تک تحریر گوگل پر  "”بہنوں کی درس گاہ”” کی آئی ڈی سے لی ہے)

    "”” اُمّ المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی ﷲ عنہا روایت کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیشہ رات کو گیارہ رکعات پڑھتے تھے :

    ’’ایک رکعت کے ساتھ تمام رکعات کو طاق بنا لیتے، نماز سے فارغ ہونے کے بعد دائیں کروٹ لیٹ جاتے حتٰی کہ آپ کے پاس مؤذن آتا پھر آپ دو رکعت (سنت فجر) مختصرًا پڑھتے۔‘‘

    مسلم، الصحيح، کتاب صلوة المسافرين، باب صلوة الليل و عدد رکعات النبی صلی الله عليه وآله وسلم فی الليل، 1 : 508، رقم : 736

    نمازِ تہجد کی کم از کم دو رکعات ہیں اور زیادہ سے زیادہ بارہ رکعات ہیں۔ بعد نمازِ عشاء بسترِ خواب پر لیٹ جائیں اور سو کر رات کے کسی بھی وقت اٹھ کر نمازِ تہجد پڑھ لیں، بہتر وقت نصف شب اور آخر شب ہے۔ تہجد کے لیے اٹھنے کا یقین ہو تو آپ عشاء کے وتر چھوڑ سکتے ہیں اس صورت میں وتر کو نماز تہجد کے ساتھ آخر میں پڑھیں یوں بشمول آٹھ نوافلِ تہجد کل گیارہ رکعات بن جائیں گی۔ رات کا اٹھنا یقینی نہ ہو تو وتر نماز عشاء کے ساتھ پڑھ لینا بہتر ہے۔

     تنہائی میں پڑھی جانے والی یہ نماز اللہ تعالیٰ سے مناجات اور ملاقات کا دروازہ ہے۔ احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اس کی بہت زیادہ فضیلت بیان ہوئی ہے۔ ’’حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کو تمام نفل نمازوں میں سب سے زیادہ محبوب نماز، صلاۃِ داؤد علیہ السلام ہے۔ وہ آدھی رات سوتے (پھر اٹھ کر) تہائی رات عبادت کرتے اور پھر چھٹے حصے میں سو جاتے۔‘‘

    مسلم، الصحيح، کتاب الصيام، باب النهی عن الصوم الدهر لمن تضرر به او فوت به حقاً لم يفطر العيدين، 2 : 816، رقم : 1159″””

    فقہ جعفریہ کے مطابق نمازِ شب کا طریقہ کار کتاب کے آخر میں بتایا جائے گا۔

    hubdar qaim

    سیّد حبدار قائم

    کتاب ‘نماز شب’ کی سلسلہ وار اشاعت

  • امام سجادؑ اور بی بی زینب سلام اللہ علیہا کی نماز شب

    امام سجادؑ اور بی بی زینب سلام اللہ علیہا کی نماز شب

    کائناتِ رنگ و بو میں بہت نمازی گزرے ہیں ۔ اور بہت سے نمازی مستقبل میں آئیں گے لیکن جو نماز کربلا میں حضرت امام حسین علیہ السلام  نے انگاروں جیسی گرم  ریتلی زمین  پر پتھروں، تیروں، نیزوں،خنجروں اورتلواروں کے سائے میں اپنے زخمی بدن کے ساتھ  ادا کی ۔ وہ نماز اب تک دنیا میں کوئی بھی ادا نہیں کر سکا اور نہ ہی کوئی ادا کرسکے گا۔

    آپ کے بعد آپ کی معظمہ بہن حضرت زینب سلام اللہ علیہا  نے جس طرح نماز پڑھی اور خصوصا نمازِ شب ادا کی وہ کائنات کی کوئی عورت بھی اب تک  نہ ادا کرسکی اور نہ ہی کوئی عورت ادا کر سکے گی ۔ کیونکہ جب پتہ ہو کہ اسیروں کے قافلے کے دوڑتے ہوئے سواری والے اونٹ اور گھوڑوں سے نیچے ہمارے بچے گر کر سموں کے نیچے کچلے جارہے ہیں ۔ ایسی پر درد اور غم ناک صورتِ حال  میں اپنی سواری پر ہی نمازِ شب ادا کرنا بی بی زینبؑ کا ہی خاصا ہے یہ کسی اور کے نصیبوں  اور بے مثال ہمت میں کہاں ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے۔

    کہ اتنی مشکلات کے باوجود اظہار بندگی نمازِ شب کی صورت میں  آپ نے کیوں ادا کی ۔ کیا آپ کو جنت کی لالچ تھی؟

    نہیں! ہرگز نہیں۔ بالکل نہیں ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کیونکہ جنت کے سردار تو آپ کے عظیم بھائی حسنینؑ کریمین ہیں ۔ اور جنت میں عورتوں کی سردار تو آپ کی والدہ معظمہ و محترمہ فاطمہؑ بنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  ہیں جنت کے وارث تو آپ کے وہ نانا ہیں جو شافع ء محشر اور ساقیء کوثر ہیں۔ جنت میں داخل کرنے والے تو آپ کے عظیم مرتبہ والد ماجد مولا علی کرم اللہ وجہہ ہیں۔ جن کی سند لے کر لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔

    پھر کیا وجہ ہے کہ آپ نے اتنی تکلیفوں اور کٹھن حالات میں بھی نمازِ شب نہیں چھوڑی۔

    ” کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے ”  علامہ اقبالؒ کے اس مصرعے کے مصداق  کبھی ہم نے سوچا ہے ؟

    بالکل نہیں ۔ یہی تو لمحہ ء فکریہ ہے کہ آج کے اس پر آشوب دور میں دنیا کی لذتوں میں کھو جانے والے انسان کے لیے درسِ

    فکر ہے ۔ وقت کا رونا رونے والے اس انسان کے لیے ایک عظیم راہِ ہدایت ہے۔ آزادی کا رونا رونے والی ڈش انٹینا ،کیبل اور انٹرنیٹ پر فلمیں دیکھنے والی شائق آنکھ کے لیے حضرت بی بی زینبؑ کا دیا ہوا یہ ایک عظیم درس ہے۔ کیونکہ آپ نے سفر کی صعوبتوں کو آڑے نہ آنے دیا اور عزیز ترین ہستیوں کی سرکٹی لاشوں اور اپنے سرِ اقدس سے کھوئے جانے والی عظیم چادرِ زہراؑ کے غم کے باوجود نمازِ شب ادا کرنا ترک نہ کی اور آج کی عورت کے لیے ایک ایسی مثال قائم کی کہ کوئی یہ نہ کہہ سکے ۔ کہ میں نے فلاں پریشانی کے سبب نمازِ شب ترک کی ہے۔ میں نے فلاں دکھ اورغم کی وجہ سے نماز ادا نہیں کی۔ یہ ہے وہ عظیم حقیقت کہ جس کا درس بی بی زینبؑ نے ہمیں دیا ہے  میرے ان اشعار میں نمازِ شب کی اہمیت کی اپنے عقل و شعور پر دستک دیجیے :۔

    ” اسیری میں نمازِ شب ادا کر کے بتایا ہے

    کہ ہر دکھ میں خدا کی بندگی کرنا ہی رفعت ہے

     نمازِ شب ادا کر لو یہ دنیا چار دن کی ہے

    دو گزرے دو گزر جائیں گے کم اس کی یہ مدت ہے”

    حضرت بی بی زینبؑ کے علاوہ ایک اور عظیم ہستی جسے تاریخ زین العابدینؑ کے نام سے یاد کرتی ہے کا ذکر نہ کیا جائے تو نمازِ شب کا موضوع ادھورا رہ جائے گا۔

    کائنات کا یہ محسن امام جب دکھوں، مصیبتوں اور غموں کے باوجود بیڑیوں میں جکڑا ہوا نمازِ شب ادا کرتا رہا تو آج کا انسان کیوں اس سعادت و عظمت سے محروم ہے ایک راوی سے یہ روایت ہے کہ امام سجادؑ نے پوری زندگی میں کبھی نمازِ شب ترک نہ کی ۔ اور آپ ہزار رکعت یومیہ نوافل ادا فرماتے رہے ۔

    اس کے باوجود عاجزی و انکساری کا یہ عالم تھا کہ جب نماز پڑھتے تو سجدے میں سر رکھ کر بہت روتے تھے اور آپ کے جسم پر کپکپی طاری ہو جاتی تھی سجدے کی اس کیفیت میں دعا مانگتے ہوئے یہ فرماتے تھے

    عبیدک بفنائک، مسکینک بفنائک، فقیرک بفنائک، سائلک بفنائک۔

    ترجمہ

    "تیرا حقیر بندہ، تیرا مسکین بندہ، تیرا فقیر اور تجھ سے  سوال کرنے والا تیری ڈیوڑھی پرکھڑا ہے۔”

    راوی کہتا ہے کہ یہ سننے کے بعد میں نےجب بھی دعا مانگی اور اس میں امام سجادؑ کی اس

    عظیم دعا کو سجدے میں سر رکھ کر شامل کیا تو میری وہ دعا اللہ رب العزت نے ضرور مستجاب فرمائی۔ آپ بھی نماز شب کی ایک رکعت "وتر” میں اس دعا کو شامل کیجیے اور اللہ رب العزت کی عظیم بارگاہ میں حضرت امام سجادؑ کے ان درخشاں الفاظ کے ساتھ اپنی عاجزی و انکساری کا اظہار کیجیے۔ اور غرور و تکبر کو ذہن کے دریچوں سے ہٹا کر پھینک دیجیے۔ پھر دیکھیے کہ ذرے ذرے کو جلا بخشنے والا، پرندوں کو ہوا میں قائم رکھنے والا اور قطروں کو گوہر کرنے والا رب آپ کو کیا کیا فضیلتیں اور رفعتیں عطا فرماتا ہے۔

    حضرت علی بن حسینؑ المعروف حضرت زین العابدین کے متعلق میرے دو اشعار ملاحظہ کیجیے:۔

    وہ جن کو بیڑیوں میں فکر تھی اپنی عبادت کی

    وہ جن کو تشنگی میں بھی ضرورت تھی ریاضت کی

     لہو کے اشک بہتے تھے مرے مولا کے سجدے میں

    مگر پھر بھی تمنا تھی انہیں ہر پل شہادت کی

    hubdar qaim

    سیّد حبدار قائم

    کتاب ‘نماز شب’ کی سلسلہ وار اشاعت