سورہ دھر میں نماز شب اور بشارت

نماز شب کے فضائل قیامت کی ہولناکیوں میں کام آئیں گے۔ نمازِ شب سے متعلق سورہ الدھر میں حکم دیا گیا ہے ارشاد باری تعالٰی ہے۔

وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًاۖۚ(۲۵)وَ مِنَ الَّیْلِ فَاسْجُدْ لَهٗ وَ سَبِّحْهُ لَیْلًا طَوِیْلًا(۲۶)

یعنی

” اور صبح و شام اپنے پروردگار کا نام لیتے رہو اور راتوں کو اسے سجدے کیا کرو اور بڑی رات تک اس کی تسبیح پڑھا کرو”۔

سورہ دھر میں اللہ جل شانہ نے آغاز میں انسان کی تخلیق کے متعلق ارشاد فرمایا کہ ہم نے انسان کو مردو زن کے نطفے سے پیدا کیا۔ اس کے بعد قیامت کے عذاب سے ڈراتے ہوئے سورہ دھر میں ہی ارشاد فرمایا کہ ہم نے انسان کو صراط مستقیم بتا دیا ہے اب یا وہ شکر گزار بنے یا نا شکرا، لیکن ساتھ ہی نا شکرے افراد کے لیے اللہ جل شانہ نے عذاب کی بشارت بھی دی ہے۔ سورہ دھر کے الفاظ میں۔

اِنَّاۤ اَعۡتَدۡنَا لِلۡکٰفِرِیۡنَ سَلٰسِلَا۠ وَ اَغۡلٰلًا وَّ سَعِیۡرًا﴿۴﴾

“یقینا ہم نے منکروں کے لیے زنجیریں اور طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔”

ان الفاظ کے بعد اہل جنت کے لیے میٹھے پانی جن میں کافور ملا ہوگا کی بشارت دی گئی ہے۔ اور اللہ کی رضا کی خاطر یتیموں ، غریبوں اور قیدیوں کو کھانا کھلانے والوں کے لیے بھی بشارت دی گئی ہے۔ کہ وہ جنت میں تکیہ لگائے بیٹھے ہوں گے اور انہیں شرابِ طہورا پلایا جائے گا۔ جہاں وہ جنت میں نہ سخت دھوپ دیکھیں گے اور نہ ہی زیادہ سرد ہوا ہوگی۔ سورة الدھر میں جنت کی پاکیزہ شراب سلسبیل اور چاندی کے برتنوں اور دیگر نعمتوں کے ذکر کے بعد اللہ جل شانہ نمازِ شب میں سجدہ اور تسبیح کا ذکر بیان کرتا ہے ۔

اس کلام سے بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ نماز شب ادا کرنے والوں کو جنت میں بہت ساری فضیلتیں اور انعام و اکرام سے نوازا جائے گا۔ جب کہ جہنمیوں کے چہرے جلے ہوئے اور بگڑے ہوئے بتائے گئے ہیں۔ جہنم کی آتش سے بچنے کے لیے اور جنت میں راحت کے حصول کے لیے نماز شب ایک سند کی مانند ہے۔

عاجزی و انکساری اور تقوٰی کی اہمیت اگر اتنی زیادہ نہ ہوگی تو مولا علیؑ سرداران جنت کو یہ نصیحت نہ فرماتے۔

امیرالمومنین حضرت علیؑ نے اپنے فرزند اکبر حضرت امام حسن مجتبٰیؑ کو نصیحتیں کرتے ہوئے فرمایا۔

“کہ اے میرے نور نظر میں تمہیں تقوٰی پرہیزگاری اور خوف خدا کی تاکید کرتا ہوں اور اس بات کی تاکید کرتا ہوں کہ اللہ تعالٰی کے امور کی پابندی کرو۔ دل کو اسکی یاد سے آباد رکھو۔ اسکی اطاعت و فرمانبرداری کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو۔جو راستہ اور وسیلہ خدا کے قرب کا باعث ہو اس کو اختیار کرو۔ اپنے دل کو امر باالمعروف و نہی عن المنکر اور وعظ نصیحت سے زندہ رکھو۔ اپنے نفس کو زہد اور تقوٰی سے مار دو۔ علم و حکمت سے دل کو نورانی کرو۔ موت کے ذکر سے دل کو ذلیل کرو۔ دنیا کے عیبوں سے دل کو آگاہ کرو۔ دنیا کے ہجوم اور دن رات کے گرداب سے اسے ڈراو۔ گزرے ہوئے لوگوں اور ان پر گزرنے والے واقعات و حادثات سے دل کو آشنا کرو۔ گزشتہ لوگوں کے آثار کو جا کر دیکھو۔ اور اس بات پر غور کرو کہ انہوں نے کیا کیا اور کہاں جا بسے۔ کہاں وہ اترے اور کہاں انہوں نے منزل کی اور میرے بیٹے جب تم انہیں دیکھو کہ وہ تم سے جدا ہو کر تنہائی کی سرائے اور غربت کے مکان میں آبسے ہیں تو عبرت حاصل کرو۔ کیونکہ تمہیں بھی تھوڑے عرصے کے بعد ان کی مانند ہی ہو جانا ہے۔”

مولا علی کرم اللہ وجہہ کی اس نصیحت میں زندگی کے نشیب و فراز  کے راز مضمر ہیں ۔ اسلام دین فطرت ہے اور مکمل ضابطہ حیات پیش کرتا ہے۔ اور اگر کوئی انسان اپنی فکر تجسس اور علم کو مولا علیؑ کے ان فرمودات پر مرکوز کر دے۔ تو وہ نماز شب بھی پڑے گا امر با المعروف و نہی عن المنکر بھی کرے گا۔ اور عاجزی و انکساری کا نمونہ بھی بنے گا۔ کیونکہ پل صراط سے گزرنے کے لیے زاد راہ ساتھ لے کر جانا پڑے گا۔ اور وہ پل صراط کیا ہے؟ جو تلوار کی دھار سے تیز تر ہے جس سے ہر انسان کو گزرنا ہو گا پل کے نیچے بھڑکتی ہوئی آگ ہو گی جس کے نیک اعمال کا پلڑا بھاری ہو گا وہ آسانی کے ساتھ اوپر سے گزر جائے گا اور جس کے گناہ زیادہ ہوں گے وہ جہنم کی دہکتی ہوئی آگ میں گر جائے گا اس کا ٹھکانہ جہنم ہو گی جو کہ ایک برا ٹھکانہ ہے۔

hubdar qaim

سیّد حبدار قائم

کتاب ‘ نماز شب ‘ کی سلسلہ وار اشاعت

حبدار قائم

میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے ١1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے

Next Post

مشہور شاعروں کا گمنام استاد: باباجمالؔ بہرائچی

جمعہ مارچ 25 , 2022
بابا جمالؔ علوم ادبیہ پرماہرانہ قدرت رکھتے تھے۔عروض وبیان سے مل کر شعر کہتے تھے۔آپکے یہاں لفظوں کے ذخیرے تھے۔آپ کے یہاں قحط لفظی نہیں تھا۔
مشہور شاعروں کا گمنام استاد: باباجمالؔ بہرائچی