حضرت امام حسینؑ کا عظیم سجدہ

خدا کی محبت کے لیے نمازِ شب کی سجدہ ریزی بہت اہمیت کی حامل ہے۔ کیونکہ ہمارے امام حسینؑ نے شبِ عاشور کا ایک حصہ نماز شب کے لیے وقف کر دیا تھا۔ امام جانتے تھے کہ میرا آج کا عمل آنے والے مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہوگا۔ اس لیے آپ نے جنگ کے بھڑکتے ہوئے شعلوں میں بھی خدائے بزرگ و برتر کی حمد و ثنا کو نہ چھوڑا بلکہ ساری کائنات کو پاوں کی ٹھوکر مار کر سجدہ ریزی کی ایسی مثال قائم کی کہ جسے دیکھ کر فرشتے محو حیرت ہوئے۔ آپ ہی کے متعلق اقبال لکھتے ہیں ۔

آنکہ کہ زیر تیغ گوید لا الہ

آنکہ کہ از خونش بدوید لاالہ

یعنی وہ جو تلوارکے نیچے لا الہ کہے اور جس کے خون سے لا الہ نمو پائے۔

 لا الہ کی نمو طاہر خون سے ہو تو اس کا سرور ہی الگ ہوتا ہے ۔ لا الہ کی نمو میدانِ کربلا میں اس طرح ہوئی کہ حسینؑ ابن علیؑ میدان جنگ کی طرف بڑھتے ہیں۔ اور یہ وہ وقت تھا جب آپ کے عزیز ترین دوست اور رشتہ دار شہید کیے جاچکے تھے۔ پیاس کا یہ عالم تھا کہ تشنہ لبی آپؑ کے پاک لبوں سے ہویدا تھی۔ وہ لب کہ جن پر آنحضورؐ  بوسے دیا کرتے تھے۔ میدان جنگ میں لاکھوں مارنے والے تھے اور ایک مظلوم و بے کس زخموں سے چور تھا۔ کوئی نیزے کا وار کرتا  تو کوئی تیر مارتا ، کوئی پتھر مارتا تھا تو کوئی تلوار سے وار کرتا تھا زمین کی حدت اور پیاس کی شدت میں آپ گھوڑے سے گرتے ہیں۔ تو آپ کو ہر عزیز  یاد آتا ہے ۔ اکبر کی جوانی۔ اصغر کی پیاس ۔ جناب عباس کے بازو۔ عون و محمد کے ٹکڑے۔ قاسم کے چہرے کے نقش لیکن یہ سب عزیز رشتے آپ ذہن کے دریچوں سے ہٹا کر اپنی جبیں خالقِ کائنات کے آگے جھکا دیتے ہیں ۔ اور اللہ رب العزت سے اپنی عاجزی و انکساری کا اظہار یوں فرماتے ہیں: ۔

“رضا بقضائک و تسلیما لامرک”

یعنی اے رب کعبہ میں تیری قضا پر راضی ہو گیا اور تیرے امر کو تسلیم کرتا ہوں ۔

“وصبرا علی بلائک”

اور تیرے امتحان پر صبر کرتا ہوں۔

“لا معبود سواک”

تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔

“یا غیاث المستغیثین”

اے بے پناہ دینے والے۔

اور سجدہ کے آخر میں اپنے رب سے ایک ایسی دعا فرمائی کہ جس کا ابتدائے آفرینش میں اللہ جل شانہ سے وعدہ کیا تھا۔ یعنی یا اللہ میں نے اپنے وعدے کو پورا کیا اب تو اپنے وعدے کو پورا کر ۔کربلا کی سر زمین پر ایسا سرِ اقدس رکھا کہ پھر خود نہ اٹھایا۔

یہ وہ مثال تھی جو اثناء عشری اور ہر مسلمان کے لیے ایک درس ہے آپ نے تقوٰی کا معیار اس عظیم سجدے سے افشا کیا۔ اور اپنے ماننے والوں کو بتا دیا کہ اپنی جبیں صرف اور صرف اس خدا کے آگے خم کرو جو اس کا سزاوار ہے۔

آپؑ انبیاء کرام کی سیرت و کردار کو مشعل راہ بنانے کا درس دے گئے کیونکہ آپ وارث آدمؑ و نوحؑ تھے۔ کیونکہ آپ وارث ابراھیمؑ و موسٰؑی و عیسٰؑی تھے چونکہ آپ وارث دو جہاں حضرت محمدؐ تھے۔ اس لیے آپ نے تقوی و پرہیزگاری کی قندیل روشن کر کے اللہ تعالی کے اس فرمان

“ان اکرمکم عندا اللہ اتقاکم”

یعنی اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ وہ محترم و مکرم ہے جو زیادہ متقی ہے کی درخشاں تفسیر بیان فرمائی اسی لیے تو شاعر اہلبیت سید فیضی نے لکھا ہے: ۔

حسینؑ نام ہے سجدے میں سر کٹانے کا

حسینؑ دیدہ یعقوب ہے زمانے کا

صداقتوں کی ضیا کو حسینؑ کہتے ہیں۔

جہانِ صبر و رضا کو حسینؑ کہتے ہیں۔

مدینہ، شہر نجف، کاظمین ،کرب و بلا

حسینؑ جلوہ فگن ہے ،حسین جلوہ نما

حسینؑ “انتم الاعلون” کی حسین تصویر

حسینؑ پردہ ظلمت میں چاندنی کی لکیر

زمین کرب و بلا کا حسینؑ ہے وہ گداز

جہاں کی خاک بھی ہے سجدہ گاہ بہر نماز

حسینؑ کی نہ اگر دل میں روشنی ہوتی

نماز ہوتی نہ انسان سے بندگی ہوتی

جب حسینؑ پردہ ظلمت میں چاندنی کی درخشاں لکیر ہیں ۔ تو کیا وجہ ہے کہ ہم سیرتِ حسینؑ پر عمل پیرا کیوں نہیں ہوتے؟ ۔ کیا وجہ ہے! کہ ہم نے شب بیداریوں کو ترک کر کے شیطان کی پیروی شروع کردی ہے۔ کیا ہمارے ان پرا گندہ ذہنوں اور علم و عمل کے نہ ہونے پر ہماری شفاعت ہو گی۔

یہ ایک سوال ہے۔

یہ لمحہء فکر ہے۔

یہ سوال بار بار ذہن میں کچوکے لگاتا ہے۔

روز قیامت جب ہمارے اعمال میزان پر تولے جائیں گے تو امام ہم سے یہ ضرور ارشاد فرمائیں گےکہ محبت کا معیار یہ ضرور ہے کہ تم ہمارے غم میں غم مناتے اور ہماری خوشی میں خوشی۔

لیکن کیا وجہ ہے۔ کہ ہماری عظیم قربانیوں کے باوجود تم نے ہمارے اور ہمارے نانا پاک کے اسوہ حسنہ پر چلنے کی سعی اختیار نہ کی۔ ہم نے تو تمہیں قبل از وقت کہہ دیا تھا کہ” وہ شخص ہمارے شیعوں میں سے نہیں ہے جو کہ تارک نماز شب ہو”۔

پھر کیا وجہ ہے؟کہ تم شب بیداری کی بجائے غفلت کی نیند پوری کرتے رہے اور ایک مردار لاشے کی طرح سوتے رہے۔

روزِ محشر میزان میں نیک اعمال کے وزن کی کمی کیسے پوری ہو گی اور جو آنکھ غم حسینؑ کے ساتھ شب بیداری میں محو عبادت رہی اسکو عجیب صلہ دیا جائے گا۔ اسکے مرتبے کو بلند سے بلند تر کر دیا جائے گا۔ اہل جنت اس سے سوال کریں گے کہ کیا وجہ ہے کہ جنت الفردوس میں تجھے بلند مقام دیا گیا ہے۔

تو وہ کہ دے گا۔

کہ میں غمِ حسینؑ منانے کے ساتھ ساتھ شب بیداریوں میں اللہ تعالٰی کے سامنے سجدہ ریز رہا میں نے حتی الا مکان یہ کوشش کی کہ اسوہ محمدؐ وآل محمدؐ پر زیادہ سے زیادہ عمل کروں اسلئے اللہ رب العزت نے میری خطاوں کو معاف فرما کر مجھے جنت میں  انعام و اکرام اور بلند مقام سے نوازا ہے۔

جنت میں کامیابی کی بنیادی وجہ یہ ہے۔ کہ حضرت امام باقرؑ نے ارشاد فرمایا تھا کہ

 “جب ہم اہل بیتؑ کا ذکر کیا جاتا ہے اور ہمارے ذکر سے مومنین کے دل نرم ہوجاتے ہیں تو ملائکہ ان کی پشت پر ہاتھ پھیرتے ہیں اور ان کے کل گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔ الا وہ گناہ جو ایمان ہی سے خارج کر دے”۔

مسلمانوں کے تقریبا سارے ہی فرقے اس بات پر متفق ہیں۔ کہ امام حسینؑ نے اسلام بچایا ہے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ وہ اسلام کیا ہے؟اس اسلام کا سراپا کیا ہے؟ اس اسلام کی مہک کیسی ہے؟جسے امام حسین نے بچایا تھا؟

غور کریں تو پتہ ہے کہ وہ اسلام پانچ اصولوں (توحید، عدل، نبوت، امامت، قیامت)اور دس فروعوں (نماز، روزہ،حج، زکوة، خمس، جہاد، تبرا، تولٰی، امر بالمعروف، ونہی عن المنکر) پر مشتمل ہے۔

جس شخص کا ان پانچ اصولوں اور دس فروعوں پر مکمل یقین ہے اور وہ یہ جانتا ہے کہ انہیں امام حسینؑ نے اپنی عظیم قربانی دے کر جلا بخشی ہے۔آپ نے اپنے مجاہدانہ کردار سے ہمیشہ کے لیے یزیدیت ابھرنے کے دروازے بند کر دیے۔ اگر آج ہم امام حسینؑ کے بچائے ہوئے اصولوں اور فروعوں پر عمل نہیں کر رہے تو یہ کہنا بجا ہوگا کہ ہم حسینی مشن کی مخالفت کر رہے ہیں۔

امام حسینؑ نے نمازِ شب کی اہمیت اپنی آخری شب میں کچھ اس طرح  بیان فرمائی کہ جب نویں(٩) محرم الحرام یزیدی فوجوں نے آپ اور آپ کے ساتھیوں کی طرف بڑھنا شروع کیا تو آپ نے حضرت عباس جناب حبیب ابن مظاہر، زبیر اور دوسرے مخصوص اصحابؓ کو قومِ فجار کی طرف بھیجا کہ ان سے جاکر پوچھو کہ اتنی جلدی کیوں کر رہے ہیں؟۔ جب آپ کے ساتھیوں نے یزیدیوں سے استفسار کیا تو انہوں نے جواب میں کہا عبیداللہ ابن زیاد نے حکم دیا ہے کہ امام حسینؑ اور ان کے ساتھی اگر بیعت کر لیں تو بہتر اور اگر بیعت نہ کریں تو ان سے جنگ کرو۔

حضرت عباس نے انہیں کہا کہ تم انتظار کرو میں اسکا جواب تمہیں امام حسینؑ سے پوچھ کر بتاتا ہوں ۔ چناچہ حضرت عباسؑ نے سارا ماجرا امام کے گوش گزار کر دیا۔

کتاب ذریعہ النجات صفحہ ٧٨ پر مصنف لکھتا ہے۔

کہ حضرت امام حسینؑ نے ساری گفتگو سماعت فرما کر تھوڑی دیر سوچا اور حضرت عباسؑ سے مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا:۔

“اِرجِع فاِنِ استطعت ان توخر ھم الی غدوتد

فعھم عن العیشتہ لعلنا نصلی لربنا اللیلة

وندعوہ و نستغفرہ فھو تعلیم انی قد کنت احب الصلوة لہ و تلاوة کتاب وکثرة الدعاء والاستغفار” 

میرے بھائی!اس قوم کی طرف دوبارہ جاو اور ایسی سعی کرو کہ جنگ آج کے بجائے کل تک ملتوی ہو جائے تاکہ آج کی رات ہم عبادت نماز، دعا، استغفار میں صرف کر سکیں اللّہ تعالٰی جانتا ہےکہ تحقیق میں نماز سے محبت کرتا ہوں اسی طرح تلاوت قرآن اور اکثر دعاو استغفار کا بہت شائق ہوں۔

آج کے مومن کے لیے لمحہ فکر!

ذرا غور کرنے پر آپ کے پورے مشن کی وضاحت خود بخود ہو جاتی ہے۔ کہ آپ نے دینوی مقصد کے لیے نہیں بلکہ عبادت و استغفار اور تلاوت قرآن کو رات کے سناٹے میں اللہ رب العزت کی عظیم بارگاہ میں عمل بجا لانے کے لیے ایک رات کی مہلت مانگی۔

نماز شب بھی ادا کی کیونکہ نماز عشاء کی تو صرف چار رکعتیں ہیں۔ وہ تو چند لمحوں میں ادا کر لی تھی۔ لیکن رات نماز شب بمع دیگر نوافل کے ادا کرنے کا مقصد آج کے بے عمل لوگوں کے لیے ایک درس تھا۔ جو کہ یہ کہتے ہیں کہ صف عزاداری ء امام حسینؑ ہی کافی ہے۔ حالانکہ حضرت امام باقرؑ کا ارشاد ہے۔

“کہ روز قیامت اگر انسان کی نماز قبول ہوئی تو باقی اعمال کی قبولیت کی امید رکھے اور اگر نماز رد کر دی گئی تو سارے اعمال رد کر دئیے جائیں گے”۔

شیخ مفید اپنی کتاب مقتل ذریعہ النجاة کے صفحہ ٧۴ (چوہتر) پر یوں رقم طراز ہیں۔

“فقام لیلتہ کلھا یعلی و یستغفرو یدعو و تیضرع وقام اصحابہ کذائک یصلون ویدعو فستغفرون”

حضرت امام حسینؑ اور آپ کے تمام ساتھی ساری رات عبادت میں کھڑے رہے اور نہایت خشوع و خضوع سے نماز پڑھتے رہے اور دعا و استغفار میں مشغول رہے۔

کربلا والوں کے مصائب اور فضائل بیان کرنے کا اصل مقصد امر با المعروف و نہی عن المنکر ہی تو ہے۔ اور یہ واضح ہے کہ شیعہ اثناء عشری کے لیے دنیا کی بڑی سے بڑی جنگ اور بارود کا دھواں بھی ترکِ نماز کا بہانہ نہیں بن سکتا۔نماز کی اہمیت کے متعلق امام جعفر صادقؑ نے واضح الفاظ میں ارشاد فرمایا تھا۔

“بے نماز شخص اور ایسا شخص جو نماز کو معمولی عمل سمجھے ایسے افراد کی ہم شفاعت نہیں کریں گے۔”

نوک نیزہ پہ تلاوت کی سعادت حاصل کرنا حسینی مشن کا اعجاز ہے۔ آپ نے عاجزی و انکساری کا ایسا نمونہ پیش کیا کہ روز قیامت تک کوئی بھی زاہد و عابد ایسا نہ کر سکے گا اسی لیے شاعر بے اختیار کہ اٹھتا ہے:۔

بچوں کی تشنگی کا کوئی ذکر کیا کرے

سوکھے لبوں سے کوزہ و ساغر سے پوچھ لو

کس کس نے خون پاک بہایا حسینؑ کا

نوک سناں سے ناوک و خنجر سے پوچھ لو

اعجاز سے تلاوت قرآن سناں پر کی

مصحف سے اہل بیت سے یاسر سے پوچھ لو

hubdar qaim

سیّد حبدار قائم

کتاب ‘ نماز شب ‘ کی سلسلہ وار اشاعت

حبدار قائم

میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے ١1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے

Next Post

پروفیسر زاہر حسن فاروقی

ہفتہ مارچ 19 , 2022
   مجھے فاروقی صاحب کا اٹھنا بیٹھنا، لباس پہننا یاد ہے.. یہ سب لکھنوی ثقافت کے قریب تھے۔ ..فاروقی صاحب انتہائی نفیس انسان تھے۔
پروفیسر زاہر حسن فاروقی