پروفیسر زاہر حسن فاروقی

زاہر حسن فاروقی، حاجی امداد ﷲ مہاجر مکی کی اولاد سے ہیں۔ آپ  1938ء میں تھانہ بھون ضلع مظفر نگر (یو۔ پی)میں اختر حسن فاروقی کے گھر پیدا ہوئے۔تھانہ بھون وہ قصبہ ہے جہاں مولانا اشرف علی تھانوی رہتے تھے۔ مولانا بہشتی زیور کے مصنف ہیں۔

1947 میں خاندان کے ہمراہ پاکستان آ گئے ۔ گارڈن کالج سے  ایم۔اے (اردو) کے بعد کچھ ماہ ریڈیو پاکستان سے وابستہ رہے پھر قومی اسمبلی میں مترجم رہے۔پریس انفارمیشن اور چینی سفارت خانے میں بھی کچھ عرصہ کام کیا۔پھر عبد ﷲ کالج راولپنڈی میں اردو کے استاد مقرر ہوئے۔

1970ء میں گورنمنٹ کالج اٹک میں بطور استاد اردو تعیناتی ہوئی اور اسی کالج سے بہ عہدہ ایسوسی ایٹ پروفیسر  1998ء سبکدوش ہوئے۔۔۔  پھرشاہین کالج کامرہ کینٹ میں تدریس کے فرائض انجام دیتے رہے.

Professor Zahir Hassan Farooqi

ابتداء میں آپ زاہر تھانوی کے قلمی نام سے افسانے اور مضامیں تحریر کر تے تھے۔آپ روزنامہ تعمیر اور ماہنامہ نیرنگ خیال کے سب ایڈیٹر بھی رہے۔ زمانہ طالب علمی میں گارڈن کالج کے مجلہ “گورڈونین” کے مدیر اور زمانہ تدریس میں گورنمنٹ کالج اٹک کے مجلہ “مشعل” کے نگران بھی رہے۔(1)

نعیم بنگش لکھتے ہیں

    پروفیسر زاہر حسن فاروقی صاحب ہمارے اردو کے استاد تھے۔انہوں نے ہمیں برق روم جی سی اٹک میں1972 سے 1974 تک پڑھایا

     انہوں نے زندگی کا بڑا حصہ پنجاب میں گزارا۔اس کے باوجود انکا لباس اور شکل اردو زبان اور اس سے وابستہ ثقافت سے اپنی محبت کی عکاسی کرتی رہی۔ اچھی طرح تراشی ہوئی داڑھی والے پروفیسر  فاروقی ہمیشہ سفید کرتہ اور پاجامہ پہنتے تھے اور کبھی کبھار کالی شیروانی بھی استعمال کرتے تھے۔ اس کی ظاہری شکل نے کلاس میں اردو زبان میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے ایک سازگار ماحول پیدا کیا۔ امداد اللہ مہاجر مکی کے ساتھ اپنے سلسلہ نسب کے مطابق، وہ اکثر ہمارے معاشرے کی بگڑتی ہوئی اخلاقی اقدار پر درد بھرے لہجے میں اپنی مایوسی کا اظہار کیا کرتے تھے۔ ان کا اصل تعلق امداد اللہ مہاجر مکی اور اشرف علی تھانوی جیسی بلند پایہ شخصیات سے تھا۔

زاہر ز سے ظ سے نہیں

      زاہر.. 🌟 چمکتا ہوا۔۔۔۔

   زاہر فاروقی اپنے نام کا سچا عکس تھے ..Vevus۔۔۔زہرہ کی طرح چمکدار 🌟۔

      وہ این سی سی… نیشنل کیڈٹ کور کے  لیکچرر آفیسر انچارج تھے۔ ان کی این سی سی یونیفارم ان کے اعلی ذوق کی مکمل عکاسی کرتی تھی۔      انہوں نے ایک بار محرم کے جلوس کی  تصویر لینے کا ذکر کیا…اس سے ان کے وسیع النظری کا پتہ چلتا ہے۔

امین خٹک کہتے ہیں،

ٹیچر نما چیزوں سے ہم شروع سے دور رھتے تھے۔کیونک اکثر ھماری ان کے سامنے بے عزتی خراب ہوتی تھی۔ہمارے سینے میں زیادہ تر علم براہ راست اساتذہ کی بجائےبذریعہ نقوی صاحب منتقل ھوتا ۔ںصابی کتب اپنے سرمایہ سے لینے میں جھجک محسوس ھوتی۔

اردو کے استادفاروقی صاحب کے لکھنو سے تعلق رکھنے سے ھی ان کی شخصیت کی شایستگی کا اندازہ ہو جاتا ھے۔لیکن ہماری ٹوٹل بے عزتی کا 80فیصد کوٹہ ان کی کلاس بمقام برق روم میں مقرر تھا۔ پھر یہ ہوا کہ اردو کلاس میں نہ جانے کی وجہ سے صرف 10فیصد اٹینڈینس کی بناء پر انٹر اگزام میں داخلہ رکنے کا مسئلہ درپیش ہوا جو بمشکل نقوی صاحب کی وساطت سے حل ھوا۔

عبدالسلام نے کہا:

میرے خیال میں فاروقی صاحب سہارنپور یوپی کے رہنے والے تھے، غالباً ان کا تعلق حضرت اشرف علی تھانوی سے تھا.. وہ میرے پسندیدہ استاد تھے۔

امین خٹک نے جواب دیا۔

۔سھارنپور اور لکھنو میں فاصلہ ہی کیا ہے۔دن ڈھلے پہنچ جائیں۔۔بات ہے اندازواداب کی واہ فاروقی صاحب تو کمال کے تھے۔اللہ بخشے۔۔

ان کی بے رخی میں  بھی التفات تھا۔۔۔

  جی ہاں.. لکھنؤ یوپی کا دارالحکومت ہے یعنی دونوں یوپی کے شہر ہیں اور وہاں کے رہنے والے خاندانی اور لسانی طور پر ایک دوسرے سے جڑے ہو ے ہیں..

   مجھے فاروقی صاحب کا اٹھنا بیٹھنا، لباس پہننا یاد ہے.. یہ سب لکھنوی ثقافت کے قریب تھے۔ ..فاروقی صاحب انتہائی نفیس انسان تھے۔

ایک  دفعہ کا ذکر ھے کہ FSc کا امتحان سر پہ آ گیا ۔۔لوگ اردو الف کے سوالوں کے بارے میں ڈرانے لگے۔۔خاص طور پر حضرو گروپ والے۔

۔ عجیب قسم کے نام ،میرامن ،رجب علی بیگ، سرور،میر انیس وغیرہ

۔۔اردو کی نصابی کتاب ہم بعض ناگزیر وجوہات کی بناء خرید نہ پائے تھے۔جاوید خٹک سے رجوع کیالیکن انھوں نے تو نصاب کی دوسری کتب کی عدم موجودگی سےبھی آ گاہ کیا۔

طفیل خان کے پاس گئے تو ان کے پاس صرف اردو الف کی تیاری کیلئے کئی کتابیں دیکھ کر ہمارا مورال مزید ڈاؤن ہوا۔۔

نقوی صاحب سے مشورہ کرکے طے ہوا کہ کتاب کا حصول تو لازمی ھے اور مالی حالات کے پیش نظر سو چا کہ کوئی ٹیکنکل طریقہ اختیار کیا جائے۔ ہاسٹل کی بجائے ایک اپنے گاؤں کے سٹوڈنٹ سے کتاب اس ارادہ سے چوری کی کہ بعد میں بتا دینگے۔لیکن نصف صدی گزرنے کے باوجود اس کی ابھی نوبت نہیں آئی۔

عبدالسلام نے اتوار 18 جولائی 2019 کو جی سی اٹک کا چکر لگایا ۔ بائیولوجی لیب چوکیدار کا کمرہ بنا ہوا تھا۔ بیالوجی کا لیکچر روم کلریکل سٹاف کا دفتر تھا ۔۔ برق کمرہ سر فاروقی کا اردو لیکچر روم تھا۔ یہ ایک کباڑ خانہ  لگ رہا تھا. اس کے سنگ بنیاد پر لکھا ہے.. ایس کے محمود ڈپٹی کمشنر نے 1963 میں جی۔ جے برق کی یاد میں تعمیر کرایا۔

سو سال پہلے ناموں کے ساتھ صدیقی، فاروقی، زبیری وغیرہ لگانے کا رجحان شروع ہوا۔ کرنل ڈاکٹر قدوسی ریڈیالوجسٹ 1998 میں کھاریاں کینٹ میں تھے۔ وہ ہمارے ہم جماعت ڈاکٹر اقبال قدوسی چائلڈ سپیشلسٹ کے چچا تھے۔ قدوسی نام بہت نایاب ہے۔ اس لیے میں نے اس کی اصلیت کے بارے میں پوچھا۔ کرنل صاحب نے کہا، میرا تعلق یوپی سے ہے۔ جب میں نے کالج میں داخلہ لیا تو میں نے دیکھا کہ ہر ایک نام کے ساتھ کچھ لگا  رہا  ہے۔ میں نے اپنے اسلاف کے بارے میں سوچا اور حضرت عبدالقدوس گنگوہی میرے شجرہ نسب میں تھے۔  اس طرح میں قدوسی بن گیا۔

این سی سی 1974

۔ جی سی اٹک میں  نیشنل کیڈٹ کور کا ہمارا  پہلا بیچ تھا ۔صوبیدار یاسین اورحوالدارعمر جان ٹریننگ کے ذمہ دار تھے

پروفیسر ظاہر فاروقی اردو این سی سی کے آفیسر انچارج تھے۔ سمارٹ ٹرن آؤٹ والے سینئر کیڈٹ نجم الحسن صدیقی تھے۔۔۔۔وہ میجر محمود کے بیٹے تھے ۔ان پر وردی خوب سجتی تھی ۔ ان کا  کاشن (caution) دینے کا انداز خالص کاکول مارکہ تھا۔

این سی سی کرنے پرحاصل کردہ نمبروں میں 10% اضافی نمبروں کا  کا وعدہ کیا گیا تھا۔ ایف ایس سی میں میرے نمبر 697 تھے۔ اس کا مطلب ہے کہ 69 نمبر شامل کر کے

  766/1000 نمبر بن گئے

  جن کالجوں میں این سی سی شروع نہیں ہوئی تھی ان  کے طلباء نے 10 فیصد نمبروں کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔

   10 فیصد کو صرف 20 نمبروں میں تبدیل کرنے کے فیصلے میں 8 مہینے لگے –

   میرے جیسے کے ای والوں کو ان 20 نمبروں کی ضرورت نہیں تھی۔لیکن  ہم نے بھی اپریل 1975 میں MBBS سیشن کا آغاز دیر سے کیا تھا۔

  این سی سی کے دوران ہم آرٹلری سنٹر فائرنگ رینج میں ٹارگٹ پریکٹس کے لیے گئے۔ ہم نے آرٹلری سنٹر کے مشرق میں ایک رات کی مشق exerciseبھی کی۔

حوالہ

1-اٹک کے اہل قلم

ڈاکٹر عبدالسلام

Next Post

قنبر نقوی سے مکالمہ

اتوار مارچ 20 , 2022
ادب کا ساتھ دیں ۔ جس طرح علم انسان کا محافظ ہے ۔ اس طرح ادب علم کا محافظ و معاون ہے علم ادب کی زندگی پرا من زندگی ہے
قنبر نقوی سے مکالمہ