Tag: نماز شب

  • ہمارے اعمال کی محمدؐ وآل محمدؐ  کے پاس پیشگی

    ہمارے اعمال کی محمدؐ وآل محمدؐ کے پاس پیشگی

    سورہ توبہ آیت نمبر 105 میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے

    وقل اعملوا فسیری اللہ عملکم ورسولہ والمومنون ط

    توبہ 105

    ترجمہ:۔

    اور کہہ دیجیے کہ تم عمل کرتے رہو، سو دیکھے گا اللہ تمہارے اعمال کو اور اس کا رسولؐ اور مومنین بھی ۔

    اس آیت کریمہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے اعمال کو اللہ،  اس کا رسولؐ اور مومنین دیکھتے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ مومنین کون ہیں؟ جو ہمارا عمل دیکھتے ہیں کیونکہ ہم تو ایک دوسرے کا عمل نہیں جانتے کہ کون کیا کر رہا ہے۔

    امام جعفر صادق علیہ السلام مذکورہ آیت کے متعلق فرماتے ہیں کہ "اس آیت میں مومنین سے مراد ہم آلِ محمدؐ ہیں”۔ جن کے سامنے اعمال پیش کیے جاتے ہیں ہم اپنے مومنین کے اچھے اعمال دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور برے اعمال دیکھ کر رنجیدہ ہوتے ہیں ۔

    نمازِ شب مومن کی پہچان ہے اور اس کے اجر کا اندازہ لگانا انتہائی مشکل ہے۔ جتنا تذکرہ اس سے پہلے کر چکا ہوں یہ سب آنحضورؐ کے فرامین اور آپ کی طاہر اہلبیت کے فرامین کی روشنی میں لکھا ہے ۔ کیونکہ جہاں ہمارے علم کی انتہا ہوتی ہے وہاں سے ان طاہر ہستیوں کے علم کی ابتداء ہوتی ہے۔ ہمارا روز کا عمل جب ان ہستیوں کی بارگاہ میں پیش کیا جاتا ہے۔ تو آئمہ معصومین دیکھ کر کیا سوچتے ہوں گے۔  اس کا اظہار میں کیسے اپنے الفاظ میں کروں؟  کیونکہ قلم کی نوک شرم سے رک جاتی ہے اور ہاتھ بے ساخته کانپ جاتے ہیں ۔ وہ اس لیے کہ ہمارے اعمال نہ جانے کیوں کم تر ہو کر رہ گئے ہیں۔ حالانکہ آئمہ معصومینؑ کی روشنی میں وہی بندہ اُن کا محب ہے جو ان کی مکمل طور پر پیروی کرتا ہے اگر آئمہ نمازِ شب  پڑھیں تو محب نمازِ شب پڑھیں ، اگر وہ حج کر یں تو محب حج کریں ، اگر وہ خمس و زکوة دیں تو محب بھی اس کارِ خیر کو احسن طریقے سے سرانجام دیں۔

    اگر آئمہ حرب وضرب سے اسلام کی حدود کی حفاظت کریں تو محب کو بھی اس میدانِ عمل میں اترنا چاہئے۔ اگر آئمہ طاہرین یزیدیت کی اینٹ سے اینٹ بجا کر ناموسِ  اسلام کے لیے اپنے اہل وعیال کی قربانیاں دیں تو محب کو بھی مذہب کے لیے خونِ دل دیکر چراغاں کرنا چاہیے۔

     اگر آئمہ معصومین  رات کی تنہائیوں میں اپنی نورانی جبینوں کو سجدہ ریز کریں تو محب کو نمازِ شب کا دامن تھام کر سچا حبدار اور مومن بننے کا ثبوت دینا چاہیے۔

    میں قرطاس پر رقم کر رہا تھا کہ ہمارا ہر روز کا عمل آئمہ طاہرین کی بارگاہ میں پیش کیا جاتا ہے تو مولا علیؑ  مومنین کے نیک اعمال کے نقائص دور فرما کر یعنی ان اعمال کی تصحیح کر کے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں بھیجتے ہیں ۔

    ہمارے گناہوں کے انبار جب مولا علیؑ  دیکھتے ہوں گے تو ہمارے وہ امام جو جنگِ خیبر میں مرحب کی دہشت سے پریشان نہ ہوئے جو جنگِ خندق میں عمرو بن عبدود کی تلوار کی تیز دھار سے مرعوب نہ ہوئے اور جنگ کے بھڑکتے ہوئے شعلوں میں ذوالفقار لے کر کود گئے وہ  ہمارے مولا علی کرم اللہ وجہہ اپنے ماننے والے محبین کا عمل دیکھ کر ضرور پریشان ہو جاتے ہوں گے۔ ہمارے نفیس مزاج امام حسنؑ جو امن و سلامتی کے سفیر تھے اپنے محبوں کی بد امنی، بے عملی اور گروہی تقسیم پر خون کے آنسو روتے ہوں گے ہمارے وہ امام حسینؑ جو مسلمانوں کے پتھروں نیزوں تیروں اور تلواروں بلکہ امت کی دی ہوئی تشنہ لبی سے پریشان نہ ہوئے اور حضرت علی اصغرؑ کی عظیم قربانی دینے سے بھی دریغ نہ کیا اور جنہوں نے نمازی کی پہچان ہی ایسے کرائی تھی  کہ کائنات میں نہ پہلے کسی نے کرائی تھی اور نہ ہی اس عظیم مرتبے تک کسی کی رسائی ممکن ہے آپ نے نمازی کی پہچان ہی اس طرح کرائی کہ سجدے میں سر مبارک خود رکھا لیکن اٹھایا کسی اور نے۔

    hubdar qaim

    سیّد حبدار قائم

    کتاب ‘ نماز شب ‘ کی سلسلہ وار اشاعت

  • جہنم کا ایندھن نہ بنو

    جہنم کا ایندھن نہ بنو

    کیا ہم اس عظیم رب کے لیے اتنی ساعتیں بھی وقف نہیں کر سکتےکہ جس نے زیست کی یہ ساعتیں ہمیں عطا کی ہیں ۔ قرآن حکیم سورہ التحریم میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے ۔

    یایھا الذین امنو اقوا انفسکم واھلیکم نارا و قودھا الناس والحجارہ

    التحریم

    اے ایمان والوں بچاؤ  اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔

    اللہ جل شانہ بڑا رحیم ہے ۔ اُ س نے مغفرت و بخشش کے لا تعداد بہانے بنائے ہیں ۔ اس لیے کہ اُس کا کوئی بھولا بھٹکا بندہ راہ مستقیم پر آنا چاہے اور وہ کسی وقت بھی توبہ کر لے تو اللہ رب العزت اس کو بخش دیتا ہے ۔ مندرجہ بالا آیت کریمہ میں اللہ رب العزت فرماتا ہے  کہ ایک شخص کی ذمہ داری محض اپنی ذات کو جہنم کے درد ناک عذاب سے بچانے کی کوشش تک محدود نہیں بلکہ اس کا کام یہ بھی ہے کہ نظام فطرت نے جس خاندان کی سربراہی کا بار اس پر ڈالا ہے انکو بھی اپنی بساط اور طاقت کی حد تک ایسی تعلیم و تربیت دے جس سے وہ خداوند غفار کے پسندیدہ انسان بنیں اور جہنم کا ایندھن بننے کی بجائے اس غفار ذات سے مغفرت طلب کریں اور رات کی وسعتوں میں اس کے آگے سجدہ ریز ہو کر اپنے صغیرہ و کبیرہ گناہوں کی معافی طلب کریں تو وہ کریم  ان کو اتنا عطا فرمائے گا جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے ۔ نمازِ شب میں قرآن حکیم کا پڑھنا بہت عظیم اجر کے حصول کا ضامن ہے کیونکہ درسِ انقلاب یہ اللہ کی مقدس کتاب جس وقت بھی پڑھی جائے حصولِ علم و حکمت کا باعث ہے۔ اس کی فیوض و برکات اتنی زیادہ ہیں کہ ان کا شمار کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ اسی لیے تو حکم ہے کہ

      تم میں بہتر وہ ہے جو قرآن پڑھے اور دوسرے لوگوں کو اس کی تعلیم دے

     نمازِ شب اور  قرآن حکیم کے حسیں امتزاج سے شب کی ہر ساعت نور میں جلوہ طور کا سماں پیش کرتی ہے ہر لمحہ نکھر کر گلاب بن جاتا ہے فضا کی تاریکی درخشانی میں بدل کر نمازی کو حیرت و استعجاب  سے نکال کر علم و حکمت کے کئی در وا کرتی ہے ۔ قرآن حکیم کی تلاوت نمازِ شب میں ایک عجیب لطف عطا کرتی ہے۔ خالق کائنات نے اس کا اتنا زیادہ اجر رکھا ہے کہ دور حاضر کا سیاہ کار انسان نمازِ شب پڑھ کر اعلٰی مقام پر فائز ہو جاتا ہے اسی لیے تو نمازِ شب کو مال اور دولت کی زینت قرار دیا گیا ہے ۔ جب باب علم پر دستک دیں تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ نماز شب میں قرآن حکیم فرقان حمید کی تلاوت کا اجر ہے

    ” ماہنامہ تحریک ” کے باب نمازِ شب کی فضیلت میں مولانا اسد علی شجاعتی فرماتے ہیں :۔

    "” ایک شخص نے مولا علی کرم اللہ وجہہ سے پوچھا کہ قرآن کی تلاوت کے لیے رات کو جاگنا کیسا ہے ؟

    تو آپ نے جواب میں فرمایا۔

    میں مبارک باد دیتا ہوں ہر اس شخص کو جو رات کا کچھ نہ کچھ حصہ عبادت و نماز میں گزار دیتا ہے۔

    مولا علی علیہ السلام

               جو شخص رات کا دسواں حصہ خدا کے لیے اور اسکی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے صرف کر دیتا ہے تو خدا فرشتوں سے کہتا ہے کہ میرے اس بندے کا ثواب آج کی شب اگنے والے تمام درختوں پتوں اور دانوں کی تعداد کے برابر لکھ دو۔اس تعداد میں دنیا میں موجود تمام چراگاہوں ، بید کی تمام شاخوں اور گھاس پھوس کی تمام پتیوں کی گنتی بھی شامل کر دو!

    اور جو شخص رات کا نواں حصہ عبادت میں گزارتا ہے خدا اس کی مراد پوری کر دیتا ہے ۔ اس کو بخش دیتا ہے اور قیامت کے دن نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیتا ہے ۔ اور جو شخص رات کا آٹھواں حصہ عبادت میں گزارتا ہے اس کو خدا ایسے شخص کے برابر ثواب دیتا ہے جس نے سچی نیت کے ساتھ میدان جہاد کی سختیوں کو برداشت کیا ہو اور شہید ہو گیا ہو ! صرف یہی نہیں بلکہ اس کو اتنی اجازت بھی عطا فرماتا ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کی شفاعت کر سکے۔

             اور جو  شخص رات کا ساتواں حصہ نماز پڑھتے ہوئے گزار دیتا ہے ۔ حشر کے دن قبر سے کچھ اس عالم میں نکلے گا کہ اس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح دمکتا ہوا ہوگا۔ صرف یہی نہیں بلکہ وہ پل صراط سے بہت آرام کے ساتھ گزر جائے گا۔

    اور جو شخص رات کا چھٹا حصہ نماز شب پڑھنے میں گزار دیتا ہے اس کا نام خدا کی طرف رجوع کرنیوالوں میں لکھ دیا جاتا ہے اور اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں ۔

    اور جو شخص رات کا پانچواں حصہ عبادت و نماز میں بسر کر دیتا ہے مرنے کے بعد حضرت ابراھیم خلیل اللہؑ  کے ساتھ ہو گا۔

    اور جو شخص رات کا چوتھا حصہ نماز میں صرف کرتا ہے وہ ایسے حضرات میں شمار ہو گا جو تیز ہوا کی طرح پل صراط سے گزر جائیں گے صرف یہی نہیں بلکہ بہشت میں ان کے درجوں کا بھی کوئی حساب معین نہیں ہو گا ۔

    اور جو شخص رات کا تیسرا حصہ نماز پڑھتے ہوئے گزار دیتا ہو کوئی فرشتہ ایسا باقی نہیں رہتا

    جو خدا کی جانب سے ملنے والے اس کے مقام کو دیکھ کر اس پر رشک نہ کرے ۔ اسے کہا جائے گا کہ جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس سے چاہو داخل ہو جاو۔

    اور جو شخص آدھی رات نماز شب پڑھتے ہوئے بسر کر دیتا ہے اگر زمین کو ستر ہزار مرتبہ سونے سے بھر دیا جائے تب بھی اس کی جزا پوری نہیں ہوتی ! اگر کوئی شخص حضرت اسماعیلؑ  پیغمبر کی نسل کے ستر غلاموں کو آزاد کرے تب بھی وہ آدھی رات نماز پڑھنے والے کی برابری نہیں کر سکتا !

         اور جو شخص دو تہائی رات نماز شب پڑھتے ہوئے گزار دیتا ہے اس کی نیکیاں رات ان ذرات کی طرح کثیر ہوتی ہیں۔ جو ٹیلے کی شکل میں جمع ہوگئی ہوں اور ٹیلا بھی ایسا جو کوہ احد سے دس گنا زیادہ بڑا ہو اور جو شخص پوری رات قرآن مجید کی تلاوت ، رکوع ، سجود، اور خدا کے مسلسل ذکر میں گزار دیتا ہے تو خدا اس کو کم از کم ثواب ضرور عطا فرماتا ہے کہ اس کے تمام گناہوں کی تلافی ہو جاتی ہے وہ ایسا بھی بن جاتا ہے  جیسے آج ہی دنیا میں آیا ہو صرف یہی نہیں بلکہ خدا نے جتنی بھی قسم کی نیکیاں اور جتنے بھی درجے بنائے ہیں ۔ اتنی نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں لکھ دی جاتی ہیں ۔ اس کی قبر ہمیشہ حشر تک بر قرار رہنے والےنور سے روشن رہتی ہے ۔ اس کا دل گناہ اور حسد سے پاک رہتا ہے وہ دنیا میں بھی عذاب سے آزاد قرار دیتا ہے۔ اسے ” امان پانے والوں ” کے ساتھ محشور کیا جاتا ہے ۔ اور خدائے تعالٰی اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے ۔

    اے میرے فرشتو میرے بندے کو دیکھو وہ رات بھر میری خوشنودی کے لیے بیدار رہا۔ اس کو جنت میں جگہ دو اور ایک لاکھ شہر اس کے نام لکھ دو اور ایسے شہر کہ جو اس کو پسند آئیں ۔ جو بھی اس کی خواہش ہے اور اس کے خیال میں جو  بھی ہو اسے دے دو ۔ اس کی خواہش پوری کر دو ۔ میں نے اسکی عزت بڑھا دی ہے اور اسے اپنا قرب عطا کیا ہے اس کے علاوہ بھی میں اجازت دیتا ہوں کہ اس کو اپنی مرضی سے جو چاہے میری فراہم کی ہوئی نعمتوں سے دیتے رہو۔””

    جب اتنا زیادہ اجر دیکھا تو میرا وجدان یوں اظہار کرنے لگا :۔

    مجھے رب کی الفت، جنوں مل گیا ہے

    تہجد سے دل کو سکوں مل گیا ہے

    گناہوں پہ رویا تو قائم خدا سے

    ہمیشہ سکونِ دروں مل گیا ہے

    hubdar qaim

    سیّد حبدار قائم

    کتاب ‘نماز شب’ کی سلسلہ وار اشاعت

  • کربلا والے اور نمازِ شب

    کربلا والے اور نمازِ شب

    نمازِ شب کی اہمیت کو سمجھنا ہو تو کربلا کے بادشاہ !  جن کے متعلق خواجہ معین الدین اجمیری ؒ نے کیا خوب لکھا ہے

    شاہ است حسین بادشاہ است حسین

    خواجہ معین الدین اجمیری ؒ

    وہ بادشاہ جس کے طاہر بدن پر اتنے زخم لگے کہ ہوا زخموں سے باآسانی گزر جاتی تھی۔ زخموں سے چور بدن پر کربلا کی گرم ریت پڑتی تو کربلا کا بادشاہ اللہ رب العزت کا شکر ادا کرتا تھا۔ وہ کربلا کا بادشاہ جو شہزادہ علی اصغر ؑ کا درد لیے اور علی اکبرؑ کا غمِ فرقت لیے اور نہ جانے کتنے درد سینے میں لیے آخری سجدے کے لیے خیموں میں تیاری کر رہا تھا ۔تمام بیبیوں کو الوداع کر کے مقتل کی طرف چلنے لگے تو آخر میں ایک بوڑھی عورت ملتی ہے امام ؑانتہائی احترام و عقیدت سے فرماتے ہیں۔

    یا فضتہ علیک السلام

    یعنی اے فضہ تم پر میرا سلام ہو ۔

    جنابِ فضہ کو الوداع کر کے امام ؑکچھ قدم آگے بڑھتے ہیں ۔ تو حدِ خیمہ تک محرومتہ المسرت بی بی ( جناب زینبؑ ) ساتھ آتی ہیں بی بی جانتی ہیں کہ ان کا عظیم بھائی عظیم قربانی کے لیے جارہا ہے بی بی کے دل میں غم کے طوفان امڈتے ہیں اور طوفان کیوں نہ ہوں کہ جن کے گھر کے سب افراد شہید ہو جائیں اور آخری فرد اجل کے منہ میں جا رہا ہو ۔ تو اس  گھر کی عورتوں کی کیا حالت  ہو تی ہے۔ لیکن میں قربان کر دوں اپنی زندگی کی ساری ساعتیں بی بی زینب سلام اللہ علیہا کے حوصلوں پر ، آپ کی جرات پر، آپ کے جزبے اور آپ کے ایمان پر کیونکہ دین بچ رہا ہے۔ دین کی پیاس خون حسینؑ سے بجھے گی دین کی تشنہ لبی امام دور فرمائیں گے۔

    حدِ خیمہ پر پہنچ کر دونوں بہن بھائی رک جاتے ہیں غموں سے نڈھال تشنہ لب حسینؑ  بہن کی غربت اور چادر کی طرف دیکھتے ہیں تو امام جانتے ہیں کہ ان کے شہادت کے بعد یہ چادرِ فاطمہ بنتِ رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی لٹ جائے گی ۔ امام نگاہیں نیچی کر لیتے ہیں تو بہن مخاطب کر کے کہتی ہے۔ کہ بھیا مجھے پتا ہے کہ آپ کی زندگی بہت کم ہے اور یہ آخری رخصت ہے بھیا مجھے اماں جان نے حکم دیا تھا کہ جب حسینؑ ! وہ حسینؑ  جسے میں نے بڑی محنت سے پالا ہے جب آخری بار الوداع کہے تو زینب  ! میری طرف سے اس کا گلا چوم لینا ۔ مجھے ماں کی وصیت کو پورا کرنا ہے بھیا گلا کھولو۔ حسینؑ  نے اپنے بند قبا کھول دیے۔ بی بی نے اپنے بھائی کے گلے پر بوسہ دیا اور امام  سے لپٹ گئیں۔ اس کے بعد امام حسینؑ فرماتے ہیں کہ مجھے بھی اماں حضور نےحکم دیا تھا کہ جب آخری الوداع کروں اور جانے لگوں تو میری بیٹی زینبؑ  کے بازو پر میری طرف سے بوسہ دینا۔ تم بازو کھولو میں تمہارے بازو چوم لوں ۔ حسینؑ بہن کے بازو چوم لیتے ہیں اور جانے کی اجازت طلب کرتے ہیں اور اپنی بہن کو وہ وصیت کرتے ہیں ۔ جسے شائد ہم مسلمان شیعہ اور سنی فراموش کر چکے ہیں ۔ وہ وصیت کیا تھی ! ایک درس ہے ، ایک علم ہے ، ایک ضابطہ حیات ہے اور وہ یہ کہ جتنی بھی تکالیف آئیں اس درس کو نہیں بھولنا امامؑ ارشاد فرماتے ہیں ،

    یا اختاہ لا تنسینی فی نافلتہ الیل

    اے بہن! تم مجھ کو نمازِ شب میں نہ بھولنا

    امام حسینؑ
    light art vintage architecture
    Photo by Murtaza Azal on Pexels.com

    امام زین العابدینؑ ارشاد فرماتے ہیں کہ عاشورہ کے بعد ہم پر مصائب کے پہاڑ توڑے گئے ہماری سواریوں کو دوڑایا گیا جسکی وجہ سے ہمارے کئی بچے اونٹوں اور گھوڑوں کی ٹاپوں تلے روندے گئے اتنے زیادہ مصائب و آلام ڈھائے جانے کے باوجود میری پھوپھی زینبؑ نے نمازِ شب کو کبھی ترک نہیں فرمایا۔

    حضرت امام حسینؑ اپنی بہن حضرت زینب سلام اللہ علیہا  سے مصائب کے عالم میں کیا کہتے ہیں  میرے لکھے ہوئے قطعہ میں ملاحظہ فرمائیں :۔

    شریعت کو ضرورت ہو تو جاں دینا محبت میں

    خدا کے دین کی خاطر ہمیشہ رہنا سبقت میں

    سواری پر اسیری میں اگرچہ سہل بھی نہ ہو

    مجھے نہ بھولنا اپنی نمازِ شب کی کثرت میں

    آج ملت اسلامیہ بی بی زینبؑ کی مقروض ہے وہ عظیم بی بی جس کا کچھ نہ بچا لیکن ہمارے پردے اور ہماری عزت و ناموس کو بچا گئی ہے اب وفا کا یہی تقاضا ہے کہ ہم بھی ہر مشکل ہر آسانی بلکہ زیست کی ہر ساعت میں اللہ پاک کی بارگاہ میں بی بی زینب کا شکریہ ادا کرکے نمازِ شب ادا کریں اور اپنی پیشانی اس رب کعبہ کے سامنے خم کریں جو واحد ہے لم یلد ہے ولم یو لد ہے، جس کا کوئی ہمسر نہیں ۔ وہ عظیم رب جو پتھر میں بھی کیڑے کو رزق دیتا ہے  کیو نکہ وہ خیرالرازقین ہے وہ کریم رب ! جو پہاڑوں سے ٹھنڈے اور میٹھے چشمے جاری کرتا ہے وہ پاک رب! جو ایک ہی مٹی سے چنبیلی بھی اگاتا ہے اور گلاب بھی ، موتیا بھی خلق کرتا ہے اور گل بنفشہ بھی ۔ اسکی ذات پاک ہے ۔ عظیم ہے۔ اعلی ہے۔ رحیم ہے کریم ہے ۔ نمازِ شب ادا کر کے اس کا شکر ادا کرنا چاہیے ۔

    حبدار قائم

    سیّد حبدار قائم

    کتاب ‘ نماز شب ‘ کی سلسلہ وار اشاعت

  • نماز شب والوں کے گھر ستاروں کی مانند

    نماز شب والوں کے گھر ستاروں کی مانند

    نماز شب کے متعلق ایک اور روایت ہے کہ:

      جن گھروں میں نماز شب پڑھی جاتی ہو اور قرآن کی تلاوت ہوتی ہو ، جس طرح زمین والوں کو ستارے چمکدار اور روشنی پھیلانے والے نظر آتے ہیں ان لوگوں کے گھر بھی اسی طرح روشن اہلِ فلک دیکھتے ہیں

    میرا شعر ملاحظہ کیجیے:۔

    نمازِ شب سے روشن تھا مرا گھر بھی ستاروں سا

    اگرچہ قمقمے نہ تھے مرے گھر میں کہیں روشن

    سبحان اللہ ! نمازِ شب کی کیا شان ہے ؛ کیا عظمت ہے؛ کیا عرفان ہے؛ اللہ کی بارگاہ میں آنسووں ، سسکیوں، آہوں اور استغفار کے نذرانے دے کر ہی انسان رحمتوں کے خزینے ، سعادتوں کے مرکز اور انوار الٰہی سمیٹ کر منور ہو سکتا ہے۔

    iattock
    Image by Gerd Altmann from Pixabay

    نمازِ شب کے لیے بیدار ہونے والے شخص کی نظر جب گلاب کی پنکھڑیوں پر موجود شفاف شبنم کے قطروں پر پڑتی ہے تو روحانی سکون کے ساتھ جسمانی سکون بھی حاصل ہوتا ہے ۔ بے ساختہ سبحان اللہ اور ماشاءاللہ جیسے عظیم کلمے لبوں پر مچل جاتے ہیں اور اللہ رب العزت اس شخص کے قلب کو مجلٰی اور اس کے وجود کو مزکٰی کر دیتا ہے اور یہ مبارک ساعتیں تمام عمر دل کے آبگینوں میں معرفت و حکمت کی تنویر بن کر فروزاں رہتی ہیں نماز شب کا پڑھنا قلب کی پاکیزگی کے علاوہ چہرے کو پر نور اور روح کو معطر کرتا ہے۔ سید الساجدین حضرت امام زین العابدینؑ  سے پو چھا گیا کہ کیا وجہ ہے ؟ کہ جو لوگ نمازِ تہجد پڑھتےہیں ان کے چہرے دوسرے تمام لوگوں کی نسبت نیکوتر ہوتے ہیں ؟

    آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا

         "چونکہ یہ لوگ اللہ تعالٰی سے تنہائی میں راز و نیاز کرتے ہیں اور اللہ اپنے نور سے ان کے چہرے منور کر دیتا ہے”

    امام زین العابدینؑ

    سیّد السّاجدین کے اس قول پر میرا یہ شعر کتنا صادق آتا ہے:۔

    خدا نے کر دیا روشن مرے چہرے کی زردی کو

    نمازِ شب سے ملتی ہے بزرگوں سی حسیں صورت

    حبدار قائم

    سیّد حبدار قائم

    کتاب ” نماز شب ‘ کی سلسلہ وار اشاعت

  • قرآن اور نمازِ شب

    قرآن اور نمازِ شب

    قرآن و سنت کی روشنی میں نمازِ شب کی فضیلت کا اندازہ لگانا ہو تو اللہ رب العزت کی درخشاں کتاب قرآن مجید کا مطالعہ کیجیے جس میں نمازِ شب کی اہمیت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے اللہ تعالٰی اپنے حبیبؐ سے سورہ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 29 میں یوں مخاطب ہوتا ہے ۔

    وَ مِنَ الَّیْلِ فَتَهَجَّدْ بِهٖ نَافِلَةً لَّكَ ﳓ عَسٰۤى اَنْ یَّبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُوْدًا

    بنی اسرائیل 29

    ” اور رات کے خاص حصے میں نماز تہجد قرآن کے ساتھ پڑھا کرو یہ سنت تمہاری خاص فضیلت ہے

    قریب ہے کہ ( قیامت کے دن ) خدا تم کو مقام محمود  ( اعلی درجے ) تک پہنچائے۔”

    مقامِ محمود پر میرے یہ اشعار ملاحظہ کیجیے:۔

    محمدؐ جہاں پر

    شفاعت کریں گے

    ہماری، تمہاری

    وہ "محمود” پر اک

     ادا کر کے سجدہ

    کرے گا وہ ٹھنڈا

    خدا کا وہ غصہ

    شفاعت کی دولت

    عطا ہو گی رب سے

    محمدؐ کے دم سے

    خدا کے کرم سے

    قرآنِ حکیم فرقانِ حمید کے مطابق جب عابد و زاہد کی شب بیداری ، خوف و خشیت ، شوق و وارفتگی ، سوز و گراز ، آہ و زاری اور تلاوت قرآن کے رنگوں سے ضیا حاصل کرتی ہے تو لذت و سرور کا مزہ دیدنی ہوتا ہے ۔ ” فرشتوں سے بہتر ہے انسان ہونا” کے مصداق انسان علم و آگہی کے بے کراں سمندر میں سجدہ ریزی سے غوطہ زن ہو تا ہے۔

    کیو نکہ شب کی تاریکیوں میں اپنی جبین کو جھکانے والے افراد کو اللہ  رب العزت علم و عرفان کی ان بلندیوں پر پہنچا دیتا ہے ۔ جس کا عام انسان تصور بھی نہیں کر سکتا ۔ ” ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ” کے مصداق تہجد گزار کائنات کے سر بستہ رازوں پر دسترس حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ سجدہ ریز جبین  نم آنکھوں اور عشقِ حقیقی سے لبریز ہو۔ کیو نکہ عشق کے بغیر عبادت کا مزہ نہیں ہوتا رات کے سناٹوں میں نیند کی قربانی دینا عشق کی ادنٰی سی مثال ہے اور عشق کے لیے تو زخمِ دل بھی سنبھال کر رکھنے پڑھتے ہیں۔

    یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجیئے

    اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے

    عشقِ حقیقی کے قندیل انسانیت کی معراج ہے۔ شب بیداری کے متعلق مولا علی کرم اللہ وجہہ نہج البلاغہ خطبہ نمبر 191 میں ارشاد فرماتے ہیں ۔

        رات ہوتی ہے تو ( عبادت کے لیے ) اپنے پیر جوڑ کر کھڑے ہو جا تے ہیں قرآن کی آیتوں کی ٹھہر ٹھہر کر آرام کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں آیات کی زمزمہ خوانی اور اس کے مفاہیم پر توجہ کی وجہ سے اپنے دلوں میں عارفانہ غم و اندوہ کی لہریں پیدا کرتے ہیں اور اس طرح اپنے درد کی دوائیں ڈھونڈتے ہیں ۔

    نہج البلاغہ، خطبہ 191

    قرآن کی زبان سے جو کچھ سنتے ہیں گویا وہ ان کی اپنی آنکھوں سے مشاہدہ بھی کرتے ہیں ۔ جب کسی ایسی آیت رحمت پر ان کی نگاہ پڑتی ہے جس میں جنت کی ترغیب دلائی گئی ہو تو طمع میں پڑ جاتے ہیں اور اس کے اشتیاق میں ان کے دل بے تابانہ کھنچنے لگتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ پر کیف منظر بالکل ان کی نظروں کے سامنے یا ان کا نصب العین ہے

    اور جب کسی آیت قہر و غضب پر ان کی نظر پڑتی ہے کہ جس میں دوزخ سے ڈرایا گیا ہو تو اس کی جانب دل کے کانوں کو لگا دیتے ہیں اور گمان کرتے ہیں گویا جہنم کے شعلوں کے بھڑکنے کی آواز اور چیخ و پکار ان کے کانوں تک پہنچ  رہی ہے وہ ( رکوع میں ) اپنی کمریں جھکا دیتے ہیں اور  ( سجدہ میں ) اپنی پیشانیاں اور ہتھیلیاں ، گھٹنے اور قدموں کے سرے ( انگوٹھے) زمیں پر بچھا دیتے ہیں اور اللہ سے اپنی گلو خلاصی کے لیے التجائیں کرتے ہیں۔ ( یہی لوگ جن کی راتیں اس طرح شب بیداری میں بسر ہوتی ہیں ) دن ہوتا ہے تو اپنی اجتماعی زندگی میں ایک نیکو کار اور پرہیز گار مرد نظر آتے ہیں "

    مولا علی کرم اللہ وجہہ  کی نمازِ شب کے متعلق مندرجہ بالا تعلیمات بوڑھوں کے لیے سکون ، جوانوں کے لیے راحت، بیکسوں کےلیے رحمت اور

     ناتوانوں کے لیے امن کا مژدہ اور بہترین درس ہے۔

    سورہ تکویر میں قیامت کی دہشت ناکی کچھ اس طرح بیاں کی گئی ہے :۔

      جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا اور جب زمین لپیٹ دی جائے گی

    تکویر

    قیامت کے اس ہولناک منظر کو سب انسان دیکھتے ہوں گے اور ان کے  وجود کانپتے ہوں گے کلیجے منہ کے بل باہر آتے ہوں گے  اس لیے اب ہمیں استغفار کے ساتھ  شب بیداری اور اس میں آہ و زاری کر کے اللہ کے قریب  ہونا چاہیے تا کہ حشر کی گرمی سے بچیں اور آقا پاک ﷺ  کے امن کے جھنڈے کا سایہ تب ہی نصیب ہو گا کہ جب ہم اسوہ رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آئمہ طاہرین کے بتائے ہوئے ذریں ضوابط پر عمل کریں۔ نمازِ شب مقامِ عرفان تک کے لیے ایک سیڑھی ہے اس کی اہمیت میرے اس شعر میں ملاحظہ کیجیے:۔

    نمازِ شب کی الفت رکھ اگر جنت کا شائق ہے

    وہی جنت میں جائے جو عمل میں سب سے لائق ہے

    حبدار قائم

    سیّد حبدار قائم

    کتاب ‘ نماز شب ‘ کی سلسلہ وار اشاعت

  • مولا علیؑ کا حکمِ نمازِ شب اور جہنم سے آزادی کا پروانہ

    مولا علیؑ کا حکمِ نمازِ شب اور جہنم سے آزادی کا پروانہ

    نمازِ شب کے متعلق آنحضور ؐجو مرکز عالم ہیں ،جو وارث زمزم ہیں ،جو مبداء کائنات ہیں جو مخزن کائنات ہیں، جو منشائے کائنات ہیں، جو مقصودِ کائنات ہیں ، جو سیّدِ کائنات ہیں ، جو سرور کائنات ہیں ، جو مقصدِ حیات ہیں، جو منبع ء فیوضات ہیں جو افضل الصلوات ہیں، جو خلاصہء موجودات ہیں ، جو صاحبِ آیات ہیں ، جوصاحبِ معجزات ہیں، جو باعثِ تخلیقِ کائنات ہیں، جو جامع صفات ہیں ، جو اصلِ کائنات ہیں ،جو فخرِ موجودات ہیں ، جو ارفع الدرجات ہیں ،جو اکمل الرکات ہیں بلکہ جو واصلِ ذات ہیں نے مولا علی کرم اللہ وجہہ کو ارشاد فرماتے ہوئے تین مرتبہ کہا۔

    علیک بصلوات الیل : یعنی تم نماز شب ضرور ادا کرو، تم نماز شب ضرور ادا کرو ، تم نماز شب ضرور ادا کرو۔

    جب بھی انسان دل کی گہرائیوں سے نمازِ شب میں اللہ رب العزت سے ہمکلام ہوتا ہے تو جذبات کی رو تیز ہو جاتی ہے اور احساسِ الفت کی قندیل پورے آب و تاب سے جگمگانے لگتی ہے تو انسان کی سوچ اور ذہن و دل کے نہاں خانوں میں نمازِ شب چراغاں کر دیتی ہے  اور جب انسان اللہ تعالٰی کی وحدانیت کے بے کراں سمندر کی آغوش میں چلا جاتا ہے تو انسان کو رحمتوں اور برکتوں کے خزینے نظر آتے ہیں۔ابن عباس حضرت  رسول اکرمؐ سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضور نے ارشاد فرمایا۔

    Namaz
    Image by chiplanay from Pixabay 

    "اللہ تعالی کا ایک فرشتہ ہے جس کا نام سخائیلؑ ہے جب بھی کوئی نمازی نماز پڑھتا ہے تو وہ پروردگار عالم سے نمازی کے لیے جہنم سے آزادی کا پروانہ اور اجازت نامہ حاصل کر لیتا ہے ۔”

    سبحان اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بال جبریل میں علامہ اقبال نے امت مسلمہ کے ضمیر کو جگانے کی کو شش کی ہے ۔ اپنی نظم

     ” اذان ” میں لکھتے ہیں ، دو شعر لکھتا ہوں

    اک رات ستاروں سے کہا نجم سحر نے

    آدم کو بھی دیکھا ہے کسی نے کبھی بیدار

    واقف ہو اگر لذت بیداری ء شب سے

    اونچی ہے ثریا سے بھی یہ خاک پر اسرار

    جب پرندے سپیدہ ء سحر نمودار ہونے پر اللہ کی ثناء شروع کر دیتے ہیں تو اشرف المخلوقات انسان کو ان سے پہلے بیدار ہونا چاہیے اور یہ صرف اس صورت میں ممکن ہو سکتا ہے کہ جب ہم اسوہ رسول صلیٰ اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آئمہ طاہرینؑ کی دی ہوئی درخشاں تعلیمات پر سختی سے عمل کریں ۔

    ”   جو شخص نماز شب ادا نہ کرے وہ ہمارے شیعوں میں سے نہیں ہے”

    امام جعفر صادقؑ کے اس قول میں لفظ "شیعہ” بہت زیادہ وسعت لیے ہوئے ہے اس سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ خواہ وہ کسی بھی فرقے سے تعلق رکھتے ہوں اور اہل بیتِ رسولؐ سےمودت رکھتے ہوں ان کو شیعہ کہا گیا  ہے اگر وہ نمازِ شب نہیں پڑھتے تو ان کا مودت والوں کے ساتھ  تعلق بالکل نہیں ہے۔

    آج کے اس ترقی یافتہ دور میں اگر کوئی فرد تہجد سے اپنے دامن کو پر نور نہ بنائے تو اس کو شیعہ کہنا امام جعفر صادقؑ کی نا فرمانی ہے۔

    نماز شب کیا ہے ؟

    یہ اللہ رب العزت کی وحدانیت کا رات کے پردوں میں اقرار کرنا ہے اور الفت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ محبوب کو اس وقت یاد کیا جائے جب دنیا کے لوگ اپنے اپنے بستروں میں آرام کی غرض سے دبکے ہوئے ہوں اس وقت دنیا و مافیا کو ترک کر کے نمازی خالص رضائے الٰہی کے لیے سجدہ ریز ہو جائے تو اس کو حالت اضطراب میں جو سکون اور راحت ملتی ہے شائد ہی کسی اور محفل میں ملے۔ اذان سے پہلے اٹھنے کی لذت اور اس کے ساتھ ہی گلرنگ سویرا ، تتلیوں کے میلے میں پھولوں کا رقص اور ہوا کے دوش پر پھولوں کی سحر انگیز خوشبو اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرتی ہے علامہ اقبال فرماتے ہیں: ۔

    نگہ الجھی ہوئی ہے رنگ و بو میں

    خرد کھوئی گئی ہے چارسو میں  

    نہ چھوڑ اے دل فغانِ  صبحگاہی

    اماں  شاید  ملے  اللہ  ھو  میں

    حبدار قائم

    سیّد حبدار قائم

    کتاب ‘ نماز شب ‘ کی سلسلہ وار اشاعت

  • نمازِ شب اور فرشتے

    نمازِ شب اور فرشتے

    آنحضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ شب کی فضیلت و اہمیت اور اس کے درجات بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں ۔

    ”  وہ مرد ہو یا عورت جس بندے کو بھی نمازِ شب کی توفیق حاصل ہو جائے اور وہ صرف خدا وند کریم کے لیے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہو،

    iattock
    Image by TheFunkypixel from Pixabay

    مکمل طریقے سے وضو کرے، سچی نیت اور فرمانبرداری کے ساتھ، خضوع و خشوع اور خدا کے لیے روتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ نماز شب پڑھ لے تو خدا وند تعالٰی اس کے پیچھے فرشتوں کی نو صفیں کھڑی کر دیتا ہے ۔ہر صف میں اتنے فرشتے کھڑے ہوتے ہیں کہ اللہ تعالٰی کے سوا ان کو کوئی گن نہیں سکتا اور ہر صف اتنی لمبی ہوتی ہے کہ اس کا ایک سرا مشرق میں ہوتا ہے اور دوسرا کنارہ مغرب میں چلا جاتا ہے پھر جب اسکی نماز ختم ہوتی ہے تو جتنے فرشتے اس کے پیچھے نماز پڑھ چکے ہوتے ہیں ان کی تعداد کے برابر خدا اس نمازی کا درجہ لکھ دیتا ہے”

    فرشتوں کی امامت پر میرا یہ شعر ملاحظہ کیجیے:۔

    فرشتوں کی امامت کا مجھے اعزاز حاصل ہے

    نمازِ شب کی برکت سے کھلا عقدہ مرے دل پر

    حیا کا پیکر اور طہارت و تقوی کا علمبردار یہ نمازی جب رحمتوں کے خزینے، سعادتوں کے مرکز اور انوارِ الہی سمیٹ کر عشق و وارفتگی سے نماز ادا کر لیتا ہے تو اللہ سے اُسکے فرشتے اس نمازی  کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں اور یہی دعا اور رحمت خداوندی روز قیامت اسے جہنم کی آگ سے بچائے گی۔ اللہ رب العزت نے بخشش کے اتنے وسیلے بنائے ہیں کہ اگر خطا کار انسان اسکی رحمت اور بخشش کی طرف رجوع کریں تو جہنم کی آگ کو بالکل ٹھنڈا کر دیا جائے اور اللہ تعالیٰ یہ سب اپنے پاک حبیبؐ کے صدقے میں کرے گا۔ وہ پاک حبیب صلٰی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس پر مظالم کے پہاڑ توڑے گئے جسکی راہوں میں کانٹے بچھائے گئے جسے طائف والوں نے اتنے پتھر مارے کہ آپؐ کا پاک لہو آپ ؐکے پائے مبارک سے بہہ نکلا لیکن رحمت اللعالمین نے بد دعا کا ایک لفظ بھی نہ کہا حالانکہ جبرائیل امین نے کہا کہ یا رسولؐ اللہ اگر آپ حکم دیں تو طائف کے دونوں پہاڑوں کو آپس میں ملا دوں (ٹکرا دوں ) لیکن آپؐ نے ایک حرفِ شکایت لبوں پر  نہ آنے دیا ۔ اسی لیے آپ ؐکی زندگی کو اسوہ حسنہ قرار دیا گیا ہے ۔ آپؐ کے پسینہ مبارک سے خوشبو آتی تھی جس گلی سے گزرتے تھے وہاں خوشبو بسیرا کر لیتی اور آنے والوں کو پتہ چل جاتا کہ آنحضورؐ یہاں سے تشریف لے کر گئے ہیں جس محفل میں تشریف فرما ہوتے سب کی نظریں آپ کے چہرہءاقدس کے حسن و جمال کا طواف کر رہی ہوتیں۔ آپ کے حسن و جمال پر بہت کچھ لکھا گیا لیکن یہاں ذکر کرنا موضوع کی طوالت کا باعث بنے گا اس کے متعلق یہاں ایک شعر رقم کر کے پنڈیگھیب کے معروف شاعر توکل سائل کو داد دیتے ہیں ۔

    محمدؐ جو ہوتے ہمارے ہی جیسے

    معطر  معطر  پسینہ نہ ہوتا

    ….. جاری

    حبدار قائم

    سیّد حبدار قائم

    کتاب ‘ نماز شب ‘ کی سلسلہ وار اشاعت

  • عرب میں آمدِ مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

    عرب میں آمدِ مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم

    آج سے چودہ سو سال قبل کائنات جب کفر و شر کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں مستور تھی زندگی کے آئینہ خانے میں کہیں وحدت کے رنگ نظر نہیں آتے تھے۔ جابر حکمرانوں کے ہاتھوں میں وقت کی طنابیں تھیں۔ شبِ سیاہ نے پر نور سحر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ عرب کے دروغ گوئی کے رسیا جہالت کی وادی میں بھٹک رہے تھے۔ کمزوروں یتیموں اور بے بسوں کو نویدِ حیات کا مژدہ سنانے والا کوئی نہ تھا۔

    نومولود بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا باعث فخر سمجھا جاتا تھا۔ مئے نوشی ان کی رگوں میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ایسے حالات میں رحمت ستارالعیوب نے جوش میں آکر رنگ بدلا اور کائنات کے ذرے ذرے کو ایک نئی ضیا عطا کر کے حضرت بی بی آمنہ ؑ کے پاک آشیاں پر ایک  شفیعِ اعظم، نبی مکرم، رسولِ معظم ، پیغمبرِاکرم ، رہبرِ کامل ، بدر منیر ، بشیر و نذیر ، سراج منیر ، سیدِ ابرار ، مدنی تاجدار ، حبیب غفار ، شافع یوم قرار ، قدرِ انجمن لیل و نہار اور آفتاب نو بہار کی ضیا بخشی جس کے حسن و جمال کے متعلق اللہ غفار الذنوب اپنی درخشاں کتاب میں کچھ یوں مخاطب ہوتا ہے :۔

    والضحٰی "یعنی تیرے چاشت کی طرح چمکدار چہرے کی قسم ، تیرے حسنِ زیبا کی قسم ، تیرے جلوہ آرا کی قسم

    القرآن 93-1

    "والیل اذا سجٰی” یعنی قسم ہے اندھیری رات کی طرح بکھری ہوئی زلفوں کی جن کو بوسے تیرے شانے دیتے ہیں۔ گویا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آمد  کائنات کے ذرے ذرے کو خوبی و رعنائی عطا کرنے کا باعث بنی ۔ آپ ہی کے نور سے پھولوں کی نکہت ، ماہتاب کی تاباں کرنیں اور سارے جہاں کی ضیا پاشیاں ہیں ۔ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آمد اور آپ کی حسیں مسکراہٹ موج کوثر کے وجد کے اضطراب کا نام ہے ، پھولوں کی پھبن ، کلیوں کے بانکپن کا نام ہے اور آفتاب سے پھوٹی ہوئی کرن اور ماہتاب سے چھلکی ضیا کا نام ہے۔

    iattock

    آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کائنات کے اندھیرے کو ایسی ضیا بخشی کہ عرب میں دروغ گوئی کے رسیا حق گوئی و بے باکی کے علمبردار بن گئے جو شتربان تھے جہاں باں بن گئے ۔ مظلوموں کو جبر سلطانی سے نجات دینے والے آپ ہیں ۔ کائنات کی سجدہ ریز جبینیں آپؐ اور آپؐ کی پاک آلؑ کا کمال ہے گویا اللہ رب العزت کی پہچان آپ نے کرائی ۔ آپ نے جہاں نماز، روزہ ،حج، زکواہ خمس، جہاد اور دین کے دیگر احکامات کے متعلق روشن تعلیمات سے انسانیت کو نوازا، وہاں آپ نے نماز شب کی تابانیوں جلوہ سامانیوں اور ضیا پاشیوں کے متعلق تعلیمات سے بھی آگاہ فرمایا ۔

    نماز شب کہنے کو تو ایک نفلی نماز ہے لیکن یہ خوشنودی ء رب حاصل کرنے کا بہترین وسیلہ ہے۔ نمازِ شب کے لیے جب ایک زاہد اٹھتا ہے تو ساری دنیا اپنے لحاف اوڑھے خوابِ خرگوش کے مزے لے رہی ہوتی ہے۔ نمازِ شب ادا کرنے والا جب رات کی تاریکی میں بڑے وقار اور عاجزی کے ساتھ اٹھتا ہے تو خنک جھونکے اس کا استقبال کرتے ہیں چاندنی رات اسے مبارک باد دیتی ہے اور ستاروں سے بھری دودھیا فضا اسے مژدہ ءجانفزا سناتی ہے۔ مسجد تک جاتے جاتے تمام لطافتیں راستے میں بچھ جاتی ہیں سارا راستہ کہکشاں بن جاتا ہے اور اللہ رب العزت اپنے  فرشتوں سے اسی وقت ارشاد فرماتا ہے  اسی وقت اس لیے کہ اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند  ،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے میرے پیارے فرشتو ! ذرا دیکھو میرا بندہ کس شان اور عاجزی سے میری طرف بڑھ رہا ہے۔ روئے زمیں سے عرش بریں تک فرشتے اس نمازی کی عاجزی کو دیکھ کر آنحضورؐ کی درخشاں تعلیمات کو یاد کر کے فضا کو درود و سلام کے دل آویز نغموں سے معمور کر دیتے ہیں ۔ نمازِ شب کی طرف بڑھنے والے اس شخص کے ہر قدم اور سانس کو نیکی میں شمار کیا جاتا ہے ۔ مسجد میں پہنچ کر نمازی کو ہر ذرہ دلکشی ورعنائی کا پیکر، ہر شے نور میں ڈھلی ہوئی ، ہر خیال معطر معطر اور ہر تصور گلشنِ بداماں نظر آتا ہے کیو نکہ اللہ جل شانہ اپنی طرف بڑھنے والے اس نمازی کی سوچ اور تصور کو پستیوں سے نکال کر اوج کی طرف لے آتا ہے ۔ کیو نکہ اس وقت اللہ رب العزت اور اس بندے کے درمیان فاصلے سمٹ جاتے ہیں کیو نکہ نمازِ شب ادا کرنے والے کو لذتِ آشنائی کے نوری زینوں پر فائز کیا جاتا ہے اسی لذت کو حضرت اقبال ؒنے بھی محسوس کیا اور یہ شعر رقم کر ڈالا :۔

    دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو

    عجب چیز  ہے  لذتِ  آشنائی

    مسجد میں پہنچ کر خشوع و خضوع کے ساتھ وضو کرنے کے بعد جب نمازی سبحان اللہ کا ورد کرتے ہوئے اپنے گناہوں کی معافی مانگتا ہے تو اس کی آنکھیں بارگاہِ خدا میں  غم سے چھلک پڑتی ہیں۔ وہ گناہوں کا اقرار کرتا ہے اور رحم  کی التجا کرتا ہے۔ اپنے آنسووں سے چشم و دل  خوب منزہ و مطہر کر کے گناہوں کی آلودگیوں سے دامن دل دھو ڈالتا ہے ۔ وہ نہایت عاجزی ، فروتنی اور انکساری کے ساتھ نماز شب کی نیت کرتا ہے تو خطاوں سے درگزر کرنے والا ، آہوں اور اشکوں کی التجائیں سننے والا اور نادم پر اپنی رحمت کی چادر تان دینے والا ربِ کائنات نمازی کی تشنہ نگاہوں کو سیراب کر کے اسکے گناہوں کو بخش دیتا ہے اور رب العزت اور اس کے پاک فرشتے سوئے ہوئے افراد کو لازمی طور پر یہ کہتے ہوں گے بقول شاعر:۔

    پچھتائے گا ، منزل ہے کڑی ، دیکھ کہا مان

    کچھ زاد سفر باندھ لے  دامان کفن میں

    اللہ رب العزت کا ارشاد ہے کہ نماز شب پڑھنے والے کا دل میں اپنے نور سے منور کر دیتا ہوں ۔ یہی وجہ ہے کہ نمازِ شب ادا کرنے والا ہر دلعزیز اور پر کشش شخصیت کا ما لک بن جاتا ہے ۔ اس کے لئے ڈر اور خوف کا نام و نشان تک باقی نہیں رہتا۔ کیونکہ رحمتوں کی گھٹائیں اُس پر برس چکی ہوتی ہیں جن میں نفس کی سب شرارتوں کی آتش بجھ چکی ہوتی ہے نظافتِ روح اس کے نفس کو مطمئنہ کے درجہ پر لے جاتی ہے جہاں نفسِ امارہ کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔

    نمازِ شب کی اہمیت آنحضورؐ نے مختلف مواقع پر بتائی ہے جس کا ہم تھوڑا تھوڑا ذکر کریں گے۔

    جاری ….

    حبدار قائم

    سیّد حبدار قائم

    کتاب ‘ نماز شب ‘ کی سلسلہ وار اشاعت