مولا علیؑ کا حکمِ نمازِ شب اور جہنم سے آزادی کا پروانہ

نمازِ شب کے متعلق آنحضور ؐجو مرکز عالم ہیں ،جو وارث زمزم ہیں ،جو مبداء کائنات ہیں جو مخزن کائنات ہیں، جو منشائے کائنات ہیں، جو مقصودِ کائنات ہیں ، جو سیّدِ کائنات ہیں ، جو سرور کائنات ہیں ، جو مقصدِ حیات ہیں، جو منبع ء فیوضات ہیں جو افضل الصلوات ہیں، جو خلاصہء موجودات ہیں ، جو صاحبِ آیات ہیں ، جوصاحبِ معجزات ہیں، جو باعثِ تخلیقِ کائنات ہیں، جو جامع صفات ہیں ، جو اصلِ کائنات ہیں ،جو فخرِ موجودات ہیں ، جو ارفع الدرجات ہیں ،جو اکمل الرکات ہیں بلکہ جو واصلِ ذات ہیں نے مولا علی کرم اللہ وجہہ کو ارشاد فرماتے ہوئے تین مرتبہ کہا۔

علیک بصلوات الیل : یعنی تم نماز شب ضرور ادا کرو، تم نماز شب ضرور ادا کرو ، تم نماز شب ضرور ادا کرو۔

جب بھی انسان دل کی گہرائیوں سے نمازِ شب میں اللہ رب العزت سے ہمکلام ہوتا ہے تو جذبات کی رو تیز ہو جاتی ہے اور احساسِ الفت کی قندیل پورے آب و تاب سے جگمگانے لگتی ہے تو انسان کی سوچ اور ذہن و دل کے نہاں خانوں میں نمازِ شب چراغاں کر دیتی ہے  اور جب انسان اللہ تعالٰی کی وحدانیت کے بے کراں سمندر کی آغوش میں چلا جاتا ہے تو انسان کو رحمتوں اور برکتوں کے خزینے نظر آتے ہیں۔ابن عباس حضرت  رسول اکرمؐ سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضور نے ارشاد فرمایا۔

Namaz
Image by chiplanay from Pixabay 

“اللہ تعالی کا ایک فرشتہ ہے جس کا نام سخائیلؑ ہے جب بھی کوئی نمازی نماز پڑھتا ہے تو وہ پروردگار عالم سے نمازی کے لیے جہنم سے آزادی کا پروانہ اور اجازت نامہ حاصل کر لیتا ہے ۔”

سبحان اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بال جبریل میں علامہ اقبال نے امت مسلمہ کے ضمیر کو جگانے کی کو شش کی ہے ۔ اپنی نظم

 ” اذان ” میں لکھتے ہیں ، دو شعر لکھتا ہوں

اک رات ستاروں سے کہا نجم سحر نے

آدم کو بھی دیکھا ہے کسی نے کبھی بیدار

واقف ہو اگر لذت بیداری ء شب سے

اونچی ہے ثریا سے بھی یہ خاک پر اسرار

جب پرندے سپیدہ ء سحر نمودار ہونے پر اللہ کی ثناء شروع کر دیتے ہیں تو اشرف المخلوقات انسان کو ان سے پہلے بیدار ہونا چاہیے اور یہ صرف اس صورت میں ممکن ہو سکتا ہے کہ جب ہم اسوہ رسول صلیٰ اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آئمہ طاہرینؑ کی دی ہوئی درخشاں تعلیمات پر سختی سے عمل کریں ۔

”   جو شخص نماز شب ادا نہ کرے وہ ہمارے شیعوں میں سے نہیں ہے”

امام جعفر صادقؑ کے اس قول میں لفظ “شیعہ” بہت زیادہ وسعت لیے ہوئے ہے اس سے مراد یہ ہے کہ جو لوگ خواہ وہ کسی بھی فرقے سے تعلق رکھتے ہوں اور اہل بیتِ رسولؐ سےمودت رکھتے ہوں ان کو شیعہ کہا گیا  ہے اگر وہ نمازِ شب نہیں پڑھتے تو ان کا مودت والوں کے ساتھ  تعلق بالکل نہیں ہے۔

آج کے اس ترقی یافتہ دور میں اگر کوئی فرد تہجد سے اپنے دامن کو پر نور نہ بنائے تو اس کو شیعہ کہنا امام جعفر صادقؑ کی نا فرمانی ہے۔

نماز شب کیا ہے ؟

یہ اللہ رب العزت کی وحدانیت کا رات کے پردوں میں اقرار کرنا ہے اور الفت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ محبوب کو اس وقت یاد کیا جائے جب دنیا کے لوگ اپنے اپنے بستروں میں آرام کی غرض سے دبکے ہوئے ہوں اس وقت دنیا و مافیا کو ترک کر کے نمازی خالص رضائے الٰہی کے لیے سجدہ ریز ہو جائے تو اس کو حالت اضطراب میں جو سکون اور راحت ملتی ہے شائد ہی کسی اور محفل میں ملے۔ اذان سے پہلے اٹھنے کی لذت اور اس کے ساتھ ہی گلرنگ سویرا ، تتلیوں کے میلے میں پھولوں کا رقص اور ہوا کے دوش پر پھولوں کی سحر انگیز خوشبو اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرتی ہے علامہ اقبال فرماتے ہیں: ۔

نگہ الجھی ہوئی ہے رنگ و بو میں

خرد کھوئی گئی ہے چارسو میں  

نہ چھوڑ اے دل فغانِ  صبحگاہی

اماں  شاید  ملے  اللہ  ھو  میں

حبدار قائم

سیّد حبدار قائم

کتاب ‘ نماز شب ‘ کی سلسلہ وار اشاعت

حبدار قائم

میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے ١1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے

Next Post

خود اعتمادی، یقين ،حوصلہ افزائی کے سنہری اصول

جمعرات جون 24 , 2021
ہر چیز کے ملنے کا ایک وقت ہے ، ہم سب نے ایک اچھا انسان بننا سیکھنا ہے
The Golden Rule of Self-Confidence

مزید دلچسپ تحریریں