Tag: نماز شب

  • نماز شب موجب رضائے الہٰی

    نماز شب موجب رضائے الہٰی

    نماز شب کے لیے اپنا بستر چھوڑ کراٹھنا رضائے الٰہی کا موجب هے

    وعن عبد الله بن مسعود قال قال رسول الله صلى الله عليه وآلہ سلم ربنا من رجلين رجل ثار عن وطائه و لحافه من بین و اھله الی صلوته فيقول الله للملئکته انظرو الى عبدی ثار عن فراشه و وطائه من بين حبہ واهله الى صلوتہ رغبة فيما عندى وشفقا مما عندی و رجل عزافی سبيل الله فانھز م مع اصحبه فعلم ما عليه فی الانهزام وما له فی الرجوع فرجع حتی هريق دمه فیقول الله للملائکتہ انظرو الی عبدی رجع رغبةفيما عندی و شفقا مما عندی حتى هريق دمه

    رواہ شرح السنة

    ترجمہ:

    "حضرت عبد الله بن مسعود کہتے ہیں ۔ رسول اللہ  صلى الله عليه وآلہ سلم  نے فرمایا کہ ہمارا پرور دگار دو شخصوں سے خوش ہوتا ہے (ایک وہ) جواپنے نرم بچھونے اور لحاف اور اپنی محبوب بیوی سے رات کے وقت نماز کے لیے علیحدہ ہوا۔ خدا وند تعالٰی اس شخص کو دیکھ کر اپنے فرشتوں سے ارشاد فرماتا ہے کہ میرے بندے کو دیکھو جو صرف نماز کے لیے اپنے نرم و گرم بچھونے اور محبوب زوجہ سے علیحدہ ہوا اور اس چیز کی خواہش سے علیحدہ ہوا جو میرے پاس ہے (یعنی میری رضا اور میری اطاعت ) اور اس چیز کے خوف سے جو میرے پاس ہے ( یعنی میری ناراضگی اور میرا عذاب ) اور دوسرا وہ شخص جو صرف خدا کی راہ میں لڑا اور اپنے ساتھیوں کے ہمراہ دشمن کے مقابلے سےبھاگ کھڑا ہوا۔ پھر اس نے محسوس کیا کہ بھاگنے میں کتنا بڑا گناه ہے اور واپس جا کر لڑنے میں کتنا ثواب ہے اور یہ محسوس کر کے وہ لوٹ پڑا اور دشمن سے لڑا ۔ یہاں تک کہ اس نے خون بہا دیا ( شرح سنہ) "

     اس حدیثِ پاک کی رو سے نمازِ شب پڑھنے والا جہاد کرنے والے شخص کے برابر اجر حاصل کرتا ہے ۔ اور یہ اجر اللہ تعالی کی خوشنودی ہے حالانکہ جہاد میں ایک شخص تیروں ، نیز وں ، بھالوں ،تلواروں اور موجودہ دور میں ٹینکوں، توپوں، میزائلوں اور گولوں کا سامنا کرتا ہے اور جنگ میں زخمی ہوتا ہے  ان زخموں  کو بدن پر سجا کر اللہ پاک سے جتنا اجر حاصل کرتا ہے۔ اللہ رب العزت رات کی تاریکی میں صرف نیند کو ترک کر کے اپنے سامنے جبین کو خم کرنے والے کو اتنا ہی اجر عطا فرماتا ہے۔ اس سے نمازِ شب کی اہمیت اور ثواب کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

    جنگ میں نماز کا ادا کرنا عظمتوں اور رفعتوں کا مظہر ہے۔ ہابیل اور قابیل کی جنگ سے لے کر موجودہ دور میں کئی جنگیں لڑی گئیں اور اگر ان لڑی جانے والی جنگوں پر نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ ایک جنگ کربلا کے لق و دق صحرا میں بھی لڑی گئی جس میں ان عظیم ہستیوں کا خون بہایا گیا کہ جن کا جھولا جھولانے کو فرشتے سعادت سمجھتے تھے ۔ بلکہ یہ کہوں تو بجا ہوگا کہ جن کے جھولوں کو مس کر کے فرشتے شفا حاصل کرتے ہیں ۔ جیسے فطرس فرشتے کے پر جل گئے تھے جبرائیل امیں اور ان کے ساتھ فرشتوں کی ایک بہت بڑی تعداد رسول پاکؐ کو حضرت حسینؑ کی ولادت کی مبارک دینے کے لیے آ رہے تھے راستے میں فطرس پڑا تھا اس نے پوچھا کہ آپ سب فرشتے کدھر جا رہے ہیں تو اس کو بتایا گیا کہ زمین پر حضرت حسینؑ کی ولادت با سعادت ہوئی ہے اور ہم نبی اکرمؐ اور ان اہل بیتؑ مبارک دینے جا رہے ہیں تو اس نے بھی ساتھ جانے کی درخواست کی تو اللہ تعالی نے اسے بھی اجازت دے دی۔ وہ بھی فرشتوں کے ساتھ نبی اکرم ؐ کو مبارک باد دینے فرشتوں کے مدد سے محوِ پرواز ہوا ۔جبرائیل امیں نے ساری بات سے آنحضورؐ کو آگاہ کیا تو حضورؐ متبسم ہوئے اور فطرس کی مبارک باد سننے کے بعد فرشتوں سے یوں مخاطب ہوئے۔

    اس کو میرے نواسے کے جھولے سے مس کرو۔ چنانچہ فرشتوں نے ایسا کیا تو فطرس کے دوبارہ بال و پر آ گئے اور تمام فرشتے آسمان کی طرف پرواز کر گئے۔   یوں اس فرشتے نے عذاب الٰہی سے نجات اسی عظیم گھرانے کے وسیلے سے حاصل کی ۔

    چونکہ حدیث نبویؐ میں جنگ اور نمازِ شب کا ذکر ہوا ہے تو چلیں   کربلا اور کربلا کے عظیم مجاہدوں کی جنگ اور نمازِ شب کا ذکر بھی کریں کیونکہ کربلا بھی نماز شب کی خوشبو سے بھری پڑی ہے اور اگر اس خوشبو کا ذکر نہ  کیا جائے تو بات کا مزہ کرکرا ہو جائے گا بقول شاعر :۔

    جس کے دل و نظر میں نہیں کربلا کے پھول

    کہنے کو آدمی ہے ، مگر خار کی طرح

    hubdar qaim

    سیّد حبدار قائم

    آف غریب وال

    کتاب ‘نماز شب’ کی سلسلہ وار اشاعت

  • باعثِ فخر مومن فرمانِ امام جعفرصادقؑ

    باعثِ فخر مومن فرمانِ امام جعفرصادقؑ

    عذاب الٰہی سے بچنے کے لیے آئمہ اطہارؑ نے اپنے مومنین کو نماز شب کی اہمیت پر اسی لیے زور دیا ہے تا کہ قیامت کے دن محمدؐ و آلِ محمدؐ اپنے مومنین کی فخریہ انداز میں شفاعت کر سکیں ۔ اللہ رب العزت کا قرب حاصل کرنے کے لیے راتوں کے سجدے انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں سپیدہ ء سحر کے نمودار ہونے سے پہلے جو بندے اپنے سجدوں میں گڑگڑاتے ہیں اللہ پاک کو ان کا رونا اور گناہوں کی مغفرت طلب کرنا بہت اچھا لگتا ہے میرے رب کی رحمت اتنی وسیع ہے کہ گناہ جہاں دھل جاتے ہیں اور ایسے لوگ جو طیور کی چہچہاہٹ سے قبل اٹھنے والے ہوتے ہیں اور جن کی زبانیں قرآن حکیم کی پُرنور آیات سے مزین ہوتی ہیں  اور جن کے دل استغفار و عاجزی دکھانے کے بعد بھی افسردہ ہوتے ہیں اور جن کی آنکھیں ان کے رخساروں کو ایسا بھیگا کر رہی ہوتی ہیں جیسے گلاب کی پنکھڑیوں کو شبنم اپنے شفاف قطروں سے بھیگا کرتی ہے ایسے مومنین کو مولا علی کرم اللہ وجہہ اپنا نام لیوا اور اپنا شیعہ کہا کرتے تھے اسی

    لیے تو حضرت امام جعفر صادق ارشاد فرماتے ہیں۔

    اور برا کام جو بھی کرے وہ برا ہے لیکن اے شیعہ ایسا کام تم سے سرزد ہو تو بہت قبیح اور برا ہے اس لیے کہ تم لوگ ہم سے منسوب ہو لوگ کہتے ہیں کہ یہ بندہ امام صادقؑ کا پیروکار ہے

    امام جعفرصادقؑ

     یہی وجہ  ہے کہ خصوصا مومنین کو اپنے کر دار اعلی و ارفع کرنے کے لیے سیرت طیبہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مطالعہ کر کے اس پر عمل کرنا چاہیے اور اپنی زبانوں کو ذکرِ الٰہی سے معمور کرنا چاہیے اور اپنے دلوں کو عذاب الٰہی کے خوف سے لبریز رکھنا چاہیے ۔ اس کے علاوہ مومنین کو حقیقی مومن بننے کے لیے نماز شب کا ادا کرنا کسی بھی حالت میں ترک نہیں کرنا چاہیے کیونکہ

    امام  جعفر صادقؑ کے فرمان کے مطابق

    تارکِ نمازِ شب شیعہ نہیں ہوسکتا

    امام جعفرصادقؑ

    شیعہ بننے کی شرط ہی اسلام کے درخشاں قوانین و احکامات پر عمل کرنے سے ہے جو لوگ اپنے آپ کو شیعہ کہیں اور ان کے اعمال عام مسلمانوں سے بھی کم تر ہوں یا وہ گناہوں کی وادی میں بھٹک رہے

    ہوں ان سے امام صادق ارشاد فرماتے ہیں ۔  بحوالہ "کتاب بحارالانوار جلد 47 صفحہ 349 ” پر لکھا ہے

    اے شیعو! آپ ہمارے لیے باعثِ فخر اور باعث زینت بنو اور ہمارے لیے ننگ و عار کا باعث نہ بنو ۔

    امام جعفرصادقؑ

    نماز شب کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اس کا حکم قر آن مجید میں اور متعدد احادیث کی کتب  میں آیا ہے۔

    آنحضورؐ کے فرامین کے مطابق نمازِ شب گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے۔ اس کے متعلق ترمذی شریف میں ایک روایت ہے۔

     عن ابی اُمامة قال قال رسول الله صلى الله علیہ وآلہ وسلم

    عليکم بقيام اليل فانه دأب الصالحين قبلكم وهو قربتہ لكم الى ربكم و مکفرة لسياٰت ومنھاة عن الاثم

    رسول الله صلى الله علیہ وآلہ وسلم

    ” حضرت ابو امامہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ   صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ لازم کر لو تم اپنے آپ پر رات کے قیام کو (تہجد کی نماز کو) کہ یہ طریقہ ان نیک لوگوں کا ہے جو تم سے پہلے تھے اور رات کا قیام تمہارے لئے اللہ تعالٰی سے نزدیکی کا سبب ہے، گناہوں کا کفارہ ہے ، اور گناہوں سے روکنے والا ہے "۔

    نماز شب گناہوں کا کفارہ ہونے کے ساتھ ساتھ انسان کو عاجزی و فروتنی کا درس دے کر گناہوں سے اجتناب کرنے کی توفیق عطا کرتی ہے اور انسان کا دل نوری تجلیوں سے منور ہو کر عجز و انکساری کا نمونہ بن جاتا ہے۔

    الله رب العزت کی کائنات میں جیسے گلاب و چنبیلی پر شبنم کے قطرے آنکھوں کو سکون بخشتے ہیں جیسے قوسِ فرح کے رنگ آنکھوں میں سما جاتے ہیں ۔ جیسے کہکشاں کا نور ذہنوں کو فرحت بخشتا ہے۔ جیسے

    جھرنوں کا انداز مسکرانا موسیقیت پیدا کرتا ہے، جیسے آبشاروں کی دمک اور ترنم زندگی کی سماعتوں  میں رس گھولتی ہے جیسے بلبل اور کوئل کی سریلی آواز  فضا کی رونق بڑھاتی ہے اور یوں لگتا ہے جیسے  فضا ہنس رہی ہو ۔ اسی طرح نمازِ شب مومن کی فکر و نظر میں وہ فرحت اور کیف عطا کرتی ہے جو کسی اور بزم میں میسر نہیں ہے بالکل رات کی تنہائی میں خداوند غفار سے ہم کلام ہونا کتنی سعادتوں کا مظہر ہے نماز شب مومن کی روح کی غذا ہے۔ نماز شب ادا کرنے سے مومن کو الله تعالی کائنات میں پوشیدہ خزانوں کی چابیاں عطا فرماتا ہے جسے وہ انسانیت کی فلاح کے لیے استعمال کرتا ہے کیونکہ شب کی تاریکیوں میں ہر روز ایک لمحہ ایسا آتا ہے جس میں اللہ رب العزت سے جو کچھ مانگا جائے وہ عطا کرتا ہے۔ اور اس کے متعلق "مسلم” کی ایک روایت حضرت جابر رضی اللہ سے مروی ہے۔

    ” وعن جابر قال

    سمعت النبی صلى الله عليه وآلہ وسلم يقول ان فی الليل لساعة لا يوا فقهارجل مسلم یسئل اللة فيها خيرا من امر الدنيا والآخرة إلا اعطاه وذلك كل ليلة۔”

    حضرت جابر فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے

    کہ رات میں ایک ساعت ایسی ہوتی ہے کہ اگر اس میں کوئی مسلمان دین و دنیا کی بھلائی کی دعا مانگے تو خدا وند تعالٰی اسکو عطا فرما دیتا ہے اور یہ ساعت ہر رات میں ہوتی ہے

    رسول الله صلى الله علیہ وآلہ وسلم

    زیست میں گناہ کی کثرت کے بعد جو لوگ استغفار کی تسبیح کے ساتھ  نماز شب ادا کرتے ہیں اُن کے لیے گل رنگ سویرا نمودار ہوتا ہے جس میں امید کے پھول کھلے ہوتے ہیں ۔ روز قیامت الله جل شانہ نمازی کو گلوں کی مہک سے بھرا ایک باغ عطا فرمائیں گے جس میں شہد کی میٹھی نہریں ہوں گے۔ قالینیں بچھی ہوں گی حور وغلمان کی خدمت سے بھرے حسیں لمحے ہوں گے ۔ قالینوں پر رنگ برنگے تقیے لگے ہوں گے جن پر اللہ کے یہ برگزیدہ بندے ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے وہاں کوئی دکھ اور کوئی درد نہ ہوگا۔ مسرتوں سے لبریز لمحوں میں شرابِ طہورا کے جام ہوں گے جن کا ذائقہ لا جواب ہوگا۔

    نماز شب پڑھنے والوں کو عجیب کیف و سرور کے لمحے میسر ہوں گے راحت کے ان لمحوں میں نمازِ شب پڑھنے والا انسان الله تعالی کا شکر ادا کرے گا کہ اسے دنیا میں رات کی تھوڑی سی عبادت پر کتنا عظیم اجر ملا ہے ۔

    hubdar qaim

    سیّد حبدار قائم

    آف غریبوال

    کتاب ‘نماز شب’ کی سلسلہ وار اشاعت

  • سوره الانفطار میں قیامت کی هولناکیاں

    سوره الانفطار میں قیامت کی هولناکیاں

    سوره الانفطار کی پہلی پانچ آیات میں قیامت کے مناظر دیکھیں تو یہ دل دہلا کے رکھ دیتے ہیں

    اذا السماء انفطرت واذ الكواكب انتثرت۔

    جب آسمان پھٹ جائے گا اور جب تارے بکھر جائیں گے

    واذا البحار فجرت۔

    اور جب سمندر پھاڑ دیے جائیں گے

    واذا القبور بعثرت۔

    اور جب قبریں کریدی جائیں گی

    علمت نفس ما قدمت واخرت۔

    جان لے گا ہر شخص کہ کیا آگے بھیجا اس نے اور کیا پیچھے چھوڑا اس نے۔

    یا یھا الانسان ما غرک بربک الکریم ۔

    اے انسان کس چیز سے بہکا تو اپنے رب کریم پر۔

    اللہ تعالٰی نے جس انداز میں قیامت کی منظر کشی سورہ الانفطار میں کی ہے اگر اس پر تھوڑا سا  تدبر کیا جائے تو انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں زمین پر اُٹھنے والے قدم ڈگمگا جاتے ہیں انسان لڑکھڑا جاتا ہے کیونکہ آج کے دور میں آنے والا ایک معمولی زلزلہ انسان کی تعمیر کی ہوئی پختہ عمارات کو ہلا کر رکھ دیتا ہے اُس دن کیا حال ہو گا اور انسان کی کیسی کیفیت ہو گی جب نیلگوں آسمان پھاڑ دیا جائے گا تارے بکھر جائیں گے ۔ پہاڑ چلائے جائیں گے ۔ اور ایسے اڑیں

    گے جیسے دھلی ہوئی رنگین اون ہو۔ اس دن دریا ابل پڑیں گے۔ نئی اور پرانی ساری قبریں بھی ہلا کے رکھ دی جائیں گی اور انسان کو پھر زندہ کیا جائے گا۔ اور اس نے جو عمل کیا ہو گا میزان پر تولا جائے گا۔

    نیکیوں کا پلڑا بھاری ہونے پر اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں اور برائیوں کا پلڑا بھاری ہونے پر اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں ہوگا ۔

    الله رب العزت انسان سے استفسار فرمائیں گے ۔ کہ وہ کون سی محبوب شے تھی

    جس نے تجھے میری یاد سے غافل کر دیا۔

    اس وقت انسان لا جواب ہو جائے گا اور اسے جہنم کی آگ میں جھونک دیا جائے گا۔

    مگر وہ لوگ ! جن کا ذکر سورہ عصر میں ہے یعنی ” عصر کی قسم ! انسان نقصان میں ہے مگر وہ لوگ جو ایمان

    لائے نیک اعمال کیے اور حق بات کی نصیحت اور صبر کی تاکید کرتے رہے”

     وہی  اس دن سرخرو ہوں گے۔

    ان آگ سے بچنے والوں میں نماز شب ادا کرنے والے ہوں گے۔

    جنہوں نے اپنی راتوں کو ذکر الٰہی کے معطر اور پرکیف لمحوں میں گزارا۔ انہی لوگوں کے متعلق ترمذی شریف میں ایک روایت مولا علی کرم اللہ وجہہ سے منسوب ہے وہ یہ کہ مولا علی فرماتے ہیں :۔

    رسول اللہؐ  نے فرمایا کہ

    "جنت میں ایسے بالا خانے ہیں جن کے اندر سے باہر کی چیزیں نظر آتی ہیں اور باہر کی چیزیں اندر سے نظر آتی ہیں ۔ الله تعالی نے ان کو ان لوگوں کے لیے بنایا ہے جو نرمی سے بات کرتے ہیں ، کھانا کھلاتے ہیں اورپے در پے روزہ رکھتے ہیں اور رات کو اس وقت نماز پڑھتے ہیں جب سب لوگ سو رہے ہوں”

    آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو دستِ عطا ہیں، جو مخزنِ سخا ہیں، جو بے غرض بے ریا ہیں ،  جو  بے ہوا با صفا ہیں، جو پارسا  ہیں، جو مصطفٰؐی ہیں ، جو سرفرازِ رضا ہیں ، جو تاجدار غنا ہیں، جو شاھد سدرة المنتہٰی ہیں ، جو صاحبِ رشد و ہدیٰ ہیں جو جود و سخا ہیں ، جو بحرِ لطف و عطا ہیں ، جو اعتمادِ شفا ہیں ، جو پیکرِ تسلیم و رضا ہیں ،جو محرمِ اسرارِ حرا ہیں ، جو سید و آقا ہیں ،جو کعبہء اصفیاء ہیں ،جو قبلہء اغنیاء ہیں، جو مجسم روح افزا ہیں ، جو سرورِ انبیا ہیں ، جو حسنِ صبر و رضا ہیں، جو ضیا ہیں، جو خوش ادا ہیں ، جو شمعِ غارِحرا ہیں ، جو راسِ عدل و قضا ہیں۔

     آپؐ اس حدیث میں جنت کے جس مقام کا ذکر کر رہے ہیں وہ مقام حقوق العباد ادا کرنے والے کے لیے پہلے جب کہ حقوق اللہ ادا کرنے والے کے لیے بعد میں بیان فرمایا ہے حقوق اللہ میں بھی نمازِ شب کا ذکر اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ عمل بہت پسند ہے وہ چاہتا ہے کہ کوئی بندہ رات کے سناٹے میں اس سے سرگوشیاں کرے، اُس سے مغفرت مانگے جو اپنے لیے بھی ہو اور دوسرے مومنین کے لیے بھی ہو حالانکہ وہ ہمارے سجدوں کا محتاج نہیں ہے صرف انسان کی بخشش کے بہانے دیکھتا ہے کیونکہ وہ انسان سے بہت زیادہ پیار کرتا ہے اور اس کا پیار ستر ماوں سے بھی بہت زیادہ ہے۔

    تو کوئی ہے جو قیامت کی ہولناکیاں دیکھنے سے پہلے فرشتوں سے جنت کی خوشخبری سنے ؟۔

    نماز شب سے محبت کریں اللہ پاک غفور و رحیم ہے آپ کی ساری خطائیں بخش دے گا۔

    میرے لکھے ہوئے اشعار ملاحظہ فرمایئیے:۔

    "عمل جس نے کیا ہو گا لحد اُس پر کرم بن کر

    سدا محفوظ رکھے گی خدا وند کی ارم بن کر

    بشارت اُس کو دے دیں گے فرشتے حشر سے پہلے

    نمازِ شب کی برکت سے رہے گا محترم بن کر

    hubdar qaim

    سیّد حبدار قائم

    کتاب ” نماز شب ” کی سلسلہ وار اشاعت

  • قیامت کے ہولناک مناظر

    قیامت کے ہولناک مناظر

    قیامت کے ہولناک مناظر

    سوره التکویر میں الله تعالٰى نے قیامت کے ہولناک مناظر سے ڈرایا

    سوره التکویر کی پہلی تین آیات تلاوت کیجیے تو دل منہ کے بل باہر آتا ہے

    ارشاد رب العزت ہے۔

    اذا الشمس کورت واذا النجوم انکدرت

    اور جب سورج لپیٹ دیا جائے گا اور جب تارے بے نور ہو جائیں گے

    واذا الجبال سیرت

    اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے

    قیامت آنے کا منظر سوره التکویر میں ہمیں دعوت فکر دیتا ہے۔ زمین سے  بڑا سورج قیامت کے دن لپیٹ دیا جائے گا۔ اس کی روشنی نابود ہو جائے گی

    ۔ سورج کا لپیٹا جانا ایک خوف ناک منظر کی دلیل ہے۔

    تاروں کا بکھرنا اور بے نور ہونا آسماں کی وسعتوں میں ایک عجیب سماں کی کیفیت کا نام ہے کیونکہ جب آسمان پر ستارے بکھریں گے تو یہ آپس میں ٹکرائیں گے ان سے جو آواز انسانوں کی سماعتوں تک پہنچے گی وہ کانوں کے پردے پھاڑ دے گی اور انسانی دماغ اس کو برداشت نہ کر سکیں گے اس کی وجہ یہ ہے کہ  ستاروں کا حجم  زمین سے کہیں زیادہ ہے اور کہیں کم ہے اس لیے ان کا بکھرنا جو قرآن نے بیان کیا ہے وہ بہت خوف ناک ہو گا ان کی آواز سے کانوں کے پردے پھٹ جائیں گے حاملہ عورتوں کے حمل گر جائیں گے اس خوف وغم کی کیفیت میں  ہر کوئی کانپ رہا ہوگا ۔ دہشت سے چہرے اپنی رعنائیاں کھو دیں گے ہر طرف چیخ و پکار انسان کو لڑکھڑا  کے رکھ دے گی۔ اس کے بعد اللہ رب العزت زمین کا ذکر فرماتا ہے کہ اس کے پہاڑ چلائے جائیں گے۔ اللہ اکبر۔ پہاڑوں کا چلنا بہت خوف ناک ہو گا زمین پر زلزلے آئیں گے کیونکہ پہاڑ زمین کی میخیں ہیں جن کی وجہ سے زمین قائم ہے ۔ آپ کا واسطہ شائد ایسی صورتِ حال سے نہ پڑا ہو لیکن مجھے کئی بار اتفاق ہوا ہے کہ جب کوئی پہاڑ گر رہا ہو تو اس کی دہشت اور آواز کانوں کو پھاڑ دیتی ہے۔ کیونکہ میں سیاچین گلیشئیرز کے محاذ پر رہا ہوں ۔ پہاڑ سے گرنے والا ایک چھوٹا سا پتھر اپنے ساتھ کئی دوسرے پتھروں کو لے کر جب لڑھکتا ہے تو مارے خوف اور ڈرکے انسان کا دم نکل جاتا ہے۔

    تو اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ

    "جب پہاڑ چلائیں جائیں گے "

    پہاڑوں کا چلنا کوئی عام بات نہیں۔

    قیامت کے ہولناک مناظر
    Image by winterseitler from Pixabay

    ایسے منظر کو کوئی بھی برداشت نہ کر سکے گا ۔ سوائے ان لوگوں کے جنھوں نے زیست کی زیادہ ساعتیں خداوند غفار سے مغفرت مانگتے ہوئے بسر کی ہوں گی اور جنہوں نے اپنی راتوں کو اللہ رب العزت کے درخشاں کلام  قرآن مجید کی تلاوت کی سعادت سے منور کیا ہو گا ۔ نمازِ شب کی اہمیت کے متعلق مولا علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں

     ” نماز شب پڑھنے والا جب قبر

    سے اٹھایا جائے گا  تو فرشتے اسکو جنت کی بشارت دیں گے "

    (اس دہشت کے عالم میں بشارت دی جائے گی جب ستارے بکھرے ہوئے ہوں گے اور پہاڑوں کے چلائے جانے کا عالم ہوگا ۔

     آئمہ طاہرینؑ نے نماز شب کی ادائیگی پر بہت زور دیا ہے ۔ ہمارے آئمہ معصومینؑ پر جتنی بھی پریشانیاں اور جتنے بھی آلام آئے انہوں نے اپنے عمل میں الله جل شانہ کو نماز شب میں ایسے یاد رکھا کہ قیامت تک ہمارے لیے مشعل راہ رہے گا ۔ حضرت موسٰی کاظم علیہ السلام  جب بغداد میں اسیر تھے تو اس وقت کا ذکر کرتے ہوئے راوی کہتا ہے کہ امام فرماتے تھے۔ کہ خداوند غفار نے میری دعا کو قبول فرما لیا ہے۔ کیونکہ میں اکثر یہی دعا مانگتا تھا کہ

    "یا الله مجھے ایسی جگہ (قید) عنایت فرما کہ میں تیری عظمتوں ، تیری رفعتوں تیری رحمتوں اور تیری برکتوں کا زیادہ سے زیادہ ذکر و شکر کر سکوں اور

    اے رب کریم تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے ایسی جگہ عنایت فرمائی ہے”

    کہ میں تجھے زیادہ سے زیادہ یاد کرنے کی سعی کر سکتا ہوں ۔ یہ ہے عظمتِ اہل بیتِ رسولؐ

    یہ ہے بزرگی ! اور یہ وقار عبادت ہے جس کے لیے قیدِ تنہائی مانگی جا رہی تھی  اور یہ  خداوند کریم کے سامنے عاجزی و انکساری  اور اپنی بندگی کا بہترین اظہار ہے

    حالانکہ حضرت موسی کاظمؑ  کو قید و بند کی صعوبتوں نے بہت زیادہ لاغر کر دیا تھا۔ لیکن پھر بھی آپ نے نماز کا دامن کبھی نہ

    چھوڑا اور نمازِ شب متواتر ادا فرماتے رہے۔

    آج کے  دور میں مغربی اقدار میں پروان چڑھنے والا  بے باک نڈر اور بے خوف جوان روز قیامت کی ہولناکیوں سے

    واقف ہی نہیں ہے ۔ اگر وہ آشنائے عذابِ الٰہی ہوتا تو اپنے کردار کی تعمیر پر وقت صرف کرتا اور اپنی رات کی تنہائیوں میں اللہ رب العزت کے ذکر سے اپنے قلب و روح کو منور کرتا لیکن اسے

    اعمال کی فکر نہیں ہے ۔ اسے نمازِ شب پڑھنے کا طریقہ تک نہیں آتا اور نہ ہی اُسے اس کی پرواہ  ہے ۔

    بے داغ کردار اور جوانی کے عالم  میں اگر کوئی جوان نماز شب ادا کرتا ہے تو اللہ رب العزت اسے کائنات میں نہاں خزانوں کی چابیاں عطا فرما دیتا ہے  لیکن ہٹلر ، سٹالن ، لینن، جولیئٹ وغیرہ کی زندگیاں پڑھنے

    والا کیا جانے کہ قرآن کی عظمت کیا ہے؟ تاریخ اسلام کیسی تاباں  ہے۔ اُسوہ ء رسولؐ کیا ہے

    اور اسوہ رسولؐ  پر عمل کرنے سے کیا حاصل ہوتا ہے ؟

    اسوہ ء اہل بیت اطہارؑ کیا ہے۔ کہ جس کی وجہ سے اسلام کا شیرازہ ابھی تک قائم ہے اور بکھرا نہیں آج ہماری عزتیں محفوظ ہیں ہماری عبادتیں ریاضتیں محفوظ ہیں۔

     نماز شب کا یہ مضمون جو میں نے اپنے اشعار میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے ملاحظہ کیجیے:۔

    "قیامت میں پہاڑوں کو چلائے گا مرا اللہ

    ستاروں کو بکھیرے گا مٹائے گا مرا اللہ

    سنا ہے نیک بندوں کو بشارت ہو گی جنت کی

    کہ ان کو قصرِ عاقبؐ تک لے جائے گا مرا اللہ

    چلے ہوں گے گناہوں کی جو راہوں پر بشر سارے

    بھڑکتی آگ میں اُن کو جلائے گا مرا اللہ

    دعائے مغفرت پائے نمازِ شب پڑھے گا جو 

    فرشتوں سے دعائیں یہ کرائے گا مرا اللہ””

    hubdar qaim

    حبدار قائم

    کتاب ؔ نماز شبؔ کی سلسلہ وار اشاعت

  • بحار الانوار میں شیعہ کی وضاحت

    بحار الانوار میں شیعہ کی وضاحت

    کتاب "بحار الانوار” میں ہے کہ مولا علیؑ اپنے شیعہ سے بہت محبت کرتے تھے اپنے شیعہ کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

    "زیادہ رونے کی وجہ سے ان کی آنکھیں سفید ہو جاتی ہیں زیادہ روزے رکھنے کی وجہ سے ان کے پیٹ اندر دھنس جاتے ہیں دعا کرتے کرتے ان کے ہونٹ خشک ہو جاتے ہیں اور شب بیداری (نماز تہجد) کی وجہ سے ان کا رنگ پیلا پڑ گیا ہے اور ان کے چہروں پرخاشعیت کی علامات ہیں”

    اس لیے شیعہ بننے کے لئے یہ بنیادی عنصر ہیں ۔ اگر کوئی ان پرعمل کرے تو وہ شیعہ ہے اور اگر کوئی ان باتوں کا ان درخشاں ضوابط کا قائل نہیں ہے تو وہ شیعہ نہیں ہے بلکہ سرکار کا نام لیوا ہے ایک عام مسلمان ہے اور وہ  نام کا شیعہ ہے اور شیعہ کا لباس اوڑھ کر شیعانِ علی کرم اللہ وجہہ کو بدنام کرنے کی سازش ہے۔

    میری کیا بساط !

    میں کسی کو اچھا یا برا کہوں اور نہ ہی کہہ سکتا ہوں نہ ہی لکھ سکتا ہے ۔ کیونکہ میں خود انتہائی گناہ گار اور سیاه کار انسان ہوں ۔ اپنی لغزشوں اور خطاؤں کو دیکھتا ہوں تو تڑپ جانتا ہوں کہ میں بھی اپنے آپ کو شیعہ کہتا ہوں۔ میں اپنی

    خود احتسابی کرتا ہوں ۔ تو کانپ جاتا ہوں مولا علی کرم اللہ وجہہ کے مذکورہ فرمان کو پڑھتا ہوں تو آنکھیں نم ہو جاتی ہیں اور بدن پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے کیونکہ اگر مولا علی کرم اللہ وجہہ نے روز قیامت  ٹھکرا دیا تو جہنم کا عذاب چکھنا پڑے گا۔

    کیونکہ آپ ” ومن یشری نفسہ ابتغاء  مرضات اللہ ” ہیں ۔ آپکی خواہش اللہ رب العزت پوری فرماتا ہے۔ آپ کا ٹھکرایا ہوا انسان نہ دنیا کا ہے ۔ نہ ہی آخرت کا۔ اس لیے میری مانیے اور آپ بھی اپنا احتساب کیجئے !

    کیا خوف خدا میں زیادہ رونے کی وجہ سے آپ کی آنکھیں سفید ہو گئیں ہیں؟

    کیا زیادہ روزہ رکھنے کی وجہ سے آپ کا پیٹ اندر دھنس گیا ہے۔

     کیا زیادہ دعا کرتے کرتے آپ کے لب تشنہ وخشک دکھائی دیتے ہیں؟

    کیا بہت زیادہ نماز شب پڑھنے اور راتوں کو تلاوت قرآن مجید کرنے سے آپ کا رنگ پیلا پڑ گیا ہے؟

    اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے۔

    تو خدا پر یقین کیجیے کہ آپ بھی پھر مثلِ بہلول دانا ہیں ! آپ بھی جنت بیچ ڈالیے۔ کیونکہ یہی کام تو مولا علی کے ملنگوں کا ہے جیسے بہلول دانا جیسے  محب نے کیا ہے۔ آپ کے عاشقوں نے آپ کی محبت کو اپنا سب کچھ کہا ہے  اسی لیے تو حضرت بہلول نے زبیدہ کو ( ریت کی ایک ڈھیری دے کر کہا تھا کہ یہ جنت ہے اور اس کی قیمت تمہارے گلے کا قیمتی ہار ہے  ) جنت کا ایک محل قیمتی ہار کے بدلے میں دے دیا تھا۔

    اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے تو زندگی کی ظاہری نمود و نمائش ٹھکرا دیجیے ۔ اور توشہء آخرت اکھٹا کر کے اجل کا انتظار کیجیے اور جنت الفردوس میں حوض کوثر سے تشنہ لبی مٹانے کا انتظار کیجیے ۔

    لیکن

    اگر آپ ان احکامات پر عمل پیرا نہیں ہیں تو فکر آخرت کے لیے اپنے آپ کو آج ہی تیار کر لیجیے نماز شب آج ہی پڑھیے اور دیکھیے کہ خدا وند غفار کیسے اپنی رحمتوں کے خزانے آپ پر وا کرتا ہے۔ اور کیسے آپ کی لغزشوں  کو معاف کر کے آپ کو معصوم بچے کی طرح گناہوں سے بالکل پاک کرتا ہے ۔ کیونکہ اللہ تعالٰی غفار بھی اور غفور بھی ۔

    (غفور سے مراد جو بار بار غلطی کر نے پر بخش دیتا ہے اگر کوئی انسان  بخشش طلب کرے تو۔۔۔۔)

    مولا علی کرم اللہ وجہہ ارشاد فرماتے ہیں۔

    "نماز شب پڑھنے والا جب قبر سے باہر نکلے گا تو سب سے پہلے فرشتے

     اس کو جنت کی خوشخبری سنائیں گے”۔

    لیکن جنت کی خوشخبری سے پہلے ہمیں آج سورہ التکویر کی پہلی چند مقدس آیات کو پڑھ لینا چاہیے ۔ تا کہ استغفار کا قرینہ آ جائے اور قیامت کی ہولناکیوں کا خاکہ ہمارے ذہنوں پر ثبت ہو جائے اور ہم اس خوف اور اس عذاب سے بچنے کے لیے نماز شب کا دامن پکڑے رکھیں۔

    hubdar qaim

    سیّد حبدار قائم

    کتاب ” نماز شب” کی سلسلہ وار اشاعت

  • پلِ صراط اور قبر میں معاون ہے نمازِ شب

    پلِ صراط اور قبر میں معاون ہے نمازِ شب

    نمازِ شب کی رفعتوں، تابانیوں اور جلوہ سامانیوں کے متعلق حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام  ارشاد فرماتے ہیں
    ” نماز شب پروردگار کی خوشنودی کا باعث ہے۔ فرشتوں سے دوستی کا سبب ہے۔ پیغمبروں کی سنت ہے ۔ معرفت کا نور، حقیقت پر یقین دلانے کا وسیلہ ، جسمانی صحت کی وجہ اور شیطان کی پریشانی کا موجب ہے۔ دشمنوں کے خلاف ایک اسلحہ ہے، دعا اور اعمال کے قبول ہونے کا سبب ہے روزی میں برکت کا باعث ہے موت کے فرشتے اور نمازی کے درمیان دوستی اور سمجھوتہ کرانے والی چیز ہے نمازِ شب قبر میں ایک چراغ کا کام دیتی ہے ۔ اور وہاں نرم بستر بھی بن جاتی ہے ۔ منکر نکیر کے سوالوں کا جواب ہے ایک اچھا ہمدم ہے ۔ قبر میں قیامت تک کے لیے نمازی کی ایک ملاقات ہے ،جب قیامت ہوگی تو نماز شب سر پر سایہ دے گی  ۔ بدن پر لباس اور تاریکی میں راہ دکھانے کے لیے نور کا کام کر دے گی۔ آگ اور نمازی کے درمیان حائل ہو جائے گی ۔ اس کے اور خدائے تعالی کے درمیان حجت، اعمال کی ترازو میں ایک وزنی چیز، پل صراط سے گزرنے کے لیے ایک اجازت نامہ اور جنت کی کنجی بن جائے گی۔

     گویا نمازِ شب ہر مشکل کا حل ہے۔

    نمازِ شب پڑھنے والے انسان کو مضطرب ہونے کی ضرورت نہیں کہ روز قیامت جہنم کی آگ اسے بھسم کر دے گی۔ یا عذابِ قبر کی وجہ سے اس کی دائیں والی پسلیاں بائیں اور بائیں وائی پسلیاں دائیں طرف دھنس جائیں گی۔ یا کہ قبر کا جب دروازہ کھلے گا تو اس میں ایک خطرناک اژدها آئے گا جس کے منہ سے آگ کے شعلے نکل کر انسان کو راکھ کر دیں گے یا یہ کہ موت کا فرشتہ روح نکالتے وقت عذاب الہی کا مزہ چکھائے گا ۔

    graveyard
    Image by SofieLayla Thal from Pixabay

    نمازِ شب فرشتوں سے دوستی کا سبب بنتی ہے نمازی اور نارِ جہنم کے درمیان دیوار بن جاتی ہے ۔ اعمال کے ترازو میں سب سے وزنی چیز بن جاتی ہے۔

    مختصر یہ کہ ہر قسم کے عذاب سے بچاو کی مکمل ضمانت نماز شب ہے ۔ جیسا کہ مذکورہ بیان میں بلکہ حکم امام جعفر صادق علیہ السلام میں آپ نے فرمایا کہ نمازِ شب قبر میں چراغ کا کام دیتی ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ عذاب قبر سے بچانے کے لیے منکر نکیر کے سوالوں کا جواب بن جاتی ہے ۔،اس کے علاوہ موت کے فرشتے کے ساتھ ساتھ سمجھوتہ اور دوستی کا باعث بن جاتی ہے ۔ اتنے زیادہ فیوض و برکات اگر نماز شب کے متعلق امام صادقؑ کے فرامین کے مطابق ہیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ ہم نماز شب ادا کرنے سے کوسوں دور ہیں ۔ اسی لیے امام جعفر صادقؑ نے فرمایا ہے کہ

      ” جو شخص نماز شب ادا نہیں کرتا وہ ہمارے شیعوں میں سے نہیں ہے۔”

    اس لیے اگر ہم اپنے آپ کو محبانِ اہل بیت رسولؐ میں شمار کرتے ہیں۔ تو ہمیں آپؐ کے فرامین اور اعمال کو اپنانا ہو گا ۔ آپ کے درخشاں و معطر اسوہ پر عمل پیرا ہونا ہو گا ۔ آپ کی محبت میں جوصعوبتیں اور تکالیف آئیں انہیں خندہء پیشانی سے برداشت کرنا ہوگا اور آپ کے بتائے ہوئے فرامین کے مطابق غریبوں ، یتیموں اور مسکینوں کا حاجت روا بننا ہو گا اور یہ اسی صورت میں ممکن ہوگا  جب ہم دل کی گہرائیوں سے محمد و آل محمد علیہ السلام کی سیرت پر عمل کر کے اس سے محبت کریں گے اور دن رات آپ حضرات پر درود و سلام کے نذرانے نچھاور کریں گے۔

    اور نمازِ شب میں ہماری اللہ کی بارگاہ میں سسکیاں ، آہیں اور آنسوؤں کی برسات مغفرت کا باعث بنتی ہے ۔ اللہ رب العزت وہ رحیم و کریم ذات ہے  جسے نہ نیند آتی ہے اور نہ ہی اونگھ ۔کیونکہ کا ئنات میں کسی وقت کسی پتھر یا کسی اور جگہ پر جب کوئی کیڑا بھی رزق کے لیے صدا دے تو اللہ تعالیٰ سائل کی فریاد سنتا ہے اور سائل کو عطا کرتا ہے ۔ اس کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ تعالیٰ کی ثناء کرتا ہے۔ کسی بھی غم زدہ کی سسکی،  آه یا فریاد جب اس  کی بارگاہ میں جاتی ہے تو وہ ضرور پوری فرماتا ہے ۔ کیونکہ وہ رحمان بھی ہے رحیم بھی۔

    بسم اللہ الرحمن الرحیم میں  "رحمان و رحیم” اکھٹا آیا ہے جس سے مراد یہ ہے کہ جو اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور اس کی وحدانیت کا دل و زبان سے اقرار کرتا ہے اور اس کے ساتھ کسی اور کو شریک نہیں ٹھہراتا۔ اللہ رب العزت اس کو بھی رزق دیتا ہے اور  رحیم اس لیے کہ وہ مہربان رب اس شخص کو بھی بھوکا نہیں سونے دیتا۔ جو اسکی وحدانیت کا منکر ہے بتوں، ستاروں اور آتش کی پرستش کرتا ہے بلکہ اللہ رب العزت تو یہاں تک فرماتا ہے

    کہ جو کوئی بھی اشک ندامت لے کر آئے اور میری آغوشِ رحمت میں محبت سے لبریز ، اشتیاق و فریفتگی سے بھر پور اور وارفتگی و شیفتگی سے سسکیوں اور استغفار کا نذرانہ پیش کرے تو میں اس کی لغزشوں کی آلودگی کو اس طرح صاف کرتا ہے جیسے ایک معصوم بچہ لغزشوں سے پاک ہوتا ہے اور معصوم بچہ تو ایک غنچے کی مانند ہوتا ہے جو خوشبو کے ایک جھونکے کا احساس دلاتا ہے یہ معصوم بچہ سحر کا تارا ہوتا ہے ۔ معصوم بچہ چودھویں کا چاند ہوتا ہے جیسے چودھویں کا چاند دلوں کو مسرت اور روح کو سکون دیتا ہے ایسے ہی معصوم بچہ ہر کسی کی آنکھوں کو بھاتا ہے اور اچھا لگتا ہے نمازِ شب ادا کرنے والے کا چہرہ معصوم بچے کی مانند منور ہو جاتا ہے حدیثِ نبویؐ ہے

    "کیا تم نہیں دیکھتے کہ نمازِ شب پڑھنے والے لوگ سب سے زیادہ خوبصورت ہوتے ہیں؟

    اس لیے کہ جب یہ لوگ خدا کے لیے نماز پڑھتے ہوئے رات گزار دیتے ہیں تو خدا بھی اپنے نور سے ان کے وجود کو زینت دے دیتا ہے” اسی لیے وہ مومن جو نماز شب پڑھتے ہیں وہ کائنات کا وقار ہیں ۔ زمین کا حسن ہیں کیونکہ وہ محمدؐ وآل محمد علیہ السلام   کے اسوہ حسنہ پر عمل کرتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ہمارے آئمہ طاہرین کی ساری زندگی کسی بھی حالت میں  کوئی نمازِ شب قضا نہیں ہوئی ۔ میں ان محبین کا تذکرہ کر رہا ہوں کہ جن کو مولا علیؑ نے کہا ہے کہ یہ میرے شیعہ ہیں ۔ اور ان محبین کا ذکر کہ جنہیں امام جعفر صادقؑ نے اپنا شیعہ کہا ہے اس شخص کا تذکرہ نہیں کر رہا  جو غفلت کی نیند سو جاتا ہو اور فرائض کے ساتھ اسے نماز شب کا کوئی احساس نہیں ہو تا حالانکہ وہ ذکر اہلبیت کرتا ہے مجالس میں جاتا ہے ماتم کرتا ہے لیکن دیگر احکام الٰہی پر عمل نہیں کرتا۔

    میرے قلم میں اتنی جرات نہیں کہ میں امام حسینؑ کے ماتمیوں کے خلاف کچھ لکھوں کیونکہ میں خود نوحہ خواں ہوں، سلام اور منقبت لکھتا ہوں اور میں خود ماتمِ حسینؑ کا گرویدہ ہوں میں تو صرف تعمیر کردار کی نیت سے ذکر  کر رہا ہوں ۔ اور آئمہ معصومین کے فرامین نقل کر رہا ہوں تا کہ کوئی وہم میں نہ رہے کہ ہمارے آئمہ کیا چاہتے ہیں اور اس چیز کا ذکر کر رہا ہوں جس کا ہمارے آئمہ طاہرین نے حکم دیا ہے۔ کسی بھی  بے نمازی اور اعلی و ارفع کردار اور اقدار سے خالی شخص کو مولا علی نے اپنا  شیعہ نہیں کہا۔

    نمازِ شب کے پلِ صراط اور قبر میں کیا فائدے ہیں  میرے ان اشعار میں ملاحظہ کیجیے:۔

    خدا کے عشق میں بندے سے جو سجدے کراتی ہے

    لحد میں وہ نمازِ شب  نمازی کو بچاتی ہے

    نمازی کا پکڑ کر ہاتھ پُل سے پار جاتی ہے

    یہ فردوسِ بریں تک راستے آساں بناتی ہے

    hubdar qaim

    سیّد حبدار قائم

    آف غریب وال، اٹک

    کتاب ” نماز شب ” کی سلسلہ وار اشاعت

  • ہاتھ پاؤں  کی گواہی

    ہاتھ پاؤں کی گواہی

    شائد ہماری عقلوں پر پردہ پڑ گیا ہے کہ ہم گناہوں کی زندگی سے توبہ نہیں کر رہے ہیں کیونکہ قیامت کے روز  ہمارے یہی ہاتھ ، زبان اور یہی پاؤں ہمارے خلاف اللہ کی بارگاہ میں گواہی دیں گے جو ہم کرتے رہے ہیں  اور اُس دن جب پہاڑ ایسے ہوں گے جیسے دھنکی ہوئی رنگین اون، اور اس دن جب آسمان پھاڑ دیا جائے گا، جب زلزلے آئیں گے، جب صور پھونکا جائے گا ، اُس دن سے پہلے جس نے نماز شب پڑھی ہو گی اور گناہوں سے بچا ہو گا وہ اپنے اعضائے جسم کی گواہی سے بچ جائے گا اور جو بندہ گناہوں کے اڈوں کی طرف جاتا رہا ہو گا اس کے اعضائے جسم کی گواہی اسے لے ڈوبے گی

    ۔ سورہ یٰسین کی یہ آیت مبارکہ ہمیں اسی چیز سے ڈراتی ہے۔

    الیوم نختم علی افواھھم وتکلمنا ایدیھم و تشهد ارجلهم بما کانو یکسبون۔

    یٰسین

    یعنی ” آج ہم ان کے مونہوں پر مہر لگا دیں گے اور وہ جو کچھ کرتے رہے تھے اس کے متعلق ان کے ہاتھ ہم سے بیان کریں گے اور ان کے پاوں (ان کی) گواہی دیں گے "

    جو قدم دن کے اجالوں میں نماز ادا کرنے کے لیے مسجد کی طرف اور جو رات کی تاریکیوں میں نمازِ شب کی طرف بڑھے ہوں گے ۔ اُس دن خوشی و مسرت کا اظہار کریں گے اور جو قدم سینماوں،  گناہ کی دلدلی گلیوں اور برائی کے گڑھوں کی طرف بڑھے ہوں گے وہ دکھ و بیچارگی کے عالم میں ہوں گے ۔ اور وہی قدم اپنے متعلقہ انسان کے خلاف گواہی دیں گے ۔ اس لیے ہمیں عذاب الہی سے بچنے کی سعی کرنی چاہیے۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب ہم اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  اور اہل بیت اطہار ؑکے فرمودات پر عمل پیرا ہو کر حقوق اللہ اور حقوق العباد کے فرائض کو پورا کرنے کی سعی کریں۔ اور عذاب الٰہی سے احتراز کی سعی مشکل ضرور ہے نا ممکن نہیں ! بس وقت اور محبت کی ضرورت ہے بقول شاعر

    آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک

    day of judgment
    Image by Thomas Breher from Pixabay

    نماز شب سے مزین قلب دنیا و آخرت میں ہمیشہ سرخرو ہوتا ہے

    ہمارے اسلاف اسی لیے پورے عالم پر چھائے رہے کہ ایک  طرف انہوں نے مسلسل کاوش ، عزم صمیم ، بلند نصب العین اور ثابت قدمی سے کفار کے بتوں کو پاش پاش کیا جب کہ دوسری طرف ان کی جبینیں بارگاہ ایزدی میں بھی جھکی  رہیں ۔ ہماری تباہی و بربادی اسلاف کے اُس راہ سے ہٹ جانے سے ہوئی ہے کہ جن کی راہ کو کتاب ھدٰی میں صراط مستقیم کہتے ہیں ۔ جو راه اختیار کرنے کے متعلق الله کا بلند مرتبه نبیؐ بتاتا ہے، اور وہ راہ جو اہل بیت محمدؐ بتاتے ہیں ۔ ہمارے اسلاف قرآن کے  درخشاں الفاظ کی جگمگاہٹ سے منور ہوکر ظلمتوں میں اجالا بکھیرتے رہے جبکہ ہم نے قرآن کو فراموش کر کے اپنی عزت و ناموس کھو دی ہے۔

      بقول اقبال

    "وہ معزز تھے زمانے میں مسلمان ہو کر

    اور تم خوار ہوئے تارکِ قُرآں ہو کر "

    ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قرآن وسنت پرعمل پیرا ہوکر اپنی کھوئی ہوئی میراث اور عزت و ناموسں دوبارہ حاصل کریں ۔ اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب ہم فرائض نمازوں کے علاوہ سنت نمازوں کے ساتھ خصوصا نماز شب ادا کرنے کی سعی کریں۔

    جس طرح موجِ صبح نشاط دلوں کو تازگی بخشتی ہے بالکل اسی طرح خشوع وخضوع سے با قاعدہ نماز شب ادا کر نے والے کے دل و روح کو سکون و طمانیت حاصل ہوتی ہے۔ نماز شب ادا کرنے والے کی حفاظت خود خداوند عالم فرماتا ہے اسی لیے آنحضورؐ  نے نماز شب کی بہت زیادہ تاکید فرمائی ہے۔

    آج اگر ہم آنحضورؐ کے بتائے ہوئے ضوابط پرعمل پیرا ہوں تو ہماری بستیاں معصوم عصمتوں کا قبرستان نہ بنیں ہمارے گھروں ،مسجدوں ، امام بارگاہوں اور گلی کوچوں  سے گولیوں سے چھلنی اور بموں سے دریدہ لاشیں نہ ملیں ۔

    اس کی وجہ کیا ہے !

    میرے خیال میں اس کی وجہ بس یہی ہے کہ ہم نے ساقی ءکوثر ، شافع ء محشر  بدرِ منور اور روحِ مصور حضرت محمدؐ  کے بتائے ہوئے روشن احکام پر عمل کرنا چھوڑ دیا ہے رب کعبہ کی قسم ! اگر ہم آج بھی آنحضورؐ سے محبت و

    والفت کا اظہار نماز شب میں درود و سلام کی صورت میں ادا کریں تو خدا وند غفار ہمیں اپنی رحمتوں ،برکتوں اور عظمتوں سے نواز دے اور ہماری ہر میدان میں حفاظت فرمائے اور آنحضورؐ کی اطاعت اللہ تعالی کی ہی  اطاعت ہے جیسے کہ قرآن حکیم واضح فرماتا ہے۔

    من يطع الرسول فقد اطاع الله

    جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی ۔

    اور حضورﷺ کی اطاعت کا اعجاز و عرفان اسی صورت میں پتہ چلتا ہے کہ جب ہم نماز شب ادا کریں اور رات کا کثیر وقت قرآن حکیم کی تلاوت میں صرف کریں کیونکہ بقول اقبال

    "گر تو می خواہی  مسلمان زیستن

    نیست ممکن جز بہ قر آن زیستن”

    یعنی” اگر تم مسلمان کی حیثیت سے زندہ رہنا چاہتے ہوتو قرآن کے بغیر رہنا ناممکن ہے ۔”

    نماز شب میں قرآن حکیم کی کثرت سے تلاوت کرنا اور کثرت سے محمدؐ وآل محمدؐ پر درود وسلام پڑھنا نماز کی شان ، نماز کی آن، نماز کی روح اور نماز کی جان ہے کیونکہ ذکر مصطفٰؐی اور ذکر مرتضٰی الله تعالٰی کو بہت پسند ہے حضور پر درود و سلام کے نذرانے توشہءآخرت ثابت ہوں گے ۔ کیونکہ آپ کا ذکر اعلٰی و ارفع ہے جس کا ثبوت قرآن حکیم کی یہ آیت مبارکہ ہے۔

    ورفعنا لک ذکرک

    ہم نے آپؐ کے ذکر کو بلند کر دیا ہے

    بقول شاعر

    "خدا کا ذکر کرے ذکر مصطفٰیؐ نہ کرے

    ہمارے منہ میں ہو ایسی زباں خدا نہ کرے”

    اسی لیے ہم بھی ذکرمصطفیؐ ضرور کرتے ہیں۔ کہ اس ذکر کی برکت سے اللہ تعالٰی کی ذات راضی ہو جاتی ہے مزید جب نماز شب میں استغفار کی جائے تو گناہ مٹ جاتے ہیں جب گناہ مٹ جائیں تو اعضائے جسم نے کیا گواہی دینی ہے کیونکہ استغفار کے بعد اللہ تعالٰی انسان کو بالکل ایسے کر دیتا ہے جیسے وہ انسان  ابھی پیدا ہوا ہو۔ اسی صورت حال کو میں نے ان اشعار میں قلمبند کرنے کی کوشش کی ہے ۔ لیجیے اشعار ملاحظہ کیجیے:۔

    ” قیامت کو گواہی دیں گے میرے جسم کے اعضا

    اسی اک بات سے اوسان میرے غیب رہتے ہیں

    اسی سے بچنے کی خاطر نمازِ شب میں پڑھتا ہوں

    کہ استغفار جس میں ہو کہاں پھر عیب رہتے ہیں

    hubdar qaim

    سیّد حبدار قائم

    کتاب ” نماز شب ” کی سلسلہ وار اشاعت

  • نماز شب ، فرشتے اور شیطان

    نماز شب ، فرشتے اور شیطان

    نمازِ شب میں جذب و مستی انسان کو ایک خاص لذت سے آشنا کرتی ہے۔ جس طرح دھنک کے رنگ انسان کی آنکھوں کو بھلے لگتے ہیں اس طرح نمازِ شب پڑھنے والے کی پر کیف تسبیحات فرشتوں کو سُرور بخشتی ہیں ۔

    کیونکہ جب انسان نماز شب کے لیے اٹھتا ہے تو اللہ رب العزت اپنے فرشتوں سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے کہ دیکھو میرا بندہ میری بندگی کرنے کے لیے اپنے سکون کو ترک کر رہا ہے اس لیے میرے اس  بندے کے لیے رحمت کی دعا کرو۔ ہمارے آئمہ طاہرین  نے اسوہ حسنہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم  پر چلنے کی اس لیے بھی تاکید فرمائی ہے تا کہ آپ  حضرات کے شیعہ اور محبین شیطان کے شر اور حملے سے محفوظ رہیں کیونکہ آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔

       ” کوئی شخص بھی رات بھر نہیں سوتا مگر یہ کہ شیطان اس کے کان میں پیشاب کر دیتا ہے ایسا رات بھر سونے والا شخص قیامت کے دن کا مارا ہوا اور بیچارگی کا مارا ہوا نظر آئے گا اور کوئی شخص ایسا نہیں ہے جسے فرشتہ رات میں دوبار بیدار نہ کرتا ہو ایک فرشتہ یے جو ہر شخص کو ہر شب میں دو بار نیند سے جگاتا ہے وہ فرشتہ کہتا ہے خدا کے بندے اٹھ جاو۔ اپنے پروردگار کو یاد کرو اور اگر تیسری بار بھی وہ بیدار نہ ہو تب شیطان اس کے کان میں پیشاب کر دیتا ہے۔”

    اس لیے شیطان کے شر سے بچنے کے لیے اور علم و آگہی کے بیکراں سمندر سے گوہرِ نایاب  سمیٹنے کے لیے نماز شب کا دامن پکڑنا چاہیے  اور یہ گوہر صرف اور صرف نماز شب ہی میں موجود ہیں ۔ نماز شب کے متعلق اللہ رب العزت پارہ نمبر 26 سورہ الذٰریٰت کی آیت نمبر 16 ،15 میں متقی لوگوں کے متعلق ارشاد فرماتا ہے کہ جو لوگ دنیا سے نیکیاں اور عاجزی سمیٹ کر لائے ہیں آج ان کا پھل حاصل کر رہے ہیں اور ان کی نیکیوں کی تفصیل یہ ہے کہ وہ رات کا اکثر حصہ میری عبادت میں گزار دیتے ہیں اور سحر کے وقت جب رات اپنی انتہا کو پہنچتی ہے تو مجھ سے اپنی خطاوں کی معافی کے خواستگار ہوتے ہیں اور یہ گڑگڑا کے کہتے ہیں کہ یا اللہ مجھ سے حق عبودیت ادا نہ ہو سکا اور جو جو کوتاہی اس میں رہ گئی ہے اپنی رحمت کی برکتوں سے معاف فرما ! عبادت کا عروج ان کو تکبر سے دور کرتا ہے اور جس قدر بندگی میں ترقی کرتے ہیں خشیت و خوف بڑھتا جاتا ہے

    الذٰریٰت کی آیت کریمہ ملاحظہ فرمائیے

    ان المتقین فی جنت و عیون ○

    بےشک ( ڈرانے والے ) متقین باغوں میں ہیں اور چشموں میں ۔۔

    ا خذین ما ا لھم ربھم ○

    لے لیتے ہیں جو دیا ان کو ان کے رب نے

    انھم کانو ا قبل ذلک محسنین○

    وہ تھے اس سے پہلے نیکی کرنے والے

    کانو قلیل من الیل ما یہجعون

    وہ رات کو تھوڑا سوتے ہیں ۔

    و بالاسحار هم يستغفرون

    اور دمِ سحر وہ معافی کے خواستگار ہوتے ہیں ۔

    Namaz
    Image by Zaid ali from Pixabay

    الذٰریٰت کی اس مقدس و مکرم آیہ کریمہ میں اللہ جل شانہ نے کچھ لوگوں کی کامیابی کا تذکرہ کیا ہے یہ ایسے لوگ ہیں جو تقوی اختیار کرتے ہیں اور جتنا انہیں رب العزت نے عطا کیا ہے اسی پر قناعت کر کے صبر و شکر کرتے ہیں ۔ عاجزی و انکساری کرنا ان کا شیوہ ہوتا ہے اور ان کا وصف یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ رات کو بہت کم سوتے ہیں اور زیادہ وقت ان کی جبینیں سجدہ ریز ہی رہتی ہیں اور جونہی سحر نمودار ہونے کے قریب تر ہوتی ہے یہ لوگ اپنی خطاؤں اور اپنی لغزشوں پر پرنم آنکھوں اور پشیمان دل سے معافی کے خواستگار ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ یہ لوگ جنت کی خوشبوؤں میں پھریں گے اور جنت کے میٹھے چشموں سے تشنگی مٹا کر لطف اندوز ہوں گے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے آرام کو ترک کر کے نمازِ شب خشوع وخضوع سے ادا کی ۔

    میرے دل میں ایک سوال اٹھ رہا ہے؟

    آج کیا وجہ ہے کہ ہم نے طاغونی طاقتوں کے ہتھکنڈوں( انٹرنیٹ وغیرہ) میں آ کر دین کی درخشاں وتاباں تعلیمات کو فراموش کر دیا ہے؟

    آپ نے زندگی کے کتنے لمحے  الله رب العزت کی محبت میں نچھاور کئے !

    آپ نے اور میں نے زیست کی کتنی ساعتیں وی سی آر، ڈش انٹینا ، کیبل، فیس بک، ٹوئٹر اور انٹرنیٹ وغیرہ  کی بے حیائی کے ساتھ گزاری ہیں اور کتنی ساعتیں عبادتِ خدا کے لیے نماز شب میں وقف کیں ؟

    آپ نے فرائض کو تو ادا کیا ہوگا سنتیں بھی پڑھی ہوں گی لیکن جب نمازِ شب کا سوال آتا ہے تو بہت سے ایسے افراد ہوں گے کہ جنہوں نے نماز شب زندگی بھر ادا ہی نہ کی ہو گی۔

    اس کی کیا وجہ ہے؟ کبھی آپ نے سوچا ہے لیکن مجھے نہیں لگتا کہ آپ نے سوچا ہو گا کیونکہ اس کو سوچنے کے لیے وقت درکار ہے اور آج نفسا نفسی کا عالم ہے اس کے لیے وقت تب نکلتا ہے جب محبت و عشق کی اڑان وادیء نماز شب میں اڑا کر لے جائے جس میں شوق و وارفتگی ہو۔ اور یہ اس صورت میں ممکن ہے جب آپ اسوہ ء رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عاشق ہوں اور اس پر عمل پیرا ہوں اور آپ کی زبان، آپ کے ہاتھ اور آپ کے پاوں اسی طرف بڑھتے ہوں جس طرف آنحضورؐ نے جانے کا حکم دیا ہو۔ کیونکہ قرآن مجید ہمیں دعوتِ فکر و عمل دیتا ہے  اور آنحضورؐ کی انوار افروز سیرت کے متعلق اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:۔

    لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوة حسنہ ۔

    یعنی” تمہارے لیے آنحضورؐ کی ہستی میں بہترین نمونہ ہے "

    آنحضورؐ کے افکار و خیالات کو اللہ رب العزت نے وہ رفعتیں اور تابانیاں عطا کیں کہ آپ کی سیرت کو نمونہ قرار دیا۔ آپ رات کا بیشتر حصہ خدا وند کریم کی یادوں کو دل میں سجاتے اور سجدہ ریز ہوتے۔

    کیا آج ہم بھی ذکر و فکر کی لذتوں، تسبیج و تہلیل کی حلاوتوں اور اسوہء رسولؐ پر عمل پیرا ہو کر ذکر الہی میں مشغول رہتے ہیں۔

    ہمارے قدم تو بارگاہِ الٰہی کی طرف بڑھنے کی بجائے سینما گھروں اور انٹر نیٹ کلبوں کا رخ کرتے ہیں ہماری زبانیں قرآن حکیم کی درخشاں و منور آیات کی تلاوت کا شرف حاصل کرنے کی بجائے جہنم کی پکار "موسیقی ” کی طرف راغب ہوتی ہیں۔ ہمارے ہاتھ صدقہ و خیرات کرنے کی بجائے غریبوں اور یتیموں سے روٹی کا نوالہ چھین لینے کی سعی کرتے ہیں۔

    کیا یہی ہمارا دین سکھاتا ہے؟

    بالکل نہیں ۔

    کیا یہی درسِ آل محمدؐ ہے؟

     بالکل نہیں۔

    کیا یہی مسلمان اور مومن کا وطیرہ ہے؟

    بالکل نہیں ایسا نہیں ہے۔

    نمازِ شب ابلیس کے لیے پھندہ ہے جس میں مومن شیطان کو جکڑ کر اپنی روحانی طاقت میں اضافہ کرتا ہے اور یہی طاقت اسے مقام عرفان تک لے جاتی ہے جہاں اسے اللہ رب العزت کے جلوے نظر آتے ہیں ۔یہ میرا لکھا ہوا شعر ملاحظہ کیجیے:۔

    ابلیس روکتا ہے تہجد کی بات سے

    بڑھ جائے نہ بشر یہ کہیں ایک رات سے

    وہ سرخرو بشر ہو گا کارِ جہان میں

    اپنی لگن جو رکھے گا "حاشر ” کی ذات سے

    hubdar qaim

    سیّد حبدار قائم

    کتاب” نماز شب "کی سلسلہ وار اشاعت

  • ہمارے امام سجاد علیہ السلام اور نمازِ شب

    ہمارے امام سجاد علیہ السلام اور نمازِ شب

    ہمارے اعمال کو جب امام زین العابدینؑ دیکھتے ہوں گے تو بے ساختہ آپ کی زخمی آنکھوں سے خون بہنا شروع ہو جاتا ہوگا۔ آپ کو بھائیوں کے قاتل بھی یاد آتے ہوں گے آپ کو وہ جابر یزیدی بھی یاد آتے ہوں گے جنہوں نے اہل بیت رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خیموں کو نذرِ آتش کیا آپ کو وہ بازار بھی یاد آتے ہوں گے جہاں حالت اسیری میں آپ کی پھوپھی جان اور دوسری مستورات کو پھرایا گیا آپ کو وہ زندان بھی یاد آتا ہو گا جہاں آپ کی چھوٹی بہن سکینہ نے بابا کی جدائی میں سسک سسک کر جان دی تھی۔ آپ کو وہ دربار بھی یاد آتا ہو گا جہاں آپ کے بابا کے پاک لبوں پر یزید جیسا فاسق شخص چھڑیاں مارتا رہا جن پر آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسم بوسے دیا کرتے تھے ۔ اور یہ سب اس لیے یاد آتا ہو گا کہ ہمارے اعمال میں اچھائی کی قلت آپ کو رلاتی ہو گی کیونکہ آپ نے تمام مشکلات کے باوجود  اپنے عمل سے بتایا تھا کہ نمازی کی کیا اہمیت ہے ؟ نماز شب کی کیا عظمت ہے؟ ایک روایت میں ہے کہ آپ نے اپنی ساری زندگی میں نماز شب کو کبھی ترک نہیں کیا اور حالت اسیری میں بھی فرض نمازوں کے ساتھ سنتیں ادا کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر ایک ہزار رکعت نوافل ادا کرتے تھے۔

              ہمارے اعمال کے اہل بیت عظام کے سامنے پیش ہونے کے متعلق ایک شخص نے حضرت امام جعفر صادقؑ سے استفسار کیا کہ سرکار !  بتائیے کہ قرآن میں  اس کا تذکرہ کہاں ہے کہ پوری دنیا کے اعمال آپ کو ہر روز پیش ( اہل بیت عظام  کو) کیے جاتے ہیں تو آپ نے مسکرا کر جواب دیا کہ سورہ توبہ کی آیت نمبر 105 پڑھ تجھے پتہ چل جائے گا کہ قرآن نے جن مومنین کا ذکر کیا ہے کہ آنحضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان مومنین کو عمل پیش کیے جاتے ہیں ۔ وہ مومنین کوئی اور نہیں بلکہ ہم اہل بیتِ رسولؐ  ہیں ۔

    Alhamra
    Image by aitorstudio from Pixabay

    اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ شیعہ اثناء عشری اور اہل سنت جو آپ کے محبین میں شامل ہیں اللہ تعالٰی کے فرامین آنحضور کے ارشادات اور اہل بیت اطہار کے فرمودات کی روشنی میں نمازِ شب کو عشق و سرمستی ! جذب و کیف اور ذوق و شوق کی فراوانی کے ساتھ ادا کریں ۔ توشہء آخرت بنانے کے لیے ہمیں اہل بیت کی پیروی کرنی چاہیے ۔

    توشہ ءآخرت کی بات کی ہے تو مولا علیؑ کا ایک راحت افروز اور مسرت  آفرین قول ذہن کے دریچوں پر  دستک دینے لگا ہے آپ نے ایک درہم اپنی ہتھیلی پر رکھا اور فرمایا ! یہ میرا نہیں ، جب میرے ہاتھ سے نکل جائے گا ، میرا ہو جائے گا مقصد یہ کہ جب یہ درہم رضائے الٰہی کے حصول کا موجب ہوگا اور  انفاق فی سبیل اللہ کی صورت اختیار کرے گا میرا ہو جائے گا ۔ اور  توشہء آخرت بن جائے گا۔

    جبیں کا نور اور قلب کا سرور بڑھانے کے لیے نماز شب کا سہارا لینا ہر مومن پر قرض ہے جب رات کی تاریکی اور خاموشی میں مومن اللہ کی عظیم  ذات کے سامنے اشکوں کا نذرانہ اپنی پلکوں پر سجا کر گڑ گڑاتا ہے تو رب درد مندوں کی پکار سنتا ہے ، محروموں کو نوازتا ہے ۔ بن مانگے رزق عطا کرنے والا رب العزت کا  ارشاد ہے۔

    امن یجیب المضطر اذا دعاہ و یکشف السوء

    اللہ رب العزت اپنے سامنے جھکی ہوئی ایسی جبینیں جو ذوق و شوق و وارفتگی ، اور بیخودی سے اظہار کریں ، مرادوں کے پھول اور تمناوں کے گلزار عطا فرماتے ہیں ۔ نمازِ شب میں قرآن حکیم کے مقدس و معطر الفاظ کی تلاوت کا شرف حاصل کر کے "حسبنا اللہ ونعم الوکیل”  کا ورد کرنے والے کو اللہ تعالی بہت پسند فرماتا ہے۔ اور انسان کو وہ نعمتیں اور اجر عطا فرماتا ہے جسکا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا اس کی ادراکئی پر واز رب کی عطاوں تک نہیں پہنچ سکتی  اور وہاں پہنچنا نا ممکن ہے۔ عاجزی و انکساری کے بے بہا گوہر اور اشکوں کے انمول موتی لیے انسان جب بھی اس کی رحمت تلے آئے تو وہ رحمان ذات وہ رحیم ذات بلکہ غفور ذات انسان کی خطاوں کو معاف فرما کر اس کو قلبی مسرت عطا فرماتی ہے ایسا انسان جو اشکوں کا سمندر رخساروں پہ لیے رات کی تنہائیوں اور تاریکیوں میں اس کے آگے سجدہ ریز ہو پھر اس کو مانگنے کی ضرورت نہیں بلکہ دنیا کی ساری چیزیں اسکی مطیع کر دیتا ہے ۔ لیکن اس کے لیے ذرا خودی کو بلند کرنا پڑتا ہے تسبیح و تہلیل میں آہوں اور سسکیوں کا بے کراں سمندر نچھاور کرنا پڑتا ہے تب کہیں ذاتِ خدا  انسان کو وہ چیزیں عنایت فرماتا ہے کہ انسان سمیٹے بھی تو سمیٹ نہیں سکتا۔ اللہ رب العزت پھر انسان کو مانگنے سے پہلے اپنی رحمت کی چھاوں میں لا کر ارشاد فرماتا ہے ۔ بقول اقبال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

      خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے

       خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

    بات کہاں سے کہاں نکل گئی حضرت زین العابدینؑ نے اپنے عمل سے اپنے محبین کو بتایا ہے کہ کسی صورت میں بھی نمازِ شب جیسی عظیم سنت ترک نہ کریں

    hubdar qaim

    سیّد حبدار قائم

    کتاب ‘ نماز شب’ کی سلسلہ وار اشاعت

  • امام حسینؑ کی قربانیاں اور ہمارے اعمال

    امام حسینؑ کی قربانیاں اور ہمارے اعمال

    جی ہاں ہمارے امام حسینؑ  جب ہمارے اعمال میں نمازوں کی کمی دیکھتے ہوں گے تو ان کے ان بے شمار زخموں سے پھر خون جاری ہو جاتا ہوگا۔ جو کربلا کی گرم ریت کی جلن اور تپش برداشت کر چکے تھے۔ ہمارا راتوں کو غفلت کی نیند سونا امام ؑ  کو مضطرب کر دیتا ہو گا کیونکہ آپ یہ سب دیکھ کر سوچتے ہوں گے کہ میں نے بھائی قربان کئے ، بیٹے لہو میں لتھڑے ہوئے دیکھے۔ اصغرؑ و اکبرؑ کا خونِ نا حق دیکھا اور تو اور بی بی سکینہ ؑ  کی تشنہ لبی اور ہاتھوں میں اٹھایا ہوا خالی کاسہ دیکھا اور اس سے بڑی دکھ کی بات اور کیا ہو سکتی ہے کہ اپنے دشمن غیرت مند نہیں انتہائی کمینے ، سفاک اور بے غیرت دیکھے جنھیں چادر زینب سلام اللہ علیہا کی عظمت کا علم بھی نہ تھا۔

    جی ہاں !

    امام حسینؑ حالت افسردگی و پیشمانی میں سوچتے ہوں گے کہ میں نے اتنے دکھوں اتنے مصائب و آلام میں بھی نماز اور نمازِ شب کا دامن کبھی نہ چھوڑا اور مجھے ماننے والے ، میرے نانا کے کلمہ گو اور میرے بابا کے شیعہ بے نماز کیوں ہیں اور ہمارے چاہنے والے نمازِ شب کی اہمیت کو کیوں نہیں سمجھتے۔ اللہ کی رحمت سے مستفید کیوں نہیں ہوتے۔ شائد اسی احساس کی  قندیل کو روشن کرنے کے لیے امام جعفر صادقؑ  نے فرمایا ہے۔

    جو شخص نماز شب ادا نہ کرے وہ ہمارے شیعوں میں سے نہیں ہے

    امام جعفر صادقؑ

    اور جسے امام  اپنے حلقہءاحباب کی صف سے اور اپنی مجلس سے نکال دیں، اس شخص کی تیرہ بختی کا اندازہ کون لگا سکتا ہے؟

    نمازِ شب نور کی ایک کیفیت کا نام ہے! نماز شب وجدانِ روح کی عظمت کا نام ہے۔ اسی لیے نماز شب پڑھنے والے کی آنکھوں میں نور اور طبیعت میں سکون نظر آتا ہے نمازِ شب ادا کرنے والا علم و آگہی کا بے کراں سمندر بن جاتا ہے جو علم و آگاہی کے موتی بانٹتا نظر آتا ہے! عمل کی بات ہو رہی تھی۔ ہمارے اعمال کے ساتھ جب ہماری خواتین کے اعمال پر خاتون جنت حضرت بی بی فاطمہ الزہرا سلام اللہ علیہا اور آپ کی طاہرہ بیٹی زینبؑ  جنہیں تاریخ محرومتہ المسرت کے نام سے جانتی ہے کی نظر پڑتی ہو گی۔ تو بی بی کو بازار شام ، شرابی فاسق یزید کا دربار  اور نانا کی امت کے اعمال کے دیے ہوئے سارے دکھ اور غم یاد آجاتے ہوں گے۔ کیونکہ آج ملت اسلامیہ سے موبائل فون ، فیس بک ، گوگل پر انٹر نیٹ ، ڈش انٹینا اور کیبل پر دکھائی جانے والی بے حیائی نے ہماری نوجوان نسل سے نمازِ شب چھین لی ہے۔ پہلے ہمارے اسلاف جو راتوں کو سجدہ ریزی سے گوہر نایاب چنتے آج شب کی ان ساعتوں میں ہمارے جوان ڈش انٹینا اور کیبل پر طاغونی طاقتوں اور مغرب کی خواتین کے تھرکتے ہوئے عریاں جسم دیکھتے ہیں ۔ اسی ڈش انٹینا، انٹرنیٹ  اور کیبل نے ملت اسلامیہ کی خواتین سے حیا کی چادر نوچ لی ہے کھلے عام سڑکوں پر ننگے سر چلنے والی خواتین کو چادر زینب سلام اللہ علیہا کا کیسے احساس ہو سکتا ہے ۔ کیونکہ ان کی سوچ کا محور تو جدیدیت ہے۔ مغرب کی عریانیت کے ہتھکنڈے کامیاب ہو گئے ہیں !

    Hussain AS

    اس لیے ہماری نو جوان نسل تاریکیوں میں بھٹک رہی ہے اور روشنی کے مینارہ نور ہستیوں کے درخشاں درس کو بھول گئی ہے نمازِ شب کے متعلق حضرت امام جعفر صادقؑ ارشاد فرماتے ہیں کہ

      خدا کی مخلوق میں سب سے زیادہ خدا کے غضب کا نشانہ وہ شخص ہے جو رات بھر کسی مردار لاشے کی طرح پڑا رہتا ہے اور دن بھی سستی اور کاہلی میں گزار دیتا ہے۔

    امام جعفر صادقؑ

    گویا نماز شب ادا کرنا غضب الہی سے بچنے کا بہترین وسیلہ ہے اسی لیے تو حضرت بی بی زینبؑ  نے سفر کی صعو بتوں کو آڑے نہ آنے دیا اور اپنے اونٹ پر سوار ہو کر بھی نمازِ شب ادا کی۔ اور مومن  خواتین پر واضح کر دیا کہ کھٹن اور حالات کی تیز رو کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا چاہیے اور نمازِ شب کا دامن کسی بھی حالت میں نہیں چھوڑنا چاہیے۔

    hubdar qaim

    سیّد حبدار قائم

    کتاب ‘نماز شب’ کی سلسلہ وار اشاعت