قیامت کے ہولناک مناظر

سوره التکویر میں الله تعالٰى نے قیامت کے ہولناک مناظر سے ڈرایا

سوره التکویر کی پہلی تین آیات تلاوت کیجیے تو دل منہ کے بل باہر آتا ہے

ارشاد رب العزت ہے۔

اذا الشمس کورت واذا النجوم انکدرت

اور جب سورج لپیٹ دیا جائے گا اور جب تارے بے نور ہو جائیں گے

واذا الجبال سیرت

اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے

قیامت آنے کا منظر سوره التکویر میں ہمیں دعوت فکر دیتا ہے۔ زمین سے  بڑا سورج قیامت کے دن لپیٹ دیا جائے گا۔ اس کی روشنی نابود ہو جائے گی

۔ سورج کا لپیٹا جانا ایک خوف ناک منظر کی دلیل ہے۔

تاروں کا بکھرنا اور بے نور ہونا آسماں کی وسعتوں میں ایک عجیب سماں کی کیفیت کا نام ہے کیونکہ جب آسمان پر ستارے بکھریں گے تو یہ آپس میں ٹکرائیں گے ان سے جو آواز انسانوں کی سماعتوں تک پہنچے گی وہ کانوں کے پردے پھاڑ دے گی اور انسانی دماغ اس کو برداشت نہ کر سکیں گے اس کی وجہ یہ ہے کہ  ستاروں کا حجم  زمین سے کہیں زیادہ ہے اور کہیں کم ہے اس لیے ان کا بکھرنا جو قرآن نے بیان کیا ہے وہ بہت خوف ناک ہو گا ان کی آواز سے کانوں کے پردے پھٹ جائیں گے حاملہ عورتوں کے حمل گر جائیں گے اس خوف وغم کی کیفیت میں  ہر کوئی کانپ رہا ہوگا ۔ دہشت سے چہرے اپنی رعنائیاں کھو دیں گے ہر طرف چیخ و پکار انسان کو لڑکھڑا  کے رکھ دے گی۔ اس کے بعد اللہ رب العزت زمین کا ذکر فرماتا ہے کہ اس کے پہاڑ چلائے جائیں گے۔ اللہ اکبر۔ پہاڑوں کا چلنا بہت خوف ناک ہو گا زمین پر زلزلے آئیں گے کیونکہ پہاڑ زمین کی میخیں ہیں جن کی وجہ سے زمین قائم ہے ۔ آپ کا واسطہ شائد ایسی صورتِ حال سے نہ پڑا ہو لیکن مجھے کئی بار اتفاق ہوا ہے کہ جب کوئی پہاڑ گر رہا ہو تو اس کی دہشت اور آواز کانوں کو پھاڑ دیتی ہے۔ کیونکہ میں سیاچین گلیشئیرز کے محاذ پر رہا ہوں ۔ پہاڑ سے گرنے والا ایک چھوٹا سا پتھر اپنے ساتھ کئی دوسرے پتھروں کو لے کر جب لڑھکتا ہے تو مارے خوف اور ڈرکے انسان کا دم نکل جاتا ہے۔

تو اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ

“جب پہاڑ چلائیں جائیں گے “

پہاڑوں کا چلنا کوئی عام بات نہیں۔

end-of-admoria
Image by winterseitler from Pixabay

ایسے منظر کو کوئی بھی برداشت نہ کر سکے گا ۔ سوائے ان لوگوں کے جنھوں نے زیست کی زیادہ ساعتیں خداوند غفار سے مغفرت مانگتے ہوئے بسر کی ہوں گی اور جنہوں نے اپنی راتوں کو اللہ رب العزت کے درخشاں کلام  قرآن مجید کی تلاوت کی سعادت سے منور کیا ہو گا ۔ نمازِ شب کی اہمیت کے متعلق مولا علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں

 ” نماز شب پڑھنے والا جب قبر

سے اٹھایا جائے گا  تو فرشتے اسکو جنت کی بشارت دیں گے “

(اس دہشت کے عالم میں بشارت دی جائے گی جب ستارے بکھرے ہوئے ہوں گے اور پہاڑوں کے چلائے جانے کا عالم ہوگا ۔

 آئمہ طاہرینؑ نے نماز شب کی ادائیگی پر بہت زور دیا ہے ۔ ہمارے آئمہ معصومینؑ پر جتنی بھی پریشانیاں اور جتنے بھی آلام آئے انہوں نے اپنے عمل میں الله جل شانہ کو نماز شب میں ایسے یاد رکھا کہ قیامت تک ہمارے لیے مشعل راہ رہے گا ۔ حضرت موسٰی کاظم علیہ السلام  جب بغداد میں اسیر تھے تو اس وقت کا ذکر کرتے ہوئے راوی کہتا ہے کہ امام فرماتے تھے۔ کہ خداوند غفار نے میری دعا کو قبول فرما لیا ہے۔ کیونکہ میں اکثر یہی دعا مانگتا تھا کہ

“یا الله مجھے ایسی جگہ (قید) عنایت فرما کہ میں تیری عظمتوں ، تیری رفعتوں تیری رحمتوں اور تیری برکتوں کا زیادہ سے زیادہ ذکر و شکر کر سکوں اور

اے رب کریم تیرا شکر ہے کہ تو نے مجھے ایسی جگہ عنایت فرمائی ہے”

کہ میں تجھے زیادہ سے زیادہ یاد کرنے کی سعی کر سکتا ہوں ۔ یہ ہے عظمتِ اہل بیتِ رسولؐ

یہ ہے بزرگی ! اور یہ وقار عبادت ہے جس کے لیے قیدِ تنہائی مانگی جا رہی تھی  اور یہ  خداوند کریم کے سامنے عاجزی و انکساری  اور اپنی بندگی کا بہترین اظہار ہے

حالانکہ حضرت موسی کاظمؑ  کو قید و بند کی صعوبتوں نے بہت زیادہ لاغر کر دیا تھا۔ لیکن پھر بھی آپ نے نماز کا دامن کبھی نہ

چھوڑا اور نمازِ شب متواتر ادا فرماتے رہے۔

آج کے  دور میں مغربی اقدار میں پروان چڑھنے والا  بے باک نڈر اور بے خوف جوان روز قیامت کی ہولناکیوں سے

واقف ہی نہیں ہے ۔ اگر وہ آشنائے عذابِ الٰہی ہوتا تو اپنے کردار کی تعمیر پر وقت صرف کرتا اور اپنی رات کی تنہائیوں میں اللہ رب العزت کے ذکر سے اپنے قلب و روح کو منور کرتا لیکن اسے

اعمال کی فکر نہیں ہے ۔ اسے نمازِ شب پڑھنے کا طریقہ تک نہیں آتا اور نہ ہی اُسے اس کی پرواہ  ہے ۔

بے داغ کردار اور جوانی کے عالم  میں اگر کوئی جوان نماز شب ادا کرتا ہے تو اللہ رب العزت اسے کائنات میں نہاں خزانوں کی چابیاں عطا فرما دیتا ہے  لیکن ہٹلر ، سٹالن ، لینن، جولیئٹ وغیرہ کی زندگیاں پڑھنے

والا کیا جانے کہ قرآن کی عظمت کیا ہے؟ تاریخ اسلام کیسی تاباں  ہے۔ اُسوہ ء رسولؐ کیا ہے

اور اسوہ رسولؐ  پر عمل کرنے سے کیا حاصل ہوتا ہے ؟

اسوہ ء اہل بیت اطہارؑ کیا ہے۔ کہ جس کی وجہ سے اسلام کا شیرازہ ابھی تک قائم ہے اور بکھرا نہیں آج ہماری عزتیں محفوظ ہیں ہماری عبادتیں ریاضتیں محفوظ ہیں۔

 نماز شب کا یہ مضمون جو میں نے اپنے اشعار میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے ملاحظہ کیجیے:۔

“قیامت میں پہاڑوں کو چلائے گا مرا اللہ

ستاروں کو بکھیرے گا مٹائے گا مرا اللہ

سنا ہے نیک بندوں کو بشارت ہو گی جنت کی

کہ ان کو قصرِ عاقبؐ تک لے جائے گا مرا اللہ

چلے ہوں گے گناہوں کی جو راہوں پر بشر سارے

بھڑکتی آگ میں اُن کو جلائے گا مرا اللہ

دعائے مغفرت پائے نمازِ شب پڑھے گا جو 

فرشتوں سے دعائیں یہ کرائے گا مرا اللہ””

hubdar qaim

حبدار قائم

کتاب ؔ نماز شبؔ کی سلسلہ وار اشاعت

حبدار قائم

میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے ١1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے

Next Post

سنت مصطفیؐ سے دوری وجہ پریشانی ہے- علامہ طارق محمود

جمعہ نومبر 5 , 2021
سنت مصطفیؐ سے دوری کی وجہ سے ہم پریشان ہیں،طارق حقانی علامہ طارق محمود حقانی نے مفتی ابو طیب رفاقت علی حقانی کی جملہ خدمات کو سراہا