رسالت مآب ﷺ انتہائی نظیف و مطہر طبیعت کے مالک تھے۔ آپؐ نے جہاں اپنی تعلیمات سے لوگوں کو شرک ،بے یقینی،تعصب اور تکبر جیسی باطنی بیماریوں سے نجات بخشی وہیں آپؐ نے انہیں جسمانی کدروتوں سے مصفا کرنے کی بھی راہ دکھائی۔ آپؐ نے جسم ،گھر ،ماحول حتیٰ کے اپنی سواری کو بھی چمکا کر رکھنے کی تعلیم دی ۔آپؐ نے امت پہ واضح کیا کہ دین اسلام کی بنیاد نظافت پر رکھی گئی ہے لہذا جو کوئی باطنی پاکیزگی کا خواہاں ہے اسے ظاہری طہارت کا بھی بھر پورا خیال رکھنا چاہیے ۔
آپؐ کا معمول تھا کہ آپؐ کھانے سے قبل اور کھانے سے فراغت کے بعد اپنے ہاتھ دھوتے۔آپؐ کھانا تین انگلیوں سے کھاتے ،اپنی طرف سے کھاتے اور انگلیوں کو چاٹ لیتے ۔ آپؐ اصحاب کو فرماتے کہ سو کر اٹھنے کے بعد کسی برتن میں دھوئے بغیر ہاتھ نہ ڈالیں ۔ تمہیں نہیں معلوم کہ رات بھر تمھارا ہاتھ کہاں کہاں مس ہوا ہو۔ آپؐ سونے سے قبل بھی وضو کرتے تھے۔آپؐ احرام باندھنے سے قبل بھی غسل فرماتے۔
جو شخص ایمان قبول کرتا آپؐ اسے غسل اور اچھے لباس کی ترغیب دیتے گویا آپؐ انہیں قبول اسلام کے ساتھ ہی نفاست پسندی اور طہارت شعاری کو اپنی زندگی کا حصہ بنانے کی تربیت فرماتے تھے۔آپؐ نے انصار کی تعریف فرمائی جو رفع حاجت کے بعد آب دست لیتے تھے۔آپؐ اصحاب کو جنابت کے غسل میں خوب مبالغہ کرنے کی تاکید فرماتے تھے۔
آپؐ ہمیشہ ایسا لباس زیب تن فرماتے جو دیکھنے میں خوبصورت لگے مگر اس میں اسراف اور کبر نہ ہو ۔ آپؐ لباس میں جمال و جلال ، میانہ روی و اعتدال اور کامل و کمال غرض ہر پہلو اپنے لباس میں ملحوظ رکھتے ۔ ہجرت مدینہ کے سفر میں جب کئی دن کی مسافت کے بعد آپؐ مدینہ داخل ہونے لگے تو اپنے لیے اور جناب صدیقؓ کے لیے دو جوڑے منگوائے اور انہیں زیب تن فرمانے کے بعد مدینہ شریف داخل ہوئے۔آپؐ کا ارشاد ہے
” اپنے ملبوسات اور سواریوں کو صاف رکھو تمہارا حلیہ اور ظاہری شکل ایسی ہونے چاہیے کہ جب تم دوسروں سے ملو تو وہ تمھاری عزت کریں ۔” ( جامع الصغیر)
آپؐ سر پر درمیانے سائز کا سفید عمامہ باندھتے ۔ عمامہ عربوں کا تاج شمار ہوتا۔آپؐ سفید رنگ کو زیادہ پسند فرماتے تھے مگر دیگر رنگوں کے کپڑے بھی پہنتے تھے۔آپؐ کا لباس ہمیشہ اجلا اور صاف ستھرا ہوتا۔
حکماء کے نزدیک صاف لباس صفائے نفس کی علامت ہے اور بعضوں نے تو یہ لطیف نکتہ بھی بیان کیا ہے کہ جس کا کپڑا میلا ہوگا اس کا نفس بھی مکدر ہوگا ۔ ایسے مکدر مزاج لوگوں کا گھر ،بیٹھک ،لائبریری الغرض پوری زندگی بے ترتیب و منتشر ہوتی ہے۔ جب کہ اس کے برعکس نظیف لوگوں کے مشاغل اور اوقات کار منظم ہوتے ہیں۔ صحیح مسلم میں تو آپؐ کاارشاد یہ ملتا ہے کہ اللہ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے جب کہ ترمذی کے الفاظ یوں ہیں:
ان اللہ نظیف یحب النظافہ یعنی اللہ پاک ہے اور پاکیزگی کو پسند کرتا ہے
ظاہر ہے جمال کہتے ہی اسے ہیں جس میں نظافت کمال درجے کی ہو۔ اسی طرح ایک اور حدیث میں آپؐ نے فرمایا کہ خوب صورتی اختیار کرو تاکہ لوگوں میں ممتاز نظر آؤ ۔ جمال اختیار کرنے کا پہلا مرحلہ جسم کو پاک صاف رکھنا ہے اور جس کے لیے غسل لازم ٹھہرایا گیا ہے ۔آپؐ پانی کی شدید کمی کے باوجود اکثر غسل فرماتے تھے اور اصحاب کو تلقین کرتے تھے کہ ہفتے میں ایک مرتبہ غسل مومن کے لیے ضروری ہے۔( بخاری)۔ اور یہ کم از کم مقدار ہے ورنہ ہمارے اصحاب پانی کی شدید قلت کے باوجود روزانہ غسل فرماتے تھے ۔ جناب عثمانؓ بن عفان کے بارے میں عائض القرنی نے لکھا ہے کہ آپؐ روزانہ نہاتے تھے۔( لا تحزن)
ایک صحابی نے عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ مجھے پسند ہے کہ میرا لباس اجلا ہو ،میرے سر پر تیل لگا ہو، میرے جوتے کے تسمے بھی نئے ہوں حتیٰ کہ میری سواری کا کوڑا بھی عمدہ ہو تو کیا یہ تکبر تو نہیں ؟ آپؐ نے فرمایا ،
لا ذاک الجمال – نہیں یہ تو جمال و زینت ہے۔( مسند احمد)
آپؐ نے اپنے ایک صحابی کو مال دار ہونے کے باوجود بھی صاف کپڑوں میں ملبوس نہ دیکھ کر فرمایا کہ تمھاری مالی حالت کیسی ہے تو انہوں نے اپنی خوش حالی کا ذکر کیا۔ جس پر آپؐ نے فرمایا ، اللہ کے انعام و احسان کا اثر تمھارے اوپر بھی نظر آنا چاہئے ۔( شامی)
آپؐ سر کے بالوں میں تیل لگاتے اور ٹوپی کا استعمال کرتے تاکہ تیل عمامہ شریف پر ظاہر نہ ہو۔ آپؐ بالوں کو کنگھی کرتے، انہیں سنوارتے اور مانگ میں خوشبو لگاتے ۔ ریش مبارک کو طول و عرض سے درست فرماتے اس کی تراش خراش کا خیال رکھتے اور کوئی ایک بال مبارک بھی اوپر نیچے زائد نہ ہوتا۔ آپؐ نے پانچ چیزوں کو انسان کی فطرت قرار دیا اور ان میں سے ہر چیز کا تعلق صفائی سے ہے ۔ ناخن کاٹنا ، مونچھیں کاٹنا ، زیر ناف بال صاف کرنا، ختنہ کرنا اور بغلوں کے بال صاف کرنا۔( صحیح ابن حبان)
امام غزالیؒ نے کیمیائے سعادت میں لکھا ہے کہ سفر ہو یا حضر کنگھی کبھی آپؐ سے جدا نہ ہوئی۔پراگندہ۔بال اور پراگندہ جسم والے کو آپؐ نے ناپسند فرمایا ۔آپؐ نے فرمایا جس نے بال رکھے وہ ان کی تکریم کرے انہیں دھوئے ، کنگھی کرے اور خوش نما بنائے ۔جناب انس کے بیان کے مطابق آپؐ نے سفر و حضر میں درج ذیل چیزوں کو کبھی نہ چھوڑا ۔ آئینہ، سرمہ دانی،کنگھا ،مسواک ، کھجانے کی لکڑی جب کہ اماں عائشہ ؓ کی روایت میں درج ذیل چیزوں کا ذکر ملتا ہے۔ آئینہ ، سرمہ دانی ، کنگھی ، مسواک اور تیل ۔اماں عائشہؓ تو یہاں تک فرماتی ہیں کہ آپؐ سونے سے قبل بھی بال سنوارتے تاکہ سونے کی حالت بھی اچھی لگے ۔آپؐ اپنے بالوں کو گرد سے محفوظ رکھنے کے لیے بعض اوقات بالوں کو چپکا دیتے تھے۔
آپؐ آئینہ میں خود کو دیکھتے اور دعا فرماتے کہ الٰہی تونے مجھے خوب صورت بنایا ہے میرے اخلاق کو سنوار دے۔ آپؐ نے شیطان کی طرح بکھرے ہوئے بالوں اور الجھی ہوئی داڑھی کے ساتھ عوامی مقامات پر داخل ہونے سے منع فرمایا ۔( ترمذی)
آج کی جدید میڈیکل سائنس دانتوں کی صفائی پر بہت زور دیتی ہے ۔ صبح و شام دو وقت دانتوں کی صفائی کو از حد ضروری قرار دیتی ہے۔لیکن آج سے پندرہ سو سال قبل آقا کریم ﷺ پانچوں نمازوں کے ساتھ دانت صاف کرنے کی تلقین کرتے تھے۔آپؐ مسواک کو منہ کی پاکیزگی اور الللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ بتاتے تھے ۔آپؐ کا ارشاد ہے کہ اگر امت پر بوجھ نہ ہوتا تو میں ہر نماز کے لیے مسواک کو واجب کر دیتا ۔( بخاری)
دانتوں کی صفائی کا آپؐ اس قدر اہتمام فرماتے کہ صحابہؓ اور امہات المومنینؓ کو حیرت ہوتی ۔ اماں عائشہؓ نے نے ایک بار پوچھا تو آپؐ نے فرمایا کہ جبریل ؑنے مجھے مسواک کے بارے میں اتنی تاکید کی ہے کہ میں سمجھا کہ مسوڑھوں کا ہی خاتمہ نہ ہو جائے ۔ آپؐ کا دہن مبارک نہایت صاف ستھرا اور خوشبودار تھا ۔ آپؐ کے دانتوں کی سفیدی کو برف سے تشبیہ دی گئی ہے۔ آپؐ اس کی صفائی کے لیے مسواک اور کلی کا اہتمام فرماتے تھے ۔ آپؐ ناک مبارک کو بھی اچھی طرح جھاڑتے تھے ۔
اماں عائشہؓ کے بقول دانتوں کی صفائی کا یہ عالم تھا کہ ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنے کے ساتھ ساتھ جب کسی غزوہ پر جاتے تو مسواک کر کے جاتے ،جب گھر پلٹتے تو مسواک کرتے ، اصحاب کی محفل میں جانے لگتے تو مسواک کرتے ۔ایک بار اس قدر اہتمام کا پوچھا گیا تو آپؐ نے ارشاد فرمایا میں چاہتا ہوں اتنے دانت صاف کروں کہ مسوڑھوں سے خون آنے لگے اور سیرت حلبیہ میں آیا ہے کہ بعض اوقات آپؐ کے مسوڑھے اس قدر صاف کرنے سے چھیل جاتے تھے ۔
آپؐ نے مسواک رکھنے کے لیے ایک تھیلا رکھا ہوا تھا تاکہ وہ صاف و محفوظ رہے ۔( دین فطرت از عرفان الحق)۔آپؐ کھانا کھانے کے بعد خلال کرنے کی بھی تاکید فرمائی ہے۔( سنن الدارمی)
آپؐ نے یہ بھی فرمایا کہ فرشتے ان لوگوں سے دور رہتے ہیں جو ناخن تراشنے ،مونچھیں کٹوانے اور میل اتارنے اور مسواک کرنے میں سستی کرتے ہیں۔( تنبیہ الغافلین)
آپؐ نے لہسن پیاز وغیرہ کھا کر مسجد میں آنے سے منع فرمایا ہے کہ ان کی بدبو سے نمازیوں کو تکلیف ہوتی ہے ۔ آپؐ نے ان چیزوں کے تناول نہ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے صحابی کو فرمایا
” الی انا جی من لا تناجی ” – یعنی بلاشبہ میں جس سے سرگوشی کرتا ہوں تم اس سے سرگوشی نہیں کرتے ۔ آپؐ نے یہ بھی فرمایا کہ فرشتوں کو بدبو سے نفرت ہے ۔
آپؐ کو خوشبو بہت زیادہ پسند تھی ۔۔آپؐ کے جسم اطہر کی خوشبو سے بڑھ کر کائنات میں کوئی خوشبو نہیں تھی۔بلکہ آپؐ کا تو پسینہ مبارک عطر میں ملا کر دلہنوں کو تحفہ میں دیا جاتا تھا ۔ آپؐ کے جسم اقدس سے کستوری سے بڑھ کر خوشبو آتی تھی۔آپؐ جس راستے سے گزر جاتے تھے صحابہ آپؐ کی خوشبو سے آپؐ کو تلاش کر لیتے تھے ۔( مسند ابو یعلیٰ)۔لیکن اس سب کے باوجود آپؐ خوشبو کا استعمال کثرت سے کرتے تھے۔
سیدنا عبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عود کی خوشبو استعمال فرماتے جو سب سے مہنگی ہوتی اور آپؐ اس کے ساتھ کافور ملا لیتے جس سے اس کی مہک اور بڑھ جاتی۔( صحیح مسلم)
خوشبو سے آپؐ کو اس قدر محبت تھی کہ صحابہ فرماتے ہیں آپؐ خوشبو کو تحفہ میں دیتے اور خوشبو کا تحفہ کبھی رد نہ فرماتے ۔( بخاری) آپؐ غسل کے بعد ، وضو کے بعد ، احرام پہنتے وقت، قبل از طواف اور دیگر کئی مواقع پر خوشبو کا استعمال فرماتے ۔آپؐ سر کے بالوں کی مانگ میں بھی خوشبو استعمال فرماتے۔ آپؐ کا ارشاد ہے کہ تمھاری دنیا سے مجھے تین چیزیں مرغوب ہیں عورت،خوشبو اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے ۔
آپؐ نے ایک خاتون کو گھر آباد رکھنے کے لیے خوشبو کے استعمال کا مشورہ بھی دیا۔جب اماں عائشہؓ سے ان کے بھانجے عروہ بن زبیر نے پوچھا کہ آپؐ کون سی خوشبو استعمال فرماتے تھے تو آپؐ نے ارشاد فرمایا ” اعلیٰ خوشبو”۔
آپؐ ناخن کاٹنے کا حکم دیتے اور موئے زیر ناف صاف کرنے کی تاکید فرماتے اور آپؐ نے ان کی آخری حد چالیس دن بتائی اس کے بعد وہ شخص گنہگار ٹھہرتا ہے ۔
آپؐ عوامی آمد و رفت کی جگہوں ، راستوں پر ، پانی میں اور سائے میں بول و براز کرنے سے منع کرتے ۔آپؐ لباس ، رہن سہن کی جگہ کو صاف رکھنے کی تاکید فرماتے ۔ آپؐ سفر کے جانوروں کو بھی صاف رکھنے کی تاکید کرتے۔ آپؐ گھروں کے سامنے والی گلی کے حصوں کو صاف رکھنا بھی پسند فرماتے۔( شفا شریف) آپؐ کو قبر میں رخنہ نظر آجاتا تو بھی اسے بند کرنے اور ہموار کرنے کا حکم دیتے ۔
آپؐ مسجد کو پاک صاف رکھنے کا حکم دیتے اور جناب تمیم داری ؓکے اس غلام کو نہ صرف دعائیں دیں جنہوں نے مسجد کو چراغوں سے آراستہ کیا تھا بلکہ آپؐ نے فرمایا اگر میری کوئی اور بیٹی ہوتی تو میں اسے اس کے عقد میں دے دیتا ۔آپؐ مسجد صاف کرنے والی حبشی خاتون کی وفات کی خبر پاکر صحابہ پر خفا ہوئے اور اس خاتون کی قبر پر جنازہ پڑھا اور اس کے لیے دعا فرمائی ۔( المعجم الاوسط)
مختصر یہ کہ آپؐ دنیا کے سب سے بڑھ کر نظیف و طیب انسان تھے۔ آپؐ کی نفاست پسندی اور نظافت شعاری آج مسلمان قوم کو اپنانے کی اشد ضرورت ہے ۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ دنیا کے پچاس صاف ترین ملکوں میں ایک بھی مسلمان ملک نہیں ہے۔ ہمارے محلے ، گلیاں، پارک اور بازار گندگی سے اٹے پڑے ہیں۔ ہمارے گھر ، اسکول ،مدارس اور پبلک مقامات اس قابل نہیں کہ ہم دنیا کی مہذب ،صفائی پسند قوموں کو فخر سے دکھا سکیں۔ ایریل شیرون کو بال ٹھاکرے نے دورہ بھارت کے دوران مسلمانوں کی آبادی کے استفسار پر کہا تھا کہ جہاں گندگی دیکھو وہاں مسلمان آباد ہوں گے۔ جسمانی صفائی میں اب بھی مسلمان دنیا کی سب سے صفائی پسند قوم ہے مگر جہاں گلی محلوں چوک بازاروں کی بات آتی ہے تو ہم میں civic sense معلوم نہیں کیوں ختم ہو جاتی یے۔سیرت النبی ﷺاور نبوی تعلیمات کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے پیغمبر ﷺ کی حیات طیبہ پر عمل پیرا ہوکر دنیا کو باور کرائیں کی ہم سے بڑھ کر صفائی پسند قوم کوئی نہیں۔
ہماری بیٹیوں کے تعلیمی ادارے تحفظ، وقار اور ترجیحات
کالم نگار:۔ سید حبدار قائم
قوموں کی تعمیر اینٹ اور پتھر سے نہیں بلکہ کردار، علم اور اقدار سے ہوتی ہے۔ اور یہ اقدار سب سے پہلے ماں کی گود سے جنم لیتی ہیں۔ اگر ہماری بیٹیاں محفوظ، باوقار اور پُرسکون تعلیمی ماحول سے محروم رہیں تو پھر ایک مضبوط معاشرے کا خواب کیسے شرمندۂ تعبیر ہو سکتا ہے؟
اٹک سمیت ملک کے کئی علاقوں میں خواتین کے کالجز اور تعلیمی اداروں کی صورتحال ایک اہم سوال کو جنم دیتی ہے: کیا ہم واقعی اپنی بیٹیوں کے لیے ایسا ماحول فراہم کر رہے ہیں جس میں وہ خود کو محفوظ اور باوقار محسوس کریں؟
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ خواتین کے تعلیمی اداروں میں اکثر عملہ مردوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ حالانکہ آج خواتین ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا چکی ہیں۔ تعلیم یافتہ اور باصلاحیت خواتین کی موجودگی کے باوجود مردوں کی تعیناتی ایک ایسا سوال ہے جو سنجیدگی سے سوچنے کا متقاضی ہے۔ کیا یہ بہتر نہ ہوگا کہ خواتین کے اداروں میں انتظامی اور تدریسی ذمہ داریاں خواتین ہی سنبھالیں تاکہ طالبات بلا جھجھک علم حاصل کر سکیں؟
اسی طرح سیکیورٹی کا مسئلہ بھی نہایت اہم ہے۔ خواتین کے کالجز کے باہر مرد سیکیورٹی گارڈز کی موجودگی بعض اوقات طالبات اور والدین کے لیے باعثِ تشویش بنتی ہے۔ جب پولیس اور دیگر اداروں میں خواتین اہلکاروں کی تعداد موجود ہے تو پھر کیوں نہ انہیں ایسے مقامات پر تعینات کیا جائے جہاں ان کی موجودگی زیادہ موزوں اور مؤثر ثابت ہو سکتی ہے؟
یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ مختلف بہانوں سے مرد افراد کا تعلیمی اداروں میں داخلہ ہوتا رہتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف ادارے کے نظم و ضبط کو متاثر کرتا ہے بلکہ طالبات کے احساسِ تحفظ کو بھی کمزور کرتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ خواتین کے اداروں میں آنے جانے کے اصول سخت کیے جائیں اور غیر ضروری آمد و رفت کو روکا جائے۔
ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ مغرب زدہ سوچ کی اندھی تقلید کے بجائے اپنی سماجی، ثقافتی اور دینی اقدار کو مدنظر رکھنا زیادہ ضروری ہے۔ اسلام نے خواتین کو عزت، تحفظ اور وقار دیا ہے، اور اسی اصول کے تحت ہمیں اپنے معاشرتی ڈھانچے کو ترتیب دینا چاہیے۔
یہ سوچ صرف تعلیمی اداروں تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ معاشرے کے دیگر شعبوں میں بھی اس کی جھلک نظر آنی چاہیے۔ خواتین کے لیے علیحدہ کھیلوں کے اسٹیڈیم، الگ جم سینٹرز، مخصوص بازار جہاں دکاندار بھی خواتین ہوں، اور علیحدہ پارکس قائم کیے جائیں تاکہ وہ بغیر کسی جھجھک کے اپنی سرگرمیاں انجام دے سکیں۔ اس طرح نہ صرف ان کا اعتماد بڑھے گا بلکہ معاشرے میں ایک مثبت اور مہذب فضا بھی قائم ہوگی۔
ادب اور ثقافت کے میدان میں بھی ہمیں سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے۔ مخلوط مشاعروں کی روایت کے بجائے خواتین کے لیے الگ ادبی محافل اور مشاعرے منعقد کیے جائیں جہاں وہ آزادی اور اعتماد کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کر سکیں۔ اس سے ان کی تخلیقی صلاحیتیں مزید نکھر کر سامنے آئیں گی۔
مزید برآں، موجودہ حالات کے پیش نظر تعلیمی اداروں کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔ اگر پولیس یا دیگر سیکیورٹی اداروں کے اہلکار تعینات کیے جائیں تو اس سے دہشت گردی اور شرپسند عناصر کے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے، اور والدین بھی اپنی بیٹیوں کو اعتماد کے ساتھ تعلیم کے لیے بھیج سکیں گے۔
یہ وقت ہے کہ ہم جذباتی نعروں کے بجائے عملی اقدامات کی طرف آئیں۔ ہماری بیٹیاں صرف ہماری ذمہ داری نہیں بلکہ قوم کا مستقبل ہیں۔ ان کے لیے محفوظ، باوقار اور معیاری تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اگر ہم نے آج اس جانب توجہ نہ دی تو کل ہمیں صرف پچھتاوا ہی نصیب ہوگا۔
دین اسلام قانون سے بھی آگے بڑھ کر انسان پر اخلاقی پابندیاں عائد کرتا ہے۔ نیک لوگوں کے نامہ اعمال میں نیکی کے ارادے کا تو ثواب لکھ دیا جاتا ہے لیکن برائی (evil) کا گناہ تب تک نہیں لکھا جاتا ہے جب تک اس پر عمل نہ کر لیا جائے۔ یہ برائی (evil) کے خطرے سے واپس پلٹنے کی ایک مثالی ترغیب ہے۔ برائی (evil) سے بچنے کے لیئے اسلام تقوی اور پاکیزگی اختیار کرنے کا حکم دیتا ہے۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ کسی نیک عمل کی حسرت پوری زندگی رہے مگر اس پر عمل کرنے کا موقعہ نہ ملے تو اس کا اجر تب بھی ملتا رہتا ہے۔ اگر برائی (evil)کے بارے سوچنے پر قانون سرے سے کوئی سزا یا حد ہی مقرر نہیں کرتا ہے تو یہ انسانی اخلاقیات کے نظام میں ایک سقم ہے کیونکہ (evil) برائی کے بارے سوچنے پر پابندی نہیں ہو گی تو بری سوچ ایک دن انسان کو برے اعمال کرنے پر مجبور کر دے گی۔ انسانی نفسیات کا یہ بنیادی خاصہ ہے کہ ایک فرد کی بری سوچ ہی اسے برائی پر اکساتی ہے۔ اسلام میں پرہیزگاری اور تزکیہ نفس پر سب سے زیادہ زور دیا جاتا ہے تاکہ کوئی مسلمان گناہ sin کرنا تو دور کی بات ہے وہ گناہ کرنے کا ارادہ ہی نہ کر سکے۔
ایک حدیث نبوی ﷺ کا مفہوم ہے کہ، "اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔” ایک مسلمان muslim کو برائی evil کی نیت کرنے سے منع کر دیا گیا ہے کیونکہ نیت ایک قسم کا ارادہ ہے جو موقعہ ملنے پر عمل پر اکساتا ہے۔ بری نیت گناہ کی ایک قسم کی تحریک ہے جو بلآخر اپنا کام دکھا کر ہی سانس لیتی ہے جبکہ زہنی پاکیزگی اور طہارت ایک عام مسلمان کو بھی پسندیدہ اور صالح انسان بناتی ہے۔ نیت کی خرابی دوسرے انسانوں کی حدود اور حقوق میں دراندازی کرنے کے برابر ہے۔ برائی (evil) کی نیت سے دوسرے انسان ہمیشہ بے خبر ہوتے ہیں۔ یہ حد درجہ خطرناک اور منافقانہ سوچ ہے کہ آپ سوچ کچھ اور رہے ہوتے ہیں اور ظاہر کچھ اور کرتے ہیں۔ اسلام تو پھر اسلام ہے دنیا کا کوئی غیرالہامی مذہب بھی بری نیت اور اعمال کی حوصلہ افزائی نہیں کر سکتا ہے۔ منفی خیالات جذبات کو برانگیختہ کرتے ہیں اور برائی (evil) پر اکساتے ہیں۔ دنیا کا کوئی برے سے برا کلچر بھی اس سوچ کی ترجمانی نہیں کر سکتا ہے کیونکہ ایسی بری نیت ناپائدار، قابل نفرت اور گھناؤنی ہوتی ہے۔
دین اسلام عالمگیر اور پائیدار انسانی بقا کی علامت ہے جو انسانی معاشرے میں زندہ رہنے کی خواہش wish میں توازن پیدا کرتا ہے تاکہ کوئی کسی کے بارے سرے سے برا سوچ ہی نہ سکے۔ فطرت سلیم پر قائم رہنے والے مسلمانوں میں آپ کو یہی سوچ ملے گی جو دوسروں کے بارے نیک تمناؤں کی حامل ہو گی۔ کسی بھی حقیقی الہامی دین Divine-religion جیسا کہ اسلام ہے اس کا یہ خاصہ ہے کہ وہ معاشرے کے تمام افراد کو اس گہرائی اور گیرائی کے ساتھ متاثر کرے۔ یہ زندگی کے کامیاب اور وسیع تر نقطۂ نظر کی ترجمانی ہے جو انسان کی روح تک کو متاثر کرتی ہے۔ انسان کی باقی زندگی جو تاریخی اہمیت کی حامل ہوتی ہے وہ انسان کی اسی نیت Intention اور اس کے بنیادی خیالات سے پھوٹتی ہے۔ دنیا کا کوئی بھی معاشرہ، مذہب یا عقیدہ اس وقت تک اپنی بقا کی جنگ نہیں جیت سکتا ہے جب تک اس کے افراد کی نیت اور اعمال اصلی اور پاکیزہ نہ ہوں۔ خیالات کو ظاہر اور باطن کے جس پہلو سے بھی دیکھا اور پرکھا جائے وہ مکمل طور پر شفاف اور خالص نظر آنے چایئے۔ انسان کے اندر کی دنیا مکمل طور پر آزاد اور خودمختار ہوتی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا ایک قول ہے، جس کا مفہوم ہے کہ، "ماؤں mothers نے انسانوں کو آزاد جنا تھا تم نے کب سے ان کو غلام بنانا شروع کیا ہے؟” دنیا کی کوئی طاقت انسان کو سوچنے سے محروم نہیں کر سکتی ہے۔ سوچنا ہر انسان کا فطری اور بنیادی حق ہے۔ یہ انسان کی واحد آزادی ہے جو ہرکس و ناکس کو حاصل ہے۔ انسان اتنی آزادی رکھنے کے باوجود خود کو برے خیالات سے بچا لے اور اپنی نیت اور خیالات کو پاکیزہ اور صاف رکھے تو اس کا درجہ خدا کے نزدیک دوبالا ہو جاتا ہے کیونکہ نیتوں کا حال خود انسان جانتا ہے یا اس کا خدا جانتا ہے۔
دینی لحاظ سے نیک نیتی بقائے تہذیب کے لئے جدوجہد کرتی ہے۔ خالص اسلامی تہذیب کے قیام کے لیئے صرف یہی ایک صورت ہے کہ اچھی نیت اور خیالات برقرار رکھے جائیں تاکہ اعمال کے مثبت اور تعمیری نتائج برآمد ہوں۔ اچھی اور صالح نیت اعلی انسانی تہذیب کا جز ہے اور وہی تہذیب اسلامی کہلانے کی حق دار ٹھہرتی ہے جس کے تمام افراد نیک نیت ہوں۔ کسی مسلمان کے صالح اور پاک خیالات ہی دیرپا اسلامی تہذیب Islamic-civilization کو بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
بنی نوع انسان جبلتوں کا اسیر ہے۔ انسان کے اندر فطری طور پر گوناگوں جذبات پنپتے اور ابلتے رہتے ہیں جن کا بعض اوقات عام انسان کھل کر اظہار بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ انسان اندر سے جتنا بھی محض خیال آرائیوں اور شخصی تصورات پر مبنی ہو وہ اپنا سارا کچا چٹھا ہر انسان سے شیئر نہیں کر سکتا ہے۔ یہ کشمکش انسان کو اندر ہی اندر توڑ دیتی ہے۔ انسان خود کو ہلکا کرنے کے لیئے برے خیالات پر عمل کر لیتا ہے یا انہیں جھٹک دیتا ہے۔ برے خیالات پر عمل کرنے سے انسان عموما تسکین محسوس کرتا ہے اور یا پھر پچھتاتا ہے۔ وہ ایسا نہ کرے تو وہ اپنے ہی برے خیالات میں کڑھ کڑھ کر مرنے لگتا ہے۔ اس ضمن میں نیت کی پاکیزگی اور بھی زیادہ اہمیت اختیار کر جاتی ہے۔ یہاں کسی کے انفرادی اعمال سے لامحالہ طور پر معاشرہ بھی متاثر ہوتا ہے۔ کسی برے عمل کا تعلق فرد کے ساتھ جماعت سے بھی ہوتا ہے۔ یہ فیصلہ کرنا دشوار ہے کہ ایک بدنیت انسان کی معاشرے میں کیا حیثیت ہے۔ جیسے سمندر پانی کے قطروں سے تشکیل پاتا ہے ایسے ہی معاشرہ بھی انفرادی انسانوں کے اکٹھے رہنے اور برتاو’ کرنے سے بنتا ہے۔ انفرادی خیالات اور خواہشات کسی قوم یا ملک کے مجموعی تصوراتی ڈھانچے پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ کسی کی نیت دل چیر کر دیکھی نہیں جا سکتی ہے۔ ایسی صورت میں خود کی عزت نفس بچانے کا ایک ہی ذریعہ بچتا ہے کہ خود کو لازمی طور پر بری صحبت اور نقصان دہ خیالات سے ہمیشہ دور رکھا جائے۔
یہ حقیقت ہے کہ انسان کے سچے اور اعلی پائے کے معاشرتی وجود کی تعلیم و تربیت کے بعد ساری ذمہ داری خود انسان کی ہوتی ہے۔ انسان کے اس تشخص کا بڑا حصہ فرد کی کاوش فکر کا نتیجہ ہوتا ہے جس سے انسان کی شخصیت کا نمایاں تخلیقی ظہور ہوتا ہے۔ اگر انسان اس نکتے کو نظر انداز کرے اور برے خیالات کو اندر آنے سے نہ روکے تو پھر اس کا برے اعمال سے بچنا محال ہو جاتا ہے۔ ذہن میں کوئی بھی برا خیال آئے تو اسے فوری طور پر رد کرنا چایئے اس سے پہلے کہ وہ جڑ پکڑ لے اور بلآخر آپ کو عمل کرنے پر مجبور کر دے۔ کوئی بھی برا خیال انسان کا دوست نہیں ہو سکتا ہے کیونکہ اس کا نتیجہ ہمیشہ نقصان کی صورت ہی میں نکلتا ہے۔ ایک پرہیزگار اور متقی انسان برے خیالات کو کبھی بھی نظرانداز نہیں کرتا جس سے اس کے دماغ میں عمل کرنے کی الجھن پیدا ہو۔
چنانچہ ہم میں سے ہر انسان کو اپنی تحلیل نفسی Psychoanalysis کرتے رہنا چایئے کہ کوئی بھی برا اور بد خیال ہمیں عمل پر مجبور نہ کر سکے۔ جب ایک بار دماغ میں کوئی برا خیال پیدا ہوتا ہے اور دھیرے دھیرے جڑ بھی پکڑ لیتا ہے تو پھر برے عمل سے بچنا تقریبا نامممکن ہو جاتا ہے کیونکہ ایک برا خیال دوسرے کئی برے خیالات تک لے جاتا ہے۔ برے خیالات کا یہ ایسا تانتا بندھتا ہے کہ ان سے جان چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے۔ کچھ حیوانی خیالات عموما لذت آمیز بھی ہوتے ہیں۔ انسانوں کی اکثریت جبلی عادات سے مجبور ہو کر برائی (evil) کرتی ہے۔ کسی بھی برے خیال کو اپنی جبلت نہیں بننے دینا چایئے۔ انسانی فطرت کو بعض جبلتوں کا مجموعہ قرار دیا جاتا ہے جو بدل نہیں سکتی ہیں۔ یہ بھی ظاہر کیا جاتا ہے کہ بعض سماجی نظاموں میں افراد کو بہ حیثیت فرد مسرت حاصل کرنے اور اپنی جائز خواہشات کو پوری کرنے کے مواقع نہیں ملتے ہیں۔ نہ تو انسانی فطرت غیرتغیرپذیر ہے اور نہ سماج فرد کا دشمن ہے۔ یہ ہر اہل عقل پر منحصر ہے کہ وہ کس قدر اور کس طریقے سے خود کو ان برے خیالات اور اعمال سے بچاتا ہے۔
قرآن پاک کے مطابق "اسلام میں جبر نہیں ہے۔” اس کا اطلاق خود انسانی سوچ اور فکر پر بھی ہوتا ہے۔ جب ایک مسلمان خود کو ان برے خیالات سے قبل از وقت نہیں بچائے گا تو وہ اکٹھے ہو کر انسان کو جبر کی حد تک عمل کرنے پر مجبور کریں گے۔ برائی (evil) کو ابتداء ہی میں مسل دیا جانا چایئے۔ برے خیالات کے بیج کو اگنے نہیں دینا چایئے۔ برے خیالات اگ آئیں تو پھر ان کے کانٹوں سے خود کو بچانا ممکن نہیں رہتا ہے۔ برائی (evil) سے بچنے کا واحد راستہ path یہی ہے کہ خود کو برے خیالات اور اعمال سے بچانے کے لیئے ان کا ابتداء ہی میں قلع قمع کر دیا جائے۔
امسال فروری کے آخری دن شروع ہونے والی جنگ کی امریکی ترجیحات اور اسمات سے واضح ہو گیا ہے کہ خطے میں امریکہ سب سے زیادہ کس ملک کو اہمیت دیتا ہے۔ اسرائیل پہلے بھی امریکہ کے لیئے دوچند تھا۔ 2026ء میں شروع ہونے والی اس بڑی جنگ سے واشگاف ہو گیا ہے کہ اسرائیل خطے میں دوسرا امریکہ ہے۔ اب تبصرے ہو رہے ہیں کہ امریکہ کے لیئے امریکہ کی بجائے "اسرائیل پہلے” ہے۔ آخر امریکہ خود سے بھی زیادہ فوقیت و اہمیت اسرائیل کو کیوں دیتا ہے؟ اس سوال کا جواب اسلامی دنیا کی دولت، ذرائع اور اس کے وجود سے ہے۔ اس بارے میں سابق یہودی نژاد امریکی سیکرٹری آف سٹیٹ اور وزیر خارجہ ہینری کسنجر کے ملفوظات اور سیاسی تصانیف کو ہی پڑھ لیں تو قاری کی آنکھیں کھل جاتی ہیں کہ امریکہ کے لیئے اسرائیل کیا چیز ہے۔
اس فیصلہ کن جنگ کے بعد اسلامی دنیا کو اب یہ نہیں سوچنا چایئے کہ امریکہ دنیا پر "شیطانی حکومت” قائم کرنا چاہتا ہے۔ دنیا کے ہر دوسرے آزاد اور خود مختار ملک کی طرح مسلم دنیا، اور خاص کر خلیجی اسلامی ممالک کو محتاط ہونے کی ضرورت ہے، اور ان کے لیئے سوچنے کا مقام ہے کہ امریکہ کی بجائے "گریٹر اسرائیل” امریکہ کے لیئے کیوں ضروری ہے؟
یہ محض ایک سوال ہے جو پوری امہ کی آنکھیں کھولنے کے لیئے کافی ہونا چایئے کہ دنیا کی سپر پاور امریکہ ایک چھوٹے سے ملک اسرائیل کی حفاظت "مائی باپ” کی طرح کرنے پر کیوں مجبور ہے۔ سب سے پہلے کی یہ اصطلاح سب سے پہلے پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے متعارف کروائی تھی، جب انہوں نے "سب سے پہلے پاکستان” کا نعرہ بلند کیا تھا۔ 9/11 کے زیادہ مابعد اثرات افغانستان کو بھگتنا پڑے تھے۔ پاکستان کو بھی "تورا بورا” بنانے کی دھمکیاں تو ملی تھیں لیکن پاکستان کے پاس ان دھمکیوں کا "ڈیٹیرنٹ” موجود ہے۔ اس کی طاقت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ افغانستان میں اپنے عہد کی دو بڑی طاقتیں روس اور امریکہ تو شکست کھا گئیں لیکن آج وہی افغانی بہادر جنگجو پاکستان کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہو رہے ہیں۔ یہ عرب ممالک کے لیئے بھی لمحہ فکریہ ہے کہ دنیا میں سلامتی اور بقا کی اصل ضمانت سیاسی سفارت کاری اور "سٹریٹجک پاور” ہے۔ عربوں کے لیئے یہ سوچنا بنتا ہے کہ ان کے پاس دولت اور ذرائع ہیں تو وہ اسرائیل کی طرح نہیں تو کم سے کم اسرائیل جیسی اپنی طاقت و اہمیت میں اضافہ کریں۔
اس جنگ کے دوران ایرانی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابو الفضل شکارچی نے اپنے ایک تازہ انٹرویو میں کہا ہے کہ خلیجی ممالک کی سالمیت اور خودمختاری پر ایران کبھی ضرب نہیں لگا سکتا اور ان پر ایران نے جو حملے کیئے ہیں وہ صرف امریکی اڈوں پر کیئے ہیں۔ ہمارا مقصد اپنے میزائل بھیج کر صرف امریکی اڈوں کو للکارنا تھا۔ اس کے باوجود ایران شرمندہ ہے اور معذرت خواہ ہے۔آئندہ ایران کی طرف سے ان غیر ملکی اڈوں پر بھی کوئی حملہ نہیں ہو گا۔” حالانکہ ایرانی ترجمان کے اس بیان کے بعد بھی خلیجی مسلم ممالک پر حملے ہو رہے ہیں۔ ایرانی ترجمان کے بقول تو ایران کا ٹارگٹ پورا ہو چکا ہے لیکن جنگ کا اصل کھیل ابھی باقی ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں میں جس قدر بے پناہ لاگت سے امریکہ نے یہ اڈے تعمیر کیئے، تباہی کے بعد امید ہے دوبارہ ان کی تعمیر کی کوشش بعید از قیاس متصور ہے۔ ایران مسلمان ملک ہے اور خلیجی ممالک بھی مسلمان ہیں یعنی ایران خلیجی مسلمان بھائیوں پر بمباری کرتا رہا ہے۔ اس کی کیا مجبوری ہے اس کا تعلق اسرائیل اور "القدس” کے مقدس وجود سے ہے۔ بیت المقدس تمام مسلم ممالک کے لیئے برابر اہمیت رکھتا ہے جو اس وقت اسرائیل کے قبضے میں ہے۔ یہ خبریں بھی آئی ہیں کہ مسجد اقصی پر اب اسرائیلی اپنی عبادت گاہ تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ اب پوری امہ کو احساس ہو جانا چایئے کہ اسلام پوری امہ کی مشترکہ میراث ہے، اور یہ بھی سمجھ جانا چایئے کہ اپنا اپنا اور غیر غیر ہوتا ہے۔
اگر امریکہ اسرائیل کو اتنی اہمیت دیتا ہے تو پھر عرب بھائیوں کو بھی اپنے دوستوں کی چھانٹی پر غور کرنا چایئے۔ ایران نے امریکی اور اسرائیلی سازش کے غبارے سے ہوا نکالتے ہوۓ یہ بھی کہہ دیا ہے کہ اس نے قبرص کے برطانوی اڈے، ترکی، آذربائجان اور سعودی عرب پر ایک بھی راکٹ نہیں داغا اور نہ کوئی ڈرون بھیجا ہے۔ یہ دراصل جارح حلیفوں کی پس پردہ کمینی جنگی حکمت عملی ہے تاکہ ان ممالک کو ایران سے الجھا کر جنگ کا دائرہ پھیلایا جاۓ۔ ایران سعودی عرب میں آئل ریفائنری پر ہونے والے حملے کی بھی تردید کی۔ اس مجوزہ حملے کے بارے یہ بھی انکشاف ہوا تھا کہ سعودی عرب پر یہ حملہ اسرائیل نے کیا تھا۔اس کا واحد مقصد عربوں کو آپس میں لڑانا اور پھر عرب و عجم کی تفریق اور نفرت کو فروغ دینا ہو سکتا ہے۔ جنگ کے آغاز سے پہلے اسرائیلی وزیر اعظم نے مسلمان ملکوں میں مسلکی اور فرقہ وارانہ فسادات پھیلانے کے منصوبے کا بھی اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد برطانیہ نے بھی تصدیق کی کہ واقعی ہمیں اس ضمن میں ایرانی مداخلت کے کوئی شواہد نہیں ملے۔ سعودی عرب نے بھی اس توجیہہ کو تسلیم کیا ہے اور اپنے ہاں سے گرفتار موساد کے بعض ایجنٹوں کی تادیب کی اور اس دوران حقائق تک رسائی حاصل کر لی۔ ترکی اور آذربائیجان کا سٹانس بھی کچھ اسی قسم کا تھا۔ پہلے برطانوی سامراج "ڈیوائڈ اینڈ رول” (تقسیم کرو، لڑاو اور حکومت کرو) پر کاربند رہا۔ اب یہی حربہ اسرائیل کے ساتھ مل کر امریکہ استعمال کر رہا ہے۔ شمالی عراق کے نیم خودمختار کردستان ریجن میں بھی امریکہ یہی چال چلنے کی کوشش کر رہا ہے جہاں کی قیادت نے امریکہ و اسرائیل کی طرف سے شہہ دلانے پر دو ٹوک جواب دیا کہ ہم اس سے قبل بہت سی غلطیاں کر کے منہ کی کھا چکے ہیں اور آئندہ ہمیں مزید کوئی شوق نہیں ہے۔ امریکہ نے کبھی وفا نہیں کی۔ ہم ایران کے خلاف کسی قسم کی مدبھیڑ کے سخت خلاف ہیں۔ ہم بیٹھے بٹھائے خوامخواہ اڑتا تیر نہیں پکڑنا چاہتے ہیں، بلکہ ہم کردستانی علاقے سے کسی بھی غیر ملکی مداخلت کے خلاف شدید مزاحمت کریں گے۔
خلیجی ممالک نے حالیہ تلخ تجربے کے بعد امریکہ سے اپنے دفاعی اور کاروباری معاہدوں کی منسوخی کے بارے غور کرنا شروع کر دیا ہو گا بلکہ متحدہ امارات کے وزیر دفاع تو باقاعدہ اٹلی کے دورے پر گئے تاکہ ان سے ایئر ڈیفنس سسٹم کی خریداری کی جا سکے۔ عین ممکن ہے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے اختلافات بھی ختم ہونے کا امکان پیدا ہو جائے یا امارات بھی سعودی عرب کی طرح پاکستان کے ساتھ کوئی دفاعی معاہدہ کر لے۔ روس یوکرائن کی جنگ میں یورپی دفاعی نظام بری طرح ناکام رہا۔ پاکستان متحدہ عرب امارات کے لیئے بہتر ترجیح ثابت ہو سکتا ہے۔ امارات کے لیئے اٹلی کی بجائے چائنہ بھی ایک بہتر آپشن ہے، کیونکہ چینی جدید اسلحہ اور دفاعی نظام امریکی ٹکر کا ہے۔ اس کا واضح ثبوت پاک بھارت جنگ کے دوران دنیا بخوبی دیکھ چکی ہے۔ فرانسیسی رافیل کمپنی تو اب اپنے گاہکوں کو بھی یہی مشورہ دیتی نظر آ رہی ہے کہ جاو’ اور چین یاترا کرو۔
آبناۓ ہرمز کی بندش کے بارے مستند خبر یہ ہے کہ صرف امریکی یا حلیف قوتوں کے لہے پابندی ہے باقی کسی بھی خیرخواہ ملک کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ البتہ وہاں دونوں اطراف بحری ٹریفک جیم ہونے کے باعث راستہ نہیں نکل رہا ہے۔ کچھ دن لگیں گے معاملہ سلجھ جاۓ گا، لیکن اس ساری جنگ کے مابعد اثرات اور نتائج کا تعلق جنگ کے بعد عرب ممالک کی دفاعی ترجیحات پر ہے۔ جس طرح اپنے سامراجی و سیاسی مفادات کی خاطر اسرائیل کی اہمیت امریکہ کو عزیز ہے، اتنی اہمیت عرب ممالک کو اپنی سلامتی اور بقا کو بھی دینا ہو گی۔ گریٹر اسرائیل کا دوسرا مقصد اس منصوبے کے سوا کچھ نہیں ہے کہ امریکہ ایران کے پٹرول اور زرائع پر خود یا اسرائیل امریکہ نواز حکومت کو بٹھانا چاہتا ہے۔ یہ جنگ جیتنے اور ایران میں رجیم چینج کے لیئے امریکہ کچھ بھی کر سکتا ہے، چاہے اسے مذہب اور صلیب کا سہارا ہی کیوں نہ لینا پڑے۔
ان کی جرات رندانہ پر میں انہیں داد دیئے بغیر نہیں رہ سکا ہوں۔ اسے قومی یکجہتی کا شاندار نمونہ قرار دیا جانا چایئے۔ میں سمجھتا ہوں کہ سندھ اسمبلی میں اقلیتی برادری کے ارکان نے جو مطالبہ کیا اور اس سے پہلے قومی اسمبلی میں بھی یہی مطالبہ ہوا تھا جہاں ایک ہندو رکن قومی اسمبلی نے شراب پر ایسی ہی پابندی کی بات کی تھی لیکن مسلمان اراکین اسمبلی کی اکثریت نے اس پابندی کی مخالفت کر دی تھی۔ یہ معاملہ یکے از دیگرے سپریم کورٹ میں بھی گیا تھا اور وہاں بھی معزز ججز صاحبان نے اسے قرار واقعی دعوی مسلمانی کے خلاف سمجھتے ہوئے شراب پر پابندی کی مخالفت کر دی تھی لیکن اب جو کام سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے کیا ہے اس کا اتنا تو چرچا ہوا ہے کہ اس میں ہم فاقہ کش بھی خراج تحسین پیش کرنے کا کچھ حصہ ڈال لیتے ہیں تاکہ وائس چانسلر صاحب کی جرات رندانہ کو کچھ مزید رنگ چڑھ جائے۔
واقعہ یوں ہوا کہ جونہی غیر مسلم اقلیتی ارکان شراب پر پابندی کے لیئے کھڑے ہوئے مسلمان اراکین اسمبلی شراب پر پابندی نہ لگانے کے لیئے متحرک ہو گئے۔ شائد مسلمان اراکین کے خیال میں شراب پر پابندی اس اقلیتی طبقہ پر زیادتی ہے جن کے پاس شراب خریدنے اور شراب پینے کے "پرمٹس” ہیں حالانکہ مسلم معزز ممبران کو پتہ ہونا چایئے کہ ان پرمٹوں پر زیادہ شراب تو مسلمان ہی خریدتے ہیں بلکہ کچھ سچے مسلمانوں نے تو یہ پرمٹس اپنے نام پر بھی بنوا رکھے ہوں گے۔ ان پرمٹوں پر وہ شراب خرید کر پیتے ہوں گے یا پھر خرید کر اسے آگے بیچتے ہوں گے۔ لیکن شراب پر پابندی نہ لگائے کا صحیح چرچا اور حق صرف یونیورسٹی آف سندھ کے پرو وائس چانسلر نے ادا کیا جب وہ شراب کے نشے میں دھت ہو کر اگلے روز یونیورسٹی میں تشریف لے آئے۔ پہلے تو موصوف لڑکھڑاتی انگریزی میں اپنے سٹاف کو دھمکاتے رہے، اور جب انہیں معلوم ہوا کہ سٹاف اب قابو آ گیا ہے تو پھر انہوں نے یونیورسٹی کے طلباء کے ساتھ ڈانس کرنا شروع کر دیا لیکن اچھا ہوا کہ جونہی اس وائس چانسلر کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو انہیں فوری طور پر معطل کر دیا گیا۔
یہ ویڈیو دیکھنے کے بعد پاکستانیوں کی اکثریت کو معلوم ہوا کہ یونیورسٹی میں وائس چانسلر (وی سی) بھی اسی کو لگایا جاتا ہے جو داد و عیش کا عادی ہو۔ شائد شرابی ہونا وی سی لگنے کی بنیادی شرط بھی نہ بن جائے کہ اگر ہمارے بچوں کا مستقبل ان شرابیوں کے ہاتھوں میں ہو گا تبھی جا کر اس نوع کے ممبران تیار ہوں گے جو ایسے قوانین کی مخالفت میں پہل کریں گے، جو اسلام کے منافی ہوں اور ان میں اتنی دیدہ دلیری ہو کہ غیر مسلم تو ان کی مخالفت کریں مگر مسلمان ممبران کو ان کی مخالفت کرتے ہوئے کوئی شرم محسوس نہ ہو۔
شائد سندھ میں حکومت بھی انہی ممبران کی ہے جو ایم پی اے ہوں یا ایم این اے ہوں وہ شراب پینے کے رسیا نہیں بھی ہیں تو وہ اس پر پابندی نہیں لگانا چاہتے ہیں۔ کیا سندھ اسمبلی میں پڑھے لکھے لوگوں کے لیئے کوئی جگہ نہیں ہے یا وہ سارے اسی یونیورسٹی سے پڑھ کر آئے ہیں جس کا وائس چانسلر شراب پیتا ہے اور پھر نشے ہی کی حالت میں یونیورسٹی بھی پہنچ جاتا ہے۔ یہ ہے آکسفورڈ کی تعلیم جو ہمارے ملک پر قابض ہے۔ جب ملک چلانے والے ہی شراب پر پابندی کی مخالفت کرتے ہیں تو ایک یونیورسٹی کا چانسلر پی کر یونیورسٹی آ گیا تو کیا ہوا۔ وطن عزیز ایسا تالاب بنتا جا رہا ہے جس میں سارے ننگے ہیں۔ دیکھنا اس وائس چانسلر کے خلاف کوئی بڑی کارروائی ہو گی اور نہ ہی اسے کوئی بڑی سزا ہی دی جائے گی کہ بس وہ تھوڑی سی پی کر ہی تو یونیورسٹی آیا تھا، اس نے کوئی ڈاکہ ڈالا تھا اور نہ ہی اس نے کوئی چوری کی تھی۔
آج پاکستان کی جو حالت ہے اب سمجھ آتی ہے کہ اس کی جڑیں ہمارا نظام تعلیم ہی کھوکھلی کر رہا ہے۔ ایک دن سندھ اسمبلی میں اقلیتی ارکان نے شراب پر پابندی کی پٹیشن جمع کروائی اور جونہی اسے مسلمان اسمبلی ممبران اور سید آل رسول کہلوانے والے وزیراعلی نے ریجیکٹ کر دیا تاکہ ایسے لوگوں کو سہولت ملے، اس کے اگلے روز ہی موصوف وائس چانسلر یونیورسٹی میں شراب پر کر آ گیا۔ یہ ہوتا ہے علم اور اسے کہتے ہیں تعلیم، جو ہماری یونیورسٹی میں طلباء کو دی جاتی ہے اور اس کا عملی مظاہرہ خود یونیورسٹی کا وائس چانسلر شراب پی کر کرتا ہے۔ اسی لیئے صدر مملکت آصف علی زرداری صاحب نے اپنی اولاد میں سے کسی کو اس یونیورسٹی میں تعلیم نہیں دلوائی۔ جس ملک میں شراب کی بوتل شہد بن جائے اس ملک کی کسی یونیورسٹی کا وائس چانسلر شراب پی کر یونیورسٹی میں آ جائے تو یہ کوئی بڑے اچھنبے کی بات نہیں ہے کہ، "بن کے ایک حادثہ بازار میں آ جائے گا،جو نہیں ہو گا وہ اخبار میں آ جائے گا۔ چور اچکوں کی کرو قدر کہ معلوم نہیں کون کب کون سی سرکار میں آ جائے گا۔” یہی وجہ ہے کہ سندھ کی حکومت شراب پر پابندی والے بل مسترد کر دیتی ہے۔
اس پر ایم کیو ایم کے اقلیتی رکن انیل کمار نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ اقلیت کے نام پر سندھ میں شراب کے اسٹور کھلے ہیں، شراب ایک معاشرتی برائی ہے، تمام مذاہب میں اسکی ممانعت ہے۔ انھوں نے کہا کہ کراچی میں شراب کی خریدو فروخت کا تمام کاروبار غیر قانونی ہے، شراب کی فروخت کے نام پر اقلیتوں کو بدنام کیا جا رہا ہے، عوام کیلئے میں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ کراچی میں چھوٹے بڑے 57 مندر ہیں لیکن کراچی میں شراب کے 80 اسٹور ہیں، یہ وائن اسٹور صرف مذہبی تہوار پر شراب فروخت کر سکتے ہیں لیکن ان پر خریدو فروخت 365 روز جاری رہتی ہے۔ شائد وائس چانسلر صاحب انہی سٹورز سے شراب خریدتے ہوں۔ آپ کے معیار تعلیم اور کردار کی عظمت کو سلام محترم وائس چانسلر صاحب! آپ کو رنگیلا وائس چانسلر نہ کہوں تو کیا کہوں، آپ اسم بامسمی ہیں جناب!!
صد افسوس کی بات ہے کہ جو پابندی ہمیں لگانی چایئے تھی اُس کا مطالبہ ہمارے اقلیتی اقلیتی بھائیوں نے کیا اور اس پر اپنا منہ کالا اس وائس چانسلر نے کیا۔ اس نے کس ڈھٹائی سے یہ کارنامہ انجام دیا کہ استادوں کا استاد ہونے کے باوجود وہ یونیورسٹی میں نشے کی حالت میں نمودار ہوا اور پھر ناچ ناچ کر پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی کروائی۔ حکومت سندھ نے سوشل میڈیا پر مبینہ متنازع ویڈیو سامنے آنے کے بعد سندھ یونیورسٹی کے دادو کیمپس میں تعینات جس پرو وائس چانسلر کو معطل کیا ان کا نام نامی "اظہر شاہ” ہے، جبکہ ان کا موقف ہے کہ یہ ویڈیو اے آئی سے تیار کی گئی تھی۔ ان کو نشے کی حالت میں بنفس نفیس دیکھنے والے طلباء حیران ہیں، خاموش ہیں اور لب بستہ ہیں!
کالم نگار انصار عباسی نے اپنے ایک مضمون مطبوعہ 09 فروری 2026ء میں پاکستان کے ایک بنیادی اور اہم ترین مذہبی مسئلے کی طرف توجہ دلائی۔ ان کے اظہاریہ کا عنوان "اسلام کو آؤٹ سورس کرنے کی غلطی”، تھا، جس میں انہوں نے اس حقیقت سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی کہ اس وقت ریاست کا اپنا کوئی واضح اور شفاف مذہبی بیانیہ نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ قیام پاکستان سے آج تک کسی بھی حکومت کی توجہ اس سنگین مسئلے کی طرف نہیں گئی ہے۔ کاش کہ ریاست کبھی یہ جاننے کی کوشش کرتی کہ پاکستان میں دین اسلام کا کونسا سرکاری فقہ یا مسلک رائج ہے؟ آج تک کسی بھی حکومت نے کبھی مشترکہ سرکاری مذہبی بیانیہ کا اعلان نہیں کیا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب تک دین اسلام کی تشریح و تعبیر پر مختلف مسالک اور فرقہ جات ہی کا قبضہ رہا ہے، جو دین اسلام کی تشریح و تعبیر اپنے ہی مذہبی عقائد اور مفادات کے تحت کرتے چلے آ رہے ہیں!
پاکستان بیورو آف شماریات کی 2023ء کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 6 لاکھ 403 مساجد اور 36 ہزار 331 دینی مدرسے ہیں۔ سینٹ کے 2024ء کے ایک اجلاس میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق پاکستان میں رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 17ہزار 738 ہے جس میں رجسٹرڈ طلبا کی تعداد 22 لاکھ 49 ہزار 520 ہے۔ پنجاب میں 10ہزار 12رجسٹرڈ مدارس اور طلبا کی تعداد 6لاکھ 64ہزار 65 ہے۔ سندھ میں رجسٹرڈ مدارس 2416 ہیں اور طلبا کی تعداد 1لاکھ 88ہزار 182 ہے۔بلوچستان میں رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 575 اور طلبا کی تعداد 71ہزار 815 ہے۔ کے پی کے میں رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 4ہزار 5 اور طلبا کی کل تعداد 12لاکھ 83ہزار 24 ہے۔ آزاد کشمیر میں رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 445 اور طلبا کی تعداد 26ہزار 787 ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 199اور طلبا کی تعداد 11ہزار 301 ہے۔
گلگت بلتستان میں رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 86 اور طلبا کی تعداد 4ہزار 346 ہے۔ ان تمام دینی مدارس اور مساجد میں ہر جگہ اپنے اپنے فقے، مسلک اور فرقے کی تبلیغ اور ترویج کی جاتی ہے، جبکہ پاکستان بھر کے تعلیمی اداروں اور تقریبا ہر مسلمان گھر میں اپنے الگ شیعہ، سنی، دیوبندی، وہابی، اہل حدیث، منکرین حدیث، حنفی وغیرہ (اور ناجانے کیا کیا) مسلک، فقہ اور فرقہ جات وغیرہ کے مطابق اسلام پر قائم رہنے اور عبادات کرنے کا درس دیا جاتا ہے، حالانکہ یہ پرائیویٹ اور منقسم قسم کا مذہبی بیانیہ دین اسلام کی حقیقی روح کے بلکل منافی ہے کیونکہ قرآن پاک کی سورة آل عمران کی آیت نمبر 103 میں واشگاف الفاظ میں ارشاد ربانی ہے کہ، "تم سب (مسلمان) مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقوں (یعنی فرقوں اور مسالک وغیرہ) میں مت پڑو۔” جس کا مطلب و مفہوم یہ ہے کہ جدا جدا نہ ہو جاؤ جیسا کہ آج پورا پاکستان "دین اسلام” کی بجائے "زہر آلود مذہبیت” میں ڈوبا ہوا ہے۔ دین اسلام کی بھائی چارے، اتحاد اور اجتماعی فکر سے اس انحراف اور فرقہ واریت ہی کی وجہ سے پاکستان میں تسلسل کے ساتھ مذہبی منافرت پھیلی ہے جس کے نتیجے میں "خودکش” بم دھماکوں نے جنم لیا جس میں اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ و مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں 07فروری کو نماز جمعہ کے دوران ہونے والا افسوسناک خودکش بم دھماکہ بھی شامل ہے کہ جس میں 32 افراد جاں بحق اور 150 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔
اس سے قبل مذہبی جنونیت پر مبنی پاکستان میں صرف چند خودکش حملوں کا جائزہ لیں جن سے پورا ملک وقفے وقفے سے افسوس اور غم میں ڈوبتا رہا تو پتہ چلتا ہے کہ کس بے دردی سے مزہب کے نام پر ملک کو خون میں نہلایا جاتا رہا ہے۔ 4جولائی 2003ء کو کوئٹہ میں ایک امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا جس میں 54افراد شہید ہوئے تھے۔ اس حملے میں خودکش حملہ آوروں کی تعداد 3 تھی۔ موجودہ حملہ میں خودکش حملہ آور دو تھے۔ 29فروری 2004ء کو راولپنڈی کے سیٹلائٹ ٹاؤن میں واقع ایک امام بارگاہ میں خودکش حملہ ہوا تھا جس میں خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا البتہ 3افراد زخمی ضرور ہوئے تھے۔ مئی 2004ء میں کراچی میں دہشت گردی کے اعتبار سے افسوسناک تھا جب 7مئی 2004ء کو ایک بار پھر امام بارگاہ حیدری اور 31 مئی 2004 کو امام بارگاہ علی رضا میں ظہر اور مغرب کی نمازوں کے دوران بم دھماکے ہوئے، یہ دونوں حملے بھی خودکش تھے۔ امام بارگاہ حیدری کے واقعے میں 24افراد شہید اور 100زخمی ہوئے تھے جبکہ امام بارگاہ علی رضا میں خودکش حملے میں 23افراد شہید اور 40زخمی ہوئے تھے۔ یکم اکتوبر 2004ء کو سیالکوٹ کی امام بارگاہ میں بھی خودکش حملہ ہوا تھا جس میں 25افراد ہلاک اور 50زخمی ہوئے تھے۔ جبکہ 27مئی 2005ء کو اسلام آباد میں بری امام کے مزار میں مجلس عزا کے دوران بم دھماکے میں 28افراد ہلاک اور 67زخمی ہوئے تھے۔ 30مئی 2005 کو کراچی میں امام بارگاہ مدینتہ العلم پر خودکش حملے کی کوشش کی گئی تھی جس میں پولیس اہلکار کی جانب سے حملہ آور کو امام بارگاہ کے باہر ہی روک دینے پر زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا تھا لیکن اس حملے میں پھر بھی 3افراد شہید اور 23زخمی ہوئے تھے۔ ہنگو میں 9فروری 2006ء کو 10محرم کے جلوس میں خودکش حملہ ہوا جس میں 40افراد شہید اور 26زخمی ہوئے تھے،
اور اس کے بعد آج تک جتنے بھی خودکش حملے ہوئے ہیں ان میں زیادہ تر امام بارگاہوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک و مذہب دشمن عناصر پاکستان میں فرقہ واریت پھیلا کر خانہ جنگی کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ آخر یہ کب تک ایسا ہوتا رہے گا؟ یہ واضح طور پر دہشتگردی ہے جس کا دین اسلام سے ہرگز کوئی تعلق نہیں ہے لیکن حیرت انگیز طور پر وطن عزیز کے مسالک نے مل کر ان انسانیت کش واقعات کی کبھی کھل کر مذمت کی ہے اور نہ ہی اس کے خلاف کبھی کوئی مشترکہ فتوی جاری کیا ہے۔ یہ محض ایک اور سانحہ ہی نہیں بلکہ واقعی ایک گہرا سوالیہ نشان بھی ہے۔ بقول انصار عباسی، "یہ سوال صرف سیکورٹی کی ناکامی کا نہیں بلکہ ریاستی سمت، فکری الجھن اور تاریخی غلطیوں کا ہے۔” اس مذہبی دہشت گردی کے ناسور کی وجہ سے لگ بھگ ایک لاکھ قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں۔
پاکستان کا سرکاری اور قومی نام "اسلامی جمہوریہ پاکستان” ہے جو "پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ” کی اساس پر قائم ہوا۔ پاکستان کے آئین 1973ء میں بھی اسلام کو پاکستان کا سرکاری مذہب لکھا گیا ہے اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے فرمودات میں بھی پاکستان میں مسالک اور فرقہ پرستی کی ممانعت کی گئی ہے۔ قائدِاعظم فرقہ واریت، صوبائیت اور لسانی تعصب کے سخت مخالف تھے اور پاکستان کو ایک متحدہ قوم دیکھنا چاہتے تھے۔ انہوں نے 11 اگست 1947ء کی تاریخی تقریر میں واضح طور پر کہا تھا کہ پاکستان میں تمام شہری، چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب، فرقے یا عقیدے سے ہو، ریاست کے سامنے برابر ہیں اور انہیں مکمل مذہبی آزادی حاصل ہو گی۔ ان کا ماننا تھا کہ فرقہ واریت ملک کی بنیادوں کو کمزور کرتی ہے۔
ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ عمران خان کے دور حکومت میں 2021ء میں کے پی کے میں امام مسجد کی تنخواہوں کا آغاز کیا گیا۔ پنجاب کی وزیراعلی مریم نواز نے بھی کچھ عرصہ پہلے پنجاب کی 65 ہزار مساجد کے اماموں کے لئے وظیفہ مقرر کرنے کا اعلان کا تھا اور سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کو بھی یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی۔ حکومت پنجاب نے آئمہ کرام کی ضروریات پوری کرنے کے لہے بھی باقاعدہ مالی مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ اس دوران سرکاری خطبہ جاری کرنے کو بھی زیر غور لایا گیا تھا لیکن ابھی تک اس معاملے میں کوئی مفصل پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ اس نوع کا سرکاری مذہبی بیانیہ تمام عرب ممالک میں رائج ہے جہاں فرقہ واریت نام کا کوئی ناسور پایا جاتا ہے اور نہ ہی پاکستان کی طرح مذہب کے نام پر کبھی خود کش بم دھماکوں جیسا کوئی واقعہ پیش آیا ہے۔
ممکن ہے کہ اس نوع کے دہشت گردی کے خودکش حملوں کے پیچھے امریکی مفادات کیلئے پاکستان کی طرف سے لڑی جانے والی جنگیں، افغانستان اور بھارت کی سازشیں وغیرہ کے عوامل شامل ہوں لیکن اس کی تلخ اور اصل حقیقت یہ ہے کہ ہم عقیدے کی بنیاد پر بطور مسلمان متحد امہ نہیں بن سکے ہیں۔ ریاست دہشت گردی کے مقابلےکے لیئے بارہا عسکری اقدامات اٹھا چکی ہے، آپریشنز ہوئے، دہشت گرد مارے گئے اور نیٹ ورکس توڑے گئے لیکن نتیجہ یہ نکلا ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری یہ دہشت گردی آج بھی جوں کی توں قائم ہے۔ قرآن پاک ایک معصوم جان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے تو پھر ایک خودکش مذہبی بمبار بھلا جنت میں کیوں کر جا سکتا ہے۔ یہ صرف مذہبی انتہاء پسندی ہے جو دہشت گردوں کی "برین واشنگ” کر کے انہیں یہ اقدامات اٹھانے پر قائل کر لیتی ہے۔ دہشتگردی کا یہ ملک گیر سنگین مسئلہ صرف بندوق سے حل نہیں ہو گا۔ جتنے مرضی نیشنل ایکشن پلان بنا لیں جب تک دین اسلام کے عقائد اور تعلیمات کے مطابق تمام مسالک کو حکومت کے ایک "مشترکہ اسلامی بیانیہ” پر اکٹھا نہیں کیا جاتا ہے، یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا۔
میرا بھی یہی خیال ہے کہ معاشرے میں مزہب کے نام پر پھیلے ان فرقوں کو اسلام کی من مرضی کی غیر منطقی اور غیر سائنسی تعبیر پیش کرنے کی اجازت دینا اسلام کو ریاستی سطح پر واقعی "آوٹ سورس” کرنے کے مترادف ہے۔ دین اسلام کو فرقہ پرستوں کے حوالے کرنا اسلام کی روح کو مسخ کرنے جیسا عمل ہے۔ اگر پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اور آئین پاکستان بھی واضح طور پر کہتا ہے کہ پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے، جس کو قرآن و سنت کے مطابق چلایا جانا چاہیئے تو پھر عملی طور پر ریاست نے ہمیشہ سے دین اسلام سے یہ دوری کیوں قائم کر رکھی ہے؟ اس خلا کی وجہ سے پاکستان میں نہ صرف خودکش دہشت گردی نے جنم لیا ہے بلکہ اس سے پاکستان کو لبرل اور سیکولر بنانے پر بھی زور دیا جاتا رہا ہے یعنی لبرل بننے کے چکر میں اسلام ہی کو آؤٹ سورس کر دیا گیا ہے۔ یوں دین کی تشریح، تعلیم اور تبلیغ مکمل طور پر انہی گروہوں، فرقوں اور مفاد پرست عناصر کے ہاتھوں میں ہے۔ اسی آوٹ سورسنگ کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ دین اسلام کو ایک تو دنیا سے نکال کر آخرت تک محدود کیا گیا ہے دوسرا اس میں دہشت گردی جیسی لعنت کو بھی شامل کر دیا گیا ہے۔ آج اسلام کے نام پر مسلمان مسلمان کا دشمن ہے۔ ہر فرقہ دوسرے سے الگ تھلگ ایک اپنا ہی اسلام پیش کرتا ہے، ہر مذہبی گروہ نے اپنے نظریئے کو حق اور باقی سب کو باطل قرار دے رکھا ہے۔ حتی کہ ایک ہی شہر اور گاؤں میں ہر فرقے کی الگ مسجد ہے، یہ فلاں کی مسجد ہے اور وہ فلاں کی ہے، اور بعض فرقے تو اس قدر نفرت سے بھرے ہوئے ہیں کہ دوسرے کی مسجد میں داخل ہونے والے کو دائرہ اسلام ہی سے خارج قرار دینے سے باز نہیں آتے ہیں۔ پاکستان میں کافر کافر کے یہ فتوے کب تک دیئے جاتے رہیں گے؟ یہ صورتحال نہ صرف مذہبی انتشار اور نفرت کو جنم دیتی ہے بلکہ خودکش دہشت گردی جیسی انتہاپسندی کے لیئے بھی زمین ہموار کرتی ہے۔
اگر ریاست کا اپنا کوئی اسلامی بیانیہ نہیں ہے تو پھر یہ دینی مدارس اور ان کے طلباء ہی وہ کھیپ ہیں جو اس خلا کو یونہی پر کرتے رہیں گے۔ دین اسلام کو اس طرح چوں چوں کا مربہ نہیں بنایا جانا چایئے۔ حکومت اپنے اسلامی بیانیہ کی کوئی رٹ قائم نہیں کرتی تو یہ دہشت گردی پہلے ختم ہوئی اور نہ کبھی آئیندہ ختم ہو گی۔ ہمارے پیارے ملک میں مدت سے جاری دہشت گردی کی فکری جڑیں اسی خلا میں پنپ رہی ہیں جسے ان غیر اسلامی فرقوں کی بجائے حکومت کو پر کرنا چایئے۔ نوجوان نسل کی ذہنی زمین میں ماحول جو بیج بوئے گا وہی پھلے پھولے گا۔ اگر ان کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ ریاست کا متفقہ، مستند اور ذمہ دار اسلامی بیانیہ کیا ہے، تو وہ آسانی سے کسی بھی شدت پسند نعرے کے ہتھے چڑھ سکتی ہے۔ انصار عباسی صاحب لکھتے ہیں، "یہ صرف مدرسوں کا مسئلہ نہیں، یہ پورے معاشرتی بیانیے کا مسئلہ ہے۔” ریاست کو اپنا اسلامی بیانیہ قائم کرنے کا فریضہ فوری طور پر انجام دینا چایئے۔ "دیر آید درست آید” ریاست کو پاکستان کے قیام اور آئین پاکستان کا لحاظ رکھتے ہوئے یہ کام کرنے میں دیر نہیں کرنی چایئے۔ ریاست کا خود کو دینی تعلیم، خطباتِ جمعہ، مدارس، مساجد اور گھروں میں قائم مذہبی نظام سے یوں علیحدہ رکھنے کا چلن درست نہیں ہے، اسے اپنی سوچ کو بدلنا ہو گا ورنہ معصوم جانوں کا خون یونہی بہتا رہے گا۔
سورہ مائدہ 5:32 میں ارشاد باری تعالی ہے کہ “جس نے ایک انسان کو ناحق قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔” نبی مکرم ﷺ نے فرمایا: “مسلمان کا خون، مال اور عزت ایک دوسرے پر حرام ہیں”
(صحیح مسلم)۔ “دنیا کی تباہی اللہ کے نزدیک اس سے ہلکی ہے کہ کسی مسلمان کا خون ناحق بہایا جائے” (سنن نسائی)۔
قوموں پر مشکل وقت آتے رہتے ہیں، مگر زندہ قومیں ان کا سامنا صرف بیانات سے نہیں بلکہ اپنے اجتماعی رویّوں سے کرتی ہیں۔ آج پاکستان ایک بار پھر ایسے ہی کڑے امتحان سے گزر رہا ہے۔ دارالحکومت میں خودکش دھماکے نے نہ صرف شہر کی فضا کو سوگوار کیا بلکہ ہمارے اجتماعی ضمیر کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ معصوم لوگ نماز کی حالت میں، سجدے میں جاتے ہوئے بزدلانہ کارروائی کا نشانہ بنے۔ کئی جانیں شہید ہوئیں، بہت سے زخمی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ زخمیوں کو جلد صحت عطا فرمائے اور شہداء کی مغفرت فرمائے، ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل دے۔ ایسے مواقع پر ہمارا پہلا ردِعمل طنز ہوتا ہے۔ ہم فوراً حکمرانوں کو کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں کہ وزراء کچھ نہیں کر رہے، سب دکھاوا ہے، ایمبولینس کم ہیں، وزیراعلیٰ کے دعوے صرف میڈیا تک محدود ہیں، وزیراعظم بے بس ہیں۔ یہ اعتراضات اپنی جگہ درست ہو سکتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی خود کو بھی اسی کٹہرے میں کھڑا کیا ہے؟ اسی لیے اس تحریر کا عنوان “دو قومی رویّے” رکھا گیا ہے ۔ ایک طرف اسلام آباد لہولہان ہے، اور فرقہ واریت کی آگ کو ہوا دینے کی کوششیں شروع ہو جاتی ہیں کہ کہاں دھماکہ ہوا، کس مسلک کے لوگ نشانہ بنے۔ بھائی! دھماکہ پاکستان میں ہوا ہے۔ مرنے والے پاکستانی تھے۔ ان کا مسلک، رنگ، زبان یا نظریہ کچھ بھی ہو، وہ بے گناہ انسان تھے۔ کوئی بھی انسان کیوں کسی بے گناہ کو مارتا ہے؟ یہ سوال ہمیں انسان ہونے کے ناتے جھنجھوڑنا چاہیے۔ دوسری طرف لاہور ہے۔ زندہ دلانِ لاہور جو بسنت منانے میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔ کہیں سے ویڈیو آئی ہے کہ “بسنت ختم کر کے واپس آ رہا ہوں ؟”، کہیں ڈور کٹی پڑی ہے کہ “پھر کبھی اُڑا لیں گے ؟”۔ کسی نے یہ نہیں کہا کہ بھائی، آج دل نہیں مانتا۔ آج چھت پر نہیں چڑھتے۔ آج خوشی مؤخر کر دیتے ہیں۔ ہمارے بھائی شہید ہوئے ہیں، مگر ہم “آئی بو ” اور “بو کاٹا” کی ویڈیوز ایک دوسرے کو بھیج رہے ہیں۔ پھر حکمرانوں پر تنقید کس منہ سے؟ کالم نگار بارہا اپنے قلم کے ذریعے یہ بات دہراتا آیا ہے کہ نواز شریف ہوں، عمران خان ہوں، مریم نواز ہوں یا کوئی اور یہ سب ہمارے ہی معاشرے کی پیداوار ہیں۔ یہ کسی اور سیارے سے نہیں آئے۔ منتخب ہوں یا غیر منتخب، حکمران ہم میں سے ہی نکلتے ہیں۔ جب عوام میں سے کوئی ایک فرد بھی اپنی تفریح مؤخر کرنے کو تیار نہیں، یہ کہہ کر کہ خرچہ ہو گیا ہے، مہمان آ گئے ہیں، پروگرام طے تھا تو پھر حکمران کیوں ملتوی کریں گے؟ حکمران ہمیشہ عوام کے موڈ کو دیکھتا ہے۔ اگر ایک بار عوام چھتوں سے نیچے اتر آتے، اگر ایک دن کے لیے بھی اجتماعی سوگ دکھایا جاتا، تو کون سی طاقت وزیراعلیٰ کو مجبور نہ کرتی کہ بسنت مؤخر ہو؟ ہم اپنے رویّوں سے خود یہ پیغام دیتے ہیں کہ “مرنے والے مر گئے، دھماکے ہوتے رہتے ہیں۔” یہی پیغام وہ واٹس ایپ اسٹیٹس بھی دے رہے ہیں جن میں اسی وقت پتنگ بازی کی خوشیاں دکھائی جا رہی ہیں، جب اسلام آباد خون میں ڈوبا ہوا ہے۔ پھر ہم کیسے کہیں کہ ہم یکجہتی چاہتے ہیں؟ “پاکستان زندہ باد” اور “ہم سب ایک ہیں” جیسے نعرے تب کھوکھلے لگتے ہیں جب عملی رویّہ اس کے برعکس ہو۔ پنجابی، پٹھان، سندھی، بلوچ، سنی، شیعہ سب کچھ ہیں، مگر کیا ہم واقعی پاکستانی بھی ہیں؟ کیا ہم واقعی مسلمان بھی ہیں؟ اگر ہم اپنی سوچ اور اپنے رویّے نہیں بدلیں گے تو صرف حکمرانوں کو ذمہ دار ٹھہرانا بے معنی ہے۔
یہاں انڈا مہنگا ہو جائے تو ہم خریدنا نہیں چھوڑتے، اجتماعی بائیکاٹ نہیں کر پاتے، پھر یہ توقع کیسے رکھیں کہ بڑے فیصلے عوامی دباؤ کے بغیر بدل جائیں گے؟ قائداعظم کے مزار پر جا کر کبھی ہم خود سوال کریں کہ یہ ملک کن قربانیوں سے بنا تھا۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں، جسم کے ایک حصے میں درد ہو تو دوسرا حصہ چین سے نہیں بیٹھتا۔ اگر آج ہم اپنے ہی ملک میں سوگ کے عالم میں خوشیاں منائیں گے تو کل فلسطین، کشمیر یا کہیں اور کے مظلوم مسلمانوں کے لیے آواز اٹھانے کا اخلاقی جواز بھی کھو دیں گے۔ دنیا ہمیں اسی لیے سنجیدہ نہیں لیتی کہ اسے معلوم ہے، یہاں ظلم ہو بھی جائے تو لوگ تفریح میں مصروف رہیں گے—پتنگ اُڑتی رہے گی، میچ چلتا رہے گا۔ یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ یہ تحریر تفریح کی مخالفت نہیں۔ کرکٹ دیکھنا، پی ایس ایل انجوائے کرنا، ثقافتی سرگرمیاں سب اپنی جگہ۔ مگر سوال وقت کا ہے، ترجیح کا ہے۔ جب گھر میں فوتگی ہو تو ڈھول نہیں بجائے جاتے۔ تب پتہ چلتا ہے کہ ہم واقعی ایک قوم ہیں یا محض افراد کا ہجوم ۔ آج ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہم اپنی آنے والی نسل کو کیا پیغام دے رہے ہیں۔ وہ بچے جو چھتوں پر کھڑے ہو کر “بو کاٹا” سن رہے ہیں، وہ کل کیا سیکھیں گے؟ اگر خدانخواستہ ان کے اپنے کسی عزیز کے ساتھ ایسا سانحہ ہو جائے، تو کیا وہ بھی یہی چاہیں گے کہ باقی لوگ اپنی مصروفیات میں مگن رہیں؟ حکمران عوام کے آئینے ہوتے ہیں۔ اکثریت جیت جاتی ہے، فیصلہ وہیں ہوتا ہے۔ اگر آج پاکستانی اجتماعی طور پر یکجہتی دکھائیں، تو کسی کی جرات نہیں کہ قومی سوگ کو نظرانداز کرے۔ ہمیں دو قومی رویّوں سے نکل کر ایک قوم بننا ہوگا۔ اسلام کو صرف نعرہ نہیں، عمل بنانا ہوگا۔ کم از کم اتنا تو کر سکتے ہیں کہ دعا کے لیے ہاتھ اٹھا لیں، اپنی خوشی مؤخر کر دیں، اور جہاں ممکن ہو عملی مدد کریں۔ شاید یہی چھوٹے قدم ہمیں ایک بڑی قوم بننے کی طرف لے جائیں۔آخر میں بس یہی کہوں گا: تھوڑا نہیں، مکمل غور کیجیے۔ تجربہ شرط ہے
اسلام واقعی ایک آفاقی نظام عمل ہے تو اس کے عقائد اور تعلیمات کو ہر عہد کے تقاضوں اور ضروریات پر پورا اترنا چاہئیے۔ اسلام کے مطابق کامیاب زندگی گزارنے کے لیئے قرآن پاک دین اسلام اور اہل ایمان کا پہلا الہامی زریعہ ہے جس کی آیات مبارکہ اس مجوزہ معیار پر مکمل طور پر پورا اترتی ہیں جبکہ اسلامی تعلیمات کا دوسرا بڑا منبع احادیث نبوی ﷺ ہیں جو کئی ہزار کی تعداد میں ہو سکتی ہیں لیکن احادیث کی کل تعداد کا صحیح اندازہ کرنا مشکل ہے کیونکہ ان میں محدثین کے مختلف اقوال بھی شامل ہیں۔ محدثین کی اصطلاح میں صرف آپ ﷺ کے ارشادات کو حدیث نہیں کہا جاتا، بلکہ آپ ﷺ کے افعال، اخلاق، احوال اور آپ کی موجودگی میں لوگوں کے کئے ہوئے وہ کام جن پر آپ نے گرفت نہیں فرمائی، اور اس کے ساتھ صحابہ کے اقوال، ان کے مفتیوں کے فتاویٰ، زمانۂ خلافت میں ان کی عدالتوں کے فیصلے، بلکہ تابعین کے فتاویٰ اور جج ہونے کی حیثیت میں ان کے فیصلے، اور قرآنی آیات پر تشریحی نوٹس بھی احادیث میں شمار کئے گئے ہیں۔
اس کے باوجود کہ احادیث کی کل تعداد متعین نہیں ہے تاہم، احادیث کی مشہور کتب میں صحیح بخاری (بشمول تکرار) 9086 اور صحیح مسلم میں 7275 احادیث شامل ہیں۔ غیر مکرر احادیث کی تعداد بخاری میں 2,600 اور مسلم میں تقریباً 4,000 ہے۔ جبکہ قرآن مجید میں کل سورتوں اور آیات کی تعداد مخصوص ہے جس میں 114 سورتیں ہیں جن میں 86 مکی اور 28 مدنی سورتیں سرفہرست ہیں جبکہ قرآن مجید میں کل آیات کی مشہور تعداد 6666 ہے، جبکہ محققین اور ماہرینِ قرآنیات کے مطابق صحیح تعداد 6236 ہے۔ یہ اختلاف آیات کو الگ الگ یا ملا کر گننے کی وجہ سے ہے، تاہم قرآنی متن اور پیغام میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ چونکہ قرآن فرقان آخری نبی محمد الرسول اللہ ﷺ پر اترا اور نبی مکرم ﷺ کے بعد نبوت کے دروازے بند ہو گئے ہیں تو اب یہ اسلامی علمائے عظام، مفسرین، فقہاء، محدثین و مفکرین اور خاص طور پر مجددین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اللہ ﷻ اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کی تشریح و تعبیر ہر عہد کے جدید سے جدید ترین علوم اور پیمانوں کی زبان اور معیار کے مطابق پیش کریں تاکہ جہاں اسلام کو آسانی سے سمجھا جا سکے وہاں اسے روزمرہ زندگی پر لاگو کرنا بھی آسان ہو جائے۔
الہامی پیغام اور تعلیمات و عقائد غیرمتبدل اور ہر عہد کا علم اور حالات متبدل ہوتے ہیں جن کے درمیان توازن قائم نہ کیا جائے یا اس کے تقاضوں کا لحاظ نہ رکھا جائے تو مذہبی علوم اور عقائد کے قدیم (آوٹ ڈیٹڈ) ہو جانے کا امکان پیدا ہو جاتا ہے جیسا کہ آج کی ترقی یافتہ دنیا اسلام اور مسلمانوں پر "دقیانوسی” اور "جہلا” وغیرہ کے الزامات لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیئے محدثین اور مجددین اسلامی تعلیمات اور عقائد کا احیاء کرتے ہیں تاکہ "اسلامی ضابطہ حیات” جدید ذہن کی سمجھ میں آ سکے۔ اگر ایسا نہ کیا جائے یعنی اسلامی تعلیمات اور عقائد کے نئے مفاہیم اور مطالب کو عام نہ کیا جائے تو اسلام کا مکمل ادراک اور اسے ہر عہد میں عملی زندگی کا حصہ بنانا ناممکن نہیں تو تقریبا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کا بنیادی حل علماء اسلام، مسلم فقہاء، مفسرین، شارع اور مترجمین پیش کر سکتے ہیں جن کے ذہن کی رسائی جدید علوم مثلا کوانٹم سائنس، نفسیات اور مائنڈ سائنسز پر بھی ہو۔ جہاں ان سائنسی علماء کا مشاہدہ تیز ہو وہاں وہ مستقبل کے جدید علوم پر بھی نظر رکھ سکیں کہ انسان ان کے ذریعے کس بلندی تک ترقی کا سفر طے کر سکتا ہے اور اس میں دین اسلام کیا کردار ادا کر سکتا ہے مثال کے طور پر پاکستان کے قومی شاعر، مفکر اور فلسفی ڈاکٹر علامہ اقبال کا واقعہ معراج کے بارے یہ شعر ملاحظہ کریں، جس میں وہ فرماتے ہیں، "سبق ملا ہے یہ معراج مصطفی سے مجھے کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں ”
واقعہ معراج کی ایک تشریح وہ ہے جو علمائے دین اللہ تعالی ﷻ سے نبی کریم ﷺ کی ملاقات اور دیدار کے حوالے سے کرتے ہیں اور دوسری وہ ہے جو علامہ اقبال کی نظر میں آسمان کی بلندیوں تک سائنسی علوم کی ترقی کے ذریعے ہے جس کی زد میں سات آسمان (گردوں) آتے ہیں۔ اس مد میں حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ علیہ کی تعلیمات میں جدید اسلامی فکر کے نمایاں پہلو ملتے ہیں جبکہ مولانا مودودیؒ نے بھی اس میدان میں بے مثال خدمات انجام دیں۔ دور جدید سائنسی عروج کا عہد ہے اور نت نئی ایجادات نے قدیم انسانی تہذیب کے نمایاں عناصر کے بخیئے ادھیڑ دیئے ہیں۔
مولانا مودودیؒ اسلامی فکر کو ترویج دینے کے قائل تھے۔ انہوں نے اسلامی فکر کے مسلسل ارتقاء میں رہنے کا جو نظریہ دیا وہ قابل تعریف ہے اور یہی مسلمانوں میں علمی تعطل کا واحد حل بھی ہے۔ امام مودودیؒ فرماتے ہیں کہ، "مدینہ سے مماثلت پیدا کرنے کا مفہوم کہیں یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ ہم ظاہری اشکال میں مماثلت پیدا کرنا چاہتے ہیں اور دنیا اس وقت تمدن کے جس مرتبے پر قائم ہے اس سے رجعت کر کے اس تمدنی مرتبے پر واپس جانے کے خواہش مند ہیں جو عرب میں ساڑھے تیرہ سو برس پہلے تھا۔ اتباع رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و اصحابؓ کا یہ مفہوم سرے سے غلط ہے اور اکثر دین دار لوگ غلطی سے اس کا یہی مفہوم لیتے ہیں۔ ان کے نزدیک سلف صالح کی پیروی اس کا نام ہے کہ جیسا لباس وہ پہنتے تھے ویسا ہی ہم پہنیں جس قسم کے کھانے وہ کھاتے تھے اسی قسم کے کھانے ہم بھی کھائیں جیسا طرز معاشرت ان کے گھروں میں تھا بعینہٖ وہی طرز معاشرت ہمارے گھروں میں بھی ہو۔ تمدن و حضارت کی جو حالت ان کے عہد میں تھی اس کو ہم بلکل متحجر صورت میں قیامت تک باقی رکھنے کی کوشش کریں اور ہمارے اس ماحول سے باہر کی دنیا میں جو تغیرات واقع ہو رہے ہیں ان سب سے آنکھیں بند کر کے ہم اپنے دماغ اور اپنی زندگی کے اردگرد ایک حصار کھینچ لیں جس کی سرحد میں وقت کی حرکت اور زمانے کے تغیر کو داخل ہونے کی اجازت نہ ہو۔”
دراصل وقت کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق اسلامی تعلیمات کا یہ جدید نقشہ پیش کرنا ان مجددین کا کام ہے جو اسلام کی تشریح ان جدید علوم کی روشنی میں کر سکیں جو درحقیقت ہر عہد کے جدید علوم کے معیار پر عین پورا اترتی ہیں۔ مولانا مودودیؒ اس مد میں فرماتے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اتباع کا یہ تصور جو دور انحطاط کی کئی صدیوں سے دین دار مسلمانوں کے دماغوں پر مسلط رہا ہے درحقیقت روح اسلام کے بالکل منافی ہے کیونکہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو وقت کے تقاضوں کے مطابق ہمیشہ متحرک رہتا ہے۔
میرے رائے میں بھی اسلام کی یہ تعلیم ہرگز نہیں ہے کہ ہم جیتے جاگتے آثار قدیمہ بن کر رہیں اور اپنی زندگی کو قدیم تمدن کا ایک تاریخی ڈرامہ بنائے رکھیں۔ اسلامی فکر ہمیں رہبانیت اور قدامت پرستی نہیں سکھاتی ہے۔ اسلامی ضابطہ اور جدید تعلیمات کا مقصد دنیا میں ایک ایسی قوم پیدا کرنا نہیں ہے جو تغیر و ارتقا کی راہ میں رکاوٹ بن جائے، بلکہ اسلام کا مطلب و مقصود اس کے بالکل برعکس ہے اور اسلام مسلمانوں کو ایک ایسی قوم بنانا چاہتا ہے جو تغیر و ارتقا کو غلط راستوں سے پھیر کر صحیح راستے پر چلانے کی کوشش کرے یعنی جدید علوم کا حصول ممکن بنا کر خود بھی ترقی کرے اور دوسری اقوام کو بھی کروائے۔
دین اسلام میں "امامت” کا مفہوم دوسروں کے لیئے خیر کا باعث بننا ہے۔ ایک حدیث نبوی ﷺ کا مفہوم یہ ہے کہ، "تم میں سے بہترین انسان وہ ہے جو دوسروں کے لیئے منافع بخش ہو۔” اسلام کا اجتماعی درس بھی یہی ہے کہ جو امت کو قالب نہیں دیتا بلکہ روح دیتا ہے اور چاہتا ہے کہ زمان و مکان کے تغیرات سے زندگی کے جتنے بھی مختلف قالب قیامت تک پیدا ہوں ان سب میں امت مسلمہ یہی روح بھرتی چلی جائے۔ مسلمان ہونے کی حیثیت سے دنیا میں امت نبوی ﷺ کا مشن یہ ہے کہ مسلمان "امت خیر” بنے رہیں، جنہیں اس لیئے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ ارتقاء کے راستے پر چلیں اور اس سلسلے میں وہ دوسروں کی بھی امامت اور رہنمائی کرتے چلے جائیں۔
اسلامی تاریخ کامیاب جنگجوو’ں اور بے خوف سپہ سالاروں کی تاریخ ہے۔ انہوں نے جنگی میدانوں میں داد و شجاعت کے وہ جوہر دکھائے کہ عیسائی دنیا آج بھی مسلمان جہادیوں سے دبکتی ہے۔ خلیفہ دوئم حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا شمار اولین مسلم کمانڈروں میں ہوتا ہے، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ، "اگر دنیا میں ایک اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہو جاتے تو آج پوری دنیا پر مسلمانوں کی حکومت ہوتی۔” ان کے علاوہ جو مسلم فاتحین شہرت کے آسمان پر چمکے ان میں خالد بن ولید، محمد بن قاسم، طارق بن زیاد، یوسف بن تاشقین اور صلاح الدین ایوبی وغیرہ سرفہرست ہیں۔ یوسف بن تاشقین پر اس سے پہلے ایک اظہاریہ لکھا تھا جسے قارئین نے بہت پسند کیا. آج کی تحریر میں مختصرا ان دیگر مسلم فاتحین میں سے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالٰی عنہ کی بہادری اور فتوحات کا جائزہ لیتے ہیں جنہوں نے جہادی معرکوں میں کارہائے نمایاں سر انجام دیئے۔
ابتدائے اسلام میں خالد بن ولید نے مسلمانوں کی فتوحات کا دبنگ آغاز کیا۔ خالد بن ولید رضی اللہ تعالٰی عنہ صدر اسلام کے جنگی افسروں میں سے ایک تھے جنہوں نے اسلام قبول کرنے سے قبل بدر، احد اور احزاب کی جنگوں میں مسلمانوں کے خلاف حصہ لیا اور فتح مکہ سے قبل اسلام قبول کیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد، انہوں نے جنگ موتہ، فتح مکہ، اور جنگ حنین میں بہادری کے جوہر دکھائے۔
خالد بن ولید عرب کے نامور سپہ سالار اور صحابی رسول حضرت محمد ﷺ تھے۔ حضرت خالد بن ولید ابن مغیرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ خاندان قریش کے بہت ہی نامور اشراف میں سے تھے۔ ان کی والدہ حضرت بی بی لبابۂ صغری رضی اللہ تعالیٰ عنہا ام المؤمنین حضرت بی بی میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بہن تھیں۔ آپ بہادری اور فن سپہ گری و تدابیر جنگ کے اعتبار سے تمام صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں ایک خصوصی امتیاز رکھتے تھے۔ اسلام قبول کرنے سے پہلے ان کی اور ان کے باپ ولید کی اسلام دشمنی مشہور تھی۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ بدر اور جنگ احد کی لڑائیوں میں یہ کفار کے ساتھ تھے اور ان سے مسلمانوں کو بہت زیادہ جانی نقصان پہنچا مگر ناگہاں ان کے دل میں اسلام کی صداقت کا ایسا آفتاب طلوع ہوا کہ 7 ہجری میں یہ خود بخود مکہ سے مدینہ جا کر دربار رسالت ﷺ میں حاضر ہو گئے اور دامن اسلام میں آ گئے۔
صلح حدیبیہ کو اللہ تعالیٰ نے ’’فتح مبین‘‘ قرار دیا ہے، لیکن یہ اجسام کی نہیں قلوب کی فتح و تسخیر کا معاملہ تھا. اس مرحلہ پر اسلام کو اپنی دعوت کی اشاعت کے لئے امن درکار تھا جو اس صلح سے حاصل ہو گیا. دعوتِ توحید کی وسعت کو دیکھ کر خود قریش یہ سمجھنے لگے تھے کہ یہ ہماری شکست اور جناب محمد رسول اللہ ﷺ کی فتح ہے. صلح حدیبیہ سے قبل قریش اور اہل ایمان کے مابین ہونے والے معرکوں میں قریش کی صفوں میں ایک جنگجو اور باصلاحیت شہسوار کی حیثیت سے خالد بن ولیدؓ کا نام ممتاز نظر آتا تھا. جنگ کے دوران گھڑ سوار دستوں کی قیادت انہی کے سپرد رہتی تھی. غزوۂ احد کے موقع پر ان ہی کی تدبیر سے قریش کی شکست فتح میں بدل گئی تھی اور مسلمانوں کو شدید نقصان اٹھانا پڑا تھا. حدیبیہ کے موقع پر بھی قریش نے گھڑ سواروں کا ایک دستہ ان کی زیر کمان نبی اکرمﷺ کا راستہ روکنے کے لئے بھیجا تھا. آپ ﷺ کو اطلاع مل گئی اور آپ ﷺ نے راستہ بدل لیا، ورنہ خالد بن ولیدؓ تو حضور ﷺ کا راستہ روکنے کے لئے رابغ سے بھی آگے نکل گئے تھے. حضورﷺ نے مسلمانوں کے ساتھ حدیبیہ کے مقام پر قیام کیا. صحابہ کرام ؓ نے جگہ جگہ پڑاؤ ڈال رکھے تھے. خالد بن ولید ؓ کو جب پتہ چلا تو وہ بھی اپنے گھڑ سواروں کے دستہ کے ساتھ پلٹ کر حدیبیہ پہنچ گئے.
یہاں پہنچ کر خالد بن ولیدؓ کی طرف سے ایک انوکھے طرز عمل کا مظاہرہ ہوا. یہ ایک ایسے پڑاؤ پر پہنچ گئے جہاں صحابہ کرامؓ میں سے دو اڑھائی سو کی نفری فروکش تھی. خالد بن ولید ؓ نے انتہائی کوشش کی کہ کسی طرح یہ اہل ایمان مشتعل ہو جائیں اور کسی مسلمان کا ایک مرتبہ ذرا ہاتھ اُٹھ جائے. قریش کی کچھ روایات تھیں جن سے انحراف خالدؓ بن ولید کے لئے ممکن نہ تھا. چونکہ نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ احرام کی حالت میں تھے اور ان کی قدیم روایات چلی آ رہی تھیں کہ مُحرِم پر ہاتھ نہ اٹھایا جائے، اس لئے خالد بن ولیدؓ جنگ کی پہل نہیں کرنا چاہتے تھے. لیکن انہوں نے اشتعال انگیزی کی حتی الامکان کوشش کی. وہ اپنے گھوڑے لے کر بار بار صحابہ ؓ کی اس جماعت پر ایسے چڑھ چڑھ کر آئے جیسے ان کو گھوڑوں کے سموں سے کچل دیں گے. انہوں نے کئی بار اس عمل کو دہرایا، لیکن جو حکم تھا جناب محمد رسول اللہ ﷺ کا صحابہ کرام ؓ اس پر کار بند رہے. نہ کوئی ہراساں ہوا، نہ کوئی بھاگا اور نہ ہی کسی نے مدافعت کے لئے ہاتھ اٹھایا. نظم و ضبط کے اس مشاہدہ کا خالد بن ولیدؓ پر اتنا گہرا اثر ہو چکا تھا کہ وہ زیادہ دیر تک مزاحمت نہیں کر سکے اور ان کا گھائل دل بالآخر مُسَخّر ہو گیا، جس کا ظہور صلح حدیبیہ کے بعد ہوا اور وہ مشرف بہ ایمان ہونے کے لئے عازمِ مدینہ ہوئے.
حضرت خالد بن ولیدؓ جب سوئے مدینہ چلے تو راستہ میں حضرت عمرو بن العاصؓ مل گئے جو قریش کے ایک اعلیٰ مدبر، شجاع و دلیر اور فنون حرب کے بہت ماہر تسلیم کئے جاتے تھے. یہی وہ صاحب تھے جن کو 5 ہجری نبوی میں حبشہ ہجرت کر جانے والے مہاجرین کی بازیابی کے لئے قریش نے سفیر بنا کر جناب نجاشی ؒ کے دربار میں حبشہ بھیجا تھا. حضرت خالدؓ نے دریافت کیا کہ کہاں کا قصد ہے؟ بولے اسلام قبول کرنے کے لئے مدینہ جا رہا ہوں. میرے دل نے تسلیم کر لیا ہے کہ محمد ﷺ اللہ کے رسول برحق ہیں اور اسلام اللہ کا نازل کردہ دین ہے. حضرت خالدؓ نے کہا اپنا بھی یہی حال ہے. چنانچہ قریش کے یہ دونوں مایہ ناز اور جلیل القدر فرزند بارگاہِ نبوی (علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) میں حاضر ہوئے اور دولت ایمان سے مشرف ہوئے.
اس طرح وہ جوہر جو اُس وقت تک اسلام کی مخالفت میں صرف ہو رہا تھا، اب اسلام کی محبت اور اس کی اشاعت و توسیع میں صرف ہونے لگا. حضرت خالد بن ولیدؓ اور حضرت عمرو بن العاص ؓ نے دورِ نبوت اور بعد ازاں دورِ خلافت صدیقی و فاروقی میں وہ کارہائے نمایاں انجام دئیے کہ رہتی دنیا تک بھلائے نہیں جا سکتے. اول الذکر کا دنیا کے عظیم ترین جرنیلوں میں شمار ہوتا ہے. دورِ صدیقی میں فتنہ ارتداد کی سرکوبی میں انہوں نے ہی فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا. اسی طرح کسریٰ پر ابتدائی کاری ضرب انہیؓ کے ہاتھوں لگی اور انہیؓ کے ہاتھوں قیصر کی سلطنت میں سے شام کا ملک اسلامی قلمرو میں شامل ہوا اور آخر الذکر مصر کے فاتح ہوئے. ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان دو عظیم انسانوں کا قبول اسلام دراصل صلح حدیبیہ ہی کے ثمرات کا مظہر تھا.
مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالٰی عنہ نے یہ عہد کر لیا کہ اب زندگی بھر میری تلوار کفار سے لڑنے کے لئے بے نیام رہے گی۔ چنانچہ اس کے بعد ہر جنگ میں انتہائی مجاہدانہ جاہ وجلال کے ساتھ کفار کے مقابلہ میں شمشیر بکف رہے۔ یہاں تک کہ 8 ہجری میں جنگ موتہ میں جب حضرت زید بن حارثہ و حضرت جعفر بن ابی طالب و حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم تینوں سپہ سالاروں نے یکے بعد دیگرے جام شہادت نوش کر لیا تو اسلامی فوج نے ان کو اپنا سپہ سالار منتخب کیا اور انھوں نے ایسی جاں بازی کے ساتھ جنگ کی کہ مسلمانوں کو "فتح مبین” حاصل ہو گئی۔ اسی موقع پر جب یہ جنگ میں مصروف تھے تو حضور اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ میں صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی ایک جماعت کے سامنے ان کو ”سیف اللہ” (اللہ کی تلوار) کے خطاب سے سرفراز فرمایا۔
امیرالمؤمنین حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں جب "فتنہ ارتداد” نے سر اٹھایا تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ان معرکوں میں بھی خصوصاً جنگ یمامہ میں مسلمان فوجوں کی سپہ سالاری کی ذمہ داری قبول کی اور ہر محاذ پر فتح حاصل کی۔ پھر امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کے دوران رومیوں کی جنگوں میں بھی انھوں نے اسلامی فوجوں کی کمان سنبھالی جس سے بہت زیادہ فتوحات حاصل ہوئیں۔ موتہ کی جنگ کے دوران، حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بازنطینیوں کے خلاف مسلم فوجوں کی قیادت کی۔ انھوں نے 629-630ء میں مکہ میں مسلمانوں کی فتح اور 630ء میں حنین کی جنگ کے دوران مسلم فوج کے تحت بدویوں کی قیادت کی۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالٰی عنہ کو نجد اور یمامہ میں کمانڈر مقرر کیا گیا تھا تاکہ ان عرب قبائل کو دبایا جائے جو نوزائیدہ مسلم ریاست کے مخالف تھے۔ اس مہم کا اختتام بالترتیب 632 میں جنگ بزاخہ اور 633ء میں یمامہ کی جنگ میں عرب باغی رہنماؤں طلیحہ بن خویلد اور مسیلمہ کذاب پر خالدبن ولید کی فتح پر ہوا۔
انھیں عام طور پر مورخین ابتدائی اسلامی دور کے سب سے تجربہ کار اور کامیاب ترین جرنیلوں میں سے ایک تصور کرتے ہیں۔ اسلامی روایت خالد بن ولید رضی اللہ تعالٰی عنہ کو ان کی جنگی حکمت عملیوں اور مسلمانوں کی فتوحات کی موثر قیادت کا سہرا دیتی ہے۔ ابو سلیمان خالد بن ولید رضی اللہ تعالٰی عنہ تاریخ کے ان چند فوجی کمانڈروں میں سے ایک ہیں جنھوں نے ساری زندگی جنگ میں شکست نہیں کھائی۔ خالد بن ولید رضی اللہ تعالٰی عنہ بازنطینی رومی سلطنت، فارسی ساسانی سلطنت اور ان کے اتحادیوں کی اعلیٰ افواج کے خلاف 100 سے زائد لڑائیوں میں ناقابل شکست رہے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ کے جسم پر 70 سے زیادہ زخموں کے نشان تھے۔ ان کی خواہش تھی کی انہیں میدان جنگ میں شہادت نصیب ہو لیکن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ چند دن بیمار رہ کر ان کا طبعی انتقال مدینہ منورہ (یا حمص) میں 22 ہجری کو ہوا۔