ریاست کا مشترکہ اسلامی بیانیہ کہاں ہے؟
کالم نگار انصار عباسی نے اپنے ایک مضمون مطبوعہ 09 فروری 2026ء میں پاکستان کے ایک بنیادی اور اہم ترین مذہبی مسئلے کی طرف توجہ دلائی۔ ان کے اظہاریہ کا عنوان "اسلام کو آؤٹ سورس کرنے کی غلطی”، تھا، جس میں انہوں نے اس حقیقت سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی کہ اس وقت ریاست کا اپنا کوئی واضح اور شفاف مذہبی بیانیہ نہیں ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ قیام پاکستان سے آج تک کسی بھی حکومت کی توجہ اس سنگین مسئلے کی طرف نہیں گئی ہے۔ کاش کہ ریاست کبھی یہ جاننے کی کوشش کرتی کہ پاکستان میں دین اسلام کا کونسا سرکاری فقہ یا مسلک رائج ہے؟ آج تک کسی بھی حکومت نے کبھی مشترکہ سرکاری مذہبی بیانیہ کا اعلان نہیں کیا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب تک دین اسلام کی تشریح و تعبیر پر مختلف مسالک اور فرقہ جات ہی کا قبضہ رہا ہے، جو دین اسلام کی تشریح و تعبیر اپنے ہی مذہبی عقائد اور مفادات کے تحت کرتے چلے آ رہے ہیں!
پاکستان بیورو آف شماریات کی 2023ء کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 6 لاکھ 403 مساجد اور 36 ہزار 331 دینی مدرسے ہیں۔ سینٹ کے 2024ء کے ایک اجلاس میں پیش کی گئی دستاویزات کے مطابق پاکستان میں رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 17ہزار 738 ہے جس میں رجسٹرڈ طلبا کی تعداد 22 لاکھ 49 ہزار 520 ہے۔ پنجاب میں 10ہزار 12رجسٹرڈ مدارس اور طلبا کی تعداد 6لاکھ 64ہزار 65 ہے۔ سندھ میں رجسٹرڈ مدارس 2416 ہیں اور طلبا کی تعداد 1لاکھ 88ہزار 182 ہے۔بلوچستان میں رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 575 اور طلبا کی تعداد 71ہزار 815 ہے۔ کے پی کے میں رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 4ہزار 5 اور طلبا کی کل تعداد 12لاکھ 83ہزار 24 ہے۔ آزاد کشمیر میں رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 445 اور طلبا کی تعداد 26ہزار 787 ہے۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 199اور طلبا کی تعداد 11ہزار 301 ہے۔
گلگت بلتستان میں رجسٹرڈ مدارس کی تعداد 86 اور طلبا کی تعداد 4ہزار 346 ہے۔ ان تمام دینی مدارس اور مساجد میں ہر جگہ اپنے اپنے فقے، مسلک اور فرقے کی تبلیغ اور ترویج کی جاتی ہے، جبکہ پاکستان بھر کے تعلیمی اداروں اور تقریبا ہر مسلمان گھر میں اپنے الگ شیعہ، سنی، دیوبندی، وہابی، اہل حدیث، منکرین حدیث، حنفی وغیرہ (اور ناجانے کیا کیا) مسلک، فقہ اور فرقہ جات وغیرہ کے مطابق اسلام پر قائم رہنے اور عبادات کرنے کا درس دیا جاتا ہے، حالانکہ یہ پرائیویٹ اور منقسم قسم کا مذہبی بیانیہ دین اسلام کی حقیقی روح کے بلکل منافی ہے کیونکہ قرآن پاک کی سورة آل عمران کی آیت نمبر 103 میں واشگاف الفاظ میں ارشاد ربانی ہے کہ، "تم سب (مسلمان) مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقوں (یعنی فرقوں اور مسالک وغیرہ) میں مت پڑو۔” جس کا مطلب و مفہوم یہ ہے کہ جدا جدا نہ ہو جاؤ جیسا کہ آج پورا پاکستان "دین اسلام” کی بجائے "زہر آلود مذہبیت” میں ڈوبا ہوا ہے۔ دین اسلام کی بھائی چارے، اتحاد اور اجتماعی فکر سے اس انحراف اور فرقہ واریت ہی کی وجہ سے پاکستان میں تسلسل کے ساتھ مذہبی منافرت پھیلی ہے جس کے نتیجے میں "خودکش” بم دھماکوں نے جنم لیا جس میں اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں واقع امام بارگاہ و مسجد خدیجۃ الکبریٰ میں 07فروری کو نماز جمعہ کے دوران ہونے والا افسوسناک خودکش بم دھماکہ بھی شامل ہے کہ جس میں 32 افراد جاں بحق اور 150 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔
اس سے قبل مذہبی جنونیت پر مبنی پاکستان میں صرف چند خودکش حملوں کا جائزہ لیں جن سے پورا ملک وقفے وقفے سے افسوس اور غم میں ڈوبتا رہا تو پتہ چلتا ہے کہ کس بے دردی سے مزہب کے نام پر ملک کو خون میں نہلایا جاتا رہا ہے۔ 4جولائی 2003ء کو کوئٹہ میں ایک امام بارگاہ میں دھماکہ ہوا جس میں 54افراد شہید ہوئے تھے۔ اس حملے میں خودکش حملہ آوروں کی تعداد 3 تھی۔ موجودہ حملہ میں خودکش حملہ آور دو تھے۔ 29فروری 2004ء کو راولپنڈی کے سیٹلائٹ ٹاؤن میں واقع ایک امام بارگاہ میں خودکش حملہ ہوا تھا جس میں خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا البتہ 3افراد زخمی ضرور ہوئے تھے۔ مئی 2004ء میں کراچی میں دہشت گردی کے اعتبار سے افسوسناک تھا جب 7مئی 2004ء کو ایک بار پھر امام بارگاہ حیدری اور 31 مئی 2004 کو امام بارگاہ علی رضا میں ظہر اور مغرب کی نمازوں کے دوران بم دھماکے ہوئے، یہ دونوں حملے بھی خودکش تھے۔ امام بارگاہ حیدری کے واقعے میں 24افراد شہید اور 100زخمی ہوئے تھے جبکہ امام بارگاہ علی رضا میں خودکش حملے میں 23افراد شہید اور 40زخمی ہوئے تھے۔ یکم اکتوبر 2004ء کو سیالکوٹ کی امام بارگاہ میں بھی خودکش حملہ ہوا تھا جس میں 25افراد ہلاک اور 50زخمی ہوئے تھے۔ جبکہ 27مئی 2005ء کو اسلام آباد میں بری امام کے مزار میں مجلس عزا کے دوران بم دھماکے میں 28افراد ہلاک اور 67زخمی ہوئے تھے۔ 30مئی 2005 کو کراچی میں امام بارگاہ مدینتہ العلم پر خودکش حملے کی کوشش کی گئی تھی جس میں پولیس اہلکار کی جانب سے حملہ آور کو امام بارگاہ کے باہر ہی روک دینے پر زیادہ جانی نقصان نہیں ہوا تھا لیکن اس حملے میں پھر بھی 3افراد شہید اور 23زخمی ہوئے تھے۔ ہنگو میں 9فروری 2006ء کو 10محرم کے جلوس میں خودکش حملہ ہوا جس میں 40افراد شہید اور 26زخمی ہوئے تھے،
اور اس کے بعد آج تک جتنے بھی خودکش حملے ہوئے ہیں ان میں زیادہ تر امام بارگاہوں کو نشانہ بنایا گیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک و مذہب دشمن عناصر پاکستان میں فرقہ واریت پھیلا کر خانہ جنگی کا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ آخر یہ کب تک ایسا ہوتا رہے گا؟ یہ واضح طور پر دہشتگردی ہے جس کا دین اسلام سے ہرگز کوئی تعلق نہیں ہے لیکن حیرت انگیز طور پر وطن عزیز کے مسالک نے مل کر ان انسانیت کش واقعات کی کبھی کھل کر مذمت کی ہے اور نہ ہی اس کے خلاف کبھی کوئی مشترکہ فتوی جاری کیا ہے۔ یہ محض ایک اور سانحہ ہی نہیں بلکہ واقعی ایک گہرا سوالیہ نشان بھی ہے۔ بقول انصار عباسی، "یہ سوال صرف سیکورٹی کی ناکامی کا نہیں بلکہ ریاستی سمت، فکری الجھن اور تاریخی غلطیوں کا ہے۔” اس مذہبی دہشت گردی کے ناسور کی وجہ سے لگ بھگ ایک لاکھ قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں۔
پاکستان کا سرکاری اور قومی نام "اسلامی جمہوریہ پاکستان” ہے جو "پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الا اللہ” کی اساس پر قائم ہوا۔ پاکستان کے آئین 1973ء میں بھی اسلام کو پاکستان کا سرکاری مذہب لکھا گیا ہے اور بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے فرمودات میں بھی پاکستان میں مسالک اور فرقہ پرستی کی ممانعت کی گئی ہے۔ قائدِاعظم فرقہ واریت، صوبائیت اور لسانی تعصب کے سخت مخالف تھے اور پاکستان کو ایک متحدہ قوم دیکھنا چاہتے تھے۔ انہوں نے 11 اگست 1947ء کی تاریخی تقریر میں واضح طور پر کہا تھا کہ پاکستان میں تمام شہری، چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب، فرقے یا عقیدے سے ہو، ریاست کے سامنے برابر ہیں اور انہیں مکمل مذہبی آزادی حاصل ہو گی۔ ان کا ماننا تھا کہ فرقہ واریت ملک کی بنیادوں کو کمزور کرتی ہے۔
ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ عمران خان کے دور حکومت میں 2021ء میں کے پی کے میں امام مسجد کی تنخواہوں کا آغاز کیا گیا۔ پنجاب کی وزیراعلی مریم نواز نے بھی کچھ عرصہ پہلے پنجاب کی 65 ہزار مساجد کے اماموں کے لئے وظیفہ مقرر کرنے کا اعلان کا تھا اور سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کو بھی یقینی بنانے کی ہدایت کی تھی۔ حکومت پنجاب نے آئمہ کرام کی ضروریات پوری کرنے کے لہے بھی باقاعدہ مالی مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ اس دوران سرکاری خطبہ جاری کرنے کو بھی زیر غور لایا گیا تھا لیکن ابھی تک اس معاملے میں کوئی مفصل پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ اس نوع کا سرکاری مذہبی بیانیہ تمام عرب ممالک میں رائج ہے جہاں فرقہ واریت نام کا کوئی ناسور پایا جاتا ہے اور نہ ہی پاکستان کی طرح مذہب کے نام پر کبھی خود کش بم دھماکوں جیسا کوئی واقعہ پیش آیا ہے۔
ممکن ہے کہ اس نوع کے دہشت گردی کے خودکش حملوں کے پیچھے امریکی مفادات کیلئے پاکستان کی طرف سے لڑی جانے والی جنگیں، افغانستان اور بھارت کی سازشیں وغیرہ کے عوامل شامل ہوں لیکن اس کی تلخ اور اصل حقیقت یہ ہے کہ ہم عقیدے کی بنیاد پر بطور مسلمان متحد امہ نہیں بن سکے ہیں۔ ریاست دہشت گردی کے مقابلےکے لیئے بارہا عسکری اقدامات اٹھا چکی ہے، آپریشنز ہوئے، دہشت گرد مارے گئے اور نیٹ ورکس توڑے گئے لیکن نتیجہ یہ نکلا ہے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے جاری یہ دہشت گردی آج بھی جوں کی توں قائم ہے۔ قرآن پاک ایک معصوم جان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے تو پھر ایک خودکش مذہبی بمبار بھلا جنت میں کیوں کر جا سکتا ہے۔ یہ صرف مذہبی انتہاء پسندی ہے جو دہشت گردوں کی "برین واشنگ” کر کے انہیں یہ اقدامات اٹھانے پر قائل کر لیتی ہے۔ دہشتگردی کا یہ ملک گیر سنگین مسئلہ صرف بندوق سے حل نہیں ہو گا۔ جتنے مرضی نیشنل ایکشن پلان بنا لیں جب تک دین اسلام کے عقائد اور تعلیمات کے مطابق تمام مسالک کو حکومت کے ایک "مشترکہ اسلامی بیانیہ” پر اکٹھا نہیں کیا جاتا ہے، یہ مسئلہ حل نہیں ہو گا۔
میرا بھی یہی خیال ہے کہ معاشرے میں مزہب کے نام پر پھیلے ان فرقوں کو اسلام کی من مرضی کی غیر منطقی اور غیر سائنسی تعبیر پیش کرنے کی اجازت دینا اسلام کو ریاستی سطح پر واقعی "آوٹ سورس” کرنے کے مترادف ہے۔ دین اسلام کو فرقہ پرستوں کے حوالے کرنا اسلام کی روح کو مسخ کرنے جیسا عمل ہے۔ اگر پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اور آئین پاکستان بھی واضح طور پر کہتا ہے کہ پاکستان اسلامی جمہوریہ ہے، جس کو قرآن و سنت کے مطابق چلایا جانا چاہیئے تو پھر عملی طور پر ریاست نے ہمیشہ سے دین اسلام سے یہ دوری کیوں قائم کر رکھی ہے؟ اس خلا کی وجہ سے پاکستان میں نہ صرف خودکش دہشت گردی نے جنم لیا ہے بلکہ اس سے پاکستان کو لبرل اور سیکولر بنانے پر بھی زور دیا جاتا رہا ہے یعنی لبرل بننے کے چکر میں اسلام ہی کو آؤٹ سورس کر دیا گیا ہے۔ یوں دین کی تشریح، تعلیم اور تبلیغ مکمل طور پر انہی گروہوں، فرقوں اور مفاد پرست عناصر کے ہاتھوں میں ہے۔ اسی آوٹ سورسنگ کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ دین اسلام کو ایک تو دنیا سے نکال کر آخرت تک محدود کیا گیا ہے دوسرا اس میں دہشت گردی جیسی لعنت کو بھی شامل کر دیا گیا ہے۔ آج اسلام کے نام پر مسلمان مسلمان کا دشمن ہے۔ ہر فرقہ دوسرے سے الگ تھلگ ایک اپنا ہی اسلام پیش کرتا ہے، ہر مذہبی گروہ نے اپنے نظریئے کو حق اور باقی سب کو باطل قرار دے رکھا ہے۔ حتی کہ ایک ہی شہر اور گاؤں میں ہر فرقے کی الگ مسجد ہے، یہ فلاں کی مسجد ہے اور وہ فلاں کی ہے، اور بعض فرقے تو اس قدر نفرت سے بھرے ہوئے ہیں کہ دوسرے کی مسجد میں داخل ہونے والے کو دائرہ اسلام ہی سے خارج قرار دینے سے باز نہیں آتے ہیں۔ پاکستان میں کافر کافر کے یہ فتوے کب تک دیئے جاتے رہیں گے؟ یہ صورتحال نہ صرف مذہبی انتشار اور نفرت کو جنم دیتی ہے بلکہ خودکش دہشت گردی جیسی انتہاپسندی کے لیئے بھی زمین ہموار کرتی ہے۔
اگر ریاست کا اپنا کوئی اسلامی بیانیہ نہیں ہے تو پھر یہ دینی مدارس اور ان کے طلباء ہی وہ کھیپ ہیں جو اس خلا کو یونہی پر کرتے رہیں گے۔ دین اسلام کو اس طرح چوں چوں کا مربہ نہیں بنایا جانا چایئے۔ حکومت اپنے اسلامی بیانیہ کی کوئی رٹ قائم نہیں کرتی تو یہ دہشت گردی پہلے ختم ہوئی اور نہ کبھی آئیندہ ختم ہو گی۔ ہمارے پیارے ملک میں مدت سے جاری دہشت گردی کی فکری جڑیں اسی خلا میں پنپ رہی ہیں جسے ان غیر اسلامی فرقوں کی بجائے حکومت کو پر کرنا چایئے۔ نوجوان نسل کی ذہنی زمین میں ماحول جو بیج بوئے گا وہی پھلے پھولے گا۔ اگر ان کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ ریاست کا متفقہ، مستند اور ذمہ دار اسلامی بیانیہ کیا ہے، تو وہ آسانی سے کسی بھی شدت پسند نعرے کے ہتھے چڑھ سکتی ہے۔ انصار عباسی صاحب لکھتے ہیں، "یہ صرف مدرسوں کا مسئلہ نہیں، یہ پورے معاشرتی بیانیے کا مسئلہ ہے۔” ریاست کو اپنا اسلامی بیانیہ قائم کرنے کا فریضہ فوری طور پر انجام دینا چایئے۔ "دیر آید درست آید” ریاست کو پاکستان کے قیام اور آئین پاکستان کا لحاظ رکھتے ہوئے یہ کام کرنے میں دیر نہیں کرنی چایئے۔ ریاست کا خود کو دینی تعلیم، خطباتِ جمعہ، مدارس، مساجد اور گھروں میں قائم مذہبی نظام سے یوں علیحدہ رکھنے کا چلن درست نہیں ہے، اسے اپنی سوچ کو بدلنا ہو گا ورنہ معصوم جانوں کا خون یونہی بہتا رہے گا۔
سورہ مائدہ 5:32 میں ارشاد باری تعالی ہے کہ “جس نے ایک انسان کو ناحق قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔” نبی مکرم ﷺ نے فرمایا: “مسلمان کا خون، مال اور عزت ایک دوسرے پر حرام ہیں”
(صحیح مسلم)۔ “دنیا کی تباہی اللہ کے نزدیک اس سے ہلکی ہے کہ کسی مسلمان کا خون ناحق بہایا جائے” (سنن نسائی)۔
Title Image by Ahmed Sabry from Pixabay

میں نے اردو زبان میں ایف سی کالج سے ماسٹر کیا، پاکستان میں 90 کی دہائی تک روزنامہ "خبریں: اور "نوائے وقت” میں فری لانس کالم لکھتا رہا۔ 1998 میں جب انگلینڈ گیا تو روزنامہ "اوصاف” میں سب ایڈیٹر تھا۔
روزنامہ "جنگ”، لندن ایڈیشن میں بھی لکھتا رہا، میری انگریزی زبان میں لندن سے موٹیویشنل اور فلاسفیکل مضامین کی ایک کتاب شائع ہوئی جس کی ہاؤس آف پارلیمنٹ، لندن میں 2001 میں افتتاحی تقریب ہوئی جس کی صدارت ایم پی چوہدری محمد سرور نے کی اور مہمان خصوصی پاکستان کی سفیر ڈاکٹر ملیحہ لودھی تھی۔
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |