Tag: اسلام

  • امن ہی اسلام ہے

    امن ہی اسلام ہے

    امن ہی اسلام ہے


    کہانی کار: سید حبدار قائم

    اٹک ضلع میں دو گاوں تھے جن کا نام غریبوال اور پڑی تھا دونوں کے درمیان ایک کرکٹ کا گراؤنڈ تھا یہی گراؤنڈ دونوں کے درمیان سرحد تھا گاوں کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ ملتے جلتے اور ایک دوسرے کی خوشی غمی میں شریک ہوتے رہتے تھے اسی طرح دن گزر رہے تھے لوگوں کا گھل مل کر رہنا سب کو اچھا لگ رہا تھا
    انہی دونوں گاؤں کے دو بچے جن کی دوستی دور دور تک مشہور تھی جن میں سے ایک کا نام وسیم تھا جب کہ دوسرے کا نام نعیم تھا لوگ پیار سے وسیم کو سیمی اور نعیم کو نیمی کہہ کر بلاتے تھے یہ دونوں بچے پنڈیگھیب کے ہائی سکول میں پڑھتے تھے دونوں کی ایک ہی کلاس تھی دونوں ایک ہی گاڑی پر جاتے تھے جب سکول میں تفریح ہوتی تھی تو دونوں اپنے اپنے کھانے کے ٹفن باہر لے آتے اور مل کر کھاتے تھے


    یوں ہی وقت تیزی سے گزر رہا تھا کہ غریبوال کے ایک جوان کی پڑی گاؤں کی ایک لڑکی سے شادی ہو گئی کچھ عرصہ کے بعد میاں بیوی میں جائیداد کے تنازع پر لڑائی ہو گئی اور دونوں میں طلاق تک نوبت جا پہنچی لڑکے والوں نے لڑکی والے خاندان کے ساتھ لڑائی شروع کر دی اور لڑکی والوں نے لڑکے کے خاندان سے لڑائی شروع کر دی تھی یہ لڑائی جنگ میں بدلنے والی تھی کہ نیمی اور سیمی کو پتہ چل گیا دونوں نے آپس میں طے کیا کہ وہ کسی قیمت پر قتل و غارت نہیں ہونے دیں گے کیوں کہ بعض شر پسند اس معاملے کو بہت ہوا دے رہے تھے اور اس معاملے کو گاؤں کی عزت کا معاملہ قرار دے رہے تھے صلح کے لیے کوئی بھی راضی نہیں تھا سیمی اور نیمی بہت پریشان تھے کہ کسی طرح لڑائی ٹل جاۓ
    دونوں گاوں کے لوگوں نے اتوار کے دن کرکٹ گراؤنڈ میں صبح دس بجے لڑائی کے لیے ایک دوسرے کو وقت دے دیا تا کہ فیصلہ بندوق کی نالی پر کیا جاۓ جو زندہ رہے وہ ہی حق پر ہو گا لیکن سیمی اور نیمی نے اس جہالت کا توڑ نکال لیا تھا دونوں نے اپنے گاوں کے سارے بچوں کو صبح نو بجے گراؤنڈ میں اکھٹا کر لیا اپنے اپنے گاؤں کے سامنے ان بچوں نے لمبی لمبی لائینیں بنا لی اور اپنی کتابیں لے کر کھڑے ہو گۓ انہوں نے طے کر لیا تھا کہ بڑوں کو ایک دوسرے تک نہیں پہنچنے دیں گے اور لڑائی کا وہ فیصلہ کریں گے کیوں کہ جب جہالت بڑھ جاۓ تو علم اور کتاب ہی فیصلہ کرتی ہے
    سیمی اور نیمی نے بچوں کو اچھی طرح سمجھا دیا تھا کہ اپنے بھائیوں اور بزرگوں کے سامنے کھڑے ہو جانا ہے اور انہیں اپنے پیارے آقا حضرت محمد صلى الله عليه واله وسلم کی یہ حدیث سنانی ہے کہ
    ”تمام مومن ایک جسم کی مانند ہیں اگر جسم کے ایک حصے میں تکلیف ہو جاۓ تو سارا جسم تکلیف محسوس کرتا ہے“
    جوں ہی صبح کے دس بجے تو غریبوال اور پڑی کے لوگ اپنے ہتھیار لے کر گراؤنڈ کی طرف چل پڑے لیکن وہ یہ دیکھ کر حیران ہو گۓ کہ گاوں کے سارے بچے ان کے سامنے ایک لائن میں کھڑے ہیں اگر وہ فائر کریں گے تو اپنے بچوں کو گولی لگے گی
    جب بچوں نے بڑوں کو دیکھا تو اونچی آواز میں کہا کہ آپ بزرگوں نے کیا یہ حدیث پاک سنی ہے تو بعض نے کہا کہ ہم نے سنی ہے اور بعض نے کہا کہ نہیں سنی ان کے جواب پر سیمی نے اپنے گاؤں اور نیمی نے اپنے گاؤں والوں سے کہا کہ آپ کیسے مسلمان ہیں جو کلمہ تو پڑھتے ہیں لیکن حضور صلى الله عليه واله وسلم کا حکم نہیں مانتے آپ لوگوں کو دوسروں کا درد کیوں محسوس نہیں ہوتا آپ بات کو بڑھا کر لڑائی پر اتر آۓ ہیں کیا ہمارے پیارے آقا حضرت محمد صلى الله عليه واله وسلم نے یہی حکم دیا تھا؟
    یہ سننا تھا ک لوگوں کے سر شرم سے جھک گۓ اور ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے اتنے میں چند بزرگوں نے کہا کہ ہم لوگ غلط سوچ رہے تھے ہمیں ہمارے بچوں نے فساد سے بچا لیا ہے چلو اب مل کر صلح کر لیتے ہیں کیوں کہ یہی ہمارے اللہ پاک اور اس کے حبیب صلى الله عليه واله وسلم کو پسند ہے اس طرح دونوں گاؤں کے لوگوں نے ایک دوسرے سے اپنے رویے کی معافی مانگی اور صلح کر لی لڑکی لڑکا جن کی طلاق ہونے والی تھی انہیں بھی ایکی دوسرے سے راضی کر لیا گیا


    پیارے بچو !
    سیمی اور نیمی کی وجہ سے دونوں گاؤں والوں نے آپس میں صلح کر لی اور دوبارہ شیر و شکر ہو گۓ
    ہمیں بھی چاہیے کہ ہمیشہ مل جل کر رہیں اور اپنے پیارے آقا حضرت محمد صلى الله عليه واله وسلم کا حکم مانیں
    سچ ہے فتنہ ڈالنے والا شیطان کا دوست ہوتا ہے اور صلح جوئی کرنے والا اللہ کا دوست ہوتا ہے
    سیمی اور نیمی نے اپنے علم سے دونوں گاؤں کی لڑائی روک دی اور محبت کا سبق دے کر امن قائم کیا کیوں کہ امن ہی اسلام ہے

    Title Image by Mohamed Hassan from Pixabay

  • الحاد کے خلاف دینی علوم کا سائنسی ابلاغ

    الحاد کے خلاف دینی علوم کا سائنسی ابلاغ

    الحاد کے خلاف دینی علوم کا سائنسی ابلاغ

    Dubai Naama

    ایک ایسا شخص جو نہ تو خدا کا قائل ہو اور نہ ہی اس کی صفات کو مانتا ہو ملحد یا دہریہ کہلاتا ہے۔ اس نظریہ حیات کو ماننے والے لوگ عموماً مادے کو غیر فانی اور متشکل تسلیم کرتے ہیں۔ اس کو سائنسی "قانون بقائے مادہ” نے بھی فروغ دیا جس کو 1789ء میں انتھونی لیووزئیر نے پیش کیا تھا، جس کے مطابق ایک کیمیائی عمل میں مادے یا حرارت کو پیدا کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی مکمل طور پر فنا کیا جا سکتا یے مگر انہیں مختلف شکلوں میں تبدیل ضرور کیا جا سکتا ہے۔ اس سائنسی قانون کی روشنی میں زمانہ ازلی اور ابدی ہے اور اس زندگی کے بعد کوئی دوسری زندگی نہیں ہو گی جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اس فلسفہ زندگی کو ماننے والے لوگ آخرت کے تصور یا حیات بعد از موت کو ماننے سے انکاری ہیں۔

    دراصل دہریت یا الحاد ایک مضبوط ترین سائنسی نظریہ حیات ہے جو دنیا بھر میں تیزی سے پھیل رہا ہے۔ افسوس ہے کہ اسلامسٹ جو معقولات کو محسوسات پر ترجیح دیتے ہیں وہ خود بھی دہریت اور الحاد کے پھیلنے کا باعث بن رہے ہیں۔ جدید سائنسی علوم سریعا کائنات اور زندگی کو تجربے اور قوانین کی بنیاد پر پرکھنے کے حاضرہ علوم ہیں۔ ممکن ہے کل کلاں سائنس سے کچھ بڑے علوم ایجاد ہو جائیں تو کائنات اور زندگی کی ساری تشریحات کو ازسر نو مرتب کرنا پڑے، مگر سردست سائنسی علوم ہی زندگی اور مابعد زندگی کو سمجھنے کا واحد ذریعہ ہیں۔

    اسلام ایک عالمگیر نظریہ حیات یے جو انسان کی تقدیر عمل صالح کی صورت میں انسان ہی کے ہاتھ میں دیتا ہے۔ دہریت اور الحاد کو اسلام کے مدمقابل نظام کے طور پر متعارف کروانا انتہائی خطرناک مسئلہ ہے جو کہ خدا کی ذات والا کے بارے ہے کہ کائنات کا خالق اور اسے چلانے والا خدا موجود بھی یے یا نہیں ہے۔ کاش ہمیں احساس ہو جائے کہ ہماری اگلی نسلوں کے لئے دہریت سے بڑا کوئی خطرہ موجود نہیں ہے۔

    یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ خلاف قرآن و سنت روایات دہریت کا ہمارے بچوں کے خلاف سب سے بڑا ہتھیار ہیں۔ اگر ہم نے قرآن اور اسلام کو جدید علوم کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش نہ کی تو سائنسی ترقی اور نئے نظام تعلیم نے "دہریت” و "الحاد” میں اتنی طاقت بھر دی ہے کہ وہ آہستہ آہستہ مسلم تہذیب ہی کو ہڑپ کر رہے ہیں۔

    ہمارے عہد کے مسلم مفکرین کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ان سائنسی علوم کی روشنی میں قرآن اور اسلام کے نظریہ حیات کو سمجھنے کی بجائے سرے سے اسلام اور سائنس ہی کو ایک دوسرے کے مخالف یا متضاد علوم سمجھتے ہیں جس کا فائدہ الحاد اور دہریت پر یقین رکھنے والوں کو ہو رہا ہے کہ جوں جوں سائنس اور ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے دنیا میں ملحدین اور دہریوں کی نہ صرف تعداد بڑھ رہی ہے بلکہ جدید سائنسی علوم پر دسترس رکھنے کی وجہ سے وہ دن بدن مزید طاقتور بھی ہو رہے ہیں۔

    الحاد کے خلاف دینی علوم کا سائنسی ابلاغ

    اس بنیادی مسئلے کو سمجھنے کے لیئے یہ جاننا ضروری ہے کہ الحاد یا دہریت کے ماننے والے خدا یا خالق کائنات کے وجود کا انکار کر کے زندگی کے تمام تقاضوں اور مسائل کو حل کرنے کے لیئے انسان کی حاصلہ طاقت پر یقین رکھتے ہیں جبکہ مسلمان اور کچھ دیگر پسماندہ اہل مذاہب اسے تقدیر کا نتیجہ قرار دیتے ہیں حالانکہ یہ ایک غیر منطقی سوچ ہے کیونکہ "خدا” اور "تقدیر” پر ایمان رکھنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ کائنات میں انسانی عظمت کی برتری کو قائم کرنے کے لیئے انسان کے اختیار اور ارادے کو سرے ہی سے نظر انداز کر دیا جائے۔

    اس لحاظ سے دہریت اور الحاد ایک قسم کا زہر ہے جو مسلم طلباء کے اذہان میں سائنسی علوم میں کم یا عدم دلچسپی کی وجہ سے داخل ہو رہا ہے۔ اسی وجہ سے ایک تو دنیا بھر کے مسلمان سائنس اور جدید علوم کے حصول میں پیچھے رہ گئے ہیں دوسرا وہ اس دہرے اور تذبذب پر مبنی "مائنڈ سیٹ” کی وجہ سے اسلام پر مکمل عمل کر کے ایک احسن انسانی معاشرہ بھی قائم نہیں کر سکے ہیں کہ دنیا مسلمانوں کی "شدت پسندی” کو نظر انداز کر کے ان کی طرف متوجہ ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت خود مسلمان ممالک الحاد اور دہریت کے حامل اہل مغرب کے معاشروں میں ضم ہونے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے ہیں۔ اس صورتحال میں اہل ثروت مسلمان مغربی ممالک کو ہجرت کرتے ہیں یا خود اپنے مشرقی معاشروں میں مغربی تہذیب کے پھیلنے کا رستہ ہموار کر رہے ہیں۔

    قرآن و سنت کی روشنی میں دہرہت و الحاد کا مقابلہ فقط جدید علوم کے حصول میں پوشیدہ ہے کیونکہ ایمان بالغیب کو عقل، فلسفہ اور منطق کی رو سے تلاش کرنے کا واحد حل قرآن کو جدید علوم کی روشنی میں سمجھنے سے وابستہ ہے ورنہ ایمان بھی ایمان نہیں رہتا کیونکہ ایمان بالغیب ایک فضیلت ہے جس کو حاصل ہے وہ خوش نصیب ہے اور جو محروم ہے اسے جدید سائنسی علوم کو حاصل کیئے بغیر ہم گھول کر پلا نہیں سکتے کیونکہ دین کا فقط ان علوم کی روشنی میں ابلاغ ہی کیا جا سکتا ہے۔

    "الحاد” کا لفظ عربی زبان کے لفظ "لحد” سے اِسمِ صفت کے طور پر نکلا ہے جس کے لغوی معنی "ایک طرف ہو جانے” یا "چھوڑ دینے” کے ہیں۔ انگریزی زبان میں اسے Unorthodoxy سے تعبیر کیا جا سکتا ہے یعنی اس کے معنی قدامت پرستی کو ترک کر دینے کے ہیں۔ جبکہ اسلامی اصطلاح میں "اِلحاد” کسی شخص یا گروہ کے معروف اور مروّج مذہبی روش سے کنارہ کر لینے کے معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ معروف اور مروّج مذہبی روش سے مراد وہ مسالکِ اسلامیہ ہیں جو عام مسلّمات کی حیثیت حاصل کر چکے ہیں جیسا کہ اہلِ سنت، اثنا عشریہ، خارجیت، سلفیت اور ظاہریت وغیرہ ہیں۔

    اِلحاد کو لغوی یا اصطلاحی اعتبار سے انگریزی زبان کی اصطلاح Atheism سے نہیں جوڑا جا سکتا چنانچہ اِس کے لیے ایک الگ سے اسلامی اصطلاح "دہریت” موجود ہے۔ یہ اِلحاد اور دہریت میں جوہری فرق ہے جسے سائنسی علوم کو حاصل کیئے بغیر سمجھا ہی نہیں جا سکتا ہے۔

  • تعلیم، آگہی و شعور

    تعلیم، آگہی و شعور

    تعلیم، آگہی و شعور

    از قلم
    فیصل جنجوعہ

    تعلیم ہر انسان چاہے وہ امیر ہو یا غریب ،مرد ہو یا عورت کی بنیادی ضرورت میں سے ایک ہے یہ انسان کا حق ہے جو کوئی اسے نہیں چھین سکتا اگر دیکھا جائے تو انسان اور حیوان میں فرق تعلیم ہی کی بدولت ہیں تعلیم کسی بھی قوم یا معاشرے کےلئے ترقی کی ضامن ہے یہی تعلیم قوموں کی ترقی اور زوال کی وجہ بنتی ہے تعلیم حاصل کرنے کا مطلب صرف سکول ،کالج یونیورسٹی سے کوئی ڈگری لینا نہیں بلکہ اسکے ساتھ تمیز اور تہذیب سیکھنا بھی شامل ہے تاکہ انسان اپنی معاشرتی روایات اور قتدار کا خیال رکھ سکے۔تعلیم وہ زیور ہے جو انسان کا کردار سنوراتی ہے دنیا میں اگر ہر چیز دیکھی جائے تو وہ بانٹنے سے گھٹتی ہے مگر تعلیم ایک ایسی دولت ہے جو بانٹنے سے گھٹتی نہیں بلکہ بڑھ جاتی ہے اور انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ تعلیم کی وجہ سے دیا گےا ہے تعلیم حاصل کرنا ہر مذہب میں جائز ہے اسلام میں تعلیم حاصل کرنا فرض کیا گے ہے۔

    آج کے اس پر آشوب اور تےز ترین دور میں تعلیم کی ضرورت بہت اہمیت کا حامل ہے چاہے زمانہ کتنا ہی ترقی کرلے۔حالانکہ آج کا دور کمپیوٹر کا دور ہے ایٹمی ترقی کا دور ہے سائنس اور صنعتی ترقی کا دور ہے مگر اسکولوں میں بنیادی عصری تعلیم ،ٹیکنیکل تعلیم،انجینئرنگ ،وکالت ،ڈاکٹری اور مختلف جدید علوم حاصل کرنا آج کے دور کا لازمی تقاضہ ہے جدید علوم تو ضروری ہیں ہی اسکے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی بھی اپنی جگہ اہمیت ہے اس کے ساتھ ساتھ انسان کو انسانیت سے دوستی کےلئے اخلاقی تعلیم بھی بے حد ضروری ہے اسی تعلیم کی وجہ سے زندگی میں خدا پرستی ،عبادت ،محبت خلوص،ایثار،خدمت خلق،وفاداری اور ہمدردی کے جذبات بیدار ہوتے ہیں اخلاقی تعلیم کی وجہ سے صالح او رنیک معاشرہ کی تشکیل ہوتی ہے۔

    تعلیم کی اولین مقصد ہمیشہ انسان کی ذہنی ،جسمانی او روحانی نشونما کرنا ہے تعلیم حصول کےلئے قابل اساتذہ بھے بے حد ضروری ہیں جوبچوں کو اعلٰی تعلیم کے حصوص میں مدد فراہم کرتے ہیں استاد وہ نہیں جو محض چار کتابیں پڑھا کر اور کچھ کلاسسز لے کر اپنے فرائض سے مبرا ہوجائے بلکہ استاد وہ ہے جو طلب و طالبات کی خفیہ صلاحیتوں کو بیدار کوتا ہے اور انہیں شعور و ادراک ،علم و آگہی نیز فکر و نظر کی دولت سے اپنے شاگرہ کو مالا مال کرتا ہے جن اساتذہ نے اپنی اس ذمہ داری کو بہتر طریقے سے پورا کیا ،ان کی شاگرد آخری سائنس تک ان کے احسان مند رہتے ہیں اس تناظر میں اگر آج کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوگا کہ پیشہ تدریس کو آلودہ کردیا گے ہے محکمہ تعلیمات اور اسکول انتظامیہ اور معاشرہ بھی ان چار کتابوں پر قانع ہوگے۔ کل تک حصول علم کا مقصد تعمیر انسانی تھاآج نمبرات اور مارک شیٹ پر ہے آج کی تعلیم صرف اسلیئے حاصل کی جاتی ہے تاکہ اچھی نوکری مل سکے یہ بات کتنی حد تک سچ ہے اسکا اندازہ آج کل کی تعلیمی ماحول سے لگایا جاسکتا ہے جیسے بچوں کا صرف امتحان میں پاس ہونے کی حد تک اسباق کارٹنا ہے بدقسمتی اس بات کی بھی ہے کچھ ایسے عناصر بھی تعلیم کے دشمن ہوئے ہیں جو اپنی خواہشات کی تکمیل کےلئے ہمارے تعلیمی نظم کے درمیان ایسی کشمکش کا آغاز کررکھا ہے جس نے رسوائی کے علاقہ شاید ہی کچھ عنایت کیاہومگر پھر بھی جس طرح بیرونی دنیا کے لوگ تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اسطرح مسلمان بھی کبھی جدید تعلیم سے دور نہیں رہے بلکہ جدید زمانے کے جتنے بھی علوم ہیں زیادہ ترکے بانی مسلمان ہی ہیں اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے تعلیم و تربیت میں معراج پاکر دین و دنیا میں سربلندی اور ترقی حاصل کی لیکن جب بھی مسلمان علم اور تعلیم سے دور ہوئے وہ غلام بنالیئے گئے یا پھر جب بھی انہوں نے تعلیم کے مواقعوں سے خود کو محروم کیا وہ بحیثیت قوم اپنی شناخت کھو بیٹھے آج پاکستان میں تعلیم ادارے دہشت گردی کے نشانہ پر ہیں دشمن طاقتیں تعلیم کی طرف سے بدگمان کرکے ملک کو کمزور کرنے کے درپہ ہیں ایسے عناصر بھی ملک میں موجود ہے جو اپنی سرداری ،چوہدراہٹ ،جاگیرداری کو استعمال کرتے ہوئے اپنے مفادات کی وجہ سے اپنے اثر و رسوخ والے علاقوں میں بچوں کی تعلیم میں روکاوٹ بنے ہوئے ہیں جسکی وجہ سے اکثر بچے تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں اوران کا مستقبل سیاہ رہ جاتا ہے اوراسی وجہ سے ہمارے نوجوان طبقہ تعلیم کی ریس میں پچھے رہ جاتی ہے مغرب کی ترقی کا راز صرف تعلیم کو اہمیت دنیا اور تعلیم حاصل کرنے کےلئے ہر ممکن کوشش کرنا ہے اورایسی تعلیم کے بل پر انہوں نے فتح کیا ہے مغرب کی کامیابی اور مشرقی کے زوال کی وجہ بھی تعلیم کا نہ ہونا ہے دنیا کے وہ ملک جن کی معیشت تباہ ہوچکی ہے جو دنیا کی بڑی طاقتوں پر depandکرتے ہیں ان کا defenseبجٹ تو اربوں روپے کا ہپے مگر تعلیم بجٹ نہ ہونے کے برابر ہے ،اگر کوئی بھی ملک چاہتا ہے کہ وہ ترقی کرے تو ان کو چاہیے کہ وہ اپنی تعلیمی اداروں کو مضبوط کریں آج تک جن قوموں نے ترقی کی ہے وہ صرف علم کی بدولت کی ہے علم کی اہمیت سے صرف نظر کرنا ممکن نہیں۔زمانہ قدیم سے دور حاضر تک ہر متمدن و مہذب معاشرہ علم کی اہمیت سے واقف ہے فطرت بشری سے مطابقت کی بناپر اسلام نے بھی علم حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

    اس کے ابتدائی آثار ہمیں اسلام کے عہد مبارک میں ملتے ہیں چنانچہ عزوہ بدر کے قیدیوں کی رہائی کےلئے فدیہ کی رقم مقرر کی گئی تھی ان میں سے جو نادار تھے وہ بلا معاوضہ ہی چھوڑ دیئے گئے لیکن جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے انہیں حکم ہوا کہ دس دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں تو چھوڑ دیئے جائیں گے ۔چنانچہ سیدنا زید بن ثابت ؓ نے جوکاتب وحی تھے ایسی طرح لکھنا سیکھا تھا اسی بات سے ہم اندازہ لگاسکتے ہے کہ تعلیم کی کیا اہمیت ہے اوران کا حصول کتنی ضروری ہے۔جو لوگ معاشرے میں تعلیم حاصل کرتے ہوں وہ دینی ہو یا دنیاوی اس انسان کا معاشرہ کے اندر اور اپنے گھر کے اندر ایک الگ مقام ہوتا ہے ایک نوجوان بچے کا قدر بزرگ لوگ صرف تعلیم کی وجہ سے کرتے ہے توہمیں چاہیے کہ تعلیم حاصل کریں اور اس کا صیح استعمال کریں اور اگر ایسا ممکن ہوا تو وہ دن دور نہیں کہ ہم دنیا کے ان ملکوں میں شمار ہونا شروع ہوجائے گا جو جدید علوم سے آگاہی رکھتے ہیں

    تعلیم، آگہی و شعور

    Title Image by 1tamara2 from Pixabay

  • انسانی ترقی میں بڑے دماغوں کا کردار

    انسانی ترقی میں بڑے دماغوں کا کردار

    انسانی ترقی میں بڑے دماغوں کا کردار

    Dubai Naama

انسانی ترقی میں بڑے دماغوں کا کردار

    قدیم یونان کا مشہور خبطی فلسفی دیو جانسن کلبی خود کو ایتھنز کی بجائے پوری دنیا کا شہری مانتا تھا۔ کیا دنیا میں سرحدیں کبھی ختم ہو سکیں گی؟ اصل میں تو انسان ایک آدم کی اولاد ہے اور ایک ہی خاندان اور حسب و نسب سے جڑا ہوا ہے۔ لیکن ساری دنیا کے شہری بھلا ایک جیسے مساوی حقوق کے حامل کیسے ہو سکتے ہیں؟ یہ مخبوط الحواس فلسفی جانسن کلبی ہی تھا جس نے ملکوں اور سرحدوں کے فلسفہ کو رد کرتے ہوئے دنیا کو پہلی بار عالمگیریت (Universalism) کے تصور سے متعارف کروایا تھا۔ جانسن کلبی کی عادات اور نظریات ایسے تھے کہ وہ آج زندہ ہوتا تو حکومت اسے "پاگل” قرار دے کر کسی جیل میں بند کر دیتی۔ حالانکہ ایتھنز بھی ایک پولیس سٹیٹ تھی مگر جانسن کلبی کو مکمل آزادی تھی کہ وہ جہاں چاہے گلی گلی میں اپنا کتا ساتھ لے کر گھوم پھر سکتا تھا۔ یہ ننگ دھڑنگ فلسفی اپنے کتے اور چراغ کو لے کر دن دہاڑے ایتھنز کی گلیوں میں نکلتا، سیانے لوگ اسے دیکھتے تو ہنستے اور پوچھتے: "ارے نادان، دن کی روشنی میں چراغ لے کر کیا ڈھونڈ رہے ہو؟” اس پر دیو جانس ہنستا اور کہتا، "روشنی کہاں ہے ہر طرف تو اندھیرا ہے۔”

    آج دنیا واقعی ایک "عالمی گاؤں” (Global Village) بن چکی ہے اور فاصلے تو ختم ہو گئے ہیں مگر اندھیرا ہے کہ مسلسل بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ علم کے فروغ کے باوجود جہالت یے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور دورہ ہے مگر ہر دل میں مادیت، تعصب اور نفرت بھرتی جا رہی ہے۔ آپ مہینوں اور سالوں کی محنت اور خون پسینے سے تعمیرات کرتے ہیں اور پھر پل بھر میں انہیں جہازوں اور بمبوں سے اڑا دیتے ہیں۔ اس سنکی یونانی فلاسفر نے یہ بات 3500 سال پہلے کہی جسے وہ سالہا سال تک روزانہ دہراتا رہا۔ اس کی بات پر کسی نے توجہ نہیں دی اور آج انسان اپنے ہی بنائے ہوئے ہتھیاروں کی بھٹی میں جل رہا ہے۔ ایک دن اسی جانسن کلبی نے گڈرئیے کو ہاتھ کی انگلیوں سے پیالہ بنا کر پانی پیتے دیکھا تھا تو اس نے اپنا پیالہ پھینک کر توڑ دیا اور کہا تھا: "جو افعال فطرت سے ہم آہنگ ہوں وه غیر اخلاقی یا گناه کبھی نہیں ہو سکتے۔”

    یہ ان دنوں کی بات ہے جب کلاسیکی ایتھنز فنون لطیفہ اور فلسفہ سیکھنے کی افلاطون کی اکادمی اور ارسطو کی لیکیون (لائسیم) کا گھر بھی تھا۔ ایتھنز کی اسی زرخیز زمین پر سقراط، افلاطون، پیری کلیز، ارسطوفینں، سوفوکلیز، اور قدیم دنیا کے بہت سے دوسرے ممتاز فلسفی، ادیب اور سیاست دان پیدا ہوئے۔
    پوری دنیا کی دانش و حکمت پر قدیم یونانی تہذیب و فلسفہ کی چھاپ آج بھی بدرجہ اتم نظر آتی ہے اور دنیا کا کوئی ایک بھی ایسا فکر و فلسفہ نہیں ہے جس نے قدیم یونان (ایتھنز) کے فلسفیوں کے نظریات سے استفادہ نہ کیا ہو۔

    سکندر اعظم مقدونیہ سے پوری دنیا کو فتح کرنے کا خواب لے کر نکلا تھا جس کا استاد ایتھنز ہی کا عظیم الشان فلسفی ارسطو تھا۔ کہتے ہیں کہ سکندر اعظم ملک و ملک فتح کرتے کرتے پاکستان کے علاقے جہلم تک پہنچ گیا تھا۔ دنیا آج بھی سکندر اعظم کو "الیگزینڈر دی گریٹ” (Alexander The Great) کہتی ہے۔ اگر سکندر اعظم کا استاد قدیم یونان کا مشہور فلسفی ارسطو نہ ہوتا تو شائد سکندر کبھی بھی "سکندر اعظم” نہ بن پاتا۔ سکندر اعظم اور اہل یونان کو یہ علمی عروج بخشنے والے یہی بڑے دماغ تھے جنہوں نے عوام اور خواص کے دماغوں میں علم کا نور روشن کیا اور انہیں بتایا کہ دنیا پر حکمرانی کرنے کے آداب کیا ہیں۔

    اسلام اور مسلمانوں کے ابتدائی عروج میں بھی علم و فلسفہ کا بنیادی کردار رہا جب انہوں نے قرآن عظیم جیسی الہامی کتاب کو اپنی عملی زندگیوں کا حصہ بنایا اور بعد میں آنے والے مسلم حکمرانوں بنو امیہ، بنو عباس اور عثمانیوں نے امام غزالی، عبدالرحمن الخازن، جابر بن حیان، ابن سینہ، ابن الہشیم، البیرونی، ابن رشد، نصیرالدین طوسی اور ابن خلدون جیسے مشہور اور بڑے دماغوں کی سرپرستی کی جو حکمت اور دانائی کے موتی پھیلانے میں اپنی مثال آپ تھے۔

    ہر عظیم قوم اپنی ترقی کا انحصار بڑے دماغوں پر کرتی ہے۔ یورپ کا سائنسی انقلاب بھی اسی وقت برپا ہوا جب ان ممالک میں فلسفیوں اور سائنس دانوں کی صورت میں جان لاک، ہیگل، کارل مارکس، ولیم جیمس، برٹرینڈ رسل، گیلیلیو، آئیزک نیوٹن، کوپرنکس، فیراڈے، میری کیوری، البرٹ آئن سٹائن، تھامس ہارڈی اور سٹیفن ہاکنگ وغیرہ جیسے بڑے دماغ پیدا ہوئے جو یورپ کی تحریک احیائے علوم (Renaissance Momvement) کے برپا ہونے کا سبب بنے۔ مسلم دنیا اور مغربی ممالک میں جب ان جیسے دوسرے بڑے دماغوں پر زندگی تنگ کی گئی تو دونوں قومیں زوال کا شکار ہوئیں اور جب ان کی حوصلہ افزائی کی گئی تو انہوں نے ترقی کی۔ عثمانیہ دور کے آخری خلفاء نے چھاپہ خانہ پر 100 سال تک پابندی لگائے رکھی۔ حتی کہ چھاپہ خانہ سے پہلا قرآن کا نسخہ کسی مسلمان ملک سے نہیں بلکہ کیمونسٹ ملک روس سے چھپا تھا۔ اسی طرح جب انگلینڈ میں پاپائیت کا زور تھا اور برونو جیسے سائنس دانوں کو تیل کے گرم کڑاہوں میں جلایا جا رہا تھا تو اس عہد کو "یورپ کا تاریک دور” کہا گیا۔ یہاں تک کہ برصغیر میں جب مغلیہ شہنشاہوں کو علم و ادب سے دلچسپی نہ رہی اور عیش و عشرت کی زندگی میں پڑے تو اہل مغرب نے کیمبرج اور آکسفورڈ جیسی عظیم یونیورسٹیاں بنائیں، بندوق، توپ اور گن پاؤڈر جیسی سائنسی ایجادات کیں، جن کے بل بوتے پر وہ برصغیر پاک و ہند پر قابض ہوئے اور وہاں سو سال سے زیادہ عرصہ تک شاندار حکومت کرنے میں کامیاب رہے۔

    پاکستان کے قیام میں قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال جیسے بڑے دماغ شامل تھے۔ چین پاکستان کے دو سال بعد سنہ 1949ء میں آزاد ہوا جس کی تیزی سے ترقی کرنے کے پیچھے بھی عظیم فلاسفر کنفیوشس (Confucius) کے نظریات شامل ہیں۔ جبکہ آج دنیا جتنی بھی سائنسی ترقی کر رہی ہے اس کو مہمیز دینے میں بھی یورپ میں واقع دنیا کی سب سے بڑی لیبارٹری سرن (CERN) اور امریکی خلائی ادارہ ناسا (NASA) کے سائنس دانوں کا ہاتھ ہے۔

  • تاآنکہ نظام حکومت نہیں بدلا جاتا

    تاآنکہ نظام حکومت نہیں بدلا جاتا

    تاآنکہ نظام حکومت نہیں بدلا جاتا

    Dubai Naama

تاآنکہ نظام حکومت نہیں بدلا جاتا

    رائج نظام سے قوم و ملک کے لیئے خیر کا دریا بہہ نکلنے کی امید رکھنے والے لوگ بھولے بادشاہ ہی نہیں بلکہ وہ ‘مہا بادشاہ’ بھی ہیں۔ یہ ایک ایسی میٹھی سرائیکی زبان کے محاورہ کہ "تسی وی بادشاہ او” کی مانند ہے تو محض ایک مثال کہ جس میں ایک بے وقوف شخص کو "بادشاہ” کہا گیا ہے۔ لیکن ہمارے ملک کے نظام حکومت کی مہا جمہوریت کا کچھ ایسا ہی حال ہے کہ یہ جب سے بحال ہوئی ہے خود بادشاہ کہلانے کی بجائے اس نے الٹا پورے ملک کی عوام کو بادشاہ بنا رکھا ہے۔

    جمہوریت مغربی ممالک کے سیکولر اور لبرل فلسفہ ہائے زندگی کا ایسا منطقی اور قدرتی نتیجہ ہے کہ جس میں عوام کے اکثریتی فیصلے ہی کو نظام حکومت کی آخری سچائی تسلیم کیا جاتا ہے۔ ہم مسلمان اپنے ایمان اور عقیدے کے مطابق دنیا کو حقیقی زندگی تسلیم نہیں کرتے ہیں۔ اسلام کے مطابق دنیا آخرت کی کھیتی ہے اور ہم سب مسلمان اپنے اپنے اعمال کے لیئے اللہ کے سامنے جواب دہ ہیں۔ ہمارا انداز زندگی ایپیکیورئین ماٹو آف لائف (Epicurean Motto Of Life) کی طرح مکمل طور پر آزادانہ نہیں ہے کہ "کھاو’ پیو اور عیش کرو”۔ جیسا کہ مسلم مغل بادشاہ کا ایک قول ہے کہ "بابر بعیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست”۔ ہم مسلمانوں کی اصل زندگی تو شروع ہی آخرت میں ہوتی ہے تو پھر عوامی اکثریت کو فیصلہ کن حیثیت کیسے حاصل ہو سکتی ہے؟

    دوسری جانب اسلامی دنیا کے کسی بھی ملک میں جمہوریت کبھی کامیاب نظام حکومت کے طور پر رائج نہیں رہی ہے۔ ہم مسلمانوں کی کامیاب حکومتوں میں ہمیشہ "نظام خلافت” کا کردار نمایاں رہا ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وصال کے بعد پہلے چار خلفائے راشدین نے "خلافت” کو دنیا کے بہترین نظام حکومت کے طور پر رائج کیا، بنو امیہ اور بنو عباس کے حکمران "خلیفہ” کہلاتے تھے، عثمانیہ سلطنت کے فرمانروا بھی خود کو خلیفہ کہتے تھے۔ برصغیر پاک و ہند کے مغلیہ مسلم حکمران بھی خود کو بادشاہ کہلواتے تھے۔ جبکہ آج کی کامیاب عرب مملکتوں میں بھی "جمہوریت” کسی جگہ رائج نہیں ہے۔ اس وقت دنیا کے وہ مسلمان ممالک جہاں پارلیمانی جمہوری نظام حکومت کو وقتی طور پر آزمایا جا رہا ہے مثلا پاکستان، بنگلہ دیش، انڈونیشیا، سوڈان، ترکی اور ملائشیا وغیرہ ان میں سے کوئی ایک ملک بھی دنیا کے بڑے ترقی یافتہ ممالک میں شامل نہیں ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ مسلمان ملکوں میں مغربی جمہوریت ایک بدیسی نظام حکومت ہے۔ اس کے مقابلے میں نظام خلافت مسلم حکما و شرفا کا نظام حکومت ہے جس کو وہ امانت کے طور پر ملک کی ترقی اور رعایا کی فلاح و بہبود کے لیئے استعمال کرتے ہیں۔

    خاص طور پر پاکستان میں آزادی کے 75سالوں میں مغربی جمہوریت کو جس طرح چند خاندانوں نے اپنے ذاتی مفادات اور کاروبار کے فروغ کے لیئے استعمال کیا ہے، ملک کے ذرائع اور وسائل کو لوٹا ہے اور باہر کے مغربی ملکوں میں جزیرے اور جائیدادیں وغیرہ بنائی ہیں، اقرباء پروری اور رشوت و بددیانتی (Corruption Etc) کو فروغ دیا ہے اس سے ملک کی جڑیں کھوکھلی ہو گئی ہیں۔ آپ جائزہ لے کر دیکھ لیں کہ تاریخ پاکستان میں سنہری ادوار جنرل ایوب خان اور جنرل پرویز مشرف کے ادوار رہے ہیں اور وہ دونوں ادوار مارشل لاء کے ادوار تھے۔ جبکہ گزشتہ تقریبا 45سالوں میں جب جب جمہوری حکومتیں برسراقتدار آئی ہیں ملک میں مہنگائی اور بیرونی قرضوں کا حجم ہمیشہ بڑھا یے۔

    پاکستان کو آج بھی ایک ناکام ریاست کا نام دیا جاتا ہے اور دوسرا الزام اسٹیبلشمنٹ کا سیاست میں مداخلت کا ہے۔ اگر ملک کے امور کی انجام دہی میں اسٹیبلشمنٹ ہی کی چلتی ہے تو پھر پارلیمانی جمہوریت کی بجائے اس کا متبادل نظام حکومت کیوں نہیں آزمایا جاتا ہے؟ ہمارے ملک کی اصل مقتدرہ، اساتذہ، لکھاریوں اور دانشوروں کو سر جوڑ کر سوچنا چایئے کہ وطن عزیز کی لوکل تہذیبی اقدار، کلچر، رسم و رواج اور فوک کہانیوں تک میں کسی جگہ سو فیصد ذہنی آزادی کا تصور کرنا ممکن نہیں ہے اور اسلام و خلافت ہی ہمارا اصل اور حقیقی نظام حکومت ہے تو پھر ہم مغربی جمہوریت سے ابھی تک کیوں چپکے ہوئے ہیں؟ جمہوریت ہمارے لیئے نظام حکومت کی ہزار نعمت ہرگز نہیں ہے کہ یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے۔ یہ ہمیں صرف مغالطہ ہے کہ ہم ہمت کر کے جمہوریت کو چھوڑ دیں تو تب مرتے ہیں اور اگر نہ چھوڑ سکیں تو تب بھی مرتے ہیں۔ اس کی ایک اور مثال اردو کی کی اس ضرب المثل میں پائی جاتی ہے کہ "نگل سکتے ہیں اور نہ ہی اگل سکتے ہیں۔” ظاہر یے کہ یہ بادشاہ لوگ کوئی اور نہیں بلکہ عیاری سے پاک ہماری سادہ لوح عوام ہے۔ اپنی حالت پر آنسو بہانے سے دل ہلکا اور دکھ کا طوفان کم تو ہو سکتا مگر اس عمل سے رسوائی اور جگ ہنسائی بھی ہوتی یے۔ جمہوریت تو قرض کا نظام حکومت ہے کہ مرزا غالب نے کہا تھا کہ: "قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں، رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن.”

    جمہوریت ہمارے ہاں ایسا نظام حکومت نہیں کہ جس میں جمہوریت نام کی کوئی چیز بھی ہے: "اس سادگی پہ کون نا مر جائے اے خدا، کرتے ہیں قتل ہاتھ میں تلوار بھی نہیں”۔ یہ سیاست دانوں کا حسن چلن رہا ہے کہ وہ ہر دفعہ نئے سے نئے پرفریب نعروں اور وعدوں سے عوام کا دل بہلا لیتے ہیں۔ "جیسی کرنی ویسی بھرنی”۔ جو حشر آج پی ٹی آئی کا ہوا ہے وہی حشر آئیندہ آنے والی ہر جمہوری حکومت کا ہونا ہے. اسلام اور مغربی جمہوریت کبھی اکٹھے نہیں چل سکتے۔ تاآنکہ نظام حکومت نہیں بدلا جاتا ہے کہ قوم و ملک کو دھوکہ دینے کا یہ دو طرفہ طریق جاری رہا تو ترقی کی بیل کبھی منڈھے نہیں چڑھنی ہے۔ جائیں جتنے مرضی الیکشن کروائیں۔

    Title Image by svklimkin from Pixabay

  • تحقیق اور سچائی کا اثر

    تحقیق اور سچائی کا اثر

    تحقیق اور سچائی کا اثر

    Dubai Naama

تحقیق اور سچائی کا اثر

    جاپانی لوگوں کی ترقی کا ایک راز یہ ہے کہ وہ ہر نئی چیز کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانے سے پہلے اس پر کچھ تحقیق ضرور کرتے ہیں۔ بہت پہلے کی بات ہے کہ ہمارا ایک قبائلی دوست ثمر گل خان جاپان میں گاڑیوں کا کاروبار کرتا تھا۔ اس نے جاپانیوں کی زندگی کے بارے میں بہت سے واقعات سنائے جن میں سے ایک متاثر کن واقعہ یہ تھا کہ ان کے ایک جاپانی دوست کو اسلام کے مطالعہ کا شوق چرایا۔ اس جاپانی نے قرآن کریم پڑھا تو اس کا دل خوشی سے باغ باغ ہو گیا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ پاکستان جا کر قرآنی تعلیمات کو مسلمانوں کی عملی زندگیوں سے ظاہر ہوتے ہوئے دیکھے گا اور اس کے بعد اسلام قبول کرے گا۔ ایک دن اس جاپانی نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا اور کراچی کے ائیر پورٹ پر اترا تو اس نے دیکھا کہ پانی کی ایک سبیل سے ایک پلاسٹک کا گلاس لوہے کی باریک زنجیر سے بندھا ہوا تھا۔ اس جاپانی نے گلاس کے زنجیر سے باندھے جانے کی وجہ دریافت کی اور وہ یہ جان کر حیران ہوا کہ گلاس کے چوری ہونے کے ڈر سے اسے زنجیر سے باندھا گیا تھا۔ جاپانی نے اپنے گائیڈ سے سوال کیا کہ پاکستان مسلمانوں کا ملک نہیں ہے؟ گائیڈ نے جواب میں کہا "ہاں! پاکستان مسلمانوں کا ملک یے”۔ اس پر جاپانی نے پوچھا، ” تو کیا مسلمان قرآن نہیں پڑھتے ہیں جس میں چوری کرنے سے منع کیا گیا ہے اور چوری کرنے والے کے ہاتھ کاٹنے کی سزا ہے، تو پھر یہ گلاس یہاں زنجیر سے کیوں باندھا گیا ہے؟” گائیڈ نے اس جاپانی کے سامنے دلیلیں دے کر وضاحت کرنے کی کوشش مگر وہ جاپانی مطمئن نہیں ہوا۔ اس نے اسلامی تعلیمات اور مسلمانوں پر مزید تحقیق نہیں کی اور وہ اسلام پر ایمان لائے بغیر واپس جاپان چلا گیا تھا۔

    سچائی کا یہ اعجاز ہے کہ اس پر جتنی زیادہ تحقیق کی جائے اس کی محقق پر اسی قدر زیادہ دھاک بیٹھتی یے مگر ساتھ ہی سچائ اور حق کا دعوی کرنے والا اس پر خود عمل نہ کرے تو اس کا نتیجہ اس کے برعکس نکلتا ہے اور محقق دوسروں کو متاثر کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ اسی طرح اگر مسلمان خود قرآن کا عملی نمونہ نہ ہوں تو وہ غیر مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات اور عقائد سے متاثر کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ قرآن پاک جیسی عظیم الہامی کتاب رحمت و ہدایت اور فیضان کا منبہ ہے اور اس کی برکات تب دوچند ہو جاتی ہیں جب اسے اپنی عملی زندگیوں کا حصہ بنایا جاتا ہے۔کوئی انسان جتنا بھی سفاک اور ظالم ہو وہ قرآن کے نوادرات ہدایہ سے منور ہو سکتا ہے کیونکہ ایسے ہر انسان کے دل میں کسی جگہ کوئی نرم گوشہ ضرور ہوتا ہے جس کو قرآن متاثر کیئے بغیر نہیں رہ سکتا یے۔

    جورم وین کلاون ہالینڈ کا مشہور سیاستدان تھا جو اپنی اسلام دشمنی میں حد سے بڑھا ہوا تھا. لیکن وہ اعلی تعلیم یافتہ تھا اور مذہبی پس منظر بھی رکھتا تھا. اسے ایک باعمل مسلمان ملا جو قرآنی تعلیمات کی عملی تفسیر تھا۔ اس مسلمان نے جورم وین کو بہت متاثر کیا۔ لیکن جورم اپنی اسلام دشمنی سے باز نہ آیا اور اسے مضبوط اور مدلل بنیادوں پر کھڑا کرنے کے لیئے اس کے دل میں ایک اسلام مخالف کتاب لکھنے کا خیال آیا۔ اس مقصد کو پانے کے لیئے اس نے اسلام کے بارے مختلف کتابوں کے مطالعہ کا فیصلہ کیا۔ کتاب کیلئے اسے آج کے مسلمان کی بجائے اسلام کا مطالعہ کرنا پڑ گیا.

    جورم نے جب یہ مطالعہ اور تحقیق شروع کی تو عیسائیت اور اسلام کا تقابل اس کی بنیاد بن گیا. تثلیث اور توحید کے درمیان کی یہ تحقیق جورم کے تشنہ جوابات کیلئے اسے قرآن کے قریب لے آئی جہاں سے قرآن کا کوئی بھی تشنہ طالب علم خالی ہاتھ نہیں جاتا ہے. یوں اسلام کے خلاف لکھنے والا یہ غیر مسلم مسلمان ہو گیا کیونکہ جورم اسلام مخالف تھا، مسلمان مخالف تھا لیکن وہ منافق نہیں تھا. جس دل میں نفاق نہ ہو وہ بلاآخر روشنی پا لیتا ہے.

    آپ سے نفرت یا ناپسند کرنے والا ہر شخص قابل نفرت نہیں ہوتا. اکثریت کنفیوز ہوتی ہے. یہی کنفیوژن ان کے لہجوں کو تلخ اور ان کے الفاظ میں نفرت بھر دیتا ہے. آپ کے دل میں اگر کسی کیلئے نفرت نہیں، کوئی جواز اور کوئی سبب نہیں تو آپ کسی کیلئے نفرت کے ردعمل کا جواز نہیں بن سکتے. نفرت تو کالا اندھیرا ہے جو ان کو مزید کنفیوز کر کے روشنی سے دور کر دیتا ہے.

    ردعمل کے اسی کنٹرول کو صبر کہا جاتا ہے. صبر وقت کی وہ چھلنی ہے جو کھرے اور کھوٹے کو الگ الگ کر دیتی ہے. جو جانتے بوجھتے ہوئے نفرت صرف اپنی انا اور نفس کی تسکین کیلئے کرتے ہیں وہ منافق لوگ ہوتے ہیں. منافقین تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سامنے دیکھ کر بھی روشنی نہ پا سکے تو آپ اپنے ردعمل سے ان کے نفس کو تسکین کیونکر دے سکتے ہیں۔

    قرآن پر ایمان ایسے اعتقاد اور یقین کا مجموعہ ہے جو سب سے پہلے دل میں پیدا ہوتا ہے جس کے بعد وہ ہر سچے مسلمان کو عمل کی تحریک دیتا ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی پوری زندگی قرآن کا عملی نمونہ و تفسیر تھی۔ جب سے مسلمانوں نے قرآنی آیات و تعلیمات کو اپنی عملی زندگیوں سے جدا کیا ہے وہ درحقیقت اسلام سے دور ہوئے ہیں جس کی وجہ سے وہ آج زوال کا شکار ہیں، بقول اقبال:
    "وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر
    اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہو کر.”

    Title Image by ekrem from Pixabay

  • سائنسی سچائی

    سائنسی سچائی

    سائنسی سچائی

    Dubai Naama

سائنسی سچائی

    سائنس اور ٹیکنالوجی وہ علوم ہیں جنہوں نے دنیا میں مادی ترقی کی بنیاد رکھی ہے. اس ترقی کو ہر کوئی اپنے زاویہُ نظر سے دیکھتا ہے. ملحدین اسے اللہ کے نظام ربوبیت کیلئے بہت بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں اور اپنی سفلی سوچ کی تسکین کا سامان تلاش کرتے ہیں. مذاہب کو ماننے والے بھی تین طرح کے ہیں. ایک تو وہ جو مادی ترقی کے استیلاء کے سامنے بایں طور سرنگوں ہو چکے ہیں کہ وہ مکمل طور پر مائل بہ الحاد ہو گئے ہیں۔ دراصل ان کا معاملہ ملحدین جیسا ہی ہے۔ دوسری قسم ان کی ہے جو مادی ترقی کو مذہب کے مضبوط حریف کے طور پر لیتے ہیں اور دل ہی دل میں اس سے خوفزدہ بھی رہتے ہیں۔ در اصل یہ گروہ نہ تو اسلام کی توسیع اور آفاقیت کو کماحقہ سمجھ سکا ہے اور نہ ہی مادی ترقی کے سفر کو۔ تیسری قسم ان لوگوں کی ہے جو متوازن فکر کے حامل دانشور حضرات سائنس اور مذہب میں اصولی طور پر کوئی ٹکراوُ محسوس نہیں کرتے بلکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مادی ترقی بالآخر ایک شعوری انسان کو اللہ کے قریب لے آئے گی بشرطیکہ وہ اس ترقی پر مخلصانہ غور و فکر کرے۔

    یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ماضی میں اس کی سینکڑوں مثالیں مل جاتی ہیں کہ جب جدید علوم کے ارتقاء نے غیر مسلموں کے دلوں کے بند دروازوں پر دستک دی حتیٰ کہ وہ پکار اٹھے حق یہی ہے کہ اسلام ایک سچا, کھرا اور آفاقی و ہمہ گیر دین ہے۔ خود اہل اسلام نے اسی سوچ اور فکر کو اپناتے ہوئے عرفان و ایقان کی منازل طے کی ہیں۔ ہمارے فاضل بزرگ دوست معروف ایٹمی انجینئر محترم سلطان بشیر الدین محمود نے قرآن پاک کی آیات کی سائنسی تفسیر لکھی، انہوں نے کم وبیش چھ سو آیات پر گفتگو کرتے ہوئے قرآن حکیم کے دعووُں اور اسکی فراہم کردہ معلومات کو جدید سائنسی علوم کی روشنی میں ثابت کیا۔ فرانس کے معروف سکالر ڈاکٹر مارس بیوکائی نے تخلیق انسان کے تمام مراحل کو قرآن حکیم کی روشنی میں واضح اور منکشف کیا۔ جدید سائنس اب ان مراحل سے آشنا ہوئی ہے۔ ہمارے ایک اور سول انجینئر دوست محترم احمد نواز چیمہ نے جدید نظام آبپاشی کو جب قرآن حکیم کی آیات مبین کے تناظر میں دیکھا تو حقائق کی عجب کشائش ہوئی۔ انہوں نے اس پر ایک رسالہ بھی قلمبند کیا۔ الغرض علامہ اقبال علیہ الرحمہ نے یہ کہہ کر گویا قلم توڑ دیا کہ:

    ہر کجا بینی جہانِ رنگ و بو
    آں کہ از خاکش بروید آرزو
    یا زِ نورِِ مصطفیٰ اُو را بہاست
    یا ہنوز اندر تلاشِ مصطفیؓ است

    دُنیائے رنگ و بو میں جہاں بھی نظر دوڑائیں اس کی مٹی سے جو بھی آرزو ہویدا ہوتی ہے، وہ یا تو نورِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیضان سے بیش بہا ہوئی یا ابھی تک مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تلاش میں ہے۔

    جہاں تک اسلام کا تعلق ہے تو آفاقی دین جا بجا انسان کو مطالعہ آفاق و انفس کی دعوت دیتا ہے۔ سورہ فصلت میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

    سَنُرِيْهِـمْ اٰيَاتِنَا فِى الْاٰفَاقِ وَفِىٓ اَنْفُسِهِـمْ حَتّـٰى يَتَبَيَّنَ لَـهُـمْ اَنَّهُ الْحَقُّ ۗ اَوَلَمْ يَكْـفِ بِرَبِّكَ اَنَّهٝ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ شَهِيْدٌ (53)
    ترجمہ: عنقریب ہم اپنی نشانیاں انہیں کائنات میں دکھائیں گے اور خود ان کے نفس میں یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے گا کہ وہی حق ہے، کیا ان کے رب کی یہ بات کافی نہیں کہ وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔

    بعض اہل تاویل نے ان سے مراد وہ کافرین لئے ہیں جنہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعوت کو قبول نہ کیا یعنی اللہ رب العزت انہیں عنقریب آفاق و انفس میں اپنی نشانیاں دکھائے گا کہ انکے پاس دین حق کی قبولیت کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا لیکن یہ تاویل درست معلوم نہیں ہوتی کیونکہ ایک اور مقام پر سورہ الذریات میں اللہ رب العزت یوں ارشاد فرماتے ہیں۔

    وَفِى الْاَرْضِ اٰيَاتٌ لِّلْمُوْقِنِيْنَ (20)
    ترجمہ: اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

    وَفِىٓ اَنْفُسِكُمْ ۚ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ (21)
    ترجمہ: اور خود تمہارے نفسوں میں بھی، پس کیا تم غور سے نہیں دیکھتے۔

    یہاں خطاب صاحبان ایقان کو ہے اور ایقان در حقیقت ایمان کا ہی درجہ ہے۔ اسے یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ایمان کا ابتدائی درجہ اقرار بالسان ہے جو ہم مسلمانوں کو موروثی طور پر حاصل ہو جاتا یے پھر تصدیق بالقلب کی منازل ہیں جنہیں ایک بندہ ُُ مومن اپنی صلاحیت، اخلاص اور محنت کے مطابق طے کرتا ہے۔ قرآن حکیم میں اسی لئے اہل ایمان سے خطاب کرتے ہوئے ان سے ایمان لانے کا تقاضہ کیا گیا ہے۔ حالانکہ بظاہر یہ بات عجیب معلوم ہوتی ہے کہ جب انہیں اہل ایمان بھی کہا جا رہا ہے تو پھر مطالبہ ُُُ ایمان کیسا؟ سورہ النسا میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

    يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوٓا اٰمِنُـوْا بِاللّـٰهِ وَرَسُوْلِـهٖ وَالْكِتَابِ الَّـذِىْ نَزَّلَ عَلٰى رَسُوْلِـهٖ وَالْكِتَابِ الَّـذِىٓ اَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ ۚ وَمَنْ يَّكْـفُرْ بِاللّـٰهِ وَمَلَآئِكَـتِهٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِـهٖ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيْدًا (136)
    ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ اور اس کے رسول پر یقین لاؤ اور اس کتاب پر جو اس نے اپنے رسول پر نازل کی ہے اور اس کتاب پر جو پہلے نازل کی تھی، اور جو کوئی انکار کرے اللہ کا اور اس کے فرشتوں کا اور اس کی کتابوں کا اور اس کے رسولوں کا اور قیامت کے دن کا تو پس وہ شخص بڑی دور کی گمراہی میں جا پڑا۔

    یہاں جس ایمان کا مطالبہ کیا جا رہا ہے وہ تصدیق بالقلب اور ایقان و عرفان ہی ہے اور ایقان و عرفان کی یہ منازل آفاق و انفس میں پھیلی ہوئی ہیں، اس کی نشانیاں تلاش کرنے سے ہی ملتی ہیں۔ اسی لئے قرآن نے متعدد مقامات پر ان میں غور و فکر کی دعوت دی ہے۔

    سورہ آل عمران میں ارشاد ہوتا ہے ۔

    اَلَّـذِيْنَ يَذْكُرُوْنَ اللّـٰهَ قِيَامًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰى جُنُـوْبِهِـمْ وَيَتَفَكَّرُوْنَ فِىْ خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (191)
    ترمہ: وہ جو اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے یاد کرتے ہیں اور آسمان اور زمین کی پیدائش میں فکر کرتے ہیں، (کہتے ہیں) اے ہمارے رب تو نے یہ بے فائدہ نہیں بنایا تو (اللہ) سب عیبوں سے پاک ہے سو ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔

    یہاں اہل ایمان کی دو صفات کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ وہ اٹھتے بیٹھتے اور لیٹے اللہ کا ذکر کرتے ہیں اور دوسری یہ کہ وہ زمین و آسمان کی تخلیق میں خوب غور و فکر کرتے ہیں۔ لہذا یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اس زمین و آسمان میں ظاہر ہونے والے تغیرات سے بے خبر رہیں کیونکہ یہ ترقی و تبدل بھی تو اسی کائنات میں ظہور پذیر ہو رہا ہے۔ آفاق کی وسعتیں اپنی جگہ لیکن انفس میں پھیلی ہوئی کائنات بھی خوب ہے۔ ایک ایک عضو انسانی ساخت اور اسکی کارکردگی پر سائنسی انکشافات کی روشنی میں غور و فکر کر لیا جائے تو انسان اپنے خالق و رب کی عظمتوں کا صدق دل کے ساتھ معترف ہو جاتا ہے اور اس کے حضور عجز و انکسار اور تشکر کے سجدے بجا لاتا ہے۔

    زیر نظر کتاب اسی اہم موضوع پر لکھی گئی ہے یعنی "خدا کی سائنسی پہچان”، یہ کتاب اپنے اندر یہ خوبصورت پیغام لئے ہوئے ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ہونے والی مادی ترقی کو مذہب کا حریف نہ سمجھا جائے بلکہ اسی سے اللہ رب العزت کے عرفان اور ایقان کی راہیں تلاش کی جائیں۔ بلاشبہ یہی متوازن سوچ اور مثبت طرز عمل ہے۔ انہوں نے یہ بات کتاب کے شروع ہی میں واضح کر دی ہے کہ اللہ کی معرفت کا سب سے بڑا ذریعہ وحیُ الہی ہے البتہ کائنات و انفس میں غور و فکر اور ان میں ظہور پذیر ہونے والی ہمہ پہلو ترقیاں اور ارتقاء سے بھی ایقان و عرفان کی منازل طے ہوتی ہیں. ان کی بات درست ہے ورنہ اسلام کبھی بھی کائنات و انفس میں غور و فکر پر اس قدر زور نہ دیتا۔ دعا ہے اللہ رب العزت انکی اس کاوش کو قبول و منظور فرمائے۔ آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم.

    (کالم نگار کی زیرہ طبع کتاب سے اقتباس، تبصرہ: محمد خلیل الرحمٰن قادری ناظم اعلیٰ جامعہ اسلامیہ لاہور ، رکن مرکزی روئیت ہلال کمیٹی پاکستان)

    Title Image by Pexels from Pixabay

  • مذہبی جنگ یا علمی تحریک؟

    مذہبی جنگ یا علمی تحریک؟

    مذہبی جنگ یا علمی تحریک؟

    Dubai Naama

مذہبی جنگ یا علمی تحریک؟

    بہت سے اہل اسلام نشانہ ثانیہ کو اب ضروری سمجھتے ہیں۔ موجودہ اسرائیل اور حماس کی جنگ انتقام کا ایک مستقل بیج بو رہی ہے۔ شائد یہ جنگ تو ختم ہو جائے مگر اس جنگ میں شہید ہونے والے فلسطینی بچوں کی روحیں غزہ کی 140مربع میل کی پٹی میں ہمیشہ بھٹکتی رہیں گی۔ یہ سچی انسانیت کے خلاف انتقام (اور نفرت) کا ایک گھناونا منصوبہ ہے۔جوہان گوئٹے نے کہا تھا "جہاں سے قافلہ الہ گزرتا ہے صحرا و ریگستان بول اٹھتے ہیں کہ اے سوئے منزل جانے والو ہمیں بھی ساتھ لیتے چلو”۔ سوچو! اب انسانی "بقا” اور "نجات” کی یہ صدا کون لگائے گا؟ جہاں کمزور کو طاقت سے دبایا جاتا ہے وہاں انسانی لاشوں کی سرانڈ بھنبھناتی ہے۔ فلسطین میں جب ایک باپ ملبے سے بیٹیوں اور بیٹیوں کے بریدہ اعضاء اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھتا ہے تو سوئے الہ جانے والا قافلہ آگے نہیں بڑھتا بلکہ وہیں رک جاتا ہے۔

    ساری دنیا جانتی ہے کہ یہ "فاسفورس” اور "ایٹم” بم، میزائیل، ٹینک اور لڑاکا طیارے بنانے کی فیکٹریوں کو قائم کرنے کا کیا مقصد ہے؟ یہ انسانی قتل گاہیں ہیں جن کی تعمیر انسان خود کر رہا ہے۔ وہ نفرت کی دیواروں کو اونچا کر رہا ہے اور انتقام کو بارود سے بھڑکا رہا ہے۔ تاکہ یہ انسانی خون کا دریا ہمیشہ بہتا رہے۔ انسانوں کو کیڑے مکوڑوں کی طرح قتل کیا جاتا رہے اور ان کا یہ منحوس کاروبار ہمیشہ چلتا رہے۔ اسلاموفوبیا کا مقصود یہی تو ہے کہ اسلام کے خلاف ایسی نفرت پھیلانی ہے جو مزید نفرت کو جنم دے اور انتقام کا ایسا بیج بونا ہے جو مسلم دنیا کے انسانوں کو اسی طرح ہڑپ کرتا رہے۔ یہاں تک کہ جنگ دنیا کے کسی نہ کسی کونے میں جاری رہے اور "اسلحہ” ہمیشہ بکتا رہے۔

    حیرانی ہے جس طرح بحیثیت یہودی قوم اسرائیلی "تابوت سکینہ” اور "ہیکل سلیمانی” کو یہودیت سے جوڑتے ہیں امت مسلمہ نشاۃ ثانیہ کو "عقیدہ” سے جوڑتے ہیں! حالانکہ علامہ اقبال جیسی عظیم ہستی نے ”مذہبی نظریے کی از سر نو تعمیر“ The Reconstruction of Religious Thought جیسا معرکتہ آراء مقالہ لکھا تھا جس کے ذریعے وہ مسلمانوں کا "علمی احیاء” چاہتے تھے کیونکہ "نشاۃ ثانیہ” دراصل مستعار لی گئی مغربی اصطلاح ہے جسے انگریزی زبان میں renaissance یا ”احیائے علوم کی تحریک“ کہتے ہیں جس کا آغاز مغرب میں 14ویں صدی میں اٹلی سے ہوا اور 17ویں صدی میں انگلینڈ پہنچ کر اس کا خاتمہ ہو گیا۔

    اس تحریک کی ابتداء بھی ایک کتاب کے لکھنے کے بعد ہوئی تھی جسے سب سے پہلے اٹلی کے مصنف جیکب بروچیٹ کی مشہور کتاب بعنوان، ”سویلائزیشن آف دی رینائسینس ان اٹلی“ میں بیان کیا گیا تھا لیکن بعد میں بے شمار لکھنے والوں نے اس کام کو ایک تحریک بنانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا جس کو لیونارڈو ڈا ونسی، مائیکل اینگلو، میچا ولی اور میڈیسی فیملی نے بھرپور طریقے سے آگے بڑھایا تھا اور جسے مغربی مورخین جیسا کہ فرانسیسی تاریخ دان جولیئس مچلیٹ نے اس تحریک کو سب سے زیادہ نمایاں کیا تھا اور اسے باقاعدہ ایک تاریخ بنا دیا تھا جس وجہ سے مغربی دنیا میں سیاست، کلچر، فنون لطیفہ اور سائنسی علوم کے میدان میں ایک ”انقلاب” برپا ہوا جس کے بعد یورپ ”مڈل ایجز“ سے نکل کر باقی ماندہ ترقی یافتہ دنیا کے برابر کھڑا ہو گیا بلکہ اس سے بھی کہیں آگے نکل گیا جس کے بل بوتے پر یورپ اور امریکہ ابھی تک دنیا پر دھونس جمائے ہوئے ہیں۔

    قیام پاکستان سے قبل علامہ محمد اقبال نے 1930ء کے اپنے آلہ آباد کے خطبے میں قیام پاکستان کا نقشہ پیش کیا تھا جسے ”خواب پاکستان“ کہا جاتا ہے جبکہ ان کی متحرک شاعری کا زیادہ تر حصہ بھی قیام پاکستان کے پس منظر میں "اسلامی نشاۃ ثانیہ” کے گرد گھومتا ہے جسے وہ ”طلوع اسلام“، ”شاہین“، ”خودی“ اور ”مومن“ جیسے اپنے آفاقی اور عالمگیر تصورات میں پیش کرتے ہیں مثلاً ان چند اشعار پر غور کریں:

    جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں
    ادھر ڈوبے، ادھر نکلے ادھر ڈوبے، ادھر نکلے

    خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
    خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

    سبق ملا ہے یہ معراج مصطفیؐ سے مجھے کہ
    عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں

    حتی کہ علامہ محمد اقبال کی پوری شاعری اور فلسفے کا نچوڑ یہ ہے کہ وہ الہامی پیغام کو انسانی عظمت اور عروج آدمیت سے ملاتے ہیں اور دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کے ”احیاء“ کو عقیدے کی بجائے جدید علمی ترقی اور عروج سے جوڑتے نظر آتے ہیں جس کا واضح اظہار انہوں نے اپنے مقالے میں کیا (جس کا اوپر آیا ہے) یعنی علامہ اقبال نے دینی عقیدے کے استحکام کو بھی جدید سائنسی علوم کی ترقی سے وابستہ کرنے کی کوشش کی تھی کیونکہ انہوں نے واقعہ معراج جیسے عظیم الشان واقعہ کو بھی سائنسی علوم کی ترقی کا زینہ قرار دیا تھا۔

    جبکہ اس کے برعکس متحدہ ہندوستان کے مسلمان علمائے کرام نے قیام پاکستان کی مخالفت کی اور نشاۃ ثانیہ کے خواب کو دنیا میں علمی ترقی کی بجائے عقیدے کی ترقی سے جوڑ دیا۔ آج انہی علمائے عظام نے قرآن و حدیث کے حوالوں سے ”حضرت عیسی علیہ السلام“ اور ”امام مہدیؑ“ کی آمد اور ”غزوہ ہند“ وغیرہ کو مسلمانوں کے دوبارہ عروج کو ایک راسخ عقیدے کے طور پر باور کرا رکھا ہے۔ یعنی ہم مسلمانوں نے ”جوج ماجوج“ اور ”دجال“ کا خاتمہ علم سے نہیں، ”تلوار“ سے کرنا ہے اور یہ عروج دوبارہ ہمیں قرب قیامت کے قریب حاصل ہونا ہے!

    مسلم امہ کی بہت بڑی تعداد اس تصور کو سینے سے لگا کر جی رہی ہے کہ ایک نہ ایک روز سورج مسلمانوں کے عروج کی نوید لے کر ضرور ابھرے گا کیونکہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا یہ وعدہ گزشتہ صدی کے تمام بڑے مسلم مذہبی و سیاسی مشاہیر و اکابرین بڑے طمطراق سے کرتے چلے آ رہے ہیں۔

    اگر قرآن کی پہلی آیت ”اقراء“ اور ”ملائک مسجود“ کا مطلب علم کی بجائے صرف جنگ و جدل اور سہل انسانی خون کی ترویج و سبیل ہے تو پھر سرسید احمد خان اور علامہ محمد اقبال کے علاوہ روسو، وولٹیئر اور روبسپیئر وغیرہ کے خیالات و افکار کا جادو جو یورپی نشانہ ثانیہ میں سر چڑھ کر بولتا رہا تھا اور جس کے سامنے صدیوں سے رائج پاپائیت اور بادشاہت کی فلک بوس دیواریں دھڑام سے زمین پر آ گری تھیں، ان خیالات و افکار کو بھی فی الفور تاریخ کے کوڈے دان میں پھینک دیا جانا چاہیے ۔

    نسل انسانی کا علمی سفر پہلے رکا ہے اور نہ ہی آئندہ رکے گا مگر مسلمان اس نکتہ کو نہ سمجھ سکے تو ان کا سنہرا دور اب صرف ماضی کی یاد بن کر ہی رہ جائے گا کیونکہ اقوام علم کی بنیاد پر ترقی کرتی ہیں ناکہ فریب زدہ روایات اور عقائد کی جنگ پر کرتی ہیں۔ اہل فکر کے سامنے آج یہی چبھتا ہوا سوال ہے کہ دوبارہ عروج کی ان کج فہم روایات کے ہوتے ہوئے مسلم دنیا کا یہ عروج والا زمانہ واپس لوٹ بھی سکتا ہے یا نہیں؟

  • اسلامی نشاۃِ ثانیہ، مذہبی جنگ یا علمی تحریک؟

    اسلامی نشاۃِ ثانیہ، مذہبی جنگ یا علمی تحریک؟

    "اسلامی نشاۃِ ثانیہ، مذہبی جنگ یا علمی تحریک۔۔۔؟”

    اسلامی نشاۃِ ثانیہ، مذہبی جنگ یا علمی تحریک؟

    ہمارے معاصر صحافی اور مصنف خواجہ حبیب صاحب نے اسلامی نشاۃ ثانیہ کے اہم موضوع پر ایک ناول لکھا ہے جس کے لئے انہوں نے خاکسار کو اس پر تبصرہ لکھنے اور اس کا عنوان تجویز کرنے کا حکم دیا ہے۔ ناول کا مطالعہ بوجوہ ابھی تک ممکن نہیں ہو سکا۔ بہرطور حیران و ششدر ہوں کہ بحیثیت قوم نشاتہ ثانیہ کو ہم مسلمان عقیدے سے کیوں جوڑتے ہیں؟ جہاں علامہ اقبال جیسی عظیم ہستی نے "مذہبی نظریئے کی از سر نو تعمیر”
    The Reconstruction of Religious Thought
    جیسا معرکتہ آراء مقالہ لکھا ہو وہاں مجھ جیسے حروف جوڑنے والے حقیر لکھاری کی "کہاں پدی اور کہاں پدی کا شوربہ”، کے مصداق کیا حیثیت ہو سکتی ہے؟

    دراصل، نشاۃِ ثانیہ مستعار لی گئی مغربی اصطلاح ہے جسے انگریزی زبان میں renaissance یا "احیائے علوم کی تحریک” کہتے ہیں جس کا آغاز مغرب میں 14 ویں صدی میں اٹلی سے ہوا اور 17 صدی میں انگلینڈ پہنچ کر اس کا خاتمہ ہو گیا۔ درحقیقت، اس تحریک کی ابتداء بھی ایک کتاب کے لکھنے کے بعد ہوئی تھی جسے سب سے پہلے اٹلی کے مصنف جیکب بروچیٹ کی مشہور کتاب بعنوان، "سویلائزیشن آف دی رینائسینس ان اٹلی” میں بیان کیا گیا تھا لیکن بعد میں بے شمار لکھنے والوں نے اس کام کو ایک تحریک بنانے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا جس کو لیونارڈو ڈا ونسی، مائیکل اینگلو، میچا ولی اور میڈیسی فیملی نے بھرپور طریقے سے آگے بڑھایا اور جسے مغربی مورخین جیسا کہ فرانسیسی تاریخ دان جولیئس مچلیٹ نے اس تحریک کو سب سے زیادہ نمایاں کیا اور اسے باقاعدہ ایک تاریخ بنا دیا جس وجہ سے مغربی دنیا میں سیاست، کلچر، فنون لطیفہ اور سائنسی علوم کے میدان میں ایک "”انقلاب”” برپا ہو گیا جس کے بعد یورپ "مڈل ایجز” سے نکل کر باقی ماندہ ترقی یافتہ دنیا کے برابر کھڑا ہو گیا بلکہ اس سے بھی کہیں آگے نکل گیا جس کے بل بوتے پر یورپ اور امریکہ ابھی تک بلاشرکت غیرے پوری دنیا پر راج کر رہے ہیں۔

    قیام پاکستان سے قبل علامہ محمد اقبال نے 1930 کے اپنے الہ آباد کے خطبے میں قیام پاکستان کا نقشہ پیش کیا تھا جسے "خواب پاکستان” کہا جاتا ہے جبکہ ان کی متحرک شاعری کا زیادہ تر حصہ بھی قیام پاکستان کے پس منظر میں "”اسلامی نشاۃِ ثانیہ”” کے گرد گھومتا ہے جسے وہ "طلوع اسلام”، "شاہین”، "خودی” اور "مومن” جیسے اپنے آفاقی اور عالمگیر تصورات میں پیش کرتے ہیں مثلا ان چند اشعار پر غور کریں:

    جہاں میں اہل ایماں صورت خورشید جیتے ہیں،
    ادھر ڈوبے، ادھر نکلے ادھر ڈوبے، ادھر نکلے۔

    خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے،
    خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے۔

    سبق ملا ہے یہ معراج مصطفیؐ سے مجھے

    کہ، عالمِ بشریت کی زد میں ہے گردوں

    حتی کہ علامہ محمد اقبال کی پوری شاعری اور فلسفے کا نچوڑ یہ ہے کہ وہ الہامی پیغام کو انسانی عظمت اور عروج آدمیت سے ملاتے ہیں اور دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کے "احیاء” کو عقیدے کی بجائے جدید علمی ترقی اور عروج سے جوڑتے نظر آتے ہیں جس کا واضح اظہار انہوں نے اپنے مقالے میں کیا (جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے) یعنی علامہ اقبال نے دینی عقیدے کے استحکام کو بھی جدید سائنسی علوم کی ترقی سے وابستہ کرنے کی کوشش کی تھی کیونکہ انہوں نے واقعہ معراج جیسے عظیم الشان واقعہ کو بھی سائنسی علوم کی ترقی کا زینہ قرار دیا تھا جس کی ابتداء عملی طور پر سرسید احمد خان نے 27 دسمبر 1886ء کو محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس کی بنیاد رکھ کر کی تھی (مگر افسوس ہے کہ بعد میں آنے والے کسی مفکر نے اس سلسلے کو ذرا برابر بھی آگے نہیں بڑھایا ہے)!

    جبکہ اس کے برعکس متحدہ ہندوستان کے مسلمان علمائے کرام نے قیام پاکستان کی مخالفت کی اور نشاۃِ ثانیہ کے خواب کو دنیا میں علمی ترقی کی بجائے عقیدے کی ترقی سے جوڑ دیا۔ آج انہی علمائے عظام نے قرآن و حدیث کے حوالوں سے "حضرت عیسی علیہ السلام” اور "امام مہدیؑ” کی آمد اور "غزوہ ہند” وغیرہ کو مسلمانوں کے دوبارہ عروج کو ایک راسخ عقیدے کے طور پر باور کرا رکھا ہے۔ یعنی ہم مسلمانوں نے "جوج ماجوج” اور "دجال” کا خاتمہ "”علم”” سے نہیں، "تلوار” سے کرنا ہے اور یہ عروج دوبارہ ہمیں قرب قیامت کے قریب حاصل ہونا ہے۔۔۔!!!

    مسلم اُمہ کی بہت بڑی تعداد اس تصور کو سینے سے لگا کر جی رہی ہے کہ ایک نہ ایک روز سورج مسلمانوں کے عروج کی نوید لے کر ضرور ابھرے گا کیونکہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا یہ وعدہ گذشتہ صدی کے تمام بڑے مسلم مذہبی و سیاسی مشاہیر و اکابرین بڑے طمطراق سے کرتے چلے آ رہے ہیں۔

    اس پر مستزاد کچھ خود ساختہ لکھاری اور دانشور یورپ اور امریکہ میں 2050ء تک سیمول ہنٹنگٹن کی کتاب "تہزیبوں کا تصادم” کی روشنی میں یورپ اور امریکہ میں پھیلتے ہوئے اسلام کو مسلم نشاۃِ ثانیہ کے مترادف قرار دینے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھ رہے ہیں۔ حالانکہ وہاں پیدا ہونے والے مسلمان تیزی سے الحاد اور مغربی کلچر میں مکس ہو رہے ہیں اور ان کی دوسری اور تیسری نسل کو یہ بھی خبر نہیں ہوتی کہ اسلام کس چڑیا کا نام ہے اور اس کی اصل طاقت کیا ہے؟ اگر قرآن کی پہلی آیت "اقراء” اور "ملائک مسجود” کا مطلب علم کی بجائے صرف جنگ و جدل اور سہل انسانی خون کی ترویج و سبیل ہے تو پھر سرسید اور علامہ اقبال کے علاوہ روسو، وولٹیئر اور روبسپیئر وغیرہ کے خیالات و افکار کا جادو جو یورپی نشاۃِ ثانیہ میں سر چڑھ کر بولتا رہا تھا اور جس کے سامنے صدیوں سے رائج پاپائیت اور بادشاہت کی فلک بوس دیواریں دھڑام سے زمین پر آ گری تھیں، ان خیالات و افکار کو بھی فی الفور تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا جانا چایئے۔

    نسل انسانی کا علمی سفر پہلے رکا ہے اور نہ ہی آئندہ رکے گا مگر مسلمان اس نکتہ کو نہ سمجھ سکے تو ان کا سنہرا دور اب صرف ماضی کی یاد بن کر ہی رہ جائے گا کیونکہ اقوام علم کی بنیاد پر ترقی کرتی ہیں نہ کہ فریب زدہ روایات اور عقائد کی جنگ پر کرتی ہیں۔ اہل فکر کے سامنے آج یہی چبھتا ہوا سوال ہے کہ مسلم دنیا کا یہ عروج والا زمانہ واپس لوٹ بھی سکتا ہے یا نہیں؟

  • لباس اور چہرے

    لباس اور چہرے

    تحریر و تحقیق: شاندار بخاری

    مقیم مسقط

    ڈاکٹر علی شریعتی نے کہا تھا کہ ” لباس وہ ہے جس نے آپ کے آدمی ہونے کی حقیقت کو اپنے اندر چھپا لیا ہے ، کیونکہ لباس آدمی کو پہنتا ہے اور یہ کتنا بڑا جھوٹ ہے کہ آدمی لباس کو پہنتا ہے "

    کپڑے جو تن ڈھانپنے کیلئیے تھے آج ان کا مقام یہ ہے کہ ہم اس شخص کو معتبر نہیں سمجھتے اس کو ساتھ بٹھانے کے لائق نہیں سمجھتے عہدے اور وقار کے اہل نہیں سمجھتے جس نے برینڈ یا قیمتی مخمل نہ پہنا ہو ، یہ ایک ذہنی مرض ہے جو کہ احساس کمتری کی ایک جڑ ہے اور اکثر کیا بلکہ بیشتر لوگ اس مرض میں مبتلا ہیں اور ہر وقت اسی سوچ میں گم رہتے ہیں کہ کل کیا پہنوں ! کسی زمانے میں سفید پوش کا لفظ استعمال ہوتا تھا جو کہ اب صرف قصے کہانیوں اور محاوروں کی حد تک محدود ہو کر رہ گیا ہے ، کوئی سیاست دان ہو یا مولوی آج کل سب ہی زرق برق اور میچنگ لباس پہن کر ہی جلوہ افروز ہوتے ہیں پھر لوگ ان کو کاپی کرتے ہیں آج کل تو کپڑوں کیساتھ میچنگ جوتے اور فیس ماسک بھی دستیاب ہیں۔

    اسلام عمل کا نام تھا آجکل جب تک کوئی اچھے کپڑے نہ پہنے خواہ وہ کتنا بڑا عالم کیوں نا ہو اپنی جانب لوگوں کو متوجہ نہیں کر سکتا یقین نا آئے تو مارکیٹ میں دیکھ لیں اکثر کپڑوں کے برینڈ مولویوں کے ہی ہیں۔ ( کہیں پڑا تھا اور اب یاد آ گیا غالبا اشفاق احمد صاحب نے لکھا تھا کہ مرد کے دل میں ۔۔۔ اور عورتوں کی الماری میں نئے جوڑے کی گنجائش ہمیشہ رہتی ہے ۔۔۔ بات کیونکہ کپڑوں کی ہو رئی ہے اس لئیے مرد کے دل کا معاملہ پھر کبھی )

    ایک بزرگ اور اپنے وقت کے جلیل القدر عالم ( مجھے اس وقت نام یاد نہیں آ رہا ) کسی محفل میں مدعو تھے جب وہاں پہنچے تو دربان نے ان کے سادہ لباسی کو دیکھ کر انہیں اندر نہیں جانے دیا اور وجہ معلوم کی تو پتا چلا کہ یہ رئیسوں اور امراء کی دعوت ہے آپ تو فقیر معلوم ہوتے ہیں یہ سن کر آپ مسکرائے اور وہاں سے لوٹ رہے گھر آ کر لباس فاخرہ زیب تن کیا اور پھر اسی محفل میں گئے تو اب کہ مرتبہ دربان نے جھک جھک کر سلام کیا اور پرتپاک استقبال کیا گیا جب کھانا لگا تو آپ اپنے کرتے کو سالن میں ڈبوتے اور کہتے کہ کھاؤ کھاؤ یہ سب تمہارے لئیے ہی تو ہے ، یہ ماجرا دیکھ کر لوگ حیران ہوئے اور میزبان نے پوچھا کہ حضرت آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں تو انہوں نے کچھ دیر پہلے کا سارا ماجرا سنایا اور کہا کہ اگر عزت میری ہوتی تو جس حال میں بھی آتا قبول ہوتا مگر یہاں تو عزت صرف لباس کی ہے تو کیوں نا اسے کھلاؤں ، اپنے اس عمل سے انہوں نے اس محفل کے شرکاء اور ہم سب کیلئیے ایک بہت بڑا نصیحت آموز سبق چھوڑا ہے میانہ روی اختیا کرو ، اپنے کردار کو مضبوط کرو اور دکھائے پر مت جاؤ۔

    لباس اور چہرے
    لباس اور چہرے

    زمانہ قدیم میں اور خاص طور پر اسلام کے ابتدائی دور میں زمانہ ترقی یافتہ نہیں تھا غلہ ، اناج اور کپڑے عام دستیاب نہیں تھے نہ ہی ہر کوئی لے یا بنا سکتا تھا۔ کھجور کے پتوں ، بھیڑ بکریوں کی کھال سے اور اونٹ کے چمڑے سے ہی بنتا تھا جو پہنا جاتا تھا علاقے ، موسم اور استعمال کے مطابق ، ایک راوی کا ذکر تھا جو کہ میں نے مرحوم جسٹس جاوید اقبال ( فرزند علامہ محمد اقبالؒ) کی ایک ریکارڈنگ میں سنا تھا کہ رسولﷺ کے زمانے میں غربت ایسی تھی کے تن ڈھانپنے کیلئیے پورا کپڑا میسر نہیں تھا کوئی نماز میں رکوع میں جاتا تو ستر پورا نا رہتا تھا ایک اور واقع یاد آیا جو کہ حضرت عمر  ؓ  کے ساتھ پیش آیا ایک مرتبہ وہ مسجد میں منبر رسول ﷺپر کھڑے خطبہ دے رہے تھے کہ ایک غریب شخص کھڑا ہو گیا اور کہا کہ اے عمر ؓ ہم تیرا خطبہ اس وقت تک نہیں سنیں گے جب تک یہ نہ بتاؤ گے کہ یہ جو تم نے کپڑا پہنا ہوا ہے وہ بیت المال سے لوگوں میں تقسیم ہونے والے اس حصے سے زیادہ ہے جو دوسروں کو ملا تھا۔ تو عمر فاروق ؓنے کہا کہ مجمع میں میرا بیٹا عبد اللّٰہ موجود ہے، عبداللّٰہ ابن عمر کھڑے ہو گئے۔ عمر فاروق ؓ نے کہا کہ بیٹا بتاؤ کہ یہ کپڑا کہاں سے لایا ہوں ورنہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے میں قیامت تک اس منبر پر نہیں چڑھوں گا۔ عبداللّٰہ نے بتایا کہ بابا کو جو کپڑا ملا تھا وہ بہت ہی کم تھا اس سے ان کا پورا کپڑا نہیں بن سکتا تھا۔ اور ان کے پاس جو پہننے کے لباس تھا وہ بہت خستہ حال ہو چکا تھا۔ اس لیے میں نے اپنا کپڑا اپنے والد کو دے دیا۔ایک طرف تو یہ حساب کتاب کے معاملات اور دوسری طرف روایات میں ملتا ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ نے وسعت دی ہو اُسے چاہیے کہ شکر کے جذبات اور اعتدال کے ساتھ اللہ کی دی ہوئی نعمت کو استعمال کرے، چناں چہ اسے ریا ونمود ، خود پسندی اور دوسروں کی تحقیر کے جذبات سے بچتے ہوئے خوش لباس ہونا چاہیے۔ بعض صحابہ کرام ؓ سے نماز اور دیگر عبادات میں مستقل الگ اور قیمتی لباس کا استعمال اور بعض تابعین ، تبع تابعین ؒ سے روزانہ ہر درسِ حدیث سے پہلے نیا اور قیمتی لباس استعمال کرنا اور پھر اسے صدقہ کرنا منقول ہے۔ بعض مواقع پر نبی کریم ﷺسے بہت قیمتی چادر کا استعمال بھی ثابت ہے۔

    حدیث شریف میں آتا ہے:

    "عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآلہ وسلم: ” إن الله عز وجل إذا أنعم على عبد نعمة يحب أن يرى أثر النعمة عليه”. 

    اب ہم اپنے موضوع کے دوسرے حصے ‘چہرے ‘ کے بارے میں بات کریں گے اللہ تعالی نے ہمیں اشرف المخلوقات بنایا ہمارے خوبصورت سانچے میں ڈھالا ہے تو ہم پر بھی واجب ہے کہ ہم اپنے عمل اور کردار سے ظاہری طور پر ویسے ہی نظر آہیں جیسے کہ ہم باطنی طور پر ہوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ بنا بولے ہم کیسے اپنے مذہب کا پرچار کر سکتے ہیں تو حضور ﷺنے کہا کہ اپنے کردار سے جیسے چہرہ ہماری شخصیت کا نمایاں جز ہے ویسے ہی کردار۔

    اکثر لوگ اپنے کسی مقصد کے حصول کیلئیے بہت میٹھے اور مخلص بن کر ملتے ہیں اور مطلب نکل جانے کے بعد ایسے آنکھیں بدلتے ہیں کہ جیسے کبھی آشنا تھے ہی نہیں ہم سب نے کبھی نا کبھی ایسے لوگوں اور معاملات کا بزات خود تجربہ کیا ہوا ہے کوہ وہ بچپن میں تھا یہ اب ہماری عملی زندگی میں ہو  ، شاعر کہتا ہے ” ایک چہرے سے اترتی ہیں نقابیں کتنی ، لوگ کتنے ہمیں اک شخص میں مل جاتے ہیں ” ( شاعر کا نام قارئین مجھے بتائیں گے تاکہ مجھے بھی پتہ چلے کے کیا واقعی آپ نے میری یہ تحریر پڑھی ہے )

    چہرے بدلنا شیطانی فعل ہے جو کہ ہزاروں سے گزر جانے کے بعد آج بھی کسی نا کسی روپ میں انسانوں کو اپنے بس میں کر کے ورغلا کر ان سے یہ کام کرواتا ہے جس کا احساس ہونے پر لوگ وقت گزرنے کے بعد شرمندہ بھی ہوتے ہیں۔ اور آپ تاریِخ کا مطالع کریں تو قصص الانبیاء میں ہمیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا واقع بھی ملتا ہے جب وہ خواب کی تعبیر اور اللہ سے کئیے وعدے کو نبھانے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے لے جا رہے تھے تو راستے میں چہرہ بدل کر تین مقامات پر شیطان نے انہیں بہکانے کی کوشش کی اور ہر مرتبہ آپ علیہ السلام نے انہیں کنکریان مار کر بھگایا جس کی سنے آج بھی ماسک حج کو دوران منی کے مقام پر جمرات کرنے سے ادا ہوتی ہے۔

    یک دن جناب رسول اللہﷺنے فرمایا ’’اَلا اُخبرکم بخیارکم‘‘ کہ کیا میں تمہیں تمہارے اچھے لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ صحابہ ؓنے عرض کیا یا رسول اللہ! ضرور آگاہ فرمائیں۔ جناب نبی اکرم نے فرمایا ’’الذین اذا رأو اذکر اللّٰہ‘‘ وہ لوگ جنہیں دیکھا جائے تو خدا یاد آجائے۔ یعنی جن لوگوں کو دیکھ کر خدا یاد آئے وہ تم میں سے اچھے لوگ ہیں۔ اس کی دو صورتیں بیان کی جاتی ہیں:

    ایک یہ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے جن کی عبادت، نیکی اور تقویٰ کی جھلک ان کے چہروں پر نور کی صورت میں دکھائی دیتی ہے اور انہیں دیکھ کر دل میں خیال آتا ہے کہ اس قدر با رونق اور پر نور چہرہ کسی اللہ والے کا ہی ہو سکتا ہے۔ عام طور پر انسان کے اندر کی کیفیات کا اس کے چہرے سے اندازہ ہو جاتا ہے اور چہرہ انسان کی باطنی حالت کا عکاس ہوتا ہے۔ غصہ ہو یا خوشی، غم ہو یا راحت، ناراضگی ہو یا رضا مندی، انسان کے چہرے سے اس کا پتہ چل جاتا ہے۔ اسی طرح انسان کے نیک اعمال اور برے اعمال کے اثرات بھی چہرے سے ظاہر ہوتے ہیں۔

    بخاری شریف کی ایک روایت کے مطابق آنحضرت ﷺ نے اپنے ایک خواب کا منظر بیان فرمایا کہ میں نے ایسے لوگوں کا ایک ہجوم دیکھا جن کے چہروں کی کیفیت یہ تھی کہ چہرے کا نصف حصہ خوبصورت اور باقی نصف حصہ بد صورت تھا۔ فرشتوں سے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ آپ کی امت کے وہ لوگ ہیں جو ’’خلطوا عملاً صالحا وآخر سیئًا‘‘ اچھے اور برے اعمال خلط ملط کرتے رہے ہیں۔ اعمال صالحہ بھی انہوں نے کیے ہیں اور اعمال سیۂ میں بھی پیچھے نہیں رہے۔ ان کے نیک اعمال ان کے چہروں پر حسن کی صورت میں نظر آرہے ہیں اور برے اعمال چہروں پر بد صورتی کے طور پر نمایاں ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کے نیک اور مخلص بندوں کے چہروں پر ان کے خلوص اور نیک اعمال کا نور ہوتا ہے اور ان کے بارونق اور نورانی چہروں کو دیکھ کر خدا کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔

    اس کا ایک معنیٰ یہ بھی اخذ کیا جاتا ہے کہ وہ لوگ جن کے اعمال و حرکات، ان کا اٹھنا بیٹھنا، لین دین، عبادات و معمولات اور اخلاق و معاملات اللہ تعالیٰ اور رسول خدا ص۔ع کے احکام کے مطابق ہوتے ہیں انہیں دیکھ کر ایک مسلمان کی عملی زندگی کا نقشہ سامنے آجاتا ہے اور خدا یاد آتا ہے۔ بہر حال جناب نبی کریم ﷺنے فرمایا کہ تم میں سے اچھے لوگ وہ ہیں جنہیں دیکھ کر خدا یا د آجائے۔ آج کی اس بحث کو سمیٹتے ہوئے میں اپنے معزز قارئین سے سے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ خرابیاں کوہ وہ لباس کے معاملہ میں اصراف ہو یا دنیاوی اور غلط مقاصد کے حصول کیلئیے چہرے بدل کر ملنا ہو یہ خرابیاں آج ہمارے درمیان موجود ہیں اور چونکہ ہم ان کے عادی ہو گئے ہیں، اس لیے ہمیں یہ محسوس نہیں ہوتیں اور ہم بلا تکلف یہ حرکتیں کرتے چلے جاتے ہیں۔ ہمیں جناب نبی اکرم ﷺ کے ارشادات اور اسلامی تعلیمات کا بار بار مطالعہ کرنا چاہیے، اس پر غور کرنا چاہیے اور پھر اپنے معمولات اور مزاج و عادات پر نظر ڈال کر اپنی کمزوریوں کو محسوس کرتے ہوئے اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

    شاندار بخاری

    سیّد شاندار بخاری

    مدیر سلطنت آف عمان

    اٹک ویب میگزین