اٹک(ڈاکٹرمحمدسعیدخٹک سے) نواب آباد واہ کینٹ کی رہائشی مسیحی خاتون اریچل مسیح نے آستانہ عالیہ خوشبوئے مدینہ نقیبیہ میں علامہ پیر مفتی رفاقت علی حقانی کے ہاتھوں پر اسلام قبول کر لیاعلامہ مفتی رفاقت علی حقانی نے نومسلم خاتون کا نام ماہ نور فاطمہ رکھا اور ابتدائی ضروری مسائل سے آگاہ کیا
اس موقع پر فاضل و مدرس جامعہ حقانیہ ظاہر العلوم رجسٹرڈ اٹک کینٹ ڈاکٹر علامہ محمد یاسر اعوان ، چیئرمین کاروان حقانیہ پیرزادہ ڈاکٹر محمد شعبان حقانی اعوان ،سید عدنان شاہ گلیال کوٹ فتح خان ، آفیسر کالونی واہ کینٹ محمد باسط بھی موجود تھے۔
مغربی ممالک میں سیٹل ہونا، پاکستان کے بہت سے نوجوانوں کا خواب ہے۔ پاکستان کا بنیادی معاشی مسئلہ وسائل اور دولت کی ناہموار تقسیم ہے۔ اس وجہ سے غریب غریب تر اور امیر امیر ترین ہیں۔ ہمارے ہاں یہ غرباء اور متوسط طبقہ کے لوگ اپنی سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لیئے ترقی یافتہ ممالک کا رخ کرتے ہیں۔ مزے کی بات ہے کہ وہاں رہنے کا خواب بہت سے امیر لوگ بھی دیکھتے ہیں۔ اس کے پیچھے مغربی آزادی اور وہاں ایک محفوظ ٹھکانہ بنانا ہے۔ اگر پاکستان دہشت گردی سے پاک ہو اور خاطر خواہ امن و سلامتی قائم ہو جائے تو یقین مانیں پاکستان میں جنت نظیر زندگی گزاری جا سکتی ہے۔ لیکن ابھی اس منزل تک پہنچنے میں وقت لگے گا۔ بھارت کے خلاف جنگ نے پاکستان کو فتح کے بدلے میں یہ موقع فراہم کیا کہ اب ہر میدان میں پاکستان تیز رفتاری سے ترقی کر سکتا ہے۔
اگر ان امیر ممالک کا سفر بھی کیا جائے تو وہاں سیٹل ہونے میں بھی دو نسلوں کی قربانی دینا پڑتی ہے۔ برطانیہ میں مقیم اس حوالے سے برٹش پاکستانیوں کی حالت زار کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ سچی بات ہے کہ ہجرت صرف سرحد عبور کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ دل خراش منازل سے گزرنے کا عمل ہے۔ بہت سی خوشحال پاکستانی فیملیوں کو صرف اس وجہ سے بے حال دیکھا کہ ان کے پاس سب کچھ ہونے کے باوجود وہ اپنی اولادوں سے تنگ اور نالاں نظر آئے۔ ماں کی آغوش، باپ کی شفقت، بہن بھائیوں کی محبت اور آبائی گھر کو خیرباد کہنا آسان نہیں ہوتا۔نوجوان طلباء اور روزگار کی تلاش میں ہم مادر وطن کو دل پر بھاری پتھر رکھ کر چھوڑ تو دیتے ہیں اور گھر میں خوشحالی بھی آ جاتی ہے مگر اسی دوران کچھ ایسے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جو ہماری بقیہ زندگی پر دکھ اور غم و الم کے گہرے نشانات چھوڑ دیتے ہیں۔ کچھ خواب دیارِ غیر میں دفن ہو جاتے ہیں، اور کچھ نسلوں کے کندھوں پر ادھورے خوابوں کا بوجھ لاد دیتے ہیں۔
پاکستان سے ہجرت کرنے والے لوگ امریکہ، یورپ، کنیڈا اور آسٹریلیا وغیرہ میں بھی مقیم ہیں۔ لیکن برطانیہ میں پاکستانی کمیونٹی کی داستان ایک ایسی گمشدہ نظم کی مانند ہے، جس کے پہلے مصرعے میں محنت کی آہٹ ہے اور دوسرے میں قرب کی دھڑکن ہے۔ 9 سال تک لندن میں رہنے اور وہاں ایک سیکورٹی کمپنی میں جاب اور دیگر شہروں کے وزٹ کے دوران مقامی پاکستانی کمیونٹی سے ملاقاتوں کے بعد اندازہ ہوا کہ برطانوی پاکستانیوں کے بارے میں جو عمومی تصور پایا جاتا ہے، وہ مکمل سچ نہیں ہے۔ ہر فرد کے الگ خواب، تجربات اور تشریحات ہیں۔ ہر کوئی خوش حال ہے نہ خوش ہے، ان میں سے کوئی سمجھتا ہے کہ ہجرت اس کے لئے نشانِ منزل تھی، کسی کو اس پر پچھتاوا ہے، اور ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو "کنفیوژن” کا شکار ہے، جس کو واپسی کا راستہ صاف دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی مستقبل کی منزل دکھائی دیتی ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ پاکستانی کمیونٹی کی کہانی صرف ہجرت، محنت اور قربانی کی داستان ہی نہیں، بلکہ یہ دو تہذیبوں کے بیچ پسے ہوئے لوگوں کا ایک المیہ ہے جو آئندہ نسلوں کے لئے ایک "انتباہ” کی حیثیت رکھتا ہے۔ پہلی نسل، وہ مہاجر مزدور ہیں جنہوں نے سنہ 1960ء اور 70 کی دہائی میں برطانیہ کا رخ کیا۔ ان کی زندگیاں فیکٹریوں، برفیلے ریلوے اسٹیشنوں اور بسوں میں گزر گئیں۔ ان کا واحد خواب یہی تھا کہ آنے والی نسل کو ایک بہتر مستقبل نصیب ہو۔ کچھ لوگوں کے خواب پورے بھی ہوئے۔ لندن کے میئر صادق خان کا والد بس ڈرائیور تھا، سعیدہ وارثی کے والد کارخانے میں مزدور تھے۔ برطانیہ میں "بیسٹ ویز کیش اینڈ کیریز” کے مالک سر انور پرویز ابتداء میں بس ڈرائیور تھے۔ "یعقوب اینڈ سنز” نے بھی ترقی کا سفر نیچے سے اوپر کی طرف کیا۔ جبکہ سابقہ ممبر برٹش پارلیمنٹ اور "یونائٹڈ کیش اینڈ کیریز” کے مالک چوہدری محمد سرور ایک فیکٹری ورکر تھے، جو بعد میں دو بار پنجاب کے گورنر بھی رہے۔ اسی طرح لارڈ نذیر بھی عام ورکر تھے جنہوں نے ترقی کرتے کرتے لارڈ شپ کی منزل کو پایا۔ لیکن "ہر پھول کی قسمت میں کہاں ناز عروساں”، ٹھہر سکتا ہے۔ برطانیہ میں تارکینِ وطن ابتدا میں اپنے خاندانوں کو پاکستان سے ہی چلاتے رہے، پھر وقت کے ساتھ انہیں بھی برطانیہ بلوا لیا۔ بعض نے خوب پونڈ کمائے اور پاکستان میں بلا ضرورت خرچ کر دیئے۔ آج آپ میرپور آزاد، کشمیر یا جہلم جائیں تو دیکھیں گے کہ وہاں بلا مصرف کروڑوں اور اربوں روپے کے بنگلے ویران پڑے ہیں۔ برطانیہ آنے والوں نے دو براعظموں کی تہذیبوں کے درمیان پُل باندھنے کی کوشش کی، لیکن سوچوں میں اتنا فاصلہ تھا کہ دونوں کناروں پر مضبوط ستون نہیں اٹھ سکے۔ یہ نسل اپنے بچوں کو انگریزی بولتا دیکھ کر خوش بھی ہوتی رہی، اور خود کو تنہا بھی پایا۔ اس کشمکش میں وہ اندر ہی اندر خوف زدہ رہے اور دو تہذیبوں کے بیچ بے گھر ہو گئے۔ نہ پاکستان میں کچھ رہا نہ برطانیہ میں کچھ حاصل ہوا۔
برطانیہ میں آج پاکستانی نژاد افراد کی آبادی تقریباً 1.9 ملین (19 لاکھ) ہے، جو کل آبادی کا 2.8 فیصد بنتی ہے۔ یہ کمیونٹی زیادہ تر برمنگھم، بریڈفورڈ، مانچسٹر، لوٹن، پیٹربرو، نوٹنگھم اور لندن کے مضافات میں آباد ہے۔ پہلی نسل کا جو خواب ترقی، سکون اور آسائش کا تھا، وہ دوسری نسل کے لئے بحران بن گیا۔ پاکستان میں رہنے والوں کو شاید اندازہ نہیں کہ برطانیہ میں نئی نسل کے پاکستانی نوجوانوں کی اکثریت تعلیم، روزگار اور سماجی ہم آہنگی میں پیچھے رہ گئی ہے۔
2023ء کی ایک سروے رپورٹ کے مطابق، کئی علاقوں میں پاکستانی نژاد نوجوانوں کی تعلیمی کارکردگی قومی اوسط سے نیچے رہی۔ خاص طور پر بریڈفورڈ اور اولڈھم میں نئی برٹش پاکستانی نسل میں نہ تعلیم، نہ ملازمت اور نہ ہی تربیت ہے۔ اس کی شرح تشویش ناک ہے۔
مزید یہ کہ کچھ نوجوان جرائم، گینگز، اور منشیات کی دلدل میں پھنس چکے ہیں۔ پیٹربرو میں کمیونٹی لیڈران آپ کو انہی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے ملیں گے کہ کیسے نوجوانوں کو ان گینگز سے نکالا جائے، اور دوسرے نوجوانوں کو ان کے راستے پر چلنے سے روکا جائے۔ لیکن کسی کے پاس بھی کوئی حتمی رائے یا حل نہیں ہے۔ بعض کا خیال ہے کہ یہ خرابیاں بطور کمیونٹی نہیں، بلکہ برطانوی نظام کی ناکامی ہے، یہ وہ نوجوان ہیں جو یہاں ہی پیدا ہوئے، یہاں ہی پلے پوسے، ان میں اکثریت ایسوں کی ہے جو کبھی پاکستان گئے ہی نہیں اور گئے بھی ہیں تو ایک دو بار۔ اگر یہ خرابی کی طرف گئے بھی ہیں تو اپنے برٹش ہم رکابوں کے اکسانے پر۔ یہ سارا بوجھ نظام پر نہیں ڈالا جا سکتا، والدین کی بھی کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں، یہ نوجوان اعلی تعلیم یافتہ بھی نہیں اور نہ ہنر مند ہیں، بس انگریزی بول لیتے ہیں، وہ تعلیم اور ہنر تو نہ ہوا۔ ان کا انگریزی لہجی بھی بڑا عجیب و غریب اور "سلینگ” سا ہوتا ہے۔ پاکستانی برٹش بارن انگریزی بولتے وقت کچھ اور نسل ہی لگتے ہیں۔ نہ وہ دیسی پاکستانی معلوم ہوتے ہیں اور نہ وہ پکے انگریز دکھائی دیتے ہیں۔ انہیں "کاٹھے انگریز” کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ جب تعلیم و ہنر اور محنت کا جذبہ نہیں ہو گا تو باعزت روزگار نہیں ملے گا، تو اس نے خرابیوں کی طرف جانا ہی جانا ہے۔ 2021ء میں مانچسٹر، لیڈز اور بریڈفورڈ کی پولیس رپورٹس میں چاقو زنی، منشیات کی ترسیل، اور گینگ وائلنس میں ملوث نوجوانوں میں پاکستانی نژاد افراد کا ذکر نمایاں ملے گا۔ پھر وہ بدنام زمانہ "گرومنگ گینگز” اسکینڈل سامنے آیا، روتھرم، ٹیلفورڈ، ہڈرزفیلڈ، روچڈیل، اوکسبرج، اور نیوکاسل جیسے شہروں میں ایسے دل خراش انکشافات ہوئے جن میں پاکستانی نژاد نوجوانوں کے ملوث ہونے سے پوری کمیونٹی کی ساکھ متاثر ہوئی۔ حالانکہ یہ چند افراد کے انفرادی جرائم تھے، مگر میڈیا اور بھارتی لابیوں نے اسے پوری قوت کے ساتھ پاکستانی کمیونٹی کے خلاف استعمال کیا۔ نتیجتاً پاکستانی نوجوانوں کے خلاف نفرت، سوشل میڈیا مہمات، حتیٰ کہ "اسلاموفوبک” حملوں میں اضافہ ہوا۔ سیاسی ایوانوں میں مخالفانہ تقریریں ہوئیں اور سڑکوں پر مظاہرے بھی ہوئے۔ پریس کی سرخیاں ہوں یا عوامی تاثرات، "ایشین گینگ”، "منشیات فروش”، اور "ریپ کلچر” جیسے الفاظ پوری کمیونٹی پر بدنما داغ بن کر چپک گئے، خاص طور پر کنزرویٹو ذہنیت کے گورے پاکستانیوں کے لئے واپس بھیجو کی مہم چلاتے رہے اور وقتا فوقتا اس میں تشدد بھی شامل ہو جاتا تھا جو تشویش ناک ہے۔ جس پر وہاں سنجیدہ حلقوں کو آج بھی خاصی تشویش ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی ان وجوہات پر غور کیا جنہوں نے ان بچوں کو اس راہ پر دھکیلا؟ کیا یہ صرف ان کی کوتاہی ہے یا برطانوی نظام کی ناکامی؟ کیا کبھی پاکستانی سفارت خانے نے کمیونٹی مسائل پر سنجیدہ غور کیا۔ کمیونٹی کے نمائندوں سے کبھی ملاقات کی، ان کے مسائل سنے، یا انہیں کبھی سمجھانے کی کوشش کی؟ جن نوجوانوں نے یہاں آنکھ کھولی، انگریزی میں سوچا، وہ آج بھی شناخت کے بحران میں مبتلا ہیں۔ وہ نہ مکمل "برٹش” ہیں، نہ "پاکستانی” ہیں۔ اسکولوں میں نسلی تعصب، سڑکوں پر "واپس جاؤ” کی آوازیں، اور گھروں میں ثقافتی ٹکراؤ انہیں الجھن میں ڈال دیتا ہے۔ اس مد میں پاکستانی فیملیوں کو بچوں کی شادیوں کا مسئلہ لاحق ہے جن میں 70فیصد تک طلاق ہو جاتی ہے۔
لندن اور نوٹنگھم کے پارکوں میں واک کے دوران نکلو تو رات گیارہ بجے کے بعد ٹرام بند ہو جاتی ہے تو وہاں گینگسٹرز کا راج قائم ہو جاتا ہے، جن میں ہمارے ایشیائی نوجوان بھی شامل ہیں۔”
برطانیہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں مستقل ہجرت کرنے سے پہلے سو بار سوچنا چاہئے۔ وہاں بہت سے لوگ "نسل پرستی” کا بھی شکار ہوتے ہیں۔ وہاں "مگنگ” اور چاقو زنی بھی ہوتی ہے اور کالے لوگ راہ گیروں پر بھی حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ اور وہاں جسم فروشی بھی ہوتی ہے۔
ایک دفعہ ایک پاکستانی نوجوان سے لندن کناری وارف میں ملاقات ہوئی، جو فٹبال ٹیم کے ساتھ آیا تھا۔ میں نے اس سے سوال کیا، تو وہ کہنے لگا، "میرے والدین مجھے پاکستانی بنانا چاہتے ہیں، اسکول والے مجھے برٹش نہیں مانتے، اور میں خود کو کچھ بھی نہیں سمجھتا۔” یہی شناخت کا بحران، یہی خلاء، کئی ذہنوں کو اندھیرے میں لے جاتا ہے۔ پہلی نسل کی قربانیوں کی حفاظت کے لیے دوسری نسل کو تعلیم، تربیت اور رہنمائی دینا ضروری ہے لیکن توازن کے ساتھ۔ انہیں مجرم نہیں، ایک بگڑے ہوئے خواب کی تعبیر سمجھ کر سنوارنے کی کوشش کرنا پڑتی ہے۔ ورنہ ہجرت کی یہ داستان ایک اور ادھورا باب بن کر تاریخ کے ملبے تلے دب جاتی ہے۔ جہاں خواب تو تھے، تعبیر نہ ملی، نسلیں تھیں، مگر زبانیں جدا۔ خیر ایسا سب کے ساتھ نہیں ہوتا۔ بہت سے ہجرت کرنے والے پاکستانیوں کی تقدیر بدل گئی۔ وہ وہاں آج بھی اچھی زندگی گزار رہے ہیں۔ بس ساری بیماریوں کا ایک ہی حل ہے کہ نوجوانوں کو یونیورسٹیوں تک پہنچایا جائے۔ میں سمجھتا ہوں کہ برطانیہ میں تارکین وطن کے لئے یہ وقت صرف افسوس یا شکوے کا نہیں، بلکہ اقدام کا ہے۔ اسکولوں، کمیونٹی سینٹرز اور مساجد کو مل کر نئی نسل کی ذہنی رہنمائی، تربیت اور ترقی کے مواقع پیدا کرنا ہوں گے۔ بدقسمتی سے پاکستانی کمیونٹی میں نہ کوئی مشترکہ تنظیم ہے اور نہ ہی اتحاد کی فضا۔ مسلک پرستی نے یہاں بھی، بالکل پاکستان کی طرح، کمیونٹی کو تقسیم در تقسیم کر دیا ہے۔ میں دیکھتا تھا کہ مولوی حضرات نے لوگوں کو جوڑنے کی بجائے پارہ پارہ کر دیا۔ ایک دفعہ ایک کمیونٹی اجلاس میں جس میں پیٹربرو کا سابق مئیر اور اس وقت کا ایک کونسلر بھی موجود تھا، جن میں ایک سابق کونسلر ایسا بھی تھا جو 1965ء میں برطانیہ آیا تھا، ایک دوسرے کو صرف اس وجہ سے کوس رہے تھے کہ یہاں چھ ہزار ہندوں نے اپنے لئے کمیونٹی سینٹر لے لیا لیکن 30 ہزار مسلمانوں کے لئے ابھی تک کمیونٹی سینٹر نہیں بنا۔ لندن کی ایک بڑی مسجد میں عیدالاضحیٰ کے روز دو گروپوں کے درمیان دھینگا مشتی بھی دیکھی۔ اگلے جمعہ کے روز، جب ہم چند دوست وہاں تھے، تو دیکھا کہ مسجد کے منبر سے گزشتہ واقعات کی مذمت کی جا رہی تھی۔
دوسرے یورپی ممالک کی طرح، برطانیہ میں مسجد کی تلاش میں دور دراز جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ خاص طور پر لندن میں جگہ جگہ مسجدیں ہیں۔ سنٹرل لندن، سٹریٹفورڈ، ال فورڈ، لیٹن سٹون، لیٹن، سینٹرل لندن، پیکاڈلی اور والتھم سٹو وغیرہ کی تقریبا تمام مساجد میں جمعہ پڑھنے کا موقع ملا۔ ماشاءاللہ ایک ہی گلی یا محلے میں دو دو مساجد بھی دیکھیں، اور وہاں تقریباً ہر مسلک کی نمائندگی نظر آتی ہے۔ خاص طور پر پیٹربرو کو مسجدوں کا شہر بھی کہا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ مساجد دین کی اشاعت کی بجائے مسلکی تفریق کی علامت بن چکی تھیں۔ ہر محلے میں ایک مولوی ایسا ضرور موجود تھا جو اپنی تقریر سے مسلمانوں کی تعداد کم کرنے پر تُلا ہوا لگتا تھا۔ میں جس مسجد میں نمازِ جمعہ ادا کرتا، وہاں کے خطیب اردو اور پنجابی میں تقریر فرما رہے ہوتے تھے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج کے اہم عالمی مسلم مسائل سے صرفِ نظر کر کے وہ بار بار "منافق” کی تعریف بیان کر رہے ہوتے تھے۔ ان کی مثالوں اور اندازِ بیان سے صاف ظاہر ہو رہا ہوتا تھا کہ وہ کس فرد یا طبقے کو مخاطب کر رہے ہیں۔ مسجد میں نمازیوں کی تعداد بظاہر سینکڑوں میں ہوتی تھی، لیکن ان کی گفتار، لباس اور عمومی بود و باش سے یہ احساس نہیں ہوتا تھا کہ وہ کسی ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں علم، تہذیب، سائنس و ٹیکنالوجی اور فکری قیادت کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ نماز کے بعد جب میں مسجد سے باہر نکلتا تھا تو گلی کے دوسرے کونے پر اسی مسلک کی ایک اور مسجد نظر آتی تھی۔ ایک ہی مسلک کی دو الگ الگ مساجد بھی نظر آتی تھیں۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ برطانیہ میں اب مسجدیں مسالک سے بھی آگے نکل گئی ہیں، چوہدریوں کی مسجد، راجوں کی مسجد جاٹوں کی مسجد، وغیرہ وغیرہ اور تب اسی پر تلخی بھی ہوتی دیکھی اور لڑائیاں بھی۔
اس صورت حال کے پیش نظر آج بھی سوچتا ہوں کہ اگر پاکستان میں باعزت روزگار ہے تو قید تنہائی کاٹنے سے اپنا ملک، اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کی قربت ہی بہتر ہے کہ وہاں جا کر میں اکثر فکر مند رہتا تھا کہ برطانیہ میں پیسہ تو اکٹھا کر لیا مگر بہت کچھ کھو بھی دیا۔ بہت سے ایسے رشتے اس 9 سال کے عرصے میں دنیا سے رخصت ہو گئے۔ کئی بار پریشان ہوتا تھا تو سوچتا تھا کہ پونڈوں کا بھرا بریف کیس "دریائے تھیمز” میں پھینک کر واپس پاکستان چلا جاؤں مگر پھر پاکستان کی غربت اور بے روزگاری یاد آتی تھی، نہ لندن رہنے کو جی کرتا تھا اور نہ واپس پاکستان آنے کو۔ یہ دنیا داری اور امیر بننے کی خواہش ایسی ذہنی کشمکش تھی جو "نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم” سے ملتی جلتی ہے۔ انگلینڈ میں رہنے کو یاد کرتا ہوں تو آج بھی ایک عجیب و غریب سی ذہنی بیگانگی محسوس ہوتی ہے۔
ایسی عورت جس کے شوہر کا انتقال ہو جائے عربی زبان میں اسے أرملة اور اردو زبان میں بیوہ کہتے ہیں۔عورت کے نام کے ساتھ یہ لفظ جڑتے ہی اس کےلئے ایک کھٹن اذیت ناک اور مشکل ترین سفر کا آغاز ہوتا ہے ۔اور اگر کوئی عورت کم عمری میں بیوہ ہو جائے تو یہ سفر مزید لمبا اور مشکل ہو جاتا ہے ۔ شوہر کے انتقال کے ساتھ ہی عورت پر مصائب کے جو پہاڑ ٹوٹتے ہیں ان میں سب سے بڑا مسئلہ وراثت کی تقسیم ہوتا ہے ۔اکثر گھرانوں میں بیواؤں اور یتیم بچوں کو وراثت میں ان کے حق سے محروم کر دیا جاتا ہے۔ اور سسرالی رشتہ دار ان کا یہ حق غصب کر لیتے ہیں ۔ اللہ تعالی نے مرد کو قوام بنایا اور عورت کی عزت کی حفاظت اور تمام تر معاشی ذمہ داریاں اللہ تعالی نے مرد کے سپرد کی ۔لہذا مرد عورت کے لیے ایک ایسا مضبوط قلعہ ہے کہ جب وہ اس میں داخل ہو جاتی ہے تو وہ ہر طرح کے حملوں سے محفوظ ہو جاتی ہے ۔اور مرد ایک مضبوط محافظ کی طرح اس کی نگہبانی کرتا ہے ۔مگر جب یہ محافظ نہ رہے اور یہ قلعہ ڈھا جائے تو عورت ہر طرف سے حملوں کی زد میں آ جاتی ہے ۔ عورت چاہے مالی طور پر مضبوط ہو پڑھی لکھی ہو مگر اس کو ایک محافظ کی ضرورت ہمیشہ رہتی ہے۔ ۔پھر ایسے معاشرے میں رہتے ہوئے جو بیوہ کے اصل حقوق سے نا واقف ہو اور بیوہ کے ساتھ منفی رویہ ہندو تہذیب و تمدن کے تحت رکھیں ۔ ہندو مذہب میں اگر کوئی عورت بیوہ ہو جاتی تو اس کو شوہر کے ساتھ ہی جلا دیا جاتا جس کو ستی کی رسم کہا جاتا ۔ستی کی رسم کا خاتمہ انگریز دور میں ہوا جب گورنر جنرل ولیم بینٹنک نے دسمبر 1829 میں اس قبیح رسم پر پابندی عائد کی اس رسم پر پابندی عائد ہونے کے باوجود بھی بیوہ کے ساتھ ظلم ختم نہیں ہوا ہندوستان میں آج بھی بیوہ کے ساتھ بہت بدترین سلوک کیا جاتا ہے ۔اب اس کو شوہر کے ساتھ زندہ جلایا تو نہیں جاتا مگر اس کی زندگی کسی مردہ سے کم نہیں ۔ہندو مذہب میں بیوہ عورت کے نکاح کرنے کو انتہائی برا سمجھا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اگر کسی عورت کا شوہر انتقال کر جائے تو اس کا پھر دنیا سے کوئی لینا دینا نہیں ہے سر منڈوا کے سفید لباس میں ملبوس هو کے تاحیات گھر کے کسی ایک کونے میں پڑی رہے۔اس کے برعکس اسلام بیوہ عورت کو زندگی گزارنے کے ویسے ہی حقوق دیتا ہے جیسے کہ شوہر کی موجودگی میں اس کو حقوق حاصل تھے ۔قبل از اسلام عربوں میں بیوہ عورت کی مدت عدت ایک سال تھی ۔اور اس ایک سال میں اس کو کپڑے بدلنے نہانے یہاں تک کہ منہ دھونے کے لیے بھی پانی نہ دیا جاتا اور انتہائی غلیظ حالت میں جانوروں کی طرح اسے بند کر دیا جاتا۔اور اس کے بعد شوہر کی وراثت کے ساتھ اس کی بیویاں بھی تقسیم ہوتی ۔اسلام کے آنے کے بعد یہاں ہر پسے ہوئے اور مظلوم طبقے کو اس کے حقوق ملے انہی میں سے ایک بیوہ خواتین بھی تھی ۔اسلام میں بیوہ عورت کی عدت کی مدت چار ماہ 10 دن ہے اور اس مدت کو گزارنے کے بعد وہ اپنے ہر فیصلے میں آزاد ہے وہ دنیا کے ہر کام میں اسی طرح سے حصہ لے سکتی ہے جیسے کہ وہ اپنے شوہر کی موجودگی میں لیتی تھی اور اسی طرح سے بھرپور زندگی گزارنے کی حقدار ہے ۔عدت گزارنے کے بعد اسے نکاح کرنے کا پورا حق ہے .ہمارے معاشرے میں عموما عورت کے نکاح ثانی کو میعوب خیال کیا جاتا ہے ۔جبکہ اگر کوئی عورت کم عمری میں بیوہ ہو جاتی ہے تو اس کے لیے دوسرا نکاح کرنا ضروری اور بہترین ہے تاکہ وہ بہت سے مسائل اور مشکلات سے بچ سکے ۔دین اسلام میں ہمیں اس کی بہت سی اور بہترین مثالیں ملتی ہیں اور آج بھی عرب معاشرے میں یہ چیز موجود ہے کہ بیوہ کو بغیر نکاح کے نہیں رہنے دیا جاتا ۔تاریخ اسلام پر نظر دوڑاتے ہیں اور دیکھتے ہیں سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالی عنہا کو جنگ موتہ کے موقع پر وہ اپنے محبوب شوہر کے انتظار میں ہیں ۔بچے بھی باپ کے انتظار میں تیار بیٹھے ہیں ۔ اور پھر ان کو خبر ملی زندگی کہ ہم سفر ہجرت کے ساتھی سیدنا جعفر طیار رضی اللہ تعالی عنہ جام شہادت نوش فرما چکے۔
اگر ایسا ہمارے معاشرے میں ہوتا تو عورت کو تنہا چھوڑ دیا جاتا ۔مگر وہ نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے تربیت یافتہ وسیع القلب لوگ تھے وہ کیسے ایک ناتواں عورت کو حالات اور جذبات کے حوالے کر کے تنہا چھوڑ سکتے تھے۔مدت عدت گزرنے کے بعد سیدہ اسما بنت عمیس رضی اللہ تعالی عنہا کو انبیاء کے بعد سب سے افضل ترین انسان سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی زوجیت میں قبول کیا ۔ ۔بچوں کو شفیق اور بہترین باپ مل گیا اور سیدہ اسماء کو اللہ تعالی نے بہترین شوہر عطا کیے ۔ اللہ تعالی نے آپ کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے ایک بیٹا عطا کیا ۔ کچھ عرصہ بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کا بھی انتقال ہو گیا ۔ ہمارے معاشرے میں عورت کا دو دفعہ بیوہ ہو جانا عورت کی نحوست قرار دیا جاتا ہے۔ مگر وہ نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے تربیت یافتہ غیور اور بہترین لوگ تھے ۔ اس دفعہ آگے بڑھے سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہ اور سیدہ اسماء بنت عمیس کو اپنی زوجیت میں لے لیا۔ سیدنا علی رضی اللہ تعالی عنہا سیدنا جعفر طیار رضی اللہ تعالی عنہ کے بھائی تھے نہ صرف انہوں نے اپنے بھتیجوں کی کفالت اور پرورش کی بلکہ فرزند ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کو بھی اسی طرح سے پیار اور محبت سے پالا ۔ اب تاریخ اسلام کا اگلا ورق پلٹتے ہیں اور دیکھتے ہیں ایک اور خوش نصیب صحابیہ کو جس کے بارے میں مدینہ میں مشہور تھا کہ جس کو شہادت کی طلب ہو وہ ان سے نکاح کر لے ۔جن کو یہ سعادت ملی کہ ایک کے بعد ایک جلیل القدر صحابہ نے ان سے نکاح کیا ۔سیدہ عا تکہ رضی اللہ تعالی عنہا کا پہلا نکاح زید ؓابن الخطاب سے ہوا جنہوں نے جنگ یمامہ میں جام شہادت نوش کیا ۔اس کے بعد آپ کا دوسرا نکاح عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ تعالی عنہا سے ہوا ۔حضرت عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ تعالی عنہ نے ایک دن فرط محبت میں سیدہ عاتکہؓ سے عہد لیا کہ اگر میں انتقال کر جاؤں تو میرے بعد تم دوبارہ نکاح نہیں کرو گی ۔ کچھ عرصہ بعد حضرت عبداللہ شہید ہو گئے ۔ دور نبوی میں بیوہ عورت کو تنہا چھوڑنے کی مثال ناپید تھی ۔حضرت عمرؓ نے سیدہ عا تکہؓ کو پیغام نکاح بھیجا جو کہ حضرت عمرؓ کی چچا زاد بھی تھی ۔اور اب آپ حضرت عمر کی زوجیت میں آگئیں ۔ کچھ عرصہ بعد سیدنا عمر رضی اللہ تعالی عنہ بھی شہید ہو گئے ۔عدت پوری ہونے کے بعد عشرہ مبشرہ صحابہ میں سے ایک حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالی عنہ نے اپ کو پیغام نکاح بھیجا اور آپ نے اس پیغام کو قبول فرمایا ۔ کچھ عرصہ بعد حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالی عنہ بھی شہید ہو گئے ۔ اور اب آپ کے بارے میں عرب میں مشہور ہو گیا کہ جس کو شہادت کی تمنا ہو وہ عا تکہؓ سے نکاح کر لے اسی مناسبت سے آپ کو شہداء کی زوجہ بھی کہا جاتا ہے ۔ حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ تعالی عنہ کی شہادت کے بعد آپ سیدنا حسین بن علی رضی اللہ تعالی عنہا کے نکاح میں آئیں ۔ اور اتفاق یہ کہ حسین رضی اللہ تعالی عنہ بھی واقعہ کربلا میں شہید ہوئے ۔مگر اس واقعہ سے قبل سیدہ عا تکہ رضی اللہ تعالی عنہا وفات پا چکی تھیں۔ اب ان مثالوں کا تقابل اگر ہم اپنے معاشرے سے کریں تو دیکھیے ہمیں کیسی تنگ نظری تو ہم پرستی اور نیچ سوچ ملتی ہے ۔ اسلام شوہر کے جانے کے بعد عورت کی زندگی کو ختم نہیں کرتا بلکہ عورت کو زندہ رہنے کا زندگی گزارنے کا بھرپور حق دیتا ہے ۔اس کو اپنی زندگی نئے سرے سے دوبارہ شروع کرنے اور اپنی زندگی کے معاملات کو سہولت کے ساتھ گزارنے کے لیے ایک مرد کی ضرورت ہے۔ اپنے بچوں کی کفالت اور سرپرستی کے لیے ایک مرد کا وجود لازم ہے ۔عورت اگر مالی طور پر مستحکم ہے اسے پھر بھی مرد کے سہارے کی ضرورت ہے اس کی مثال ہمارے سامنے ام المومنین سیدہ خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ موجود ہیں جو کہ مکہ کے امیر ترین لوگوں میں سے ایک تھی ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کا پہلا نکاح نہیں تھا مال و دولت کی باوجود انہوں نے دوبارہ نکاح کرنا اور مرد کے سہارے کو ضروری سمجھا ۔کیونکہ یہ عورت کی فطری ضرورت ہے۔ اسلام عورت کے گھر بسانے کو ترجیح دیتا ہے نہ کہ گھر بٹھانے کو ۔ اگر ہم اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں تو ہمیں کتنی ہی بیوہ اور طلاق یافتہ عورتیں ابتر حالت میں نظر آئیں گی ۔ کیونکہ اس بات کوعورت کا وقار خیال کیا جاتا ہے کہ اس نے دوسری شادی نہیں کی جب کہ یہ سراسر اس عورت کے ساتھ ظلم ہے ۔ دنیا کی غلیظ نظریں دوسری عورتوں کے طنز کہ نشتر بچوں کی تعلیم و تربیت اور مالی ذمہ داریوں کہ بوجھ تلے ایک ناتواں عورت کو دفن کر دینا, کہاں کا انصاف اور عقلمندی ہے۔ عورت کو دوبارہ نکاح کا حق اسلام نے دیا ہے۔ اسلامی خاندانی نظام میں عورت کو ایک فعال اور مضبوط رکن کی حیثیت حاصل ہے۔ اسلام عورت کے گھر بسانے کو اور اور خاندانی نظام کو مضبوط کرنے کا زبردست حامی ہے۔ نہ کہ اس کو مظلوم لاچار اور رحم کا مستحق بنانے کا ۔ ہم سب کو اپنی سوچ میں مثبت تبدیلی کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنے معاشرے کے اس مظلوم طبقے کے لیے اپنے دلوں اور اپنی سوچ میں وسعت پیدا کر سکے ۔
عموما مذہب اور سائنس کو ایک مغالطہ کے زیر اثر ایک دوسرے کا متضاد یا مدمقابل قرار دیا جاتا ہے۔ بالخصوص اسلام کو سائنس میں ڈھونڈنے کا الزام اسی ایک سطحی سوچ کا نتیجہ ہے۔ پوری قرآنی آیات اور تعلیمات و احادیث مبارکہ میں کسی ایک جگہ پر بھی سائنس اور ٹیکنالوجی یا دیگر جدید علوم کے برخلاف کوئی بات نہیں کہی گئی ہے۔ چہ جائیکہ کہ قرآن کریم کبھی تفصیلا اور کبھی اشاروں کنایوں میں دین اسلام کے عالمگیر علوم اور زندگی کے عملی قواعد و ضوابط کا ایک مکمل اور بھرپور نمونہ پیش کرتا ہے۔
قرآن کریم کے شائد بہت کم محققین اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ قرآن مقدس میں قیامت تک کی جدید سے جدید تر سائنسی و آفاقی تعلیمات کے بارے میں ارشادات باری آیات کی صورت میں موجود ہیں۔ اگر کسی قاری یا مفسر کی نظر اس طرف نہیں جاتی تو یہ ان کا قصور ہے قرآن مجید کا نہیں ہے۔ آسمانوں میں جو کچھ ہے وہ اللہ تعالی کے قبضہ قدرت میں ہے جن کو رب کائنات نے غیر متبدل اور اٹل طبیعاتی قوانین کے مطابق قائم رکھا ہوا ہے۔ قرآن بلیغ میں ایک ایک آیت کے لامتناہی مطالب اور مفاہیم ہیں جن کو وقت کے قدیم اور جدید پیمانوں پر جب بھی پرکھا جائے گا وہ ان کے معیار اور مقام پر عین پورا اتریں گے۔ قرآنی آیات کو اسی لیئے "آیات آفاق” بھی کہا جاتا ہے کہ ان سے ہر آنے والے جدید دور میں اس کے تقاضوں اور ضروریات کے مطابق ہمیشہ معانی اور مطالب نکلتے رہیں گے۔ اگر قرآن کی کچھ آیات کا لفظی ترجمہ کیا جاتا ہے، ان کی معنویت سے کچھ ناپسندیدہ چیز برآمد کی جاتی ہے تو اس میں انسانی فہم و فراست کی لغزش ہے ورنہ قرآن اقدس میں کسی بھی جگہ کم بیشی کی کوئی گنجائش نہیں ہے یعنی قرآن فرقان کے ہم قارئین اور مبصرین و مبلغین کو کوئی غلطی لگ سکتی ہے مگر قرآن حکیم میں کسی غلطی یا لغزش کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
قرآن پاک میں مثال کے طور پر ایک آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ، "اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو اور تفرقے میں نہ پڑو،” جس کا ایک مطلب و مفہوم "اللہ کی رسی” سے متعلق ہے اور دوسرا "تفرقہ میں نہ پڑو” کے بارے میں ہے۔ اللہ کی رسی کو طبیعات کے بنائے گئے سائنسی قوانین سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے اور اسے انسانوں کے درمیان اتحاد و اتفاق سے بھی موسوم کیا جا سکتا ہے جبکہ تفرقے میں نہ پڑو سے مراد یہ بھی لیا جا سکتا ہے کہ اللہ کے بنائے ہوئے انہی سائنسی قوانین میں زندگی اور کائنات کو سمجھنے کی کوشش کرو اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو بھٹک جاو’ گے اور ناکام رہو گے۔
اللہ کی یہ رسی پوری کائنات کا احاطہ کیئے ہوئے ہے اور اس نے کائنات کی ایک عام سی چیز لکڑی اور پتھر وغیرہ سے لے کر زمین، چاند ستاروں اور کہکشاو’ں کو سائنس کی زبان میں کہا جائے تو "کشش ثقل” کے ذریعے ایک مضبوطی کے ساتھ باندھ رکھا ہے۔ یہ کائنات تب تک قائم رہے گی جب تک اللہ چاہے گا۔ جب اللہ تعالی اپنی اس "رسی” (Gravity) کو کو کھول دے گا یا ختم کر دے گا تو سارے ستارے اور سیارے آپس میں ٹکرا جائیں گے اور "قیامت” برپا ہو جائے گی جس کی سائنس اور مذہب دونوں تصدیق کرتے ہیں کہ بلآخر ایک دن یہ کائنات منہدم ہو جائے گی۔
اس آیت کریمہ سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اگر ہم بنی نوع انسان زندگی، کائنات اور اپنے روزمرہ کے معاملات کو ان مصدقہ سائنسی اور فطری اصولوں اور قاعدوں کے مطابق نہیں چلائیں گے تو ہماری زندگی نہ صرف پرآسائش نہیں ہو گی بلکہ اس سے ہر دم ہمارا سامنا ایک "قیامت صغری” سے رہے گا۔ اس آیت مبارکہ کا ترجمہ اور مفہوم "مذہبی تفرقے” کے حوالے سے کیا جائے تو قرآن پاک میں واضح طور پر تفرقوں یا "فرقہ بندی” سے منع کیا گیا ہے مگر قرآن حمید کی اس آیت کریمہ کے برعکس مسلمانوں کی اکثریت خود کو سنی، شیعہ، وہابی، دیوبندی اور اہل حدیث وغیرہ کہلانے میں فخر محسوس کرتی ہے حالانکہ یہ تمام فرقے قرآن کی اس آیت کو جھٹلاتے ہیں یعنی قرآن حکیم مسلمانوں کو فرقہ بندی سے منع کرتا ہے مگر ہم مسلمانوں کی اکثریت ان پر ایمان رکھتی ہے۔
قرآن عظیم کی اس آیت مبارکہ کا دین اسلام پر صحیح اطلاق کیا جائے تو اس کی روشنی میں مسلمانوں کے تمام فرقے قرآن کے متضاد اور متوازی "فرقے” یا "مذاہب” ہیں جن کا دین اسلام سے کوئی لینا دینا ہے، نہ اس کی مثال نبی پاک ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہا کی زندگیوں میں ملتی ہے اور نہ ہی صالحین ان پر ایمان رکھتے ہیں۔
دین اسلام بہت سادہ اور سائنسی قواعد کا ضابطہ حیات ہے جن سے انحراف اسی طرح کی تنزلی سے دوچار کرتا ہے جس طرح سے آج مسلم دنیا زوال سے گزر رہی ہے۔ قرآن مجید میں وہ سائنس علوم بھی ہیں جن پر عمل کر کے حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں ملکہ بلقیس کا تخت لایا گیا تھا۔ آج دنیا جدید سائنسی علوم "ٹائم ٹریول” (Time Travel) اور "ٹیلی پورٹیشن” (Teleportation) وغیرہ کے زریعے ان قرآنی علوم تک عملی رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اسی طرح "مصنوعی ذہانت” (Artificial Intelligence) کے اشارے بھی قرآن پاک میں جا بجا موجود ہیں کیونکہ قرآن حمید میں مختلف حوالوں سے انسان کو عقل سے کام لینے اور غوروفکر کرنے کا 750 مرتبہ سے زیادہ زکر آیا ہے۔
یہاں تک کہ آئندہ صدیوں میں آنے والا کوئی بھی نیا، جدید یا سائنسی علم ایسا نہیں ہو گا کہ جس کی ابتداء کے بارے میں قرآن مجید میں ارشادات ربانی اعلانیہ یا مخفیہ صورت میں نہ ملتے ہوں۔ یوں غور سے دیکھا جائے تو قرآن پاک خود ایک "اسلامک سائنس” ہے جو کسی بھی طرح سائنسی علوم کے متوازی یا متضاد ہے اور نہ ہی ان علوم کے حصول سے کسی جگہ منع کرتا ہے۔
مغرب میں جو سائنسی انقلاب آیا اس کی وجہ "تحریک احیائے علوم” تھی جسے انگریزی زبان میں Renaissance کہا جاتا ہے. بنیادی طور پر یہ فرانسیسی لفظ ہے جس کا اردو ترجمہ دوبارہ جنم Rebirth ہے۔ مغربی احیاء کی یہ علمی و اصطلاحی تحریک چودھویں صدی میں پہلی بار مڈل ایجز (Middle Ages) کے خاتمے کے بعد اٹلی سے متعارف ہوئی تھی جس کو عروج سنہ 1490ء سے لے کر 1520ء تک حاصل ہوا۔ یہ تحریک یورپین جدید سائنسی علوم اور کلاسیکل تہذیب کی تجدید نو سے متعلق ہے۔ مسلم دنیا میں بھی ایک دن اسی طرح علمی اور تہذیبی انقلاب آئے گا جب وہ اپنے اسلامی علوم کا احیاء جدید ترین سائنسی علوم کی روشنی میں کریں گے۔ لیکن مسلمانوں میں اس نوع کا "سائنسی انقلاب” اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک وہ مذہبی تفرقہ جات سے باہر نہیں آتے یا اپنے حاضر درسی علوم کو قرآن مجید کی تعلیمات اور سائنسی علوم میں نہیں ڈھالتے ہیں۔
ایک حدیث مبارکہ ﷺ کا مفہوم ہے کہ، "علم حاصل کرو خواہ تمھیں چین ہی کیوں نہ جانا پڑے،” جس سے واضح طور پر ثابت ہوتا ہے کہ اسلام دینی و اخروی علوم کے علاوہ دنیاوی اور عصری علوم کو سیکھنے کا بھی برابر درس دیتا ہے جس کو قرآن پاک کی اس آیت سے بھی تقویت ملتی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ مومن دنیا میں بھی کامیاب ہوتا ہے اور آخرت میں بھی کامیاب ہوتا ہے۔
اگر قرآن پاک مومنین کی اخروی کامیابی کو دنیا میں کامیاب ہونے سے مشروط کرتا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی مسلمان مومن ہو یا ایک عام غیرمسلم ہو وہ جدید یا سائنسی علوم کو حاصل کیئے بغیر کامیابی حاصل کرے یا ترقی کر سکے؟ لھذا یہ سوال ایک لایعنی سی بات ہے کہ سائنس اور مذہب ایک دوسرے کے متضاد یا متوازی مضامین ہیں۔ یہ تو ایک سادہ سی منطقی بات ہے کہ دنیا کی کوئی بھی قوم یا معاشرہ تب تک ترقی کر ہی نہیں سکتا جب تک وہ نئے اور جدید علوم پر دسترس حاصل نہیں کرے گا۔
دنیا کا کوئی دوسرا مذہب یا عقیدہ بھی اس وقت تک عوام الناس تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا یے جب تک وہ جدید علوم سے ہم آہنگ نہ ہو یا نہ ان کا پرچار نہ کرتا ہو۔ جبکہ اسلام تخت صبا سے لے کر "واقعہ معراج” تک زمان و مکان (Time and Space) کی ہر قید کو سائنسی اور جدید علوم کے بل بوتے پر عبور کرتا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو سائنس کو قرآن میں ڈھونڈنے کا کوئی سوال نہیں ہے بلکہ قرآن تو خود روحانی اور سائنسی علوم کے ہر دور کا جدید ترین منبع ہے۔
یہ تب کی بات ہے جب راقم الحروف نوے کی دہائی میں لندن کے اردو ہفت روزہ "پاکستان” اور معاصر کثیر اشاعتی روزنامہ "جنگ” لندن ایڈیشن میں مضامین لکھتا تھا۔ میرا ہفتہ بھر میں صرف ایک کالم شائع ہوتا تھا۔ لیکن وہ کالم خصوصی رنگین صفحہ کی اشاعت پر چھپتا تھا۔ لکھنے کا نیا نیا شوق تھا اور بے بہا خوشی ہوتی تھی۔ ان دنوں شاعری کا بھی بہت شوق تھا۔ میری اردو شاعری کی ایک کتاب "نیلے چاند کا عکس” سنہ 2001ء میں فیصل آباد سے انجم سلیمی صاحب کے ادارے "سرائے خیال” نے شائع کی۔ اسی سال میری انگریزی زبان میں فلسفیانہ اور موٹیویشنل مضامین کی ایک کتاب "منفی قوت کا استعمال” ( Use of Negative Force) بھی لندن سے شائع ہوئی۔ شاعری کی کتاب پر قلمی نام یوسف چاند تھا اور انگریزی زبان میں کتاب ایم یوسف بھٹی کے نام سے چھپی۔ ان دونوں کتب کی افتتاحی تقریب ہاوس آف پارلیمنٹ لندن میں ہوئی جس کی صدارت اس وقت کے برٹش ممبر آف پارلیمنٹ چوہدری سرور نے کی جو ماضی قریب میں دو بار پی ٹی آئی اور نون لیگ کی طرف سے گورنر پنجاب بھی رہے ہیں۔ اس تقریب کی مہمان خصوصی ڈاکٹر ملیحہ لودھی صاحبہ تھیں جو اس وقت برطانیہ میں پاکستان کی سفیر تعینات تھیں۔ اس تقریب میں منصور آفاق نے میری اردو شاعری کی کتاب پر "روشنی ہی روشنی” کے عنوان سے کالم لکھا تھا جو اسی معاصر اخبار کے کلر ایڈیشن میں چھپا تھا۔ ان دنوں ایم پی چوہدری محمد سرور صاحب برطانوی سیاست میں حصہ لینے کے ساتھ ساتھ کبھی کبھار اخبار میں کالم بھی لکھا کرتے تھے۔ چونکہ چوہدری صاحب بھی ٹوبہ ٹیک سنگھ سے ہیں تو اس تعلق کی وجہ سے جب میری کتب کی رونمائی برطانوی پارلیمنٹ میں ہوئی تو برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی میں میری اچھی خاصی پہچان بن گئی۔
جب میرے کالم اخبار میں بھی چھپنے لگے تو سونے پر سہاگہ اس تقریب کی وجہ سے برطانیہ میں مقیم اردو سپیکنگ طبقہ میں مجھے مزید پذیرائی ملی۔ اردو مشاعروں اور ادبی تقریبات کی تقریبا ہر محفل میں مجھے مدعو کیا جاتا تھا۔ مجھے شروع دن سے ہی سائنس اور مذہب پر مدلل اور تحقیقی مضامین لکھنے کا شوق تھا۔ میرے زیادہ تر مضامین کا موضوع اسلام اور عقائد کو سائنسی زبان میں بیان کرنا ہوتا تھا۔ اس پس منظر میں ایڈیٹر کے خطوط میں مجھ پر اکثر و بیشتر "سائنسی فرقہ” کا بانی ہونے کا الزام لگایا جاتا تھا۔
میرے بارے اسی طرح کی ایک پیش گوئی 80 کی دہائی میں لاہور سے روزنامہ "خبریں” کے ایک بزرگ ایڈیٹر نے بھی کی تھی جب انہوں نے میرا طویل انٹرویو کیا اور میرے مذہبی اور سائنسی نظریات کو سن کر کہا کہ "آپ ایک اسلامی مجدد ہیں اور جلد یا بدیر ایک روز آپ اس کا دعوی بھی کریں گے” انہوں نے مجھ سے بہت سے اور سوالات بھی کیئے تھے اور پوچھا تھا کہ، "آپ کے اندر یہ سوچ کب پیدا ہوئی، آپ غوروفکر کو کتنا وقت دیتے ہیں، آپ کو نیند میں کس قسم کے خواب آتے ہیں اور کیا پہلے آپ نے مذہب اور انسانیت کا احیاء کرنے کے لیئے کسی قسم کے غیرمعمولی نظریہ کا اعلان کیا ہے؟”، وغیرہ وغیرہ۔ الحمدللہ میں مسلمان ہوں۔ لیکن میں گنہگار ہوں اور صوم و صلاتہ کی مکمل پابندی بھی نہیں کر پاتا ہوں۔ لھذا "مجدد” ہونے جیسا بار اٹھانا میرے جیسے کم علم اور دینی و مذہبی طور پر کمزور کندھوں کے بس کا روگ نہیں ہے۔
اسلام میں یوں بھی مجدد الف ثانی جیسی عظیم المرتبت ہستی کے بعد اب میرے جیسے کسی فرضی مجدد کی گنجائش باقی نہیں ہے۔ البتہ علامہ اقبال کے "مذہبی خیال کی تشکیل نو” (The Reconstruction of Religious Thought) کی طرز پر اسلامی تعلیمات اور عقائد کو جدید سائنسی علوم کی روشنی میں پیش کرنے کی اشد اور فوری ضرورت ہے۔ تاہم کم از کم میں اسلام کو تقسیم کرنے یا اس قسم کے ایک اور اعزازی یا پھر نام نہاد فرقے کا اضافہ کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا ہوں۔ اس طرح کے ہیلے بہانوں اور ناٹک سے مذہب زدہ عوام کو اپنے پیچھے تو لگایا جا سکتا ہے اور خانقاہی قسم کے ڈھیر سارے شاگرد اور مرید بنا کر منافع بخش مذہبی کاروبار بھی شروع کیا جا سکتا ہے مگر ضمیر کی عدالت میں پیش ہونے اور اس کا بوجھ اٹھانے کی اب زیادہ ضرورت باقی نہیں رہی ہے۔
اسی اور نوے کی دہائی میں یا انہی پس و پیش کے دنوں میں میرے ساتھ ایک عجیب و غریب واقعہ یہ پیش آیا کہ جس نے میرے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ میں انگریزی اخبارات سے ترجمہ کرتا تھا یا دیگر سائنسی مضامین سے نوٹس لے کر انہیں وسیع کر کے اپنے مضمون کا کبھی کبھار متن تیار کر لیا کرتا تھا مگر ایک دن غلطی سے یہ لیئے گئے نوٹس ہی میں نے چھپنے کے لیئے بھیج دیئے اور جو چھپ بھی گئے۔ وہ دن اور آج کا دن میں اپنے ضمیر کے سامنے بہت شرمندگی محسوس کرتا رہا ہوں، تاآنکہ میں نے یہ اظہاریہ لکھ کر خود سے معذرت کی ہے اور اپنے ضمیر کا کچھ ذہنی اور روحانی بوجھ ہلکا کیا ہے۔ ایمانداری کے بغیر ایمان نامکمل رہتا ہے۔ آئندہ کبھی مجدد کا دعوی کر کے یا کہلانے سے جو رتبہ و مقام مجھے مل سکتا ہے، زہے نصیب، اس اسلامی فریضہ کا بیڑا کوئی دوسرا عالم فاضل اٹھا سکتا ہے۔مظلہ و رحمتہ اللہ علیہ ڈاکٹر طاہر قادری صاحب، محترم المقام مولانا طارق جمیل صاحب جیسی یا دیگر جلیل القدر ایسی مذہبی ہستیاں موجود ہیں مگر میں اتنی بڑی ذمہ داری اٹھانے سے قاصر ہوں۔
آج مسلمان ایسے دورایے پر کھڑے ہیں کہ جن کو اسلام اور مسلمانوں کے احیاء کے لیئے واقعی مجدد الف ثانی جیسی ایک اور مجدد ہستی کی ضرورت ہے مگر ایسا اسلامی عالم اور حقیقی مفکر جو قابل گوہر مجدد بھی ہو اور اسلامی تعلیمات کی جدید زبان میں تشریح بھی کر سکے، دور دور تک کہیں نظر نہیں آتا ہے۔ اس قحط الرجال کی ایک وجہ یہی ضمیر کی عدالت ہے جو اسلام اور امہ جیسے عظیم ترین فریضے کو نبھانے کے لیئے اتنا آسان کام نہیں ہے۔
ضمیر کی عدالت سے بڑی عدالت دنیا میں آج تک نہیں بنی ہے۔ اس کا بوجھ یا ایک جھوٹا دعوے دار اٹھا سکتا ہے یا وہ بطل جلیل اٹھاتا ہے جسے واقعی خود اللہ تعالٰی کی ذات نازل فرماتی ہے۔ علامہ محمد اقبال نے سچ ہی تو فرمایا تھا کہ: ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے، بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا۔
پاکستان کو سیکولر سٹیٹ کی طرف کھل کر قدم ضرور بڑھانا چایئے مگر پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اور اسلام ہی کے نام پر معرض وجود میں آیا۔ بے شک پاکستان میں اسلامی قوانین رائج نہیں ہیں، کبھی چور کا ہاتھ نہیں کاٹا گیا، کبھی کسی زانی کو سنگسار نہیں کیا گیا اور نہ ہی کبھی اہل وطن کی اکثریت نے کبھی سودی نظام سے توبہ کی ہے، تو پاکستان کے ایک "سیکولر سٹیٹ” بننے میں کیا کسر باقی رہ جاتی ہے۔ البتہ ہمیں اپنی اساس کا تعین کرنے کے حوالے سے ایک واضح قدم اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔
ہاں یہ بات درست ہے کہ ہمارے ملک میں گوروں کے بنائے ہوئے مجریہ قوانین کے باوجود ہم نے کبھی ان پر بھی مکمل اور سچے دل سے عمل نہیں کیا ہے۔ ہمارے ہاں متحدہ ہندوستان کے وقت کے انگریزی قوانین تو موجود ہیں مگر وہ صرف متوسط طبقے اور غریب عوام کے لیئے ہیں، ان پر "اشرافیہ” شاذ ہی عمل کرتی ہے۔ جب بھی سرمایہ دار طبقہ سے کوئی جرم کرتا ہے تو اسے قانون بآسانی ریلیف دے دیتا ہے یا پھر یہی قانون اپنے سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لیئے کھل کر استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں قتل تک کے مجرموں کو چھوڑ دینے کی ایسی ایسی مثالیں موجود ہیں کہ جن کے بارے ہمارے ہاں ایک امریکی مقولہ مشہور ہے، "عدالتیں امراء کی لونڈیاں ہیں۔” جس کا انگریزی متن اس سے بھی زیادہ شرمناک اور کراہت آمیز ہے جو کچھ یوں ہے کہ Courts are bitches of riches تو پھر قانون کی حکمرانی کا مذاق اڑانے میں باقی کیا بچتا ہے؟ اس کا ترجمہ "باندی” یا "کتیا” بھی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہمارے ملک میں امن قائم کرنے، عوام الناس کو سستا انصاف فراہم کرنے، کرپشن کے انسداد اور جرائم وغیرہ کے خاتمہ کے لیئے رائج قوانین کا ڈھانچہ ایسا ہے کہ ہماری عدلیہ اور ججز صاحبان اس سے اپنے من پسند فیصلوں کا راستہ بڑی آسانی کے ساتھ نکال لیتے ہیں، یہاں تک کہ بھٹو جیسا "عدالتی قتل” بھی ممکن ہو جاتا ہے اور "آمریت” کو قائم کرنے کے لیئے مارشل لاء کو بھی صاف راستہ مل جاتا ہے۔
قانون کی بالادستی کے لحاظ سے ہم صحیح معنوں میں زندگی کے ہر شعبے میں ایک غلام قوم کا نمونہ پیش کر رہے ہیں۔ جہاں ہم قانونی موشگافیوں کے درمیان چوں چوں کا مربہ بنے ہوئے ہیں وہاں ہم ذاتی سیرت و کردار میں بھی تضادات کا شکار نظر آتے ہیں۔ ہم کلمہ گو مسلمان تو ہیں مگر ہم سچے مومن نہیں ہیں، جس کی بنیادی شرط قرآن حکیم نے دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی رکھی ہے۔ میرے ذاتی علم میں قتل کے مقدمات کی کچھ ایسی مثالیں ہیں کہ مجرم ایک دن بھی جیل میں جائے بغیر عدالت سے بری ہو جاتے ہیں۔ قانون کی رسوائی کی مد میں اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ پاکستان میں آپ کے پاس طاقت ہے، دولت ہے یا کوئی بڑا واسطہ ہے تو آپ قانون کی جس طرح چاہیں دھجیاں اڑا سکتے ہیں۔ اس کی ایک تاریخی مثال ریمنڈ ڈیوس کی ہے جس کے بارے پاکستان کے وفاقی وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا تھا کہ، "دو افراد کے قتل میں ملوث امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے حقائق میں جائیں گے تو بطور قوم شرمندگی ہو گی۔”
سینیٹ کے اجلاس میں امریکی جاسوس کی رہائی سے متعلق جمیعت علمائے اسلام کے سینیٹر حافظ حمداللہ کی نے بھی توجہ دلاو نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ جن افراد اور اداروں نے ریمنڈ ڈیوس کو ملک سے باہر لے جانے کے لئے کردار ادا کیا وہ قومی عزت اور غیرت کے منافی ہے۔
پاکستان میں امریکی سی آئی اے کے لئے کام کرنے والے ریمنڈ ڈیوس کو 27 جنوری سنہ2011ء میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب اس نے لاہور میں ریلوے سٹیشن کے سامنے دو افراد کو قتل کر کے فرار ہونے کی کوشش تھی، جسے بعدازاں مقتولین کے ورثاء کو کچھ دنوں کے بعد دیت کی رقم ادا کرنے کے بعد رات کے اندھیرے میں لاہور کی جیل سے نکال کر امریکہ بھجوا دیا گیا تھا۔
دوسری مثال حالیہ دنوں میں ایک قاتل پاکستانی فیملی کو انگلینڈ کے حوالے کرنا ہے جو وہاں اپنی بارہ سالہ بیٹی سارہ شریف کو قتل کر کے پاکستان بھاگ آئے تھے۔
سارہ شریف کی سوتیلی والدہ معصوم بچی پر انتہائی گھناؤنے طریقوں سے باقاعدہ تشدد کرتی تھی اور گھٹیا باپ یہ سب دیکھتا رہا تھا۔ بچی کے سکول ٹیچر نے پہلے اس کے چہرے پر ٹارچر کے نشانات کا نوٹس لیا جن کو حجاب سے چھپایا جاتا تھا پھر اک روز اس معصوم بیٹی کو اتنا ٹارچر کیا گیا کہ وہ مر گئی اور اس کو اسی حالت میں چھوڑ کر اور اس کی لاش پر کپڑے ڈال کر اس کے والدین پاکستان بھاگ آئے۔ اس ظلم سے چچا بھی واقف تھا۔ جب برطانوی پولیس کو لاش مل گئی تو اس کے والدین کو پاکستان سے واپس لندن لانے کی کوشش کی گئی، پاکستانی پولیس نے بوجوہ ان کو بچانے کی بہت کوشش کی مگر بلآخر ان درندوں کو حکومت برطانیہ نے واپس بلا لیا، برطانوی قانون کے مطابق عدالت نے والد اور والدہ کو عمر قید اور چچا کو 16 سال قید کی سزا سنائی۔
اگر یہ واقعہ پاکستان میں پیش آتا تو مقتولہ کے وارث بن کر ورثاء نے ایک دوسرے کو معاف کر دینا تھا یا پھر لواحقین نے دیت کے نام پر کروڑوں روپے لے کر کیس کو ختم کر دینا تھا اور پھر اسے اسلامی طریقہ بھی قرار دینا تھا۔
امریکہ اور مغربی دنیا میں اسائلم کے کیسز میں قاتل بھی شامل ہوتے ہیں جو دستاویزی ثبوت فراہم کر کے آسانی سے ان ترقی یافتہ ممالک کی شہریت لے لیتے ہیں اور پھر قتل جیسا گھناونا جرم کرنے کے باوجود ان کی اگلی نسلیں سنور جاتی ہیں۔ پاکستان میں کوئی ایک بھی ایسی مثال موجود نہیں ہے کہ قانون کی حکمرانی کے لیئے پاکستان کبھی ان ممالک سے کسی ایک قاتل کو بھی پاکستان واپس لے کر آیا ہو۔
عزت مآب حافظ حمداللہ نے سینٹ میں اپنے توجہ دلاو نوٹس میں کہا تھا کہ ریمنڈ ڈیوس نے رہائی کے بعد جو کتاب لکھی ہے اس میں پاکستان کے فوجی اداروں، عدلیہ، ایگزیکٹیو، صدر اور پارلیمنٹ پر سوالات اُٹھائے ہیں۔ خواجہ آصف نے بھی تسلیم کیا تھا کہ اس واقعہ کی تحقیقات میں شرمندگی کے علاوہ اور کچھ نظر نہیں آئے گا۔ اُنھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ جب تک حاکمیت پارلیمنٹ کے پاس نہیں آتی یا قانون کی حکمرانی قائم نہیں ہوتی اس وقت تک اس طرح کے واقعات کا سدباب نہیں ہو گا۔ اُنھوں نے مزید کہا تھا کہ ہر ادارہ پارلیمنٹ کو جواب دہ ہو اور پارلیمنٹ میں ہونے والے احتساب میں کوئی ڈنڈی نہ مارے۔ پارلیمان تحقیقات کریں کہ کس نے امریکی جاسوس کی رہائی میں کیا کردار ادا کیا تو پھر اس معاملے کی افادیت ہو گی ورنہ صرف پوائنٹ سکورنگ کرنے سے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ تب خواجہ آصف وزیر خارجہ تھے جنہوں نے کہا تھا کہ پارلیمنٹ اس مسئلے کو گہرائی میں جا کر دیکھے کہ کیسے اس معاملے میں قانون اور قومی غیرت و وقار کا سمجھوتا کیا گیا۔
خواجہ آصف نے یہاں تک کہہ دیا تھا کہ ریمنڈ ڈیوس کی رہائی کے لئے دیت کی رقم بھی حکومت پاکستان نے ادا کی لیکن یہ پیسے کہاں سے دیئے گئے اس کی معلومات نہیں ہیں۔
ہمارے ہاں روشن خیالوں کا ایک طبقہ سیکولر پاکستان کی بہت وکالت کرتا ہے مگر یہی طبقہ اسلامی قوانین کو بھی لاگو نہیں ہونے دیتا ہے بلکہ ان کا باقاعدہ ڈھکے چھپے لفظوں میں مذاق اڑاتا ہے۔ یہ نام نہاد سیکولر لوگ کون ہیں جو اسلامی قوانین کی راہ میں بھی رکاوٹ ہیں اور درون خانہ پاکستان کو سیکولر بھی نہیں بننے دیتے ہیں؟ قانون کی حکمرانی اور بالادستی کے لحاظ سے ہم اسلامی ہیں اور نہ ہی سیکولر ہیں۔ وہ کیا کہتے ہیں کہ: گئے دونوں جہان کے کام سے ہم، نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے، نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صَنم، نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے۔
حیا کا لفظ حیات سے نکلا ہے حیات القلوب یعنی دل کی زندگی انسان فطرتا باحیا ہے لیکن گھر کا ماحول والدین کی تربیت اور معاشرے کا رہن سہن اس پر اثر انداز ہوتا ہے لکھنے پڑھنے اور سننے میں حیا ایک بہت چھوٹا سا لفظ ہے لیکن یہ ایک ایسی صفت ہے جو انسان کو اللہ کے قریب کر دیتی ہے اور حصول تقوی کا ذریعہ ہے حیا کا لفظ جب بھی ذہن میں آتا ہے تو عورت کا تصور پہلے آتا ہے بلا شبہ حیا عورت کا زیور ہے لیکن مرد کے اندر بھی اس صفت کا ہونا اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ ایک عورت کے لیے جیسے کہ سورہ نور میں جہاں عورت کو پردے کا حکم دیا گیا وہیں مرد کو نگاہ نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا لہذا مرد و زن دونوں کا باحیا ہونا کسی بھی بہترین معاشرے کی تشکیل کے لیے بہت ضروری ہے
اگر لب و لہجے،حرکات و سکنات اور عادات و اطوار میں شرم و حیا نہ رہے تو باقی تمام اچھائیوں پر خود بخود پانی پھر جاتا ہے اور دیگر تمام نیک اوصاف کی موجودگی کے باوجود اپنی وَقعت کھو دیتے ہیں۔ جب تک انسان شرم وحیا کے دائرے میں رہتا ہے ذلت و رسوائی سے بچا رہتا ہے اور جب اِس قلعے کو ڈھا دیتا ہے تو پھر گھٹیا و بدترین کام بھی بڑی ڈھٹائی کے ساتھ کرتا چلا جاتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایمان کی ساٹھ سے کچھ اوپر شاخیں ہیں ۔ اور حیاء ( شرم ) بھی ایمان کی ایک شاخ ہے تو ایمان کی اس شاخ کو اگر آج ہم اپنے معاشرے میں دیکھنے کے لیے اپنی نوجوان نسل کی طرف نظر دوڑائیں تو یہ بات نہایت دکھ اور افسوس کے ساتھ کہنی پڑتی ہے نوجوان نسل میں حیا کا عنصر ناپید ہوتا جا رہا ہے آج بے حیائی کو boldness کا نام دے کے glamorize کر دیا گیا ہے جو جتنا بے حیا ہوگا وہ اتنا ہی مقبول ہے ہ اس کی سب سے بڑی وجہ سوشل میڈیا الیکٹرانک میڈیا اور ہر طرح کے غلیظ مواد تک باآسانی رسائی ہے جہاں ٹیکنالوجی کے آنے سے انسانی زندگی پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں وہیں اس ٹیکنالوجی کے منفی استعمال کی وجہ سے بے راہ روی اور اخلاقی تباہی کا جو طوفان اٹھا ہے وہ تھمتا ہوا نظر نہیں آرہا ہر گزرتے دن کے ساتھ ایک نیا فتنہ سر اٹھاتا ہے مختلف ایپلیکیشن کے استعمال نے نوجوانوں کو خبطی بنا دیا ہے ان کا مقصد صرف فالورز لائکس اور پیسہ کمانا ہے چاہے اس کے لیے اخلاق سے گری حرکتیں کرنی پڑے یا حیا سے عاری کنٹینٹ بنانا پڑے یہ سب کوئی بڑی بات نہیں ہے ٹک ٹاکر لڑکے لڑکیاں ویڈیوز بنانے کے لیے جوڑے کی حیثیت سے رہتے ہیں آج جو عورت جتنا مختصر لباس پہنے گی وہ اتنی ہی ماڈرن اور لبرل خیال کی جاتی ہے جب کے . با پردہ عورت اور سنت سے مزین چہرے والے مرد کو دقیانوسی کہا جاتا ہے عورت جب اپنے مقام سے گرتی ہے تو پھر کبھی نور مقدم کی طرح اک نا محرم کے ہاتھوں ذبح ہوتی ہے اور کبھی منار پاکستان پر مردوں کو دعوت گناہ دیتے ہوئے بے ہوش ہوتی ہے ہمارا المیہ یہ ہے ہم اپنی اقتدار روایات اور اپنی پہچان سے ناواقف ہیں ہندوانہ اور مغربی تہذیب کے اثرات ہماری زندگی کے ہر پہلو سے عیاں ہیں ہماری شادی بیاہ کی رسومات ہوں لباس ہو یا ہمارا نظام تعلیم ہر جگہ اپ کو اغیار کی چھاپ نظر آئے گی ہر جگہ سے حیا کا جنازہ نکلتا ہوا نظر آئے گا اس چکر میں ہمارا حال آج دھوبی کے اس کتے کی طرح ہے جو گھر کا رہا نہ گھاٹ کا یہ تمام باتیں لکھتے ہوئے دل کے اندر ایک کرب کی کیفیت ہے کیونکہ آج ہماری نوجوان نسل جس اخلاقی پستی کا شکار ہے آنے والے وقت میں مزید پستی کی گہرائیوں میں جائے گی کیونکہ ہم نے گناہ کو گناہ سمجھنا چھوڑ دیا اس بے حیائی بے راہ روی اور اخلاقی پستی کو روکنے کے لیے ہم کوئی اقدامات نہیں کر رہے اس بے حیائی کے طوفان کے لیے ہم صرف ٹیکنالوجی کو مورد الزام نہیں ٹھہرا سکتے کیونکہ اسی معاشرے میں باحیا باکردار اور باپردہ عورتیں بھی موجود ہیں اور نگاہ کی حفاظت کرنے والے مرد بھی ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ والدین استازہ اکرام ہمارے تعلیمی ادارے ہمارا نصاب تعلیم اور نہایت معذرت کے ساتھ ہمارے معاشرے کا وہ دین دار طبقہ جنہوں نے امر بالمعروف اور نہی المنکر کا کام چھوڑ دیا وہ بھی اس جرم میں شریک ہے ہمارے تعلیمی ادارے اور ہمارا نظام تعلیم ہر لحاظ سے اخلاقی تربیت اور کردار کی تعمیر کے لحاظ سے ناکام ہے والدین اور تعلیمی اداروں دونوں کا مقصد ایک ہی ہے بچے کو اچھے روزگار کے حصول کے قابل بنانا بچے کو ایک اچھا انسان بنانا ایک اچھا مسلمان بنانا اور امت مسلمہ کو ایک اچھا فرد دینا دونوں کی ترجیح نہیں ہے اگر ہمیں اپنی نسلوں کو بچانا ہے تو ہمیں اپنی ترجیحات کو بدلنا ہوگا اور اس کا صرف ایک ہی حل ہے اپنی زندگی کو اپنے رب کی امانت سمجھتے ہوئے اس کے حکم کے مطابق ڈھالنا شروع کریں اپنے دلوں کو قرآن کے نور سے منور کریں شیطان کے راستے کا انکار کر کے رحمان کے راستے کے مسافر بن جائیں اس کے لیے معاشرے کے ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا
کیونکہ حیا نسل انسانی کی بقا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا ارشاد ہے اور جب تم میں حیا نہ رہے تو جو چاہے کرو اگر اپنی نسلوں کی حفاظت کرنی ہے اور تنزلی کے اس سفر کو چھوڑ کے کردار و اخلاق کی بلندی تک جانا ہے تو اپنے طرز زندگی کو اسلام کے مطابق ڈھالنا ہوگا اسی میں ہماری عافیت اور کامیابی ہے
یوسف پونڈرز کی کتاب اسلام اینڈ نیہلزم:تجزیاتی مطالعہ
ڈاکٹر رحمت عزیز خان چترالی*
یوسف پونڈرز کی انگریزی کتاب "اسلام اینڈ نیہلزم” ایک فلسفیانہ موضوع پر تحقیقی کتاب ہے اس کتاب میں یوسف پونڈر نے اسلام کے ذریعے زندگی کے معنی اور مقصد کی دریافت پر تحقیق کی ہے۔ یہ کتاب نہ صرف مصنف کے ایک ذاتی تجربے کی عکاسی کرتی ہے بلکہ مصنف نے اس بات کا بھی جائزہ لیا ہے کہ اسلام کس طرح سے ایک انسان کو نیہلزم (Nihilism) جیسے جدید ذہنی بحرانوں اور ذہنی امراض سے نجات دلا سکتا ہے۔
مصنف یوسف پونڈر نے اس کتاب میں اپنی زندگی کے مختلف تجربات کو بیان کیا ہے۔ انہوں نے اس حقیقت کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے کہ اسلام نے ان کے لیے ہر خوشی اور غم کو ایک مقصد کے طور پر پیش کیا ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں کہ اسلام نے انہیں صحیح اور غلط کی تمیز دی اور ان چیزوں سے دور رہنے کی ترغیب دی جو ان کی نوجوانی میں نقصان دہ تھیں۔ مصنف کی اس فکری سوچ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اسلام نہ صرف ایک مذہبی نظام ہے بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات بھی ہے، جو زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
مصنف نے نیہلزم کے فلسفے پر اپنی جامع تحقیق کا ذکر کیا ہے۔ نیہلزم وہ نظریہ ہے جو زندگی کو بے مقصد اور بے معنی سمجھتا ہے اور یہ جدید معاشرے کے کئی افراد کو ذہنی الجھن اور ڈپریشن میں مبتلا کرتا ہے۔ یوسف پونڈرز کے مطابق اسلام ان نظریات کا متبادل فراہم کرتا ہے۔ قرآن اور سنت کی تعلیمات انسان کو نہ صرف زندگی کا ایک واضح مقصد دیتی ہیں بلکہ ایک مضبوط بنیاد بھی فراہم کرتی ہیں جس پر وہ اپنی زندگی کو استوار کر سکتا ہے۔
یوسف پونڈر نے اسلام کی ان خصوصیات کا بھی ذکر کیا ہے جو انسان کو ایک وسیع تر برادری کا حصہ بناتی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ نماز اور رمضان کے تیس دن کے بھوکے رہ کر روزے رکھنے والے جیسے اعمال نے ان کے دل میں اللہ کی محبت پیدا کی اور انسانیت کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کرنے میں ان کی مدد کی۔ مصنف کی شخصیت کا یہ پہلو اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ اسلام ایک فرد کو تنہائی اور بیگانگی سے نکال کر اجتماعی فلاح و بہبود کا حصہ بناتا ہے۔
مصنف یوسف پونڈر کے تجربات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے ان کی بے رنگ اور ناخوشگوار زندگی کو کس طرح رنگین اور خوشگوار بنایا۔ وہ کہتے ہیں کہ پہلے ان کی زندگی بے رنگ تھی، لیکن اسلام نے انہیں خوشی، امن، اور امید کے نئے رنگ دکھائے۔ یہاں مصنف نے فلسفیانہ گہرائی کے ساتھ زندگی کے مادی اور روحانی پہلوؤں کی تفریق کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
یوسف پونڈرز نے اپنی کتاب کے ذریعے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ اسلام نیہلزم کا موثر حل ہے۔ ان کے مطابق، قرآن کی آیات اور اسلامی تعلیمات انسان کو اس قابل بناتی ہیں کہ وہ زندگی کی مشکلات کا سامنا کرے اور ان میں معنی و مفاہیم تلاش کرے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ مصنف یوسف پونڈر کی طرف سے یہ کتاب اسلام کے عالمی پیغام کو جدید ذہنی مسائل کے تناظر میں پیش کرنے کی ایک کامیاب کوشش ہے۔ یوسف پونڈرز نے اپنی ذاتی کہانی کو فلسفیانہ اسلوب کے ساتھ جوڑتے ہوئے اس بات کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے کہ اسلام نہ صرف ایک مذہب ہی نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات بھی ہے، جو انسانوں کو مقصد، اور روحانی سکون فراہم کرتا ہے۔ یہ کتاب ان افراد کے لیے ایک بہترین رہنما ہے جو زندگی کے حقیقی مقصد کی تلاش میں ہیں یا نیہلزم کے اثرات سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں۔
کسی چیز کے کوانٹم زرات کائنات میں بیک وقت مختلف خواص اور مختلف اشکال میں ہر جگہ اور ہر وقت خود کو قائم رکھ سکتے ہیں!
ہمارے مشاہدے میں نہ آنے والی چیزیں لامحدود ہوتی ہیں کیونکہ ان کے اندر واقع ہونے کے لامحدود امکانات ہوتے ہیں۔
دنیائیں ایک سے زیادہ ہیں۔ ایک دنیا وہ ہے جس میں ہم مر جاتے ہیں۔ دوسری دنیا وہ ہے جس میں ہم مرنے کے باوجود زندہ رہتے ہیں۔ ہمارے لئے اصلی دنیا وہی ہے جس میں ہم زندہ ہوں۔
کائنات ابتداء میں روشنی کی رفتار سے زیادہ تیز رفتاری سے پھیلی تھی مگر آئنسٹائین کی ریلیٹوٹی تھیوری کے اعتبار سے روشنی سے زیادہ کسی چیز کی رفتار نہیں ہو سکتی۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ جب کوئی جسم روشنی کی رفتار 3 لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ سے زیادہ تیز سفر کرنے کی کوشش کرے گا تو اس کی کمیت یا مادہ لامحدود Infinite ہو جائے گا اور اسے حرکت دینے کے لئے لامحدود حرارت Infinite Energy کی ضرورت ہو گی جو میسر کرنا ناممکن ہے۔ لھذا ہماری حقیقی دنیا میں کوئ عام مادی جسم روشنی یا اس سے زیادہ تیز رفتاری سے سفر نہیں کر سکتا ہے۔
ایک عام آدمی جب نظر اٹھا کر کائنات کے بارے سوچتا ہے تو اس کا خیال کائنات کی 200 ارب کہکشاو’ں کو عبور کر کے آخری ستارے سے ٹکراتا ہے اور کوئ ثانیہ ضائع کیئے بغیر واپس آ کر ہمارے دماغ کے نیورانز کو اطلاح دیتا ہے کہ، "وہ پوری کائنات گھوم آیا ہے”۔ ناسا کی تحقیق کے مطابق ان 200 ارب کہکشاو’ں میں ہر کہکشاں کے ہمارے سورج کے سائز سے بڑے 200 ارب ستارے ہیں۔
ریاضی کے ماہرین نے ایک حساب یہ بھی لگایا ہے کہ زمین کے ساڑھے سات ارب انسانوں میں ان کہکشاو’ں میں موجود اجرام فلکی کو تقسیم کیا جائے تو ہر انسان کے حصے میں 200 ارب ستارے آئیں گے۔ بیشک کائنات لامحدود ہے مگر اسکی کسی شے کی رفتار ہمارے خیال کی رفتار سے زیادہ تیز نہیں ہے۔
کائنات کی اس وسعت کے اعتبار سے کائنات ازلی ہے یعنی ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی یا یہ لامحدود ہے، روشنی کی رفتار سے پھیل رہی ہے اور اسے مکمل طور پر کبھی فتح نہیں کیا جا سکے گا۔ لیکن قرآن فرقان نے انسان کو نوید دی ہے کہ کائنات کو تمھارے لیئے مسخر کر دیا گیا ہے یعنی انسان کائنات اور مادے کی دنیا کو مکمل طور پر مسخر کر لے گا۔
آئن سٹائن کے سپوکی خیالات کے باوجود نیل بوہر کے مطابق "سفر اور رفتار کوئی مسئلہ نہیں ہیں مادے کی دنیا میں کوئی ناممکن چیز محض اس لئے ناممکن ہے کہ ابھی اسے دریافت نہیں کیا گیا ہے”۔ ہم کوشش کریں تو ہر وہ چیز ممکن ہے جو مادی وجود رکھتی ہے۔ اب دیر یا بدیر کوانٹم فزکس کلاسیکل فزکس کو مکمل طور پر آو’ٹ کلاس کر دے گی۔ جس طرح کوانٹم فزکس کو کلاسیکل فزکس کے بعد کا دور کہا جاتا ہے اسی طرح جب کوانٹم فزکس ترقی کے عروج پر پہنچے گی تو کوئ نیا سائنسی مضمون کوانٹم کی جگہ لے لے گا۔ تب اس دور کو کوانٹم فزکس کے بعد کا دور کہا جائے گا.
مزہب بناء بریں ایمان بلغیب پہلے پیش گوئی کرتا ہے اور سائنس اسے بعد میں ثابت کرتی ہے۔ یوں تسلیم و رضا مادیات کے سچ کو ایمان کامل مانتے ہوئے دریافت کرنے کی منزلیں ہیں۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ کائنات کی تحقیق ہمیں خدا کی تخلیق اور کاریگری کے قریب کرتی چلی جاتی ہے کیونکہ اس سے قبل جو سنا جاتا ہے یا جس کا مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ، "یہ بظاہر ناممکن ہے”، انسانی دماغ کی حیرت انگیز کارکردگی اسے مزہبی سچائ کے طور پر ممکن بنا دیتی ہے۔
آئن سٹائن کا ایک قول ہے، جو مذہب اور سائنس کو ایک ہی منزل کے دو راہی ہونے کی تصدیق کرتا ہے کہ "ہم جو گہرے یقین سے سوچتے ہیں وہ پہلے سے فطرت میں موجود ہے”۔ ہمیں صرف کرنا یہ ہوتا ہے کہ ہم اسے ٹھوس سچائ مانیں، اسے اپنے ایمان کا حصہ سمجھیں اور اس تک مادی زریعے سے رسائ حاصل کرنے کی کوشش کریں۔
ساٹھ کی دہائی میں کلاسیکل اور کوانٹم فزکس کے اس مسلمہ سچ کے فرق کو سمجھنے کے لئے نیل بوہر، ہائی سن برگ، پال ڈیراک اور شروڈنگر وغیرہ جیسے عظیم سائنسدانوں نے مسلسل تجربات کئے اور جب نتائج سامنے آئے تو وہ کافی چونکا دینے والے تھے۔ انہیں پتہ چلا کہ یہاں کے قوانین ہماری روزمرہ زندگی میں دکھائی دینے والے قوانین سے بلکل مختلف ہیں۔ جوسف علی