Tag: اسلام

  • فرعون کی کہانی ( Pharaoh )

    فرعون کی کہانی ( Pharaoh )

    ( چند روز قبل

    بنی اسرائیل کی کہانی "

    کے عنوان سے , جو مضمون تحریر کیا , اس میں حضرت ابراھیم علیہ السلام اور فرعون کا ذکر تھا ۔ مضمون کی اشاعت کے بعد بعض قارئین نے سوال کیا کہ فرعون تو موسی علیہ  السلام کے زمانے میں ہوا ، آپ نے اسے حضرت ابراھیم  علیہ  السلام  سے کیسے ملادیا ۔ یہ سن کر احساس ہوا کہ عام قاری (مسلمان ) فرعون یا فراعین مصر سے متعلق صحیح اور مکمل معلومات نہیں رکھتا لھذا آج بطور خاص اس موضوع پر قلم اٹھایا ہے تاکہ عام آدمی فرعون بارے جان سکے )

    تحقیق و تحریر :

    سیدزادہ سخاوت بخاری

     آج کا مسلمان ( اہل علم کو چھوڑ کر ) ، یہ تو جانتا ہے کہ جو شخص صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کرے وہ کافر ، جو اہل بیت اطہار کو معیار حق نہ مانے وہ جہنمی ، جو داڑھی نہ رکھے فاجر ، جس کی مونچھ لمبی وہ یہودی ، جس نے ٹائی لگائی وہ کرسچین ، جس نے عربی چھوڑ کر انگریزی زبان سیکھی ، وہ گمراہ ، جس کی شلوار یا پائجامہ ٹخنوں سے نیچے وہ جہنم کا ایندھن ۔

    arab men in white traditional wear praying on embankment
    Photo by Thais Cordeiro on Pexels.com

     اسی طرح ،  اسے اس بات کا بھی علم ہے کہ اسلام آباد میں ہندو مندر تعمیر کرنا گناہ کبیرہ اور عمران خان یہودیوں کا ایجنٹ ہے ،  لیکن یہ نہیں جانتا کہ بنی اسرائیل کون تھے ۔ فرعون ، شداد ، ھامان اور نمرود کسے کہا جاتا ہے ۔  دین اسلام کی ابتداء ، حضرت محمد الرسول اللہ  ﷺسے ہوئی یا ابو البشر حضرت آدم علیہ  السلام نے اس کی بنیاد رکھی ۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کیا ہیں اور ہمیں زندگی کی اس دوڑ میں کامیابی کیسے حاصل کرنی ہے ۔

    اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم خود مطالعہ کرتے نہیں البتہ جمعے اور عیدین کی نماذ یا کسی اجتماع میں ” مولوی صاحب ”  نے جو کچھ بتا دیا ، سنا دیا ، وہی ہمارا دینی علم اور اسی پر یقین رکھتے ہیں ۔ بدقسمتی سے عام آدمی یہ نہیں جانتا کہ یہ مولوی حضرات ، فقط اپنے اپنے مسلک کی تبلیغ کرتے ہیں ۔ انہیں اپنی جماعت کی مضبوطی سے غرض ہے ۔ اس سے ہٹ کر وہ کوئی بات نہیں بتاتے ۔   جہالت اور تنگ نظری پھیلتی ہے تو پھیلتی رہے ۔ انہیں کیا پڑی ہے کہ وہ فرعون کا شجرہ نسب اور تاریخی واقعات بیان کرتے پھریں ۔ حالانکہ یہ ، اور کئی دیگر  موضوعات ، ہماری دینی تاریخ سے جڑے ہوئے ہیں  اور ہر مسلمان کو ان کا بنیادی علم ملنا چاھئے  لیکن وہ تو فقط یہ چاھتے ہیں کہ ہمیں مسلکی مسائل کی گرفت سے باھر نہ نکلنے دیاجائے تاکہ چندے ملتے رہیں ۔

    یہاں ایک بات کی وضاحت بہت ضروری ہے اور وہ یہ کہ ، جب میں لفظ ” مولوی ” استعمال کرتا ہوں تو اس سے مراد قطعا ” علماء دین ” نہیں ہوتے ۔ میں علماء کا قدردان اور انہیں منارہ نور سمجھتا ہوں ۔ مولوی تو وہ ٹٹ پونجیا ہے جو اپنی روٹی روزی کی خاطر مسلمانوں کو آپس میں لڑاتا ہے ۔ قرآن کی غلط تفسیر و تشریح بیان کرتا ہے تاکہ اپنے ذاتی اور من گھڑت موقف کو صحیح ثابت کرسکے ۔ وہ اپنے سامعین کو فرقہ وارانہ اور غیر ضروری مسائل میں الجھا کر علم و دانش سے دور رکھنا چاھتا ہے تاکہ وہ اس کے سحر میں گرفتار رہ کر چندے اور حلوے مانڈے دیتے رہیں جبکہ عالم بحیثیت منارہ نور ، علم کی روشنی پھیلاتے ہیں ۔ ان کی تقریریں ہوں یا تحریریں ، مسلمانوں کے اندر وسعت قلب و نظر ،  قوت برداشت ، تحمل ، تدبر و تفکر اور محبت و اخوت  پیدا کرتی ہیں ۔

    کاش مولوی صاحب ہمیں شیعہ ، سنی اور وھابی کی بھول بھلیوں ،  داڑھی مونچھ اور شلوار کی لمبائی چوڑائی کے دلدل میں دھکیلنے کی بجائے علم و آگہی کے زیور سے آراستہ کرتے تو ہم گزری ہوئی قوموں کی تاریخ ، اعمال اور انجام سے سبق حاصل کرکے ترقی کی منزلیں طے کرچکے ہوتے لیکن ہمیں تو تنگ نظری  ( Narrowmindedness ) پر مشتمل اور دقیانوسی ( Outdated ) داستانیں سنا سنا کر ، شاہ دولہ  کا چوہا بنا دیا گیا ہے ۔ اچھے بھلے پڑھے لکھے افراد ، اپنے اپنے پیشہ ورانہ امور پر ضرور دسترس رکھتے ہیں لیکن اس سے آگے پیچھے کچھ نہیں جانتے ۔ معافی چاھتا ہوں اگر الفاظ اور جملے قدرے ترش ہوگئے ہوں لیکن حقیقت یہی ہے ۔ آئیے آگے بڑھتے ہیں ۔

    photo of a pyrmaid
    Photo by Rain Ican on Pexels.com

    یہ کسقدر تعجب کی بات ہے کہ آج تک فرعون مصر کا ذکر صرف حضرت موسی علیہ  السلام کی کہانی میں بیان کیا جارہا ہے  اور عام آدمی کے ذہن میں یہ بات بٹھادی گئی کہ فرعون نام کا ایک بادشاہ تھا جس کے گھر موسی علیہ  السلام نے پرورش پائی اور پھر اسے چیلینج کیا ۔ مولوی صاحبان اپنی سریلی تقریروں میں اس سے زیادہ کچھ نہیں بتاتے ۔ اسی کمی کو پیش نظر رکھتے ہوئے آج کا یہ مضمون لکھا جارہا ہے تاکہ فرعون کا تعارف اور اس بارے کچھ معلومات آپ تک پہنچائی جاسکیں ۔

    اس سے قبل کہ بات کو آگے بڑھایا جائے ، یہ جان لیں کہ مصر اور فرعونوں کی  تاریخ بہت پرانی ہے اس لئے مورخین کے درمیان بعض ناموں اور تاریخوں میں جا بہ جا اختلاف پایا جاتا ہے ۔ اکثر تاریخی حوالے ان لوحوں ( مٹی کی تختیوں ) سے اکٹھے کئے گئے ہیں جو مصری آثار قدیمہ سے کھدائی کے دوران برآمد ہوئیں ۔ ان کے علاوہ کچھ واقعات بائبل اور قرآن سے اخذ کئے گئے ہیں جنھیں مستند ذرائع کہا جاسکتا ہے ۔ اب چلتے ہیں اصل کہانی کی طرف ۔

    فرعون کی کہانی ( Pharaoh )
    Photo by Pixabay on Pexels.com

    یاد رکھیں دنیاء میں بے شمار قومیں ہوگزریں اور اب بھی بہت ساری موجود ہیں ۔ ہر قوم کی اپنی بولی ، رہن سہن ، تہذیب اور سوچ کا انداز ہے لھذا اسی دائرے میں رہ کر انہوں نے اپنے اپنے حکمرانوں کو مخصوص نام دئے ،

    مثلا ،

    چین میں حکمران کو ” خاقان ” کہا گیا ۔ ( خاقان عباسی نہیں )

    روس میں اسے ” زار ” کہتے تھے

    حبشہ ( موجودہ ایتھییوپیا )

    والوں نے ” نجاشی ” کہا

    ایران میں ” کسری ” ( کسرا )

    اھل روم اسے ” قیصر ” کہتے تھے

    سلطنت عمان میں ” سلطان "

    سعودی عرب میں ” ملک "

    متحدہ عرب امارات میں ” امیر "

    ھندوستان میں ” شہنشاہ "

    برطانیہ میں ” کنگ ” اور اگر خاتون تخت نشین ہوتو ” کوین ” جیسا کہ اس وقت ملکہ برطانیہ ہیں اور کبھی ملکہ وکٹوریا تھیں ۔

     پاکستان میں ہم اسے صدر یا وزیراعظم کے نام سے پکارتے ہیں ۔

    بعینہہ اسی طرح اہل مصر اپنے حکمرانوں کو ” فرعون ” کہ کر پکارتے تھے ۔ اس کے لفظی یا اصطلاحی معنی ہیں ، سرکش ، ظالم ، بڑے محل والا اور متکبر ۔ ان ہی صفات کی بناء پر ہمارے ھاں اردو لٹریچر میں ” فرعونیت ” کی اصطلاح ( Term ) رواج پائی ۔ اگر کسی کے تکبر کو بیان کرنا ہو تو اسے فرعون کہ دیتے ہیں ۔ اب سوال یہ ہے کہ لفظ فرعون آیا کہاں سے ۔ تو عرض ہے کہ قدیم مصر میں دیوی دیوتاوں کی پوجا کی جاتی تھی جن میں سب سے بڑا اور مقدس دیوتا ،

    آمن راع ( سورج دیوتا ) تھا جسے عرف عام میں ” فارع ” کہا جاتا تھا ۔ یہی لفظ عبرانی زبان میں ” فاعن ” بنا اور پھر عربوں نے اسے فرعون بنادیا ۔

    great sphynx of giza egypt
    Photo by Arralyn on Pexels.com

    چونکہ مصری معاشرہ دیوی دیوتاوں کے زیراثر تھا اس لئے وھاں کے حکمرانوں ( فراعین ) نے اپنے آپ کو دیوتاوں کا اوتار قرار دے دیا یعنی دیوی دیوتا ان کے اندر رہتے ہیں لھذا اب وہ ہی خدا ہیں ۔

    تاریخ بتاتی ہے کہ ان فرعونوں ( حکمرانوں ) کا تعلق مصر کے قبطی ( Coptic ) اور عملیقی قبائل سے رہا ہے جو وہاں کے قدیم ترین اور بڑے قبیلے ہیں ۔ ایک جگہ لکھا ہے کہ طوفان نوح کے بعد  مصر کا پہلا حکمران بیصر بن حام بن نوح حضرت نوح علیہ  السلام کی اولاد سے تھا ۔ اس کے بیٹے کا نام مصر بن بیصر تھا اور اسی کے نام کی مناسبت سے اس ملک کا نام  مصر پڑا ۔

     الولید بن دومغ پہلا فرعون تھا اور 3000 قبل مسیح ( حضرت عیسی ابن مریم علیہ کی پیدائیش سے پہلے ) سے لیکر اسکندر اعظم کے مصر پر حملے کے وقت تک تقریبا 31 فرعون تخت نشیں ہوئے ۔

    حضرت ابراھیم علیہ  السلام کے وقت طولیس نام کا فرعون مصر کا حاکم تھا جس کی بیٹی حاجر سے انہوں نے شادی کی ۔ یاد رہے حاجر اور حاجرہ دونوں ایک ہی نام ہیں ۔ اس واقعے کی تفصیل میرے گزشتہ مضمون " بنی اسرائیل کی کہانی ” میں موجود ہے ۔

    حضرت یوسف علیہ  السلام کے وقت الریان بن ولید فرعون مصر تھا ۔ یہاں مختصرا بتاتا چلوں کہ جب حضرت یوسف علیہ  السلام کو ان کے سوتیلے بھائیوں نے کنوئیں میں پھینک دیا تھا تو ایک قافلے والوں نے وہاں سے نکالا اور مصر کے بازار میں لے جاکر فروخت کردیا ۔  آپ کو وہاں کے وزیر خزانہ اطفیر المعروف عزیز مصر نے بھاری رقم کے عوض خریدلیا ۔ اس کی بیوی کا نام زلیخہ تھا جو حضرت یوسف علیہ  السلام کے حسن کی دیوانی ہوگئی اور خراب نیت سے ان کی طرف لپکی مگر اللہ کے نبی نے اس کی بات نہ مانی ۔ کہانی طویل ہے مختصرا یہ کہ آپ کو زلیخہ کی شکائت پر جیل میں ڈال دیا گیا ۔  وھاں دو سرکاری ملازمین بھی قید ہوکر آئے جنھوں نے خواب دیکھا اور حضرت یوسف  علیہ  السلام کو سنایا ۔ ایک نے کہا میں نے دیکھا کہ انگور سے شراب نچوڑ رہا ہوں ۔ دوسرے نے کہا میرے سر پر روٹیاں رکھی ہیں اور پرندے کھارہے ہیں ۔ آپ اللہ کے نبی تھے اس لئے کہا کہ جو بتاونگا وہ ہوکر رہے گا ۔ آپ نے مصلحت کے تحت نام بتائے بغیر بتایا کہ  ، ایک رہا ہوکر بادشاہ کو شراب پلانے پر مامور ہوگا اور دوسرے کو سزائے موت ہوگی اور اس کی لاش پرندے کھائینگے ۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ جو رہا ہو وہ بادشاہ کے پاس جاکر میرا ذکر ضرور کرے کیونکہ میں بے گناہ قید میں ہوں ۔ حکم الہی کے مطابق ایسا ہی ہوا اور بندار نامی شخص رہا ہوکر بادشاہ کا خدمتگار ( Bar Man ) بنا لیکن شیطان نے اسے حضرت یوسف کا پیغام بادشاہ تک پہنچانے سے منع کردیا ۔ قدرت خدا کی ، فرعون مصر نے خواب دیکھا کہ سات موٹی گائیں ہیں جنھیں سات دبلی پتلی گائیں آکر کھا جاتی ہیں اسی طرح گندم کے سات ہری بھری اور سات خشک بالیاں ہیں ۔ اس نے نجومیوں اور کاہنوں ( علماء )  کو بلاکر خواب سنایا مگر کوئی بھی تسلی بخش تعبیر نہ بتا سکا تب بندار کو یاد آیا کہ جیل میں یوسف علیہ  السلام نام کا ایک نیک سیرت قیدی خوابوں کی تعبیر بتاتا ہے ۔ اس نے بادشاہ سے اس کا ذکر کیا ۔ بادشاہ نے

    اس قیدی کو پیش کرنے کا حکم دیا چنانچہ حضرت یوسف علیہ  السلام نے پہلے تو اپنی بے گناہی کا ذکر کیا اور کہا کہ مجھے بلاوجہ جیل میں ڈالا گیا ہے اور پھر فرعون مصر کے خواب کی تعبیر بتائی ۔ آپ نے کہا تعبیر یہ ہے کہ ، آپ کے ملک میں سات سال تک بہت زیادہ غلہ پیدا ہوگا اور پھر سات سال قحط پڑے گا لھذا پہلے سات سال کی پیداوار کو اسٹور کرلیا جائے تاکہ اگلے سات سال جب قحط سالی ہو تو یہ کام آئے ۔ فرعون نے کہا اس کی عملی شکل کیا ہوگی ۔ کس طرح یہ سب کام ہونگے ۔ حضرت یوسف علیہ  السلام  نے کہا خدا نے مجھے عقل ، فہم ، تدبر اور حکمت سے نوازا ہے اگر آپ یہ کام میرے ذمہ کردیں تو میں اسے بہ خوبی انجام دونگا ۔ اس پر بادشاہ بہت متاثر ہوا اور آپ کو ان سب کاموں کا ناظم مقرر کردیا ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ وہ بادشاہ بعد میں مسلمان ہوگیا تھا ۔ واللہ اعلم ۔

    قارئین

    یہ ہے تاریخ کا وہ موڑ جب بنی اسرائیل فلسطین سے مصر آئے ۔ وہ اسطرح کہ ، حضرت یوسف علیہ  السلام  نے وزارت کا عہدہ            ملنے کے بعد اپنے والد حضرت یعقوب علیہ  السلام  اور تمام بھائیوں کو مصر بلالیا اور  یوں  حضرت یعقوب علیہ  السلام  ( اسرائیل ) کی اولاد مصر میں پھلی پھولی ۔ اگرچہ اس وقت اس کنبے کے فقط 93 افراد فلسطین سے ہجرت کرکے مصر آئے تھے لیکن حضرت موسی علیہ  السلام کے آتے آتے ان کی تعداد بڑھتے ہوئے لاکھوں تک جا پہنچی۔ حضرت یوسف علیہ  السلام  کی وجہ سے انہیں شاہی خاندان کی حیثیت حاصل تھی ۔ زمین ، جائیداد ، بنگلے ، باغات ، مال مویشی اور دولت ان کے ھاتھ آئی تو بگڑ گئے ۔ اللہ کے نافرمان ہوگئے ۔ یوسف علیہ  السلام کے بعد فرعون کا بیٹا ان پر مسلط ہوا اور وہ غلام بن کر ظلم و ستم کا شکار ہوگئے ۔ دراصل یہ اللہ کا عذاب تھا ۔ ان حالات میں خدا نے حضرت موسی علیہ  السلام کو ان کی مدد ،  راہنمائی اور قبطیوں کی غلامی سے رھائی دلانے کے لے بھیجا ۔

      موسی علیہ  السلام  کا پالا دو فرعونوں سے پڑا ۔ پہلا  رعمیس دوم ، جس کے گھر پرورش پائی  اور پھر اس کا بیٹا "منفتاح ” جسے اسلام کی دعوت دی گئی  اور جس نے آپ اور آپ کی قوم بنی اسرائیل پر ظلم ڈھائے ۔ قصہ کچھ اس طرح ہے کہ فرعون رعمیس دوم نے خواب دیکھا کہ

    بیت المقدس کی طرف سے آگ آئی اور اس نے مصر کے تمام قبطیوں ( فرعون کا قبیلہ ) کو جلا ڈالا مگر بنی اسرائیل محفوظ رہے ۔ تمام علماء کو بلاکر خواب کی تعبیر پوچھی گئی ۔ کاہنوں نے بتایا کہ اے بادشاہ ! تیری سلطنت میں بنی اسرائیل کے ہاں  ایک بچہ پیدا ہوگا جو تیرے اقتدار اور جان کے لئے خطرہ بن جائیگا ۔

    یہ سن کر فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل کے ہاں جو بھی لڑکا پیدا ہو اسے مار دیا جائے ۔ دائیوں ( Mid Wife ) کی ڈیوٹی لگائی گئی کہ حاملہ عورتوں کو تلاش کیا جائے چنانچہ ایک اندازے کے مطابق 12 ہزار نومولود لڑکے مار دئے گئے اور ستر ہزار کے قریب حمل گرائے گئے ۔ یہ دیکھ کر قبطی قبیلے کے بڑے بوڑھے ،  فرعون کے پاس گئے اور کہا تو بنی اسرائیل کی نسل کشی کررہا ہے اگر ایسا ہوتا رہا تو ہمیں ، خدمتگار ، نوکر ، چاکر اور مزدور کہاں سے ملینگے ۔ اس پر فرعون نے حکم دیا کہ ایک سال بچے مارے جائیں اور ایک سال نہ مارے جائیں ۔ لہذا جس سال نہ مارنے کا حکم تھا ، حضرت ہارون  علیہ  السلام اور جس سال بچے مارے جارہے تھے حضرت موسی علیہ  السلام پیدا ہوئے ۔

    جب آپ کی پیدائش ہوئی تو ماں سخت پریشان تھی کہ فرعون کے کارندے اسے مار دینگے اس لئے انہوں نے نومولود موسی  علیہ  السلام کو ایک صندوق میں بند کرکے دریائے نیل میں اللہ کے سپرد کردیا ۔ دریا سے ایک نہر نکل کر فرعون کے محل کے نیچے سے گزرتی تھی ۔ اتفاق سے فرعون اور اس کی بیگم آسیہ بالکونی میں بیٹھے نہر کا نظارہ کررہے تھے ۔ انہیں صندوق بہتا ہوا نظر آیا ۔ آسیہ کی فرمائیش پر کارندے صندوق پانی سے نکال کر لائے جب کھولا گیا تو ایک خوبصورت ننھا منا بچہ انگوٹھا منہ میں لئے لیٹا ہے ۔ فرعون نے کہا اسے ماردیتے ہیں لیکن قرآن کے مطابق آسیہ نے کہا ، نہیں ، میں اسے بڑا کرونگی ہوسکتا ہے یہ ہمارے حق میں بہتر ہو ۔ علماء نے آسیہ کو مومنہ کا خطاب دیا ہے کیونکہ اس نے نہ فقط موسی علیہ  السلام کی جان بچائی بلکہ پال پوس کر بڑا کیا ۔

    جب حضرت موسی علیہ  السلام بڑے ہوئے تو نبوت عطاء ہوئی ۔ اس وقت فرعون کا بیٹا تخت نشین تھا یعنی وہ دوسرا فرعون جس سے آپ کا سامنا ہوا اور اللہ کے حکم سے اسے اسلام کی دعوت دی مگر وہ نہ مانا اور موسی  علیہ  السلام سے مقابلے پر اتر آیا ۔ اس ہی شخص نے حضرت موسی علیہ  السلام کی قوم بنی اسرائیل کو تنگ کیا اور انہیں سزائیں دیں جس پر حضرت موسی  علیہ  السلام اپنی قوم کو لیکر واپس اپنے وطن فلسطین روانہ ہوگئے ۔

    اور جب حضرت موسی  علیہ  السلام بنی اسرائیل کو لیکر مصر سے نکلے تو پیچھا کرتے ہوئے بحیرہ قلزم ( Red Sea ) میں غرق ہوگیا ۔ حکم خداوندی سے سمندر نے اس کی لاش باھر پھینک دی اور اس طرح اس کی حنوت شدہ لاش  ( Mummy ) اب قاہرہ کے عجائب گھر میں تاقیامت نشان عبرت ہے ۔

    فراعین مصر کی قابل ذکر بات یہ ہے کہ ، یہ اپنے آپ کو خدا کا نمائندہ ، منتخب کردہ اور بعض بذات خود خدا ( GOD ) کہلاتے تھے ۔ ان کا کہا خدا کا فرمان تصور کیا جاتا تھا اور اہل مصر ان کی ہر بات کو مذھب کا حکم سمجھتے تھے ۔ اسی کفر اور شرک کو ختم کرنے کے لئے اللہ نے حضرت موسی  علیہ  السلام اور ان کے بھائی ہارون کو ان کی طرف نبی بناکر بھیجا لیکن وہ ان سے الجھ پڑے اور نافرمانی کے مرتکب ہوئے ۔ بالآخر اللہ نے ان کا نام و نشان مٹادیا اور آج مصر ایک مسلمان افریقی عرب ملک ہے

    سیّدزادہ سخاوت بخاری
    سیّدزادہ سخاوت بخاری سرپرست اعلی، اٹک ویب میگزین
  • قُرآن کی رُو سے حق اور باطل  کیا ہے ؟-2

    قُرآن کی رُو سے حق اور باطل کیا ہے ؟-2

    پہلی قسط میں یہ بیان کر دیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ ہی حقِّ مطلق ہے، جس کی حقیقت میں کسی بھی طرح کے ذرہ برابر بُطلان کی گُنجائش نہیں ہے، پس حق کُلی طور پر ذاتِ واجبُ الوجود میں ہی منحصر ہے اللہ تعالیٰ نے انبیاؑء کو پیغمبر گرامی صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کو بھی حق قرار دیا ہے کیونکہ پیغمبروں کی نبوت بھی حقِّ مطلق کی طرف سے واقعیت اور حقیقت کی حامل ہے اور سورۃ قصص کی آیت 47، 48 میں پیغمبر کا حق کے مصداق کے طور پر تعارف ہوا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ
    رَبَّنا لَولآ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلاً فَنَتَّبِعَ آيٰتِكَ وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ * فَلَمَّا جَآءَھُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْ لَا اُوْتِیَ مِثْلَ مَآ اُوْتِیَ مُوْسٰی ط اَوَلَمْ يَكْفُرُوْا بِمَآ اُوْتِیَ مُوْسٰی مِنْ قَبْلُ ج
    وہ کہتے ہیں اے پروردگار ! تونے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہیں بھیجا تاکہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اس پر ایمان لے آتے ، لیکن جب ہماری طرف سے ان کے پاس حق (محمد صل اللہ علیہ وآلہ وسلم) آ گیا تو کہنے لگے کہ وہ موسیٰ جیسا معجزہ لے کر کیوں نہیں آیا، کیا انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کے معجزہ کا بھی انکار نہیں کیا تھا

    close up of text on paper
    Photo by Tayeb MEZAHDIA on Pexels.com


    یہاں نبی اور معجزہ دونوں کو حق قرار دیا گیا ہے
    قُرآنِ مجید روزِ قیامت کو حق قرار دیتا ہے کہ قبروں سے اُٹھنا، اعمال کا حساب و کتاب ، ایک نئی، مکمل اور ابدی زندگی کا آغاز ایسے حقائق ہیں جن کی تمام پیغمبروں نوید دی ہے، اور اس پر یقینِ کامل کے بغیر دین معنوی لحاظ سے تکمیل نہیں پاتا سورۃ شوریٰ کی 18 ویں آیت میں قُرآن یُوں گویا ہوا کہ
    يَسْتَعْجِلُ بِھَاالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِھَا ج وَالَّذِيْنَ آمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْھَا وَيَعْلَمُوْنَ اَنَّھَاالْحَقُّ ط
    کافر لوگ قیامت کے برپا ہونے کا انکار کرتے ہیں اور ایمان لانے والے اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ حق ہے،
    اور سورۃ یونس کی آیت 53 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ
    وَيَسْتَنبِعُوْنَكَ اَحَقٌّ ھُوَ ط قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْ اِنَّه، لَحَقٌّ ط وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ *
    اے رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم) وہ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ کیا قیامت حق ہے کہہ دیجیئے کہ مجھے اپنے پروردگار کی قسم ہے کہ یہ (قیامت) حق ہے اور تمہارے لیے گریز کی کوئی راہ نہیں
    اور حلال مال جو مقروض کے ذمہ واجب الادا ہے اسے قرض خواہ کا حق قرار دیتا ہے اور یہ حقِّ نسبی ہے کیونکہ اس مالِ حلال کے حاصل کرنے میں اس کے مالک نے جو کوشش اور محنت کی اُس نے اُسے اس مال کا حقدار بنایا ورنہ مالکِ حقیقی تو اللہ تعالیٰ ہی ہے چنانچہ سورۃ بقرۃ کی آیت 282 میں اسے حق قرار دیا گیا،
    یہ تو ہوگئی حق و باطل کی تفصیل اب یہاں میرے ذہن میں یہ سوال اُبھر رہا ہے کہ کیا حقوق و فرائض بھی اسی زمرے میں داخل ہیں تو مجھے اس بات کا جواب بہت سی قُرآنی آیات سے ملا مثلاً سورۃ النساء آیت 17 میں ارشاد ہو رہا ہے کہ
    یَا اَھلَ الکِتَابِ لَا تَغلُوا فِی دِینِکُم وَلَا تَقُولُوا عَلَی اللهِ اِلَّا الحَقّ
    اے اہلِ کتاب اپنے دین میں غلو نہ کرو، اور اللہ کی طرف حق اور واقعیت کے علاوہ کوئی اور نسبت نہ دو،
    اور سورۃ لقمان کی آیت 33 یوں راہنمائی کر رہی ہے کہ
    اِنَّ وَعدَاللہِ حَقُُ فَلَا تَغُرَّنَّکُم الحَیاۃُ الدُّنْيَا
    بےشک اللہ کے وعدے سچ اور واقعیت رکھتے ہیں، دنیاوی زندگی تمہیں کہیں دھوکہ نہ دے
    ان آیات سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ دنیاوی معاشرتی زندگی میں بننے والے قوانین کی بنیاد کہیں اپنی یا عوام کی خواہشات کے مطابق نہ رکھ لینا بلکہ وہ قوانین اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ انسانی سعادتوں کے امین ہوں جو فطرت و آفرینش کے خلاف نہ ہوں یعنی انسان کی ہر خواہش کو اس کا حق نہیں قرار دیا جا سکتا ، نشہ آور اشیاء چاہے تمام انسانوں کی خواہش ہو ان کا حق نہیں قرار دی جا سکتیں بلکہ ایسا قانون حقِّ مطلق اللہ کے ہاں باطل قرار پائے گا، قُرآن جس مقام پر بھی اللہ واحد و یکتا کی پرستش کے بارے میں بات کرتا ہے تو بلا فاصلہ فطرت و آفرینش کی بات کرتا ہے جیسا کہ سورۃ روم کی آیت 30 میں ارشاد ہوا
    فَاَقِمْ وَجْھَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفاً ط فِطْرَةَ اللهِ الَّتِیْ فَطَرَالنَّاسَ عَلَيْھَا ط لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللهِ ط ذَالِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَالنَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ *
    اللہ کے سچے دین کی طرف رُخ کرو، وہ سچا دین جو اللہ کی آفرینش و خلقت ہے اور اُس نے اسی بنیاد پر انسانوں کو خلق کیا ہے، اللہ کی خلقت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی، یہی محکم اور استوار دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

    یہ وہ منزِل ہے جہاں قُرآن و اسلام حقوق کے دیگر اداروں سے جُدا ہو جاتا ہے ہر وہ عمل جس سے قُرآن نے روک دیا اس سے رُک جانے میں ہی بھلائی ہے بےشک وہ کتنا ہی بھلا کیوں نہ لگے، اور ہر وہ کام جس کے کرنے کا حکم قُرآن نے دے دیا اُس پر عمل میں بھلائی اور خیر ہے چاہے وہ کتنا ہی بُرا کیوں نہ لگے، قُرآن کی نظر میں وہی قانون حق ہے جس پر عمل سے انسان اپنے رب کی قُربت کا حقدار ٹھہرے، اور وہی قانون فطرت پر مبنی ہو گا اور انسان کی سعادت اور خُوش بختی کا ضامن ہو گا، تو پس میرے محترم قاری قُرآنی قوانین، حقوق و فرائض کا منبع و مآخذ بھی حقِّ مطلق کی طرف سے انسانی سعادتوں کے لیے ہے اور منزل اُخروی و ابدی کامیابی ہے

  • توحید

    توحید

    کاتب: شاندار بخاری

    مقیم مسقط

    لغوی طور پر یہ لفظ وحد، يوحد کا مصدر ہے۔ یعنی کسی چیز کو ایک اکیلا اور منفرد بنا دینا۔ اور ایمانیات میں اللہ تعالیٰ کو ان تمام امور میں جو اس سے خاص ہیں، ایک اکیلا جاننا توحید کہلاتا ہے۔  جب ہم کہتے ہیں کہ کسی شخص کی توحید اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتی جب تک شہادت لا اله الا الله کا اقرار و اظہار نہ کرے، تو ضروری ہے کہ وہ اللہ عزوجل کے علاوہ سب معبودوں کی الوہیت کا انکار بھی کرے اور صرف اس ایک کے معبود ہونے کا اقرار کرے۔ توحید کا عقیدہ انسانوں کو غیر اللہ کی بندگی سے آزاد کرتا ہے۔ ایک انسان دوسرے انسان کے سامنے جھکنے پر مجبورنہیں ہوتا،انسانوں کی غلامی ذلت و خواری کا باعث بنتی ہے،طبقاتی نظام پیدا کرتا ہے۔ توحید کا عقیدہ انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ دنیا کی تمام مخلوقات وہ حیوانات ہوں ، نباتات یا جمادات ہوں ، انسانوں کیلئے مسخر ہیں۔ انسان کسی کے بھی آگے جھکنے کا پابند نہیں۔ توحید کا عقیدہ مسلمانوں کو سربلندی ، وقار اور جرأت سے سرفراز کرتا ہے۔جب مسلمان کا یہ عقیدہ ہوکہ اس دنیا میں بھلائی اور برائی کا مالک اللہ کے سوا کوئی نہیں تو اس کا سرکسی کے آگے نہیں جھکتا۔سورہ التوبہ کی آیت 51میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

        قل لن یصیبناالا ماکتب اللہ لنا۔

        "ان سے کہو ہمیں ہرگز کوئی برائی یا بھلائی نہیں پہنچتی مگر وہ جو اس نے ہمارے لئے لکھ دی ہے۔”

    خواجہ معین الدین چشتی ؒ      کیساتھ دوران حج ایک عجیب و غریب واقع پیش آیا انہوں نے ایک شخص کو دیکھا جو لبیک کہتا تھا اور نوائے غیب آتی تھی لا لبیک کئی مرتبہ ایسا ہوا تو خواجہ معین الدین چشتی ؒنے اس شخص کو بازو سے پکڑ کر مجمع سے باہر لا کر بتایا کہ جب بھی تم لبیک کہتے ہو تو آگے سے جوابا لا لبیک کی صدا آتی ہے تم کون ہو اور کیا ماجرا ہے تو اس شخص نے بتایا کہ میں پچھلے 24 سال سے حج کیلئیے آ رہا ہوں اور ہر مرتبہ لبیک پر یہی جواب سنتا ہوں اور جب تک مجھے شرف قبولیت نہ بخشا جائے بشرط زندگی آتا رہوں گا کیونکہ میرا یہی تو رب ہے اس سے نہ مانگوں اس کے پاس نہ آوں تو کس کے پاس جاوں اسی دوران نوائے غیب آئی کی معین الدین یہ میرا اور اس بندے کا معاملہ ہے پچھلے 24 سالوں میں سب کے حج اسی بندے کی مجھ سے عقیدت اور محبت کیوجہ سے قبول ہوئے اور اگر میں اس کو جوابا لبیک کہ دوں تو یہ اگلے سال نہیں آئے گا اس کا آنا مجھے پسند ہے ۔

    islam

     سبحان اللہ ! توحید یہی تو ہے کہ اے اللہ میں صرف تیرا ہوں اور تو میرا ہے تجھ سے نہ مانگوں تیرے پاس نہ آوں تو کدھر جاوں۔  معاشرے میں اپنے آس پاس نظر دوڑاہیں یا اپنے بچپن کی مثال لے لیں ہم اپنی ہر ضرورت کا مطالبہ اپنے والدین سے ہی کیا کرتے تھے اور وہ اس وقت ہمارا تقاضہ پورا کرتے یا باوجوہ دیر سے کرتے ہم مانگتے مانگتے رو رو کر ہلکان ہو جاتے تھک کر روٹھ کر سوجاتے لیکن اگلی صبح پھر مانگنے سے پیچھے نہیں ہٹتے تھے کیونکہ ہمارا یقین تھا کہ وہی ہماری مطلوبہ اور پسندیدہ چیز دلائیں گے۔

    تو اگر ہم ابھی بچوں کی طرح اللہ سے ہی مانگیں کہ اے اللہ میرا تیرے سوا کون ہے تو ئی میری مدد کر میرا حامی و ناصر ہو تو وہ ضرور سنے گا عرش کے دروازے کھول دے گا اور اپنے خزانوں سے اپنے مطابق عطا کرے گا جو کہ ہماری توقعات سے بڑھ کر ہوگا کسے دور میں ایک شخص کسی حکیم کے پاس گیا اور اپنی تکلیف کا بتایا حکیم جو کہ بہت ہی حلیم اور کریم طبیعت کا مالک تھا کہنے لگا میرے پاس اس مرض کی دوا بنانے کیلئیے سب کچھ ہے سوائے شہد کے تو اگر تم شہد لے او تو میں دوا بنا دوں گا اب وہ شخص دروازے کھٹکھٹاتا اور شہد کا پوچھتا لیکن کہیں نہیں ملا یہاں تک کہ حاکم وقت کے دربار تک جا پہنچا زنجیر ہلائی اور دربان سے کہا کے مجھے شہد چاہیے دوا بنانی ہے دربان نے پیغام حاکم وقت کے گوش گزار کیا تو اس نے کہا کہ اسے شہد کے تین ڈبے دیئے جاہیں جس پر دربان نے کہا کہ ساہل کو تو صرف تھوڑا سا درکار ہے جس پر حاکم بولا کہ اس نے اپنی حیثیت کہ مطابق مانگا ہے اور ہم اپنی حیثیت کے مطابق دیں گے۔

    قرآن کریم نے اللہ کی توحید کا عقیدہ عقل و منطق کے ذریعے ثابت کیا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ کائنات کا خالق اور اس کا نظام چلانے والا ایک ہی ہوسکتا ہے وگرنہ کائنات کا نظام نہیں چل سکتا۔ ایک اللہ کے عقیدہ کو ایمان واسلام کیلئے ضروری بتاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

              قل ھو اللہ احد اللہ الصمد لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفواً احد۔

        "کہو!وہ اللہ یکتاہے، سب سے بے نیاز ہے اور سب اس کے محتاج ہیں نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد اور کوئی اس کا ہمسر نہیں ۔”

    بقول اقبال

    یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے ،

    ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات ۔

    شاندار بخاری
    شاندار بخاری
  • قُرآن کی رُو سے حق اور باطل کیاِ ہے ؟ -1

    یہ بات بالکل واضح ہے کہ حق عربی زبان کا لفظ ہے ، مگر  فارسی ، اُردو پنجابی میں بھی اس کے معانی و مطالب عربی سے چنداں مختلف نہیں ہیں،  آپ عربی زبان کی تمام چھوٹی بڑی لغات دیکھ لیجیئے اس کے جتنے بھی معانی بیان ہوئے ہیں اُن پر اگر گہرائی میں غور کیا جائے تو ایک ہی معنی کی طرف لوٹتے ہیں اور وہ یہ کہ جو واقعیت اور حقیقت رکھنے کی بنیاد پر استوار اور پائیدار ہو، اور لفظِ ,, حق  ،، باطل کی ضد ہے ,, باطل ،، یعنی  ڈگمگانے والی اور ناپائیدار چیز جو بے حقیقت و واقعیت ہو

    اللسان العرب اور دیگر ماہرین لغت کے اقوال کا ما حصل کچھ یوں ہے کہ ,, ہر وہ چیز جو ایسی واقعیت و حقیقت رکھتی ہو کہ جس کا نتیجہ استحکام، تیقن، اور دوام ہو وہ حق ہو گی جبکہ جو واقعیت و حقیقت نہ ہونے کی بنیاد پر تھوڑی سی نمائش کے بعد ختم ہو جائے وہ باطل ہو گی،،

    قُرآنِ مجید نے حق و باطل کے مسئلہ کو بڑی صراحت و وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے، آپ اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگا لیجیئے کہ لفظِ ,, حق ،، اپنے تمام تر مشتقات کے ساتھ قُرآنِ مجید فُرقانِ حمید میں 287 مرتبہ اور لفظِ ,, باطل ،،  35 مرتبہ آیا ہے، اور قُرآن نے حقِ مطلق پس اللہ تعالیٰ ہی کی ذاتِ والا صفات کو قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ

    ذٰلِكَ بِاَنَّ اللهَ ھُوَ الْحَقُّ وَ اَنَّ مَا يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ ھُوَالْبَاطِلُ وَ اَنَّ اللهَ ھُوَالْعَلِیُّ الكَبِيْرُ * 

    یہ اس بناء پر ہے کہ وہ اللہ ہی حق ہے اور اس کے علاوہ جس کی بھی پرستش کرتے ہیں وہ باطل ہے اور بےشک اللہ ہی بزرگ و برتر ہے

    یہی آیت اسی مضمون کے ساتھ سُورۃ لقمان 30 میں بھی وارد ہوئی  ہے مگر سورۃ لقمان میں (ھُوَ البَاطِلُ) کی جگہ (البَاطِلُ) بیان ہوا  ہے یہ بظاہر معمولی فرق عربی زبان و ادب کی ایک اعلیٰ و ارفع مثال ہونے کے ساتھ ساتھ ہر طرح کی الوہیت اور ربوبیت کو ذاتِ واجب الوجود میں منحصر کرتا ہے اور ان دونوں مقامات پر یعنی سورۃ حج اور سورۃ لقمان میں ان آیات سے پہلے کائنات کے وجود، گردشِ لیل و نہار ، سورج اور چاند کی تسخیر اور گردش کا ذکر ہوا ہے یعنی یہ ایسی حقیقتیں ہیں جن کا بطلان کوئی ثابت کر ہی نہیں سکتا ،

    ہاں البتہ اگر حق کی نسبت الوہیت و ربوبیت نہ ہو بلکہ اس کی وجہ یا نسبت کسی معدوم شے سے مقابلہ ہو تو پھر وہ حق حقِ نسبی ہو گا جس کی نسبت ذاتِ لایزال سے ہو گی حقِ مطلق بہر صورت اللہ تعالیٰ ہی کی ذاتِ والا صفات ہے اس کے علاوہ سورۃ یونس کی آیت 32 میں سورۃ نور آیت 25 میں، سورۃ کہف آیت 42 میں سورۃ مومنوں کی آیت 116 میں بھی اللہ تعالیٰ کو حقِ مطلق قرار دیا گیا ہے،

    بالذاتہ قرآن حکیم سے بڑھ کر اور کیا بڑی پائیداری و استواری کے ساتھ قائم و دائم حقیقت بھلا اور کیا ہو گی قرآن ایسا حق ہے کہ جس کی طرف باطل کی کوئی راہ نہیں ہے، قُرآن ہر طرح کے باطل سے مبری و منزہ ہے، چنانچہ ارشاد فرمایا

    اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِالذِّكْرِ لَمَّا جَأءَھُمْ  ج وَ اِ نَّه، لكِتٰبٌ عَزِيْزٌ * لَّا يَاْتِيْهِ الْبَاطِلُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَلَا مِنْ خَلْفِهٖ ط تَنْزِيْلٌ مِّنْ حَكِيْمٍ حَمِيْدٍ *   سُورَة حٰم السجدة   آیت 41 42

    یہ عزت والی کتاب ہے جس میں باطل کے لیے کوئی راہ نہیں ہے، یہ اس حکیم کی طرف سے بھیجی گئی جو لائقِ حمد ہے،

    اس آیت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جس طرح اللہ کی ذات حقِ مطلق ہے، اسی طرح اللہ کی کتاب بھی حقِ مطلق ہے جیسے اللہ تعالیٰ کی ذات جاودانی ہے ویسے ہی اللہ کی کتاب (قُرآن) ابدی و جاودانی ہے

    سورۃ بقرہ آیت 91 ، سورۃ یونس آیت 94 ، 108، 109 سورۃ سجدہ آیت 3 ، سورۃ سباء آیت 6، 48.، سورۃ فاطر آیت 31 میں بھی قُرآن کو حق قرار دیا گیا ہے،

    جب طویل اور مشکل و تکلیف دہ ترین جد و جہد اور گراں قدر قربانیوں کے بعد کفر و شرک کا قلعہ نابُود ہوا اور مکہ فتح ہوا تو پیغمبرِ گرامی صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کی زبانِ وحی ترجمان پر سورۃ اسراء کی آیت 81 کے یہ الفاظ جاری تھے

                وَ قُل جَأءَ الْحَقُّ وَ زَھَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَھُوْقاً *

    اور اے میرے رسول کہہ دیجیئے کہ حق فتح مندی کے ساتھ جلوہ افروز ہوا اور باطل نابود ہو گیا اور بےشک باطل تو نابُود و نامراد ہی ہونے والا ہے

    یہ آیت اگرچہ اپنے اندر مطالب و معانی کی ایک دنیا سمیٹے ہوئے ہے مگر ہمارے موضوع کی واضح اور مکمل وضاحت کرتی ہے کہ حق سے مراد یکتا پرستی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات تمام صفات کے ساتھ قائم و دائم ہے اور قائم و دائم رہے گی اور ہر دور میں نئے نئے انداز سے ظاہر ہوتا رہا ہے، باطل کے معبود ہمیشہ نابودی کا شکار ہوتے رہے ہیں اور ہوتے رہیں گے

    اسلام ایک مکمل ضابطہءِ حیات ہے اور توحید اس کی اساس ہے اور یہی حق ہے چنانچہ سورۃ انفال کی 8 ویں آیت میں ارشاد ہو رہا ہے کہ

                      لِیُحِقَّ الحَقَّ وَ یُبطِلَ الْبَاطِلَ وَ لَو کَرِہَ المُجرِمُونَ *

    تاکہ حق کو پائیدار اور باطل کو ناپائیدار کر دے ، چاہے گنہگاروں کو یہ بات اچھی نہ لگے

    اور سورۃ سباء 49 ویں آیت میں یوں فرمایا کہ

                                 قُلْ جَأءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيْدُ *

    اے حبیب ان سے کہہ دیجیئے کہ حق تو آ چکا ہے اور باطل نہ ابتدا میں کچھ کرنے کے قابل تھا اور نہ انتہا میں کچھ کرنے کے قابل ہو گا

    یعنی اُن کے باطل خُدا نہ کچھ پیدا کرنے کے قابل تھے، نہ اپنا دفاع کرنے کے قابل تھے اور نہ ہی آئندہ کسی بھی شکل میں خُدا بن کر حق کے مقابل آئیں گے تو کسی قابل ہوں گے کیونکہ پائیداری اور استواری فقط حق کو حاصل ہے

    اعجاز یا معجزہ کو بھی قُرآن حق قرار دیتا ہے، اور اس کے مقابلے سحر اور جادو کو باطل قرار دیتا ہے، کیونکہ معجزہ اللہ تعالیٰ کے ارادے کے ماتحت وقوع پذیر ہوتا ہے، اور حق کی ناقابل بُطلان حقیقت ہونے کے  بیان کے لیے ہوتا ہے چنانچہ سورۃ رعد کی آیت 38 میں ارشاد ہوا کہ

                      وَمَا کَانَ لِرَسُولٍ اَن یَّاتِیَ بِآیَاتِہ اِلَّا بِاِذنِ اللہِ  *

    کسی بھی پیغمبر کے لیے یہ ممکن نہیں کہ اللہ کے اِذن کے بغیر کوئی معجزہ لے آئے،

    پس یہی وجہ ہے کہ سورۃ یونس کی آیت نمبر 76، 77 میں معجزہ کو حق کہا گیا ہے

    فَلَمَّا جَأءَھُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا اِنَّ ھٰذَا لَسِحْرٌ مُّبِيْنٌ * قَالَ مُوْسٰی اَتَقُوْلُوْنَ لِلحَقِّ لَمَّا جَآءَ كُمْ ط اَسَحْرٌ ھٰذَا ط وَلَا يُفْلِحُ السّٰحِرُوْنَ * 

    جب ہماری طرف سے حق آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو وہی کھلا جادو ہے، تو موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ کیا تم حق(معجزے) کو جادو کہتے ہو اور جادوگر کبھی کامیاب نہیں ہو پائیں گے،

    چونکہ معجزہ اپنے اندر حقیقت استواری اور یائیداری لیے ہوئے ہوتا ہے اس لیے اسے حق کہا گیا ہے اور جادو آنکھوں کا دھوکہ، جزوقتی اور ناپائیدار ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ارادہءِ قاہرہ سے فناء ہو جاتا ہے اس لیے اسے باطل کہا گیا ہے چنانچہ سورۃ یونس کی آیت 8 میں ارشاد ہوا کہ

                مَا جِئتُم بِہِ السِّحرُ اِنَّ اللهَ سَیُبطِلُہ،.

    جو کچھ تم لائے ہو وہ تو جادو ہے اور اللہ اسے نابُود کر دے گا

                      فَوَقَعَ الْحَقُّ وَ بَطلَ مَا کَانُوا یَعمَلُون سورۃ اعراف؛ 118

    حق ظاہر ہو گیا اور ان کے کام باطل ہو گئے

    …………….. جاری ہے

  • قُرآن آئینِ زندگی ہے ؛ منشورِ حیات ہے (قسط دوم)

    قُرآن آئینِ زندگی ہے ؛ منشورِ حیات ہے (قسط دوم)

    بِسْمِ اللهِ الْرَّحْمٰنِ الْرَّحِيْمِ*

    وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ حَتیّٰ يَبْلُغَ اَشُدَّه، ج

    اور یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ، سوائے اس طریقہ کے کہ اس کے لیے بہتر ہو، یہاں تک کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائے ،

    یتیم کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے قُرآن نے ہی ہمیں بتایا کہ گذشتہ تمام انبیاء اور شریعتوں میں بھی یہی قانونِ الٰہی تھا

    منشورِ حیات کے اس چھٹے اصول سے یہ بات بالکل واضح اور عیاں ہے کہ بچہ انسانی معاشرے کی بنیاد کی خِشتِ اول ہے، بچے کی نگہداشت ، تربیت، درست بنیادوں پر پرورش بہترین اور توانا معاشرے کے لیے کس قدر اہم ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن میں یتیم کے حقوق اور کیفیات کے بیان میں لفظِ یتیم اپنے دیگر مُشتقات کے ساتھ 23 مرتبہ استعمال ہوا ہے

    بچہ دراصل اپنی کمزوری اور ناتوانی کی وجہ سے کسی ایسے ہمدرد سرپرست کا محتاج ہوتا ہے جو اتنی بڑی اور اجنبی دنیا میں اُس کا ساتھ دے اس کے مادی و روحانی حقوق کا محافظ ہو، باپ اس فطری ذمہ داری کو جتنا بھی اپنے کندھوں سے ہٹانا چاہے وہ ایسا کر نہیں پاتا  اسی طرح یتیم بھی ایسی سرپرستی اور شفقت ، مادی حقوق کی حفاظت کا مکمل حق رکھتا ہے لہٰذا قرآن مجید اس اہم ترین حق کی طرف متوجہ کرتے ہوئے اس کے مادی و روحانی حقوق کے تحفظ کا حکم دے کر معاشرے کی اہم ترین ذمہ داری کا تعین فرما رہا ہے کہ جو بچہ کسی بھی وجہ سے اپنے قدرتی و حقیقی سرپرست سے محروم ہو گیا ہو اُس کے قریبی اعزاء و اقارب اس کی سرپرستی و تربیت فریضے کی طرح ادا کریں، تاکہ بلوغت کے بعد وہ تمہارے معاشرے کا مفید فرد بن کر سامنے آئے،

    وَ اَوْفُواالْكَيْلَ وَ الْمِيْزَانَ بِالْقِسْطِ ج

    ناپ تول کا حق انصاف کے ساتھ پُورا کرو ؛

    عدل و قسط اپنے اندر بے شمار معانی و مفاہیم لیے ہوئے ہے، اس کی وضاحت اور سمجھنے کے لیے ایک الگ نشست اور مضمون کی ضرورت ہے، البتہ یہاں چونکہ موضوع ناپ تول میں عدل و قسط ہے لہٰذا اسی پر مختصر بات کرتے ہیں،

    قُرآن میں معاشی و اقتصادی انصاف معاشرے کا بنیادی ترین اصول قرار دیا گیا ہے ناپ تول میں کمی سے مراد اجناس کے علاوہ ہر طرح کی ثروت و دولت؛ قدرتی وسائل اور نعمتوں کی تقسیم بھی ہے، ایک عام شہری سے حکمران تک اس آیت میں اور قُرآن میں مخاطب ہیں کہ دولت چند ہاتھوں میں جمع نہ ہو، ذخیرہ اندوزی نہ کی جائے، ناپ تول میں کمی نہ کی جائے، کسی کے حق پر بےجا تصرف نہ کیا جائے، فقر و فاقہ اور طبقاتی امتیازات کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے،

          لَا  نُکَلِّفُ  نَفساً  اِلَّا  وُسعَھَا ج

    ہم کسی انسان کو اُس کی طاقت سے بڑھ کر ذمہ داری نہیں دیتے

    یہاں پر تو بظاہر ان الفاظ کا تعلق پچھلی بات سے بنتا ہے یعنی اقتصادی عدل؛ ناپ تول میں عدل و قسط یہ اتنا مشکل کام نہیں کہ جسے تم کر نہ سکو لیکن یہی بات سُورۃ بقرۃ کی آیت 233؛ سُورۃ اعراف کی آیۃ 42 ؛ سُورۃ مومنون آیت 62 میں مختلف معانی میں کہی گئی ہے، جس کا لب لباب یہ بنتا ہے کہ اسلام بطورِ دین اپنے اندر انسانیت کے لیے آسانیاں سمیٹے ہوئے ہے، اس پر عمل کرنے میں کوئی تنگی نہیں ہے، اور اسلام کوئی ایسا حکم نہیں دیتا جس پر عمل  کرنے میں انسان کے لیے تنگی اور مشکل پیدا ہو،

    وَ اِذَا  قُلْتُم  فَاعدِلُوا  وَلَو کَانَ ذَا قُربی  ج

    اور جب بات کرو تو عدل کرو خواہ وہ قرابت دار کے بارے میں ہی ہو

    عدل ایک ایسا بنیادی منبع و ستون ہے کہ جس پر انسانی معاشرے کی بنیاد پُختہ ہوتی ہے، اور اللہ تعالیٰ یہاں اور قُرآن میں دیگر مقامات پر یہ واضح اصول دے رہا ہے کہ جب تم فیصلہ کرنے لگو تو کوئی رشتہ کوئی لالچ، کوئی خوف تمہیں حق پر فیصلہ کرنے سے نہ روک پائے اور قُرآن نے متعدد مقامات پر ہوا و ہوس اور نفسانی خواہشات کی پیروی کو عدل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا ہے،

    وَ بِعَھْدِ اللهِ اَوْفُوْا ط ذٰلِكُمْ وَصّٰكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ * 

    اور اللہ سے کیا گیا وعدہ پورا کرو ؛ اللہ نے تمہیں اس کی تاکید کی ہے تاکہ تم ذکر کرتے رہو،

    عہد و پیمان اور وعدہ وفائی ایک فطری خُوبصُورتی ہے، اخلاقی بلندی؛ اعتماد اور معاشرتی اعلیٰ ظرفی کا واضح ثبوت ہے، جبکہ وعدہ و پیمان شکنی اخلاقی پستی کی مظہر ہے، وعدہ وفائی کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا لیجیے کہ قُرآن مجید میں اس کا ذکر 45 مرتبہ ہوا ہے، اور آیت کے آخری الفاظ تاکید کی گئی ہے کہ اس پر عمل کرو اور ان مندرجہ بالا امور کو دہراتے رہو، ذکر کرتے رہو،

    اور اس سے اگلی آیت 153 میں ارشاد رَبُّ العِزَّت ہو رہا ہے کہ

    وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِيْماً فَاتَّبِعُوْهُ ط وَلَا تَتَّبِعُوْاالسُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبَيْلِهٖ ط ذٰلِكُمْ وَصّٰكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ  *

    یہ ہے ہمارا سیدھا راستہ اسی پر چلتے جاؤ اور دوسرے راستوں پر نہ چلو

    کہ وہ تم کو اللہ کے راستے سے بھٹکا کر متفرق کر دیں گے یہ ہیں وہ باتیں جن کا اللہ تمہیں حکم دیتا ہے،

    صراطِ مستقیم کے متلاشیو! دنیا و آخرت کی کامیابی چاہنے والو ! قُرآن میں تلاش کرو تمہیں دنیا میں جنت مل جائے گی، مگر لالچ، ہوس ، بہتات کی حرص ، شہوت جیسے شیطان بھی تو صراطِ مستقیم کے اوپر بیٹھے ہوئے ہیں، جو انسانوں کو اللہ کے راستے سے بھٹکا تے ہیں اور انسان اپنے کریم رب سے دوری اختیار کر لیتا ہے، حالانکہ وہ کریم رب قدم قدم پر انسانوں کی راہنمائی فرما رہا ہے،

    اس کے علاوہ بھی قُرآن نے چار مقامات پر تسلسل کے ساتھ اپنے منشور کو واضح بیان فرمایا ہے، یہ سُورۃ بنی اسرائیل کی 22 ویں آیہ سے 39 ویں آیۃ تک 18 آیات ہیں اور پھر سُورۃ مومنون یہلی 10 آیات میں سات 7 بنیادی اصول بیان کیئے گئے

    سُورۃ فُرقان کی آیت 63 تا 77 میں 14 اصول پیش ہوئے جبکہ سُورۃ لقمان آیات 13 تا 19 میں بھی 12 اخلاقی و معاشرتی اصول بیان کیئے گئے ہیں ؛ ان تمام مشترکہ نکات کو ایک جگہ جمع کر کے مطالعہ کیا جائے تو قُرآن مجید کی حقانیت و حکمت کے سارے راز کھلتے ہیں، وہ حکیمِ مطلق دراصل نوعِ بشر کو سعادت و خوش بختی کی کن منازلِ پر دیکھنا چاہتا ہے قُرآن کو بطورِ منشورِ حیات اگر پڑھا اور سمجھا جائے اور عمل کی کوشش کی جائے تو سب کچھ آشکار ہوتا چلا جاتا ہے،

    سُورۃ بنی اسرائیل کی آیات 22 تا 39  میں بیان کردہ  منشورِ حیات کے 14 نکات یہ ہیں

    1 – لَا تَجعَل مَعَ اللہِ اِلٰھاً  آخَرَ

    اللہ کے ساتھ دوسرا شریک قرار نہ دیا جائے

    2  –  وَقَضٰی رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْا اِلَّا اِيَّاهُ

    تمہارے پروردگار کا فرمان ہے کہ عبادت فقط اسی کی کرو

    3  – وَ بَالوَالِدَینِ اِحْسَاناً

    اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو

    4  – وَاٰتِ ذَاالْقُرْبیٰ حَقَّه، وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنِ الْسَبِيْلِ

    اپنے قریبی رشتہ داروں؛ مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کرو

    5  – وَلَا تُبَذَِّر تَبذِیراً 

    اسراف اور فضول خرچی نہ کرو

    6 – وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اَلیٰ عُنُقِكَ  وَلَا تَبْسُطْھَا كُلَّ الْبَسْطِ

    نہ اپنے ہاتھوں کو بالکل گردن سے باندھ لو اور نہ ہی بالکل کُھلا چھوڑ دو (نہ کنجوسی؛ نہ فضول خرچی بلکہ میانہ روی)

    7 – وَلَا تَقْتُلُوْا اَوْلَادَكُمْ خَشیَۃَ  اِمْلَاقٍ

    اور نہ بھوک کے خوف سے اپنی اولادوں کو قتل کرو

    8 –  وَلَا تَقْرَبُواالزِّنیٰ

    زنا (بدکاری) کے قریب مت جاؤ

    9  – وَلَا تَقْتُلُواالنَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللهُ اِلَّا بِالْحَقّ

    اللہ نے ناحق خون بہانے (قتل) کو حرام قرار دیا ہے

    10  – وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ

    احسن صورت کے علاوہ یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ

    11  – وَ اَوْفُوْا بِالعَھدِ

    اور اپنے وعدے ایفاء کیا کرو

    12  – وَ اَوْفُواالْكَيْلَ اِذَا کِلتُم وَزِنُوا بِالْقِسْطَاسِ المُستَقِیمِ

    پیمانہ صحیح رکھو اور بالکل درست ترازو سے وزن کیا کرو

    13  – وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ ط اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلَّ اُولٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسئُولاً

    جس چیز کے بارے میں نہیں جانتے ہو اُس کی پیروی نہ کرو، کان؛ آنکھ ؛ اور دل جواب دہ ہوں گے

    14  – وَلَا تَمْشِ فِی الاَرْضِ مَرَحاً

    اور تکبر و غرور کے ساتھ زمین پر نہ چلو