Tag: چھانگلا ولی

  • چھانگلا ولی اور بارات

    چھانگلا ولی اور بارات

    چھانگلا ولی اور بارات


    کالم نگار:۔ سید حبدار قائم

    چھانگلا ولی موجِ دریا حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ زیارت گاٶں کے قریب دریائے سندھ کے کنارے پر عبادت میں مشغول تھے ۔ دریاٸے سندھ میں کشتی کے ذریعے ایک بارات جا رہی تھی اچانک کشتی میں پانی بھر گیا اور کشتی باراتیوں سمیت ڈوب گٸی باراتیوں میں ایک شخص تیراکی جانتا تھا وہ تیر کر دریا سے بہ حفاظت باہر نکل آیا اور اس نے دولہے کی والدہ کو جا کر بتایا کہ کشتی دریا میں ڈوب گٸی ہے دولہے کی والدہ اس شخص کے ساتھ اس جگہ پر آٸی جہاں کشتی ڈوبی تھی اس علاقے کے لوگ چھانگلا ولی کی کئی کرامات سے واقف تھےچناں چہ وہ عورت آپ کے پاس روتی ہوئی آئی اور عرض کیا کہ میرے بیٹے کی بارات ڈوب گٸی ہے آپ دعا کیجیے کہ سارے باراتی بچ جائیں اور کشتی بھی سازو سامان کے ساتھ بہ حفاظت اوپر آ جائے اور دل ہی دل میں منت مانگی اگر سب بچ گٸے تو میں آپ کے لنگر پر بکرا دوں گی آپ نے اللہ کی بارگاہ میں دعا مانگی تو دیکھتے ہی دیکھتے کشتی باراتیوں سمیت پانی سے باہر نکل آئی اور لوگوں نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ وہ ایسے مومن تھے جن کی زبان سے نکلی ہوئی ہر دعا پوری ہوتی تھی ایسے مومنین کے لیے علامہ اقبالؒ کا قلم ہمیشہ لکھتا رہا اقبالؒ کی شاعری میں ڈھلے فن پاروں کے عکس ہائے جمیل کا ان فرخندہ بخت اشعار سے اندازہ لگائیں کہ کیا خوب باتیں تحریر کی ہیں ملاحظہ کیجیے

    کشاد در دل سمجھتے ہیں اس کو
    ہلاکت نہیں موت ان کی نظر میں
    دل مرد مومن میں پھر زندہ کر دے
    وہ بجلی کہ تھی نعرۂ لا تذر میں
    عزائم کو سینوں میں بیدار کر دے
    نگاہِ مسلماں کو تلوار کر دے

    چھانگلا ولی اور بارات

    اس دن سے لے کر آج تک اس علاقے کے پٹھان جب بھی شادی کرتے ہیں تو آپ کے مزار مبارک پر آ کر بکرا ذبح کر کے زائرین اور غریبوں میں بانٹ دیتے ہیں ۔ یہ بارات خوشحال گڑھ سے بذریعہ کشتی آ رہی تھی۔ خوشحال گڑھ سے کوہاٹ تک جو افراد کشتی میں موجود تھے وہ سارے کے سارے کرامت دیکھ کر آپ کے مریدین میں شامل ہوگئے۔ ہر طرف آپ کی کرامت کا چرچا ہوگیا اور وہ آپ کے ہاتھ سے دولتِ اسلام کے خزانے لوٹ کر لے جانے لگے

    یہ کرامت حضرت غوث پاکؒ سے بھی منسوب ہے لیکن آج بھی خوشحال گڑھ کے بزرگوں سے پوچھیں تو وہ چھانگلا ولی موجِ دریاؒ کا نام ضرور لیں گے۔ اور یہ ضروری بھی نہیں کہ ایک ولی کی کرامت دوسرا ولی دہرا نہ سکے ضرورت پڑنے پر بہ حکمِ خدا سب کچھ ہو سکتا ہے ۔ یہ کرامت میں نے اپنے والد محترم سید کرم حسین شاہ ولد سید فضل حسین شاہ بخاری سے سنی ہے جو نسل در نسل ان تک پہنچی ہے ۔ حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ کی اولاد بھی ولی ہے اگر ان کا ذکر نہ کیا جاۓ تو موضوع تشنہ رہ جاۓ گا۔ میرے اپنے الفاظ چھانگلا ولی حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ کو یوں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں

    نکالی تھی بارات جس نے دعا سے
    وہی چھانگلا ہے وہی چھانگلا ہے

    مجھے جد بھی خالق نے ایسی عطا کی
    کہ جس کی دعاوں سے گلشن ہرا ہے

    آخر میں اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں بھی اولیا کرام کی محبتوں سے نوازے اور ان کے قول و فعل پر عمل کی توفیق عطا فرماۓ۔ آمین

  • چھانگلا ولی اور چیونٹیاں

    چھانگلا ولی اور چیونٹیاں

    چھانگلا ولی اور چیونٹیاں


    کالم نگار سید حبدار قاٸم

    قرآن مجید میں چونٹیوں کا ذکر عقل مند اور محنتی کے الفاظ میں کیا گیا ہے اللہ تعالٰی نے چیونٹیوں کی سردار چیونٹی کے دل میں ڈال دیا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا لشکر آ رہا ہے اس لیے تم سب اپنے اپنے بلوں میں چلی جاو یہ خبر سردار چیونٹی نے سب قبیلے میں پھیلا دی تو چیونٹیاں اپنے اپنے بلوں میں چلی گٸیں
    کیونکہ انہیں خطرہ تھا کہ وہ فوج کے پاؤں تلے کچلی جائیں گی۔ اس واقعے کے ذکر سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ چیونٹیاں عقل مند ہوتی ہیں اور اپنی جان بچاتی ہیں میرے اپنے خیال کے مطابق اس وقت اللہ رب العزت کا چیونٹیوں کو بچانا اس لیے مقصود تھا کہ ان چیونٹیوں کے ذریعے اس نے اپنے ولی کی مدد کرنا تھی یا اُس وقت اُس زمین کے ٹکڑے میں ہی صرف چیونٹیوں کا بسیرا تھا تو رب نے انہیں بچانے کے لیے یہ الہام کر دیا کہ بلوں میں چلی جاٸیں تا کہ بعد میں آنے والے انسانوں کے کام آ سکیں کیونکہ آج کل تو چیونٹیاں گھروں سے نکل آتی ہیں انہیں بھگانے کے لیے زہریلی ادویات کا چھڑکاو کرنا پڑتا ہے یا چیونٹیاں گاوں کے رستوں پر چلتی پھرتی ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں زمین پر کچلی جاتی ہیں نہ وہ رستہ بدلتی ہیں نہ انسانوں کے خوف سے بلوں میں گھستی ہیں اس لیے میرا ذاتی خیال ہے کہ اللہ تعالٰی کو اپنے ولی کی حمایت اور نصرت مقصود تھی اس لیے اس وقت انہیں اس مخصوص وادی میں بچا کر پوری زمین میں پھیلا دیا۔ واللہ اعلم بالصواب
    لیکن یہاں معاملہ کچھ اور تھا چھانگلا ولی حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ کے مریدین کی زیادہ تعداد بیلہ گاٶں میں قیام پزیر تھی جو کہ بگدیال قوم کی بستی تھی ۔ آپ نے ان لوگوں کو حکم دیا کہ آپ لوگ بھی زیارت گاوں میں آجاٸیں لیکن ان لوگوں نے کہا کہ سرکار ہم دن کے وقت آپ کے پاس جب کہ راتوں کو اپنے گھروں میں چلے جاٸیں گے اس بات پر چھانگلا ولی حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ کے دل میں تھوڑی سی ناگواری محسوس ہوٸی جونہی دن گزرا لوگ اپنے گھروں کی طرف گۓ تو کیا دیکھتے ہیں کہ اُن کے گاٶں میں ہر طرف چیونٹیاں اور موٹے موٹے کیڑے پھیلے ہوۓ تھے کیڑوں کی بھرمار سے جانور بھاگ گۓ تھے جس برتن کو اٹھاتے چیونٹے کاٹنے کو دوڑتے تھے جس بستر پر جاتے چیونٹیاں موجود ہوتیں اور انہیں کاٹتیں حتیٰ کہ اُن لوگوں کے اوپر ان کیڑوں نے چڑھنا شروع کردیا۔ لوگ گھبرا کر زیارت کی طرف بھاگے آپ سے ملے آپ مسکراۓ اور فرمایا پہلے ہی زیارت میں آجاتے تو کتنا اچھا ہوتا لوگوں نے پھر درخواست کی اور یہ کہا کہ سرکار وہاں ہماری زمینیں ہیں کھیتی باڑی سے ہماری گزر اوقات چلتی ہے تو آپ نے فرمایا کہ آدھے زیارت میں آ جاو اور آدھے بیلہ گاٶں میں رہو یہ فیصلہ مان کر وہ لوگ خوش ہوٸے اور گاٶں گۓ اور یہ دیکھ کر حیران رہ گٸے کہ ادھر کوٸی کیڑا مکوڑا اور چیونٹی نہیں تھی ۔
    حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ کی اس کرامت نے ثابت کردیا کی آپ کی ناراضگی میں اللہ کی ناراضگی اور آپ کی خوشی میں اللہ کی خوشی تھی ۔
    یہ واقعہ مجھے کھنڈہ گاوں کے سو سالہ بزرگ سید کرم حسین شاہ بخاری نے سنایا تھا جب میں چھانگلا ولی حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ پر تحقیق کر رہا تھا میں نے سینہ بہ سینہ چلنے والے اس علم کو اکھٹا کیا اور کتاب کی شکل دی تا کہ جوان نسل تک یہ علم پہنچ جاۓ ان واقعات کو کوٸی بھی بندہ اپنے ذاتی فاٸدے یا گدی نشینی کے لیے تھانہ کچہری اور عدالتوں میں استعمال نہ کرے کیونکہ یہ واقعات 1500 کے ہیں ان میں سنانے اور لکھنے والوں کی غلطی شامل ہو سکتی ہے۔
    اللہ پاک سے دعا ہے کہ ہمیں اولیا کرام کی محبتوں سے نوازے اور ان کے قول و اقوال پر عمل کی توفیق عطا فرماۓ۔ آمین

  • چھانگلا ولی اور دودھ فروش

    چھانگلا ولی اور دودھ فروش

    چھانگلا ولی اور دودھ فروش


    کالم نگار: سید حبدار قاٸم

    حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ نے زیارت گاٶں میں جب دیکھا کہ لوگ دودھ میں پانی ڈال کر فروخت کر رہے ہیں جس کی وجہ سے دولت کی ہوس بڑھ رہی ہے اور لوگ دولت کے پجاری بنتے جا رہے ہیں دودھ کے کاروبار میں پانی کی ملاوٹ آپ کو اچھی نہ لگی ۔ آپ نے بھینسوں کا دودھ بیچنا منع کردیا جس کی وجہ سے دودھ میں پانی کی ملاوٹ کا تدارک ہوگیا ۔ آپ نے حکم دیا کہ بھینسوں کا دودھ جو اپنے گھر کی ضرورت کے علاوہ ہو وہ بیوہ عورتوں اور غربا ٕ میں تقسیم کردیا کریں ۔ کچھ عرصہ تو لوگوں نے عمل کیا لیکن تھوڑا عرصہ گزرنے کے بعد دوبارہ دودھ بیچنا شروع کر دیا ۔ آپ کی اس حکم عدولی پر لوگوں کی بھینسیں مرنا شروع ہوگٸیں گاوں کا صرف ایک گھر چھوڑ کر سب کی بھینسیں مرگٸیں ۔لوگوں کے پوچھنے پر پتہ چلا کہ وہ دودھ نہیں بیچتے اور جو دودھ گھر کے استعمال سے زیادہ ہوتا ہے وہ رشتہ داروں اور غریبوں میں تقسیم کر دیتے ہیں ۔ آج کل بھی زیارت گاوں کے وہ لوگ جو آپ پر عقیدہ رکھنے والے ہیں اس حکم پر سختی سے عمل کرتے ہیں۔
    عمل ہی وہ گہنا ہے جس سے بدن حسین نظر آتا ہے حضرت اقبالؒ نے بھی یوں عمل پر زور دیا ہے

    عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
    یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے

  • چھانگلا ولی اور راجہ

    چھانگلا ولی اور راجہ

    چھانگلا ولی اور راجہ


    کالم نگار :۔ سید حبدار قائم

    چھانگلا ولی حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ کی کرامات کا دور دور تک چرچا ہو گیا تو لوگ جوق در جوق آپ سے ملنے لگے اور اسلام قبول کرنے لگے آپ کا فیض اور لنگر جاری ہو گیا آپ غریبوں کی مدد کرنے والے سخی ولی تھے آپ کے در پر بھوکے آتے تو سیر ہوکر جاتے آپ کے عقیدت مندوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی تھی لوگ دور دور سے آپ کی زیارت کرنے کے لیے آتے آپ نے جب دیکھا کہ آپ کی ریاضت مشاہدہ اور عبادت کو کم وقت مل رہا ہے تو آپ نے زیارت گاوں کے مریدین سے کہا کہ مجھے زیادہ بندوں کے آنے کی وجہ سے عبادت کے لیے کم وقت ملتا ہے مریدین نے سن کر کہا کہ اس کا کوئی حل نکالتے ہیں اس طرح انہوں نے اپنی طرف سے حکم دیا کہ آٸندہ زیارت آنے والے لوگ پیدل آٸیں اور سواری کا استعمال نہ کریں تو اس وجہ سے لوگوں کی تعداد کافی حد تک کم ہو گئی لیکن حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ کو جلد ہی محسوس ہو گیا کہ تبلیغِ دین کے کام میں بندوں کی تعداد خاصی کم ہو گئی ہے تو فوری طور پر مریدین سے پوچھا کہ بندے آنا کیوں کم ہو گئے ہیں تو مریدین نے کہا کہ ہم نے سواری کی پابندی لگائی تھی تو آپ نے انہیں حکم صادر فرمایا کہ آپ صرف زیارت گاوں کی حد میں سواری پر پابندی لگائیں کیونکہ غریب لوگ مفلسی کی وجہ سے احساسِ کمتری کا شکار نہ ہوں
    مریدین نے دوبارہ اعلان کیا تو ایک بار پھر آپ کے آستانے پر رونقیں لگ گئیں لوگوں نے ادب اور آپ کے حکم پر ایسا کرنا شروع کر دیا کہتے ہیں اس علاقے میں کوٸی راجہ حکمران تھا ۔ جب اس کو معلوم ہوا کہ ایک جمِ غفیر لوگوں کا چھانگلا ولی حضرت رحمت اللہ بخاریؒ کے پاس آتا ہے تو اس کو اچھا نہ لگا اس نے آپ سے جنگ کا ارادہ کر لیا ۔ کسی نے بتایا کہ آپ کے آستانے کی حد میں سواری پر جانا منع ہے تو اس نے اپنا ہاتھی لیا اور سوار ہو کر زیارت گاٶں میں پہنچا کہتے ہیں جس حد کے متعلق چھانگلا ولی نے بتایا تھا کہ سواری پر اس کو کوٸی بندہ عبور نہیں کرے گا ۔ وہاں جب وہ ہندو راجہ اس جگہ کو عبور کرنے لگا تو وہ اور اس کا ہاتھی زمین میں دھنسنا شروع ہو گئے حتٰی کہ پورے کے پورے زمین میں دھنس گئے ایک ولی کے ساتھ جنگ نے اس کو زمین برد کر کے جہنم واصل کر دیا۔ جس جگہ وہ زمین میں دھنسا بالکل اس جگہ کے ساتھ آج کل واٹر سپلاٸی والوں نے پانی کی ٹینکی بناٸی ہے اس وقت سے آج تک پورا گاٶں اس واقعہ کو جانتا ہے کہ ہندو راجہ اس جگہ زمین میں دھنس گیا تھا ۔ پرانے لوگ جانتے ہیں شاید اے فار ایپل پڑھنے والوں کو اس کا ادراک نہ ہو۔ واللہ اعلم باالصواب

    چھانگلا ولی اور راجہ


    یہ واقعہ مجھے زیارت گاوں کے بہت درویش صفت خوبصورت انسان سید حبدار حسین شاہ نے اس وقت سنایا تھا جب وہ ہمارے گاوں غریبوال میں ہمارے گھر تشریف لائے تھے
    حضرت رحمت اللہ بخاریؒ جیسے اولیا کے لیے حضرت علامہ اقبالؒ کے یہ اشعار بالکل صادق آتے ہیں

    یہ غازی یہ تیرے پُر اسرار بندے
    جنہیں تو نے بخشا ہے ذوقِ خداٸی
    دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
    سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے راٸی

    اللہ تعالٰی سے دعا ہے کہ ہمیں بھی اولیا کی محفل میں بیٹھنا نصیب فرماٸے اور ان کی سیرت پر چلنے کی توفیق عطا فرماٸے۔آمین

  • چھانگلا ولی اور اژدھا

    چھانگلا ولی اور اژدھا

    چھانگلا ولی اور اژدھا

    کالم نگار : ۔ سید حبدار قاٸم
    ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ المعروف چھانگلا ولی موجِ دریا عالم وجد میں جا رہے تھے آپ اللہ رب العزت سے گفتگو میں مشغول تھے کہ راستے میں ایک اژدھا نے راستہ روک لیا آپ نے اس کی طرف دیکھا اور منہ سے فوراً نکل گیا پتھر کا ہو جا اژدھا وہاں راستے میں ہی پتھر کا ہو گیا جس کی باقیات آج بھی زیارت گاٶں میں موجود ہیں۔ راستے میں پڑا یہ اژدھا پتھر کا بن کر لوگوں کے لیے عبرت کا نشاں بن گیا تاکہ کوٸی بھی اولیا کرام کا راستہ نہ روکے اور انہیں اپنے روحانی کام کرنے دے تمام اولیا کی زندگیاں پڑھ لیں تو یہ معلوم ہو گا کہ جس نے بھی کسی ولی کا راستہ روکا اسے اللہ رب العزت نے تباہ و برباد کر دیا
    زیارت گاوں کا یہ اژدھا زمانے کے حوادث اور لوگوں کے پاٶں لگنے سے ٹوٹ پھوٹ گیا ہے لیکن آج بھی اس کی داستان زیارت گاٶں کے بچے بچے کی زبان پر ہے غور و فکر کریں تو پتا چلتا ہے کہ ولی کی زبان اللہ کی زبان ہوتی ہے جو زبان سے نکل گیا وہ حرفِ کُن ہوگیا جو کن ہوا تو فیکون تو ہونا ہی ہوتا ہے۔ یہ لفظ کُن صرف اللہ کا ہے لیکن وہ اپنے اولیا کو اس لفظ کا خود اختیار دیتا ہے ضرورت پڑنے پر جس سے کرامات کا ظہور ہوتا ہے

  • چھانگلا ولی، تربوز اور پتھر

    چھانگلا ولی، تربوز اور پتھر

    چھانگلا ولی، تربوز اور پتھر

    کالم نگار: سید حبدار قائم

    اگر پھول پر پڑی ہوئی شبنم کو غور سے دیکھا جاۓ تو کبھی اس میں سرخ رنگ نظر آتا ہے اور کبھی نیلا اور کبھی ارغوانی رنگ کی شعاٸیں نظر آتی ہیں شبنم پانی کا ایک لطیف قطرہ ہوتی ہے جو صدف کے دل میں جاۓ تو گوہر بن جاتی ہے پھول پر پڑے تو پھول کی رعنائی بڑھ جاتی ہے اور وہ نکھر جاتا ہے
    اولیا کرام کو جو بندے جس نظر سے بھی دیکھیں وہ ان کو ویسا ہی نظر آتے ہیں کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا
    کہ مومن مومن کا آئینہ ہے
    بے شک اولیا کی شخصیت آئینہ کی طرح ہوتی ہے ان کو جس زاویے سے دیکھا جاۓ آپ کو ویسے ہی نظر آئیں گے
    یہ حدیث میں نے گوگل سے کاپی کی ہے تاکہ بات کہنی آسان ہو جائے حدیثِ قدسی ہے

    اللہ رب العزت کا فرمان ہے
    ( جس نے میرے کسی ولی کو تکلیف دی میرا اس کے خلاف اعلان جنگ ہے اور میرا بندہ کسی چیز کے ساتھ میرا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو مجھے وہ اس سے بھی زیادہ پسند ہے جو میں نے اس پر فرض کیا ، میرا بندہ جب نوافل کے ساتھ میرا قرب حاصل کرتا ہے تم میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اس سے محبت کرنے لگوں تو اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا اور میں اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اس کا قدم بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور جب وہ مجھ سے مانگتا ہے تو میں اسے دیتا ہوں اور جب بخشش طلب کرتا ہے تو میں اسے بخش دیتا ہوں اور جب میری پناہ میں آنا چاہتا ہے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں )
    فتح الباری حدیث نمبر (6502) اس حدیث کو امام بخاری اور امام احمد بن حنبل اور بیہقی رحمہم اللہ نے بیان کیا ہے اس حدیث میں جس ضمن میں حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ کی کرامت لکھنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ :
    ( اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا اور میں اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے اور اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے قدم بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے )

    حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ ایک دفعہ بیٹھے ہوۓ تھے کہ ان کے پاس سے تربوز بیچنے والا گزرا آپ نے اسےکہا کہ ایک تربوز مجھے دے دو تو جواب میں اس نے فوراً یہ کہہ دیا کہ بوری میں تربوز نہیں پتھر ہیں۔ آپ نے فرمایا بالکل تم نے صحیح کہا ہے یہ پتھر ہی ہیں۔ تربوز بیچنے والا گدھا گاڑی لے کر آگے بڑھا اور انہیں بیچنے کے لیے بوری کا منہ کھولا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ بوری میں تربوزوں کی جگہ پتھر ہیں اس نے واپس آکر آپ سے معافی مانگی لیکن وقت گزر چکا تھا چنانچہ آپ کے پاس وہ پتھر چھوڑ کر چلا گیا بزرگ کہتے ہیں کہ وہ پتھر سبز رنگ کے تھے
    جب اللہ بندے کا کان بن جاٸے اور اس کی زبان ہو جائے تو تربوزوں سے پتھر بنتے دیر نہیں لگتی
    حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ المعروف چھانگلا ولی موج دریا اس وقت عالم جذب میں بیٹھے ہوئے تھے جس وقت تربوز والا آیا تھا
    جب میں حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ تحقیق کر رہا تھا تو پنڈی گھیب کے نواحی گاوں چکی کے بزرگ پیر سید امداد علی شاہ المعروف لٹاں والا بابا نے یہ واقعہ مجھے سنایا جو میں نے قارئین کی بصارتوں کی نذر کیا ہے
    آخر میں اللہ تعالٰی سے دعا گو ہوں کہ وہ ہمیں بھی سچا مومن بننے کی توفیق عطا فرمائے ایسا مومن جس کے بارے میں حضرت علامہ اقبالؒ نے بال جبریل میں فرمایا تھا

    ہاتھ ہے ﷲ کا، بندۂ مومن کا ہاتھ
    غالب و کار آفریں، کار کشا کار ساز
    خاکی و نوری نہاد، بندہ مولا صفات
    ہر دو جہاں سے غنی، اس کا دل بے نیاز

  • چھانگلا ولی اور جادو گر

    چھانگلا ولی اور جادو گر

    چھانگلا ولی اور جادو گر

    کالم نگار: سید حبدار قائم

    ٹلہ جوگیاں سے آنے والے جادوگروں نے مختلف علاقوں کے لوگوں کو اپنے جادو سے تنگ کیا ہوا تھا جس کی وجہ سے مرشد نے  حضرت سید رحمت اللہ شاہ بخاریؒ المعروف چھانگلا ولی موجِ دریا کو زیارت گاوں کی طرف رختِ سفر باندھنے کا حکم دیا آپ کے علاوہ باغ نیلاب کے لوگوں کو جادوگر کے فتنہ سے بچانے کے لیے حضرت نوری سلطانؒ کو حضرت پیر سید عبدالوہابؒ نے بھیجا تھا ۔

    یہ جادوگر سادہ لوح انسانوں کو دھوکہ دے کر مال بٹورتے تھے اور اپنی خواہشات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ایسے واقعات کا ذکر کتابوں میں بھی ملتا ہے حضرت نوری سلطانؒ سے منسوب پنجاب چیفز کے صفحہ نمبر 563 پر لیبل ایچ گرفن نے بھی ایسا ہی ایک واقعہ یوں رقم کیا ہے

    "کھٹڑ جو کہ مسلمان تھے انہی دنوں ایک ہندو جوگی نیلاب آیا اور ایک طاقتور جادو سے پوری آبادی کو ہندو ازم کی طرف مائل کر دیا اس نے نہ صرف لوگوں بلکہ چوپاوں پر بھی جادو کیا جس کی وجہ سے مویشیوں کے تھنوں سے دودھ کی بجاۓ خون آتا جب یہ خبر شاہ عبدالوہاب تک پہنچی جو کہ ایک ولی کامل تھے جن کی رہائش اُچ ضلع لیہ میں تھی انہوں نے اپنے بیٹے نوری سلطان عبدالرحمان کو روانہ کیا تاکہ لوگوں کو دوبارہ حقیقی اسلام کی طرف واپس لائیں انہوں نے نیلاب کی جانب سفر اختیار کیا اور قبضہ کے مضافات میں ایک بوڑھی عورت سے ملے اور اس سے دودھ طلب کیا اس عورت نے اس آفت کے بارے میں بتایا جو کہ جانوروں پر آ پڑی لیکن اس کے باوجود عبدالرحمٰن سرکار نے دودھ کے لیے اصرار کیا اور ان کے ایمان کے بدلہ میں گاۓ کے تھنوں سے خون کے بدلے سفید دودھ شروع ہو گیا جوگی نے جب ولی کامل کی خبر سنی تو اس نے حالات کا جائزہ لینے کے لیے پتنگ کی صورت اختیار کی مگر عبدالرحمٰن اس کے قریب نہ آۓ نوری سلطان نے اس بندے کی جانب جوتا پھینکا اور وہ مر کر پتھروں کے درمیان گر گیا ان لوگوں نے ہندو ازم کو چھوڑ دیا اور واپس اسلام کی جانب لوٹ آے یہ حقیقت نہیں ہے کہ کھٹڑ اور اعوان ہندو تھے بلکہ یہ ایک عارضی حادثہ تھا جو ان کے ساتھ پیش آیا۔”

    (دی پنجاب چیفز از لیبل ایچ گرفن صفحہ 563 ماخد کتاب نیلاب وکھٹڑ مصنف عمران کھٹڑ )  

    مرشد کا حکم پانے پر آپ جادوگر کی سرکوبی کرنے کے لیے تحصیل جنڈ کے موضع زیارت پہنچے چوں کہ حضرت سید رحمت اللہ شاہ بخاریؒ المعروف چھانگلا ولی موج دریا فاقہ کشی کرتے اور غذا میں صرف دودھ استعمال کرتے تھے۔ اس لیے کہتے ہیں جب زیارت میں آپ نے قیام کیا تو شروع میں دریا کے کنارے ہی اپنے بیڑے کے پاس ٹھہرے اور آتے ہی اپنے مریدین کو حکم دیا کہ جاؤ زیارت  گاؤں سے دودھ لے کر آؤ آپ کے مریدین نے حکم کی فورًا تعمیل کی اور گاؤں پہنچ گۓ جس گھر میں بھی جاتے وہ یہی کہتے کہ خود ہی بکری سے دودھ نکال لو۔ جس بکری کو بھی دوہتے تو تھنوں سے دودھ کی بجاۓ خون نکلتا۔ بکری کےمالکان سے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ گاؤں کا جادوگر بدھو کراڑ جب حکم دیتا ہے اس وقت بکری دودھ دیتی ہے۔ اس کی اجازت کے بغیر خون ہی نکلتا ہے اور جو کسان اسے غلہ نہیں دیتا اس کے غلے میں آگ لگ جاتی ہے۔ چنانچہ مریدین خالی ہاتھ لوٹ گۓ جب آپ کو پتہ چلا تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ اب جاؤ بکریاں دودھ ہی دیں گی مریدین پھر گۓ اور بکریوں سے دودھ لے کر آۓ۔

    شام کے وقت جب جادوگر بدھو کراڑ کے بندے دودھ دوہنے گۓ تو کسی بھی بکری سے دودھ حاصل نہ کر سکے جب بکری کے مالک  سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ دریا کے کنارے ایک بزرگ آیا ہے اس نے سارا دودھ رقم دے کر لے لیا ہے۔

    چھانگلا ولی اور جادو گر

                  جادوگر بدھو کراڑ کے نوکروں نےجب بدھو کراڑ کو بتایا کہ معاملہ کیا ہے؟ تو جادوگر اپنے دوستوں کے ہمراہ حضرت سید رحمت اللہ شاہ بخاریؒ المعروف چھانگلا ولی موج دریا سے مقابلے کے لیے نکلا دریا کے کنارے پہنچا تو آپ آرام کر رہے تھے۔ اس نے کہا کہ یہ میرا علاقہ ہے آپ یہاں سے چلے جائیں۔ اگر یہاں رہنا ہے تو مجھے اپنی کرامت دکھائیں ۔آپ رحمت اللہ نے فرمایا  پہلے آپ دکھاؤ اس جادوگر نے منتر پڑھا اور فضا میں اڑنے لگا آپ نے اپنے جوتے کو حکم دیا کہ اس جادوگر کی ہوا میں اچھی طرح پٹای کر کے نیچے اتار لاؤ ۔ چنانچہ آپ کے جوتے نے جادوگر بدھوکراڑ کی فضا میں اتنی پٹائی کی کہ وہ آپکے قدموں میں گرا اور معافی کا خواستگار ہوا آپ نے اس کو معاف فرمایا اور اس نے اور اس کے تمام دوستوں نے اسلام قبول کرکے آپ کی بیعت بھی کر لی مسلمانوں اور غریب ہندوؤں کو جادوگر کی بدمعاشیوں سے نجات مل گئی اور سارا گاؤں مشرف بہ اسلام ہو کر توحید کے نغمے گانے لگا۔ گاؤں میں مسجد بنائی گئی جہاں باجماعت نماز اور اذان کی صدا گونجنے لگی۔ کیونکہ یہی لا الہ کے حقیقی وارث تھے حضرت علامہ محمد اقبالؒ فرماتے ہیں

    اے لاالہ کے وارث باقی نہیں ہے تجھ میں

    گفتارِ دلبرانہ،  کردارِ قاہرانہ

    تیری نگاہ سے دل سینوں میں کانپتے تھے

    کھویا   گیا  ہے  تیرا جذبِ قلندرانہ

    یہ لاالہ کے وارث اولیا جب جذبِ قلندرانہ کی چال چلتے ہیں تو ان کے جوتے بھی ہندوؤں کو مسلمان بنا لیتے ہیں ۔ یہ جب ایک نگاہ کرتے ہیں تو لوگوں کے دل سینوں میں کانپتے ہیں اور وہ اسلام قبول کر کے قلندرانہ جذب و مستی سے مزہ لیتے ہیں بزرگانِ دین کی دلبرانہ گفتگو سے لاکھوں کافر مسلمان ہوۓ اور ہم ہیں کہ پیٹ کی پوجا میں لگے ہوۓ ہیں ۔ اسلام اور اپنے اسلاف کا ہمیں علم ہی نہیں ہے وہ اپنی نگاہ سے دریاٶں کے رخ موڑ دیتے تھے ۔ اپنے اشاروں سے چاند کے ٹکڑے کر دیتے تھے اپنے خیال سے دیوار دوڑا لیتے تھے لیکن وہ جزبہ وہ ریاضت وہ مشاہدہ وہ عبادت کہاں سے لائیں وہ بستیاں کہاں گئیں  جن میں ایسے فرشتوں سے بہتر بزرگوں کا قیام تھا۔ یہ مساجد  الله أكبر کی صدائیں تو دیتی ہیں لیکن صداے بلالیؓ کہاں ہے  میرا سلام ہو حضرت سید رحمت اللہ شاہ بخاریؒ المعروف چھانگلا ولی موجِ دریا پر جنہوں نے سر زمین اٹک میں اسلام کا پرچم بلند کیا ۔کیونکہ آپ کی آمد سے کفر و شرک کی ژالہ باریاں ختم ہوئیں ۔

    یہ واقعہ تھٹی سیدو شاہ گاوں کے بزرگ سید اعجاز حسین شاہ نے مجھے اس وقت سنایا جب وہ ہمارے گھر غریبوال میں تشریف لاۓ تھے۔

    اللہ رب العزت سے دعا ہے کہ ہمیں بھی عمل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ۔آمین

  • چھانگلا ولی اور پریاں

    چھانگلا ولی اور پریاں

    چھانگلا ولی اور پریاں

    کالم نگار: سید حبدار قائم

    اولیاۓ کرام کی زندگیوں کا مقصد قرآن و سنت کی ترویج اور معاشرے کو ظلم و استبداد سے نکالنا ہے۔ جو موجودہ دور میں تقریباً ختم ہو چکا ہے اور اولیا کرام کے مزار چند گدی نشینوں نے یرغمال بناے ہوے ہیں مزاروں پر آنے والی رقم اگر غریب امت پر خرچ ہوتی تو سرکار ﷺ کی امت غریب ہی نہ رہتی اب گدی نشین کروڑوں کی جائیدادوں کے مالک ہیں انہیں غریب امت کے حقوق کا کوئی خیال نہیں ہے لیکن میرے جدِ امجد حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ ہمیشہ اپنے مریدین کو شریعت کی تعلیم دیتے تھے  اور کفر و شرک سے منع فرماتے آپ نے جنڈ کے موضع زیارت کے گرد و نواح میں بھی اپنی زمین غریب لوگوں میں تقسیم کر دی ۔ کہتے ہیں تبلیغِ دین کے لیے ولی کا مخصوص علاقہ ہوتا ہے۔ جس میں اس نے تبلیغ دین کرنا ہوتی ہے اس علاقے میں خواہ جنات ہوں یا پریاں سب اُس کے تابع ہوتی ہیں ۔ انسانوں کی تبلیغ تو سب دیکھتے ہیں لیکن جنات کی تبلیغ صرف جنات یا صاحب ولایت ہی دیکھتے ہیں۔

    حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ ایک دن گھر سے باہر مریدین کو درس دینے گۓ گھر میں آپکی  بیوی جھاڑو لگا رہی تھی اور آپ کا پوتا حضرت جعفر ابن شاہ محمد غوثؒ مٹی پر کھیل رہا تھا جنہیں حضرت سیدن امامؒ کے نام سے دنیا جانتی ہے جو بہت خوبصورت تھے اس کی والدہ بھی کام کاج میں مصروف تھی  جس کی وجہ سے اس کا دھیان بچے پر نہ رہا اور جب اسے اچانک بیٹے کا خیال آیا تو دیکھ کر حیران رہ گئ کہ حضرت سیدن امامؒ  گھر میں موجود نہیں ہے وہ بہت پریشان ہویٸں کہ حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ کا پوتا ناجانے کیسے غائب ہو گیا ہے۔ آخر اس نے اپنی خادمہ کو یہ سارا واقعہ بتا کر حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ کی خدمت میں بھیجا تو اس وقت وہ جنات میں تبلیغ کر رہے تھے جب خادمہ سے آپ کو پتہ چلا تو آپ نے اپنے شاگردوں میں غور سے دیکھا تو آپ کو محسوس ہوا کہ آپ کی شاگرد پریوں میں سے ایک پری غائب تھی۔ آپ نے دو تین پریوں کو اس کے تعاقب میں بھیجا جو اس کو پکڑ کر لے آئیں ۔ آپ نے اس سے پوچھا کہ حضرت سیدنؒ کو گھر سے تو لے کر گئی ہے؟

     تو اس نے جواب میں کہا جی میں لے کر گئی ہوں۔ آپ نے اسے کہا کہ کیوں لے کر گئی ہو؟

    تو اس نے کہا کہ مجھے حضرت سیدنؒ اچھے لگتے ہیں

    آپ نے اسے حکم دیا کہ فوراً جاو اور اسے گھر واپس لے کر آو کیونکہ اس کی ماں سید زادی پریشان ہے دیکھتے ہی دیکھتے وہ پری غائب ہوگئی اور حضرت سیدنؒ کو والدہ کے پاس لے آئی  اس روز بندوں کو خبر لگی کہ حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ جنات کو بھی تعلیم دیتے ہیں آج بھی جو لوگ روحانیت سے تعلق رکھتے ہیں وہ

    حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ کے مرید جنات سے ملتے ہیں اور ان کے متعلق معلومات لیتے ہیں حضرت رحمت شاہ بخاریؒ کی سیرت و کردار جنات سے پوچھا جا سکتا ہے آپ جتنا عرصہ زندہ رہے آپ  جنات اور پریوں میں دین اسلام کی تبلیغ کرتے رہے ۔ حضرت علامہ اقبالؒ کے یہ اشعار ایسے اولیا پر کتنے صادق آتے ہیں

    جس سے جگرِ لالہ میں ٹھنڈک ہو وہ شبنم

    دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفان

    فطرت کا سرودِ ازلی اس کے شب و روز

    آہنگ میں یکتا صفت میں سورہء رحمٰن

    موجودہ دور میں بھی ہمیں ایسے اولیا کرام کی ضرورت ہے جو دین اسلام کے لیے لڑیں اور خاص طور پر پاکستان میں اپنی روحانی طاقت سے ایسا کام کریں کہ ہر طرف امن و امان ہو جاۓ اللہ کریم سے دعا ہے کہ ہمارے وطن میں چھانگلا ولی موجِ دریا حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ  جیسے اولیا کرام کا ظہور فرما کر مظلوم پاکستانیوں کی مدد فرماے۔ آمین

    Title Image by Penny from Pixabay

  • چھانگلا ولی اور ڈاکو کا جنازہ

    چھانگلا ولی اور ڈاکو کا جنازہ

    چھانگلا ولی اور ڈاکو کا جنازہ

    کالم نگار: سید حبدار قائم

    ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن
    گُفتار میں کردار میں اللہ کی برہان

    چھانگلا ولی موجِ دریا حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ دوبارہ بیڑے پر واپس وطن گۓ اور اپنے اہل و عیال لے کر دوبارہ زیارت تحصیل جنڈ کی طرف سکونت اختیار کرنے کے لیے پلٹے آپ کے ساتھ مریدین بھی تھے جن میں ایک ڈھاڈی ایک بگدیال اور ایک کھٹڑ قوم کا مرید شامل تھا ہمارے بعض بزرگوں کے مطابق ایک کھنہ قوم کا اور ایک ہندو بھی تھا اور یہ کھٹڑ قوم کے افراد آج بھی اٹک کے گاوں اکھوڑی ڈھوک بلوچ مٹھیال مہورہ اور بسال میں مقیم ہیں جب ان کے بزرگوں سے ملا جاے تو یہ جھوم جھوم کر چھانگلا ولی موجِ دریا حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ کی کرامات کا ذکر کرتے ہیں۔

    راستے میں پیر نارا سے ملاقات کے بعد آپ نے پھر بیڑے کو چلنے کا حکم دیا داود خیل پکی شاہ مردان کے راستے میں تین ڈاکو جن کا تعلق نصرانی اور ملک قوم سے بتایا جاتا ہے گھات لگا کر بیٹھے ہوۓ تھے جب انہوں نے پانی کے الٹے رخ پتھر کے بیڑے پر چند افراد کو تیرتے دیکھا تو لُوٹنے کا ارادہ کیا چناں چہ طے شدہ پروگرام کے مطابق ڈاکووں میں سے ایک فرد مرنے کا بہانہ کر کے زمین پر لیٹ گیا اور دوسروں نے اس پر ایک چادر ڈال دی اور آپ کو زور زور سے آوازیں دینے لگے آپ نے ان کی آواز سنی تو بیڑے کو دریا کے کنارا پر روکا ڈاکووں میں سے ایک جس کا نام بودلہ تھا ،نے چھانگلا ولی موجِ دریا حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ سے کہا کہ ہمارا دوست مر گیا ہے آپ اس کا جنازہ پڑھا دیں آپ نے مسکرا کر کہا کہ میں جنازہ پڑھا دوں

      تو بودلے نے کہا جی ہاں آپ نے دوبارہ کہا کہ میں اس کا جنازہ پڑھا دوں

    تو اس نے پھر کہا کہ پڑھا دیجیے آپ نے تیسری دفعہ کہا کہ اس کا جنازہ پڑھانا ضروری ہے تو میں پڑھا دیتا ہوں

     تو بودلے نے کہا جی آپ پڑھا دیں چناں چہ آپ آگے کھڑے ہو گئے  اور مریدین کو پیچھے کھڑے ہونے کا حکم دیا آپ نے پہلی تکبیر بلند کی اور جنازہ پڑھانا شروع کر دیا طے شدہ منصوبے کے مطابق جنازہ پڑھنے کے دوران ڈاکو نے اٹھنا تھا لیکن وہ نہ اٹھا جنازے کی تکبیریں مکمل ہو گئیں تو چھانگلا ولی موجِ دریا حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ نے ان سے کہا کہ اب یہ قیامت تک نہیں اٹھے گا کیونکہ اس نے اللہ کے ولی کا مذاق اڑانے کی کوشش کی ہے یہ دیکھ کر دوسرے ڈاکو حیران رہ گئے کیونکہ مردہ بننے والا شخص حقیقتًا مر چکا تھا باقی ڈاکو تائب ہوے اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا

    اللہ تعالٰی کا فرمان ہے

    "جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی مول لی اس کے خلاف میرا اعلانِ جنگ ہے”

    اللہ پاک اولیا سے جنگ کو اپنے ساتھ جنگ اور اولیا کا مذاق اڑانے کو اپنا مذاق اڑانا تعبیر کرتا ہے اور مومن کا مذاق اڑانے والا کبھی عزت نہیں پاتا کیونکہ مومن ہی اللہ کی زبان ہے بقول حضرت علامہ محمد اقبالؒ

    یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
    قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن

    پوری دنیا جانتی ہے کہ ہمارے اسلاف قہاری بھی تھے غفاری بھی تھے  قدوسی بھی تھے اور وہ جبروت بھی تھے جب کہ ہم لوگوں کو اسلام ورثے میں ملا ہے یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا میں ہم ذلیل و خوار ہو رہے ہیں اور ہمیں اس عظیم مذہب کی قدر نہیں ہے جو کربلا والوں نے بچایا ہے۔

  • چھانگلا ولی اور پیر نارا کے سینگ

    چھانگلا ولی اور پیر نارا کے سینگ

    چھانگلا ولی اور پیر نارا کے سینگ

    کہتے ہیں کہ اکبر بادشاہ نے 1581ٕ میں اٹک قلعہ کی بنیاد رکھی جب اکبر بادشاہ اٹک خورد دریاۓ سندھ سے گزر رہا تھا تو اس کی نظر ایک مجذوب پر پڑی جو دریا کے کنارے ایک پتھر سے پاوں کی میل صاف کر رہا تھا بادشاہ نے اپنے وزیر سے کہا کہ اس ملنگ کو علم نہیں ہے کہ جس پتھر سے وہ پاوں صاف کر رہا ہے یہ انتہاٸ قیمتی سنگِ پارس ہے بادشاہ کے الفاظ جب فقیر نے سنے تو سنگِ پارس دریا میں پھینک دیا یہ دیکھ کر بادشاہ حیران رہ گیا بادشاہ سوچ ہی رہا تھا کہ فقیر نے ایک اور پتھر پاوں صاف کرنے کے لیے اٹھایا تو وہ بھی سنگ پارس بن گیا بادشاہ دیکھ کر سمجھ گیا کہ یہ شخص اللہ کا ولی ہے
    اولیا کرام کو اللہ نے طاقت دی ہوتی ہے وہ جیسا سوچیں ویسا اللہ کے حکم سے کر سکتے ہیں ایسی بہت ساری داستانیں اولیا کرام سے منسوب ہیں جن سے انکار نہیں کیا جا سکتا
    چھانگلا ولی موج دریا حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ کے متعلق میں نے جب تحقیق کی تو سینہ بہ سینہ آنے والی معلومات کو اکھٹا کیا اور کتابی شکل دی ظاہر ہے ان میں کچھ باتیں سنانے والوں نے اپنی طرف سے بھی بیان کی ہوں گی لیکن میری کوشش نہ گدی نشینی کے لیے ہے اور نہ میرے خیال میں گدی نشینی اہمیت کی حامل ہے اگر گدی نشینی اتنی اہم ہوتی تو آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سی بڑی درگاہ کو چھوڑ کر حضرت حسین علیہ السلام کربلا نہ جاتے میں تو صرف دنیا کے سامنے وہ باتیں لانا چاہتا ہوں جو نہ لکھی جاتیں تو ہماری نسل سے آگے آنے والی نسل میں ختم ہو جاتیں میرے لکھے ہوۓ واقعات کو گدی نشینی معاملات و مقدمات میں استعمال نہ کیا جاۓ
    کیونکہ میری تحقیق نوجوان نسل کے لیے ہے جو اولیا کرام کی سیرت پر چل کر سیرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچ سکیں اور سرکار کی سیرت تک جانے کے لیے نوجوانوں کو غلاظتوں سے ہٹا کر دین کی طرف بلانا ہے میرا مقصد بھی اس شاعر کی طرح ہے جس نے یہ شعر کیا خوب لکھا ہے

    تم شجر کو ذرا دلاسا دو
    میں پرندے بلا کے لاتا ہوں

    چھانگلا ولی موج دریا حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ اور پیر نارا ایک ہی نسب سے تعلق رکھتے تھے جن کے متعلق مجھے ایک اور کرامت ملی جسے میں لکھنے کے لیے اپنے گاوں سے دندی کی طرف گیا
    پنڈی گھیب کے ملحقہ گاٶں دندی کے سید غدیر عباس نقوی کے مطابق پیر نارا کااصل نام پیر سید محمد حسین نہرہ ہے اور یہ بزرگ سید علی بن سید جلال الدین حیدر سرخ پوش بخاریؒ کی اولاد میں سے تھے اور ان کی اولاد میانوالی،چکڑالہ، موچھ اور ڈھیر امید علی شاہ میں آباد ہیں
    حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ کا بیڑہ جب دریا سندھ میں سُبُک روی سے بہہ رہا تھا۔ تو بھکر کے نزدیک ایک بزرگ پیر نارا چلہ کشی کر رہے تھے۔ جب اُن کی نظر پتھر کے بیڑے پر پڑی تو انہوں نے سوچا کہ میرے علاقہ میں یہ کون شخص پتھر کا بیڑہ دریا میں چلا کر کرامت دکھا رہا ہے۔ تو آپ نے اس غار نما جگہ کے سوراخ سے سر باہر نکالا اور کہا کہ
    اے پتھر کے بیڑے ڈوب جا !
    بیڑہ ڈوبنا شروع ہوا تو حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ نے نگاہِ ولایت سے دیکھا کہ کس نے بیڑے کو ڈوبنے کا حکم دیا ہے ۔ اچانک غار کے سوراخ پر نظر گٸ تو فوراً کہا اے سینگ والے !
    تو نے میرا بیڑہ ڈبونے کی کوشش کی ہے ۔ یہ کہنا تھا کہ پیر نارا کے سینگ نکل آۓ وہ غار کے سوراخ میں پھنس گۓ جب زور لگانے پر بھی نہ نکل سکے تو چھانگلا ولی موج دریا حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ سے معافی مانگی آپ نے کہا کہ میرے بیڑے کو تیرنے کا حکم دے تو سینگ غاٸب کر دوں گا ۔ چنانچہ پیر نارا نے بیڑے سے کہا کہ دوبارا تیرنا شروع کردے بیڑہ تیرنا شروع ہو گیا تو آپ نے دعا مانگی اے اللہ اس کے سینگ غاٸب کر دے
    آپ کی دعا فورًا قبول ہوٸ اور اسکے سینگ سر پر ختم ہوگۓ لیکن اس کے نشان باقی رہے کہتے ہیں کہ آج بھی ان کی نسل میں سینگوں کے نشان باقی ہیں ۔ واللہ اعلم
    بزرگان دین ایک دوسرے پر اپنی ولایت آزما کر یقین کی پختگی اور لوگوں کا ایمان بڑھاتے تھے۔ تاکہ عام مسلمان بھی قربِ الٰہی حاصل کر کے وحدانیت کے مزے لے سکیں۔
    وہ قدسی صفات کے مالک قرآن سے جڑے رہتے تھے اس لیے وہ فکری عفت سے سرشار تھے بقول حضرت محمد اقبالؒ

    وہ معزز تھے زمانے میں مسلمان ہو کر
    اور ہم خوار ہوۓ تارکِ قرآن ہو کر
    اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہمیں بھی نیک عمل کرنے کی توفیق عطا فرماۓ۔آمین