چھانگلا ولی اور ڈاکو کا جنازہ

چھانگلا ولی اور ڈاکو کا جنازہ

کالم نگار: سید حبدار قائم

ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن
گُفتار میں کردار میں اللہ کی برہان

چھانگلا ولی موجِ دریا حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ دوبارہ بیڑے پر واپس وطن گۓ اور اپنے اہل و عیال لے کر دوبارہ زیارت تحصیل جنڈ کی طرف سکونت اختیار کرنے کے لیے پلٹے آپ کے ساتھ مریدین بھی تھے جن میں ایک ڈھاڈی ایک بگدیال اور ایک کھٹڑ قوم کا مرید شامل تھا ہمارے بعض بزرگوں کے مطابق ایک کھنہ قوم کا اور ایک ہندو بھی تھا اور یہ کھٹڑ قوم کے افراد آج بھی اٹک کے گاوں اکھوڑی ڈھوک بلوچ مٹھیال مہورہ اور بسال میں مقیم ہیں جب ان کے بزرگوں سے ملا جاے تو یہ جھوم جھوم کر چھانگلا ولی موجِ دریا حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ کی کرامات کا ذکر کرتے ہیں۔

راستے میں پیر نارا سے ملاقات کے بعد آپ نے پھر بیڑے کو چلنے کا حکم دیا داود خیل پکی شاہ مردان کے راستے میں تین ڈاکو جن کا تعلق نصرانی اور ملک قوم سے بتایا جاتا ہے گھات لگا کر بیٹھے ہوۓ تھے جب انہوں نے پانی کے الٹے رخ پتھر کے بیڑے پر چند افراد کو تیرتے دیکھا تو لُوٹنے کا ارادہ کیا چناں چہ طے شدہ پروگرام کے مطابق ڈاکووں میں سے ایک فرد مرنے کا بہانہ کر کے زمین پر لیٹ گیا اور دوسروں نے اس پر ایک چادر ڈال دی اور آپ کو زور زور سے آوازیں دینے لگے آپ نے ان کی آواز سنی تو بیڑے کو دریا کے کنارا پر روکا ڈاکووں میں سے ایک جس کا نام بودلہ تھا ،نے چھانگلا ولی موجِ دریا حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ سے کہا کہ ہمارا دوست مر گیا ہے آپ اس کا جنازہ پڑھا دیں آپ نے مسکرا کر کہا کہ میں جنازہ پڑھا دوں

  تو بودلے نے کہا جی ہاں آپ نے دوبارہ کہا کہ میں اس کا جنازہ پڑھا دوں

تو اس نے پھر کہا کہ پڑھا دیجیے آپ نے تیسری دفعہ کہا کہ اس کا جنازہ پڑھانا ضروری ہے تو میں پڑھا دیتا ہوں

 تو بودلے نے کہا جی آپ پڑھا دیں چناں چہ آپ آگے کھڑے ہو گئے  اور مریدین کو پیچھے کھڑے ہونے کا حکم دیا آپ نے پہلی تکبیر بلند کی اور جنازہ پڑھانا شروع کر دیا طے شدہ منصوبے کے مطابق جنازہ پڑھنے کے دوران ڈاکو نے اٹھنا تھا لیکن وہ نہ اٹھا جنازے کی تکبیریں مکمل ہو گئیں تو چھانگلا ولی موجِ دریا حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ نے ان سے کہا کہ اب یہ قیامت تک نہیں اٹھے گا کیونکہ اس نے اللہ کے ولی کا مذاق اڑانے کی کوشش کی ہے یہ دیکھ کر دوسرے ڈاکو حیران رہ گئے کیونکہ مردہ بننے والا شخص حقیقتًا مر چکا تھا باقی ڈاکو تائب ہوے اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا

اللہ تعالٰی کا فرمان ہے

“جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی مول لی اس کے خلاف میرا اعلانِ جنگ ہے”

اللہ پاک اولیا سے جنگ کو اپنے ساتھ جنگ اور اولیا کا مذاق اڑانے کو اپنا مذاق اڑانا تعبیر کرتا ہے اور مومن کا مذاق اڑانے والا کبھی عزت نہیں پاتا کیونکہ مومن ہی اللہ کی زبان ہے بقول حضرت علامہ محمد اقبالؒ

یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
قاری نظر آتا ہے حقیقت میں ہے قرآن

پوری دنیا جانتی ہے کہ ہمارے اسلاف قہاری بھی تھے غفاری بھی تھے  قدوسی بھی تھے اور وہ جبروت بھی تھے جب کہ ہم لوگوں کو اسلام ورثے میں ملا ہے یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا میں ہم ذلیل و خوار ہو رہے ہیں اور ہمیں اس عظیم مذہب کی قدر نہیں ہے جو کربلا والوں نے بچایا ہے۔

مستقل لکھاری

میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے 1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

streamyard

Next Post

اختر چیمہ کی شاعری میں مذہبی موضوعات کی عکاسی

جمعہ دسمبر 8 , 2023
اختر چیمہ کی شاعری روحانی عقیدت سے لے کر سماجی تنقید تک جذبات اور موضوعات کی ایک وسیع رینج پر مبنی ہے۔
اختر چیمہ کی شاعری میں مذہبی موضوعات کی عکاسی

مزید دلچسپ تحریریں