Tag: چھانگلا ولی

  • چھانگلا ولی اور جنجو

    چھانگلا ولی اور جنجو

    چھانگلا ولی اور جنجو


    برصغیر پاک و ہند میں اسلام کی تبلیغ کا سہرہ اولیا کرام کے سر ہے یہاں کے لوگ بتوں کی پوجا کرتے تھے اور طرح طرح کی خرافات میں گم تھے برہمن قوم کے ظلم کا شکار شودر تھے جن پر ہر قسم کے ستم روا رکھے جاتے تھے اگر کسی شودر کی نظر برہمن پر پڑ جاتی تو اس کی آنکھوں میں سلائی پھیر دی جاتی تھی یہ قوم کسی نجات دہندہ کی تلاش میں تھی محمد بن قاسم اور دیگر مسلمان فاتحین کے ساتھ کثیر تعداد اولیا کی آئی جنہوں نے شودر قوم کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھا اور اپنے کردار اور تبلیغ سے انہیں مسلمان کیا اس وقت مسلمانوں کا کردار اتنا بلند تھا کہ جو لوگ بھی دیکھتے وہ کردار کی رفعت سے متاثر ہوۓ بغیر نہ رہتے اس دور میں مسلمانوں کے کردار کی درخشانی تمام مذاہب کے لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی تھی وہ تیرگی مٹانے والے تھے اجالے ان کے ساتھ ساتھ چلتے تھے وہ ایسے چراغ تھے کہ جن کے کردار اور خُو کے متعلق حضرت علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں کہ وہ مسلمان یہ دعوٰی کر سکتے تھے کہ

    مجھے ڈرا نہیں سکتی فضا کی تاریکی
    مری سرشت میں ہے پاکی و درخشانی
    تو اے مسافر شب! خود چراغ بن جا
    کر اپنی رات کو داغِ جگر سے نورانی

    علاقہ جنڈ میں بھی ہندووں کی کمزور ذاتوں پر ایسے مظالم جاری تھے اس لیے حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ کو مرشد نے حکم دیا کہ وہ جنڈ کے گرد و نواح میں جادوگر بدھو کراڑ کے ظلم و ستم سے لوگوں کو نجات دلائیں چنانچہ جب حضرت سید رحمت اللہ شاہ بخاریؒ المعروف چھانگلا ولی موج دریا کی پر نور آمد زیارت گاوں تحصیل جنڈ میں ہوٸ تو اس وقت ہندوٶں کی ایک غلام جماعت جنجو جن کے گلے میں غلامی کی ایک تختی نشانی کے طور پر ڈالی جاتی تھی تا کہ دور سے دیکھ کر پہچانے جا سکیں ایک ہندو راجہ کے زیر اثر اس جماعت کو جب آپ کی کرامات کا علم ہوا تو آپ کی طرف ان کا رجحان ہوگیا اور وہ جوق در جوق آپ کے پاس آنے لگے اور اسلام کی طرف راغب ہو کر کلمہ توحید پڑھ کر مسلمان ہونے لگے آپ نے ان مظلوموں کو جبرِ برہمن سے نجات دلائی جنھوں نے آپ کے کردار اور اخلاق سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا۔
    یہ معلومات مجھے اس وقت ملیں جب میں حضرت سید رحمت اللہ شاہ بخاریؒ المعروف چھانگلا ولی موج دریا کی سیرت و کردار پر ایک کتاب مرتب کر رہا تھا میں نے اٹک کے مختلف گاوں کا سفر کیا اور بزرگ سادات سے حضرت سید رحمت اللہ شاہ بخاریؒ المعروف چھانگلا ولی موج دریا کے متعلق معلومات اکھٹی کیں کیونکہ مجھے اس وقت ایک کتاب ” روحانی ترون و روحانی رابطہ” جو عبدالحلیم اثر افغانی نے لکھی تھی کے علاوہ کہیں پر بھی حضرت سید رحمت اللہ شاہ بخاریؒ المعروف چھانگلا ولی موج دریا کا ذکر نہ ملا صرف شجروں میں بابا جی کا ذکر ملتا تھا اس سفر میں میرے ساتھ میرے گاوں کا میرا دوست عبدالمالک بھی تھا جب ہم تھٹی سیدو کھنڈہ پنڈی گھیب دندی اور چکی گاوں میں گۓ اس سفر کے دوران ہمیں بہت ساری معلومات ہمارے خاندان کے سو سالہ بزرگ سید کرم حسین شاہ سے ملیں جو کھنڈہ گاوں سے تعلق رکھتے تھے وہ فرماتے تھے کہ حضرت سید رحمت اللہ شاہ بخاریؒ المعروف چھانگلا ولی موج دریا کی تبلیغ کی وجہ سے ہندووں کی قوم جنجو نے اسلام قبول کیا جن کی تعداد سوا لاکھ تھی اور ان سب نے آپ کے مبارک ہاتھ پر بیعت کی۔

    چھانگلا ولی اور جنجو


    جنجو قوم کے نظریات جاننے کے لیے میں نے بہت ساری کتب دیکھیں جن کے بارے میں معلومات نہیں ملیں ہو سکتا ہے کہ سید کرم حسین شاہ کی بات مجھے سمجھ نہ آئی ہو اور وہ قوم جنجوعہ ہو یا انہوں نے جنگجو کہا ہو جو اس وقت کھشتری قوم کے قبیلے سے مشہور تھے جن کا کام جنگ و جدل تھا لیکن ان کی یہ پہچان کہ ان کے گلے میں ایک چھوٹی سی لکڑی کی تختی ڈالی ہوتی تھی جو ان کی پہچان تھی تاریخ کے طالب علم اس کے بارے میں بتا سکتے ہیں بہرحال قوم کوئی بھی ہو اس میں شک نہیں کہ برصغیر میں اسلام اولیاۓ اللہ کے عظیم کردار اور فکر و عمل کی بدولت ہی پھیلا ہے۔

  • چھانگلا ولی اور پتھر کا بیڑہ

    چھانگلا ولی اور پتھر کا بیڑہ

    چھانگلا ولی اور پتھر کا بیڑہ

    کالم نگار: سید حبدار قائم

    حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی لکڑی کی تھی اور پانی پر تیرتی تھی جو اس میں بیٹھا فلاح پا گیا جو اس میں نہ بیٹھا غرق ہو گیا۔ اس کے بعد پنجتنؑ پاک کی کشتی جس کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نجات کا ذریعہ قرار دیا۔ ایسی کشتی ہے جو بھی اس پر بیٹھا فلاح پا گیا اور اس نے کشتی کو اتنا ہی فائدہ مند پایا جتنا اس نے اس کی عزت و توقیر کو مدِ نظر رکھا حضرت نوح علیہ اسلام کی کشتی سیلاب تھم جانے تک کار آمد تھی جبکہ پنجتنؑ کی کشتی قیامت تک کے لوگوں کے لیے نجات کا ذریعہ ہے۔ حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ عرف چھانگلا ولی موج دریا کی کشتی پتھر کا ایک ہموار ٹکڑا تھی جس پر آپ اپنے مریدین جن میں بابا بغدادیؒ اور بابا ڈاھڈیؒ جن کی قبریں زیارت گاوں میں ہی حضرت علی اکبر المعروف کنج کنوارہ پیر کے مزار سے دریاۓ سندھ کی جانب چار یا پانچ منٹ کے فاصلے پر واقع ہیں آپ نے ان دونوں کو ساتھ لیا اور بیڑے کو چلنے کا حکم دیا تو پتھر کا بیڑہ بلوٹ گاؤں سے دریا کی طرف چل پڑا۔خشکی پر چلنے والا یہ پتھر کا بیڑہ ہر کسی نے دیکھا پھر یہ بیڑہ پانی میں داخل ہوکر بلوٹ شہر سے ضلع اٹک کی تحصیل جنڈ کے گاٶں زیارت گاوں تک تیرتا ہوا آگے بڑھا جسے لوگوں نے دیکھا جو کہ پانی کے بہاو کے الٹے رخ چل کر آیا دریا کی سطح سے زمین کی سطح اوپر ہے زیارت گاوں کے قریب بیڑا رک گیا تھا آپ کو مرشد نے حکم دیا تھا کہ جہاں بیڑا رک جاۓ گا وہاں کی مٹی سات رنگوں کی ہو گی وہاں پر جا کر اللہ پاک اور اس کے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کی تبلیغ کرنا اور لوگوں کو بدھو کراڑ جیسے ظالم جادوگر کے ظلم سے بچانا جب بیڑا دریاۓ سندھ میں رک گیا تو  آپ نے دونوں مریدوں سے جب زیارت گاوں کی مٹی چیک کروائی تو اس کے سات رنگ پاۓ ۔ اس لیے مرشد کے حکم کے مطابق وہاں ہی قیام کیا پھر آپ نے پانی کو حکم دیا کہ اپنی سطح بلند کرے پانی اچھلا اور بیڑے کو اونچی جگہ پہنچا دیا ۔ کہتے ہیں آپ پانی کی سطح پر عام زمین کی طرح پیدل چلتے تھے۔ جس طرح حضرت سلیمان علیہ السلام کا حکم ہوا پر چلتا تھا اسی طرح آپ کا حکم پانی پرچلتا تھا آپ کو ساغر سمندر بھی کہتے ہیں۔

    اللہ پاک نے اولیا کرام کرامات سے مزین کر دیے ہیں فنا فی اللہ کا مقام انہیں کُن کی طاقت دے دیتا ہے وہ جیسا چاہیں اللہ کے حکم سے کر دیتے ہیں۔

    زیارت گاوں اور اس کے اردگرد آپ نے دین کی تبلیغ سے کئی لوگوں کو اسلام کی دولت سے مالا مال کیا آج بھی اگر مسلمان اللہ کے احکام پر عمل کریں تو آگ اندازِ گلستاں پیدا کر سکتی ہے بیڑے یعنی کشتیاں لکڑی کی ہوتی ہیں پتھر کے بیڑے کو دریاۓ سندھ پر پانی کے بہاو کے الٹے رخ چلانا اولیا کا ہی کام ہے۔ آخر میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ رب العزت ہمیں بھی عمل کی توفیق عطا فرماۓ۔آمین

  • چھانگلا ولی اور پرندے

    چھانگلا ولی اور پرندے

    چھانگلا ولی اور پرندے


    حضرت سید رحمت اللہ شاہ بخاریؒ المعروف چھانگلا ولی موج دریا کا سلسلہ ٕ نسب پچیس پشتوں کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے جا ملتا ہے آپ میں بچپن سے ہی ولایت کی خوشبو آتی تھی کیونکہ آپ میں وہ تمام صفات موجود تھیں جو قرآن نے مومن کی شان میں بیان کی ہیں
    حضرت محمد اقبال نے چار صفات مسلمان کی یہ بیان کی ہیں
    قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت
    یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلماں

    حضرت سید رحمت اللہ شاہ بخاریؒ قدوسی صفت کو پانے کے لیے اللہ کے نام یا سبوحُ یا قدوسُ کے ورد کے ساتھ غذا کا بہت کم استعمال کرتے تھے بزرگ بتاتے ہیں کہ وہ غذا میں دودھ کا استعمال کرتے تھے اور ہفتہ میں ایک دن یا کبھی کبھار دو دن کھانا تناول فرماتے تھے اور زیادہ تر روزہ کی حالت میں ہوتے تھے
    پیغمبر اکرم ﷺکا ارشاد پاک ہے۔
    اپنے شکموں کو بھوکا رکھو، حرص کو چھوڑ دو، اور اپنے جسموں کو ننگا رکھو، امیدوں کو کم کردو اور اپنے جگروں کو پیاسا رکھو دنیا چھوڑ دو تاکہ تم اللہ کو اپنے دل کے دیکھ سکو۔
    اس کے علاوہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا۔
    یعنی اللہ کی عبادت ایسے کرو کہ گویا تم اللہ کو دیکھ رہو ہو اور اگر تم اسے نہیں دیکھ سکتے تو وہ تمھیں دیکھ رہا ہے۔
    آنحضورﷺ کی دو احادیث مبارکہ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ شکموں کا بھوکا رکھنا سنت الٰہی ہے کیونکہ اللہ پاک کھانے پینے کی صفت سے پاک ہے بندے میں جب اللہ کی محبت اور عشق پیدا ہوتا ہے تو وہ جس چیز سے بھی ہم کلام ہوتا ہے اسے جواب ملتا ہے۔ حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ پرندوں کی زبان بھی سمجھتے تھے۔ اور ان سے ہم کلام بھی ہوتے تھے۔ ہمارے خاندان کے بزرگ فرماتے ہیں کہ
    جب حضرت سید رحمت اللہ شاہ بخاریؒ کے مرشد اپنے مریدین سے تصوف کے موضوع پر خطاب کر رہے تھے تو ایک کوا قریب آ کر بیٹھ گیا اور زور زور سے کاٸیں کاٸیں کرنے لگا ۔ کوے کے اس طرح کاٸیں کاٸیں کرنے پر مرشد نے مریدین سے استفسار فرمایا کہ یہ کوا کیا کہہ رہا ہے؟
    اس پر سارے مرید خاموش رہے تو حضرت رحمت اللہ شاہ بخاریؒ نے اپنا ہاتھ کھڑا کیا کہ حضور مجھے جواب دینے کی اجازت دی جاۓ تو میں عرض کرتا ہوں مرشد نے کہا کہ آپ بتا دیں آپ کھڑے ہوۓ اور ارشاد فرمایا
    ” یہ کوا کہہ رہا تھا کہ غدر آنے والا ہے اپنا سامان سمیٹو اور گاوں سے نکل جاو کیونکہ بادشاہ بہت سارے لوگوں کو قتل کر دے گا "
    کوے کی یہ پیش گوٸ سچ ثابت ہوٸ اور کچھ عرصہ کے بعد اکبر بادشاہ نے گاوں پر حملہ کر دیا
    حضرت سید رحمت اللہ شاہ بخاریؒ
    کا مرشد کو سوال کا جواب دینا ثابت کرتا ہے کہ آپ پرندوں سے بھی ہم کلام ہوتے تھے
    ایک دوسرے بزرگ جن کا تعلق زیارت گاوں تحصیل جنڈ سے ہے وہ سید الطاف شاہ ہے وہ فرماتے ہیں۔ جب کوے کے بارے میں مرشد نے پوچھا تو آپ نے جواب دیا کہ اکبر بادشاہ بلوٹ پر حملہ کرنے آ رہا ہے
    حضرت سید رحمت اللہ شاہ بخاریؒ کا جواب سن کر مرشد نے فرمایا بالکل ایسے ہی ہے۔ اس کے بعد مرشد نے کہا کہ
    آپ کوے کو دانہ پینا دو۔ اور بلوٹ گاٶں کے سارے گھروں میں بتا دو کہ گھروں سے نکل کر پہاڑوں پر چڑھ جاٸیں لوگوں نے ایسے ہی کیا آپؒ دریا کے کنارے بیٹھ گۓ اکبر بادشاہ کے سپاہی جب گاٶں میں آۓ تو کوٸی بندہ نہ پا کر واپس پلٹ گۓ اور بادشاہ کو کہا کہ یہاں تو کوٸی بندہ نہیں ہے تو بادشاہ نے کہا کہ میں خود دیکھوں گا۔ اور اس نے گاوں کی طرف رخ کیا گاٶں میں کسی کو نہ پا کر اکبر بادشاہ واپس پلٹا تو حضرت سید رحمت اللہ شاہ بخاریؒ کو راستے میں بیٹھے پایا تو پوچھا آپ کون ہیں؟ آپ نے اپنا تعارف کرایا تو اس نے گاوں کے بندوں کی بابت پوچھا آپ نے کہا کہ آپ کے ڈر کی وجہ سے لوگ بھاگ گۓ اکبر بادشاہ نے کہا انہیں کس نے بتایا ؟ تو آپ مسکراۓ اور کہا کہ میں نے
    اکبر نے پھر سوال کیا کہ آپ کو کس نے بتایا ؟
    آپؒ نے فرمایا کہ کوے نے اس پر بادشاہ حیران ہوا اور آپ کا معتقد ہو گیا۔بلوٹ کی بہت ساری زمین آپ کے نام کردی اور واپس چلا گیا۔ لیکن آپ نے فقر کو ترجیح دی اور زمین دوسرے لوگوں کو دے دی اور خود زیارت گاوں تحصیل جنڈ میں آکر آباد ہوگۓ ۔

    چھانگلا ولی اور پرندے


    ہمارے بزرگ آپؒ کے مرشد کا نام سید عبدالوہاب بخاریؒ بتاتے ہیں جب کہ تاریخ کے طالب علم اس سے اتفاق نہیں کرتے کیونکہ جو اچ شریف شجرے میں حضرت سید رحمت اللہ شاہ بخاریؒ کی تاریخ وفات 1604 عیسوی لکھی گٸ ہے اس کے مطابق حضرت سید عبدالوہابؒ کا دور بہت پہلے کا ہے۔ واللہ اعلم کیا درست ہے یا شجرے میں لکھی گٸ تاریخ وفات غلط ہے یا بزرگوں کا کہنا درست نہیں
    آج کے دور کے ہم مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ کہ ہم اپنے کردار میں مومن کی صفات پیدا کریں تاکہ پرندے ہم سے بھی ہم کلام ہوں کیونکہ یہ کام آج بھی ہو سکتا ہے بقول شاعر مشرق حضرت علامہ اقبالؒ

    ہے یاد مجھے نقطہ ٕ سلمان خوش آہنگ
    دنیا نہیں مردانِ جفا کش کے لیے تنگ

  • چھانگلا ولیؒ موج دریا

    چھانگلا ولیؒ موج دریا

    چھانگلا ولیؒ موج دریا

    حضرت سید رحمت اللہ شاہ بُخاری المعروف چھانگلا ولی موج دریا زیارت بیلے جنڈ اٹک(ولادت 1503 ء -وفات 1604 ء)

     سر زمین اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اولیاء کی درخشاں و تاباں ہستیاں نعمت کبریٰ سے کم نہیں ہیں ۔اولیاء اللہ نے انسان کو انسان سے محبت کا درس دیا ہے۔دکھی انسانیت آج پھر اُن جسے مقدس لوگوں کہ انتظار میں ہے کیوں کہ زمین سے عدل و انصاف اٹھتا جا رہا ہے اور ہم لوگ تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔آج پھر کوئی اللہ تعالیٰ کا نیک بندہ اٹھے ہماری ہوس پرستی کو ختم کرکے ہمارے دل و روح کو محبت سے بھر دے کیوں کہ اب وقت کا یہی تقاضا ہے۔ ماضی میں بھی جب اٹک کی سر زمین ظلم و جبر سے بھر گئی تھی تو حضرت سید عبدالوہاب بُخاریؒ نے اپنے مریدین کو ان کی عبادتوں اور ریاضتوں کے بدلے میں ولایتِ کے مقام تک پہنچایا اور ظلم و ستم کی سرکوبی کے لیے اٹک کے مختلف علاقوں میں بھیجا ان میں ایک بزرگ حضرت رحمت اللہ بخاری ؒتھے۔

    مختصر تعارف

    حضرت سید رحمت اللہ شاہ بُخاریؒ المعروف چھانگلا ولی موج دریا بخارا سے اُچ شریف آنے والے سادات کا فخر ہیں۔آپ کا سلسلہ نسب 26 ویں پشت میں جدّ ائمہ طاہرین اور جدّ اولیاء حضرت علی علیہ السّلام سے جا ملتا ہے۔آپ ضلع اٹک کی تحصیل جنڈ کے ساتھ ملحقہ گاؤں زیارت میں 1568 عیسوی میں اوچ شریف سے ہجرت کرکے آئے آپ کے والد حضرت احمد شاہؒ بڈھا المعروف زندہ پیر تھے آپ کی ولادت 1503 عیسوی میں ہوئی۔ جو کہ مشہور بادشاہ ابرہیم لودھی کا دور بنتا ہے آپ نے 1604 میں دنیا سے پردہ کیا اور خالق حقیقی سے جا ملے۔آپ کی زندگی میں ابرہیم لودھی،ظہیر الدین بابر،نصیر الدین محمد ہمایوں،شیر شاہ سوری اور جلال الدین محمد اکبر بادشاہ گزرے۔آپ کے مرشد حضرت شاہ عبد وہاب ؒتھے آپ کا سلسلہ "بخاریہ” تھا مرشد کی بیعت میں مجاہدات و ریاضات میں 38 سال رھے اور سلسہ سہروردی میں بھی کمال حاصل کیا۔آپ حضرت بہاؤالدین کے مدرسے میں بھی پڑھاتے تھے جو کہ علم و حکمت کا گڑھ سمجھا جاتا تھا۔

    چھانگلا ولی موج دریا

    حضرت رحمت شاہ بُخاریؒ المعروف چھانگلا ولی موج دریا کے پاس ایک عورت آئی کہ میں بے اولاد ہوں اولادِ نرینہ کے لئے دعا کریں۔آپ نے فوراً دعا دی اور کہا کہ اگلے سال اللہ تعالیٰ تمہیں ایک بیٹا دے گا وہ عورت کہنے لگی کہ میں بہت سارے پیروں،فقیروں اور بزرگوں کے پاس دعا کے لئے گئی ہوں یہ کیسے پتا چلے گا کہ میرا پیدا ہونے والا بیٹا آپ کی دعا سے ہوا ہے آپ اس کی کوئی نشانی بتائیں آپ ؒ نے مسکرا کر کہا کہ اگر اس کے ہاتھوں کی چھ اُنگلیاں ہوئیں تو وہ میری دعا سےہو گا اگر اُس کی پانچ اُنگلیاں ہوں تو کسی اور بزرگ کی دعا سے ہو گا۔یہ سن کر وہ عورت چلی گئی اور ایک سال بعد اُس کو اللہ تعالیٰ نے ایک بیٹے سے سرفراز کیا۔جس کی چھ،چھ اُنگلیاں تھیں جس کی وجہ سے لوگ اس بچے کو چھ انگلا کہنے لگے اُس عورت نے لوگوں کو اس کی وجہ بتا دی تو لوگوں نے آپ کو چھ اُنگلا بچے کے دعا دینے والا ولی مشہور ہونے لگا چھ انگلا کہتے کہتے چھانگلا ولی مشہور ہو گئے۔آپ کو مرشد نے موج دریا کا لقب دیا آپ کے نام کی وجہ تسمیہ اس لیے چھانگلا ولی موج دریا بنی۔

    چھانگلا ولیؒ موج دریا
    موج دریا

    کرامات

    آپ کی مشہور کرامات یہ ہیں پرندوں سے ہمکلام ہونا،پتھروں کا بیڑا دریا سندھ میں چلانا،پیر نارا کے سر پر سینگ نکالنا جس کی نشانی اب بھی اُن کی نسل میں موجود ہے،ڈاکوؤں نے مذاق کیا زندہ آدمی کا جنازہ آپ سے پڑھوایا تو جنازہ مکمل ہونے کے بعد بندہ حقیقت میں مر چکا تھا۔جنات کو قرآن مجید پڑھانا،جادو گر بدھو کراڑ سے مقابلہ کرنا جادوگر بدھو کراڑ مقابلے کی غرض سے جب اپنے جادو کے بل بوتے پر ہوا میں اُڑا تو آپ کا اپنے جوتوں کو حکم دینا اور ہوا میں بدھو کراڑ کی پٹائی کر کے زمین پرگرانا اور جادو گر کا تائب ہونا۔ایسا ہی ایک جادوگر باغ نیلاب کے مقام پر تھا جس کی سرکوبی کے لیے آپ کے مرشد پیر عبدالوہاب بُخاری نے حضرت نوری سلطان کو بھیجا جس کا ذکر انگریز مورخ لیبل ایچ گرفن نے اپنی کتاب پنجاب چیفز کے صفحہ 563 پر کیا۔ تربوزوں کو پتھر بنانا ،بہت بڑے سانپ کو پتھر بنانا،آپ کے حکم عدولی پر لوگوں کےگھروں سے کیڑوں کا نکل انا اور جانوروں تک کا بھاگ جانا معافی مانگنے پر دوبارہ کیڑوں کا غائب ہو جانا۔اپنے اخلاق و کردار سے لاکھوں افراد کو کلمہ پڑھایا اور اسلام کی دولت سے مالا مال کیا۔ حضرت چھانگلا ولیؒ موج دریا زیادہ تر فاقہ کی حالت میں رہتے تھے عبادت کے لیے کم سوتے تھے اور بحال قوت کے لیے دودھ پیتے تھے۔۔

    اقوال

    آپ کے اقوال اج بھی مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہیں اور سونے کے پانی لکھنے کے قابل ہیں وجود کی تاثیر نیت کے خلوصِ سے بنتی ہے۔معرفت والے انسان کا زیادہ کھانا اور سونا اُس کی طاقت پرواز کم کر دیتا ہے۔ نفس کو پھلینے دینا اولیاء کے نزدیک فقر کی موت ہے نفس امارہ ایسا شیطان ھے جو آدم علیہ السلام کے سجدے کی حقیت کو اج بھی جھٹلاتا ہے۔کھانا کھاؤ معرفت خدا کی ریاضت کے لیے اور دودھ پیو قوت بحالی کے لیے۔جنات تک اسلام پہنچانا بزرگان دین پر واجب ہے۔ بندوں کا خیال رکھنا بندوں کی مدد کرنا اور بندوں کو عاجزی سے ملنا مخفی بندگی۔ اج بھی لاکھوں افراد آپ کے دربار پر آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگ کر جاتے ہیں اور ان کی منتیں پوری ہوتی ہیں

    حوالہ تحریر روزنامہ اساس 27 دسمبر

  • حضرت معصوم بادشاہ ؒ ابن چھانگلا ولی موج دریا ؒ

    حضرت معصوم بادشاہ ؒ ابن چھانگلا ولی موج دریا ؒ

    حضرت معصوم بادشاہ ؒ ابن چھانگلا ولی موج دریا ؒ کا سلسلہءنسب 26 پشتوں کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے جا ملتا ہے۔ آپ سلسلہ بخاریہ کے مادر زاد ولی تھے۔ آپ کا مزار تحصیل پنڈی گھیب کے گاؤں غریب وال میں انوار بانٹ رہا ہے۔

    حضرت رحمت اللہ شاہ بخاری المعروف چھانگلا ولی موج دریا ؒ نے دو شادیاں کیں جن میں ایک سیّدزادی سے جن سے آپ کی اولاد ہوئی جبکہ دوسری شادی اعوان قوم کی گوت بگدیال سے کی تھی جن سے اولاد نہ ہوئی سیّد زادی سے آپ کو اللہ پاک نے چھ بیٹے شہزادہ حضرت علی اصغر المعروف معصوم بادشاہ ؒ آنڑاں پرا ، شہزادہ حضرت علی اکبر ؒ المعروف کنج کنوارہ پیر ، حضرت سیّد حاجی امام ؒ، سیّد شاہ محمد غوث ؒ ، سیّد محمد شاہ لہری سیّد جند وڈا ؒ تھے چار بچوں سے اولاد نہ ہوئی جبکہ حضرت سیّد حاجی امام ؒ اور حضرت شاہ محمد غوث بخاری سے موج دریا ؒ کی نسل چلی۔

    حضرت علی اصغر ؒ جو کہ معصوم بادشاہ کے نام سے مشہور ہوئے،آپ مادر زاد ولی متولد ہوئے آپ کو پرانے زمانے کے لوگ ” آنڑاں پیر "کے نام سے پکارتے تھے جبکہ غریبوال تحصیل پنڈی گھیب میں آپ کے روضہ مبارک پر آپ کا نام سیّد غوث شاہ لکھا ہوا ہے ۔

    حضرت معصوم بادشاہ ؒ ابن چھانگلا ولی موج دریا ؒ
    حضرت معصوم بادشاہ ؒ ابن چھانگلا ولی موج دریا کا مزار مبارک

    بارشوں کے نہ ہونے کی وجہ سے زیارت پر میلا لگتا تھا جس میں صرف قرآن خوانی،نعت خوانی اور وسیع لنگر کا اہتمام ہوتا شام کو جب برتن سمیٹ رہے ہوتے تھے بارش کا ہر سال برسنا اس کا پورا گاوں گواہ ہے۔لیکن آپس کی نا اتفاقی کی وجہ سے اب تین میلے ہوتے ہیں لیکن بارش ندارد۔
    حضرت معصوم بادشاہ ؒ سے فقر و استغنا،زہد و اتقا،رشد و ہدایت اور علم و عمل حاصل کرنے والے کئی لوگ ایسے ہیں جو بتاتے ہیں کہ معصوم بادشاہ ؒ ملاقات میں زیادہ تر سبز کرتہ اور شلوار قمیض اور سر پرعمامہ باندھے ہوئے نظر آتے ہیں اس کے علاوہ کبھی کبھار کالے جوڑے میں بھی زیارت سے مستفید فرما کر سینہ روشن کر دیتے ہیں۔ آپ کے روضہ مبارک پر جنات بھی آتے ہیں اور سلام کرتے ہیں۔ پنجابی کتاب اکھیاں وچ زمانے” میں حضرت معصوم بادشاہ سے متعلقہ تقریبا گیارہ واقعات کا ذکر ہے جس میں آپ کی موجودہ زمانے کی ہونے والی زندہ کرامات ہیں اور ایسی بے شمار کرامات لوگوں کے سینوں میں بھی دفن ہیں جن کو اگر اکھٹا کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب ترتیب دی جا سکتی ہے زائرین کے لیے ایک خاص بات لکھ دوں کہ جب بھی کوئی مراد لے کر جائیں تو دعا مانگتے وقت یہ کہیں کہ اے اللہ کے ولی اگر میری یہ مراد پوری ہو جائے تو میں آپ کے روضے پہ آنے والی چڑیوں کو میٹھی چوگ (چینی) ڈالوں گا یا آپ کے لیے جھولا لے کر آوں گا آپ اللہ کی بارگاہ سے میرا یہ کام کروا دیں تو مراد بہت جلد پوری ہو گی۔ انشاء اللہ العزیز

    ماخذات:

    1۔چھانگلا ولی موج دریا ؒ

    2۔ اکھیاں وچ زمانے ، مصنف سیّد حبدار قائم آف غریبوال