Tag: کیمبل پور

ضلع اٹک کا اولین اور قدیم نام کیمبل پور تھا جو سر جان کیمپبل سے موسوم تھا۔

  • ترقیِ اٹک کا سنہری دور

    ترقیِ اٹک کا سنہری دور

    ترقیِ اٹک کا سنہری دور

    ” وہ آیا، اُس نے دیکھا اور فتح کر لیا ” مؤرخ کے قلم نے تاریخ کے اوراق میں یہ الفاظ سکندر اعظم کے لیے لکھے تھے. جس نے ملکوں اور زمینوں کو فتح کیا تھا. لیکن میں یہ الفاظ ایک ایسی شخصیت کے بارے میں لکھ رہا ہوں جس نے اٹک کے باسیوں کے دلوں کو فتح کر لیا ہے. اٹک کی آئندہ لکھی جانے والی تاریخ میں بلا شبہ اُن کا نام بی.این.بوسورتھ سمتھ اور سی.سی گاربٹ جیسے اعلیٰ پائے کے منتظمین کی فہرست میں لکھا جائے گا . بی.این.بوسورتھ سمتھ اولین معمارِ اٹک تھے اور یہ جدید معمارِ اٹک کہلانے کے حق دار ثابت ہو چکے ہیں. 7 جنوری 2023 میں بطور ڈپٹی کمشنر اٹک تعینات ہوئے اور 7 جولائی 2026 تک اس عہدہ پر موجود رہے . چارج سنبھالتے ہی عوامی نوعیت کے بہت سے ایسے منفرد کاموں کی شروعات کیں. جو ابتداء میں ناممکن دکھائی دیتے تھے. مگر اپنی ہمت، بے لوث جذبے، انتھک محنت اور سب سے بڑھ کر عوام کے بھرپور تعاون سے اپنے احداف کو پا لینے میں کامیاب و کامران ٹھہرے. ان کی نیک نیتی اور خلوص اللہ رب العزت کو اس قدر بھایا کہ اپنے خاص لطف و کرم کو شاملِ حال فرمایا کہ خود ان ہی کے ہاتھوں وہ تمام منصوبے ایک ایک کر کے تکمیل آشنا ہو چکے ہیں. جی ہاں آپ بالکل ٹھیک سمجھ رہے ہیں. میں اٹک کے ہر دلعزیز ڈپٹی کمشنر راؤ عاطف رضا صاحب کے  بارے میں ہی بات کر رہا ہوں. 

    ڈپٹی کمشنر راؤ عاطف رضا صاحب
    ڈپٹی کمشنر راؤ عاطف رضا صاحب

    جنابِ راؤ عاطف رضا 13 دسمبر 1980 کو ضلع سرگودھا کی تحصیل سلانوالی کے گاؤں چک 124 جنوبی میں راؤ اللہ رکھا کے ہاں پیدا ہوئے. آپ اپنے والدین کی تیسری اولاد ہیں. سب سے بڑی ہمشیرہ سیکنڈری سکول ٹیچر تھیں. جب کہ بڑے بھائی راؤ آصف رضا بھی شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں اور پنجاب گروپ آف کالجز کے ڈائریکٹر اور خود اپنی سکول چین چلا رہے ہیں. راؤ عاطف رضا اپنے والدین کے سب سے چھوٹے فرزند ہیں. 

    آپ کا خاندان 1947 کے بٹوارے سے شدید متاثر ہوا. جو کہ تقسیم سے پہلے مشرقی پنجاب کے ضلع انبالہ کے دیہات سر دھیاڑی میں آباد تھا اور گاؤں کے نصف رقبے کا مالک تھا. عاطف رضا صاحب کے دادا راؤ عبدالمجید گاؤں کے لمبر دار تھے. اُن کی وفات کے بعد آپ کے والد راؤ اللہ رکھا کو صرف آٹھ سال کی عمر میں گاؤں کا لمبر دار مقرر کر دیا گیا. اور صرف دس سال کی عمر میں اپنا سب کچھ آزادی کے لیے قربان کرتے ہوئے اپنی والدہ، بھائی اور ہمشیرہ کے ہمراہ ہجرت کی صعوبتوں سے گزرنا پڑا. پنجاب کے مختلف مہاجر کیمپوں میں انتہائی تکلیف دہ اذیتیں برداشت کرنے کے بعد چک 124 جنوبی میں زمین الاٹ ہوئی. آپ کے والد نے انتھک محنت کے بعد اس زمین کو آباد کیا. آپ کی والدہ بھی گورنمنٹ سکول میں ٹیچر تھیں. 

    راؤ عاطف رضا اپنی بنیادی تعلیم و تربیت اور شخصیت سازی کا تمام تر سہرا اپنے والدین کے سر سجاتے ہیں. اور اپنی دینی و دنیاوی تعلیم و تربیت اور تمام کامیابیوں کو والدین کے مرہونِ منت گردانتے ہیں. بلا شبہ قابلِ تحسین و ستائش ہیں ایسے والدین جو معاشرے کے لیے ایسی کامیاب و مفید اولاد ورثہ میں چھوڑتے ہیں. 

    نرسری سے انٹر مینڈیٹ تک تعلیم ائر بیس انٹر کالج سرگودھا سے حاصل کی. اس ادارے میں بہترین راہنما و مربی اُستاد محترمہ میڈم غزالہ راؤ کو قرار دیتے ہیں. انٹر تک بیالوجی کے مضمون میں زیادہ دلچسپی رہی. اور مسیحائی کے شوق میں ڈاکٹر بننا چاہتے تھے مگر بالوجوہ ایسا نہ ہو سکا. 

    طالب علمی کے دور میں عمر فاروق سے دوستی ہوئی جن کی وجہ سے علم و ادب دوستی میں اضافہ ہوا. عمر فاروق صاحب کے ماموں ملک محمد امیر رانجھا اُس وقت گورنمنٹ کالج سرگودھا کے پرنسپل اور ادب شناس و ادب پرور شخصیت تھے. انہیں کی وجہ سے ڈاکٹر وزیر آغا، ریاض شاہد، ظل حسنین اور عبدالرحمن ڈھابی جیسے ادیبوں اور شعراء کی محفلوں میں بیٹھنے اور مشاعروں میں شرکت کا موقع ملا. ادب کے ساتھ ساتھ تاریخ، فلسفہ خصوصاً اسلامی فلسفہ میں گہری دلچسپی رہی اور ہے. بڑے اسلامی سکالرز کو پڑھا اور سنا. راؤ عاطف رضا فطری ارضیاتی خُوبصُورتی کے دلدادہ ہیں. صحراؤں کی وسعت اور پہاڑوں کی بلندی کو حقیقت کے تناظر میں دیکھتے اور محسوس کرتے ہیں. 

    2000 میں بی اے پنجاب یونیورسٹی سے پاس کرنے کے بعد قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے انٹر نیشنل ریلیشنز میں 2003 میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی. 2004 میں انگلینڈ کے مشہور تعلیمی ادارے یونیورسٹی کالج لندن (U C L) میں انوائرمنٹل سائنس کورس میں داخلہ لیا. لیکن ایک سمسٹر کے بعد وطن واپس لوٹ آئے.  مقابلے کے امتحان میں حصہ لیا اور کامیاب رہے. اور بطور کامرس اینڈ ٹریڈ آفیسر اسلام آباد میں تعینات رہے. 2009 میں دوبارہ مقابلے کے امتحان میں شریک ہوئے اور کامیاب ہو کر پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس جوائن کی. پہلی تعیناتی بطور اسسٹنٹ کمشنر 2010 میں صوبہ سندھ کے ضلع ٹھٹھہ کی تحصیل سجاول میں ہوئی. اور 2015 تک اندرون سندھ میں ہی خدمات سر انجام دیں. یہ بھی شاید ایک ریکارڈ ہی ہو کہ بہ یک وقت چھ تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنر کا چارج اُن کے پاس رہا. اور راؤ صاحب کے بقول یہ اُن کی سروس کا مشکل ترین دور تھا. اسی عرصہ میں شدید سیلاب نے تباہی مچائی. مگر عظم اور حوصلے سے ان مشکلات کا نہ صرف سامنا کیا بلکہ حل نکالا اور عوام کی بھرپور خدمت کی. انٹر نیشنل این جی اوز سے رابطے کر کے عوام تک آسانیاں بہم پہنچائیں. 2014 میں بدین میں تھیلیسیمیا سنٹر بنوایا. 

    2014 میں ہی راؤ عاطف رضا شادی جیسے خُوبصُورت اور پاکیزہ بندھن میں بندھے. آپ کی اہلیہ بھی مقابلے کے امتحان میں کامیابی کے بعد پولیس میں بطور اے ایس پی شامل ہوئیں. محترمہ جویریہ جمیل اٹک میں بطور ایس پی انویسٹیگیشن فرائض سرانجام دیتی رہیں. یہ بھی ایک اہم اتفاق ہے کہ اس دوران دونوں میاں بیوی بطور ڈپٹی کمشنر اور ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر بھی تعینات رہے. راؤ صاحب کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے. 

     راؤ عاطف رضا حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور خلفائے راشدین کے طرزِ حکمرانی سے بہت متآثر ہیں. اور اپنے زمانہءِ طالبعلمی سے ہی عبدالستار ایدھی اور ڈاکٹر رتھ فاؤ کی عوامی فلاحی خدمات کے قائل ہیں. اپنے دین سے سچی محبت رکھتے ہوئے انسانی خدمت پر یقین رکھتے ہیں. 

    ترقیِ اٹک کا سنہری دور

    راؤ عاطف رضا نے بطور ڈپٹی کمشنر اٹک 7 فروری 2023 کو چارج سنبھالا. اور پھر مسلسل محنت اور لگن سے اہم ترین اور تاریخی نوعیت کے ترقیاتی منصوبوں پر کام کیا. حکومتی سطح پر سرکاری فنڈز سے جو بھی کام ہوئے وہ اُن کی ڈیوٹی کا حصہ تھے. مگر عوامی مخیر حضرات کے تعاون سے اور ملکی اور بین الاقوامی این جی اوز کے ساتھ مل کر جو تاریخ ساز منصوبے مکمل ہوئے اُن کی وجہ سے راؤ عاطف رضا صاحب کا نام اٹک کی تاریخ میں سنہری حروف کے ساتھ ہمیشہ زندہ و تابندہ رہے گا. اور میں یہاں انہی کاموں کا ذکر کروں گا جن پر سرکار کی ایک پائی بھی خرچ نہیں ہوئی. 

    عاطف رضا صاحب نے چارج سنبھالتے ہی تمام شعبوں میں قابلِ ذکر ترقیاتی کام شروع کیے. سرکاری اراضی کا ریکارڈ چیک کروایا اور سرکاری زمین کو غیر قانونی قابضوں سے واگزار کروایا. سب سے پہلے تین میلہ چوک کے قریب 26 کنال زمین حکومت پنجاب کو واپس دلائی. اس اراضی کو 50 سالہ لیز پر منظوری حاصل کر کے 6 مارچ 2023 کو یہاں پودے لگا کر ڈسٹرکٹ پبلک سکول اینڈ کالج کی عمارت کا سنگ بنیاد رکھا. راؤ صاحب کی سچی لگن، شب و روز کی مسلسل محنت، مقامی مخیر حضرات، عوام اور مقامی و بین الاقوامی این جی اوز کے تعاون سے بظاہر ناممکن دکھائی دینے والا یہ عظیم منصوبہ 7 اپریل 2025 کو مکمل ہوا. ڈی. پی ایس میں تین جدید ترین کمپیوٹر لیبز ہیں جن میں بڑی ایل ای ڈیز، 75 سے زائد کمپیوٹر ہیں. اور ایک بڑی اور جدید آلات سے لیس سائنس لیبارٹری ہے. ایک وسیع و عریض چلڈرن لائبریری ہے. اس ادارے میں اس وقت طلباء و طالبات کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور ہزاروں انتظار میں ہیں. 21 کنال پر محیط اس وسیع کمپلیکس میں آئی ٹی پارک، کمیونٹی ایجوکیشن اینڈ سپورٹس کمپلیکس، بیت الحکمۃ جیسے ادارے قائم ہو چکے ہیں. بیت الحکمۃ میں دینی اور عربی لینگویج کورس کروائے جا رہے ہیں. آئی ٹی پارک میں نوجوانوں کے لیے لرن اینڈ ارن پروگرام کے تحت اے آئی، گرافک ذیزائننگ، ویب ڈویلپننگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور آن لائن کورسز کروائے جا رہے ہیں. پانچ کنال زمین پر ریڈ کراس اور عوامی تعاون سے خواتین کے لیے نرسنگ کالج زیرتعمیر ہے. 

    ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اٹک میں بھی قابلِ قدر کام کروائے. ڈائلسز سنٹر میں بستروں کا اضافہ اور نئی جدید مشینوں کا اضافہ کیا. تھیلیسیمیا سنٹر کو مزید وسعت دے کر جدید آلات سے مزین کر کے مزید بہتر اور کار آمد بنایا. اس کے علاوہ نادار اور مالی کمزور بیمار بچوں کے لیے دعا ہوم کی بنیاد رکھی جو ابھی مکمل نہیں ہوا.

     جی ٹی روڈ سے اٹک کی طرف مڑیں تو آپ کو ایک تعمیراتی شاہکار دروازہ دکھائی دے گا. فن تعمیر کا یہ خُوبصُورت نمونہ بھی راؤ عاطف رضا صاحب کے ذوقِ جمالیات کا عکاس ہے. باب اٹک اور اس کے ارد گرد راشد منہاس شہیدِ پارک 18 کنال پر محیط ہے. یہ سرکاری زمین ناجائز قابضین سے لے کر پاک فضائیہ کے تعاون سے تعمیر کیا گیا ہے. یہاں پر پارک، مسافر شیڈز، مسجد، مسافر خانہ موجود ہے. یہ داخلی دروازہ اور پارک اٹک کی تاریخی شان و شوکت میں خُوبصُورت اضافہ قرار دیا جا رہا ہے. 

    باب اٹک

    راؤ عاطف رضا کا اٹک کے عوام کے لئے ایک اور بڑا تحفہ جمخانہ کلب اٹک کی صورت میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا. اسی طرح رئیس خانہ مارکیٹ، خواتین بازار، بوٹا بھٹیوٹ روڈ پر سرسبز و شاداب پہاڑوں کے دامن میں پاکستان پوائنٹ، انتہائی مخدوش حالت میں معدوم ہوتے سنبل پانی بنگلہ کی اصل حالت میں بحالی، پورے ضلع میں سڑکوں پر بس سٹاپس کی تعمیر اور مسافروں کے بیٹھنے کے لیے بینچ لگوائے. پورے ضلع اٹک کے تمام سرکاری سکولوں میں کمپیوٹر لیبز بنوائیں. 2023 میں پہلی دفعہ تمام سکولوں اور سرکاری عمارتوں میں بارش کے پانی کو محظوظ کر کے واپس زمین کے حوالے کرنے کے لیے بالکل نیا آئیڈیا رین واٹر ہارویسٹنگ منیجمنٹ سسٹم متعارف کیا اور عملی طور پر کر کے دکھایا. اس سے زیرِ زمین پانی کی سطح بلند ہوئی. راؤ صاحب کا یہ سود مند خیال بہت زیادہ پسند کیا گیا اور حکومت پنجاب نے پورے پنجاب میں اس پر عمل درآمد کروایا. 

    جمخانہ کلب اٹک

    راؤ عاطف رضا صاحب کو علم و ادب سے ایک خاص دلچسپی اور وابستگی تھی. سکولوں، کالجوں میں طلباء کے ساتھ وقت گزارنے میں دلی خوشی محسوس کرتے تھے. سائنس اور آرٹس کی نمائشیں منعقد کروانا، کتاب میلے اور کھیلوں کا انعقاد اور پھر وہاں جانا اور بچوں اور اساتذہ کی حوصلہ افزائی کرنا یہ سب خوبیاں اہلیانِ اٹک کبھی فراموش نہ کر پائیں گے. اٹک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پھولوں کی نمائش، فوڈ گالا کا اہتمام کیا گیا. اکادمی ادبیات کیمبل پور اٹک کا قیام بھی راؤ صاحب کی ادبی دلچسپی کے ثبوت کے طور ہمیشہ یاد رکھا جائے گا. 

    راؤ عاطف رضا صاحب کے ساڑھے تین سالہ دور کو ایک مضمون میں سمیٹنا ناممکن ہے. ان شآءاللہ جلد ہی مکمل تفصیلات کے ساتھ کتابی صورت میں آپ کے سامنے لاؤں گا.

  • اٹک جم خانہ ثقافت کا امیں

    اٹک جم خانہ ثقافت کا امیں

     سید حبدار قائم

    شہرِ اٹک کے جم خانہ میں منعقدہ کتاب میلہ اور ماں بولی مشاعرہ ایک ہمہ گیر ثقافتی اور ادبی جشن کی صورت اختیار کر گیا، جہاں علم، موسیقی اور روایت ایک ہی لڑی میں پروئے دکھائی دیے۔ اس روح پرور تقریب کی قیادت ڈپٹی کمشنر عاطف رضا نے اپنی ذاتی دلچسپی اور علم دوستی سے کی، جس نے اس میلے کو محض ایک سرکاری سرگرمی کے بجائے عوامی تہوار بنا دیا۔ ان کی سرپرستی میں نہ صرف ادبی محفلیں سجیں بلکہ باصلاحیت افراد میں اسناد بھی تقسیم کی گئیں، جس سے حوصلہ افزائی کا ایک روشن باب رقم ہوا۔

    تقریب میں ڈی ای او اظہر کی شرکت نے تعلیمی حلقوں کی نمائندگی کو بھی جِلا بخشی۔ اکادمی ادبیات کیمبل پور کے زیرِ اہتمام منعقدہ اس میلے میں بچوں، نوجوانوں اور بزرگوں نے کتابوں میں غیر معمولی دلچسپی لی اور مصنفین سے ملاقات کر کے فکری آسودگی حاصل کی۔ اسٹیج کی نظامت راجہ زاہد اور مونس شاہ نے خوش اسلوبی سے انجام دی اور محفل کو رواں دواں رکھا۔

    اٹک جم خانہ ثقافت کا امیں

    مشاعرے میں سعادت حسن آس، پروفیسر نصرت بخاری، سید حبدار قائم، حسین امجد، آنسہ مظہر اور معروف شاعر طاہر اسیر نے اپنے کلام سے داد سمیٹی، جبکہ معروف نعت خواں بلال شاہ کی آواز نے سماں باندھ دیا۔ شعرا کی باہمی ادبی گفتگو نے محفل کو فکری وقار عطا کیا۔

    میلے کی رونق کو ڈھول کی تھاپ اور روایتی رقص نے چار چاند لگا دیے۔ عوام نے اس ثقافتی مظاہرے کو بے حد پسند کیا اور جوش و خروش دیدنی رہا۔ پھولوں کی نمائش، بچوں کے جھولے اور فوڈ گالہ اس امر کا ثبوت تھے کہ یہ تقریب ہر طبقۂ فکر اور ہر عمر کے لیے تھی۔

    یوں جم خانہ اٹک میں سجا، یہ ادبی و ثقافتی میلہ علم، محبت اور روایت کا حسین امتزاج ثابت ہوا۔

  • اکادمی ادبیات کیمبل پور اٹک کے زیرِ اہتمام تعزیتی اجلاس

    اکادمی ادبیات کیمبل پور اٹک کے زیرِ اہتمام تعزیتی اجلاس

    اٹک ( پ ر ) احمد علی ثاقب کے والد ڈاکٹر شجاع اختر اعوان کی والدہ، پروفیسر نصرت بخاری کے بھائی، راجہ مختیار سگھروی کی ہمشیرہ کے انتقال پر گہرے رنج و غم تعزیت کا اظہار کیا گیا مورخہ ۲۷ دسمبر بروز ہفتہ شام چار بجے میونسپل کمیٹی اٹک کے ہال میں اکادمی ادبیات کیمبل پور اٹک کے زیرِ اہتمام ایک تعزیتی اجلاس انعقاد پذیر ہوا۔

    اکادمی ادبیات کیمبل پور اٹک کے زیرِ اہتمام تعزیتی اجلاس

    اجلاس کی صدارت معروف شاعر و ادیب جناب اعجاز خان ساحر نے کی۔ جبکہ مہمانِ خصوصی شاعر، ادیب اور معروف قانون دان ایڈووکیٹ سپریم کورٹ جناب شیخ احسن الدین تھے۔ دیگر شرکاء کے اسماء گرامی تھے۔ احمد علی ثاقب صدر اکادمی ادبیات کیمبل پور اٹک، طاہر اسیر جنرل سیکرٹری، سید مونس رضا نائب صدر، حسین امجد سیکرٹری مالیات، محسن عباس ملک ممبر ایگزیکٹو کونسل، آغا سید جہانگیر علی بُخاری، ثمن ملک صحافی، افکار کاظمی وظائف، سید جواد، علی عبدالرزاق، راجہ زاہد حسین، فیصل مقصود، محمد اعجاز، علی رضا اجلاس میں پروفیسر نُصرت بُخاری صاحب کے بھائی مرحوم سید طاہر حسین، احمد علی ثاقب صاحب کے والد حاجی فقیر محمد مرحوم، راجہ مختار احمد سگھروی صاحب کی ہمشیرہ مرحومہ اور خواہرِ نسبتی مرحومہ، ڈاکٹر شجاع اختر اعوان صاحب کی والدہ مرحومہ کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی اور مرحومین کی بخشش کے لیے دعا کی گئی اور لواحقین سے اظہارِ تعزیت کیا گیا۔


    اجلاس کی ابتدا سید مونس رضا نے تلاوتِ کلامِ مجید سے کی۔ نعت گو شاعر اور نعت خواں سید جواد حیدر نے اور خوش الحان نعت خواں اور بہترین شاعر حسین امجد نے نعت خوانی کی اور آخر میں سید مونس رضا نے سب مرحومین کے لیے دعا کروائی۔ جنرل سیکرٹری طاہر اسیر نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

  • طاہر اسیر اور اولیاۓ کیمبل پور

    طاہر اسیر اور اولیاۓ کیمبل پور

    تبصرہ نگار.۔ سید حبدار قائم

    طاہر اسیر کی تصنیف اولیاۓ کیمبل پور علاقائی تاریخ، روحانی روایت اور ادبی شعور کا ایک حسین امتزاج ہے۔ یہ کتاب ضلع اٹک کی اُس مقدس سرزمین پر جنم لینے والی یا وہاں مدفون اُن جلیل القدر ہستیوں 91 ہستیوں کا تذکرہ ہے جنہوں نے اپنے علم، تقویٰ، کردار اور خدمتِ خلق کے ذریعے معاشرے کو فکری اور روحانی سمت عطا کی۔ مصنف نے اس موضوع کو نہایت عقیدت، دیانت اور تحقیقی بصیرت کے ساتھ قلم بند کیا ہے۔ بنیادی طور پر اس کتاب کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں چار ادوار کے اولیاء کا ذکر ہے جو درج ذیل ہے:۔

    1300۔ 1500
    1600۔ 1700
    1800۔ 1900
    1900 ۔2000

    176 صفحات کی یہ کتاب مختلف کتابوں کے حوالوں کے ساتھ تیار کی گئی ہے جو مصنف کی شب و روز کاوش کا ثمر ہے
    کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ طاہر اسیر نے محض روایتی انداز میں اولیاء کے تذکرے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے عہد کے سماجی، مذہبی اور ثقافتی حالات کو بھی پیشِ نظر رکھا ہے۔ اس سے قاری کو یہ سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے کہ یہ شخصیات کن حالات میں اُبھریں اور انہوں نے کن مسائل کے باوجود دین و اخلاق کی شمع کو فروزاں رکھا۔ مصنف کا یہ طرزِ نگارش کتاب کو محض تذکرہ نہیں بلکہ ایک دستاویزی تاریخی مطالعہ بنا دیتا ہے۔

    طاہر اسیر اور اولیاۓ کیمبل پور

    طاہر اسیر کی زبان سادہ، رواں اور شائستہ ہے، جس میں تصنع یا غیر ضروری لفاظی نہیں پائی جاتی۔ وہ بات کو مؤثر انداز میں مختصر مگر جامع انداز میں پیش کرنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ کہیں کہیں عقیدت کا رنگ غالب آ جاتا ہے، جو اس موضوع کے حوالے سے فطری بھی ہے، تاہم اس کے باوجود مصنف نے علمی توازن اور سنجیدگی کو برقرار رکھا ہے۔

    کتاب میں شامل شخصیات کے روحانی فیوض، اخلاقی تعلیمات اور اصلاحی خدمات کو اس انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ قاری محض معلومات حاصل نہیں کرتا بلکہ ان سے فکری اور اخلاقی رہنمائی بھی پاتا ہے۔ یہی پہلو اولیاۓ کیمبل پور کو محض تاریخی کتاب کی بجائے ایک اصلاحی اور تربیتی دستاویز بناتا ہے۔

    یہ کتاب خصوصاً نئی نسل کے لیے نہایت اہم ہے کیونکہ یہ انہیں اپنے علاقے کی روحانی تاریخ، مقامی شناخت اور تہذیبی ورثے سے جوڑتی ہے۔ موجودہ دور میں جب مادیت اور تیز رفتار زندگی نے انسان کو اپنی جڑوں میں جکڑ رکھا ہے، ایسی کتب قاری کو اپنی تہذیب اور اقدار کی طرف لوٹنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔

    میرے خیال میں اولیاۓ کیمبل پور کی یہ جلد اول ایک سنجیدہ، بامقصد اور قابلِ قدر تصنیف ہے جو نہ صرف ضلع اٹک بلکہ مجموعی طور پر پاکستانی صوفی روایت کے مطالعے میں اہم اضافہ ہے۔ یہ کتاب محققین، طلبہ، اساتذہ اور روحانی و تاریخی ادب سے دلچسپی رکھنے والے تمام قارئین کے لیے یکساں مفید اور لائقِ مطالعہ ہے۔
    آخر میں طاہر اسیر کے لیے دعاگو ہوں کہ اللہ تعالٰی ان کی علم اور رزق میں اضافہ فرماۓ۔آمین

  • کامسیٹس اٹک کیمپس میں کل پاکستان لسانی مذاکرہ

    کامسیٹس اٹک کیمپس میں کل پاکستان لسانی مذاکرہ

    کامسیٹس اٹک کیمپس میں کل پاکستان لسانی مذاکرہ

    اٹک (ہشام خان اعوان سے /نیوز ایڈیٹر)کامسیٹس یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اسلام آباد اٹک کیمپس میں کل پاکستان لسانی مذاکرہ بہ عنوان”نوک جھوک“ منعقد ہوا .اس رنگا رنگ تقریب کے مہمان خصوصی اردو زبان کے معروف شاعر، ادیب،محقق،شاعروں کی پہلی ضلعی رجسٹرڈ تنظیم اکادمی ادبیات کے ضلعی جنرل سیکرٹری اور ضلع اٹک کی تاریخی کتاب”جب کیمبل پور جل رہا تھا“ کے مصنف طاہر اسیر تھے،تفصیلات کے مطابق کامسیٹس یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اسلام آباد اٹک کیمپس میں کل پاکستان مذاکرہ ”نوک جھوک“ کے عنوان سے انعقاد پذیر ہوا ۔ جس میں اردو اور انگریزی زبان میں مختلف موضوعات پر نوجوان طلباء وطالبات نے تقاریر کیں۔ مجلس ادب و مباحثہ کے صدر حماد علی حیدر اور خاتون ایڈوائیزر محترمہ تسنیم فضا ء کی انتظامی صلاحیتوں نے اس مقابلہ جاتی پروگرام کو چار چاند لگا دیئے۔ تقریب کے مہمان خصوصی معروف شاعر و ادیب طاہر اسیر نے مقابلے میں شرکت کرنے والے طلباء و طالبات میں انعامات تقسیم کیے .

    کامسیٹس اٹک کیمپس میں کل پاکستان لسانی مذاکرہ

    اس موقع پر اظہارخیال کرتے ہوئے مہمان خصوصی نے کہا کہ ایسے ایونٹس زندگی کیلئے انتہائی ضروری اور اہمیت کے حامل ہیں، شعری یا تقریری کے کسی بھی پروگراموں میں شاعر یا مقرر ہارتا یا جیتتا نہیں ہے بلکہ ہار یا جیت میدان جنگ میں ہوتی ہے۔ بلکہ یہاں شعری اور تقریری مقابلوں میں تو زندگی کی خوبصورتی بیان ہوا کرتی ہے، انہوں نے کیمبل پور شہر کی قدیم تاریخ بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ شہر پورے پنجاب میں سب سے زیادہ باوقار، خوبصورت اور اپنے کلچر کا نمائندہ شہر ہے، اس لیے ہم سب نے مل کر اس کا نام روشن کرنا ہے،تقریب کے آخر میں مہمان خصوصی طاہر اسیر نے کامسیٹس یونیورسٹی کے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ پروفیسر ڈاکٹر فیصل نواز میر کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا اور حماد علی حیدر کے ساتھ ساتھ خاتون ایڈوائیزر تسنیم فضا کی صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے انھیں ہدیہ تبریک پیش کیا ۔

  • اکادمی ادبیات کیمبل پور کی ادبی سرگرمیاں

    اکادمی ادبیات کیمبل پور کی ادبی سرگرمیاں

    اکادمی ادبیات کیمبل پور کی ادبی سرگرمیاں

    اٹک(ہشام خان اعوان سے/نیوز ایڈیٹر)اکادمی ادبیات کیمبل پور کے ضلعی دفتربمقام میونسپل کمیٹی لائبریری اٹک میں ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن اٹک کے معروف سینئر قانون دان سابق صدر لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی بینچ شیخ احسن الدین ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان، بیرسٹر ملک آزان اعوان، وقار قادر ایڈووکیٹ، معروف سماجی شخصیت میاں مدثر احمد اور معروف سینئر تجزیہ نگار ہشام خان اعوان خصوصی طور پرتشریف لائے ہیں اور اکادمی ادبیات کی رکنیت حاصل کی ہے۔

    اکادمی ادبیات کیمبل پور کی ادبی سرگرمیاں

    اس موقع پر ضلعی صدر اکادمی ادبیات اٹک احمد علی ثاقب، جنرل سیکرٹری اردو زبان کے نامور شاعر و محقق اور تاریخی کتاب”جب کیمبل پور جل رہا تھا” کے مصنف طاہر اسیر اور دنیا کی سب سے بڑی ویب سائیڈ "وکی پیڈیا” کے اردو کے سابق ایڈیٹر و ضلع اٹک کی 121 سالہ تاریخ میں پہلےآن لائن میگزین کے بانی مدیر آغاسیّدجہانگیر علی بخاری بھی موجود تھے۔

    اکادمی ادبیات کیمبل پور کی ادبی سرگرمیاں

    ضلع اٹک کی 121 سالہ تاریخ میں پہلی بار ایک ایسی ادبی تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس کی سر پرستی ضلعی انتظامیہ اٹک کے سربراہ ڈپٹی کمشنر اٹک راؤ عاطف رضابہترین انداز میں فرما رہے ہیں اور اٹک کے اہل ذوق اس تنظیم میں جوق درجوق بھرپور شرکت کر رہے ہیں۔

    اکادمی ادبیات کیمبل پور کی ادبی سرگرمیاں

  • کیمبل پور کا اسیر

    کیمبل پور کا اسیر

    کیمبل پور کا اسیر


    تبصرہ نگار: سید حبدار قائم
    تاریخ کا سینہ اب بھی چھلنی ہے اور اس سے لہو ٹپک رہا ہے اس لہو کی کہانی کو جب بھی پڑھا گیا یہی لگا کہ یہ زخم ابھی تک ہرے ہیں
    جب کیمبلپور جل رہا تھا ایک ایسی ہی دستاویز ہے جس نے وقت کی دھول میں دبے ہوۓ واقعات کو سامنے لا کھڑا کیا ہے یہ قیامت خیز اور لرزہ طاری کرنے والے سچے واقعات ہر پل رلاتے ہیں ان میں کہیں لٹیاں ہوئ بیٹیوں کی سسکیاں ہیں تو کہیں جبراً انسانیت کا قتل ہے کہیں جنسی حراسگی رلاتی ہے تو کہیں معصوم بچوں کی دریدہ لاشیں لکھتے ہوۓ قلم روتا ہے اور کاغذ بڑی مشکل سے یہ درد اپنے شفاف سینے میں سمیٹتا ہے میرے طاہر اسیر کو کون نہیں جانتا کہ ان کا کام ان کی اوجِ فکر کی رعنائیوں کا مظہر ہے شعر لکھیں تو قرطاس جھوم جاۓ نثر لکھیں تو الفاظ سے خوشبو آۓ تاریخ کا سینہ ایسے خوبرو قلم کاروں کے قلم سے ادب کی کھیتیاں اگاتا ہے
    تاریخ کا سینہ عساکر کی رزم آرائیوں افراد کی خوشہ چینیوں شعرا کی بزم آرائیوں اور عناصر کی رنگینیوں کا دفینہ ہے اس میں طاہر اسیر جیسے شعرا کا لہو خوشبو بکھیرتا ہے تاریخ کے زخموں کی سڑانڈ طاہر اسیر نے قلم بند کی جسے
    جب کیمبلپور جل رہا تھا کا نام دیا گیا

    پروین ملک نے اسی کتاب میں لکھا ہے کہ
    ” دھرتی، جس پر انسان نے پہلا قدم رکھا ہو، جہاں کسی نے پہلا لفظ سیکھا ہو، جس دھرتی کی ہواوں نے اسے تھپک تھپک کر سلایا ہو وہ دھرتی اس کی ذات کا حصہ بن جاتی ہے، اپنی ذات کے حصار سے کوئ کیسے بھاگ سکتا ہے“
    پروین ملک صاحبہ وہ دھرتی اس شخص کا حصہ نہیں بنتی بل کہ وہ شخص اس دھرتی کی خوب صورت کونپل بن رنگ و نور بکھیرتا جاتا ہے اور اس کا حصہ بن جاتا ہے

    احمد علی ثاقب نے لکھا ہے کہ
    ”بٹوارہ محبت کا ہو یا نفرت کا، دونوں صورتوں میں قیامت خیز ہوتا ہے“
    ایک اور جگہ احمد علی ثاقب لکھتا ہے
    ” کیمبل پور کی خوش بختی کہ اس شہر کا مرثیہ لکھنا طاہر اسیر کے حصہ میں آیا جو ہمیں ماضی کے ان بند دریچوں میں لے جاتا ہے جہاں تار تار چادریں، پیروں تلے رلتی پگڑیاں ٹوٹتی چوڑیاں پھندے بنتی اوڑھنیاں گرتی ہوئ دیواریں خاموش ہوتی آوازیں دم توڑتی حسرتیں جلتے بجھتے کواڑ کرچیوں میں بٹتے خواب اور لہو تھوکتے منظر صاف دکھائ دیتے ہیں
    احمد علی ثاقب نے ان الفاظ میں آزادی کے نام پر کھیلی جانے والی ہولی کو چند سطروں میں سمو دیا ہے ان الفاظ سے اپنی ادبی اور تحریری گرفت منوا لی ہے کیوں کہ ایسے الفاظ رقم کرنا بہت مشکل ہوتا ہے یہ خون جگر سے الفاظ کشید ہوتے ہیں جنہیں تاریخ اپنے سینے پر میڈل کی طرح سجاتی ہے

    طاہر اسیر اپنی کتاب کے موضوع کیمبل پور میں لکھتے ہیں
    ” یہ شہر جو کبھی مندروں میں بجتی گھنٹیوں کی صداوں میں ڈوب ڈوب جاتا تھا آج اپنی ماضی کے مزار پر مرثیے سناتا ہے“ صفحہ نمبر 33

    آبادی کی گہما گہمی نے جتنا ماحول کو متاثر کیا ہے اتنا ہی ثقافت کی توڑ پھوڑ کی ہے باہر سے آۓ ہوۓ مہاجرین نے اس کی فضا کی خوشبو تک بدل ڈالی اس کی فضا جو رنگ و نور میں دھلی ہوئی تھی شور و غل اور ٹریفک کے بے ہنگم شور نے آلودہ کر دی مندروں کی گھنٹیاں آزادی کے قہقہوں میں دب گئیں
    طاہر اسیر مزید کیمبل پور کے نام کی بابت لکھتے ہیں
    ”سرکولن کیمبل 1857 کا نا قابل فراموش کردار تھا اسی کے احسانات کی بہ دولت ہندوستان کی تمام دولت انگریز کے قبضے میں آئ تھی چنانچہ اس کے نام پر ایک شہر بسایا گیا جسے آج کیمبل پور کہتے ہیں“ صفحہ نمبر 37

    میرے خیال میں اس شہر کو ماضی میں کیمبل پور اور آج یعنی حال میں اٹک کہتے ہیں جو سچائ ہے اسے جملوں سے بہکایا نہیں جا سکتا
    کیمبل پور کا نقشہ بور سورتھ نے بنایا تھا جس کے ہاتھ فنِ تعمیر سے آشنا تھے طاہر اسیر اس کے متعلق لکھتے ہیں
    ” بور سورتھ بلا کا جمال پسند تھا شہر کے نقشے میں اس نے اتنے رنگ بھرے کہ اسے یاد گار بنا دیا کیمبل پور اسی کی جمال پسندی کا مظہر ہے“ صفحہ نمبر 42
    شہر کو چار وارڈوں میں تقسیم کیا گیا اور مردم شماری کرائ گئ جس کے متعلق طاہر لکھتے ہیں

    ”جب چار وارڈ مکمل ہو گۓ تو 1911 میں اس شہر میں پہلی مردم شماری ہوئ ریکارڈ کے مطابق ان چار وارڈوں میں رہائش پزیر افراد کی کل تعداد دو ہزار نواسی تھی جن میں 570 سکھ ،713 ہندو ،241 عیسائ اور باقی مسلمان تھے“
    جب ایسے حالات تھے تو شہر کا سکون دیدنی ہو گا انگریزوں نے اس وقت شہر کی جو سڑکیں بنائیں اس وقت کی آبادی کے لیے بہت زیادہ وسیع و عریض تھیں لیکن جب پاکستانی انگریزوں کا وقت آیا تو یہ سوۓ رہے جس کی وجہ سے بے ہنگم ٹریفک کا شور اور رش دیکھنے کو ملتا ہے اب اس شہر میں لاہور کی طرح لنک روڈ ہونا چاہیے افغانیوں کو اس شہر سے نکال کر پنجابیوں کو بسایا جاۓ کیوں کہ ایسا نہ کیا گیا تو یہ شہر مستقبل قریب میں افغان گردی کا شکار ہو سکتا ہے
    بہرحال طاہر اسیر نے یہاں سے آگے شہر کے مختلف چوکوں کا ذکر کیا ہے
    اس کے بعد اپنی کتاب میں جلاد طرز کے مسلمانوں کا ذکر کر کے آج کے مسلمان کو یہ بتاتے ہیں کہ
    سکندر خان نے ایک مضمون میں لکھا ہے "1947 میں جب ملک کی تقسیم ہوئی اس وقت آگ اور خون کا کھیل جاری تھا شیطانیت اندھا ناچ ناچ رہی تھی ہندو مسلم فسادات جب عروج پر پہنچے تو کامل پور موسی کے مسلمانوں نے ہندوؤں کے اس مندر کو آگ لگا دی جس میں عورتیں اور بچے پناہ لیے ہوئے تھے ” صفحہ نمبر 197″

    ہجرت ایک ایسا المیہ ہے جس میں جب گھر کا مکیں گھر کو چھوڑتا ہے تو گھر کے در و دیوار روتے ہیں درخت روتے ہیں پرندے روتے ہیں اور جانے والا تو پہلے ہی ٹوٹ کر بکھر چکے ہوتے ہیں ایسے افراد کا کرچی کرچی دل نوحہ پڑھتا ہے اس کے بین اور چیخیں فضا کو رنجیدہ کر دیتے ہیں
    طاہر اسیر کیمبل پور سے ہجرت کرنے والوں کے نام کے باب میں بہت سارے ناموں کا ذکر کرتے ہیں جنہوں نے ہجرت کی ہے اور یہ لوگ صفحہ نمبر 200 سے لے کر 205 تک لکھے گئے ہیں

    پنڈی گھیب کالج میں میں نے ایک کتاب پڑھی تھی جس کا نام ” جب امرتسر جل رہا تھا”
    اس میں مصنف نے مسلمانوں کے قتل عام کے بارے میں جو لکھا تھا اگر یہاں لکھا جاۓ تو کیمبل پور میں خون کی ہولی کھیلنے والوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے لیکن جو ظلم جنونی سکھوں اور ہندووں نے کیے ہیں ان کی تاریخ عالم میں مثال نہیں ملتی مسلمان عورتوں کے سینے کاٹ کر کرپانوں پر چڑھانے والے سکھ تھے معصوم بچوں کی لاشوں پر بھنگڑے ڈالنے والے سکھ تھے دھان کی فصل میں چھپنے والی عورتوں اور بچوں کو زندہ آگ میں جلانے والے سکھ تھے ان کے ساتھ ہندو بلوائیوں نے بھی کثر نہیں چھوڑی وہ سکھوں سے کئ قدم آگے تھے ہماری تاریخ آنسووں سے لکھی گئ اس میں مسلمانوں کی آہوں اور سسکیوں کی آواز اب بھی گوجتی ہے ایک غیر مسلم لڑکی مہرو کی ڈائری اس قتل عام کی گواہ ہے جسے طاہر اسیر اپنی کتاب کے ایک عنوان

    "ڈائری کا آخری ورق” میں لکھتے ہیں
    "ہم امرتسر پہنچ چکے ہیں لگتا ہے کہ ہم آگ اور خون کے سیلاب سے گزر کر یہاں تک پہنچے یہاں پہنچ کر پتہ چلا کہ 22 ستمبر کو امرتسر ریلوے اسٹیشن پر ایک ٹرین جس میں چار ہزار ایک سو مسلمان سوار تھے انہیں ہمارے دھرم کے 41 سکھوں اور ہندوؤں جنونیوں نے گھیر لیا اور حملہ کر کے تین ہزار مسلمان مار دیے ایک ہزار زخمی کیے اور جب وہ ٹرین لاہور پہنچی تو اس میں صرف ایک سو مسلمان ایسے تھے جو زخمی نہیں تھے”

    طاہر اسیر صفحہ نمبر 209 میں جھوٹے فرضی کلیم کے عنوان سے لوگوں کے بارے میں لکھتے ہیں کہ
    "بٹوارا ہو چکا تھا صدیوں تک ایک دوسرے کی روح میں بسنے والے کہیں دور جا چکے تھے”
    اور مزید ایک لائن میں ہجرت کے درد و الم کے متعلق لکھتے ہیں کہ
    "برگد پیپل بوہڑ تالاب اور گلیاں سر بہ گریباں تھیں گھروں کے دالان اپنے اصل مکینوں کے لمس سے محروم ہو چکے تھے کچھ بھی نہیں بچا تھا اگر تھے بھی تو بس ویران سے گھر تھے جہاں دن رات خاموشی چھائی رہتی کسے معلوم تھا کہ خون کی ہولی کھیلنے کے بعد ایک اور ہولی منائی جائے گی جو ایک بار پھر انسانی جبلت کا پردہ چاک کر کے رکھ دے گی کون جانتا تھا کہ لا الہ الا اللہ کا نعرہ ء مستانہ صرف نعرہ ہی بن کر رہ جائے گا دونوں اطراف سے دکھائے جانے والے خوشنما منظر آنکھوں پہ بوجھ بن جائیں گے جنت نظیر وطن میں حرص و ہوس کی خاردار جھاڑیاں اگنے لگیں گی لالچ اور نفسا نفسی کا دور دورہ ہوگا دور بہت دور تک لوگ محض جائیدادیں جاگیریں اور کشادہ صحنوں والے گھروں کو ہتھیانے کے لیے عجیب عجیب طریقے اختیار کریں گے”

    ایسی صورت میں کہاں کی مسلمانی اور کہاں کا دین جب جھوٹے کلیم بننے لگیں اور حقدار کا حق لوٹ لیا جاۓ مال غنیمت کے عظیم فلسفے کو لالچ اور طمع سے جھٹلایا جاۓ تو پھر ہم کافر سے بھی بد تر ہیں
    کتاب کے آخر میں طاہر اسیر نے چند یاد گار تصاویر لگا کر تاریخ کی گواہی دیتی ہوئ شخصیات اور عمارات محفوظ کر لی ہیں طاہر کی کاوش آنے والے نسلوں کے لیے بیش بہا معلومات کا خزانہ ہے سر زمین اٹک میں لکھی جانے والی اس کتاب میں اہلیان کیمبل پور کی غلطیوں کا برملا اعتراف ہے ہم انسانیت کی دھجیاں اڑا کے رکھ دیتے ہیں ہمارا منشور انسان ہونا چاہیے لیکن ہمارا منشور انسان نہیں رہا ہم اپنے نبی پاک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بتایا ہوا درس بھول چکے ہیں لالچ اور طمع ہمارا مقدر بن چکی ہے
    آخر میں طاہر اسیر کے لیے دعاگو ہوں کہ اللہ پاک انہیں حیات خضر کے ساتھ ڈھیروں خوشیاں اور اولاد نرینہ عطا فرماۓ۔آمین

  • میرا کیمبل پور

    میرا کیمبل پور

    میرا کیمبل پور


    میرے کیمبلپور جیا ہور وکھا
    تو سچا ایں تے سامنے آ

    سنتریاں ورگا شہر وکھا
    توں برفی لڈو نال رلا

    اتھے آل دوالے اللہ ہُو
    اتھے آل محمد ﷺ دی خوشبو

    اتھے پنجتن پاک دے رستے ہن
    سادات دے بچڑے وَسدے ہِن

    اتھے رونق دِسدی گلیاں وچ
    جویں پُھل گلاب دا کلیاں وچ

    ای جوآر دے گنے تُر ورگا
    میرا کیمبلپور اے سُر ورگا

    کیویں سونا وکدا تولے سُنڑ
    اِتھ ماہیے سنڑ اِتھ ڈھولے سُنڑ

    تو گُھل ویسیں نالے بُھل ویسیں
    ساری دنیا وچ توں رُل ویسیں

    تینوں دنیا وچ ایجا نٸیں ملڑاں
    جیجا ای کِھڑیا ایجا نٸیں کِھڑناں

    ساری دنیا وچ توں چکر لا
    ہک وار ازما کے پھیرا پا

    اتھے سوہنڑے جگ توں وسدے ہن
    سانوں پیر بزرگ دَسدے ہن

    توں ویکھنا اے تے جلدی آ
    وچ کیمبلپور دے پھیرا پا

    اتھے ہر شے ویکھ نرالی اے
    جویں جھولی مانواں آلی اے

    پی ددھ پتیاں یا کھانا کھا
    اتھے پاوے چاول چھولے کھا

    مِٹھی نختی نال مکھانڑیں کھا
    اتھے چھلّی بُھجی دانڑیں کھا

    اتھے منگ پھلیاں دی ذات وی اے
    اتھے بیراں دی سوغات وی اے

    گنگیر ملے کالے چِٹے وچ
    جویں دانڑیں ہوندے سِٹے وچ

    اتھے ٹیشن ویکھ سرنگاں ویکھ
    اتھے لسی پی تے لونڑِیں کھا

    وچ ہِجَر ماہی دے سِکدے ہِن
    اتھے شاعر سُنڑ کِنج لکھدے ہِن

    اتھے اسفند یار بخاری اے
    جیں دشمن دی مت ماری اے

    تو مینڈا یار نسیم بھی سنڑ
    اتھے حکمت یار مقیم بھی سنڑ

    سُنڑ گیت، عطا بھی گاندا اے
    اتھے صابر غزلاں چاندا اے

    اتھے گُلی ڈنڈے نال بھی کھیڈ
    اتھے کھینو نا ڈنڈ پاکی لا

    میرا کیمبل پور

    اسی گھگھو گھوڑے تکدے رۓ
    اسی دھرتی ما تے کٹدے رۓ

    اتھے کُڑیاں نڈے بہوں سونہڑے
    جیویں حوراں نوراں دے گہنڑے

    اتھے کُڑیاں ونگاں پاندیاں ہن
    اتھے گھڑے کُچھڑ چاندیاں ہن

    اتھے نتھلی کوکا ڈُھکدا اے
    جنوں عاشق ویکھ کے رُکدا اے

    اتھے دریا ویکھ پیا واہندا اے
    جتھے کابل نا رل جاندا اے

    اِندی اَرٹلری نوں توں بھی من
    جتھوں گولے وجن دن دن دن

    اے کیمبلپور اے سلطانی
    پالے افغانی نالے ایرانی

    اتھے پیلی سَریاں سجدی اے
    جنوں ویکھنڑ دنیا بھجدی اے

    اتھے سنگت رکھ فقیراں دی
    تو بُھلسیں چال امیراں دی

    اتھے ہسدے گاندے ہن بلبل
    اتھے سوڑی تلیر دی چُلبل

    اتھے چڑیاں کاں لوٹورے ہن
    اتھے راول طوطی بَھورے ہن

    اتھے چمچرڑاں تے گُھگھیاں ہن
    اُتے مرغابی دے ڈبیاں ہن

    میرے جی باباؒ تے قندھاریؒ
    آ ویکھ انہاں دی سرداری

    اتھے ننڑاں ہروٸی وگدے ہِن
    جہڑے دھرتی اتے پھبدے ہِن

    ہک چھانگلاؒ رب دا پیارا اے
    جیں پتھری بیڑا تارا اے

    ہک زارت سُنڑ کبوتراں دی
    اُتھے جا کے وحدت شربت پی

    اتھے قلعے مغلاں دے لبھدے
    جہڑے کیمبلپور دے وچ پھبدے

    ہک ملاٸی ٹولہ وسدا اے
    جہڑا بچہ بچہ دسدا اے

    ہر سکھ دا اتھے پھیرا اے
    اتھے نانکؒ دا بی ڈیرا اے

    تو آہدا ایں کجھ ہور وکھا
    میں آہدا آں اتھے پھیرا پا

    تینوں قاٸم آکھے جلدی آ
    میرے کیمبلپور جیا ہور وکھا

  • سید حبدار قائم کی ادبی خدمات

    سید حبدار قائم کی ادبی خدمات

    سید حبدار قائم کی ادبی خدمات


    تحریر ۔۔ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
    کیمبل پور اٹک اس لحاظ سے بہت خوش نصیب ھے کہ یہاں کے ادیبوں نے ہر دور میں ہر طبقہ فکر کے اذہان کو فکری شعور دیا ادیب اور شاعر بڑی خوبصورتی سے اپنی تخلیقات پیش کرتے رہے کسی نے تاریخ کی گرد میں چھپے رازوں کو تحقیق کی صورت میں سامنے کیا تو کسی شاعر نے غزل اور نظم کو خوبصورت انداز دیا اسی طرح نثر کے میدان میں طبع آزمائی بھی ھوتی رہی ضلع کیمبل پور حال اٹک ہر دور میں فکروفن و ادب کا گہوارہ رہا نئی آنے والی نسل کو ادب سے روشناس کروانے اور ان کی ذہنی پرورش کے لیے سب تخلیق کاروں نے اپنے حصہ کا کام کیا یہ سلسلہ آج بھی جاری ھے ان ہی میں سے ایک بڑا نام معروف شاعر ادیب سید حبدار قائم کا بھی ھے جن کی سات کتابیں منصہ شہود پر آ چکی ہیں جن میں

    سید حبدار قائم
    سید حبدار قائم

    ١، نماز شب (نثر)

    ٢۔ حضرت رحمت اللہ شاہ رح بخاری المعروف چھانگلا ولی موج دریا کی سیرت (نثر)

    ٣۔ اکھیاں وچ زمانے (پنجابی نثر )

    ٤.مدح شاہِ زمن ( پہلا شعری نعتیہ مجموعہ)
    ٥. صبح نعت دوسرا نعتیہ مجموعہ
    ٦. انتقادات و تاثرات (نعتیہ مجموعوں پر تبصرے )
    ٧. ارتسام خیال ( مختلف کتب پر تبصرے)
    شامل ہیں

    سید حبدار قائم کی ادبی خدمات

    شاہ صاحب ادبی رسالہ میرے لفظ کے مدیر بھی ہیں جو سہ ماہی مجلہ کے طور پر شائع ھوتا ھے بچوں کے لیے کہانیاں بھی لکھتے ہیں جو نہ صرف دلچسب بلکہ سبق آموز بھی ہوتی ہیں دلچسب پیرائے میں لکھتے ہیں اور لکھتے ہی چلے جاتے ہیں یوں کہنا کچھ غلط نہ ھو گا کہ شاہ صاحب کی سات کتابیں دھنک کے سات رنگ ہیں شاہ صاحب گویا سات سروں کے بادشاہ ہیں گزشتہ دنوں اپنی حالیہ شائع ھونے والی دو کتب( 1) ارتسام خیال جو مضامین کالم و تبصرہ جات پر مشتمل ھے (2) انتقادات و تاثرات جو شاہ صاحب کی نعتیہ تخلیقات پر تبصروں پر مشتمل کتاب ہیں نہایت محبت سے مجھے پیش کیے کتاب انتقادات و تاثرات کا انتساب شاہ صاحب نے ان شعراء و ادیبوں کے نام کیا ھے جو رسول پاکﷺ کی سیرت اطہر پر شاعری کرتے یا نثر لکھتے ہیں لگ بھگ تیس نعتیہ مجموعوں کو اس کتاب میں انہوں نے تبصرہ کی زینت بنایا ھے جس میں قصیدہ نور حصہ اول دوم مہکار مدینے کی ،خزینہ رحمت،صراط مودت کے پھول ،ورق ھواء ھے خوشبو خوشبو ،آپ بہت یاد آئے ،مقبول ذکی مقبول کی منتہائے فکر ،داود تابش کی شہد آگیں انعات ،نگار ضو تیرے قدموں کا دھوون ،مدحت سردار جنت ،تلاوت نعت ،عقیدت دے رنگ میں حمد ،عقیدت دے رنگ میں نعت اور عقیدت دے رنگ میں سلام و منقبت ،ہجر میں روتے ھوئے دو نین ،باعث نجات،جادہ نور ،ثنائے محمد میں نعت گوئی ،سائبانِ شاکر ،خوشبوئے سائبان ،آرزوئے سائبان اور عطا کا رخ پر خوبصورت انداز میں تبصرے لکھ کر اپنے جذبات اور آقا کریمﷺ کے ساتھ محبت کا اظہار کیا ھے شاہ صاحب کی نعت رسول ﷺ کے ساتھ وابستگی ہمہ وقتی ھے گزشتہ کئی سالوں سے وہ نعت لکھ رہے ہیں نہ صرف نعتیہ مجموعے شائع ھوئے بلکہ ان کی کتاب مدحِ شاہِ زمن پر ایم ایس لیول کا تھیسز بھی لکھا گیا ان کی گفتگو میں قلندرانہ انداز ھے جذب و کیفیت کی حالت میں نعت لکھتے اور اپنا کلام پڑھتے ہیں کہ سننے اور پڑھنے والے کے دل میں اتر جاتا ھے دعا ہے کہ نعت سے ان کی وابستگی یوں ہی قائم رہے اور سفر عشق و مستی جاری و ساری رہے شاہ صاحب کی دوسری کتاب جو میرے ہاتھ میں ھے وہ ارتسام خیال ھے جس میں مضامین کالم اور تبصرہ جات شامل ہیں یہ کتاب نعت مرکز انٹرنیشنل لاھور نے شائع کی ھے جو ادارہ معیاری حمد و نعت کے فروغ کی تحریک کا بیڑا اٹھائے ھوئے ھے اس کتاب میں سید حبدار قائم شاہ صاحب نے سعادت حسن آس کا آسمان، مودت اور آہ رسا ،گلاب اسم نبیﷺ کی خوشبو، علم توں قلم تک ،جانِ کرم ،زادِ شفاعت،ادھ راتا،لاجونتی،سخن یہ ھے،یادیں ،کاروان قلم کے روح رواں،حرف آشنا رہگزر، جمالیات ،بلبل رسول محمد عرفان ،درخشاں ستارہ شہزادہ افق التمیمی ،دستور اور نواب ناظم میو،اٹک کا ساغر صدیقی ،محبت بانٹتے جاؤ ،وہ در ختم نبوت کا ،وجود کیا حباب کا ،سیرت آگاہی بزم کھٹڑ پر نہایت جامع مضامین تبصرہ جات اور کالم لکھے ہیں اکثر تحریریں شاعری کی کتابوں ادبی رسائل شخصیات و شعراء پر ہیں ان میں سے ذیادہ تر مضامین ایسے ہیں جو مختلف اخبارات میں شاہ صاحب کی طرف سے شائع ھو چکے ہیں ان کو اس کتاب میں محفوظ کر دیا گیا ھے سید حبدار قائم ایک ایسے ادیب ہیں جو پیار محبت اور مل بیٹھنے کی روایات کی پرورش کرتے نظر آتے ہیں اپنی تخلیقات کو بہترین انداز میں پیش کرنے کا فن جانتے ہیں نئی نسل کی راہنمائی کرتے اور شعراء و ادیبوں کے لیے ان کی ادبی بیٹھک کیمبل پور اٹک کے ٹی ہاؤس کا درجہ رکھتی ھے ہماری دعا ھے کہ اللہ پاک شاہ صاحب کو صحت و سلامتی عطا فرمائے تاکہ پرورشِ لوح و قلم کا سلسلہ جاری و ساری رہے اور جو دل پہ اترتی ھے رقم کرتے رہیں

  • جب کیمبل پور جل رہا تھا

    جب کیمبل پور جل رہا تھا

    جب کیمبل پور جل رہا تھا


    تبصرہ نگار ۔۔ڈاکٹر شجاع اختر اعوان
    تقسیم ہند سے پہلے جن شہروں کو محبت کے ساتھ بسایا گیا ان میں لائل پور، جیکب آباد، ایبٹ آباد، منٹگمری اور کیمبل پور جیسے شہر خوبصورت ترین شہروں میں شمار کیے جاتے ہیں
    1947 میں جب بٹوارہ ہوا تب پورا پنجاب جل اٹھا تھا یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ کیمبل پور کی تاریخ بھی خاک اور خون سے بھری ہوئی ہے لیکن اس تاریخ پر وقت کی دھول کچھ اس طرح بیٹھ چکی تھی کہ عام آدمی کی رسائی اس خونچکاں منظر تک نہیں پہنچ سکتی تھی حال ہی میں کیمبل پور اٹک سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان محقق جناب طاہر اسیر نے اس تاریخ سے پردہ اٹھایا اور ہمارے سامنے ایک کتاب بہ عنوان جب کیمبل پور جل رہا تھا، سامنے لے آئے، یہ کتاب اپنے موضوع کے اعتبار سے اتنی منفرد اور یکتا ہے کہ اس سے پہلے تقسیم ہند پر اس خطہ خاک پر کوئی دستاویز سامنے نہیں آئی فاضل محقق نے اس دستاویز کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے .
    پہلا حصہ کیمبل پور شہر کو بسائے جانے اور اس کی خوبصورتیوں سے متعلق ہے، محقق نے بڑے احسن طریقے سے قدیم کیمبل پور شہر کے روشن خدوخال نمایاں کیے ہیں 1911 میں ہونے والی مردم شماری سے لے کر 14 ۔اگست 1947 کے بٹوارے تک کیمبل پور کے حسن میں اضافہ کرنے والے مندر چوک، منگ لدھا چوک، گیڈر چوک، کراچی ہوٹل، تولہ رام پیلس اور حویلی جگن کشور کا جہاں ذکر کیا گیا ہے وہیں پرانے شراب خانے سونامینا، قدیم درختوں، گورنمنٹ کالج کیمبل پور کے پروفیسروں، سردار پریم سنگھ، ایشرسنگھ، ایش کمار پر بھی قلم اٹھایا گیا ہے، پرانے احوال و آثار میں ہندووں کا سکول، این پی ٹی بس سٹینڈ، بھولے بسرے کوچوان، تانگوں کے مستری، کیمبل پور جنکشن، بمبی ایکسپریس اور اندرون شہر مزارات کو نہایت تحقیق کے ساتھ فاضل محقق نے صفحہ قرطاس پر بکھیر دیا ہے، اسی تاریخی دستاویز میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ محبتوں بھری اس بستی میں تقسیم سے پہلے کتنی محبت، امن اور بھائی چارے کی فضا ہوا کرتی تھی، دیوالی، بسنت، ہولی اور دسہرا جیسے تہوار کس قدر محبتوں سے منائے جاتے تھے ، شہر کے زندہ کرداروں میں جیتا رام، بی آر سہگل، جونا سنگھ، پنڈت بھوپال چند بلبیر سنگھ اور لالا فقیر چند ایڈوکیٹ اس شہر کی رونق تھے آج ہمیں آریا سماج مندر، سیتا رام مندر، گردوارہ ڈی بلاک، گردوارہ گوبند صاحب اور وہ مرکزی گردوارہ دکھائی نہیں دیتا جو تقسیم ہند سے پہلے موجود تھا

    جب کیمبل پور جل رہا تھا


    مختصر یہ کہ پہلا باب اس شہر کے حسن و جمال کو بیان کرتا ہے فاضل محقق نے دوسرے اور تیسرے باب میں ہندو مسلم فسادات کی لرزہ خیز داستان بیان کی ہے، ان ابواب میں لکھا گیا ہے کہ کتنی ہندو اور سکھ لڑکیوں کا اغوا ہوا، کتنی ہی بیٹیاں قتل ہو گئیں اور کیسے کیسے ہنستے بستے گھر اجڑ گئے، کس طرح محبتوں بھری بستی میں نفرت کی دیواریں کھڑی ہو گئی تھیں اور کون سوچ سکتا تھا کہ محبتیں نفرت میں بدل جائیں گی، مندروں پر حملے ہوں گے، کیمبل پور کے کنویں لاشوں سے بھر جائیں گے، یہی سچ ہے اور یہی صداقتیں ہمیں اسی کتاب میں دکھائی دیتی ہیں
    جب بٹوارہ ہو چکا تو لوگوں نے کس طرح املاک پر قبضے کیے جھوٹے فرضی کلیم داخل کروائے گئے قیمتی جائیدادیں رشوت کے ذریعہ ہتھیا لی گئیں، فقیر امیر ہو گئے اور اجڑ کے آنے والے نواب اپنی قسمت کو پیٹتے ہوئے تہی دامن رہ گئے
    اب وقت آ گیا ہے کہ ہر صاحب شعور کو اپنے ماضی کی خوبصورتی اور بدصورتی کو سامنے رکھنا ہوگا اور کھلے دل کے ساتھ حقائق تسلیم کرنا پڑیں گے میں نے اس کتاب کو ہر حوالے سے منفرد اور مستند پایا ہے ایک قیامت تھی جو اس شہر پہ گزر گئی تھی بقول احمد علی ثاقب بٹوارہ محبت کا ہو یا نفرت کا دونوں صورتوں میں قیامت خیز ہوتا ہے یہ کالم لکھتے ہوئے مجھے استاد دامن کے دو شعر یاد آ رہے ہیں

    لالی اکھاں دی صاف پئی دسدی اے
    روئے تُسی وی او روئے اسی وی آں
    انہاں آزادیاں ہتھوں برباد ہونا
    ہوئے تسی وی او ہوئے اسی وی آں