Tag: کیمبل پور

ضلع اٹک کا اولین اور قدیم نام کیمبل پور تھا جو سر جان کیمپبل سے موسوم تھا۔

  • جنگل اور جنگلی حیات

    جنگل اور جنگلی حیات

    آج کی یہ تحریر عمومی طور پر تمام قارئین کے لئے اور خاص طور پر ان لوگوں کے لئے ہے جو تاریخ کے ساتھ ساتھ جغرافیہ سے بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس مضمون میں ضلع اٹک کے جنگلات میں پائے جانے والے درخت اور جڑی بوٹیوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جنگلی حیات (جانور اور پرندے) پر بھی گہری تحقیق پیش کی گئی ہے۔

    بیر: بیر کا عام درخت ہر جگہ ملتا ہے۔ پتے اور ٹہنیاں چارے کے طور پر استعمال ہوتے ہے جبکہ لکڑی گھر بنانے اور جلانے کے کام آتی ہے۔ اسکا پھل بھی کھانے کے لئے مفید ہے۔ اسکی ایک چھوٹی قسم کو بیری کہتے ہیں۔ اسکے خشک پتے اور ٹہنیاں زخیرہ کر کے جانوروں کا چارہ بنایا جاتا ہے۔ اس کی بقایا ٹہنیاں باڑ کے طور پر استعمال ہوتی ہیں۔ پھل اگرچہ چھوٹا ہوتا ہے لیکن شوق سے کھایا جاتا ہے۔

    دھریک: یہ درخت عام طور پر خود بخود نہیں اُگتا بلکہ اسے خاص طور پر اُگایا جاتا ہے۔ یہ تیزی سے بڑھتا ہے اور سایہ دار درخت کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ اسکی لکڑی کم اہمیت کی حامل ہے لیکن حلقے شہتیر اور دوسرے کاموں میں استعمال ہوتی ہے خاص طور پر ہل کے لئے” پنجالی” بنانے کے کام آتی ہے۔ بوہڑ پیپل کے درخت بھی کم مقدار میں ملتے ہیں۔ سڑکوں کے کنارے اور اٹک تحصیل کے کچھ علاقے میں توت کا درخت بھی پایا جاتا ہے جو باقی علاقوں میں کم ہے۔

    لانہ: دریائے سندھ کے نذدیک اگنے والا کلری زمین کا ایک درخت ہے جہاں اور کوئی دوسری چیز پیدا نہیں ہوتی۔ جہاں یہ درخت ہوگا ظاہر کرے گا یہ کلر والی اور نمکین زمین ہے۔ مویشیوں کے چارے طور پر استعمال ہوتا ہے۔

    گھنیرا: خوبصورت گلابی اور سفید پھولوں والی یہ جھاڑی اکثر ندی نالوں کے اندر زیادہ مقدار میں ملتی ہے۔ اس کے پتے زہریلے ہوتے ہیں اور ضلع میں پائے جانے والے تمام جانور اسکو نہیں کھاتے۔ اس کی ٹہنیوں اور تنوں کو تمباکو پینے والے پائپ میں استعمال کیا جاتا ہے۔

    آک: یہ بنجر اور ناہموار زمین پر اگنے والی چوڑے پتوں کی ایسی جھاڑی ہے جس کا تنا لکڑی جیسا ہوتا ہے۔ عام طور پر غیر مفید بوٹی سمجھی جاتی ہے۔ لیکن اس سے کچھ فائدے اور مقاصد بھی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ اس کی ٹہنیاں جلانے کے کام آتی ہیں۔ بکریاں کڑوے پتے کھاتی ہیں۔ اس سے دھاگا یا ریشہ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے جو روئی جیسا نرم ریشہ ہوتا ہے جو گٹھڑیوں میں بند ہوتا ہے۔ نرم و گداز گدے اور تکئے بنانے کے کام آتا ہے۔

    پوہلی: ایک کانٹے دار پودا جو کسی بھی کانٹے دار پودے سے مماثلت نہیں رکھتا۔ اپنے خوبصورت پیلے پھولوں کے ساتھ ربیع کی فصل کے دوران ضلع کے تقریبا” ہر علاقے میں پیدا ہوتا ہے۔ جانوروں کا چارہ بھی بنتا ہے۔ اسکے بیج خوراک کے طور پر اکثر خشک سالی میں استعمال ہوتے ہیں۔

    بھوکاٹ: یہ پیاز جیسی بن بلائی جڑی بوٹی ہے جو گندم کے کھییتوں میں تمام خالی جگہوں کو بھر لیتی ہے۔ اسکے کالے بیج پیس کر کھانے میں بھی استعمال کئے جا سکتے ہیں۔

    بھکڑا: یہ ایک عام قسم کی بوٹی ہے جو خزاں کے دنوں میں بہتات سے ہوتی ہے۔ اس کے بیج تکونی شکل کے کانٹے دار ہوتے ہیں۔ قحط اور خشک سالی کے دنوں میں یہ بیج پیس کر آٹے میں ملا کر پکائے جا سکتے ہیں۔

    کھبل: گھوڑوں اور مویشیوں کی خوراک ہے۔ بہت کم مقدار میں کھیتوں کے گرد اگنے والا چھوٹا گھاس ہوتا ہے۔ بارش کے دنوں میں زیادہ بڑھتا ہے اور سارے سال میں بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

    تھوہر: یہ بنجر علاقوں میں بہت عام ہے۔ فائدے کے نسبت زیادہ نقصان دہ ہے لیکن جب مویشیوں کے کھانے کو کچھ نہ ہو تو چارے کے طور ہر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    جنگلی حیات:

    اُڑیال / ہُڑیال: ضلع میں بہترین شکار ہے۔ کالاچٹا اور اسکی زیلی پہاڑیوں، نرڑا کے علاقے اور کوہستان نمک میں پانی کے نزدیک پہاڑوں پر ہوتا ہے۔ بعض اوقات ندی نالوں کے کناروں، جہاں چھوٹی چھوٹی جھاڑیاں ہوں جیسے تحصیل پنڈی گھیپ کے جنوب مغرب میں بھی ملتا ہے۔

    لومڑ: ضلع میں تیزی سے ہونے والی آبادکاری کی وجہ سے اب کافی کم مقدار میں موجود ہے لیکن ضلع کے تمام علاقوں میں کم و بیش پایا جاتا ہے۔ جبکہ گیدڑ پورے ضلع میں اکثر مقامات پر پایا جاتا ہے۔ بنیادی طورپر بزدل ہونے کی وجہ سے کم نظر آتا ہے لیکن اسکی آوازیں سنی جاتی ہیں۔

    خرگوش: تمام چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں اور ڈھلانوں کے علاوہ بھی ہر جگہ ملتا ہے لیکن کم تعداد میں موجود ہے۔

    کبوتر: پرندوں میں یہاں قابل زکر "جنگلی کبوتر” ہے۔ یہ ایک پہاڑی کبوتر ہے جسے عرف عام میں "جنگلی کبوتر” کہتے ہیں۔ کالا چٹا کے پہاڑوں میں زیادہ تعداد میں موجود ہے۔

    تیتر / کالا تیتر اور چوکور: یہ کالا چٹا میں عام ہے۔ نرڑا کی پہاڑیوں کے علاوہ عام جگہ پر بھی تیتر ملتا ہے جبکہ چوکور صرف پہاڑوں میں ملتا ہے۔ بھورے رنگ کا تیتر پورے ضلع میں عام ہے لیکن کالا تیتر نہ ہونے کے برابر پایا جاتا ہے۔

    بٹیر اور کھڑ مور : بہار اور خزاں کے موسم میں پورے ضلع میں بٹیر بڑی تعداد میں آتے ہیں۔ انکا شکار سواں جھیل میں عام طور پر ہوتا ہے۔ اٹک تحصیل میں اٹک قلعہ کے آس پاس اور پنڈی گھیپ کے مغربی علاقوں میں کبھی کبھار ملتا ہے۔

    اسکے ساتھ ہی ہمارا آجکا یہ مضمون مکمل ہوتا ہے۔ آپ لوگوں سے گزارش ہے کہ نیچے کمنٹس میں آپنی رائے کا اظہار ضرور کریں تاکہ آپکی دلچسپی کو مد نظر رکھتے ہوئے دیگر موضوعات پر بھی لکھا جائے۔

  • کل شب تڑپ تڑپ کر،  میں نے گزار ڈالی

    کل شب تڑپ تڑپ کر، میں نے گزار ڈالی

    کل شب تڑپ تڑپ کر، میں نے گزار ڈالی

    سِینے کی ہر تمناّ ، سِینے میں مار ڈالی

    اُس بے وفا کو کب تک ، دیتا خراج کوئی

    آفت گلے سے اک دن ، یہ بھی اُتار ڈالی

    کرنے کو کچُھ اُجالا ، آنکھوں میں سُرمہ ڈالا

    اور پھر بطرزِ جوگی ، کانوں میں تار ڈالی

    آتے ہی جیسے میرے ، شانتی میں آ گیا ہو

    ہر بے سُکون پتاٗ، ہر بے قرار ڈالی

    ہوں دور سب بلائیں ، تا کہ ٹلیں خزائیں

    میں نے نئی چمن میں رسمِ بہِار ڈالی

    کلام: عمران اسد

    عمران اسد
  • قُرآن آئینِ زندگی ہے؛ منشورِ حیات ہے(قسط اوّل)

    قُرآن آئینِ زندگی ہے؛ منشورِ حیات ہے(قسط اوّل)

    قُرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر نبیِ مکرم محمد مصطفیٰ صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہونے والی آخری آسمانی کتاب ہے، قُرآن ایک دائمی معجزہ ہے سرکارِ رسالت مآب صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کی حقانیت کا ، کیونکہ اسلام دائمی و جاودانی دین ہے تو قُرآن کو بھی  قیامت تک کے لیے ہر دور اور زمانے میں سند اور دلیل کا حامل ہونا چاہیے، اور قُرآن کا دعویٰ بھی یہی ہے ،  وَلَا رَطبٍ وَّلَا یَابِسٍ اِلَّا فِی کِتَابٍ مُّبِینٍ * کوئی خُشک و تَر ایسا نہیں جس کا ذکر قُرآن مجید میں موجود نہ ہو، قُرآن کہتا ہے کہ وہ ھُدًی لِّلنَّاس ہے ؛ قُرآن جامِ صفاء و نُورِ خُدا ہے ، گنجِ سعادت فی الدُّنْيَا اور سامانِ عُقبیٰ ہے، قُرآن فلاحِ نَوعِ انسانی کا نُسخہءِ کیمیا ہے ، لہٰذا سُورۃ الجاثیہ کی آیت نمبر 20 میں فرمایا جا رہا ہے کہ

    ھٰذَا بَصَأ ئِرُ لِلنَّاسِ وَھُدًی وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ يُّوقِنُوْنَ *

    یہ (قُرآن) لوگوں کی ہدایت کے لیے دلیلوں کا مجموعہ اور یقین کرنے والوں کے لئے ہدایت و رحمت ہے،

    تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم اس قُرآن سے مکمل استفادہ کرنے میں ناکام کیوں ہیں، اس کی سب سے بڑی وجہ تو یہ ہے کہ قُرآن کو سمجھنے کا فریضہ ہم نے مولویوں کے لیے رکھ چھوڑا ہے، اور اب مولوی بھی عام آدمی کو اس طرف جانے سے مانع ہے کیونکہ یہ اس کی روزی روٹی کا ذریعہ ہے حالانکہ سُورۃ القمر کی 17 ویں آیت میں قُرآن سب کو پکارتے ہوئے گویا ہے کہ

    وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْأنَ لِلذِّكْرِ فَھَلْ مَنْ مُّدَّكِرٍ *

    اور ہم نے تو قُرآن کو نصیحت حاصل کرنے کے واسطے آسان کر دیا ہے تو کوئی ہے جو نصیحت حاصل کرے

    اب اس مُختصر سی تمہید(جو کہ بذات خود مکمل مضمون کی متقاضی ہے) کے بعد آئیے ہم اپنے اصل موضوع کی طرف آتے ہیں اور اس کے لیے  بہت زیادہ آیات کا حوالہ دینے کی بجائے آج کی اس گفتگو میں ہم سُورۃُ الانعام کی آیت نمبر 151 اور 152 کا سہارا لیتے ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نے منشورِ حیات کے دس 10 اہم ترین نکات واضح اور صریح انداز میں بیان فرمائے ہیں، اور یاد رہے کہ معمولی رد و بدل کے ساتھ تورات میں بھی یہی 10 نکات موجود ہیں، اور انہی دس نکات کی بنیاد پر یہودی معاشرہ فخر بھی کرتا ہے اور اپنی مذہبی حیثیت برقرار بھی رکھے ہوئے ہے، چونکہ یہ تفصیلی آیات ہیں اس لیے ایک ایک نکتے کو لے کر مختصر تشریح کے ساتھ آگے بڑھیں گے،

    قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُم عَلَيْكُم اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَيْئاً وَّ بِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَاناً

    اے رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم ان سے کہہ دیجئے کہ آؤ جو چیزیں اللہ نے تُم پر حرام کر دی ہیں وہ تمہیں پڑھ کر سنا دوں وہ یہ کہ کسی بھی شے کو اللہ کا شریک نہ بناؤ اور ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرو؛

    قُرآن کے ہی بیان کے مطابق ہر زمانے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث تمام انبیاء علیہم السلام کی دعوت کی بنیاد یہ رہی ہے کہ تمام انسان ایک واحد اللہ کی عبادت کریں ، ایک حاکم کی حاکمیت کو تسلیم کر لینے میں حکمت یہ ہے کہ انسان کو غیر اللہ کی غلامی سے نجات دلائی جائے ، اور قُرآن مجید بھی توحید و یکتا پرستی کو ساری آسمانی شریعتوں کے درمیان مشترکہ بنیاد کے طور پر متعارف کرواتے ہوئے سُورۃ آلِ عمران کی 64 ویں آیۃ میں فرما رہا ہے کہ

    قُلْ يَا اَھْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا اِلیٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَ بَيْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهٖ شَيْعاً وَّ لَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضاً اَرْبَاباً مِّنْ دُوْنِ اللهِ ط

    اے میرے رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم ان سے کہہ دیجئے کہ اے اہلِ کتاب ! اُس بات کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے وہ یہ کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں، اور اُس کے لیے کسی کو بھی شریک و مثیل نہ بنائیں، اور اللہ کے سوا ہم میں سے کسی کو پروردگار نہ مانیں ،

    مختصراً عقیدہءِ توحید قُرآن کی رُو سے پہلا اور بنیادی ترین منشور ہے

    والدین کے مقام کو قُرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کی توحید و یکتائی اور ربوبیت کے فوراً بعد بیان کرنا ان کے مقام و مرتبہ کی بلندی کا عکاس ہے اور یہ بات یعنی توحید کے فوراً بعد والدین کے ساتھ بھلائی کو قُرآن میں مزید تین بار دہرایا ہے سُورۃ النساء آیت 36؛ سُورۃ بنی اسرائیل آیت 23 اور سُورۃ لَقمان آیت 14 میں ؛ والدین کی خدمت ، ایثار و جانثاری کو قُرآن نے کائنات کی سب سے بڑی قُربانی و نیکی فرمایا ہے، یہ اپنی جگہ ایک مکمل موضوع ہے جس پر بے شمار کتابیں لکھی جا چکی ہیں، اور جتنا میں نے دیکھا ہے اور کمزور ترین جانکاری کے اقرار کے ساتھ قُرآن مجید میں کم از کم 14 آیات میں اولاد کے لیے والدین کی خدمت؛ عزت؛ فرمانبرداری کے واضح احکامات موجود ہیں؛

    وَلَا تَقْتُلُوْا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ ط نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِيَّاھُمْ ط

    اور مُفلسی کے خوف سے اپنی اولادوں کو نہ مار ڈالنا، ہم ہیں جو اُنہیں بھی اور تمہیں بھی رزق دیتے ہیں،

    اولاد کو والدین کے ساتھ بھلائی کا حکم دینے کے بعد والدین کو مخاطب کرتے ہوئے حکمِ ربّی ہو رہا ہے کہ دیکھو رزق کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو ، تمہارا بھی اور تمہاری اولاد کا بھی رازق اللہ ہی ہے، اسلام سے قبل زمانہءِ جاہلیت میں لوگ اپنی اولادوں خصوصاً بیٹیوں کو قتل کر دیا کرتے تھے، وہ زمانہ سائنسی وسائل نہیں رکھتا تھا اس لیے پیدائش کے بعد قتل کیا جاتا تھا اور آج کا جدید انسان سائنسی ترقی کے ذریعے پہلے سے جان لیتا ہے اور اسقاط کے ذریعے ایسے کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے، قُرآن اولاد کے ساتھ مہر و محبت، شفقت اور حُسنِ سلوک کا حکم دیتا ہے،

    وَلَا تَقْرَبُواالْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْھَا وَمَا بَطَنَ ج

    اور بدکاریوں کے قریب بھی مت جاؤ خواہ وہ ظاہر ہوں یا چھپ کر؛

    لفظِ فواحش اپنے اندر وسیع تر معانی رکھتا ہے مثلاً جھوٹ، عہد شکنی، وغیرہ ، لیکن اگر وسیع تر معانی کو سمیٹنا ہو تو ہم (جنسی اعمال میں بے راہ روی) کہہ سکتے ہیں جنسی میلانات انسانی جَبِلَّت میں موجود ہیں، اور انسان بہرصُورت ایک معاشرتی حیوان ہے  لہٰذا معاشرے کے تحفظ کے لئے لازم ہے کہ جنسی فواحش کو قابو میں رکھا جائے قُرآنِ مجید میں عورت اور مرد کے خلافِ شرع جنسی اختلاط کو فاحشہ کہا گیا ؛ قومِ لوط کے عمل کو فاحشہ کہا گیا؛ پاک دامن عورتوں پر الزام کو فاحشہ کہا گیا، مختصر یہ کہ لفظِ فاحشہ قُرآن میں 13 مرتبہ اور فواحش 4 مرتبہ استعمال ہوا ہے اور چونکہ اس سے بے شمار مفاسد پیدا ہوتے ہیں، معاشرہ عدم تحفظ کا شکار ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر عفت و حیاء اور پاکدامنی کے خاتمے کا سبب بنتا ہے،

    وَلَا تَقْتُلُواالْنَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللهُ بِالْحَقِّ ط ذٰلِكُمْ وَصّٰكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ *

    جس انسان کو اللہ نے محترم قرار دیا ہے اُسے ناحق قتل نہ کرو  یہ وہ باتیں ہیں جن پر عمل کا اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تا کہ تم سمجھو  !

    قُرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو سب مخلوقات سے جُدا، اعلیٰ و ارفع مقام سے نوازا ہے، قُرآن نے انسان کو اللہ کا خلیفہ و جانشین قرار دیا  جو امامت کا بار اُٹھانے کی صلاحیت رکھتا ہے، انسان اللہ تعالیٰ کا متعلم اور فرشتوں کا معلم قرار پایا، خُشکی اور دریاؤں کو مسخر کرنے والا اور سب سے بڑھ کر احسنِ تقویم  پیدا کیا گیا ، یہی وجہ ہے کہ اس قدر مثبت مقام و اقدار کی بنیاد پر اس کا خون، جان و مال اور عزت و آبرو یہاں تک کہ میت کو بھی محترم قرار دیا گیا ہے، قُرآن نفسِ انسانی کے احترام کو ذہنوں میں راسخ کرنے کے لیے اس ذکر کو مختلف انداز اور الفاظ سے بار بار دہراتا ہے، مختلف سزاؤں کے تعین اور آخرت کی جزاء و سزا کے بیان سے انسانی معاشرے کا امن اور قتل و خون ریزی سے روکنا مقصود ہے،

    یہاں سُورۃُ الانعام کی آیت 151 کا اختتام ہو رہا ہے اور اللہ رَبُّ العِزَّت اس آیت میں بیان شدہ پانچ 5 نکات کو اپنی وصیت/حکم قرار دے کر انسان کو عمومی طور پر غور و فکر کی دعوت دے رہا ہے ، اگلی نشست میں ان شآء اللہ قُرآنی منشور کےاگلے پانچ نکات پر گفتگو ہو گی

    جاری …

  • ہم مسلمانوں کے ٹھیکیدار ہیں ؟

    ہم مسلمانوں کے ٹھیکیدار ہیں ؟

    تحریر :سیدزادہ سخاوت بخاری 
    اس موضوع پر لکھنا آسان نہیں ، اس لئے کہ جہالت ، ذاتی اور گروہی مفاد پر مبنی سیاست اور مولویت نے پاکستان میں کینسر کے مرض کی طرح پنجے گاڑھ رکھے ہیں ۔ حالت بہ ایں جا رسید کہ ایک مخصوص اور پیشہ ور ٹولے کے علاوہ کسی دوسرے کو اس وادی میں قدم رکھنے کی اجازت نہیں بلکہ اگر کوئی ان سے رتی برابر اختلاف کرے تو فورا کفر اور غداری کے فتوے جاری ہوجاتے ہیں ۔ بیشمار محب وطن سیاسی کارکن ، علماء اور صلحاء ، سیاسی سوجھ بوجھ اور علمی و تبلیغی استطاعت رکھنے کے باوجود ، جہالت مافیاء کے خوف سے  خاموشی کو ترجیع دینے پر مجبور ہوئے یا ملک چھوڑ کر کہیں اور جا بسے ہیں ۔ 
    میں ، عالم ہوں نہ مولوی اور نہ ہی سیاست دان ۔  مجھے کسی فقہی یا شرعی مسئلے پر بات کرنی ہے اور نہ وعظ و نصیحت  بلکہ ایک عام پاکستانی شھری کی حیثیت سے جو دیکھ رہا ہوں ، محسوس کررہا ہوں ،

    معاشرے کی اس حالت اور سوچ پر اپنی رائے کا اظھار کرنا چاھتا ہوں ۔ 
    اس سے پہلے کہ بات کو آگے بڑھاوں ، اس قومی دکھ اور کرب کا برملا اظھار کردینا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ اسلام کے نام پر ، اللہ کے نام پر ، رسول اللہ ص کے نام پر حاصل کئے جانیوالے ملک کے ساتھ جو کھلواڑ ، بحیثیت مجموعی ہم سب نے اور بطور خاص نام نہاد ، مفاد پرست ، جھوٹے سیاست دانوں اور ان پڑھ اور مفتن ملاوں نے کیا ، اس کا نتیجہ آج ہم سب کے سامنے ہے ۔ 
    میری باتیں تلخ ضرور ہونگی لیکن اگر آپ نے ٹھنڈے دل و دماغ سے ،  گروہی و مسلکی عینکیں اتار کر ان پر غور کیا تو کوئی نقطہ آپ کو غلط نظر نہیں آئیگا اور حقیقت حال واضع ہوجائیگی ۔ 
    آپ کوئی بھی ٹی وی چینل آن کریں ، کوئی سا بھی اخبار یا رسالہ اٹھا کر پڑھیں ، کسی بندے سے گفتگو کریں ، ایسا محسوس ہوگا کہ پاکستان میں تو سب اولیاء بستے ہیں بلکہ یہی تو انبیاء کرام کی سرزمین ہے ۔ صبح شام ، اٹھتے بیٹھتے ، اسلام ، اسلام  اور اسلام کی گردان سننے کو ملیگی ۔ جس آبادی ، گاوں ، قصبے یا شھر میں چلے جائیں ،  خوبصورت مسجدیں اور ان کے 100 سو فٹ بلند مینار نظر آئینگے ۔ آذان کا وقت ہو تو لاوڈ اسپیکروں کا شور زلزلہ پیدا کردیتا ہے ۔ مذھبی تقریبات کی بھرمار ، جس طرف دیکھو پیر فقیر ، باوے اور  ڈھونگی اپنی اپنی دوکانیں چمکائے بیٹھے ہیں لیکن معاشرہ اخلاقی طور پر اندر سے اتنا کھوکھلا ہوچکا ہے کہ ، 
    دودھ ، دہی ، گھی ، مصالحہ جات اور ادویہ سمیت کوئی بھی چیز خالص دستیاب نہیں ۔ ہر شے میں ملاوٹ ۔ 
    آٹا ، چینی اور سبزیاں تک غائب کردی جاتی ہیں اور عوام کو ان اشیاء کی عدم دستیابی یا بڑھی ہوئی قیمتوں کے خلاف جلوس نکالنے پڑتے ہیں ۔ 
    قصابوں کے ھاں بکنے والے گوشت ، (بالخصوص بڑے شھروں میں )  کے بارے میں یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ یہ حلال ہے یا حرام ۔ گدھے کا ہے یا کتے ذبح کئے گئے ہیں ۔ مرغیاں زندہ ذبح کرکے بیچی جارہی ہیں یا بیماری سے مرجانیوالے پرندوں کا گوشت بیچا جارہا ہے ۔ 
    ڈاکٹری جیسے مقدس اور محترم پیشے کی دکانیں قطار اندر قطار نظر آئینگی لیکن اندر قصائی اور دولت کے پجاری بیٹھے ملینگے جن کا مقصد دکھی انسانیت کی خدمت نہیں بلکہ بنگلے ، زمینیں اور مارکیٹیں کھڑی کرنا ہے ۔ 
    آپ کسی کنسٹرکشن ٹھیکیدار یا راج مستری کو ایک مرتبہ گھر میں آنے دیں پھر دیکھیں وہ آپ کی کیا درگت بناتا ہے ۔ 
    پورے ملک میں رشوت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوسکتا ۔ تھانیدار اور پٹواری تو ویسے ہی بدنام ہیں ۔ آپ سوئی گیس ، بجلی ، پانی اور ٹیلیفون کا کنکشن تک بغیر جیب گرم کئے حاصل نہیں کرسکتے ۔ 
    چوری ، ڈاکے ، اسٹریٹ کرائم ، زنا ،  معصوم بچوں اور نہتی خواتین کے ساتھ جنسی زیادتیاں اور اغواء جیسے جرائم کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔
    منشیات ، ناجائز اسلحہ ، اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی جیسے گھناونے کاروبار کل بھی جاری تھے آج بھی جاری ہیں ۔ 
    آذادی اظھار رائے کے نام پر درجنوں ٹی وی چینلز اور اخبارات ، جھوٹ اور افواہ سازی کی فیکٹریاں نہیں تو اور کیا ہیں ۔ پنجابی میں کہتے ہیں ” پیسہ ڈال تے بہہ جا نال ” ، جو خبر نشر کرانی ہو ، جس قسم کا بھی پروپیگنڈہ کرانا مقصود ہو ، پیسے کے زور پر ممکن ہے ۔ 
    معاشرے کی مکمل تصویر کشی کروں تو کتاب بن جائے ۔ آخر اس کا ذمہ دار کون ؟ اگر کسی کی اولاد بگڑ جائے تو کہتے ہیں ، ماں باپ نے تربیت اچھی نہیں کی ۔ بتائیے اس سارے معاشرتی بگاڑ کا ذمہ دار کون ہے ؟  ظاھر سی بات ہے جنہوں نے اس سوسائیٹی کو پروان چڑھایا ۔ سیاسی بگاڑ کے ذمہ دار سیاستدان اور مذھبی و اخلاقی اقدار کی پستی کے ذمہ دار وہ سب ، جو منبروں ہر بیٹھ کر فرقہ واریت ، توھمات ، شرک اور بدعت کی تعلیم دیتے رہے ۔ جنھوں نے بھائی کو بھائی سے لڑایا ۔ 
    مجھے حیرت ہوتی ہے جب یہ کہتے ہیں ، پاکستان اسلام کا قلعہ ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان بنا تو اسلام کے نام پر تھا مگر اب یہ سیاستدانوں اور مولویوں کا قلعہ ہے جہاں عام آدمی ایک قیدی کی طرح زندگی گزار رہا ہے ۔ اگر میں غلط کہ رہا ہوں تو آپ اپنے علاقے کے کسی سیاست دان یا مولوی کے خلاف آواز اٹھاکر دیکھیں ، لگ پتہ جائیگا ۔ 
    آپ اس معاشرے کی ذھنی پستی کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ یہاں ، چوروں ، ڈاکووں ، لٹیروں اور نوسربازوں کے حق میں جلوس نکلتے ہیں ، جلسے ہوتے ہیں ، ٹاک شوز میں سرعام ان کے غلیظ کرتوتوں کا دفاع کیا جاتا ہے ۔ اخبارات اپنی شہ سرخیوں میں انہیں ھیرو بناکر پیش کرتے ہیں ۔ اس کے باوجود ہم اس خوش فہمی میں مبتلاء ہیں کہ چونکہ پاکستان اسلام کے نام پر اور 27 رمضان کو وجود میں آیا تھا لھذا گھبرانے کی کوئی بات نہیں ۔ 

    سیّدزادہ سخاوت بخاری
    ،سیّدزادہ سخاوت بخاری سرپرست اعلی


    قارئین 
    اس لمبی چوڑی تمہید کا مقصد یہ باور کرانا تھا کہ ہم کتنے اچھے مسلمان ہیں ۔ خدا اور رسول ص کے احکامات پر کس حد تک عمل کرتے ہیں ۔ کیا ہم نے وہ مقاصد حاصل کرلئے ہیں کہ جن کی خاطر لاکھوں جانوں کی قربانی دیکر یہ ملک حاصل کیا تھا ۔ اگر جواب ھاں میں ہے ۔  آپ ایک کامیاب ، مضبوط اور طاقتور قوم بن چکے ہیں تو ،  ضرور بندوقیں اٹھاکر دنیاء بھر کے مسلمانوں کی مدد کے لئے نکل کھڑے ہوں ۔ کفار کو چیلینج کریں لیکن اگر 73 برس بعد بھی کشکول ھاتھ میں ہے ۔ قرضوں کے انبار تلے دبے ہیں ۔ سوئی گیس ، بجلی ، آٹا اور چینی کے حصول کے لئے جلوس نکالنے پڑ رہے ہیں ۔ روزی روٹی کی تلاش کے لئے در بہ در ٹھوکریں کھارہے ہیں تو عزت اسی بات میں ہے کہ پہلے اپنے گھر کو سنواریں ، اپنے پاوں پر کھڑے ہوں اور اس کے بعد اس بات پر غور کریں کہ عالم اسلام میں کیا ہورہا ہے ۔ کس کس نے اسرائیل کو تسلیم کیا اور کیوں کیا ۔ پنجابی زبان کا ایک اور محاورہ یاد آگیا ، کہتے ہیں ، ” آپ نہ جوگی تے گوانڈ ولاوے "یعنی اپنے لئے گھر میں ہے کچھ نہیں اور گوانڈیوں کی مدد کرنا چاھتی ہے ۔ 
    آخر میں اس بات کی وضاحت کردوں کہ میں اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حق میں نہیں لیکن اگر کوئی دوسرا ملک اسے تسلیم کرتا ہے تو یہ ان کا داخلی معاملہ ہے ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہونی چاھئیے اور بلاوجہ ان پر تنقید کرکے باھمی تعلقات نہیں بگاڑنے چاھئیں ۔ یہاں یہ بات بھی نوٹ کرلیں کہ امہ یا امت مسلمہ کی اصطلاح  کتابوں اور شاعری کی حد تک درست ہے ۔ اس سے آگے یا پیچھے کچھ بھی نہیں لھذا اس چکر سے باھر آکر پاکستانی معاشرے کی اصلاح و ترقی اور توانائی کا علم اٹھائیں ۔ ہمیں سب سے پہلے اپنی فکر کرنی چاھئیے کیونکہ ہم سارے مسلمانوں کے ٹھیکیدار نہیں ۔ 

  • انداز بدلے گئے

    انداز بدلے گئے

    بچپن سے ابتک یہی دیکھتا آیا کہ کھانا چائے وغیرہ ہاتھوں سے ہی بنتی ہے اور بنائی جاتی ہے۔ معلوم تاریخ سے بھی یہی شواہد ملے کہ ہر دور میں یہ کام ہاتھوں سے ہی ہوتے رہے۔
    ٹی وی دیکھنے کا موقع کم کم ہی ملتا ہے۔ لیکن چند ڈراموں کی جھلک دیکھنے کے بعد ایک الجھن سی ہے کہ شاید ہاتھوں کے استعمال کے بغیر بھی ایسا ممکن ہے۔ وگرنہ آج کا ڈرامہ نویس اتنی وضاحت سے یہ نہ لکھ رہا ہوتا ‘ یہ چائے میں نے اپنے ہاتھوں سے بنائی، آج میں کھانا اپنے ہاتھوں سے بناؤنگی، تم اپنے ہاتھوں سے چائے بنا دو’ وغیرہ۔ گویا یہ کہنا کافی نہ تھا کہ آج کھانا میں نے خود بنایا، تم خود مجھے چائے بنا دو۔ اگر یوں لفظ لفظ دورانیےکو طول دیا جاتا رہا تو کل یہ بھی لکھا جائیگا۔
    آج کھانا میں نے اپنے دانتوں سے چبایا
    پانی اپنے منہ سے پیا۔ خُوشبواپنی ناک سے سونگھی۔ وغیرہ و غیرھا. . . .

    مخدوم آغا سیّد جہانگیر علی نقوی البخاری

  • وجود کیا حباب کا

    وجود کیا حباب کا

    سخن کے دھنک رنگ جب اہل قلم بُنتے ہیں تو دل و نگاہ کی دنیا کو تیرہ نہیں رہنے دیتے بلکہ ایک بے کراں نور سے آشنا کر دیتے ہیں جو دلوں کو اک نئی فرحت اور ضیا بخشتے ہیں خدا نے جس کو سخن کی دولت سے نوازا ہے وہ بندہ مرتا نہیں بلکہ دلوں میں زندہ رہتا ہے گویا زندگی کا دوام سخن کے نایاب گوہر سے جنم لیتا ہے ۔حضرت علی مولا کرم اللہ وجہہ نے فرمایا تھا کہ ” گفتگو کرو تا کہ تم پہچانے جاؤ”

    کتاب زیست میں ہزاروں ادیب لکھنے کے لیے آئے اور اپنی پہچان بنا کر چلے گئے جس کی وجہ سے وہ اب تک دلوں میں زندہ اور راج کر رہے ہیں ہر تحریر  منبر سے ہونے والی تقریر میں ضیا کے موتی بکھیرتی نظر آتی ہے۔

    وجود کیا حباب کا از مشبر حسین سید

    سوشل میڈیا پر ایک دن میری نظر ایک کتاب”وجود کیا حباب کا”  کے ٹائیٹل پر پڑی تو میں نے اس پر فورا کومنٹ کیا کہ یہ کتاب کہاں سے ملے گی شاہ صاحب نے جواب دیا کہ اپنا ایڈریس انباکس کریں تو کتاب آپ کو مل جائے گی میں نے اپنا ایڈریس اور فون نمبر انباکس کیا تو دوسرے دن میرے آفس کے باہر محبتوں اور شفقتوں کی پیکر شخصیت پروفیسر مشبر حسین سید موجود تھے میں کتاب اور مصنف باہم دیکھ کر حیران رہ گیا وہ دن اور آج کا دن ملاقات ہوتی رہتی ہے انتہائی مہربان، مہمان نواز، نرم خو اور گرم دم جستجو مشبر حسین سید ہمیشہ اپنی محبتوں میں یاد رکھتے ہیں۔ میں کتاب کو پڑھتا گیا اور ایک نہ ختم ہونے والی طمانیت سے آشنا ہوتا گیا

    کتاب کا ٹائیٹل الفاظ کے بے تاج بادشاہ صدارتی ایوارڈ یافتہ سید شاکر القادری کی تخلیق ہے مشبر حسین سید کا لکھا ہر لفظ ان کی فکری نظافت اور بالیدگی ء فکر کا آئینہ دار ہے وہ الفاظ کی صوتی ترنم سے کماحقہ آشنا ہیں میرے لیے اشعار کا چناو خاصا مشکل ہو گیا کیونکہ جن اشعار پر میں تبصرہ کرنا چاہتا ہوں وہ بہت زیادہ ہیں بلکہ ساری کتاب ہی تبصرے کے قابل ہے آیئے ان کے سخن کی فکری عفت پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں :۔

    جدا صدمے جدا ہیں غم مسافر

    مگر آنکھیں سبھی پر نم مسافر

    لہو کی بوند کانٹوں کی زبان پر

    گلوں کی آنکھ میں شبنم مسافر

    اگر شعر فکر رسا کے حسیاتی دھنک رنگوں میں رنگے ہوئے ہوں تو کس کو اچھے نہیں لگتے روداد غم پرانی ہو تو درد سہنے کی عادت ہو جاتی ہے لیکن شاہ صاحب ایسی حالت میں بھی اپنے مقدر کے تارے تلاش کرتے ہیں:۔

    خبریں وہی دردوغم کی پرانی

    گو زیست کے ہم ہیں تازہ شمارے

    دل کے نگر میں اندھیرا بہت ہے

    جانے کہاں ہیں؟ مرے چاند تارے

    راہ شوق میں آشفتگی جزبے کی صداقت کا مظہر ہے کانٹے اور دھول راہ شوق میں چارسو بکھرے ہوتے ہیں لیکن جستجو کا عالم رکنے نہیں دیتا مشبر صاحب نے ان کو روند کر منزل کو دیکھا تو سارے در بند دیکھے لیکن دل میں یہ بھی کہا کہ اگر میرے لیے در بند ہیں تو کوئی اور آشفتہ سر راہ شوق میں سرگرداں ہو جائے جسے منزل خوش آمدید کہے جس کا اظہار یوں کرتے ہیں:۔

    الیاسؑ کہیں ملے’ نہ کہیں پر خضرؑ ملے

    مجھ کو تو جستجو کے سبھی بند در ملے

    کوئی تو بڑھتے قدموں کی ہو دھول سے اٹا

    کوئی تو راہ شوق میں آشفتہ سر ملے

    مادیت پرستی کے دور میں غرور اور تکبر نسلیں بگاڑ رہا ہے آپ تکبر کرنے والے سے یوں مخاطب ہوتے ہیں:۔

    اتنا مت اترا کے چل یہ دیکھ لے

    تو گرے گا منہ کے بل یہ دیکھ لے

    خواب بھی تو دیکھ پائے گا نہ پھر

    آنے والی ہے وہ کل یہ دیکھ لے

    سیرت نبویؐ سے دوری موجودہ نسل کا ایک بہت بڑا روگ ہے موجودہ معاشرے میں بڑوں کا احترام ،بھائی چارہ اور برداشت کے سبھی در بند نظر آتے ہیں ایسے حالات میں خون سفید ہو گیا ہے جس کا عملی نمونہ جائیداد کی تقسیم میں دیکھا گیا ہے مشبر صاحب نے ان اشعار میں ماں کی دعا اور مکان کو ٹکڑوں میں منقسم ہوتے ہوئے منظر کو اتنی خوبصورتی سے قلم بند کیا ہے کہ معاشرے کی بے حسی پر دل کے ساتھ قلم بھی روتا ہے:۔

    کیوں نہیں برداشت ہم میں اب رہی

    کیوں ہمارے لفظ تیکھے ہو گئے

    ماں نے بیٹو ں کو دعا رو رو کے دی

    جب مکاں کے چار ٹکڑے ہو گئے

    مشبر حسین سید تصوف کے آدمی ہیں آپ جانتے ہیں کہ انسان کی صورت میں کون ہے تلاش خودی میں سرگرداں ہر مسافر جب اپنا بھید پا لیتا ہے تو اسے رب مل جاتا ہے اس خوبصورت احساس کو شعر کے رنگ میں یوں تراشتے ہیں :۔

    اپنی خبر ہے مجھ کو نہ اپنا ہے ہوش کچھ

    چپکے سے کون یہ  مرے اندر اتر گیا

    خودی کی تلاش میں شب خیزیاں انسان کو معراج سے ہمکنار کرتی ہیں لیکن تدبر کون کرے روحوں پر چھا جانے والی سوچ کہاں سے آئے انسان کی بے بسی کے تار چھیڑ کر اسے یہ باور کراتے ہیں کہ تیرا چہرہ اسم اعظم "اللہ” سے منور تو ہے لیکن دل کی حالت بت پرستی میں بری طرح جکڑی ہوئی ہے تجھے اپنی سمجھ کیسے آئے اگر خود شناسی چاہتا ہے تو دل کے مندر کو مسجد بنا تو معراج دور نہیں ہے سہل ممتنع میں اتنی بڑی بات کو کس سادگی سے قاری کی روح میں اتارتے ہیں ملاحظہ کیجیئے:۔

    گہری نیندیں تان کے جب سو جاتے ہیں

    میں پلکوں پر بھاری رات لیے پھرتا ہوں

    چہرے پر تو  رونق اسم اعظم کی ہے

    دل میں لیکن لات و منات لیے پھرتا ہوں

    یہاں شاہ صاحب لفظ کاری کو اعجاز کہہ کر لفظوں کی اہمیت تسلیم کر کے  رب سے مناجات کرتے ہیں جس میں اٹک کی محبت بھی یوں چھلکتی ہے:۔

    لفظ کاری کا سلیقہ دے مجھے

    مجھ کو بھی تو کچھ عطا اعجاز ہو

    ہر جگہ تو ساتھ رہتا ہے مرے

    شہر اٹک ہو یا کہ وہ شیراز ہو

    آخر میں دعاگو ہوں کہ مشبر حسین سید کا قلم یوں ہی رواں دواں رہے اور وہ اپنی فکری عفت اور ندرت سے اردو ادب سیراب کرتے رہیں

    سید حبدار قائم آف اٹک

    13 جولائی 2020ء

    حبدار قائم
    حبدار قائم
  • کیمبل پور سے اٹک تک -1

    تحریر:

    سیدزادہ سخاوت بخاری

    سنہ 1857 کی جنگ آزادی کے وقت سر کولن کیمپبل ( Sir Colin Campbell) برطانوی افواج کے سربراہ تھے ، ان ہی کی سوچ اور منصوبے کے مطابق ، ھندوستان کے شمال مغربی سرحدی علاقے یعنی موجودہ خیبر پختونخواہ سے اٹھنے والی شورشوں اور اس علاقے میں برطانوی مفادات کے تحفظ کے لئے ، تاریخی مقام اٹک اور دریائے اٹک ( سندھ) سے کچھ فاصلے پر ایک فوجی چھاونی قائم کی گئی ، جسے آج ہم آرٹلری سینٹر اور اس کی ملحقات کے نام سے جانتے ہیں ۔ چونکہ اس علاقے میں یہ ایک اہم آبادی تھی لھذا لینڈ مارک (ؒLand Mark)یا شناخت کی حیثیت اختیار کرگئی اور ہمارے بچپن تک ، ہم سے پہلی نسل کے افراد ( بزرگ ) کیمبل پور کو فقط ” چھاونی ” یا چھونڑیں کے نام سے پکارتے تھے ۔

    یہ بات یاد رکھیں کہ چھاونی بہت پہلے قائم ہوئی اور پھر 1908 کے لگ بھگ جانب مغرب ، ایک شھر کی بنیاد رکھی گئی ، جسے برطانوی فوجی کمانڈر سر کولن کیمبل کے نام کی مناسبت سے کیمبل پور کا نام دیا گیا ۔

    اس شھر کے نقشہ نویس Architect کا علم نہیں ، لیکن ، میں اسے داد دئے بغیر نہیں رہ سکتا ۔ جیومیٹری کی مدد سے سیدھی اور کشادہ گلیاں ، چھوٹے چھوٹے وارڈز ( محلے)، ہروارڈ کے بیچوں بیچ ایک کشادہ چوک اور اس کے عین وسط میں پانی کا کنواں ، یہی چوک اس زمانے میں مختلف سماجی تقریبات کے لئے استعمال ہوتے تھے ۔

    سیدزادہ سخاوت بخاری
    سیّدزادہ سخاوت بخاری – سرپرست اعلی، اٹک ویب میگزین

    1970 میں ، بحیثیت طالب علم سال چہارم ، گورنمنٹ کالج کیمبل پور ، میرا ایک مضمون ، کالج کے مجلہ ” مشعل ” میں چھپا ، جس کا عنوان تھا ” کیمبل پور کا جغرافیہ ” ، یہ عنوان میں نے ، استاد محترم پروفیسر محمد انور جلال صاحب کی مشاورت سے ، پطرس بخاری کے مضمون

    ” لاھور کا جغرافیہ ” سے متاثر ہوکر منتخب کیا۔ چونکہ کیمبل پور اس وقت تک اپنی اصلی عمرانی حالت میں موجود تھا لھذا شھر اور گردونواع کی حقیقی تصویر میرے اس مضمون میں دیکھی جاسکتی ہے ۔

    شھر کی گلیوں کو اس وقت کے معروف خشت ساز ، جوالا رام سنگھ، آف جسیاں ، کے بھٹے کی اینٹوں سے پختہ کیا گیا ۔ میں نے اپنے مضمون میں طنزا لکھا تھا کہ بلدیہ والے ، گلیوں کی مرمت کے نام پہ اینٹوں کی کروٹ بدل دیتے ہیں یعنی جب اینٹ گھس جاتی ہے تو سال دو سال بعد اسی کو الٹ کر لگادیتے ہیں۔ اگرچہ ہمارا بچپن ، ٹانگہ ، ریڑھہ ، اونٹ گاڑی ، بیل گاڑی اور سائیکل کا زمانہ تھا ، موٹر کار اور موٹر سائیکل خال خال نظر آتی تھی ، ٹریکٹر ٹرالی ، سوذوکی ، ویگن اور چنچی کا جنم نہیں ہوا تھا پھر بھی ، شھر کا نقشہ بنانے والوں نے حادثات کی روک تھام کے لئے ، گلیوں کو یکطرفہ ٹریفک کے لئے ڈیزائن کیا ، ہر گلی کی ایک سمت پہ قریبی پہاڑیوں سے پتھر تراش کر چھوٹے چھوٹے ستونوں کی شکل میں گاڑ دئے گئے تاکہ پیدل افراد تو گزر سکیں لیکن کسی سواری کا گزر نہ ہوسکے ۔

    پلیڈر لائن سے شروع ہونے والا شھر چھوئی روڈ پہ ختم ہوجاتا تھا ۔ چھوٹا سا شھر ، کم کم آبادی ، صاف ستھرا اور پرامن ماحول ، شروع سے آخر تک ایک ہی بازار جسے انگریز سول بازار کا نام دے گئے تھے ، سر شام بند ہوجاتا تھا۔ لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے ایک ایک ھائی اسکول ، ایک گورنمنٹ کالج جہاں ہمارے دور تک مخلوط تعلیم تھی ۔ چند پرائمری اسکول اور جہاں اب لڑکیوں کا کالج ہے کامل پور سیداں کے پاس ، یہ شھر کا پہلا سرکاری ھسپتال تھا ۔ موجودہ ڈسٹرکٹ ھیڈ کوارٹرز ھسپتال ہمارے بچپن میں تعمیر ہوا ۔

    کھیلوں کے لئے ایک وسیع میدان ” کرشنا گراونڈ ” کے نام سے موجود تھا ، جسے اب لالہ زار یا کسی اور نام سے پکارا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ گورنمنٹ ھائی اسکول ( موجودہ پائیلٹ ) ، گورنمنٹ کالج کا گراونڈ اور ایک قیدی گراونڈ تھا جہاں آجکل لاری اڈے کے قریب جوڈیشیل کمپلیکس اور ٹیلیفون ایکسچینج ہے ۔ سیرو تفریح کے لئے ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام پہ کمپنی باغ تھا ( موجودہ جناح پارک ) متصل ڈپٹی کمشنر ھاوس ۔

    چھوئی روڈ کے جنوب میں شھر کا پہلا بجلی گھر تعمیر کیا گیا ، ہم نے ہوش سنبھالی تو یہ ادارہ سردار ممتاذ علی خان کی ملکیت میں تھا ، پرانے شھر کے علاوہ بجلی کی ترسیل کہیں نہ تھی لھذا ہم امین آباد اور ملحقہ آبادیوں کے مکینوں کا لڑکپن لالٹین کی روشنی میں پروان چڑھا ۔ میرا ایک ہم جماعت

    محمد زمان قریشی سکنہ گل آباد حاجی شاہ ، جو آجکل اٹک کے نامور وکیل ہیں ، اور میں جب بی اے کے امتحان کی تیاری کررہے تھے توایک مشترکہ لالٹین جلاکر آس پاس بیٹھ جاتے اور رات بھر پڑھتے رہتے ۔

    ہمارے محلے امین آباد کے قریب ویرانے میں محلہ شاہ آباد کی حدود میں ھندووں کا شمشان گھاٹ تھا ، جہاں شھر کے آخری ھندو وکیل لالہ فقیر چند کا کریا کرم کیا گیا ۔

    مجھے یاد ہے لالہ فقیرچند ایڈووکیٹ نابینا تھے ۔ بار روم کے برآمدے میں ایک ستون کے قریب ھندو پگڑی باندھ کر بیٹھے نظر آتے ، ان کا منشی انہیں اخبار پڑھ کر سناتا اور وہ چپ چاپ سنتے رھتے ۔

    اخبار سے یاد آیا ، خزینہء علم و ادب ، کچہری روڈ پر اخبارات ، رسائل اور کتابوں کا مرکز تھا ۔ اس زمانے کے اخبار ، کوھستان ، امروز ، نوائے وقت اور تعمیر نمایاں تھے ، بعد میں جنگ اور مشرق اس قافلے میں شامل ہوگئے ۔ جو لوگ اخبار خرید کر نہیں پڑھ سکتے تھے ان کے لئے بلدیہ کی لائیبریری میں اخبار مہیاء کئے جاتے تھے ۔

    معروف ریستورانوں میں ماسٹر فضل دین کا ھمدرد ، یہ اٹک کا پاک ٹی ھاوس تھا جہاں شاعر اور ادیب جمع ہوتے تھے ، چوک کے اندر تاج اور حبیب معروف ریستوران تھے ۔

    (جاری ہے )

  • رُوٹھ جاؤں تو مناتا ہے وہی

    رُوٹھ جاؤں تو مناتا ہے وہی

    دیر ہونے پر خود آتا ہے وہی

    رُوٹھ جاؤں تو مناتا ہے وہی

    میری منزل کا نشان بھی خود ہے وہ

    میرے رَستے بھی بناتا ہے وہی

    دیر تک سونے نہیں دیتا کبھی

    وقت پر مجھ کو جگاتا ہے وہی

    ساری تعبیریں بھی اُس کے پاس

    خواب بھی سارے دکھاتا ہے وہی

    دوڑنےبھی وہ نہیں دیتا مجھکو

    گر پڑوں تو خود اُٹھاتا ہے وہی

    دن کو بن جاتا ہے بِینائی میری

    رات کو اندھا بناتا ہے وہی

    میری سوچوں پر اُسی کا راج ہے

    اپنی مرضی پر نچاتا ہے وہی

    میرے تو بس ہونٹ ہلتے ہیں اسٓد

    در حقیقت گیت گاتا ہے وہی

    کلام: عمران اسد

    عمران اسد
    عمران اسؔد پنڈیگھیب حال مقیم مسقط عمان

  • سیرت نہ ہو تو عارض و رُخسار سب غلط

    انسان کی قدر و منزلت عمل کے حُسن سے ہے , فرد ہو یا قوم , جس کی زندگی عمل کے سوز سے خالی ہو , وہ ایک لفظِ بے معنی ہے , ایک جسم ہے جو بے رُوح ہے …… ایک گُفتار ہے جو کردار کی قوت سے خالی ہے….  کردار و عمل کی خُوبی کے بغیر پُرشِکوہ الفاظ کی شان اور گُفتار کا حُسن بے معنی ہو کر رہ جاتا ہے ,

    عمل افراد اور قوموں کے اندر جوش اور ولولہ , آگے بڑھنے کا جذبہ اور لگن پیدا کرتا ہے , رواں دواں پانی تازہ رہتا ہے , ساکن پانی میں بدبو پیدا ہو جاتی ہے , عمل سیرت و کردار سے اُبھرتا اور نکھرتا ہے ,

                   جوشِ کردار سے کُھل جاتے ہیں تقدیر کے راز

    اور کردار کے لئے اللہ تعالیٰ نے راہنمائی کُچھ یُوں فرما دی ہے کہ

    لَقَد کَانَ لَکُم فِی رَسُولِ اللہِ اُسوَۃُُ حَسَنَۃُُ (الاحزاب ۲۱ )

    بے شک تمہارے لیئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں بہترین نمونہ ہے ,

    مَن یُّطِعِ الرَّسُولَ فَقَد اَطَاعَ اللہ ِ

    جس نے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کی پس بے شک اس نے اللہ کی اطاعت کی

    اللہ تعالیٰ واضح اور صریح الفاظ میں ارشاد فرما رہا ہے  کہ اگر تم کامیاب زندگی گزارنا چاہتے ہو تو ! دنیا اور آخرت کی کامیابی کے خواہشمند ہو تو ! اپنے پیارے نبی صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کے نقشِ قدم پر چلو ان کی کامل و اکمل زندگی کو اپنے لیئے نمونہ بناؤ ، اُسوہءِ حَسَنہ ہے کیا ؟

    اُسوہءِ حَسنہ خُلقِ عظیم ہے :: عفو و درگزر ہے :: پیار و محبت ہے. ، شفقت و مہربانی ہے  نہ صرف انسانوں سے حتیٰ کہ جانوروں سے بھی

    اُسوہءِحَسنہ استقامت و صبر و تحمل اور ایثار و قربانی ہے , ایفائے عہد ہے :: اخلاص و تقویٰ ہے :: عدل و انصاف و احسان ہے :: خشتِ اِلٰہی ہے

    اُسوہءِ حَسنہ تربیت و تبلیغ ہے :: امر بِالمعروف ہے :: نہی عن المنکر ہے :: نظم و ضبط اور قانون کا احترام ہے :: اتحادِ مِلّی ہے 

    اُسوہءِ حَسنہ امانت و دیانت ہے :: کسبِ حلال ہے :: حرام سے اجتناب ہے :: گھریلو اور معاشرتی زندگی میں راہنما ہے :: منافقت سے نفرت ہے :: عبادت و ریاضت ہے :: ریاکاری سے اجتناب ہے :: اور سب سے بڑھ کر فکرِ دنیا و آخرت  ہے

                            دعوت و تبلیغ کے لیئے جس بلند ترین اخلاق و شفقت کی ضرورت ہوتی ہے وہ سرکارِ رسالتمآب صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم میں اس حد تک موجود تھی کہ اللہ تعالیٰ کو سورۃ یٰسین میں  قُرآن کی قسم کھا کر کہنا پڑا کہ

    اِنَّکَ لَعلٰی خُلُقٍ عَظِیمٍ ہ بےشک آپ حُسنِ اخلاق کی اعلیٰ ترین منزل پر فائز ہیں ,

    اور کہا یہ جاتا ہے کہ علماء انبیاء کے وارث ہیں تو کیا وراثت میں سرکار کا اُسوہءِ حسنہ مکمل طور  پر نہیں لینا چاہیئے ؟ کیا آج ہمارے علماء اخلاقی نقطہءِ نظر سے وارث کہلانے کے حقدار ہیں ؟ ,

      28 رجب  , جب امام حسین علیہ السلام کو بیعت پر مجبور کیا جا رہا تھا, اور امامِ مظلوم اپنے بچوں , عورتوں , جوانوں , بوڑھوں غرضیکہ تمام خانوادہءِ رسالت کو لے کر اپنے نانا کے وطن مدینہ سے ہجرت پر مجبور کیئے جا رہے تھے تو کیا مدینہ بالخصوص اور عالمِ اسلام بالعموم علماء و عاشقانِ رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم سے بھرا ہوا نہ تھا ؟ اگر ایسا ہی ہے تو پھر ماننا پڑے گا کہ مسلمان 1400 سال سے کم ہی اسوہءِ رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم , پر کاربند رہے ہیں

    رحمتِ عالم صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کے عفوودرگزر کا عالم یہ تھا کہ ایک شخص قتل کا ارادہ لے کر آیا , مگر جب چہرہءِ اقدس پر نگاہ پڑی تو مرعوب ہو کر تلوار ہاتھ سے گر پڑی , آپ صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم ,نے آگے بڑھ کر تلوار اُٹھا لی , چاہتے تو قتل فرما سکتے تھے مگر کمال مہربانی سے معاف فرما دیا , اسی وقت اس شخص نے اسلام قبول کر لیا , اپنے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ, کے قاتل وحشی کو معاف فرما دیا اور اس نے اسلام قبول کر لیا , اللہ کے رسول ,ص, کے ذمہ ایک شخص کا قرض تھا , ایک دن آکر نہایت سخت الفاظ میں اپنے قرض کا مطالبہ کیا ,اور اپنی چادر آپ صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم, کی گردن مبارک میں ڈالی , صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم, آگے بڑھے مگر رحمتِ مجسم صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم نے روک دیا اور فرمایا اسے ایسا کرنے کا حق ہے , اس نبی کی امت ہو , عالم ہوں , عاشقانِ مصطفےٰ ہونے کے دعویدا ہوں , اسی نبی کی حُرمت کے نام پر وحشی اور درندے بن جائیں ؟ مجھے بتائیے نا کہ وہ عاشقانِ رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم, کیسے ہوئے  ؟, جس نبی کی نرمیِ طبیعت اور حُسنِ سلوک کی گواہی  اور تذکرے قُرآن جا بہ جا کرے اس کے وارث اور امتی اس قدر ظالم ہوں کہ انسانوں کو اللہ کے برحق اور سچے دین سے اپنے عمل کی وجہ سے متنفر کر رہے ہوں سورۃ آلِ عمران آیت 159 میں ارشادِ ربانی ہے کہ

    فَبِمَا رَحمَۃٍ مّنَ اللہِ لِنتَ لَھُم وَلَو کُنتَ فَظًا غَلِیظَ القَلبِ لاَنفَضُّوامِن حَولِکَ

    پس اللہ کی رحمت کے سبب سے آپ اُن کے لیئے نرم دل ہوئے , اور اگر آپ مزاج کے اکھڑ اور دل کے سخت ہوتے تو یہ لوگ آپ کے پاس سے منتشر ہو گئے ہوتے ,

    بدلہ نہ لینے والے رسول ,ص, عفو و درگزر کے عملی نمونہ نبی صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم, حُسنِ اخلاق کی اعلیٰ ترین منزل پر فائز رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وارث اور امتی کیا اپنے عمل سے لوگوں کو اسلام سے منتشر اور متنفر نہیں کر رہے ؟ , ذرا دیر کو رک کر ہمیں سوچنا ہو گا , ورنہ یہ جنت کا لالچ یہ حور و قصور کی ہوس کہیں ہمیں دین و دنیا میں تباہ و برباد نہ کر دے

    وَمَا اَرسَلنٰکَ اِلَّا رَحمَۃًلِلعَالَمِین کی امت آئیے  اپنے گھر کے لیے ، اپنے محلے ، شہر ، وطن اور پوری دنیا کے لیے سراپا محبت و رحمت بن جائیں ، تا کہ بہترین اُمت قرار پائیں ، وگرنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بروز محشر آقائے نامدار صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم ہمارے بارے میں ہی فرما رہے ہوں کہ

    وَقَالَ ٱلرَّسُولُ يَٰرَبِّ إِنَّ قَوْمِى ٱتَّخَذُوا۟ هَٰذَا ٱلْقُرْءَانَ مَهْجُورًا

    اور رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم فرمائیں گے کہ اے پالنے والے بےشک میری اُمت نے تو اس قُرآن کو چھوڑ ہی دیا تھا،

    از قلم : مُونِس رضا

    نوائے مونس
    نوائے مونس- مونس رضا صاحب کی تمام تحریریں

  • چھِلاں آلے پھَس گئے

    چھِلاں آلے پھَس گئے

    آٹا مہنگا، بجلی، گیس، سبزی ہبا کج ای مہنگا ہوگیا اے سُنڑا اے کیں اَسّاں نے نائیں تے قرضہ گِھن کے کھادا تے وَت نس گئے۔ سچے نسڑیں تو یاد آیا ہک واری انج ہویا ہکی گراں دو بھرا رہنے ہئے تے بہوں وَڈے کَن کُترے ایڈے تِیرے ہئے بئی گِرائیں نے خان نی پَٹیِاں چوں کھکھڑیاں چھُپا چھُپا آپ کھانے ہئے تے چھِلاں کدی ہکی گھرے اگے کدی دُوے اگے۔ خان ہوراں کیں آکھا؛ خان جی ! تُڈی کھکھڑیاں پئی چوری ہونیاں-ن ادھی پَٹی گھِن گئے نے۔ خان آں ڈاڈھی کوڑ چڑھی نوکراں نال گِھن کے نکلا گرائیں-چ۔ پَینیاں پَٹ اِی گودڑ کُبہارے نے گھرے اگے جے تکیِاں-س ناں چھِلاں تے نوکراں آکھاس “ نپ آنڑوں او اِس گودڑ آں ، یا پیسے دیسی یا وَت مینڈی پَٹیاں چ کم کَرسی “۔ گودڑ شوہدے بہوُں زاریاں کِیتیاں باقی گِرائیں آلیاں بی سمجھایا، بئی خان جی ! جِنہاں کَھکھڑیاں کھادیاں ہَیاں اُن گئے نے نس ای شوہدا چِھلاں توں پھس گیا نے۔ برَے خان کیں نی نہ سُنڑی تے گودڑ ہنڑ بی خان نا ہل پیا واہنا اے۔ اُس ویلے توں ای مثل مشہور ہوگئی جنڑے کَھکھڑیاں آلے نس گئے تے چھِلاں آلے پھس گئے۔

    تے گل ایجوں وے سنگیوں خان ہوراں دسو آ اَسی بی چھِلاں آلے آں نے ، کھکھڑیاں آلے گئے نے نس۔ اس واسے مہربانی کرو اساں غریباں تے کُج رحم چا کرو۔ ہاؤ

    آغابخاری کیمبلپوری بقلم خود

    اج مورخہ مگھرے نی 24 تریخ