اٹک جم خانہ ثقافت کا امیں
سید حبدار قائم
شہرِ اٹک کے جم خانہ میں منعقدہ کتاب میلہ اور ماں بولی مشاعرہ ایک ہمہ گیر ثقافتی اور ادبی جشن کی صورت اختیار کر گیا، جہاں علم، موسیقی اور روایت ایک ہی لڑی میں پروئے دکھائی دیے۔ اس روح پرور تقریب کی قیادت ڈپٹی کمشنر عاطف رضا نے اپنی ذاتی دلچسپی اور علم دوستی سے کی، جس نے اس میلے کو محض ایک سرکاری سرگرمی کے بجائے عوامی تہوار بنا دیا۔ ان کی سرپرستی میں نہ صرف ادبی محفلیں سجیں بلکہ باصلاحیت افراد میں اسناد بھی تقسیم کی گئیں، جس سے حوصلہ افزائی کا ایک روشن باب رقم ہوا۔
تقریب میں ڈی ای او اظہر کی شرکت نے تعلیمی حلقوں کی نمائندگی کو بھی جِلا بخشی۔ اکادمی ادبیات کیمبل پور کے زیرِ اہتمام منعقدہ اس میلے میں بچوں، نوجوانوں اور بزرگوں نے کتابوں میں غیر معمولی دلچسپی لی اور مصنفین سے ملاقات کر کے فکری آسودگی حاصل کی۔ اسٹیج کی نظامت راجہ زاہد اور مونس شاہ نے خوش اسلوبی سے انجام دی اور محفل کو رواں دواں رکھا۔
مشاعرے میں سعادت حسن آس، پروفیسر نصرت بخاری، سید حبدار قائم، حسین امجد، آنسہ مظہر اور معروف شاعر طاہر اسیر نے اپنے کلام سے داد سمیٹی، جبکہ معروف نعت خواں بلال شاہ کی آواز نے سماں باندھ دیا۔ شعرا کی باہمی ادبی گفتگو نے محفل کو فکری وقار عطا کیا۔
میلے کی رونق کو ڈھول کی تھاپ اور روایتی رقص نے چار چاند لگا دیے۔ عوام نے اس ثقافتی مظاہرے کو بے حد پسند کیا اور جوش و خروش دیدنی رہا۔ پھولوں کی نمائش، بچوں کے جھولے اور فوڈ گالہ اس امر کا ثبوت تھے کہ یہ تقریب ہر طبقۂ فکر اور ہر عمر کے لیے تھی۔
یوں جم خانہ اٹک میں سجا، یہ ادبی و ثقافتی میلہ علم، محبت اور روایت کا حسین امتزاج ثابت ہوا۔
میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے 1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |