Tag: کیمبل پور

ضلع اٹک کا اولین اور قدیم نام کیمبل پور تھا جو سر جان کیمپبل سے موسوم تھا۔

  • آہ !  سیّد قمر الدین بھی چل بسے 

    آہ !  سیّد قمر الدین بھی چل بسے 

    آہ !  سیّد قمر الدین بھی چل بسے 

    کیمبل پور اٹک میں معیاری صحافت کے امین ایک اور روشن ضمیر بزرگ صحافی سیّد قمر الدین طویل علالت کے باعث چل بسے۔ سیّد قمر الدین دو عشروں سے عارضہ قلب میں مبتلا تھے دو برس قبل بائی پاس کے عمل سے گزرنے کے بعد ان کی صحت مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی   سیّد قمر الدین زمانہ طالب علمی سے ہی علمی  ادبی و صحافتی سرگرمیوں میں پیش پیش رہے ان کی تحریریں مختلف اخبارات جرائد کا حصہ بنتی رہی 1976/77 میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے صحافت میں گولڈ میڈل لیا۔ آپ کا شمار لائق ترین طالب علموں میں رہا اور یونیورسٹی کے جرنلزم ڈیپارٹمنٹ نے آپ کو عبد المجید سالک ایوارڈ سے نوازا۔ 1978 میں روزنامہ نوائے وقت راولپنڈی میں بطور سب ایڈیٹر ذمہ داریاں ادا کرنے کا موقع ملا جہاں ایک سال تک آپ نے فرائض انجام دئیے وہاں سے بسلسلہ روزگار آپ بیرون ملک روانہ ہو گئے لیکن فری لانسر صحافی کے طور پر صحافت سے منسلک رہے اسی دوران جب کبھی وطن واپس آنا ہوا، آپ کا رابطہ اور محفلیں ادبی اور صحافتی حلقوں سے قائم رہا۔

     1983 میں وطن واپسی ہوئی اور اپنا کاروبار شروع کیا کچھ عرصہ کاروبار پر بھر پور توجہ دی اور پھر   1985 میں باقاعدہ طور پر روزنامہ نوائے وقت راولپنڈی کے لئیے اٹک سے بطور نامہ نگار مقرر ہووئے۔ بھر پور طریقہ سے صحافت کی مثبت اور تعمیری تنقید کے ذریعے معاشرے میں پیدا ہونے والی خرابیوں اور مسائل کے حل کے لئیے جہدو جہد کی سیّد قمر الدین ایک معیاری رپورٹنگ کے علمبردار تھے اپ علاقائی مسائل سیاسی صورتحال پر خصوصی طور پر ڈائریاں لکھتے جو نہایت جامع اور  معلوماتی ہونے کی وجہ سے قارئین کی دلچسپی کا باعث ہوتی تھیں۔

    آہ !  سیّد قمر الدین بھی چل بسے 
    سیّد قمر الدین

     پریس کلب اٹک کے روح رواں تھے متعدد بار پریس کلب کے تنظیمی عہدوں پر فائز رہے اٹک پریس کلب کے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ اہم  ملکی راہنماؤں کے انٹرویو بھی کیے   ۔ دی ایجوکیٹرز کلب اٹک کے پلیٹ فارم سے لائق اور پوزیشن ہولڈر طلبہ و طالبات کی اخبارات میں ان کی تصاویر کے ساتھ خبریں شائع کرواتے اور  مختلف اداروں کے تعاون کے ساتھ  اعزازی اسناد و شیلڈز سے نوازتے  اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے ۔

    سیّد قمر الدین اٹک کی صحافت کے اس قافلے کا حصہ تھے جس میں بانی چیئر مین  اٹک پریس کلب رجسٹرڈ منصب خان ، اسماعیل خان شہید ،  اکبر یوسف زئی، انوار فیروز،  سیّد تحسین ،حسین یحیی بٹ  ،رانا صادق ادیب، محمد اسرار قریشی  اور  ملک محمد سلیم جیسے کہنہ مشق صحافی شامل تھے جو  ساری زندگی  انتہائی ذمہ داری و دیانت داری سے اپنی صحافتی زمہ داریاں انجام دیتے رہے ہمیشہ حق کا ساتھ دیا ۔سیّد قمر الدین کی وفات کے ساتھ میدان صحافت کا ایک روشن چراغ بجھ گیا۔ 

  • ڈاکٹر جہانگیر خان پی ایچ ڈی قسط نمبر 4

    ڈاکٹر جہانگیر خان پی ایچ ڈی قسط نمبر 4

       ڈاکٹر جہانگیر خان  پی ایچ ڈی ۔۔کرکٹر / ماھر تعلیم /  پرنسپل گورنمنٹ کالج اٹک   قسط نمبر 4

     14 جنوری 1943’…سیکنڈ ائیر کا نتیجہ دیکھا ۔تین لڑکے detain کر لئے ۔آج ڈاکخانے میں چالیس روپے سے حساب کھلوایا ہے ہر ماہ اس میں بیس روپے جمع کروں گا.16 جنوری کو میرے گھر میں شفیع وکیل آیا ۔اس کے ساتھ میرے مکان کا مالک نانک چند تھاجو مردان میں وکالت کرتا ہے ۔نانک چند کہنے لگا کہ میرے بھانجے کا داخلہ روک لیا گیا ہے اس کا داخلہ بھیج دیں میں نے انکار کر دیا تو کہنے لگا اچھا تینوں لڑکوں کا داخلہ بھیج دو ۔ میں نے پھر انکار کیا وہ غصے میں آ کر کہنے لگا میری بے عزتی ہوئی ہے اور بڑبڑاتا ہوا چلا گیا۔

    کچھ دنوں بعد شہر کے ہندو اور سکھوں نے ایک قرارداد پاس کی کہ پرنسپل کا رویہ لوگوں کے ساتھ ٹھیک نہیں۔اس نے کالج کا ریزلٹ اچھا دکھانے کے لئے کچھ لڑکوں کا داخلہ بھی نہیں بھیجا ۔ اس قرارداد کی نقلیں وزیر تعلیم ،ڈی پی آئی اور ڈی سی کو بھیجیں ۔ڈی سی کا خیال تھا کہ قرارداد کی شرارت کرنے والوں پر مقدمہ درج کیا جائے۔ لیکن معاملہ رفع دفع ہو گیا ۔

    ڈاکٹر جہانگیر خان پی ایچ ڈی قسط نمبر 4

     17 جنوری اتوار کو رفیق کے پاس ریل پر حسن ابدال گئے ۔رفیق نے پنجہ صاحب کی سیر کرائی۔گوردوارہ میں گرنتھ صاحب رکھا ہوا تھا جس طرح مسلمان ختم قرآن پاک کراتے ہیں اسی طرح سکھ چالیس روپے دے کر گرنتھ ختم کراتے ہیں ۔گرنتھ ساحب  کو اکٹھے بیٹھ کر مسلسل پڑھنے کا عمل اکھنڈ پاٹھ کہلاتا ہے اس میں ایک گرنتھی دو گھنٹے پڑھتا ہے پھر دوسرا اگلا سبق شروع کر دیتا ہے اس طرح تین دن میں گرنتھ صاحب ختم ہوتا ہے ۔اکھنڈ کا مطلب ہے ۔۔continuous / without break.

    گردوارہ کے اردگرد دو منزلہ ہاسٹل نما عمارت ہے جس میں زائرین ٹھہرتے ہیں۔ایک بندہ سات دن رہ سکتا ہے ۔ لنگر چوبیس گھنٹے چلتا ہے ۔جو لوگ پچیس روپے چندہ دیتے ہیں ان کی سل گوردوارہ کے دروازے پر لگی ہے ۔پچاس اور سو والوں کی آگے اور دو سو والوں کی سل گوردوارہ کی دیوار پر لگی ہوئی ہیں۔فرش پر لگی ہوئی سلیں ارود میں اور دیوار پر لگی سلیں گوجر مکھی میں لکھی ہیں ۔گوردوارہ کا بجلی کا پلانٹ بھی ہے اور پانی کا ٹیوب ویل بھی ہے۔گوردوارہ کی اوپر والی منزل پر نقارہ ہے جو صبح چار بجے بجتا ہے حسن ابدال کے بازار میں پتھر کے کھرل اور کونڈیاں بکتی ہیں ۔

     پیر ولی قندہاری کی عبادت گاہ سامنے پہاڑی پر دکھائی دیتی ہے لیکن چڑھنے میں گھنٹہ لگ گیا۔ چوٹی پر سفید گنبد بنا ہوا ہے جو سکھ پنجہ صاحب جاتے ہیں وہ اس چلہ گاہ کو ضرور دیکھتے  ہیں اور نذرانہ بھی دیتے ہیں۔میں نے بھی ایک آنہ دے دیا۔ہمارے کھڑے کھڑے واہ کا ایک لڑکا ایک دنبہ بطور چڑھاوہ چھوڑ گیا ۔آج محرم کی دسویں تاریخ تھی چوٹی پر یا حسین یا حسین کی آوازیں آرہی تھیں معلوم ہوا کہ سر سکندر سکول کے پاس جلوس نکل رہا ہے ۔

     حسن ابدال سے ٹانگے میں بیٹھ کر دو میل کے فاصلے پر واہ پہنچے ۔سیمنٹ فیکٹری سے بجلی واہ لائی گئی تھی ۔واہ میں چشمہ ہے وہاں سے ٹیوب ویل کے ذریعے پانی سیمنٹ فیکٹری جاتا ہے۔چشمے کے کنارے بارہ دری تھی جس کو ڈاک بنگلہ کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے ۔چوکیدار نے بارہ دری کھول کر دکھائی۔سکندر کی ایم اے او کلب امرتسر کی تصویریں تھیں ۔ان کے والد اور عمر حیات ٹوانہ ۔میاں احسان الحق ۔۔فضل محمد خان ۔ ممدوٹ ۔برکت حیات اور بہنوئی عابد خان کی تصویریں تھیں۔باغ کے پاس قبرستان تھا۔اس میں (سکندر کے والد) محمد حیات..ان کی دو بیویوں اور بیٹے اسلم کی قبریں تھیں ۔واہ گاؤں دور سے دیکھا اس میں سکندر مرحوم کا مکان دو منزلہ تھا باقی سب گھر ایک منزلہ تھے

     حسن ابدال میں ایک ٹیلے پرAgror اگرور ہزارہ کے خان کے بھائی نوکروں سمیت رہتے ہیں ان کو اگرور جانے کی اجازت نہیں تاکہ خانہ جنگی نہ ہو. یہ چالیس آدمی ہیں اور ان کو دوسو ماہوار پنشن ملتی ہے ۔ڈپٹی کمشنر کی اجازت کے بغیر یہ لوگ اس جگہ سے نہیں جاسکتے ۔

  • ڈاکٹر جہانگیر خان پی ایچ ڈی قسط نمبر 4

    ڈاکٹر جہانگیر خان پی ایچ ڈی قسط نمبر 3

    ڈاکٹر جہانگیر خان پی ایچ ڈی ۔۔کرکٹر / ماھر تعلیم / پرنسپل گورنمنٹ کالج اٹک قسط نمبر 3
    ۔
    25 اکتوبر 1942 کچھ لوگوں کو رسمی callکرنے کے لیے گیا۔ایس پی، افسر مال اور ممتاز وکیل سے ملاقات نہیں ہوئی ۔کارڈ چھوڑے۔اے ڈی ایم کے پاس گیا۔
    گھر میں پردوں کے لئے بریکٹ لگوانے ۔ سکاؤٹ کیمپ کا معائنہ کیا۔ٹمن سکول اول اور حسن ابدال دوم تھا۔غلام رسول شوق ڈویژنل انسپیکٹر نے کیمپوں کا معائنہ کیا

    ڈاکٹر جہانگیر خان پی ایچ ڈی قسط نمبر 4

    29 اکتوبر کو تفریح کے وقت جنگ عظیم دوم کے حوالے سے
    ARP( Air Raid Precaution)
    کے آدمی نے کالج میں لیکچر دیا۔آج سے بلیک یونٹ شروع ھوا۔
    15 نومبر کو سردار اکبر خان وائس چیئرمین ڈسٹرکٹ بورڈ کے گائوں ( ڈھوک شرفا) تانگے پر گیا۔اکبر خان چاپائی پر بیٹھے چائے پی رہے تھے۔
    2 دسمبر مجھے پانچ ایڈوانس انکریمنٹ مل گئیں۔کالج کی سائنس سوسائٹی کی میٹنگ تھی۔سول سرجن ڈاکٹر دکھی نے صدارت کی۔ کچھ دن بعد ڈاکٹر دکھی کی مظفر گڑھ بدلی ھو گئی ۔اس کو کیمبل پور میں 130 روپے جیل کا الائونس ملتا تھا وھاں یہ نہیں ملے گا
    13 دسمبر کو ایک آدمی جامع مسجد کا نقشہ لے کر آیا کہ مسجد کھلی کرنی ھے
    پتہ چلا کہ گندم پر شاید گورنمنٹ قبضہ کر لے ۔فیض کو چار بوری گندم ، بیس سیر نمک چھ درجن ماچس اور پانچ روپے کے چھوٹے پیسے / سکے ( چینج کی کمی تھی)


    18 دسمبر کو عابد کے گھر نوشہرہ گیا ۔دوسرے دن عید قربان کی نماز پڑھنے بدرشی گئے ۔ساڑھے گیارہ بجے نماز ھوئی ۔مجمع ڈیرھ ہزار ھو گا۔عید کے بعد چند لوگوں نے ھاتھ ملایا ۔گلے ملنے کا رواج نہ تھا ۔ عید کے دوسرے دن قربانی کے بکرے کی قیمت پتہ کی تو پچیس روپے تھی۔
    22 دسمبر صبح سات جہاز دیکھے جو ریلوے اسٹیشن کی طرف جا رہے تھے ۔ ریلوے لائن کی دوسری طرف فوجیوں نے جہازوں سے پیراشوٹ کے ساتھ چھلانگیں لگائیں ۔ایک فوجی کا پیراشوٹ نہیں کھلا وہ مر گیا ۔( دوسری جنگ عظیم میں چکلالہ میں پیراٹروپر ٹریننگ سکول کھلا تھا ۔یہ جہاز وھاں سے آئے تھے)
    میری تنخواہ 375 سے 425 ھو گئی۔نوکر نے کہا کہ میرا چودہ روپے میں گزارہ نہیں ھوتا بیس روپے ماھانہ کے کر دیں
    نوشہرہ سے رشتے داروں کا خط آیا کہ دس دس سیر چار قسم کی دالیں ، بیس سیر کھانڈ ، پندرہ سیر چاول اور چھ درجن ماچس خرید کر بھجوا دوں ۔کھانڈ اور ماچس کے لیے فیض سے کہا کہ محکمے سے اجازت لے کر خرید دے
    افسر مال نے بتایا کہ۔۔۔۔ میں نے پندرہ ھزار گندم کی بوریوں پر چھاپہ مارا ھے ۔۔تم نے جتنی گندم کالج سٹاف اور بورڈنگ کے لیے لینی ھیں بتادو ۔۔پانچ مہینے کا اندازہ لگائیں کیونکہ جلد ھی گندم ملنا مشکل ھو جائے گی۔
    8 جنوری۔۔1943 کلب سے دوستوں کے ساتھ نکلے ۔گرجے ( کامرہ روڈ والا گرجا )کے پاس سے نیازی واپس چلا گیا باقی سب میرے مکان کو آئے ۔( یہ مکان اس روڈ پر ھوگا جو گرجے سے پلیڈر لائن جاتی ھے ۔یہ کوٹھی نانک چند وکیل کی تھی جو مردان میں پریکٹس کرتا تھا۔)
    نو جنوری 195 کالج میں سپورٹس ویک تھا ۔سٹاف کی ریس میں مہاویر اول اور میں دوم آیا ۔نوکروں کی دوڑ بھی ھوئی ۔۔سٹاف کے بچوں کی دوڑ بھی ھوئی ۔

  • ڈاکٹر جہانگیر خان پی ایچ ڈی قسط نمبر 4

    ڈاکٹر جہانگیر خان پی ایچ ڈی قسط نمبر2

    ڈاکٹر جہانگیر خان پی ایچ ڈی کرکٹر / ماھر تعلیم / پرنسپل گورنمنٹ کالج اٹک قسط نمبر 2

    ڈاکٹر جہانگیر باقاعدہ ڈائری لکھتے تھے۔ انہوں نے تدریسی زندگی کا سفر زمیندارہ کالج گجرات کے پرنسپل کے طور پر کیا۔ان کی ڈائری نمبر چار سے سات تک میں ان کے کیمبل پور کالج میں بطور پرنسپل کام کرنے کے واقعات ھیں۔موصوف 1942 سے 1945 تک کیمبلپور کالج کے پرنسپل رھے۔

    ڈاکٹر جہانگیر خان پی ایچ ڈی قسط نمبر 4
    ڈاکٹر جہانگیر خان پی ایچ ڈی کرکٹر / ماھر تعلیم / پرنسپل گورنمنٹ کالج اٹک

    ڈاکٹر عبدالقدوس ھاشمی صاحب واہ کینٹ نے ڈاکٹر جہانگیر کے عقیدے کے بارے میں پوچھا ھے کہ کیا ڈاکٹر جہانگیر صاحب احمدی ہیں کہ نہیں ۔اس سلسلے میں ڈاکٹر صاحب کی ڈائری سے سند مل گئی۔ ڈاکٹر جہانگیر صاحب صحیح العقیدہ سنی اور مسلم لیگی مسلمان تھے..سات سالہ برطانیہ قیام کے دوران بھی شراب تو دور کی بات سگریٹ سے بھی بچے رہے ۔ڈاکٹر صاحب نے اپنی ڈائری میں جمعہ پڑھنے یا قضا ہونے کا اہتمام سے ذکر کیا ہے

    گجرات جمعہ 9 اگست 1941 ۔میں ( ڈاکٹر جہانگیر) قیوم صاحب اور شریف جمعہ کی نماز کو نماز کو گئے۔ شریف مرزائیوں کی مسجد میں گیا. اس سے ثابت ھوا کہ ڈاکٹر جہانگیر صاحب احمدی نہیں تھے فروری 1942 میں ڈاکٹر جہانگیر صاحب کی شادی اپنے گاؤں میں نعیمہ مبارک بنت احمد حسن خان برکی سے ھوئی ۔ احمد حسن سول سرونٹ تھے

    16 اپریل گجرات میں مبارک سرجن کے کھانے پر ساڑھی پہن کر گئی میں نے کہا یہ ھندوانہ لباس کیوں پہن لیا ھے۔( یاد رہے کہ احمدی خواتین حجاب اور پردے کا مسلمان خواتین سے بھی زیادہ اہتمام کرتی ہیں۔) 25 مارچ 1942 گجرات ۔اعظم علی ۔ سب جج اور ملک عبدالرحمن خادم چائے پر آ گئے ۔ملک خادم احمدیت پر چھڑ گیا پھر بند ھونے کا نام نہ لے ۔شام سے ذرا پہلے پیچھا چھوڑا ۔اس سے ثابت ھوا کہ ڈاکٹر جہانگیر صاحب احمدی نہیں تھے نو اپریل 1942 لاھور گیا تاکہ پروفیسر گیان سنگھ کا گیس پیپر guess paper لائوں۔ (اس کا مطلب ھے کہ گیس ٹربل پرانی بیماری ھے ۔1974 میں invincible guess paper کا رواج تھا) دو جون 1942..ایک ماہ پہلے سٹاف نے فیصلہ کیا تھا کہ زمیندارہ کالج گجرات کے سٹاف ممبر اچکن اور شلوار میں کالج آئیں گے۔اج سے دیسی لباس شروع ھو گیا ۔

    29 ستمبر 1942 کو فرنٹیئر میل سے کیمبل پور روانہ ھوا۔ زمیندارہ کالج گجرات کے سارے استاد اور بہت سے لڑکے الوداع کہنے گجرات سٹیشن پر ائے۔ سوا آٹھ بجے کیمبل پور پہنچا روزہ رستے میں کھولا ۔سٹیشن پر فیض خان،فضل خان ،فاضل اور کالج سٹاف کے آدمی موجود تھے۔فیض خان کی بیوی جالندھر گئی ھوئی تھی۔ انہوں نے میرے رھنے کا انتظام اپنے گھر میں کیا۔ 30

    ستمبر فضل محمد خان مجھے کالج کے گئے پرنسپل شیخ چراغِ دین سے ملایا چھوٹے سے قد کے آدمی تھے انہوں نے کالج اور بورڈنگ کی سیر کرائی اور سٹاف کے بارے میں بہت سی باتیں بتائیں ۔یونیورسٹی سے 130 پرچے چیکنگ کے لیے وصول ھوئے۔

    یکم اکتوبر دس بجے کالج گیا شیخ صاحب سے چارج لیا ۔حساب کے رجسٹر دیکھے دو بجے مکان واپس آیا پرچے دیکھتا رھا ۔ کیمبل پور میں ریت ھی ریت ھے ۔پانی کی کمی ھے ۔میونسپلٹی کے نلکے سے تمام شہر کو پانی ملتا ھے نلکہ ایک گھنٹہ صبح آدھا گھنٹہ دوپہر اور ایک گھنٹہ شام چلتا ھے۔سڑکیں بری حالت میں ھی ۔فیض خان کے پاس ایک ریڈیو ھے جو کیمبل پور کی بجلی سے نہیں چلتا۔ رات کو فارسی کے لیکچرر برق نے شیخ چراغ کو دعوت طعام دی مجھے بھی بلایا تھا

    3 اکتوبر کو گجرات سے سامان والی گاڑی کیمبلپور پہن۔ گئی کالج کے نوکروں کو سامان اتارنے کے لئے بھیجا ۔ سامان کا ریل کا کرایہ 43 روپے تھا ۔ شیخ صاحب کو افطاری کے وقت سٹاف کی طرف سے چائے کی دعوت تھی 4 اکتوبر شام کو قاضی محمد شفیع نے شیخ چراغ دین کو کھانا دیا۔کھانے پر بیس لوگ مدعو تھے 5

    اکتوبر کو ممتاز وکیل نے شیخ صاحب کو کھانا کھلایا.6 اکتوبر شام کو کلب نے شیخ صاحب کو کھانا دیا ۔میں بھی کلب کا ممبر ھو گیا تھا اور کھانے میں شریک ھوا۔7

    اکتوبر تین بجے شیخ صاحب کو الوداع کہنے سٹیشن گیا ۔کالج کا سٹاف ، طلباء اور شہر کے لوگ بھی موجود تھے ۔ 8 اکتوبر آدھی چھٹی کے وقت تمام کالج کو ایڈریس کیا

    9 اکتوبر نماز جمعہ کے لیے شہر گیا۔ شہر میں سنا ھے ایک ھی مسجد ھے ۔یہ تمام بھر گئی تھی ۔باھر سڑک پر صفیں بچھائی ھوئی تھیں۔میں بھی وھیں بیٹھ گیا ۔شام کو اے ڈی ایم کو ملنے گیا ھوشیار پور کے نیازی پٹھان کیپٹن منظور سے ملاقات ہوئی وہ یہاں ایڈجوٹنٹ لگا ھوا ھے۔ 19

    اکتوبر کو لاھور میں ڈی پی آئی سے ملا اس سے کالج کے متعلق بات کی اور کہا کہ سنسکرت کے میرے پاس دو لیکچرر ھیں اور طالب علم صرف ایک ھے۔ وہ کہنے لگا تم مضمون وار لڑکوں کی تعدادِ بھیج دو۔20

    اکتوبر کو بیگم سمیت کیمبل پور پہنچا سیدھا اپنی کوٹھی میں گیا اس میں دھونی اور سفیدی ھو چکی تھی ۔ کالج میں مہاویر سے ملاقات ھوئی یہ ٹرنٹی ھال کیمبرج میں میرے ساتھ تھا اب لائل پور سے یہاں آیا ھے۔ 21

    اکتوبر کی شام کو ( تولا رام بلڈنگ والے) جنجیرا سکھوں کے ھاں چائے پر گیا تیس کے قریب آدمی ھوں گے۔ کہتے ھیں جنجیرا سکھوں کا باپ چھابڑی لگاتا تھا پہلی جنگ عظیم میں ٹھیکے لئیے اور لکھ پتی ھو گیا دوسری جنگ عظیم میں کروڑ پتی ھو گیا۔ رات کو قاضی شفیع اور چودھری اصغر آ گئے۔ دونوں یہاں وکیل ھیں اصغر صاحب جالندھر کے رھنے والے ھیں عمر بھر یہیں پریکٹس کرتے رہے ۔ان کو فالج کے اثرات ھیں ۔میں نے مالش کے لئے ریچھ کی چربی بھیجی 24 اکتوبر ھاکی ٹیم کو گھر پر چائے پلائی 12 آنے فی پاؤنڈ بسکٹ ملے ۔شام کا کھانا افسر مال کے پاس کھایا

  • ڈاکٹر جہانگیر خان پی ایچ ڈی قسط نمبر 4

    ڈاکٹر جہانگیر خان پرنسپل گورنمنٹ کالج اٹک

    ڈاکٹر جہانگیر خان  پی ایچ ڈی  کرکٹر / ماھر تعلیم /  پرنسپل گورنمنٹ کالج اٹک

    ڈاکٹر جہانگیر خان 1910 میں جالندھر میں پیدا ھوئے اور 1988 میں فوت ھوئے۔ انہوں نے اسلامیہ کالج لاھور سے بی اے اور 1930 کی دہائی میں کیمبرج سے تاریخ میں پی ایچ ڈی کی ۔ان کے بیٹے ماجد خان اور پوتے بازید خان بھی کرکٹر تھے۔ اس ان کی تین نسلیں کرکٹر ھیں
    ڈاکٹر جہانگیر باقاعدہ ڈائری لکھتے تھے۔ ان کی ڈائری نمبر چار سے سات تک میں ان کے کیمبل پور کالج میں بطور پرنسپل کام کرنے کے واقعات ھیں۔موصوف 1942 سے 1945 تک کیمبلپور کالج کے پرنسپل رھے۔ 1942 میں ان کے یہاں آنے سے چند ماہ پہلے کیمبلپور کالج میں بی اے کی کلاسیں شروع ھوئیں ان کی کوششوں سے اس کالج میں لڑکیوں کو بھی پڑھنے کی اجازت ملی۔

    ڈاکٹر جہانگیر خان پی ایچ ڈی قسط نمبر 4
    ڈاکٹر جہانگیر خان پرنسپل گورنمنٹ کالج اٹک


    ڈاکٹر جہانگیر  ٹیسٹ کرکٹ میں ہندوستان کی نمائندگی کرنے والی پہلی  ٹیم کے رکن تھے۔ اس ٹیم نے اپنا پہلا ٹیسٹ 25 جون 1932ء کو لارڈز کے میدان میں کھیلا تھا۔ اس ٹیم میں ڈاکٹر جہانگیر خان بطور بائولر شامل تھے ۔ ڈاکٹر جہانگیر خان کا ٹیسٹ کیریئر بہت مختصر رہا۔ انہوں نے کل 4 ٹیسٹ کھیلے
    جولائی 1936ء کو، جہانگیر خان لارڈز میں کیمبرج کی طرف کھیلتے ہوئے ایم سی سی کے خلاف  گیند کر رہے تھے، جہانگیر خان نے اسٹرائیکنگ اینڈ پر کھڑے ہوئے بیٹسمین ٹی این پیئرس نے بائولنگ کرانے کے لئے دوڑنا شروع کیا جیسے ہی گیند جہانگیر خان کے ہاتھ سے فضا میں بلند ہوئی ایک چڑیا گیند کے راستے میں آگئی اور اس سے ٹکرا کر وہ چڑیا وہیں ہلاک ہوگئی۔ وہ تاریخی گیند اور چڑیا کا حنوط شدہ جسم  لارڈز میموریل گیلری میں کھ دیا  گیا ھے۔


    ڈائری کے مطابق ڈاکٹر صاحب لکھتے ھیں۔16 اپریل 1942 کو خواجہ صاحب کا خط ملا کہ گورنمنٹ پنجاب ایجوکیشن سروسز کلاس اول میں دو آدمی ایک ھندو اور ایک مسلمان لے رھی ھے ۔اس کے لئے عرضی بھجوا دی ۔15 مئی کو اخبار میں اشتہار دیکھا کہ گورنمنٹ کالج منٹگمری اور کیمبل پور کے لیے پرنسپلوں کی ضرورت ھے۔تنخواہ تین سو سے ایک ھزار روپے تک اور  یک صد روپیہ الائونس
    20 جولائی کو انٹرویو ھوا سات مسلم امیدواروں میں ڈاکٹر (علامہ ؟) اقبال کا بڑا لڑکا بھی شامل تھا۔5 ستمبر کو سرکاری طور پر کیمبلپور تقرری کی اطلاع آئی ۔375 روپے تنخواہ اور سو روپیہ الائونس۔
    26 ستمبر کو شیخ چراغِ دین پرنسپل نے کیمبل پور سے سٹاف کی فہرست بھیجی۔کل تیرہ آدمی تھے جن میں آٹھ غیر مسلم بہت سے آدمی تھرڈ کلاس ایم اے تھے ۔سنسکرت کا لڑکا کالج میں کوئی نہیں تھا لیکن پروفیسر موجود ھے ۔27 ستمبر کو زکریا کا کیمبل پور سے خط آیا کہ آج تک چار لڑکے تھرڈ ائیر میں داخل ھوئے ھیں ( 1942 میں کیمبل پور کالج میں تھرڈ ائیر کی پہلی کلاس شروع ھوئی تھی)

  • میرا کیمبل پور

    میرا کیمبل پور

    میرا کیمبل پور

    میرے کیمبلپور جیا ہور وکھا
    تو سچا ایں تے سامنے آ

    سنتریاں ورگا شہر وکھا
    توں برفی لڈو نال رلا

    اتھے آل دوالے اللہ ہُو
    اتھے آل محمد ﷺ دی خوشبو

    اتھے پنجتن پاک دے رستے ہن
    سادات دے بچڑے وَسدے ہِن

    اتھے رونق دِسدی گلیاں وچ
    جویں پُھل گلاب دا کلیاں وچ

    ای جوآر دے گنے تُر ورگا
    میرا کیمبلپور اے سُر ورگا

    کیویں سونا وکدا تولے سُنڑ
    اِتھ ماہیے سنڑ اِتھ ڈھولے سُنڑ

    تو گُھل ویسیں نالے بُھل ویسیں
    ساری دنیا وچ توں رُل ویسیں

    تینوں دنیا وچ ایجا نٸیں ملڑاں
    جیجا ای کِھڑیا ایجا نٸیں کِھڑناں

    ساری دنیا وچ توں چکر لا
    ہک وار ازما کے پھیرا پا

    اتھے سوہنڑے جگ توں وسدے ہن
    سانوں پیر بزرگ دَسدے ہن

    توں ویکھنا اے تے جلدی آ
    وچ کیمبلپور دے پھیرا پا

    اتھے ہر شے ویکھ نرالی اے
    جویں جھولی مانواں آلی اے

    پی ددھ پتیاں یا کھانا کھا
    اتھے پاۓ چاول چھولے کھا

    مِٹھی نختی نال مکھانڑیں کھا
    اتھے چھلّی بُھجی دانڑیں کھا

    اتھے منگ پھلیاں دی ذات وی اے
    اتھے بیراں دی سوغات وی اے

    گنگیر ملے کالے چِٹے وچ
    جویں دانڑیں ہوندے سِٹے وچ

    اتھے ٹیشن ویکھ سرنگاں ویکھ
    اتھے لسی پی تے لونڑِیں کھا

    اتھے شاعر سُنڑ کِنج لکھدے ہِن
    وچ ہِجَر ماہی دے سِکدے ہِن

    اتھے اسفند یار بخاری اے
    جیں دشمن دی مت ماری اے

    تو مینڈا یار نسیم بھی سنڑ
    اتھے حکمت یار مقیم بھی سنڑ

    سُنڑ گیت، عطا بھی گاندا اے
    اتھے صابر غزل چاندا اے

    اتھے گُلی ڈنڈے نال بھی کھیڈ
    اتھے کھینو نا ڈنڈ پاکی لا

    اسی گھگھو گھوڑے تکدے رۓ
    اسی دھرتی ما تے کٹدے رۓ

    اتھے کُڑیاں نڈے بہوں سونہڑے
    جیویں حوراں نوراں دے گہنڑے

    اتھے کُڑیاں ونگاں پاندیاں ہن
    اتھے گھڑے کُچھڑ چاندیاں ہن

    اتھے نتھلی کوکا ڈُھکدا اے
    جنوں عاشق ویکھ کے رُکدا اے

    اتھے دریا ویکھ پیا واہندا اے
    جتھے کابل نا رل جاندا اے

    اِندی اَرٹلری نوں توں بھی من
    جتھوں گولے وجن دن دن دن

    اے کیمبلپور اے سلطانی
    پالے افغانی نالے ایرانی

    اتھے پیلی سَریاں سجدی اے
    جنوں ویکھنڑ دنیا بھجدی اے

    اتھے سنگت رکھ فقیراں دی
    تو بُھلسیں چال امیراں دی

    اتھے ہسدے گاندے ہن بلبل
    اتھے سوڑی تلیر دی چُلبل

    اتھے چڑیاں کاں لوٹورے ہن
    اتھے راول طوطی بَھورے ہن

    اتھے چمچرڑاں تے گُھگھیاں ہن
    اُتے مرغابی دے ڈبیاں ہن

    میرے جی باباؒ تے قندھاریؒ
    آ ویکھ انہاں دی سرداری

    اتھے ننڑاں ہروٸی وگدے ہِن
    جہڑے دھرتی اتے پھبدے ہِن

    ہک چھانگلاؒ رب دا پیارا اے
    جیں پتھری بیڑا تارا اے

    ہک زارت سُنڑ کبوتراں دی
    اُتھے جا کے وحدت شربت پی

    اتھے قلعے مغلاں دے لبھدے
    جہڑے کیمبلپور دے وچ پھبدے

    ہک ملاٸی ٹولہ وسدا اے
    جہڑا بچہ بچہ دسدا اے

    ہر سکھ دا اتھے پھیرا اے
    اتھے نانکؒ دا بی ڈیرا اے

    تو آہدا ایں کجھ ہور وکھا
    میں آہدا آں اتھے پھیرا پا

    تینوں قاٸم آکھے جلدی کر
    میرے کیمبلپور جیا ہور وکھا

    Title Image by Hans from Pixabay

  • ہمارے ابا جی ! قاضی عبدالقدوس

    ہمارے ابا جی ! قاضی عبدالقدوس

    ہمارے ابا جی ! قاضی عبدالقدوس

     ہمارے والد صاحب قاضی عبدالقدوس1928 میں گنڈاکس ضلع اٹک  میں پیدا ہوئے .اس وقت پرائمری سکول چار کلاسوں تک تھا انہوں نے 1943 میں موتا سنگھ خالصہ مڈل سکول نیلہ (چکوال) سے مڈل پاس کیا۔  اس وقت ہاسٹل نہیں تھا ۔سردیوں میں بچے نیلے جان پہچان والے لوگوں کے گھروں میں رھتے تھے۔عبدالقدوس صاحب بھی چار سال موسم سرما میں ایک ماسی کے پاس رہے ۔اتنے لمبے انٹر ایکشن کے باوجود ماسی کی زبان پر عبدالقدوس نہیں چڑھا وہ ہر دفعہ اندازے سے کوئی ملتا جلتا  نام لے کر کام چلا لیتی تھیں۔

    1945 میں نیلہ مڈل اسکول کو میٹرک کی سطح تک اپ گریڈ کیا گیا ۔قاضی اسحاق ملہوالہ نیلہ سے 1947 میٹرک پاس کرنے والے پہلے شخص تھے۔طلباء کی اکثریت ہندو / سکھ تھی ان کے انڈیا جانے سے سکول 1947 میں دوبارہ مڈل ہو گیا۔ عبدالقدوس صاحب نے 1945 میں فتح جنگ سے میٹرک کیا۔ وہ اپنے ماموں قاضی عبدالحق کے پاس رہتے تھے۔
    اس وقت راول پنڈی میں کوئی سرکاری کالج نہیں تھا۔ تین پرائیویٹ کالج تھے ۔ عیسائی حضرات کا گورڈن کالج تھا۔ ہندو حضرات کے دو بڑے مسلک ہیں ۔ آریہ سماج کا دیانند اینگلو ویدک کالج (DAV College)تھا ۔یہ گورڈن کالج کے پاس تھا۔ کالج روڈ اس DAV کالج کے نام پر ہے۔ 1947 میں کالج ختم ہوکر ہائی اسکول بن گیا ۔یعنی کالج روڈ رہ گئی کالج ختم ہو گیا۔ اتفاقات ہیں زمانے کے
    سناتن دھرم مسلک کا کالج سناتن دھرم کالج تھا۔1947 میں اس کا نام اصغر مال گورنمنٹ کالج ہو گیا۔
    اصغر مال کی نئی پوش آبادی (1920 میں بنی )کا نام اصغر علی شیخ قانونگو بی اے پنجاب اور کیمبرج بار ایٹ لاء کے نام پر رکھا گیا ۔وہ اس وقت راولپنڈی کے ڈی سی تھے۔اصغر علی امرتسر کے رہنے والے تھے ۔
    1945 میں عبدالقدوس صاحب نے سناتن دھرم کالج میں داخلہ لیا .اس کالج کے پرنسپل چھاچھی محلہ کے رہنے والے تھے۔ ہارون اسرار کے دادا بابا قاضی سعید نے ان سے رابطہ کیا تو پرنسپل نے عبدالقدوس کے یتیم ہونے کی بنا پر فیس میں رعایت دے دی۔
    قاضی سعید صاحب کی پبلک ریلیشننگ زبردست تھی ۔اس سے وہ لوگوں کے کام نکلواتے رہتے تھے۔ان کی یہ خوبی ان کے بیٹے اسرار قاضی میں بدرجہ اتم موجود تھی۔2010 میں راقم کی پنشن کے سارے کام انہوں نے خوش دلی سے کئے ۔ اللہ پاک ہمارے ان محسنوں کے ساتھ آسانی والا معاملہ فرمائے۔
    عبدالقدوس نے 1947 میں ایف اے پاس کیا۔ اس وقت انٹرمیڈیٹ میں انگلش لازمی کے علاوہ تین مضمون ہوتے تھے۔ان کے مضامین میں Trigonometry شامل تھی۔ ان کی کلاس میں صرف 3 مسلمان طلباء تھے۔ دو کا ایک ہی نام عبدالقدوس تھا۔
    1947 میں سناتن دھرم کالج میں تڑارکھل کے نام سے آزاد کشمیر کا ہیڈ کوارٹر قائم کیا گیا -قاضی عبدالقدوس نے 1949 میں ملٹری اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ میں شمولیت اختیار کی۔ ان کی پہلی تنخواہ ساٹھ روپے ماہانہ تھی۔ وہ 1988 میں AAA آڈٹ اینڈ اکاؤنٹس اسسٹنٹ کے طور پر ریٹائر ہوئے۔ ان کی آخری تنخواہ 2295 روپے ماہانہ تھی۔ انہیں 1,64,000/- کمیوٹیشن کے طور پر ملے۔ ان کی ابتدائی پنشن 884/- روپے ماہانہ تھی۔ انہوں نے راولپنڈی، کوہاٹ، نوشہرہ اور اٹک میں سروس کی۔

    ہمارے ابا جی ! قاضی عبدالقدوس


    1953 میں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے منشی فاضل فارسی پاس کیا۔ منشی فاضل/مولوی فاضل کے بعد بی اے کی ڈگری حاصل کرنے کے لیے صرف بی اے انگلش کا امتحان پاس کرنا ہوتا تھا۔ ریگولر بی اے والے منشی فاضل کے راستے .بی اے کرنے والوں کو دو نمبر مال سمجھ کر ان کو مذاق سے (BA via Bathinda) کہتے تھے۔ اب بھی شارٹ کٹ کے ذریعے کام کو لاہوری محاورے میں’ وایا بھٹنڈا’ کہتے ہیں۔ اس کی بیک گراؤنڈ یہ ہے۔دہلی سے لاہور ٹرین کا عام رستہ انبالہ ، لدھیانہ، جالندھراور امرتسر والا تھا۔دوسرا راستہ روھتک ، حصار بٹھنڈا،فیروزپور، قصور اور رائیونڈ والا تھا۔وائیا بھٹنڈا’ والا محاورہ گجرانوالا کے اصغر بٹ ( پروفیسر ڈاکٹر) سے 1978 میں کئی دفعہ سنا۔بٹ صاحب لاہور میں ہمارے جونئیر تھے۔
    پرانے زمانے میں مسلمان پنڈت اور ہندو مولوی بھی ہوا کرتے تھے.سنسکرت پڑھ کر مسلمان شاستری / پنڈت اور عربی فارسی پڑھ کر ہندو مولوی اور منشی بن سکتے تھے.یہ دراصل زبانوں کی ڈگریاں تھیں۔
    بہاولپور میں ایک بزرگ پنڈت واحد بخش سیال ایک عالم تھے، جنہوں نے فریدیات پر قابل قدر کام کیا.
    وایا بٹھنڈہ کی اب ایک نئی شکل بھی ہے۔مدارس کے درس نظامی کے بعد بھی صرف انگریزی پاس کرکے ڈگری مل جاتی ہے۔
    ڈاکٹر مبارک علی تاریخ دان ہیں ان کے سکول کے زمانے میں سندھ میں میٹرک گیارہ سال کا تھا ۔اس لئے انہوں نے ادیب (اردو) کا 1956 میں امتحان دے کر 1957 میں صرف انگلش کا پیپر دیا اور میٹرک پاس کر لیا ۔اس بات کی تفصیل ڈاکٹر صاحب نے اپنی سوانح عمری ‘در در ٹھوکر کھائے’ میں لکھی ہے۔
    بی ایس سی،ایم بی بی ایس سیکنڈ ائیر ایم بی بی ایس کے بعد صرف انگریزی کا امتحان دے کر بی ایس سی کی ڈگری حاصل کرنے کے بارے میں علماء کا اختلاف ھے ۔
    کچھ اس کو مستحب سمجھتے ہیں کہ بی ایس سی ایم بی بی ایس لکھنے سے رائٹنگ پیڈ اور کلینک کا بورڈ بھرا بھرا بلکہ ہرا بھرا نظر آتا ھے۔ مریض کو بھی تسلی ہوتی کہ اعلی ڈگریوں والے ڈاکٹر سے علاج کروا رہا ہوں ۔
    کچھ حضرات اس وکھری ٹائپ کی ڈگری کو اس طرح لکھتے تھے
    BSc ( Eng ) .Eng = English
    ہمارے ایک کلاس فیلو نے اس طرح کی بی ایس سی کے فضائل یہ بتلائے کہ اس کی وجہ سے جیل میں اعلی کلاس ملتی ہے۔
    کچھ علماء اس ڈگری کو مکروہ بتلاتے ہیں۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ لائق طلباء کو ایف ایس سی کے بعد ایم بی بی ایس میں داخلہ مل جاتا ہے۔ کچھ لوگ جن کو اس طرح داخلہ نہیں ملتا وہ بی ایس سی کر کے آتے ہیں ۔اس طرح وہ کم قابلیت والے سمجھے جاتے ہیں ۔ اس لئے ڈاکٹر حضرات کا بی ایس سی کو اپنی ڈگری لکھنا مکروہ ہے۔ راقم کا بھی ووٹ اس گروہ کے ساتھ ہے۔
    عبدالقدوس صاحب کی والدہ،والد اور ہمشیرہ کا 1945 میں ایک ہی سال میں انتقال ہو گیا۔ اور وہ اکیلے رہ گئے۔ ان تینوں بزرگوں کی قبریں گنڈاکس مغربی قبرستان میں مسلم بنھ (pond) کے پاس ہیں ۔ھماری دادی جان کا نام نور جہان اور پھوپھی کا نام حلیمہ تھا۔ قاضی عبد الحق ان کے ماموں تھے۔وہ اپنی فریدآباد ( ہریانہ) کی پوسٹنگ پر حلیمہ کو سیر کرانے ساتھ لے گئے ۔ ہماری دادی جان کی وفات کی خبر جب ان کے پیکے ملہوالہ پہنچی تو ان کی بڑی بہن گنڈاکس آئیں ۔ انھوں نے آ کر اپنی معلومات کی بنا پر زیور ایک پرانی چھٹ چھ پر زبر ( اونی ڈبل بوری) سے نکال کر محفوظ کر لیا۔
    1945 / 1946 کو نانا جی عام الحزن دکھ کا سال کے نام سےکبھی کبھارذکر کرتے تھے۔ اس سال ان کے پانچ قریبی رشتےداروں کا انتقال ہوا بہن ،بہنوئی،بھانجی، بھائی اور بیگم۔
    دادی جان کا کھیتر ایماں ( ائمہ) گنڈاکس اور ملھوالہ کے درمیان midway تھا ۔اس لئے وہ دو تین دن بعد دوپہر کو پیکے چکر لگا لیتی تھیں ۔ ایک دفعہ وہ پوٹلی سمیت ملھوالے آئیں۔ان کے بڑے بھائی عبدالعزیز صاحب نے اندازہ لگا لیا کہ یہ روٹین / معمول کا وزٹ visit نہیں۔انہوں نے پوچھا
    نور جہان خیریت سے آئی ہو۔ جواب ملا ،لالہ جی گھر والوں سے ناراض ہو کر رُس کے آئی ہوں۔
    عبدالعزیز صاحب نے کہا معمول کے مطابق تم روز آؤ،موسٹ ویلکم لیکن رُس کر آنے کی اجازت نہیں ہے۔
    چا پوٹلی ۔ تے لگ اگے ، ڈانگ ہاتھ میں لے کر انہی قدموں پر بہن کو گنڈاکس چھوڑ آئے۔ یہ تھی اصل خیر خواہی۔ یہ تھا بہنوں / بیٹیوں کے 🏡 گھر آباد رکھنے کا صحیح طریقہ۔
    1952 میں شجاعت علی صدیقی صاحب ملٹری اکاؤنٹنٹ جنرل تھے انہوں نے اپنے محکمے میں ابتدائی فوجی ٹریننگ شروع کرائی۔اس کا نام تھا پاکستان رائفل کلب۔ فوجی تربیت کا پہلا سبق ہے فوجی انداز میں چلنا پیٹ اندر سینہ باہر ۔
    Tummy in ..Chest out
    بائیں سے جلدی چل
    ۔ By the left ..Quick March
    اباجی عبدالقدوس صاحب فرماتے تھے کہ بجائے بائیں کے میرا ہر دفعہ دایاں پاؤں پہلے اُٹھ جاتا اس طرح ٹریننگ میں گڑبڑ چلتی رہی لیکن تھری ناٹ تھری رائفل Rifle 303چلانی آ گئی۔
    رائفل جس کی نالی کے دہانے کا قطر اعشاریہ تین صفر تین (303ء) انچ کا ہوتا ہے۔ انگریزی میں تین کے لیے تھری اور صفر کے لیے زیرو یا ناٹ کا لفظ بولا جاتا ہے اس لیے عرف عام میں اس رائفل کو تھری ناٹ تھری کہتے ہیں۔
    آجکل جیسے کلاشنکوف ایک مہلک ہتھیار مشہور ہے پرانے زمانے میں تھری ناٹ تھری رائفل بہت مشہور تھی۔ اس کو پکی بندوق بھی کہتے تھے ۔ گنڈاکس کے فسادات میں شاید بابا معموری کھوکھر نے اس سے ہندو مارے تھے۔
    ہم 1967 میں اٹک شفٹ ہوئے .ابا جی رات کو ہمیں کہانیاں سناتےتھے .ہم ان کے ساتھ پیدل کبوتر والی زیارت اٹک جاتے تھے اور دیمی (ندیم) ٹرائی سائیکل پر ہوتا تھا۔ندیم کہتے ہیں میرے ذہن میں بچپن کی ایک تصویر جمی ہوئی ہے کہ میں ابا جی کے ساتھ گرلز کالج کے قریب سڑک کے موڑ پر ٹرائی سائیکل پر جارہا تھا۔
    اکرام کہتے ہیں ، ہائی سکول نیلہ میں تقسیم کے وقت اسحاق میٹرک کا طالب علم تھا اوران کے بھائی زین العابدین فارسی کے استاد تھے۔ سکول کے ہیڈ ماسٹر خصوصی طور پر چھاچھی محلہ راولپنڈی آئے اور عبدالقدوس صاحب کو بطور استاد سکول جائن کرنے کی آفر کی۔اس وقت ہندو استادوں کے انڈیا جانے کی وجہ سے اساتذہ کی کمی تھی ۔ راولپنڈی میں رہنے والے ہمارے رشتہ دار چھاچھی محلہ کو قاضی سعید صاحب کی وجہ سےجی ایچ کیو کہتے اور سمجھتے تھے۔
    اباجی نے کئی بار ڈپارٹمنٹل ایس اے ایس کے امتحان کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے۔ اس پر انہوں نے غصے میں کورس کی کتابیں دریائے کابل نوشہرہ میں پھینک دیں۔ اس وقت وہ نوشھرہ میں نوکری کر رہے تھے ۔
    قاضی عبدالقدوس صاحب کا تعلق ڈیرہ غازی خان کے عبدالحق صاحب کے اویسیہ سلسلۂ سے تھا۔ جام پور کے شوق محمد فریدی عبدالحق صاحب کے خلیفہ تھے .یہ لوگ اپنے کے پیر بھائیوں کو دوست کہتے تھے۔ اس سلسلہ کی تعلیم کا نچوڑ تھا خدمت اور دعا۔ بزرگوں کی خدمت کرو اور بزرگوں کی دعا حاصل کرو۔ اصلاح نفس پر زیادہ زور نہیں تھا ۔
    اباجی مغرب کے بعد روزانہ مراقبہ کرتے تھے اور پھر اپنے سلسلے کا شجرہ اونچی آواز سے پڑھا کرتے تھے۔ یہ شجرہ قاضی عبدالقدوس کے شاگرد ماموں عرفان کے پاس ملنے کی امید تھی لیکن وہاں بھی نہیں ملا.اس شجرہ میں حاجی امداد اللہ مہاجر مکی صاحب کا نام بھی آتا تھا۔ شیخ عبدالغفور حقانی راولپنڈی اس گروپ کے سرکردہ رکن تھے۔
    قاضی عبدالقدوس اکثر جام پور ڈی جی خان جاتے تھے جس کی واپسی کی کوئی خاص تاریخ نہیں ہوتی تھی۔ اس روٹین سے ہم بچے بہت پریشان ہوتے تھے۔ ملتان سے اٹک آنے والی ٹرینیں منزل پر پہنچتنے سے پہلے وسل سیٹی بجاتی تھیں اس کی آواز ہمارے گھر صاف پہنچتی تھی۔ ہر سیٹی ہماری امیدوں کو جگاتی تھی کہ اباجی آ رہے ہونگے .لیکن اکثر ہمیں مایوسی ہوتی تھی ۔۔ میڈیکل کالج کے دوران راقم دو بار جام پور گیا ۔ان بزرگوں کی شفقت اور مہمان نوازی لاجواب تھی لیکن ان کی دینی فکر سے زیادہ متاثر نہیں ہوا۔ ان کی تعلیم میں باجماعت نماز کی حوصلہ شکنی کی جاتی تھی۔
    شوق صاحب نے ,ابا جی کے سامنے عبدالسلام کی اپنے خاندان میں جامپور شادی کرنے کی تجویز رکھی ۔ انہوں نےمیڈیکل کالج کی تعلیم کے اخراجات وغیرہ کو پورا کرنے کی بھی پیشکش کی۔ اس عجیب و غریب حرکت سے پورا خاندان پریشان ہو گیا۔ میرے انکار پر انھوں نے ارشاد فرمایا ‘قاضی عبدالقدوس صاحب اس امتحان میں فیل ہوگئے ہیں ‘۔امتحان میں پاس کرانے اور مزید ترغیب دینے کے لیے ایک پیر بھائی کو قاضی صاحب کے پاس بھیجا ۔ ایک دوسرے بزرگ ملک آمین صاحب سنٹرل ماڈل سکول کے ٹیچر تھے وہ ہاسٹل میں راقم کو سمجھانے آئے۔ لیکن میری قسمت میں یہ سعادت نہیں تھی۔
    خلقِ خدا کی گھات میں
    رِند و فقیہ و مِیر و پیر
    (ہر کوئی عام آدمی کا استحصال کر رہا ہے)

    ریٹائرمنٹ کے وقت شیخ عبدالغفور حقانی صاحب نے ابا جی کو walkچہل قدمی اور اخبار پڑھنے کا مشورہ دیا تھا۔ ان کا مشورہ اباجی کے نزدیک حکم تھا۔وہ روزانہ ایک گھنٹے کی سیر کے لیے جاتے تھے۔ بارش میں بھی وہ ناغہ نہیں کرتے تھے بلکہ چھتری لے کر واک کے لئے جاتےتھے ۔ گھڑی باندھ کر سیر کرتے ۔جہاں تیس منٹ ہوتے وہاں سے واپسی شروع کرتے تھے۔ اس روٹین اور پابندی سے ان کا سٹیمنا Stamina بن گیا تھا .راولاکوٹ میں میں راقم ان کے ساتھ واک کرتا تھا .چلتے وقت وہ ہمیشہ مجھ سے آگے رہتے تھے . کھاریاں کینٹ میں ایک بار وہ واک کے دوران گھر کا راستہ بھول گئے۔ انہوں نے میڈیکل کور کے ایک سپاہی کو سرخ ٹوپی سے پہچان لیا کہ یہ عبدالسلام کے محکمے کا بندہ ہے اسے اپنا مسئلہ بتایا ۔وہ جوان ان کو واپس گھر چھوڑ گیا۔
    نوائے وقت ان کا پسندیدہ اخبار تھا۔ جنگ کو حجام کی دکان کا اخبار سمجھا جاتا تھا۔ سنجیدہ طبقہ نوائے وقت پڑھتا تھا۔ ایک دفعہ میں نے انہیں اخبار پڑھتے دیکھا۔ ہر چند منٹ بعد وہ اخبار بند کر کے دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے . میں نے پوچھا ابا جی آپ کیا کر رہے ہیں؟ فرمانےلگے، جب میں اخبار میں موت، یا کسی حادثے کی خبر پڑھتا ہوں،میں دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتا ہوں۔ اور کبھی کوئی اچھی خبر ہوتی ھے تو اللہ پاک کا شکر ادا کرتا ہوں۔
    اور یہی سب کو کرنا چاہیے۔ اموات / حادثات پر دعا کرنا۔ خوشخبری پر شکر کرنا۔

    اسی قسم کی بات حضرت اشرف علی تھانوی نے اپنے مضمون اخبار بینی میں لکھی ہے۔

    English Text

ہمارے ابا جی ! قاضی عبدالقدوس


    کوئی خبر خود مقصود (End) نہیں ہوتی بلکہ ہمیشہ کسی مقصود تک پہنچنے کا ذریعہ (Mean to end) ہوتی ہے۔
    1- مثلاً آپ کسی شخص کے متعلق یہ خبر درج کرتے ہیں کہ اس نے چند ہزار روپیہ کسی نیک کام میں صرف کیا تو اس کے بعد اس شخص کے لئے دعائے ترقی اور دوسرے مسلمانوں کے لیے اس کی ترغیب ذکر کردی جائے یا
    2-مسلمانوں کی کسی کی مصیبت کا ذکر آیا تو خود بھی دعا کرے اور مسلمانوں کو بھی اس کی طرف متوجہ کرے نیز یہ کہ جس سے ہوسکے اُس کی مادی امداد بھی کرے
    3-کسی کی موت کا ذکر کیا ہے تو لوگوں کو اس طر ف متوجہ کرے کہ دعا مغفرت کریں اور اپنی موت کے واسطے سامان تیار کریں۔
    ایک بار میری بیٹی چھٹیاں گزارنے اٹک دادکے گئی۔اس نے واپسی پر بتایا ایک دن دادی جان نے دادا جان کو بہت ڈانٹا۔
    جب تفصیل پوچھی گئی تو اس نے بتایا کہ فیملی ری یونین تھی اور گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔ دادی جان کو اس رولے میں دادا جی کو روٹی دینا یاد نہ رہا۔ صبح ہوئی تو دادی جان کو معلوم ہوا کہ دادا جی نے رات کا کھانا نہیں کھایا۔ انھوں نے دادا جی سے پوچھا کہ میں تو رش میں کھانا دینا بھول گئی تھی لیکن نیک بختو !آپ نے کھانا کیوں نہیں مانگا؟ ان کا جواب تھا – میں نے سوچا کہ مہمانوں کی بڑی تعداد کی وجہ سے کھانا ختم ہو گیا ہوگا اورمیرے لیے کھانا نہیں بچا ہوگا ۔ وہ ساری رات بھوکے رہے لیکن نہ کوئی مطالبہ نہ کوئی شکایت ۔
    اس میں ہم بےصبروں کے لئے سبق ہے جو کھانے میں ذرا سی دیر ہونے پر پانی پت کی چوتھی جنگ شروع کر دیتے ہیں۔
    ایک دفعہ اباجی گولڑہ شریف کی زیارت کے لیے گئے۔ وہ راولپنڈی سٹیشن سے ٹرین میں سوار ہوئے ۔ کچھ دیر بعد اگلا اسٹیشن آگیا۔ ابا جی اترے تو دیکھا کہ چکلالہ اسٹیشن ہے ۔ انہیں احساس ہوا کہ وہ پشاور جانے والی ٹرین کی جگہ غلطی سے لاہور جانے والی ٹرین میں سوار ہو گئےتھے۔
    راولاکوٹ میں ہم خوبصورت علاقے، چشموں اور آبشاروں کی سیر کے لیے گئے۔ اباجی نے ہر جگہ 2 نفل پڑھے۔ میں نے پوچھا اس عمل کی کیا حکمت ہے؟ انہوں نے فرمایا – سیر تو اپنی جگہ ہو ہی رہی ہے میں ان مقامات کو نماز پڑھ کر اپنے نیک اعمال کا گواہ بنا رہا ہوں۔
    ان کی دولہا والی کلہ پگڑی 1981 تک محفوظ تھی ۔میران شاہ کے دورے پر میں یہی پگڑی بغیر کلے کے باندھ کر گیا ۔ تیس سال گزرنے کی وجہ سے پگڑی کا کپڑا ‘ پڑ َ ‘ گیا تھا یعنی کمزور ہو گیا تھا۔ ان کا زری کلہ 2022 میں بھی ہمارے پاس ہے۔
    شیخ عبدالغفور حقانی نے ان سے نوشہرہ میں پوسٹنگ پر ملاقات کی۔ وہ ان کے محکمے میں افسر تھے۔ انہوں نے پوچھا . قاضی صاحب کیا آپ کے خاندان میں کوئی پیر/فقیر بھی ہو گزرا ہے ؟ اباجی نے جواب دیا۔ مجھے کسی فیملی پیر کے بارے میں تو علم نہیں نہیں. جہاں تک میرا اپنا تعلق ہے ، میں تو ٹاپاں چیر ہوں ۔ دبا کر روٹی کھانے والا ہوں۔
    میری بیٹی یاد کرتی ہے۔ دادا جی ہمیشہ بہت شائستہ اور مدد کے لیے تیار رہتے تھے۔کھاریاں میں جب ہم سکول سے واپس آتے تو وہ ہمارا ان الفاظ کےساتھ استقبال کرتے تھے: ‘فوجیں واپس آگئی ہیں’

    فوجاں واپس آ گیاں ان۔

    ڈاکٹر تبسم کہتی ہیں۔ جام پور میں شادی کی تجویز تب دی گئی جب عبدالسلام ایم بی بی ایس تھرڈ ایئر میں تھے۔ اس تجویز پر اتفاق نہیں ہوا۔ عبدالسلام کو امتحان میں فارماکالوجی میں سپلیمنٹری آ گئی۔ اس بات کو خدا کی ناراضگی کی علامت کے طور پر دیکھا گیا تھا۔
    1976 میں ڈاکٹر تبسم ایف ایس سی میں تھیں۔ کالج میں ویمین گارڈ/نیشنل کیڈٹ کور کورس چل رہے تھے۔اس میں 20 روپے ماہانہ اسکالرشپ تھا۔ اور سب سے بڑھ کر FSc میں اضافی 20 نمبر ملتے تھے۔
    ابا جی مرد انسٹرکٹرز کی وجہ سے WG/NCC کے لیے راضی نہیں تھے۔ تبسم نے کہا نہیں ابا جی یہاں لیڈی انسٹرکٹر ہیں۔ ابا جی نے ریمارکس دیئے ۔ تم مجھے بیوقوف بنانے کی کوشش کر رہی ہو۔ پیسے اور نمبروں کی فکر نہ کرو۔ اللہ اپنے خزانوں سے بدلہ دے گا۔
    1979 میں تبسم نے علامہ اقبال میڈیکل کالج برڈ ووڈ روڈ لاہور میں داخلہ لیا۔ ابا جی ان کے ساتھ ملک امین صاحب کے گھر سمن آباد میں ٹھہرے۔ تبسم اور ابا جی صبح 8 بجے پیدل کالج جاتے. فیروز پور روڈ کراس کرتے ہوئے کالج پہنچتے ۔پھر وہ 2 بجے تک لان میں اس کا انتظار کرتے رہتے۔ یہ سلسلہ 15 دن تک جاری رہا یہاں تک کہ تبسم وہاں سیٹل settle ہو گئی۔
    ابا جی اور امّی جان دونوں کو زندگی کے آخری مرحلے میں فالج ہو گیا تھا۔ میری بیگم صاحبہ نے اس مشکل وقت میں ان کی بہت اچھی طرح دیکھ بھال کی۔ میں اس غیر معمولی احسان کے لیے اس کا شکر گزار رہوں گا۔

    ” رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا "

    ’’اے پروردگار
    ان دونوں پر ایسا خاص رحم فرما جیسا
    کہ انہوں نے مجھے بچپن میں پالا اور
    کمال شفقت و رحمت سے میری پرورش
    کی جبکہ میں بالکل عاجز اور لاچار تھا۔‘‘

    آمین

  • جو مری شبوں کے چراغ تھے

    جو مری شبوں کے چراغ تھے

    دادی خدیجہ صاحبہ 1895-1969

    جو مری شبوں کے چراغ تھے

    ہماری دادی جان کا نام نور جہان تھا۔ ان کے تین بھائی اور دو بہنیں تھیں ۔ عبد الجلیل ( طارق کے دادا) عبدا لعزیز( انوار کے دادا) عبدالحق ( میرے نانا) حمیدہ بانو( آفتابِ کی دادی) اور خدیجہ بی بی(اباجی کی تائی)۔ دادی خدیجہ سب سے بڑی تھیں ۔ وہ لاولد تھیں ۔ان کے میاں قاضی محمد جی۔۔ ایک خاندانی جھگڑے میں قتل ہو گئے اور وہ بیوہ ہوکر گنڈاکس سے اپنے پیکے ملہووالے آ گئیں۔

    خدیجہ بانو 1920  میں بیوہ ہوگئی تھیں خدیجہ بانو کے شوہر کی وفات کے بعد ان کی چھوٹی بہن نور جہاں کی شادی ہوئی تھی۔

    اباجی کی بہن ،والد اور والدہ یکے بعد دیگرے 1945 میں فوت ہو گئے۔ اباجی اپنے نانکے ملہووالے آ گئے۔ دادی خدیجہ نے ان کو سنبھالا ۔1946 میں ہماری نانی جان چیچک سے فوت ہوئیں۔ ان کی پانچ بچیاں بھی دادی خدیجہ کی زمہ داری میں آ گئیں ۔ 1949 میں دادی خدیجہ کے والد قاسم صاحب بیمار ہو گئے ان کی خدمت بھی دادی جان نے کی۔

    ہمارے نانا جی  پٹواری تھے ( نون لیگ والے نہیں بلکہ اصلی پٹواری ) ۔وہ نوکری کے سلسلے میں ملہووالے سے باہر رہتے تھے ۔ گاؤں میں انہوں نے  گھاڑویں  ( تراشیدہ  گھڑے ہوئے) پتھروں کا مکان بنایا۔  یہ پتھر بڑی نفاست سے تیسے (تیشے) سےتراشے ہوئے تھے۔

    اس گھر کی سربراہ  دادی خدیجہ تھیں ۔ میرے والد اور والدہ بھی یہیں رہتے تھے۔  آرائیں بابے نانا جی کے مزارع تھے۔ فصل کٹنے پر غلہ پہنچا دیتے تھے ۔ اس گھر کی ڈیوڑھی کی دو سیڑھیاں تھیں۔ سیڑھیاں چڑھانے کے لئے کھوتی کو دھکا لگانا پڑتا تھا ۔دانوں کی بوریاں ۔۔اگے اندر  (next room) میں سٹور کی جاتیں ۔ امی جان کی آٹے والی چکی بھی اسی کمرے میں تھی ۔یہ کمرہ پرائیویسی کی وجہ سے بوقت ضرورت لیبر روم / آئیسولیشن روم بن جاتا۔ ہمارے گھر کے اکثر بچوں نے اسی کمرے میں جنم لیا ۔1973 میں سانپ نے کاٹا تو بحکم  دم سپیشلسٹ بابا صاحب خان مجھے دس دن  کے لیےاس کمرے میں بند کر دیا گیا۔  گرمی کے یہ دن بجلی نہ ہونے کی وجہ سے سخت تھے۔دس دن  مادر مہربان اور طبیب نامہربان کے علاوہ کسی کی شکل نہیں دیکھی۔

    ماسٹر بیڈ روم کا نام وڈا  اندر  تھا۔اس میں دو پلنگ اور  دو چارپائیاں تھیں۔ ان  پر دادی خدیجہ ، خالہ شمیم اور بچہ لوگ سوتے تھے۔ ابا جی کا کمرہ  نواں اندر کہلاتا تھا ۔اس میں دو پلنگ اور ایک چارپائی تھی. پلنگ رنگین پاووں والا جمبو سائز بیڈ ہوتا ھے اس کو صرف سالانہ فرش دھلائی کے موقع پر بڑے اہتمام اور احترام سے اپنی جگہ سے ہلایا جاتا تھا۔ ۔اینٹوں کے فرش کی دھلائی ایک خاص ایونٹ ہوتا تھا۔سکرب برش (scrub) سے رگڑ رگڑ کر اینٹیں صاف کی جاتی تھیں ۔سیمنٹ کے فرش کو سلیٹ فرش کہتے تھے اس کا رواج کم تھا۔  پلنگ بچھانے کا انداز  اینڈ ٹو اینڈ end to end تھا۔ چوڑائی کے رخ اکٹھے دو بیڈ بچھا کر ڈبل بیڈ کا  ٹچ  دینے کا تصور ۔

    برتر از  قیاس و خیال و گمان و  وہم تھا۔

    لمبائی کے رخ بچھے دو پلنگوں پر ایكسٹرا لانگ کھیس ڈالا جاتا۔اس مہا ۔کھیس کا نام  دوہر(dohar) ہوتا تھا ۔

    دادی خدیجہ سلم  سمارٹ پاورفل شخصیت تھیں ۔ ان کا کسی کے گھر جانا یاد نہیں پڑتا۔ سارا دن صبح سے کفتاں (عشاء) تک گاوّں کے مرد و زن آتے رہتے ۔ کوئی مشورہ لیتا۔کوئی سفارش طلب کرواتا۔ کوئی اپنا دکھڑا سنا کر آنسو بہا کر غم ہلکا کرتا۔ کوئی لوکل خبریں سنا کر چلا جاتا۔ ساس اپنی بہو کے گلے کر کے اٹھتی تو تھوڑی دیر بعد بہو اپنی ساس کے ظلم و ستم کا رونا رونے آجاتی ۔

    روزانہ نماشاں (نماز شام) کے بعد بابا نیک اور ان کے بھائی بابا عباس آتے ان بزرگوں سے جو باتیں ہوتیں وہ ہم بچوں کی سمجھ میں نہ آتیں ۔اور بعض اوقات ٹاپک بھی سمجھ میں نہ آتا ۔

    میری دادی اور نانی میری پیدائش سے پہلے فوت ہوگئی تھیں۔  دادی خدیجہ ان دونوں رشتوں کا نعم البدل تھیں۔ ہم لوگ ان کو دادی یا نانی کی بجائے ۔۔ما۔جی۔۔کہتے تھے۔ اور اپنی والدہ کو صرف  ما  کہتے تھے   جی  کے اضافے کے بغیر۔ باقی فیملی کے بچے اپنی والدہ کو امی کہتے۔ وہ ہنستے کہ دیکھو عبدالسلام سکول جاتا  ہے پھر بھی جٹوں کی طرح اپنی والدہ کو  ما   کہتا ہے،امی نہیں کہتا  ۔

    دادی خدیجہ بچیوں کو قرآن مجید پڑھاتی تھیں۔ صبح صبح آٹھ دس بچیاں آجاتیں۔ کچھ سبق پڑھتیں اور کچھ باری باری استاد جی کے گھر کے کاموں میں مدد کرتیں اور کام کرنے کا ۔۔چج اور وسب  ( سلیقہ) سیکھتیں۔ استاد جی کا گھر گویا finishing school.  تھا۔ جھاڑو لگاتیں , ڈھیری (کوڑے)کو ڈھیر پر پھینک کر آتیں، استاد جی کی بکری شریف کو آجڑی ( گڈریے) shepherd کے گھر چھوڑنے جاتیں ، کھوہ سے گھڑا بھر کر لاتیں ۔۔مزید بر آں ۔۔اگر استاد جی کا کوئی کیوٹ سا پوتا / نواسہ ہوتا تو اس کو گود اٹھانے کے لیے آپس میں لڑتیں ۔  چاچے غلام شاہ قاضی کی بیٹی تعظیم باجی سے روایت ہے کہ مِنا عبدالسلام بھی اس قسم کی جنگوں کا سبب بنتا تھا  ۔اس طرح ان کے تین گھنٹے پڑھنے اور سیکھنے اور گزرتے ۔ مُنے عبدالسلام کو گود میں اٹھانے کے قرآن مجید پڑھنے والی بچیوں میں لڑائی ہوتی تو بعض اوقات ماسٹر کرم الہی کی بیٹی ابرار  عبدالسلام کو لےکر پڑوس میں اپنی نانی ۔۔مکھاں ۔۔کے گھر بھاگ جاتی ۔ نانی کہتی ۔۔ای استاداں نا  لوڈا جاکت اے  اس کو کہیں کچھ ہو نہ جاۓ اس کو گھر چھوڑ آؤ ۔

    آداب و اطوار اور پڑھائی میں اچھا ہونے کی وجہ سے بخش جفت ساز (Cobbler) کی بیٹی دادی جان کی منظور نظر تھی ۔اس بچی کی شادی1970میں  الہی بخش سے ہوئی۔ عبدالسلام دولہا کا  سبالا (شہ بالا ـ grooms friend)تھا۔ کھانے میں  لَوت  مانگا تو پتہ چلا کہ اب اس کو  سالن  کہتے ہیں ۔

    فسانے اپنی محبت کے سچ ہیں، پر کچھ کچھ

    بڑھا بھی دیتے ہیں ہم  زیب داستاں کے لئے

    شیفتہ

    دادی جان کا ڈسپلن بہت ٹائٹ تھا۔ گھر کے بچوں ، بڑوں اور  پڑھنے والی بچیوں پر کڑی نظر ہوتی۔ عام طور پر ڈانٹ سے کام چل جاتا۔۔کبھی کبھار برکت کے واسطے ایک آدھ تھپڑ لگا دیتیں۔ اس برکت سے کبھی کبھی اس فقیر کو بھی حصہ مل جاتا۔اپنی بھتیجیوں کی تربیت ان کا سب سے بڑا کام  (concern) تھا۔ وہ تحدیث بالنعمت کے طور پر  فرماتیں۔اللہ کا شکر ہے کہ میری بھتیجیاں میری آنکھ کا اشارہ سمجھ جاتی ہیں ۔مجھے ان کو زبان سے کچھ کہنا نہیں پڑتا۔ بھتیجیوں کی شادیوں میں دادی جان کا فیصلہ حرف آخر ہوتا تھا۔

    دادی خدیجہ صاحبہ بڑی نفاست پسند تھیں ۔ساری عمر ملہووالا کی بنی ہوی دیسی جوتی پہنی۔۔آدھا وضو کچے صحن میں کرتیں۔ پھر مصلے پر بیٹھ کر باؤل (bowl)  میں پاؤں دهوتیں۔ہماری والدہ اور خالہ منیر جسامت ۔شکل و صورت اور نفاست میں اپنی پھوپهی خدیجہ صاحبہ پر گئی تھیں  اور   ان کی  ٹرو  کاپی   تھیں

    , دادی خدیجه جمعرات  کو کھانےپر درود پڑھتی تھیں  ۔ اس کے کچھ الفاظ یاد ہیں ۔ اگر کسی پرانی بڈھی یا پرانی مڈھی کو.. کھانے پر دیے یا پڑھے جانے والے درود 1960 کا version یاد ہو تو اصلاح فرمائیں

    نذر خدا   ارواح محمد  مرسل نبی تمام •

    اولاد انہاں دی ۔زوجات تے جوائی۔

    عالم ۔زاہد۔کل۔

    ما پیو میرا انہاں  تھیں

    بھی استاد خویش قبیلہ کل

    جو کوئی مسلم مرد زن ربا  فا نی ہو

    بدلہ اس درود نا  رہا بخشی سو

    دادی خدیجہ صاحبہ عید کے دن اپنے گھر حلوہ پکانے سے فارغ ہو کر فیملی کے رنڈے بابوں کےگھر جاتیں اور ان کا حلوہ پکاتیں۔

      1942 میں آپا عجائب اپنی پھو پھی خدیجہ بی بی کے ساتھ  چوتھی جماعت کا سنٹرل امتحان کے لیے کمریال گئیں۔  ریاض ہاشمی احمدال کے والد محمد شاہ  کمریال میں استاد تھے۔ انہوں  نے آپا عجائب کو ریوڑیاں دیں۔ یہ چکوال کی پہلوان ریوڑیاں نہیں تھیں بلکہ خلوص مارکہ ریوڑیاں تھیں اسی لئے ان کی لذت آپا عجائب کو پچہتر سال تک یاد رہی ۔آپا عجائب ہماری سب سے بڑی خالہ اور میری بیگم صاحبہ کی والدہ تھیں ۔ان کا انتقال 2020 میں ہوا۔

    دادی خدیجہ بانو کا انتقال 1969میں ہوا۔ اباجی اور چاچا  الطاف اس وقت کیمبل پور میں تھے۔ اباجی اپنے پیر صاحب کے پاس ڈی جی خان گئے ہوئے تھے۔ چا چے الطاف صاحب نے عبدالسلام اور اسکی اپنی بہنوں کو سکول سے چھٹی کروائی اور سب  کو ملہو والا لے گئے۔

    لالاجی اکرام کہتے ہیں- اس وقت میں اپنے والد کے ساتھ راولپنڈی میں تھا۔ پڑوسی فضل داد راولپنڈی افسوسناک خبر لے  کر آیا۔ میں اسے سب رشتہ داروں کے گھر لے گیا۔ راولپنڈی سے گنڈاکس کے لیے صرف ایک بس دوپہر کے وقت روانہ ہوئی تھی۔ نماز جنازہ میں شرکت کے لیے وقت پر پہنچنا ہمارے لیے ممکن نہ تھا۔ چنانچہ مجھے صبح سویرے روانہ کیا گیا تاکہ جنازہ شام تک مؤخر کرنے کی درخواست کروں۔۔ میں نے گنج منڈی لاری اڈہ میں تندور کے پاس رات گزاری۔ ۔پہلی بس سے نکلا اور نوتھیاں سے پیدل ملہو والا پہنچا۔نماز جنازہ شام کو ہوئی لیکن بابا عبدالحق گاؤں سے دور کسی نامعلوم اسٹیشن پر ہونے کی وجہ سے جنازے میں شریک نہ ہو سکے۔

    میری بیگم میری بڑی خالہ کی بیٹی ہیں ۔وہ فرماتی ہیں۔۔دادی خدیجہ صاحبہ کے پاس اندھیرے میں چمکنے والی تسبیح تھی ۔وہ مجھے رضائی میں چھپا کر اس کا تماشا دکھاتی تھیں۔ انہوں نے مجھے نماز کا سبق سکھایا اور نماز ۔۔نتائی ( عملی طور پر پڑھنا سکھایا)۔۔میرے خالہ زاد ۔ڈاکٹر  ثاقب قاضی فرماتے ہیں۔۔۔اللہ دادی خدیجہ صاحبہ از کے درجات بلند فرمائے۔ میری یادداشت میں ان سے وابستہ کچھ یادیں محفوظ ہیں وہ محبت اور شفقت کا پیکر تھیں میرے ساتھ بہت پیار سے پیش آتیں ان کے انتقال کے وقت میری عمر چار سال تھی لیکن ان کی شخصیت کے انمٹ نقوش آج بھی میرے دل کے نہاں خانوں میں محفوظ ہیں

    لَذِیذ بُود حِکایَت دَراز تَر گُفْتَم

     اللہ پاک دادی جان کی مغفرت فرمائے اور ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرمائے۔ آمین

  • ڈگری کالج کیمبلپور، خواجہ سعید اور ڈاکٹر برق

    ڈگری کالج کیمبلپور، خواجہ سعید اور ڈاکٹر برق

    پروفیسر خواجہ سعید 1921میں پیدا ہوئے ۔ان کا تعلق سیالکوٹ سے تھا ۔ان کے والد میونسپل کمیٹی کیمبلپور میں سینیٹری انسپیکٹر تھے اور 1953میں ریٹائر ہوئے ۔ خواجہ سعید کی ایف اے تک تعلیم کیمبلپور میں ہوئی۔1945 میں گورنمنٹ کالج کیمبلپور میں فارسی کے لیکچرار لگ گئے ۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں تیس سال اردو پڑھانے کے بعد 1981میں ریٹائر ہوئے۔انہوں نے اسی مناسبت سے اپنی روداد حیات کا نام ” گورنمنٹ کالج اور میں ” رکھا۔

    کیمبلپور میں تعلیم تین اداروں میں حاصل کی،اور تینوں جگہ چارچار سال پڑھا۔ پرائمری سکول 1955 تک چوتھی جماعت تک تھے۔پھر مڈل آٹھویں تک۔

    1924میں گورنمنٹ کالج کیمبلپور شروع ہوا۔ اس میں بھی چار کلاسیں تھیں۔نویں سے بارہویں تک، یعنی نویں جماعت میں کالجیٹ collegiate کا رتبہ مل جاتا تھا۔  یہی صورتحال اس وقت پنجاب کے آٹھ اور کالجوں میں بھی تھی۔

    کیمبلپور میں ایک ہی پرائمری سکول تھا۔1926 میں خواجہ سعید اس میں داخل ہوئے۔چوتھی میں وظیفے کا امتحان تھا۔ سارےضلعےسے لڑکے مڈل سکول میں امتحان دینے آئے۔حساب اور اردو کا تحریری ٹیسٹ تھا،جغرافیہ کا زبانی تھا ،پورا دن ٹیسٹ ہوتا رہا۔ سعید کو چار سال کے لئے چار روپے ماہوار سکالرشپ ملا۔

    ڈگری کالج کیمبلپور، خواجہ سعید اور ڈاکٹر برق

    ساتویں کلاس میں استاد کمزور بچوں کو فارسی اور لائقوں کو عربی پڑھاتے تھے۔سعید کا نام عربی مضمون میں لکھا گیا۔پھر اس نے لڑجھگڑ کے فارسی کو لیا۔آٹھویں کلاس میں Tonsils کا آپریشن مشن ہسپتال ٹیکسلا سے کروایا۔  اورحسب دستور خوب آئس کریم کھائی۔

    نویں میں فارسی اور سائنس کے مضمون لئے اور تھرڈ ڈیویژن میں پاس ہوا۔ ایف اے میں انگلش ، فارسی،تاریخ اور حساب پڑھا اور سیکنڈ ڈیویژن میں پاس ہوا۔ فرسٹ ڈویژن بہت کم لوگوں کی آئی تھی۔

    کالج کی طرف سے لڑکوں کو ٹیکسلا اور اٹک قلعہ کی سیر کرائی گئی۔ ابیٹ آباد سے پیدل  مری کئی دنوں کا سفر کرایا گیا۔

    کیمبلپور میں صرف ایف اے تک کلاسیں تھیں ۔اس کے بعد لڑکے اسلامیہ کالج پشاور یا گارڈن کالج راولپنڈی چلے جاتے تھے۔ سعید کو آبائی شہر سیالکوٹ میں مرے کالج میں داخل کرا دیا گیا۔

    ایم اے فارسی کے بعد سعید صاحب نے زمیندارہ کالج گجرات بطور لکچرر جائن کرلیا.  1945 میں ڈاکٹر برق محکمہ سول سپلائی میں افسر تعلقات عامہ بن گئے۔انکی جگہ خواجہ سعید  1946 میں کیمبلپور کالج آ گئے۔اس وقت R.B.Seth رام بھیجا مل سیٹھ پرنسپل، مہاویر سنگھ  وائس پرنسپل اور مرزا انعام بیگ عربی کے استاد تھے۔ اجمل صاحب اردو ، صدیق کلیم اردو ، سید مختار حسین ریاضی۔سید فضل علی فزکس کے استاد تھے۔

    ایک موقع پر مرزا انعام نے کالج میں تقریر کی۔ اس کے بعد حسب سابق برق صاحب سٹیج پر پہنچ گئے اور اپنی جوابی تقریر میں مرزا صاحب کا خوب مذاق اڑایا۔ خواجہ سعید نے اجازت لے کر جوشیلی جوابی تقریر کی  ۔اس میں برق صاحب کے دلائل کا رد کیا اور ان کے انداز بیان کا مذاق اڑایا۔ کالج ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔کالج کے اساتذہ کو  برق صاحب کی طرف سے مرزا صاحب کا مذاق اڑانا پسند نہ تھا۔ لیکن سب خاموش تھے۔ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے،ان سب کی طرف سے سعید صاحب نے جواب الجواب تقریر کرکے فرض کفایہ ادا کیا۔اس طرح مرزا صاحب کی جان چھوٹی۔

    پاکسان بننے کے بعد مرزا رشید انڈین ایجوکیشن سروسز IES پرنسپل بنے۔ وہ رہتک میں پرنسپل تھے۔ نومبر 1947  میں خالی ہاتھ ہوائی جہاز سے پاکستان آئے۔

    انہی دنوں ڈاکٹر برق کالج واپس آ گئے۔اس وجہ سے خواجہ سعید کو اٹک کالج چھوڑنا پڑا۔ انہوں نے چند ماہ سنٹرل ماڈل سکول لاہور اور ہائی سکول کیمبلپور میں پڑھایا ۔1950 میں ان کو گورنمنٹ کالج لاہور میں لیکچرر شپ مل گئی

  • خد و خال

    خد و خال

                                                    گورنمنٹ کالج کیمبل پور جس کواب گورنمنٹ کالج اٹک کہاجاتا ہے۔ گورنمنٹ کالج لاہور کے بعدغالباًپنجاب کاسب سے پراناکالج ہے۔ روایت ہے کہ انتخابات جیتنے کی خوشی میں جب سرسکندرحیات مرحوم نے اپنے ضلع کوکوئی انعام دیناچاہا توکوئی بھلا وقت تھااورکسی بھلے آدمی کے منہ سے بات نکل گئی کہ یہاں کالج بنادیاجائے اور پھرکالج بن گیا۔ اس کالج کے عملے میں بڑے بڑے نامی پرنسپل اور پروفیسررہے۔ جہانگیر، اشفاق علی خان، ایف اے قریشی،کمانڈرظہوراحمد،ڈاکٹرغلام جیلانی برق، پروفیسرمحمدعثمان، شریف کنجاہی اور منیراحمدشیخ۔ کہتے ہیں جہاں سے سیلاب گزرجائے، زمین بہت زرخیز ہوجاتی ہے۔ زمین تواس ضلع کی ہمیشہ سے زرخیزرہی ہے مگربارانی ہے، بارش برسے توہریالی چھتوں اور دیوراں پر بھی اُگ آتی ہے۔ مذکورہ اساتذہ کے فیضِ تربیت سے یوں توہر میدان میں جوہرِ قابل سامنے آتے رہے، لیکن فوج اور ادب میں ’’کیمبل پور سکول آف تھاٹ‘‘ خاص طور سے نمایاں رہا۔ جہاں جنرل اختر اور جنرل علی سرفراز اور جنرل اقبال کے علاوہ ایرمارشل نورخان، انورشمیم اورکرامت رحمن نیازی کے حوالے سے کیمبل پور نے زمین،ہوا اور پانیوں پر پاکستان کاپرچم بلندرکھا۔ وہاں سیدضمیرجعفری، منظورعارف، فتح محمدملک، شورش ملک، منوبھائی، شفقت تنویرمرزا، عنایت الٰہی ملک، خالد، خاور رضوی، انوارفیروز،عبداللہ راہی اورممتازمختار جیسے لوگوں نے ادبی فتوحات کی فہرست میں بھی کیمبل پور کے نام کونیچے آنے دیا نہ مدھم ہونے دیا۔ سلطان محمودبسمل کانام بھی اسی فہرست میں شامل ہے۔ وہ زمانوی اعتبارسے عبداللہ راہی، انوارفیروز اور خاوررضوی سے مقدم، سیدضمیرجعفری اورمنظورعارف سے موخر تھے۔ ان کاشمارگورنمنٹ کالج کیمبل پور کے اس ادبی ٹولے میں ہوتاہے جس میں فتح محمدملک، شورش ملک،عنایت الٰہی ملک، منوبھائی اور شفقت تنویرمرزا نمایاں ہیں جبکہ الطاف جعفری، محمداعجاز اور نسیم پڑوی ادبی اُفق سے غروب ہوکر علی الترتیب زمینداری، ضلعی سیاست اورتجارت میں دمک رہے ہیں۔ اس وقت ایسالگتاتھا کہ یہ ساراعلمی وادبی قافلہ دوہرے شمسی نظام کی ایک دوسرے سے متصادم کششِ ثقل کے درمیان جیسے ساکت ساہو کررہ گیا ہے۔ یہ دوبظاہرمتصادم فکری نظام جن دوہستیوں کے دم سے قائم تھے، ان کوعلمی وادبی دنیاڈاکٹرغلام جیلانی برق اورپروفیسرمحمدعثمان کے ناموں سے شناخت کرتی ہے۔ پہلاعلم وادب کاآفتاب، پچھلے برس اس ظاہری دنیاکے اُفق سے غروب ہوگیا ہے اوردوسرا داتاکی نگری میں آج بھی روشن ہے جس کی کچھ کرنیں کبھی کبھی روزنامہ جنگ کی وساطت سے ہم دوردراز کونوں کھدروں میںبسنے والے لوگوں کوبھی اپنے ہونے کااحساس دلاتی رہتی ہیں۔

    sultan mehmood bismil
    سردار سلطان محمود خان بسملؔ مرحوم

                                                    لوگ تو کہتے ہیں کہ ڈاکٹر برق مرحوم کاتعلق دائیں بازوسے تھااورپروفیسرعثمان کاجھکاؤ بائیں بازو کی طرف رہا ہے لیکن ذراگہرااُتر کر دونوں کے افکارکامشاہدہ کیاجائے تویہ ظاہری تضاد ایک حدتک جاکرختم ہوتاصاف نظرآتاہے۔ کیمبل پور کالج کے یہ دونوں عبقری اپنے اپنے راستے سے کچھ دورجاکراسی بڑے فکری دھارے میں گم ہونے لگتے ہیں جواللہ کی طرف سے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کی وساطت سے نوعِ بشر کی پیاس بجھانے اُتراتھا۔ ڈاکٹربرق اپنے علمی خاندانی پس منظر سے نکل کرقرآن اور حدیث کے گہرے مطالعے کے بعد اورپروفیسرعثمان تفہیمِ اقبال کے مقصدسے آگے بڑھتے ہوئے فلسفۂ اسلام کی گہرائیوں میں غوطہ زن ہوکراسی معاشی ومعاشرتی عدل کے مرکز تک آپہنچتے ہیں جس نے عالمِ انسانیت کاالفقرفخری کے شعورسے نوازا اور جس میں فقراپنی تمام تر بوریانشینی کے باوصف قیصروکسریٰ کے ایوانوں کو تھرتھرادینے کی صلاحیت رکھتاتھا۔

                                                    اگرمیرامشاہدہ غلط نہیں توکیمبل پور دبستان کاہررکن دائیں سے اپنے ذہنی سفرکاآغاز کرے یا بائیں سے، بالآخر اسی مرکزپرآن ٹھہرے گا جہاں سے دایاں اوربایاں سب اپنامفہوم اخذ کرتے ہیں۔سلطان محمودبسمل کوبھی اگر آپ دورسے دیکھیں تو تحصیل فتح جنگ کے ایک بڑے زمیندار گھرانے سے متعلق ہونے اورعہدے کے اعتبارسے مجسٹریٹی اختیارات کاحامل ہونے کی بناء پروہ آپ کو جاگیرداری اور بیوروکریسی کانمائندہ نظرآئے گا مگراس ظاہری خول کے اندرجھانک کردیکھیں توآپ کی ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوگی جس کے دل میں ہرانسان کے لیے پُرخلوص جذبات، سب کے لیے ایک عمومی دردمندی اورمحبت کی فراوانی ہے۔ یہی وہ اندرکاشخص ہے جواس کی غزل کے دریچوں سے جھانکتا نظرآتا ہے۔

                                                    جب فطرت کی آزادنعمتیں جوسب انسانیت کاحق ہیں، کوئی ایک آدمی یاایک طبقہ سمیٹ لیناچاہتاہے تووہ ضروراحتجاج کرتاہے۔ جہاں کمزور پر طاقتورکاہاتھ اُٹھتا ہے تووہ ضرور آواز اٹھاتا ہے۔ انسانیت میں مظلوم اور ظالم کی تقسیم اورمحکوم حاکم کاامتیاز اس کوگوارا نہیں۔ منافقت کووہ برداشت نہیں کرتا۔ کم ظرف لوگوں سے اس کی نبھ نہیں سکتی۔ میں سمجھتا ہوں کہ شاعرکے اندر کایہ سچاکھراآدمی ہی دراصل جملہ انسانی اچھائیوں کی تجسیم اور صحیح انسانی فطرت کی تعبیر ہے اوراسی اندر کے آدمی سے غزل کے رشتے استوار ہوتے ہیں۔ غزل میں جب باہر کاآدمی بولنے لگے وہ اپنے تخلیقی معیار سے گرجاتی ہے۔ بسمل کی ہرغزل میں ہم اس کے اندر کے سچے اور کھرے آدمی سے متعارف ضرور ہوتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ کہیں وہ صرف ایک آدھ جھلک دکھاکراوجھل ہوجاتا ہے اورکسی غزل میں دوچار قدم آگے تک ہمارے ساتھ چلتاہے۔ اختصار کے لیے میں صرف چند ایک مثالیں پیش کروں گا:

    ع:کوئی تو ہو جسے سچ بولنے کایارا ہو

                                                    (یہ مصرعہ اکیلا ہی اتنااونچا ہے کہ دوسرامصرع اس کاساتھ نہیں دے پاتا)

    ایسا کانٹا چبھا ہے پاؤں میں
    چلنا مشکل ہوا ہے گاؤں میں

    کاٹ لو گے جو سایہ دار شجر
    کیسے بیٹھو گے ٹھنڈی چھاؤں میں

    پہلے دھرتی کے روگ ختم کرو
    پھر بسیرا کرو خلاؤں میں

    یہ عادی ہوگئی ہیں آدمی کا خون پینے کے
    اب ان آباد سڑکوں سے تو ویرانے ہی اچھے ہیں
    بھلی لگتی ہے یوں تو ہر نئی شے اس زمانے میں
    مگر احباب بسمؔل جانے پہچانے ہی اچھے ہیں

    بے سرو سامان تھے جو کل تک گداؤں کی طرح
    تمکنت میں آج ہیں وہ بادشاہوں کی طرح


                                                    اُردو غزل کسی بھی دور میں سیاسی شعور سے یکسرمحروم نہیں ملے گی۔ یہ الگ بات ہے کہ قدیم شعرا جن علامتوں اور استعاروں میںاظہارکرتے تھے، زمانوی بُعد کی بنا پراس کا ابلاغ خاطرخواہ نہیں ہوپاتا۔ 1857ء کے بعدحالی کے ہاں نسبتاً کم اور اکبر کے ہاں زیادہ واضح صورت میں اس کااظہار ملتا ہے۔ اس کے بعدعلامہ اقبال اور کسی حدتک حسرت، فانی، اصغر، جگرتک کی تمام اُردو غزل اپنے دور کے حالات اور رجحانات کے مطابق سیاسی سوچ کی لہریں باقاعدگی کے ساتھ اپنے اندر محفوظ کرتی چلی آتی ہے۔ انجمن ترقی پسندمصنّفین کے زیرِاثر بالخصوص تقسیم ملک کے بعدتک یوں لگتاہے کہ غمِ جاناں پرغمِ دوراں کاعنصرغالب آگیا ہے۔ ترجیحات کا یہی رجحان اب تک جاری ہے۔ جدیدتردور میں ترقی پسندانہ نقطۂ نظر اگرچہ اس سوچ کاواحدمحرک نہیں رہا۔ بسمل کی غزل اس سلسلے میں بھی اپنے دورکے رجحانات کاساتھ دے رہی ہے۔

    ہر ایک شخص اسی کی دہائی دیتا تھا
    بڑا عجیب سا منظر دکھائی دیتا تھا
    محل کے سامنے اک شور تھا قیامت کا
    امیرِ شہر کو اونچا سنائی دیتا تھا

                                                    شخصی اخلاص اور سیاسی شعور کے علاوہ بعض دوسرے پہلوبھی ایسے ہیں جہاں بسمل نے غزل کی وساطت سے اپنی شناخت کرانے کی کوشش کی ہے اور عام روایتی انداز کے شعرا کی قطارکوتوڑا ہے۔ دراصل بسمل کامسئلہ یہ رہاہے کہ شاعری میں اپنے جن دوستوں سے صرف مشورے کی حدتک متاثررہا،مثلاً مرزانعیم بیگ مرحوم اور جن مہربانوں سے باقاعدہ اصلاح لی، وہ غزل کے روایتی حسن کے رسیاتھے،چنانچہ بسمل کے ہاں بھی غزل کے جونئے تیورپڑھنے والے کومتوجہ کرتے ہیں، وہ روایتی خدوخال ہی کے اندرسے ابھرتے ہیں۔ اس اعتبارسے ہم بسمل کوان شعراکی صف قدیم کی جانب جھکاہوارہتاہے۔ ان روایتی خدوخال میںجدیددور کاشعورجہاںجہاں دمکتاہے، بڑامزہ دیتاہے، مثلاً:

    منصور تو نہیں ہوں پہ منصور کی طرح
    نظارہ ہائے دار ورسن دیکھتا ہوں میں

    کچھ حسرتیں ہیں نقش ونگارِ حریمِ دل
    اس قصرِ خستہ حال کا درباں ہوں کیا کروں

    پوچھیں گے نہ وہ حال اگر اپنی زباں سے
    مرجائیں گے اظہارِ تمنا نہ کریں گے

    پہلے وہ میرے نام سے بے زار تھا مگر
    وردِ زباں ہیں اب مرے اشعار دیکھنا

                                                    جملہ حالات وکیفیات اور حسن وجمال کے اندازواطوار کوکسی واحدماخذ سے وابستہ محسوس کرنایاخارجی احوال وحاڈثات کی کثرت کوکسی وحدت کی سمت میں ھرکت دیناہماری اُردوغزل کاابتداہی سے ایک نمایاں فکری رجحان رہا ہے۔ بسمل کی وہ پوری غزل جس کاقافیہ،بہار، نکھاروغیرہ ہے۔ اس رجحان کی ایک عمدہ مثال ہے۔ میں صرف ایک شعرکاذکر کروں گا۔ باقی اشعار آپ خودملاحظہ فرماکراس بات کی تصدیق کرسکتے ہیں:

    ترے بدن کی  مہک ہے صبا کے دامن میں
     ہر عندلیبِ چمن، نغمہ بار تجھ سے ہے

                                                    آخر میں،مَیں ضلع اٹک کے مقتدرکھٹڑقبیلے سے متعلق اس شخص کے بارے میں بتاتا چلوں کہ زندگی میں اپنے قبیلے کی مانند بڑے اتارچڑھاؤدیکھنے کے بعد بھی اس کی فطرت سے ’’بوئے سلطانی‘‘ نہیں گئی اور میرے مشاہدے کے مطابق اس خاص پہلومیں یہ اپنے قبیلے کی بڑی درست نمائندگی کررہا ہے۔ اگرچہ عقیدت کی بناپراس نے اس سلطانی کی علت کارخ نعت کی طرف موڑ دیا ہے، شعر دیکھیں:

    درِ سلطانِ عالمؐ کا میں اک ادنیٰ گداگر ہوں
    مری فطرت سے بسملؔ بوئے سلطانی نہیں جاتی

                                                    اپنی بڑائی کاشعوررکھتے ہوئے اپنے آپ کو کسی بہت بڑی بلکہ،بہت ہی بڑی ہستی کے ساتھ وابستہ کرلینا، اس کے قبیلے کی پہچان بھی ہے اوراس کی اپنی پہچان بھی۔ ’’سلطان‘‘ اور ’’بوئے سلطانی‘‘ کے باہمی فرق کاجولوگ تجربہ رکھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ ’’سلطانی‘‘ کے دورکاگزرجاناایک مسلمہ اصول اورایک تاریخی واقعیت ہے۔ اس لیے معمول کی بات ٹھہری مگر سلطانی جاتے جاتے اپنے پیچھے جوایک شاہانہ مزاج اور بلندذہنی معیارچھوڑ جاتی ہے، میرے نزدیک دکھ اور کرب کابنیادی مآخذوہی ہوتاہے۔ اگرآپ اس کرب کاتجربہ رکھتے ہیں تو ’’ساغرِ سم‘‘ کے ذریعے شناخت کرنے میں آپ کوکوئی دقت نہیں ہونی چاہیے اوراگرآپ اس تجربے سے نہیں گزرے توبسمل کی غزل اس سے متعارف کرانے میں یقینا آپ کی معاونت کرے گی۔

    ڈاکٹرسعداللہ کلیم