Tag: کیمبل پور

ضلع اٹک کا اولین اور قدیم نام کیمبل پور تھا جو سر جان کیمپبل سے موسوم تھا۔

  • اٹک میں فن موسیقی کابانی گھرانہ

    اٹک میں فن موسیقی کابانی گھرانہ

    تحریر و تحقیق رضا سید

    اٹک شہر میں کئی دہائیوں سے مقیم فن موسیقی کا استاد گھرانہ جس نے نہ صرف پاکستان میں بلکہ عالمی سطح پر اپنے فن کا لوہا منوایا ۔

    استاد فقیر حسین خانصاحب
    استاد فقیر حسین خانصاحب


    استاد فقیر حسین نے پنجاب بینڈ کی بنیاد رکھی مجھے یاد ہے کہ ہر متمول گھرانے کی شادی میں نوے کی دہائی میں خصوصی اہتمام اور مخصوص وردی میں ملبوس پنجاب بینڈ جب اپنے فن کا جادو جگاتا تو سماں بندھ جاتا ۔استاد فقیر حسین مرحوم نے مسلح افواج کے بینڈز کو کئی لائق شاگرد دئیے جنھوں نے سرکاری بینڈ میں بہت نام کمایا ۔

    استاد فقیر حسین کی رحلت کے بعد انکے بیٹے استاد دلاور حسین نے بینڈ کی کمان سنبھالی اور فن موسیقی کو اٹک میں چار چاند لگا دئیے پنجاب میوزک اکیڈمی کی بنیاد رکھی ان کے ہونہار شاگرد ملکی سطح پر فن کا مظاہرہ کر آئے ان کی پیروی میں اٹک میں میوزک اکیڈمیز معرض وجود میں آئیں مگر یہ میوزک کا بانی گھرانہ اپنی مثال آپ ہے ۔

    استاد دلاور خانصاحب
    استاد دلاور خانصاحب

    استاد دلاور کی ناگہانی موت نے اس گھرانے کو دکھ و الم میں مبتلا کردیا ۔

    اس موقع پر استاد فقیر حسین کے سب سے چھوٹے فرزند استاد ناصر حسین نے نا صرف فن موسیقی کی روایات کو سنبھالا بلکہ اکیڈمی کو عالمی سطح پر متعارف کروایا ناصرف گائیکی کی خداد صلاحیتوں سے مالا مال شخصیت ہے یہ مرے کلاس فیلو بھی ہیں سکول وقت میں ہم پی ٹی وی کی تعلیمی دورہ پر گئے تو مجھے یاد ہے کہ ناصر نے وہاں میوزک کے استاد کو ایک غزل سنائی وہ استاد مبہوت ہوگئے یہ ہی ناصر ملائشیا دوبئی ہانگ کانگ سنگا پور میں بطور گائیک اپنے لوہا منوا کرآئے اور ملک پاکستان اور اپنے شہر کا نام روشن کیا آج بھی وہ ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام اٹک آئڈل اپنی مدد آپ کے تحت چلا رہے ہیں جس کو ملکی سطح پر پزیرائی ملی ۔

    ناصرحسین صاحب
    ناصرحسین صاحب

    ہماری کوشش ہے اٹک کے اس عظیم ٹیلنٹ کو نئی نسل سے بھی متعارف کروائیں جلد استاد ناصر حسین کا ڈائری ٹی وی پر تفصیلی انٹرویو نشر کیا جائے گا ۔


    از رضا سید

    رضا نوشت، رضا سید کی تحریریں
    رضا نوشت، رضا سید کی تحریریں

  • ہم دونوں پر یہ وقت کا جادو سا چل گیا

    ہم دونوں پر یہ وقت کا جادو سا چل گیا

    ہم دونوں پر یہ وقت کا جادو سا چل گیا
    تُم بھی بہت بدل گئے، میں بھی بدل گیا
    جیسے یہ دن نہیں تھا، کسی خوف کا تھا بُھوت
    جیسے تھا ایک سایہ سرِ شام ڈھل گیا
    دیوارِ خستہ اور شکستہ سے بام و دَر
    لیکن وہ دستِ عزم کے بَل پر سنبھل گیا
    بازار تو بھرے تھے مگر جیب خالی تھی
    لیکن یہ دل کہ طِفل کی طرح مچل گیا
    اک پَل کے فیصلے سے مرے خوف مٹ گئے
    خطرہ تمام عمر کا اک پَل میں ٹل گیا
    دن رات اب تو ایسے گزرتے ہیں جس طرح
    ڈھلوان سی زمین سے پاؤں پھسل گیا

    کلام: عمران اسؔد

    عمران اسد
    عمران اسؔد پنڈیگھیب حال مقیم مسقط عمان

  • قُرآن کی رُو سے حق اور باطل  کیا ہے ؟-2

    قُرآن کی رُو سے حق اور باطل کیا ہے ؟-2

    پہلی قسط میں یہ بیان کر دیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ ہی حقِّ مطلق ہے، جس کی حقیقت میں کسی بھی طرح کے ذرہ برابر بُطلان کی گُنجائش نہیں ہے، پس حق کُلی طور پر ذاتِ واجبُ الوجود میں ہی منحصر ہے اللہ تعالیٰ نے انبیاؑء کو پیغمبر گرامی صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم کو بھی حق قرار دیا ہے کیونکہ پیغمبروں کی نبوت بھی حقِّ مطلق کی طرف سے واقعیت اور حقیقت کی حامل ہے اور سورۃ قصص کی آیت 47، 48 میں پیغمبر کا حق کے مصداق کے طور پر تعارف ہوا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ
    رَبَّنا لَولآ اَرْسَلْتَ اِلَيْنَا رَسُوْلاً فَنَتَّبِعَ آيٰتِكَ وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ * فَلَمَّا جَآءَھُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْ لَا اُوْتِیَ مِثْلَ مَآ اُوْتِیَ مُوْسٰی ط اَوَلَمْ يَكْفُرُوْا بِمَآ اُوْتِیَ مُوْسٰی مِنْ قَبْلُ ج
    وہ کہتے ہیں اے پروردگار ! تونے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہیں بھیجا تاکہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اس پر ایمان لے آتے ، لیکن جب ہماری طرف سے ان کے پاس حق (محمد صل اللہ علیہ وآلہ وسلم) آ گیا تو کہنے لگے کہ وہ موسیٰ جیسا معجزہ لے کر کیوں نہیں آیا، کیا انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کے معجزہ کا بھی انکار نہیں کیا تھا

    close up of text on paper
    Photo by Tayeb MEZAHDIA on Pexels.com


    یہاں نبی اور معجزہ دونوں کو حق قرار دیا گیا ہے
    قُرآنِ مجید روزِ قیامت کو حق قرار دیتا ہے کہ قبروں سے اُٹھنا، اعمال کا حساب و کتاب ، ایک نئی، مکمل اور ابدی زندگی کا آغاز ایسے حقائق ہیں جن کی تمام پیغمبروں نوید دی ہے، اور اس پر یقینِ کامل کے بغیر دین معنوی لحاظ سے تکمیل نہیں پاتا سورۃ شوریٰ کی 18 ویں آیت میں قُرآن یُوں گویا ہوا کہ
    يَسْتَعْجِلُ بِھَاالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِھَا ج وَالَّذِيْنَ آمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْھَا وَيَعْلَمُوْنَ اَنَّھَاالْحَقُّ ط
    کافر لوگ قیامت کے برپا ہونے کا انکار کرتے ہیں اور ایمان لانے والے اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ حق ہے،
    اور سورۃ یونس کی آیت 53 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ
    وَيَسْتَنبِعُوْنَكَ اَحَقٌّ ھُوَ ط قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْ اِنَّه، لَحَقٌّ ط وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ *
    اے رسول صلی اللہُ علیہ وآلہ وسلم) وہ آپ سے سوال کرتے ہیں کہ کیا قیامت حق ہے کہہ دیجیئے کہ مجھے اپنے پروردگار کی قسم ہے کہ یہ (قیامت) حق ہے اور تمہارے لیے گریز کی کوئی راہ نہیں
    اور حلال مال جو مقروض کے ذمہ واجب الادا ہے اسے قرض خواہ کا حق قرار دیتا ہے اور یہ حقِّ نسبی ہے کیونکہ اس مالِ حلال کے حاصل کرنے میں اس کے مالک نے جو کوشش اور محنت کی اُس نے اُسے اس مال کا حقدار بنایا ورنہ مالکِ حقیقی تو اللہ تعالیٰ ہی ہے چنانچہ سورۃ بقرۃ کی آیت 282 میں اسے حق قرار دیا گیا،
    یہ تو ہوگئی حق و باطل کی تفصیل اب یہاں میرے ذہن میں یہ سوال اُبھر رہا ہے کہ کیا حقوق و فرائض بھی اسی زمرے میں داخل ہیں تو مجھے اس بات کا جواب بہت سی قُرآنی آیات سے ملا مثلاً سورۃ النساء آیت 17 میں ارشاد ہو رہا ہے کہ
    یَا اَھلَ الکِتَابِ لَا تَغلُوا فِی دِینِکُم وَلَا تَقُولُوا عَلَی اللهِ اِلَّا الحَقّ
    اے اہلِ کتاب اپنے دین میں غلو نہ کرو، اور اللہ کی طرف حق اور واقعیت کے علاوہ کوئی اور نسبت نہ دو،
    اور سورۃ لقمان کی آیت 33 یوں راہنمائی کر رہی ہے کہ
    اِنَّ وَعدَاللہِ حَقُُ فَلَا تَغُرَّنَّکُم الحَیاۃُ الدُّنْيَا
    بےشک اللہ کے وعدے سچ اور واقعیت رکھتے ہیں، دنیاوی زندگی تمہیں کہیں دھوکہ نہ دے
    ان آیات سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ دنیاوی معاشرتی زندگی میں بننے والے قوانین کی بنیاد کہیں اپنی یا عوام کی خواہشات کے مطابق نہ رکھ لینا بلکہ وہ قوانین اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ انسانی سعادتوں کے امین ہوں جو فطرت و آفرینش کے خلاف نہ ہوں یعنی انسان کی ہر خواہش کو اس کا حق نہیں قرار دیا جا سکتا ، نشہ آور اشیاء چاہے تمام انسانوں کی خواہش ہو ان کا حق نہیں قرار دی جا سکتیں بلکہ ایسا قانون حقِّ مطلق اللہ کے ہاں باطل قرار پائے گا، قُرآن جس مقام پر بھی اللہ واحد و یکتا کی پرستش کے بارے میں بات کرتا ہے تو بلا فاصلہ فطرت و آفرینش کی بات کرتا ہے جیسا کہ سورۃ روم کی آیت 30 میں ارشاد ہوا
    فَاَقِمْ وَجْھَكَ لِلدِّيْنِ حَنِيْفاً ط فِطْرَةَ اللهِ الَّتِیْ فَطَرَالنَّاسَ عَلَيْھَا ط لَا تَبْدِيْلَ لِخَلْقِ اللهِ ط ذَالِكَ الدِّيْنُ الْقَيِّمُ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَالنَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ *
    اللہ کے سچے دین کی طرف رُخ کرو، وہ سچا دین جو اللہ کی آفرینش و خلقت ہے اور اُس نے اسی بنیاد پر انسانوں کو خلق کیا ہے، اللہ کی خلقت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی، یہی محکم اور استوار دین ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے

    یہ وہ منزِل ہے جہاں قُرآن و اسلام حقوق کے دیگر اداروں سے جُدا ہو جاتا ہے ہر وہ عمل جس سے قُرآن نے روک دیا اس سے رُک جانے میں ہی بھلائی ہے بےشک وہ کتنا ہی بھلا کیوں نہ لگے، اور ہر وہ کام جس کے کرنے کا حکم قُرآن نے دے دیا اُس پر عمل میں بھلائی اور خیر ہے چاہے وہ کتنا ہی بُرا کیوں نہ لگے، قُرآن کی نظر میں وہی قانون حق ہے جس پر عمل سے انسان اپنے رب کی قُربت کا حقدار ٹھہرے، اور وہی قانون فطرت پر مبنی ہو گا اور انسان کی سعادت اور خُوش بختی کا ضامن ہو گا، تو پس میرے محترم قاری قُرآنی قوانین، حقوق و فرائض کا منبع و مآخذ بھی حقِّ مطلق کی طرف سے انسانی سعادتوں کے لیے ہے اور منزل اُخروی و ابدی کامیابی ہے

  • کیمبل پور سے اٹک تک – 3

    تحریر: سیدزادہ سخاوت بخاری

    ذکر ہورہا تھا تولہ رام بلڈنگ کا ، جو اس شھر کے ماتھے کا جھومر ہے ۔ جب بھی کیمبل پور جاتا ہوں ، آتے جاتے ، فن تعمیر کا یہ شاھکار مجھے ، ماضی کے جھروکوں میں لے جاتا ہے ، کیسا نقشہ نویس تھا ، کون تھے معمار ، کسے داد دوں ، تولہ رام کو ، آرکیٹیکٹ کو یا جس نے تیسی کرنڈی چلائی ، کہاں گئے یہ لوگ ، سنا تو یہ ہے کہ ہم علوم و فنون میں بہت آگے بڑھ گئے ہیں لیکن اب ایسے شاھکار کیوں تخلیق نہیں ہوتے ، یہی سوچیں مجھے تاریخ کے وسیع و عریض میدانوں میں لے جاتی ہے ، وادئ بابل و نینواء کی سیر کو نکل جاتا ہوں ، جہاں تہذیب و تمدن نے جنم لیا ، منارہ بابل کی تعمیر ہوئی ، کہ جس پر بیٹھ کر بابلی لوگ ستاروں کا حساب کتاب کیا کرتے تھے ، یہ قصہ حضرت مسیح کی آمد سے بہت پہلے کا ہے، جب بابل شھر میں معلق باغات اگائے گئے ، چاہ بابل جس میں دو فرشتے ھاروت و ماروت آج بھی زنجیروں میں بندھے الٹے لٹکے ہوئے ہیں ، موجود ہے ، لیکن اس کے معمار نظر نہیں آتے ۔قارئین سوچ رہے ہونگے کہ شاہ جی آپ ہمیں کیمبل پور کی سیر کرانے نکلے تھے ، یہ بابل اور نینوا ، منارہ بابل اور ھاروت و ماروت کہاں سے آگئے ، ھاں بھئی صحیح کہ رہے ہیں آپ ، لیکن ، تاریخ کو ساتھ لیکر چلنا بھی ضروری ہے ۔

    اھل بابل نے تہذیب و تمدن کو جنم دیا ، فن تحریر اور علم نجوم کے موجد بھی یہی بابلی ہیں لیکن پھر کیا ہوا ، آج وہی عراق لخت لخت ہے ، نااھل حکمرانوں نے قوم کا شیرازہ بکھیر کے رکھ دیا ، جہاں منارہ بابل اور معلق باغات کے معمار پیدا ہوئے ، آج وھاں خودکش بمبار اور داعش کے پالتو درندے ، اپنے آباء کی لکھی ہوئی تاریخ کو اپنے ھاتھوں مٹانے میں مصروف ہیں ۔ یہی کام ہم نے کیمبل پور کے ساتھ کیا ، چھوٹا سا ، پرامن اور صاف ستھرا شھر ، افغان مہاجرین اور دیگر گھس بیٹھیوں کے در آنے سے ، غلاظت کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکا ہے ، شھر کا دلکش آرکیٹیکچر بے ھنگم تعمیرات نے تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ، اب بالکونیاں ہیں نہ جھروکے ، ڈیوڑیاں ہیں نہ چوبارے ، عمرانی حسن و خوبصورتی کی تباہی تو ایک طرف ، موٹر سائیکل ، سوزوکی ، ٹریکٹر ٹرالی ، پتھارے اور چنچی کی یلغار کو دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ٹڈی دل نے ھرے بھرے کھیتوں پہ حملہ کردیا ہو ۔ اس کا ذمہ دار کون ہے ؟ ہم یا کوئی اور ؟ یہ کام بلدیہ اور بلدیاتی نمائندوں کا تھا کہ شھر کے تاریخی حسن کو برقرار رکھتے ۔ نئی تعمیر ہونیوالی عمارات کے لئے کوئی کوڈ آف آرکیٹیکٹ ہوتا ، پرانی تاریخی عمارتوں کو محفوظ کیا جاتا ، شھر کے بنیادی ماسٹر پلان کو سامنے رکھ کر تعمیرات کی اجازت دی جاتی لیکن نہائت افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ سب کے سب ڈنگ ٹپاو تھے ، اپنے عھدے اور سیٹ سے تو پیار تھا ، شھر کو لاوارث چھوڑ دیا ۔ باھر سے آنیوالے خودکش بمباروں نے کچھ مقامی مفاد پرستوں کے ساتھ مل کر میرے کیمبل پور کا حلیہ بگاڑ دیا ۔ معاف کیجئے فرط جذبات میں کہاں سے کہاں نکل گیا ، آئیے آپ کو کیمبل پور کی پرانی آبادی کی سیر کراوں ۔ یہ تو پہلے بیان کرچکا ہوں کہ پرانا شھر پلیڈر لائن سے شروع ہوکر چھوئی روڈ پہ ختم ہوجاتا تھا ۔ مغرب کی طرف عیدگاہ محلہ ہے ، اسے ایک زمانے میں گڑیالہ محلہ بھی کہا جاتا تھا کیونکہ موضع گڑیالہ کے خوانین یہاں آباد تھے ۔ یہ آبادی بھی تقسیم سے پہلے کی ہے ۔ ماڑی موڑ کے سامنے سے لیکر پرانے قبرستان تک چند پرانے گھر طولا پھیلے ہوئے تھے ۔ اس کے عقب میں جانب ریلوے اسٹیشن کوئی آبادی نہ تھی بلکہ سفید ریت کا ایک چھوٹا سا صحراء تھا۔ ادھر آجائیں ، چھوئی روڈ کے ساتھ موجودہ کرسچین کالونی سے لیکر سڑک کے ساتھ ساتھ محلہ عید گاہ تک ، بیچ کا یہ علاقہ زرعی فارمز پہ مشتمل تھا جسے ہم اپنی زبان میں ” کھوہ ” کہتے ہیں ۔ کرسچین کالونی سے متصل پہلوان افضل خان مالک ناز ہوٹل کا کھوہ تھا ، اس سے آگے ملک امین اسلم آف شمس آباد کا کنواں اور تین اور کھوہ تھے ، جہاں سبزیاں اور دیگر اجناس اگائی جاتی تھیں ۔ اس طرح سے آخر میں محلہ عیدگاہ ایک الگ تھلگ آبادی تھی ، جہاں عیدگاہ اور ڈنگر ھسپتال انگریزوں نے تعمیر کرائے ۔ آخر میں بلدیہ کیمبل پور کی طرف سے انگریز دور میں منظور کیا گیا ، پہلا قبرستان ، جو ریلوے لائن پہ جاکر ختم ہوجاتا ہے ۔ ریلوے لائن کی پرلی طرف والا قبرستان بہت بعد میں قائم ہوا۔ شھر کا مشرقی حصہ یعنی محلہ مہر پورہ ، یہ آبادی بھی پرانی ہے ، ریلوے کی حدود کے ساتھ ساتھ ، کامرہ روڈ سے شروع ہوکر جانب مغرب ایک قطار کی شکل میں موجود تھی ۔اس سے آگے صرف زراعت فارم تھا جو آج بھی موجود ہے ، یہ شھر کی آخری آبادی تھی اس کے بعد کھیت کھلیان اور اجاڑ بیابان ۔کامرہ روڈ کے مغرب میں ریلوے لائین کے بعد بلدیہ کی محصول چونگی تھی جہاں باھر سے آنے والے مال اسباب اور سامان تجارت پہ محصول یا ٹیکس وصول کیا جاتا تھا ۔ اس کے ساتھ دوچار پرانے گھر تھے ، اس سے آگے اور پیچھے زرعی زمینیں ، جہاں گندم اور چنے کی فصلیں کاشت ہوتی تھیں ۔ سول ھسپتال ایوب خان کے دور میں تعمیر ہوئی اور شھر کے لوگ حکومت کو کوسنے دیتے تھے کہ کہاں جنگل میں شھر سے دور ھسپتال بنادی ۔کون جائیگا اتنے دور دواء لینے۔

    (جاری ہے )

    سیّدزادہ سخاوت بخاری
    ،سیّدزادہ سخاوت بخاری سرپرست اعلی، اٹک ویب میگزین

  • بھیڑا

    بھیڑا

            اساں ہیلا ای اٹی ڈنا کھیڈنے واسے جھر کھٹی    ہئی تے اتوں روفا موٹا آ گیا۔آنیا نال آکھنا ” میں بی کھیڈساں” میں ، قاضی طارق تے بوبا چپ کر کے بہہ گئے جس نا مطلب روفا موٹا سمجھ گیا جے اسی اساں نال نہ کھڈانے آں ۔ اساں تے اکھیاں کڈیانس تے آکھن لگا ” نہ کھیڈساں تے نہ کھیڈن دیساں” روفا موٹا نالے اساں توں وڈا ایا تے اتوں وڈوکھر بی۔سچی گل اے اسی سارے اس کولوں بہوں خشکنے ہئے آں۔ جس نال بھڑنا ہئیا اس نے تھن گھڑ دینا ہئیا۔پچھے ہک دیہاڑے وارثے کھبے آں اتنیاں لمیانس جے اساں ناس آ گئی۔       دوئے دوئیں سنگی تاں ساہ چھک کے بہہ گئین پر مینڈے کولوں صبر نئیں ہوئیا۔میں آکھیا "یرا اساں کھیڈن دے نئیں تے میں بدوا دیسائیں نالے وڈے لالے آں ونج کے دسناں” اگوں لا کوڑیچ ہو گیا ۔ آکڑ کے آکھنا” جل اوئے بدوا دیساں ۔ وڈا آئیاں توں پیر فقیر ۔ تے لالے نا ڈراوا مانہہ وت نہ دیوویں۔ اساں بی میں سیانڑناں واں” سچی دساں نیں میں ایاں بی بہوں ماڑا جیہا ۔ ہن اس سودھرے نال کونڑ بھڑے۔ اوہ تاں دھنگیوں بکے پینا ایا۔اساں سنگیاں اٹی ڈنا چائیا تے چپ چپیتے کن ڈھا کے دوئے پاسے ٹر پئے۔۔۔۔۔       

    rear view of a silhouette man in window

           پچھلے مہینے مینڈا سکا ماماں مر گیا ترے چار دیہاڑے نیہڑو گراں وینڑاں پیا۔وینیا تاں میں توڑے آلے گڈی تے وینا ایاں پر مڑنیاں اڈے تونڑیں ٹر کے آنا ایاں۔ٹرنا اس واسے ایاں جے راہے تے دادکا قبرستان ایا۔ اتھے  سوہنادعا شا کیتی تے وت اگاں ٹر پیا۔نالے اوہ راہ سکولے آں وینا ایا جتھے میں چوتھی جماعتاں تونڑیں پڑھنا ریاں۔جناں آلے کھوئے کول ذرا اگیرے جبی نیں وگنے پانی نال منہ ہتھ دھونیاں اوہ ویلا یاد آیا جس ویلے سائی نیاں کھیڑیاں پا کے تے ہک پتلی جئی چادر نی گلگتی بنھ کے مگھرے پوہے چ ٹھرنیا سکول وینا ایاں۔ نہ سویٹریاں ایاں تے نہ ای غریب جراباں جوگے ہونے ائے۔۔۔۔۔۔   

               مامے نا تریہا کر کے میں ہیلا جبی چوں لنگھیاں تے اگوں ہک بندہ کھوتی تے آٹا لدھ کے آنیا پیا ایا۔مانہہ ویکھنیاں نال سیانڑ گدھاس تے مینڈا ناں گھن کے آکھن لگا ” توں ثقلین شاہ ویں نا جیہڑا حمد”میرے مولا میرے داتا” بہوں سراں نال پڑھنا ہئیا” وت آکھنا ” میں ریاض آں تینڈے وڈے بھراؤ سجاد شاہ نا جماعتی۔فوج نی نوکری پوری کر آئیاں تے اج کل ذمداری کرنا پیاں” خیر میں اس نا حال شال پچھیا۔ پرانے سنگیاں جماعتیاں نا پچھیا۔روفے موٹے نا بی پچھیا۔ اگوں آکھنا ” اس نی نہ پچھو شاہ جی۔اس سال کھنڑ پہلے ہک پٹی نیں رپھڑے چ بندہ مار چھوڑیا۔موت نی سزا ہوئی پئیس۔ہی کرونا نہ آوے تاں چروکڑاں پھاہی لگ گیا ہووے آ” میں اس نی گل سنڑ کے کنبھ گیاں۔۔۔۔

    ثقلین انجم
    سیّد ثقلین انجمؔ
  • ضلع اٹک کی بارانی زمین اور کاشتکاری

    ضلع اٹک کی بارانی زمین اور کاشتکاری

    آبی

    اٹک کی وہ زمین جو دریائے ہرو میں سلطان پور سے نیچے کٹ لگا کر اور وہ زمین جو چشموں اور دوسرے ندی نالوں میں کٹاؤ ڈال کر سیراب کی جاتی ہے آبی کہلاتی ہے۔

    سب سے زیادہ مفید زمین وہ ہے جو واہ اور حسن ابدال کے چشموں سے سیراب ہوتی ہے، یہ بہت زیادہ اچھی ہے۔باقی کہیں کہیں ٹکڑوں میں بھی ایسی زمینیں ملتی ہیں لیکن زیادہ تر دیہات میں ایک ہی قسم کی زمین ہے۔

    پنڈی گھیب میں آبی سے مراد ہر جگہ چاہی زمین کو ہی شامل کیا جاتا ہے اور اس طرح علاقہ جندال میں بھی یہ بات اہم ہے اور وہاں بھی 200 ایکڑ سے کم ہے۔

    نہری۔

    آبی اور نہری میں فرق آبپاشی کی قسم پر ہوتا ہے جو کہ ہرو دریا سے کی جاتی ہے۔

    سلطان پور سے اوپر جہاں ندیاں زمین کے اوپر پھیل کر بہتی ہیں پنج کٹھ کے علاقے میں پانی کی فراہمی سال بھر نہیں رہتی۔

    iattock

    ہرو اپنے بہاؤ کے اس علاقے میں سال کے زیادہ حصہ میں خشک رہتی ہے۔

    اور آب پاشی ایک سیلابی نہر سے مختلف نہیں ہوتی۔

    ہر بارش کے ساتھ تازہ پانی دریا میں آتا ہے اور اسے روک کر زمین کو سیراب کیا جاتا ہے۔باقی آبپاشی سارا سال ہوتی رہتی ہے، وہ چشموں سے ہو یا ندی نالوں سے جو چشموں کے پانی کے بہاؤ سے وجود میں آتے ہیں یا پھر سلطان پور گاؤں سے نیچے جہاں ہرو سال بھر بہتی ہے۔

    تاہم یہاں دریا کے کنارے پر ہی تھوڑا علاقہ سیراب ہوتا ہے اور پانی بھی حقیقتاً ہرو کا پانی نہیں ہوتا بلکہ یہ ان چشموں سے آتا ہے جو ہرو کے دامن میں تھوڑی اونچائی سے آ کر ہرو میں شامل ہوتا ہے۔

    لہزا نہری کی اصطلاح صرف اس زمین پر پنج کٹھ میں یا ایک اور دو دیہات جو سلطان پور سے نیچے آتے ہیں میں شامل ہوتی ہے باقی ہر قسم کی آبپاشی ابی کہلاتی ہے۔

    حسن ابدال اور واہ کے دیہات میں آبی زمینوں سے بعض اوقات دو کے بجائے تین فصلیں لی جاتی ہیں۔

    کئی ایک دیہات کی اعلیٰ نہری زمینوں سے جب کے اچھی کھاد ڈالی جاتی ہے۔

    اور جو آبپاشی کے راستوں نزدیک ہوں سے ششماہیوں میں چھ فصلیں بھی لی جا سکتی ہیں۔

    ایسی زمین "دو فصلی نہری کہلاتی ہے”.

    1907 میں کل رقبہ 1٫702 ایکڑ تھا جو 1925 میں بڑھ کر 1٫788 ایکڑ ہو گیا۔

    سلطان پور کی نہری زمینیں مختلف زرخیزی کی اہمیت کی حامل ہیں۔

    نہری زمینیں صرف اٹک تحصیل میں ہیں جو تحصیل کے اندر نلہ سرکل کے شمال مشرقی کونے میں ہیں، سارا پانی تقریباً ہرو سے حاصل ہوتا ہے۔

    نہروں کے سرے زیادہ تر ہزارہ کی ہری پور تحصیل میں ہیں اور اٹک کے مالکان کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ وہ خانپور کے گکھڑ خاندان سے پانی کی فراہمی کی خاطر اچھے تعلقات استوار رکھیں۔سیلابی زمینیں اٹک اور فتح جنگ تحصیلوں میں اہم ہیں۔(پنڈی گھیب میں 400 ایکڑ سے کم ہیں)۔

    فتح جنگ اور پنڈی گھیب میں گندم بڑی فصل ہے پورے ضلع میں مزروعہ رقبہ کا 74٪ رقبہ قابل کاشت ہے۔اٹک کی لپاڑہ زمین کو جب بھی وسائل اجازت دیں تو چاہی میں تبدیل کر دیا جاتا ہے، ان پر زراعت ہمیشہ احتیاط سے کی جاتی ہے، اچھی کھاد ڈالی جاتی ہے اور زیادہ تر دوہری فصل نہیں لی جاتی۔پنڈی گھیب میں مٹی بہت حساس قسم کی ہے۔

    سخت گرمی یا دیر سے بارش ہونے پر لپاڑہ کی فصلیں سب سے پہلے بکھر جاتی ہیں۔

    فتح جنگ میں احتیاط سے اس زمیں پر حل چلایا جاتا ہے یہاں یہ زمین بہت قیمتی ہے۔چھچھ میں لس سے مراد وہ زمینیں ہیں جو گندھ گڑ کے پہاڑوں سے آنے والے پانی سے سیراب ہوتی ہیں قیمتی تہہ نشین مادوں جو کہ زمین کو بار بار زرخیز کرتے رہتے ہیں اس کے علاؤہ زمین نیچے ہونے کی وجہ سے ہر سال سیلابی پانی سے بھی سیراب ہوتی ہے۔ اس طرح ان زمینوں کی نسبت جن پر سیلابی پانی نہیں پہنچتا یہ زمینیں زیادہ تر نمی کو اپنے اندر سہارتی ہیں۔

    جب کے دوسری زمین خشک ہو جاتی ہیں لہذا وہ دیہات جن کی زمینیں "لس” ہیں بہت محفوظ ہیں اور قحط سالی کے دنوں میں بھی کم متاثر ہوتے ہیں جب کہ عام سالوں میں زمین کی پیداوار "میرا” سے کافی ہوتی ہے (Mr Tailor کی رپورٹ کے مطابق پیراگراف 4) کے مطابق آخری بندوبست کے دوران "لس” چھچھ کے آبی دیہات میں ریکارڈ کی گئی اور اس وقت کی درجہ بندی اب تک موجود ہے۔

    باقی ہر جگہ "لس” کا مطلب ایسی زمینیں ہیں جن کے گرد بند باندھے جاتے ہیں۔ عموماً یہ گہری ندیوں کے ساتھ ساتھ ہوتی ہیں۔

    جہاں ندیوں کا پانی اوپر چڑھتا ہے اور اونچائی والی زمینوں سے رسنے والے پانی یعنی نمی کی وجہ سے بھی زیادہ دیر تک نمی کو سہار سکتی ہیں۔ زیادہ بارشوں کے دوران کافی ساری دریائی مٹی ان زمینوں کے اوپر ا جاتی ہیں جو انھیں مزید زرخیز بناتی ہیں۔

    البتہ پانی کو روکنے کے لیئے زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔

    جب ایسا کٹاؤ ہو جائے تو زمین بے کار ہو جاتی ہے کہ پانی زمین کی زرخیز مٹی کو اپنے ساتھ بہا کر لے جاتا ہے اور اس میں نمی بھی نہیں رہتی۔ جب تک بند موجود رہتے ہیں تو یہ زمین ایک اچھے "میرا” سے بھی بہتر ہوتی ہے۔

    لیکن چھچھ کے مرکز کی "لس” کے برابر نہیں ہو سکتی۔

    بند باندھنے سے اور ہمیشہ ان کی مرمت کرتے رہنے سے جو اخراجات اور محنت ہوتی ہے اس کی وجہ سے عام طور پر اس زمین کا تخمینہ (مالیہ) ایک اچھی "میرا” زمین کے نرخ پر کیا جاتا ہے۔ خصوصیات کے لحاظ سے میرا کی کئی اقسام ہیں۔ ایسے جہاں یہ ریتلا اور نرم ہے وہاں صرف ربیع کی فصل اگائی جاتی ہے جہاں یہ اونچی سطح پر ہو تو مٹی زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔یہ کچی زمین خریف کی فصلوں کے لیئے چھوڑ دی جاتی ہے تاہم بعض اوقات یہ ربیع کے لیئے بھی استعمال ہو جاتی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ کسان اس حقیقت سے آگاہ ہوتے ہیں کہ ربیع کی فصل زیادہ قیمتی اور منافع بخش ہوتی ہے۔

    بارانی زمینوں میں زراعت کے دو ہی طریقے استعمال ہوتے ہیں ایک "دو فصلی/دو سالہ” طریقہ ہے جس میں عموماً ربیع کی فصلیں گندم اور چنا کے بعد خریف کی فصل باجرہ اور جوار بوئی جاتی ہے یہ زمینیں اس طرح دو فصلوں کے لیئے چھوڑ دی جاتی ہیں اور اچھے طریقے سے باقائدگی کے ساتھ ہل چلایا جاتا ہے۔

    دوسرا نظام جو کہ زیادہ عام ہے وہ یہ ہے کہ ربیع اور خریف کے لیئے الگ الگ زمینیں چھوڑی جاتی ہیں، ہلکی زمین ربیع کے لیئے چھوڑی جاتی ہے اور سخت مضبوط خریف کے لیئے چھوڑی جاتی ہے۔

    ربیع کے لیئے چھوڑی جانے والی زمین پر ایک

    ربیع کے لیئے چھوڑی جانے والی زمین پر ایک یا زیادہ سالوں گندم بوئی جاتی ہے اور اس کے بعد چنا کاشت کیا جاتا ہے۔

    تارا میرا اکثر خریف کی فصل کے بعد بو دیا جاتا ہے جب خریف کی فصل ناکام ہو تو وہ زمین جو خریف کی فصل کے لیئے چھوڑی جاتی ہے اس پر باجرہ بویا جاتا ہے۔

    ہلکی ربیع والی زمین پر عموماً گندم کے لیئے دو دفعہ ہل چلایا جاتا ہے اور چنے کی فصل کے لیئے ایک ہی دفعہ ہل چلاتے ہیں۔

    مضبوط اور پکی زمینیں زیادہ توجہ چاہتی ہیں۔

    اوسطاً 100 ایکڑ میرا زمین پر 61 ایکڑ پر فصل تیار ہوتی ہے اور بیجے ہوئے رقبہ پر خرابی کی اوسط 25 فی صد ہے۔

    100 ایکڑ مزروعہ راکڑ زمین پر سالانہ اوسطاً 52 ایکڑ پر فصل تیار ہوتی ہے اور بیجے ہوئے رقبہ پر خرابی کی اوسط 32 فی صد ہے۔

    ایسی زمینوں پر صرف بارشوں والے سال ہی بیجائی ہوتی ہے اور اس زمین کی فصلوں سے عموماً تارا میرا یا بعض اوقات پھلی دار اجناس کے ساتھ کبھی کبھار گندم بھی بوئی جاتی ہے۔

    جاری ہے۔۔۔

  • ہم کو تو فقط اپنے ہی حالات کا دُکھ ہے

    ہم کو تو فقط اپنے ہی حالات کا دُکھ ہے

    ہم کو تو فقط اپنے ہی حالات کا دُکھ ہے
    کچھ تم بھی بتاؤ تم کو کس بات کا دُکھ ہے
    بھر جائیں گے یہ زخم تو دو چار دنوں میں
    جو دل پہ لگائی ہے اسی گھات کا دُکھ ہے
    بستر کی سلوٹیں بھی یہی کہہ رہی ہیں اب
    بیتی جو بنا تیرے اُس رات کا دُکھ ہے
    پیمان سبھی ضبط کے تھے یاد مگر اب
    محفل پہ جو برسی تھی اس برسات کا دُکھ ہے
    تاعمُر جسے پوجا خدا جان کے اپنا
    اُس کو بھی فقط اپنی ہی بس ذات کا دُکھ ہے
    دیکھا تجھے تو جھوم اُٹھا کیسے مرا دل
    سینے میں اسؔد میرے جو جذبات کا دُکھ ہے
    کلام: عمران اسؔد

    عمران اسد
    عمران اسؔد پنڈیگھیب حال مقیم مسقط عمان
  • اٹک نلہ

    اٹک نلہ

    مرزا گاؤں سے مشرق "ہزارہ کی حدود تک بھیڈیاں گاؤں کے نزدیک ہرو کے داہنے کنارے والی زمینیں سوائے چند ایک مزروعہ کھیتوں کے جو ندی کے نزدیک ہیں گہری ندیوں اور نالوں کا ایک لا متناعی سلسلہ اٹک نلہ کا علاقہ ہے”.

    اونچی زمین میں پانی میں لڑھکنے والے پتھر یا مٹی کے بنے سخت کنکر بکھرے پڑے ہیں۔

    کہیں کہیں کوئی چوٹی بھی بلند ہو جاتی ہے۔زراعت کہیں کہیں ہے کیونکہ مٹی برابر نہیں ہے اور کم خاصیت کی حامل ہے۔

    پہاڑیوں سے تھوڑی دور تک پتھریلی ہے اور پھر مٹی بھی نرم سے سخت کی صورت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ کوا گر کے پہاڑیوں کے ساتھ ساتھ کچھ بڑی زمینیں ہیں۔

    کوا گر کھیری مار کا درمیانی علاقہ کم زرخیز ہے۔

    یہ بلند علاقہ اور مٹی کے لحاظ کے کمزور ندی نالوں سے بھرا پڑا ہے۔ چٹانیں اکثر نظر آ جاتی ہیں جو کہ زمین کے نزدیک ہی ہیں۔

    کٹاریاں سے مغرب تحصیل کی حدود تک اور شمال کی طرف جرنیلی سڑک تک کے دیہات کو ہرو کے پانی سے سیراب کیا جاتا ہے۔

    یہ علاقہ بہترین بارانی علاقوں میں شامل ہے خاصیت میں ایسی چکنی مٹی کا علاقہ ہے جس پر آسانی سے کام ہو سکتا ہے۔

    اچھی بارشوں کے سلسلے میں یہاں اچھی فصلیں ہوتی ہیں۔

    iattock
    ااٹک کا جغرافیہ- تصویر :سردار ساجد محمود خان

    ہرو کے ساتھ ساتھ بارشی پانی والی زمین جہاں ہرو جنوب کی طرف رخ کرتا ہے بہت بیکار زمینیں ہیں، مشکل سے ہی کوئی ہموار زمین ملتی ہے۔اچھی زمینیں وہی ہیں جو ندی اور نالوں کے کناروں پر ہیں۔زمین کی خاصیت کی وجہ سے جو بھی تبدیلیاں ہیں سب کا انحصار بارش ہر ہے۔

    اس علاقے کے مغرب میں اچھی زمین ہونے کے باوجود ایک سال وہاں فصل نہیں ہوئی دوسرے سال فصل اتنی تھی کہ سنبھالنی مشکل ہو گئی۔

    فتح جنگ نلہ

    فتح جنگ نلہ چونے کے پتھر کی ان چٹانوں کی خاصیت کا حامل ہے جو زمین کے نیچے موجود ہے۔

    یہ زمین جو چونے کے پتھر سے بنی ہے اس زمین سے جو کالا چٹا کے جنوب میں ہے بدرجہا بہتر ہے۔

    یہ علاقہ ہر جگہ ندی نالوں سے بھرا پڑا ہے۔مغرب کے طرف کنکریلی ٹیکریاں ابھرتی نظر آتی ہیں۔

    بے شمار ندیوں کی بدولت اس علاقے میں آبپاشی اچھی ہوتی ہے اگرچہ یہ ندی نالے کم بارش کے موسم میں خشک رہتے ہیں پھر بھی ان میں گہرے جوہڑ تالاب اِدھر اْدھر مل جاتے ہیں۔

    اپنے کناروں کے اوپر والی زمین کے لیئے بہت کار آمد ہیں جب کے نالوں کے اندر جگہ جگہ کنوئیں بھی موجود ہیں۔

    اس علاقے کا مرکز باہتر کے ارد گرد ہے۔یہ ضلع کا زرخیز ترقی والا علاقہ ہے جو کالا چٹا سے جنوب کی طرف واقع ہے۔

    مشرق کی طرف یہ راولپنڈی کے کھروڑا سرکل کی طرح خشک ہوتا ہوا ختم ہو جاتا ہے جو کہ عام سی بات ہے۔

    گھیپ کا علاقہ۔

    کھیری مورت اور کالا چٹا کے درمیانی علاقہ کو گھیپ کا علاقہ کہتے ہیں۔

    راولپنڈی کے کھروڑا کی طرح اس کی زمین خشک اور پتھریلی ہے جس کا مشرقی حصہ ریتلا  مگر زرخیز ہے۔

    جب کہ مغرب کی طرف سخت اور خشک ہو جاتی ہے۔ عام طور پر زمین بہت اچھی ہے اور صرف معمولی بارش میں بھی زیادہ فصل دیتی ہے لیکن خشک سالی اور تیز گرم دھوپ کو برداشت نہیں کر سکتی۔

    گھیپ میں پانی کی کمی ہے چند ایک دیہات میں تو پینے کا پانی بھی میسر نہیں۔

    جندال کا علاقہ۔

    جندال کے دیہات باقی ضلع کے دیہات سے بہت مختلف ہیں۔

    چٹانیں کہیں کہیں نظر آتی ہیں علاقہ کا زیادہ حصہ ایک گھومتی ہوئی ریت کا میدان ہے۔کنوئوں اور چشموں سے بہت کم آبپاشی ہوتی ہے لیکن زیادہ تر چنے کی کاشت کا وسیع علاقہ ہے۔

    خریف کی فصل کی اہمیت کم ہے گندم اگائی جاتی ہے لیکن اہم پیداوار چنا ہے۔

    ضلع کا بقیہ علاقہ۔

    جہاں تک زمین کا تعلق ہے تو باقی ماندہ کی تمام زمین ایک ہی قسم کی ہے ہلکی چکنی مٹی ہے جس میں زمین کے اندر کی ریتلی چٹانوں کی خاصیت پائی جاتی ہے۔

    جو تمام علاقے میں کہیں کہیں ابھری ہوئی نظر آ جاتی ہے۔گہری جگہوں پر زمین بھی گہری ہے۔

    علاقہ کی سطح پر بے شمار ندیاں اور نالے بہتے ہیں۔بڑی ندی کے اکثر بہت چوڑے اور ریتلے پارٹ ہوتے ہیں جو چپٹی یا تنگ پٹیوں میں پھیلے ہوتے ہیں ان کی مٹی زیادہ زرخیز ہوتی ہے ان پٹیوں پر کنوئیں کھودے جاتے ہیں۔

    ندیوں کے پاٹوں سے زمین خشک اور کٹی پھٹی ڈھلانوں کی شکل میں ابھرتی ہے جس کی مٹی ہلکی ہلکی چکنی ہوتی ہے۔

    اکثر جگہوں پر پانی کا بہاؤ انھیں بہا لے جاتا ہے اور نیچے سے چٹان نکل آتی ہے۔بناوٹ میں مکھڈ کا علاقہ باقی علاقوں سے مختلف ہے۔علاقہ جنگلی اور پہاڑی ہے زمین ریتلی ہے زراعت کے لیئے بہت گہری جگہوں پر موجود ہے۔

    صرف پتھریلی چٹانوں کی ٹیکریوں پر یا ان گہری وادیوں میں جہاں بند باندھ کر دریائی مٹی روک کر زمین بنائی گئی ہو وہاں زراعت ہوتی ہے۔

    زمین کی اقسام.

    (آبپاشی والی زمینیں)

    چاہی-

    تمام وہ زمینیں جن کی آبیاری کنوئوں سے کیجاتی ہے۔

    آبی-

    وہ زمینیں جن کی آبیاری کنوئوں یا نہروں کے علاؤہ کی جاتی ہو۔

    نہری-

    نہروں سے آبپاشی والی زمینیں ان تحصیلوں میں کوئی نہیں۔

    سیلابی-

    وہ زمینیں جن پر ندی نالوں کا پانی چڑھتا ہے یا وہ جن میں پانی کی زیادتی کی وجہ سے ہمیشہ نمی رہتی ہے۔

    لپاڑہ-

    وہ زمین جو دیہات کے ارد گرد ہوتی ہے گاؤں کے پانی سے سیراب ہوتی ہے اور قدرتی کھاد ڈالنے کی وجہ سے زرخیز ہوتی ہیں اور ایسی زمینیں دوہری فصلیں حاصل کرنے کے لیئے استعمال ہوتی ہیں۔

    لس-

    ایسی گہری زمینیں جو زمینوں سے پانی حاصل کرتی ہیں یا وہ زمینیں جن کے کنارے اونچے کیئے گئے ہوں تا کہ وہ بہنے والے پانی کو محفوظ کر سکیں، ایسی زمینیں اکثر اچھی صفات کی حامل ہوتی ہیں۔

    جاری ہے۔۔۔۔۔

  • اکھیاں وچ زمانے

    اکھیاں وچ زمانے

    سید حبدار قائم نقوی کا تعلق پنجاب کے ضلع اٹک سے ہے جو شعرو ادب کے لحاظ سے بہت ہی زرخیز ہے۔ سید حبدار قائم نقوی خانوادہُ سادات کے چشم و چراغ ہیں اور ایک عرصہ سے علم و ادب کی خدمت کررہے ہیں۔ سید حبدار قائم نقوی کو اردو اور پنجابی میں شعر کہنے اور نثر لکھنے کا ملکہ حاصل ہے، آپ ایک سچے اور کھرے انسان ہونے کیساتھ ساتھ باکمال اور خوش اخلاق شخصیت کے مالک بھی ہیں۔ سید حبدار قائم نقوی صاحب پاک آرمی میں اعلٰی منصب پر اپنی خدمات سرانجام دے چکے ہیں، یعنی آپ کو ادب خدمت کیساتھ ساتھ قوم کی خدمت کرنے اور اپنی دھرتی ماں کی سرحدوں کی حفاظت کرنے کا بھی شرف حاصل ہے اور آپ کا شمار وطن عزیز کے غازیوں میں ہوتا ہے۔ سید حبدار قائم نقوی پاک فوج میں اپنی شاندار سروس پوری کرنے کے بعد اب  ایک پرائیویٹ سیکیورٹی کمپنی  میں سیکیوریٹی سپروائزر کے منصب پر فائز ہیں ۔ سید حبدار قائم نقوی اپنی تحریروں میں بڑی سے بڑی بات سادگی اور اختصار کے ساتھ بیان کرجاتے ہیں اور اپنی بات سلیس زبان میں قاری کے دل و دماغ میں منتقل کرنے کا ہنر بھی بخوبی جانتے ہیں۔ آپ کی کہانیاں دلچسپ معلوماتی اور سبق آموز ہوتی ہیں اور ان میں ایک خاص قسم کی مقصدیت ہوتی ہے اور یہی وہ بات ہے جو سید حبدار قائم نقوی کو اپنے ہمعصر لکھاریوں میں ممتاز کرتی ہے۔آپ کی تحریریں ملک پاکستان کے قومی اخباروں اور معیاری رسائل و جرائد میں باقاعدگی کیساتھ چھپتی رہتی ہیں۔ اور آپ اپنی منفرد تحریروں کی بدولت شہرت کے تمام بام و در عبور کر چکے ہیں۔ آپ کا منفرد اسلوب ہی آپ کی پہچان ہے۔ سید حبدار قائم نقوی سے میری شناسائی بہت ہی پرانی ہے دوستی کے اس سفر میں میں نے انہیں ہمیشہ ایک شفیق بھائی، وفادار دوست،اور عظیم انسان پایا ہے۔  بلاشبہ سید حبدار قائم نقوی کا شمار کہنہ مشق اور مستند لکھاریوں میں ہوتا ہے۔ اردو زبان میں آپ کے دو نثری مجموعے (1)  نماز شب  اور (2) چھانگلا والی موج دریا شائع ہو کر علمی و ادبی حلقوں سے داد تحسین وصول کر چکے ہیں اور دو مجموعے "افلا یتدبرون” (اردو نثر) اور "رہیں شاعری میں آپ ” (اردو نعتیہ شاعری کا مجموعہ) زیر طبع ہیں جبکہ زیر نظر کتاب ” اکھیاں وچ زمانے” آپ کا تیسرا مجموعہ ہے جو کہ پنجابی زبان میں سید حبدار قائم نقوی کی لکھی ہوئی کہانیوں کا مجموعہ ہے جسے ادارہ جمالیات اٹک نے بڑی اہتمام کے ساتھ شائع کیا ہے اور یہ ضخیم مجموعہ  174

    اکھیاں وچ زمانے
    اکھیاں وچ زمانے – سید حبدار قائم

     صفحات پر مشتمل ہے۔ اس نثری مجموعے کا انتساب آپ نے حضرت سائیں محمد جاوید اقبال طور قادری اور غلام ربانی فروغ کے نام منسوب کیا ہے۔

    سید حبدار قائم نقوی کا تعلق چونکہ ایک روحانی اور مذہبی گھرانے سے ہے اور آپ کے دوست احباب کیساتھ ساتھ آپ کے عقیدت مندوں کا حلقہ بھی بہت وسیع ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آپ نے فوج میں اپنی تعیناتی کے دوران بہت سے نشیب وفراز دیکھے بہت سے مناظر دیکھے جو آپ کی آنکھوں میں سما گئے جنہیں لفظوں کا پیرہن پہنا کے آپ نے قاری کے سامنے رکھ دیا، اور میرے خیال کیمطابق یہی آپ کی اس کتاب کا موضوع بنا۔

    کتاب ھٰذا میں کل 50 سٹوریاں شامل کی گئی ہیں اور اسے تین مختلف ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا باب ” سلام پاک فوج” کے عنوان سے ہے جس میں 15 کہانیاں شامل ہیں اور دوسرا باب ” بابا معصوم بادشاہ” کے نام سے ہے اور اس میں بھی 15 کہانیوں کو منتخب کیا گیا ہے جبکہ تیسرا اور آخری باب ” متفرق واقعات” کے نام سے 20 کہانیوں پر مبنی ہے۔ تنقیدی آراوُں میں سجاد حسین سرمد کی آراء شامل ہے جبکہ ” مڈھ آلی گل ” کے عنوان سے مصنف کتاب ھٰذا کا مضمون شامل ہے۔ صفحہ نمبر14 پر اختر ہاشمی کے کلام "بول نہ وڈا بول فقیرا” سے متاثر ہو کر سید حبدار قائم نقوی کے قلم سے لکھا عارفانہ کلام اس مجموعہ نثر کی اہمیت میں اضافہ کررہا ہے۔ نمونہُ کلام ملاحظہ کیجیئے وہ کہتے ہیں کہ:۔

    شہہ رگ توں وی نیڑے جیہڑہ

    آل دوآلے اس دا چہرہ

    رہندہ تیرے کول فقیرا

    دل دے تالے کھول فقیرا

    پہلی کہانی "سیاچن دا وفادار” کے عنوان سے ہے جس میں مصنف نے گلگت سے سیاچن جانے پر راستے میں نظر آنے والے خوبصورت مناظر اور موسمی تبدیلیوں کو قلم بند کرنے کیساتھ ساتھ وہاں کے لوگوں کا طرز زندگی حسن سلوک اور ان کی مہمان نوازی کی تعریف و توصیف بھی بیان کی ہے۔ اور خاص کر ایک کتے کا تذکرہ کیا جس کی بدولت برفباری کی زد میں آکر برفانی تودوں کے نیچے دھنس جانے والے آرمی کے جوانوں کا سراغ ملا، اس کہانی کو پڑھ کر اللہ تعالٰی کی ذات کے فرمودات یاد آجاتے ہیں جس طرح اصحاب کہف کیساتھ کتے نے وفا کی تھی وہ پورا قصہ قرآن پاک میں موجود ہے۔ اس کے بارے میں میں صرف اتنا ہی کہوں گا کہ خالق کائنات جس طرح سے چاہے اپنے پیاروں کی حفاظت فرماتا ہے۔

    سیاچن، روح تے قرآن  جس میں میسر حیات کی شہادت کا واقعہ پڑھنے کو ملا جسے پڑھ کر میرا سر فخر سے بلند ہوگیا کہ ہمارے فوجی بھائی اتنی مشکلات میں بھی یاد خدا سے غافل نہیں رہتے۔

    سیاچن،جاں نثار پتھر اور لاش بھی بڑی متاثرکن کہانی ہے جس میں فوج کے نظم و ضبط اور فوجی جوانوں کے بلند حوصلے بیان کیئے گئے ہیں کہ ملک و ملت کی محبت میں ہمارے فوجی جواں کس طرح برف سے ڈھکے ہوئے پہاڑوں پہ یخ بستہ راتوں میں موسم کی تلخیاں جھیل کر جاڑے کے موسم میں تمام دنیاوی کاموں سے بے خبر نعرہُ تکبیر بلند کرتے ہوئے دشمن کے سامنے اک سیسہ پلائی دیوار بنے ہوئے ہیں۔

    سیاچن ایک ایسی جگہ ہے جہاں جانے کے بعد یوں لگتا ہے جیسے انسان کا پوری دنیا سے رابطہ منقطع ہو کے رہ گیا ہو، یہاں کا ہر لمحہ صبر آزما ہونے کیساتھ ساتھ اپنے ہمراہ کئی تلخیاں لیئے ہوتا ہے، یہ تو ہمارے فوجی جوانوں کا بلند حوصلہ ہے کہ وہ موسمی تبدیلیوں سے بھی اپنے آپ کو بچاتے ہیں اور دشمن کی گولیوں سے بھی اپنے آپ کو محفوظ رکھتے ہیں،  میں پاک آرمی کے تمام جوانوں کو سلام پیش کرتا ہوں۔

    سید حبدار قائم نقوی کی یہ کہانیاں پڑھ کر مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ قاری کی انگلی پکڑ کر گلگت اور سیاچن کی سیر کروا رہے ہیں اور فوج کی خدمات کے بارے میں آگاہی دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی کہانیاں اپنے اندر ایک مکمل سفرنامے کا لطف لیئے ہوئے ہیں۔سید حبدار قائم نقوی نے سیاچن کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ قابل تحسین ہے۔

    دوسرا باب ولیُ کامل حضرت بابا حاجی امام رحمة اللہ علیہ سے منسوب قصہ سے شروع ہوتا ہے جس میں اللہ تعالٰی کے اس کامل ولی کی کرامات کا تذکرہ کیا گیا ہے جس میں انہوں نے اپنی ولیت کے بل بوتے پر میٹھے پانی کا چشمہ جاری کیا اور خدا کی وحدانیت پر زور دیا، چشمہ جاری کرنے کے بعد انہوں نے فرمایا کہ ” فقیر رب کائنات کی نشانیاں دکھاتے رہتے ہیں اور لوگوں کے من کی پیاس بجھاتے رہتے ہیں، اور کامیاب وہی لوگ ہوں گے جو پیاس بجھانے کے بعد اپنی نہ مانیں گے بلکہ اپنے پالنے والے رب کی مانیں گے، اور اگر خالق اکبر کی مانیں گے تو زمین کی ہر چیز ان کیلئے مسخر کردی جائے گی”۔ تاہم اس چیپٹر کی ہر کہانی اللہ تعالٰی کے کامل ولیوں اور بزرگان دین کے معجزات اور ان کی کرامات اور ان کی طرف سے کی گئی دین کی تبلیغ کے واقعات سے بھری ہوئی ہےاور اپنے اندر تصوف کے کئی رنگ سموئے ہوئے ہے جنہیں پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ سید حبدار قائم نقوی کا تصوف سے گہرا لگاوُ ہے اور ولیوں سے دلی محبت ہے یہی وجہ ہے کہ آپ اولیاء اللہ کی کرامات کے معترف دکھائی دیتے ہیں۔

    اس مجموعہ میں شامل تمام کہانیاں دلکش اور اپنی مثال آپ ہیں جن میں معیار کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ سید حبدار قائم نقوی کی اس کتاب کا بغور مطالعہ کرنے کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ سید حبدار قائم نقوی نے جو کچھ دیکھا جو کچھ سنا جو کچھ پرکھا یا محسوس کیا  ان سب نظاروں کو انہوں نے لفظوں کے روپ میں سپردقلم کر کے صفحہُ قرطاس کی زینت بنا دیاہے۔ سید حبدار قائم  نقوی کو اس مجموعہ کی کامیاب اشاعت پر میں دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں اور ان کے روشن ادبی مستقبل کیلئے دعا گو ہوں۔

    تبصرہ نگار:  سید مبارک علی شمسی

  • میرا ہر لفظ ہر کہانی دُکھ ہے

    میرا ہر لفظ ہر کہانی دُکھ ہے

    میرا ہر لفظ ہر کہانی دُکھ ہے
    میرے شعروں کی روانی دُکھ ہے
    جس نے غربت میں ہوں کھولی آنکھیں
    اُس کا بچپن و جوانی دُکھ ہے
    تو نے دیکھی نہیں حسرت میری
    تجھ کو ہر بات بتانی دُکھ ہے
    وہ عزیزی ہے رگِ جاں کی طرح
    اُس سے بچھڑے کی نشانی دُکھ ہے
    دفن خود کرتا ہوں ایسے خواب اسؔد
    جن کی تعبیر بتانی دُکھ ہے


    کلام: عمران اسؔد

    عمران اسد
    عمران اسؔد پنڈیگھیب حال مقیم مسقط عمان