Tag: کیمبل پور

ضلع اٹک کا اولین اور قدیم نام کیمبل پور تھا جو سر جان کیمپبل سے موسوم تھا۔

  • لوگ یہ منظر دیکھیں گے

    لوگ یہ منظر دیکھیں گے

    لوگ یہ منظر دیکھیں گے
    چڑھتے دریا اُتریں گے
    جنگل ہوجائیں گے کم
    شہر تو اور بھی پھلیں گے
    دُنیا کی اک حد ہے مگر
    لوگ کہاں تک جائیں گے
    وقتی طور پر رُک جانا
    لوگ تمہیں جب روکیں گے
    بے اوقات لوگ سدا
    حد سے بڑھ کر اُچھلیں گے
    وقت پہ کوئی روک نہیں
    وقت کے بازُو پھیلیں گے
    اپنا اپنا حصہ سب
    آپس میں مل بانٹیں گے
    آپے سے باہر ہوکر
    لوگ کہاں تک اُچھلیں گے
    غفلت کے مارے یہ لوگ
    ایک نہ ایک دن جاگیں گے
    سوچو تم اُس وقت کہ لوگ
    آپس میں جب اُلجھیں گے
    کیا کر لے گی یہ دُنیا
    ہم بھی پیارے دیکھیں گے
    کلام: عمران اسد

    عمران اسد
    عمران اسؔد پنڈیگھیب حال مقیم مسقط عمان
  • ٹھنڈا پانی

    ٹھنڈا پانی

    کاتب : شاندار بخاری

    مقیم مسقط

    میری آج کی یہ مختصر سی تحریر ایک اہم اور سنجیدہ مسلئے کے بارے میں ہے جو کہ عام طور پر مسئلہ لگتا نہیں مگر ہوتا ہے صرف ہماری جانب سے غفلت اور عدم توجہی کا شکار ہے۔

    یہ بات آپ کے مشاہدے میں بھی آئی ہوگی کہ اکثر لوگ ایک دوسرے کا نام بگاڑ کر انہیں مخاطب کرتے ہیں جو کہ اکثر اوقات تو بڑے عجیب و غریب و معیوب ہوتے ہیں اور اکثر نہایت ہی منفرد ، بعض اوقات کچھ نام ہمیں تو عجیب لگتے ہیں مگر پکارنے والے اور پکارے جانے والے شخص کو بوجوہ پسند اور قبول ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر سن اسی کی دہائی میں جو عزت ماب سفیر صاحب یہاں تعینات تھے ان کا پورا اور اصل نام تو مجھے اس وقت یاد نہیں آرہا لیکن ان کو لوندخوڑ صاحب کہ کر پکارا جاتا تھا یہ نام جو کہ ان کی علاقائی نسبت کی وجہ سے تھا  لیکن جو لوگ مردان کے اس گاوں سے واقف نہیں تھے انہیں بڑا دلچسپ لگتا تھا۔ اسی طرح ہمارے معاشرے میں عموما عبدللہ کو دولا ، سلیم / سلمان کو سلو اسی طرح یاد آیا مشہور گلوکار نصرت فتح علی کا پیدایش کے بعد نام پرویز تھا جو کہ بعد میں بدل کر نصرت رکھا گیا اور ان کے پرانے دوست احباب آج بھی انہیں پرویز کا مختصر پیجی ( پے جی ) ہی کہ کر یاد کرتے ہیں۔

    نام خواہ وہ کسی شخص کا ہو یہ پھر جگہ کا ہو اس سے اس کی پہچان ہوتی ہے ہمارے شہر اٹک کا نام جوکہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے لیکن برٹش دور میں اس وقت کےفوجی افسر کیمپبل کے نام پر کیمپبل پور رکھ دیا گیا تھا اور سن ستر کی دہائی میں پھر سے بدل کر پرانا نام اٹک رکھ دیا گیا تو جیسے لوگوں کے نام اکثر بوجوہ بدل دیے جاتے ہیں اسی طرح کئی ملکوں اور شہروں کے نام بھی اب بدل چکے ہیں سبیل مثال ساہیوال کا پرانا نام منٹگومری تھا ، فیصل آباد کا پرانا نام لائل پور تھا اسی طرح دنیا کے بیشتر ممالک کے نام مختلف زبانوں میں مختلف ہیں یہاں عرب ممالک میں جرمنی کو المانیا کہتے ہیں ، اٹلی کو ایطالیا ، فرانس کو فرنسا اور آسٹریا کو نمسا کہتے ہیں ، سعودیہ عرب کا نام 1932 سے پہلے مملکہ حجاز و نجد تھا ، مدینہ منورہ کا پرانا نام یثرب تھا جوکہ رسول ﷺنے بدل کر مدینہ رکھ دیا یثرب میں بخار کی وباء عام تھی بڑی شدت کا بخار ہوتا تھا اکثر آنے والے اس میں مبتلا ہو جاتے تھے رسول ﷺنے یثرب کی مشقتیں جھیلنے پر جنت کی بشارت سنائی اور اس کا نام طیبہ رکھ دیا تو نام بدلنے کی برکت سے مدینہ منورہ کی فضاء اللہ کے فضل و کرم سے خوشگوار ہو گئی۔ رسول ﷺنے خواب میں دیکھا کہ کالی کلوٹی عورت مدینہ منورہ سے نکل کر حجفہ جہاں یہودیوں کی آبادی تھی کی طرف چلی گئی آپ ﷺنے فرمایا کہ وہ وباء جو ہوا کے خراب ہونے سے پھیلتی تھی یہاں سے منتقل ہو گئی ہے اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کے ناموں کا منفی ور مثبت اثر ہوتا ہے۔ اسی طرح آپ نے کئی صحابہ کرام کے نام بھی بدلے اور کئی صحابہ کرام اور اہل بیت کو پیار سے مختلف ناموں سے پکارا، بات نکلی ہے تو میں آپ کو چند ایک چیدہ چیدہ برگزیدہ ہستیوں کے اصل نام اور القاب بتاتا چلوں کیونکہ عربوں میں القاب یا کنیت کا بڑا روج رہا جو کہ آج بھی ہے ، سب سے پہلے شہید ہونےوالی صحابیہ ام عمار ( عمار کی والدہ ) کا اصل نام سیدتنا سمیہ ر۔ض تھا ، ابو ھریرہ ر۔ض  کا اصل نام عبدالحمن تھا ، حضور ﷺکے چچا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے والد حضرت ابی طالب کا اصل نام عمران تھا۔

    شیکسپیئر نے کہا تھا ” نام میں کیا رکھا ہے ” لیکن ہم اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کیونکہ نام سے ہی تو پہچان ہوتی ہے اور اسلام کے اصولوں کے مطابق کسی کا نام بگاڑنا ایک بڑا گناہ ہے۔   بحث کو سمیٹتے ہوئے حاصل یہی ہے کہ کسی شخص کو پکارتے ہوئے یا کسی جگہ کی نشاندھی یا حوالہ دیتے ہوئے اچھے اور مہذب الفاظ کا چناو کریں یہاں یاد آیا ایک مرتبہ ایک قانونی معاملہ کیلئیے جمع کروائے گئے فارم میں گواہ کا نام لکھنا تھا تو گواہ صاحب نے مجھ سے قلم مانگا اور اپنے نام سے پہلے حضرت مولانا فلاں بن فلاں لکھ دیا جو کہ بہت ہی تعجب کی بات تھی اور کسی شخص میں اتنی خود پسندی میں نے پہلے نہیں دیکھی تھی ، ایک اور واقع یاد آ گیا ہوا یوں کہ مجھے دفتر کے کام کے سلسے میں ایک جگہ جانے کا اتفاق ہوا اور وہاں کہ متعلقہ افسر نے میرے آتے ہی باآواز بلند کہا ٹھنڈا پانی ! میں نے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مجھے طلب نہیں ہے جس پر وہ صاحب مسکرائے اور کہا کہ مین تو اپنے دفتر کے ملازم کو بلا رہا ہوں جس کا اصل نام تو ڈنڈا پنی ہے لیکن اب بگڑ کر ٹھنڈا پانی ہوگیا ہے۔

  • کیمبل پور سے اٹک تک – 4

    کیمبل پور سے اٹک تک – 4

    تحریر: سیدزادہ سخاوت بخاری

    تیسری قسط میں ہم سول ھسپتال تک پہنچے تھے ، جسےشھر کے وسط سے بہت دور ، ویرانے میں تعمیر کیا گیا ، بڑے بوڑھے اور بزرگ اس بات پہ حکومت سے سخت نالاں تھے کہ مریضوں کا وھاں تک چل کر جانا ممکن نہیں ۔ یاد رہے ، یہ دور ، پیدل چلنے، جانوروں پہ اور سائیکل سواری کا تھا ، سب سے بڑی سواری تانگہ ہوا کرتا تھا لیکن تانگے کا کرایہ کون دے ۔عام آدمی کی تنخواہ 80 سے 100 روپے تک تھی ، اگرچہ اشیائے ضرورت کے نرخ بھی اسی حساب سے کم تھے ، تاھم تانگہ بک کرنا ، امارت، عیاشی یا مجبوری کے ذمرے میں آتا تھا ۔ عام حالات میں لوگ پیدل چلنےکو ترجیع دیتے تھے ۔ اس دور کی تصویر کشی میں نے اپنے مضامین بعنوان ” جو ہم نے دیکھا ” میں کرنے کی کوشش کی ہے ، چند قسطیں سوشل میڈیا کی نظر کرچکا ہوں ، بوجوہ جاری نہ رکھ سکا ، اب اس سیریل کی تکمیل کے بعد ، اسے بھی آگے بڑھانے کا ارادہ ہے ۔ واپس چلتے ہیں شھر کی ھیئت کی طرف ، چھوئی روڈ کے شمالی علاقے کی سیر آپ نے کرلی ، جو پرانے شھر سے عید گاہ تک تھا ، اب چلتے ہیں ، جنوب کی طرف ، مغرب میں ملٹری فارم المعروف ڈیری فارم سے لیکر گورا قبرستان یا فتح جنگ روڈ تک کی آبادی کا نقشہ کیا تھا ۔ یہاں اگر میں شھر کی اس وقت کی حدود کا تعین کردوں تو آپ کو سمجھنے میں آسانی ہوگی ۔ شمال میں محلہ مہر پورہ کی مختصر آبادی سے شروع ہوکر ، جنوب میں محلہ امین آباد کی گنجی ، بے ترتیب اور بلدیاتی قوانین سے ماوراء آبادی ، مشرق میں آرٹلری سینٹر اور ایڈمنسٹریشن بلاک سے شروع ہوکر مغرب میں ریلوے لائین یا عیدگاہ محلہ تک کو شھر کا نام دیا جاسکتا ہے ۔ چھوئی روڈ کا جنوب :شھر کی حدود میں قدرے اضافہ کرتے ہوئے ، عرض ہے کہ ریلوے لائین کی شین باغ سمت پہ ، سڑک کے جنوب میں جو فوجی احاطہ ہے ، یہاں انگریز کے زمانے میں کیمل کور Camel Core یا اونٹوں والی فوج مکین تھی ، جس کے پاس اونٹ گاڑیاں ہوا کرتی تھیں ۔ ہمارے بچپن تک یہ اونٹ گاڑیاں سڑکوں پہ رواں دواں نظر آتی تھیں ۔ تقریبا15 یا 20 فٹ طویل لکڑی کی بنی ریڑھہ نماءگاڑی ، جس کے آگے اونٹ جوت کر ، غیر جنگی ساز و سامان ، مثلا راشن ، گھاس وغیرہ ادھر سے ادھر منتقل کیا جاتا تھا ۔ یہ کیمل کور انگریز دور کا تھا ، بعد میں اس کی نوعیت بدل گئی ، اونٹ رہے نہ اونٹ گاڑیاں ۔ اسی کیمل کور کی مخالف سمت پہ ایک دوسرا فوجی احاطہ اسلام لائن کے نام سے قائم ہے ۔ یہ بعد کی پیداوار ہے ۔ جس جگہ اسلام لائین ہے ، یہاں کبھی ، ہمارے لڑکپن میں ، پاکستان ٹوبیکو کمپنی کا تمباکو خریداری مرکز تھا ۔ آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ ، اس زمانے میں ، شین باغ ، سروالہ ، ڈھیر ، جابہ ، بروٹھہ ، دکھنیر ، کرم علیا اور آس پاس کے دیہات میں کاشتکار ، اپنی چاھی زمینوں میں سگرٹی تمباکو کاشت کرتے تھے ، جسے اونٹوں ، خچروں ، بیل گاڑی اور دیگر جانوروں پہ لاد کر شین باغ کے نواع میں اس خریداری مرکز تک لایا جاتا تھا ۔ بدلتا ہے رنگ آسمان کیسے کیسے ، وقت نے کروٹ لی ، کاشتکاروں نے تمباکو کاشت کرنا بند کردیا لھذا ، برطانوی مالکان پہ مشتمل ، پاکستان تمباکو کمپنی اس خریداری مرکز کو بند کرکے رخصت ہوگئی ۔ یہ زمین شین باغ کے حمید اکبرخان کے خاندان کی ملکیت تھی ، ایک عرصے تک بند رھنے کے بعد کیمل کور کی توسیعی ضرورت کے تحت ، فوج کو فروخت کردی گئی اور اب اسے اسلام لائین کے نام سے جانا جاتا ہے ، ورنہ شروع میں یہ تمباکو کمپنی کے نام سے مشھور تھی ۔ آئیے اب ریلوے لائن اور پھاٹک کراس کرکے چلتے ہیں ، ڈیری فارم کی طرف اور جائزہ لیتے ہیں کہ ڈیری فارم سے گورا قبرستان تک ، سڑک کی اس جانب کیا صورت حال تھی۔ ریلوے لائن کراس کرتے ہی جنوبی سمت پہ ایک مسجد ہے ، جو شھر کے معروف سنار مکھن نے ہمارے بچپن میں تعمیر کرائی ،کوئی نصف صدی کا قصہ ہے ، زیادہ پرانی بات نہیں ۔ اس سے آگے ڈیری فارم کی حدود شروع ہوتی ہے ،آرٹلری سینٹر وغیرہ کی دودھ دہی کی ضروریات پوری کرنے کے لئے ، یہ ملٹری فارم غالبا سن ساٹھ کی دھائی میں قائم کیا گیا ۔ اس کا صحیح سن تعمیر ، فارم کے میں گیٹ پہ لکھا ہے ، مجھے اس وقت یاد نہیں آرھا ، البتہ اس کی تعمیر سے پہلے ، ہم بچے اس جگہ کھیلا کرتے تھے ۔ مجھے یاد ہے ، کبھی کبھی "کتوں کی لڑائی ” جسے ہم اپنی بولی میں "کتیاں نا بھیڑ ” کہتے ہیں ، اس خالی زمین پر منعقد ہوتا تھا ۔ ڈیری فارم کے عقب سے لیکر ماڑی گاوں تک کوئی آبادی نہ تھی البتہ بعد میں شھر کے معروف ٹھیکیدار میاں غلام ربانی نے فارم سے ھٹ کر ماڑی گاوں کی سمت ، ریلوے لائین سے متصل ایک وسیع رقبہ ، موضع ماڑی کے مالکان سے خرید کر ، زرعی فارم بنوایا ، جسے عرف عام میں ” ربانی نا کھوہ ” کہا جاتا تھا ۔ موجودہ ماڑی روڈ پہ جائیں تو سابقہ 7 نمبر چونگی کا علاقہ آتا ہے ۔ فارم کی دیوار کے ساتھ مغرب کی طرف جو آبادی ہے ، اس کا بیشتر حصہ ، ربانی کے کھوہ کی زمین پر مشتمل ہے ۔ ادھر آجائیں ، ماڑی موڑ کی طرف تو ، ماڑی موڑ نام کا کوئی موڑ کیمبل پور شھر میں موجود نہ تھا ۔ ماڑی گاوں جانے کے لئے تاریخی راستہ بجلی گھر روڈ تھا جو محلہ امین آباد سے ہوتا ہوا ، پگڈنڈیوں کی شکل میں ماڑی تک جاتا تھا ۔ ماڑی موڑ اور ماڑی گاوں کی سڑک نہ تھی لیکن اس راستے کی مشرقی سمت پہ ، طولا ، ایک پرانی بے ترتیب آبادی ٹوٹے پھوٹے گھروں پہ مشتمل ، موجود تھی ۔ آبادی کے ساتھ ساتھ زرعی زمینں اور کئی کھوہ تھے جو یہاں سے شروع ہوکر ، نشیب کی طرف سے ایک ھالہ بناتے ہوئے ، محلہ امین آباد ، شاہ آباد ، سمندر آباد ، کربلاء محلہ اور ڈھوک فتح تک ، ایک سرسبز و شاداب وادی کا نظارہ پیش کرتے تھے ۔ ” وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہااور کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا”کیمبل پور کا یہ جنوبی حصہ ، علاقہ چھچھ جیسی شادابی اور خوبصورتی کا حامل ہونے کے ساتھ ساتھ ، تاذہ اور صحت افزاء سبزیوں کا مرکز تھا ۔ شھر بھر کی سبزی کی ضروریات اس چھوٹے سے دائرے سے پوری ہوتی تھیں لیکن ، دولت کی حرص اور لالچ یا نادانی نے اسے ، اینٹ اور گارے کے بے ھنگم سمندر میں غرق کردیا ۔ کہاں گئے وہ لہلہاتے کھیت ، رھٹ کی آوازیں ، بیلوں کے گلوں میں معلق گھنٹیوں کی ٹناٹن ، بیل گاڑیاں ، محلہ شاہ آباد اور پنڈ غلام خان کے جھرنے ، سب کے سب بڑھتی آبادی کے بوجھ تلے دب گئے ۔

    (جاری ہے )

    iattock
    سیّدزادہ سخاوت بخاری
  • وہ لوگ ڈوب چکے ہیں جو بحر ِ ذلت میں

    وہ لوگ ڈوب چکے ہیں جو بحر ِ ذلت میں

    وہ لوگ ڈوب چکے ہیں جو بحر ِ ذلت میں
    انہیں سدھارنے کو لاؤ نبؐی کی امت میں
    وہ نصف میرا اور آدھا جہاں بھر کا ہے
    گھمائے رکھتا ہے وہ سب کو نصف عادت میں
    وہ مصلحت کے تقاضوں کو جانتے ہی نہ ہو
    گرفت ہوتی گئی ہر نئی وضاحت میں
    اسے یہ دکھ نہ چاہا گیا اسے پورا
    ہمیں یقین کی ڈوبے ہیں اس کی چاہت میں
    کہا تھا طبع میں رکھو سدا میانہ روی
    بالآخر ٹوٹ گیا ایک دن وہ شدت میں
    اسد تمہاری زبان میں خدا نے دی تاثیر
    عجب سرور خدا نے رکھا فصاحت میں
    کلام- عمران اسؔد

    عمران اسد
    عمران اسؔد پنڈیگھیب حال مقیم مسقط عمان
  • تیرا جیوے کیمبل پور کڑئیے

    تیرا جیوے کیمبل پور کڑئیے

    سیدزادہ سخاوت بخاری

     تحریر کے عنوان سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کیمبل پور کیسا ہوگا ، جس کی شان میں میرے مانموں ، پنجابی زبان کے نامور شاعر اور فرزند کیمبل پور ، مرحوم حکیم تائب رضوی نے اتنی پیاری نظم لکھی  ۔

    کیمبل پور کے عشق میں ڈوبی ان کی اس نظم کا ایک بند ملاحظہ ہو

    ” سر چک کے ڈولا لسی دا

    نی اڑئیے انج نہیں نسی دا

    وچوں بھانویں دل پیا رووے

    اتوں کھڑ کھڑ ھسی دا

    ذرا ہولی ہولی تر کڑئیے

    تیرا جیوے کیمبل پور کڑئیے

    یہ نظم اس وقت لکھی گئی جب کیمبل پور ایک چھوٹا سا ، صاف ستھرا ، پرامن اور خالص کیمبلپوریوں کا شھر تھا ۔ ابھی دوسرے صوبوں اور شھروں سے نقل مکانی کرکے لوگ یہاں نہیں پہنچے تھے ۔ آبادی اتنی کم کہ شھر بھر کے لوگ ایک دوسرے سے شناسا ، خوشی اور غم میں شریک ، دکھ سکھ کے ساتھی ۔

    ؓانگریزوں اور ھندووں کے بسائے ہوئے اس شھر کے نقشہ نویس کا تو علم نہیں لیکن داد دینے کو جی چاھتا ہے ۔ ہر گلی سیدھی ، آبادی چھوٹے چھوٹے بلاکس میں تقسیم ، ہر بلاک کے مرکزی چوک میں پانی کا کنواں اور اس کے گرد سماجی تقریبات کے لئے چاروں طرف کشادہ جگہ ۔ تقریبا تمام گھروں کی اونچائی ایک جیسی ، پتھر کی سیڑھیاں اور مٹی کی اینٹوں سے پختہ کی گئیں گلیاں ، کسی فلم کا نظارہ پش کرتی تھیں ۔

    گزشتہ چند برسوں میں مجھے مشرقی یورپ کے ان چند ممالک میں جانے کا موقع ملا جو کبھی کمیونسٹ سوویٹ یونین کا حصہ تھے ۔ یقین جانئیے کئی شھروں کے نقشے ، گلیاں ، اینٹوں سے بنی عمارتیں ، ڈیوڑھیاں ، جھروکے ، کوکے دار دروازے ، پتھروں سے پختہ کی گئی سڑکیں اور راھداریاں دیکھ کر شک سا ہونے لگا کہ میں

    تبلیسی ، باکو ، یراوان اور اصحاب کہف کے شھر نخچیوان میں کھڑا ہوں یا کیمبل پور کی گلیوں میں گھوم رھا ہوں ۔ یہ گمان اور تصور اس لئے پیدا ہوا کہ جس کیمبلپور میں ، میں نے آنکھ کھولی ، بچپن اور لڑکپن گزارا وہ اپنی طرز تعمیر ، تصویر اور تطھیر کے اعتبار سے کسی قدیم یورپی شھر سے کم نہ تھا ۔

    کاش کوئی مجھے میرا کیمبل پور واپس لوٹادے ۔ اب تو یہاں تولہ رام بلڈنگ کے علاوہ کچھ بچا ہی نہیں ۔ سنا ہے اس تاریخی عمارت کو  زبح کرنے کے لئے بھی چھریاں اور ٹوکے تیز کئے جارہے ہیں ۔

    شھر کی اصلی اور مکمل تصویر

    ان شاء اللہ آپ میری زیر تکمیل کتاب

    ” کیمبل پور سے اٹک تک ” میں دیکھ سکیں گے جسے ابتک چھپ جانا چاھئیے تھا لیکن بیرون ملک اقامت اور کورونا کی وجہ سے سفر پر پابندیوں نے ایسا ہونے نہیں دیا ۔

    ۔

    آج کا مضمون اس خبر کے زیر اثر تحریر کررہا ہوں جس کے مطابق چند رکشا ڈرائیوروں اور دوکانداروں کے مابین ایک جھڑپ ہوئی اور نتیجتا کمیونٹی دو حصوں میں بٹ گئی ۔ کچھ لوگ رکشا والوں اور کچھ دوکانداروں کی حمائت میں سامنے آئے ، لیکن دکھ اس بات کا ہے کہ کوئی ایک فرد بھی شھر کی حق میں بات نہیں کررہا ۔

    رکشا والوں اور دکانداروں کی باالآخر صلح ہوجائیگی ۔ دکاندار مال بنانے میں مصروف ہوجائینگے اور رکشاء والے حسب دستور شھر بھر کی ٹریفک میں خلل ڈالنے کا فریضہ انجام دیتے نظر آئینگے ۔ میں پورے یقین سے یہ بات کہ سکتا ہوں کہ اصلاح کا کوئی پہلو نہیں نکلے گا۔ یہ سب وقتی ابال اور باتیں ہیں ۔ شھر کے نظم و نسق پہ پہلے کسی نے توجہ دی اور نہ آئیندہ دے گا ۔ یہ لاوارث شھر ہے ۔ اس کا کوئی والی وارث نہیں ۔ اگر میری بات درست نہ لگے تو بتائیے  کیا اس شھر میں بلدیہ نام کا کوئی ادارہ نہیں ؟ کیا یہاں ٹریفک پولیس اور دیگر انتظامی محکمے موجود نہیں ۔ ایوب خان کے دور سے لیکر نوازشریف کے آخری دور تک بلدیاتی انتخابات ہوتے رہے ۔ لوگ ممبر ، کونسلر اور چیئرمین بنے لیکن شھر کی حالت سدھرنے کی بجائے بگڑتی ہی چلی گئی ۔

    جو آیا , تصویروں کے ساتھ ساتھ مال بنایا اور حاجی صاحب بن کر رخصت ہوگیا ۔ دنیاء کے ہر شھر کا ایک ماسٹر پلان ہوتا ہے جس کے مطابق اسے وسعت دی جاتی ہے لیکن یہاں تو ہر طرف خان ہی خان نظر آتا ہے ، پلان نام کی کوئی شے موجود نہیں ۔ مقامی نو دولتیوں کے ساتھ ساتھ غیر مقامی اور دور دراز سے آئے افراد نے اس کے تعمیراتی حسن کی اینٹ سے اینٹ بجا کے رکھ دی ۔ اور اگر کوئی کسر باقی تھی تو وہ افغانی پناہ گزینوں نے پوری کردی ۔ صاف ستھرا شھر غلاظت اور کوڑے کے ڈھیروں میں تبدیل ہوگیا ۔

    ہم تاریخ کے جبر سے اپنے آپ کو آذاد نہیں کراسکتے ۔ وقت اور زمانہ بدلتا ہے تو ذرائع نقل و حمل بھی بدل جاتے ہیں ۔ بیل گاڑی اور تانگے سے  آٹو موبیل تک آنا وقت کی ضرورت تھی لیکن کیا کسی نے ان نئی ایجادات کے استعمال اور ان سے پیدا ہونے والے مسائل پہ بھی توجہ دی ۔

    چھوٹا سا شھر ، مسافروں سے زیادہ رکشے ، موٹر سائیکلوں کا سونامی ، ریڑھی بانوں کے غول ، ٹریکٹر ٹرالیاں  اور اس بیچ ادھر ادھر بھاگتے افغانی ، کبھی کبھی تو یہ احساس دلاتے ہیں کہ شاید ہم کوئی بھیانک خواب یا کسی دست بہ دست جنگ کی ڈاکومینٹری دیکھ رہے ہیں ۔

    اگرچہ اس شھر کے بانی انگریز تھے اور آبادی کی اکثریت ھندووں پر مشتمل تھی لیکن جب ہم نے شعور کی آنکھ کھولی تو یہاں مقامی اور مہاجر مسلمانوں کا دور دورہ تھا ۔ پرانے شھر میں اکثریت پڑھے لکھے لوگوں کی تھی مثلا اس مقام کو لے لیں جہاں رکشا اور دکاندار جھگڑا ہوا ۔ اسے صدیقی روڈ کے نام سے پکارا جاتا تھا ۔ شرقا غربا سول بازار سے لیکر آخر تک شیخ صدیقی قبیلے کے لوگ آباد تھے جن میں اکثریت وکیل اور سول سروس سے وابستہ افراد کی تھی ۔ ہر دوسرے گھر پر آویزاں نام کی تختی پہ لفظ علیگ لکھا ہوتا تھا یعنی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے فارغ التحصیل لیکن اتنے  سادہ لوگ کہ موسم گرما میں رات کو اسی  سڑک کنارے بان کی چارپائیاں بچھا کر سوجاتے ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے ۔ شیخ فداحسین مرحوم نقشہ نویس کی چارپائی کی پائینتی کی طرف مٹی کا گھڑا مع پیالہ (بٹھل ) رکھا ہوتا تھا ۔ چونکہ اس وقت تک ٹی وی اور اس کے پوتے سوشل میڈیا نے جنم نہیں  لیا تھا لھذا چارپائیوں پر لیٹ کر گپ شپ اور دن بھر کی خبریں ایک دوسرے سے شئیر کی جاتی تھیں ۔ ایک وہ زمانہ کہ لوگ سڑک کنارے چین کی نیند سوتے تھے اور اب گھر کے اندر بھی رکشاء ، سوزوکی اور موٹرسائیکل کا شور سکون سے سونے نہیں دیتا ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کسی کارخانے میں سورہے ہیں جہاں ہر طرف مشینیں ہی مشینیں اور ان کا شور ہے ۔ وہ صدیقی روڈ جو کبھی اھل علم و دانش اور شرفاء کا مرکز تھا آج رکشاوں کے شور اور دھوئیں تلے دب چکا ہے ۔

    سوشل میڈیا کے ذریعے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ ہماری نئی نسل کے جوان سوشل ورک کی طرف راغب ہیں اور عوامی مسائل کے حل کے لئے آواز اٹھاتے رہتے ہیں ۔ میری ان تاذہ دم نوجوانوں سے اپیل ہے کہ افراد کے ساتھ ساتھ اپنے شھر کیمبل پور کی شکل و صورت ، صحت و صفائی اور تاریخ کے تحفظ پہ بھی توجہ دیں ۔ پرانا شھر مٹ رہا ہے ۔ تاریخی عمارات پلازوں کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں ۔ مہذب قومیں پرائیویٹ تاریخی عمارات کو بھی خرید کر قومی اثاثے کے طور پر محفوظ کرلیتی ہیں تاکہ آنیوالی نسلیں اپنی تمدنی تاریخ سے آگاہ ہوسکیں ۔ اس وقت شھر میں دو عمارتیں تولہ رام بلڈنگ اور رئیس خانہ اس بات کی متقاضی ہیں کہ انہیں مٹ جانے سے بچا لیا جائے ۔

    پلیڈر لائین میں تاریخی عمارت رئیس خانہ  ، ڈسٹرکٹ کونسل ، بلدیہ اور شھر کے سیاسی ذعماء کی مجرمانہ غفلت کے نتیجے میں کھنڈر بن چکی ہے ۔ اب بھی وقت ہے کہ اس کی بحالی اور تزئین و آرائیش کے لئے آواز اٹھاکر اسے ایک کمیونٹی سینٹر میں تبدیل کردیا جائے ۔ اس طرح عمارت بھی بچ جائیگی اور شھریوں کو ایک کمیونٹی سینٹر بھی دستیاب ہوگا ورنہ کچھ ہی عرصے میں سیاست دانوں کی ملی بھگت سے کروڑوں روپے مالیت کی یہ عوامی  پراپرٹی اونے پونے فروخت ہوکر پلازہ میں تبدیل ہوجائیگی ۔

    سیّدزادہ سخاوت بخاری
    ،سیّدزادہ سخاوت بخاری سرپرست اعلی، اٹک ویب میگزین
  • جانبازی میں عزت ہے

    جانبازی میں عزت ہے

    جنوبی وزیرستان کے ایک چھوٹے سے گاوں میں دو دوست اجو اور نجو رہتے تھے۔ پورا گاوں دونوں کی دوستی کی مثالیں دیتا تھا۔ اجو وطن سے بہت محبت کرتا تھا اسے پی ٹی وی پہ آنے والے سارے ملی نغمے زبانی یاد تھے جو کہ وہ اپنے دوستوں کو اکثر سناتا رہتا تھا۔ وہ وطن کے لیے کچھ کرنا چاہتا تھا۔ اس کے گاوں سے پاک فوج کے جتنے قافلے دہشت گردوں کے خلاف اپریشن کے لیے گزرتے تھے۔وہ ان کے استقبال کے لیے کچی سڑک پر کھڑے ہو کر ان کو سلیوٹ کرتا تھا۔ فوجی بھائی بھی اس بچے  کا جزبہ دیکھ کر اس کو سلیوٹ کا جواب دیتے تھے۔

    ایک دن اجو اور نجو کھیل میں مصروف تھے کہ دو فوجی ان کے پاس سے پیدل گذرے جن کی ہاتھوں میں بندوقیں تھیں اور کندھوں پر وائرلیس سیٹ رکھی ہوئی تھیں جن کے اوپر انٹینے لگے ہوئے تھے۔ جن میں سے ایک فوجی وائرلیس پر کسی کو کہہ رہا تھا کہ ہم انشاءاللہ کل صبح چھ بجے کیمپ سے نکلیں گے۔ اور ہم نے اگلے پہاڑ بھی دہشت گردوں سے پاک کرنے ہیں۔ باتیں کرتے کرتے فوجی آگے نکل گئے۔ لیکن نجو کے چہرے کا رنگ بدل گیا تھا۔ اس نے کھیل چھوڑا اور پہاڑ کی طرف بھاگ گیا۔ یہ بات وطن سے پیار کرنے والے اجو کو کھٹکی اور اسکو ڈرا رہی تھی اس لیے اس نےنجو کا پیچھا کرنا شروع کر دیا۔ بھاگتے بھاگتے وہ تھک گیا اور سانس بحال کرنے کے کیے بیٹھ گیا ۔اچانک اسکو سرگوشیوں کی آواز آئی ۔کوئی کہہ رہا تھا کہ کل صبح چھ بجے فوجیوں کا قافلہ گزرے گا۔ اور یہ بات اجو کا دوست نجو کچھ لوگوں کو بتا رہا تھا وہ لوگ بھی بندوقیں اٹھائے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ صبح فوجیوں کی گاڑیاں آنے سے پہلے راستے پر ٹائم بم نصب کردو۔ نجو اور اس کے دہشت گرد دوستوں نے ٹائم بم لگانے کا وعدہ کیا اور بیٹھ کر سگریٹ میں چرس ڈالنے لگے۔

    photo of boy wearing brown long sleeves
    Photo by Aqib Shahid on Pexels.com

    اجو نے ساری بات سنی اور گھر کی طرف واپس دوڑا۔ گھر پہنچ کر وہ بے چین ہو گیا کہ اس کا دوست غدار ہے اور پاک فوج کے دشمنوں سے ملا ہوا ہے۔ لیکن یہ بات وہ فوجیوں کو کس طرح بتائے۔اس بات کی فکر اسے کھائے جا رہی تھی۔ آخر اس نے دل ہی دل میں فیصلہ کرلیا۔ساری رات اسے نیند نہیں آ رہی تھی آخر اس نے کاغذ پر لکھا:-

    "پیاری امی جان ! آج میں ان کی جان بچانے جا رہا ہوں جو سب اہل وطن کی جان بچاتے ہیں اگر بچ گیا تو واپس آ جاوں گا اگر شہید ہو گیا تو جنت میں آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ملیں گے۔ خدا حافظ۔ پاک فوج زندہ باد

    کاغذ کا ٹکڑا سرہانے کے نیچے رکھا اور صبح کا انتظار کرنے لگا۔ گاوں کے موذن نے صبح کی اذان دی تو مسجد میں جا کر نماز پڑھی۔نماز پڑھنے کے بعد گاوں کی کچی سڑک کی طرف بھاگ کر گیا جہاں دہشت گرد ٹائم بم فکس کر رہے تھے۔ اجو ٹائم بم سے تقریبا سو میٹر دور جنگلی جھاڑیوں میں چھپ کر سارا منظر دیکھ رہا تھا۔ دہشت گرد ٹائم بم نصب کر کے پہاڑی کے اوپر کی طرف چلے گئے اور ایک پتھر کی آڑ میں جا کر بیٹھ گئے۔

    اجو کی نظریں اس طرف تھیں جس طرف سے فوجی قافلے نے آنا تھا۔ جلد ہی اسے دور پہاڑی پر دھول اڑتی ہوئی دکھائی دی تو اس نے شکر کا کلمہ پڑھا کیونکہ آج اس نے محافظوں کی جان کو بچانا تھا۔ آہستہ آہستہ فوجی گاڑیاں اجو کی طرف آ رہی تھیں۔ جب ایک فرلانگ کا فاصلہ رہ گیا تو اجو نے فوجی گاڑیوں کی طرف بھاگنا شروع کر دیا۔فوجی گاڑیاں بچے کو دیکھ کر رک گئیں اور فوجی اتر کر دائیں بائیں زمین پر لیٹ گئے اجو مسلسل چلا رہا تھا کہ سڑک پر ٹائم بم نصب کیا گیا ہے۔دہشت گرد پہاڑی سے یہ منظر دیکھ رہے تھے انہوں نے اجو کے اوپر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی اسی دوران ٹائم بم پھٹ گیا اور فوجی اجو کی دلیری اور عقلمندی کی وجہ سے بچ گئے۔ لیکن اجو شہادت کے بلند درجے پر فائز ہو کر پوری قوم کا ہیرو بن گیا تھا۔

    دہشت گردوں پر فوجی جوانوں نے ببر شیروں کی طرح حملہ کیا اور غدار نجو سمیت  سب کو مار دیا۔ اور وطن کے وفادار  اجو کے کارنامے کو آج بھی فوج اور قوم یاد کرتی ہے۔ہر سال اجو کی قبر پر فوج آ کر سلامی دیتی ہے اور اس کے لیے اجتماعی دعا کی جاتی ہے۔ اجو نے جو خط اپنی ماں کی طرف شہادت سے پہلے لکھا تھا پورے گاوں کو سنایا جاتا ہے اجو کا سارا گاوں آج بھی اجو پر فخر کرتا ہے۔سچ ہے کہ ملک و قوم کے لیے ” جانبازی میں عزت ہے”۔

    سید حبدار قائم آف اٹک

    حبدار قائم
    حبدار قائم
  • رجب : اسلامی کیلنڈر کا ساتواں مہینہ

    رجب : اسلامی کیلنڈر کا ساتواں مہینہ

    تحقیق وتحریر :
    سیدزادہ سخاوت بخاری

    سلطنت عمان میں آج بروز ھفتہ گریگورین یا عیسوی کیلنڈر کے مطابق 13 فروری سال 2021 ء جبکہ اسلامی یا ھجری کیلنڈر کے حساب سے سال 1442 کے ساتویں مہینے ، رجب کا پہلا دن ہے ۔

    ماہ رجب ، ھجری سال کا ساتواں اور نہائت مقدس جزو ہے ۔ قرآن حکیم میں جن 4 مہینوں کا ذکر ہوا ان میں رجب کا نام بھی شامل ہے ۔ تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ قبل از اسلام یعنی دور جاھلیہ میں بھی اس مہینے کو نہائت قدر و منزلت اور احترام حاصل تھا ۔ اھل عرب اس ماہ مبارک میں جنگ و جدل کو ممنوع سمجھتے تھے اور ھتھیاروں کی آوازیں خاموش ہوجاتی تھیں ۔
    اسلام نے اسے اللہ کی طرف سے انعام و اکرام اور نعمتوں کے نزول کا مہینہ قرار دیا ۔

    حضور نبی کریم ص نے ارشاد فرمایا ،
    رجب اللہ کا ،
    شعبان میرا
    اور
    رمضان امت کا مہینہ ہے ۔

    اس ماہ مبارک کی تاریخ اور فضائل پر اگر لکھتا چلوں تو ایک ضخیم کتاب مرتب ہوجائے لیکن مجھے یہاں نہائت اختصار کے ساتھ چند تعارفی کلمات درج کرنے ہیں تاکہ عام مسلمان اس کی فضیلت اور اہمیت سے آگاہ ہوسکے ۔

    مورخین نے لکھا ہے کہ قبل از اسلام بھی اھل عرب اس مہینے کے بعض دنوں میں روزے رکھا کرتے تھے لیکن ان کی نیت بتوں اور مورتیوں سے منسوب ہوتی تھی جبکہ اسلام نے رجب میں رکھے جانیوالے نفلی روزوں کو اللہ کے ساتھ جوڑ کر خالص عبادت قرار دے دیا اور اب کئی نیک اور اللہ والے ، ماہ رجب مبارک میں ، جمعرات ، جمعہ اور سوموار کے دن ، محض اللہ کی رضاء کے لئے روزہ رکھتے ہیں جس کا ثواب کئی نیکیوں پر بھاری ہے ۔

    چونکہ حضور علیہ الصلواة و السلام نے اسے اللہ کا مہینہ قرار دیا ہے لھذا ، اللہ سے قربت حاصل کرنے ، اس سے فیض پانے ، اس کی رحمتیں اور برکتیں حاصل کرنے کا اس سے بڑھ کر کوئی دوسرا زمانہ ہو نہیں سکتا ۔

    اللہ کے اس مہینے کے یوں تو بے شمار فضائل ہیں لیکن اس ماہ مبارک میں رونماء ہونیوالے بعض واقعات اسلام کی روح کا درجہ رکھتے ہیں ۔ ان میں سے کچھ تو ایسے ہیں کہ جن کے بغیر اسلام مکمل ہی نہیں ہوسکتا ۔

    یہی وہ ماہ مقدس ہے ، کہ جس کی ستائیسویں شب کو ، آقائے دوجہاں حضرت محمد ص کو آسمانوں کی سیر کرائی گئی اور جسے ہم معراج النبی ص کے نام سے ہر سال مناتے چلے آرہے ہیں ۔ 12 سال تک مسلسل تبلیغ اسلام کی تھکا دینے والے جدوجہد اور مخالفین کی طرف سے پیدا کی جانیوالی مشکلات و مصائب کے ماحول کو آسانی اور رحمتوں میں بدلنے کی خاطر ، اللہ نے اپنے حبیب کو زمین سے آسمانوں کی طرف لیجا کر سیر کرانے کا فیصلہ کیا لھذا نبی علیہ السلام پہلے مرحلے میں مکہ سے بیت المقدس تشریف لے گئے اور پھر وھاں سے سدرة المنتھی اور قاب قوسین تک کا سفر کیا ۔

    اجمیر شریف کی دھرتی پر پیدا ہونیوالے نعت گو شاعر سید عنبر علی شاہ المعروف عنبر وارثی نے اس سفر کو اپنے تین مصرعوں میں کچھ اس طرح بیان کیا کہ مرحوم غلام فرید صابری کی آواز میں گائی گئی یہ قوالی آج بھی سننے والوں پر وجد کی کیفیت طاری کردیتی ہے ؛

    ” سر لا مکاں سے طلب ہوئی
    سوئے منتھی وہ چلے نبی
    کوئی حد ہے ان کے عروج کی "

    اسی رجب المرجب نے جہاں واقعہ معراج مصطفے ص سے سعادت پائی وہیں اس ماہ مبارک کی 13 ویں تاریخ کو مولائے متقیان منبع ولائت و ھدائت ، فاتح خیبر امیرالمومنین حضرت سیدنا علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا ظھور ہوا ۔ یہی نہیں بلکہ آگے چل کر شیر خدا نے خیبر کا قلعہ بھی اسی مہینے میں فتح کیا ۔

    جیسا کہ شروع میں بیان کیا ، اس مہینے میں رونماء ہونیوالے اہم واقعات کی فہرست بہت طویل ہے مثلا ، بعض آئمہ اھل البیت اطھار کی اس ماہ میں ولادت ، امام جعفر صادق علیہ السلام کی نیاز ( کونڈے ) اسی ماہ کی 22 تاریخ کو بلا تفریق شیعہ سنی اکثر خانوادوں میں منعقد ہوتی ہے ۔

    حبشہ کے مسلمان نجاشی بادشاہ کا انتقال سن 9 ھجری کے اسی مہینے میں ہوا ۔

    سن 14 ھجری ماہ رجب میں دمشق فتح ہوا ۔

    صلاح الدین ایوبی نے اسی مہینے سن 583 ھ کو بیت المقدس فتح کیا ۔

    اسی ماہ مبارک کی 15 ویں تاریخ کو تحویل کعبہ یعنی بیت المقدس سے مکہ کی طرف منہ کرکے نماذ ادا کرنے کا حکم آیا ۔

    یہی مہینہ تھا جب طوفان نوع سے بچنے کی خاطر حضرت نوع علیہ کشتی نوع پر سوار ہوئے ۔

    اھل سنت کے امام حضرت ابو حنیفہ رحمةاللہ اور امیر شام کا انتقال بھی اسی مہینے میں ہوا ۔

    اس مختصر سی تحریر کے ذریعے فقط یہ پیغام دینا مقصود ہے کہ
    آللہ کے اس مہینے میں جسقدر ممکن ہو عبادات بجا لائی جائیں ۔ مسلم امہ اگرچہ فرقوں میں بٹ چکی ہے لیکن اللہ اور اس کے آخری رسول پر سب یقین رکھتے ہیں لھذا جہاں تک ہوسکے اس بندھن کو قائم اور مضبوط رکھیں ۔

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    سیدزادہ سخاوت بخاری

    مسقط، سلطنت عمان

  • خوشبو آ نہیں سکتی کاغذ کے پھولوں سے

    خوشبو آ نہیں سکتی کاغذ کے پھولوں سے

    تحریر : شہزاد حسین بھٹی
    کالم : دُرریز

    میں ان ہزاروں لوگوں میں سے ایک ہوں جنہوں نے اپنے بچپن میں عمران خان کو آئیڈیل لائز کیا اور عمران خان کے 1992 کے کرکٹ ورلڈ کپ جیتنے کے بعد شوکت خانم کی تعمیر کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کی مہم میں پیش پیش رہا. اس بائیس سالہ جدو جہد کے بعد الیکشن میں ووٹ بھی دیا، سپورٹ بھی اور قائد اعظم ثانی کا خطاب بھی. عمران خان کی نیت پر شک نہیں اگرچہ اسے یہودی لابی کا ایجنٹ بھی کہا جاتا رہا. پیر پنجر کی 25 سال قبل کی جانے والی یہ پیشن گوئی تو درست ثابت ہوگئی کہ عمران خان کو یہودی لابی اقتدار میں لائے گی جبکہ عمران خان پاکستان کو ریاست مدینہ کا ماڈل بنانے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں.

    دوسری جانب اپوزیشن حکومت کو گھر بھیجنے کے لیے پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے ایڑی چوٹی کا زور لگائے ہوئے ہے، جس میں بظاہر وہ ناکام دیکھائی دیتی ہے کیونکہ چالیس سالہ سابقہ دور حکومت میں ہر سیاست دان نے اپنا حصہ بطور جثہ وصول کیا ہے. ملک اور معاشیات ٹھیک کرنا اتنا آسان کام نہیں اس کے لیے طویل مدتی پالیسیاں بنا کر ان پر عمل درآمد کرنا، عوام کو بھوک اور مہنگائی سے بچانا، قوت خرید کو آسان بنانا ہوتا ہے تاکہ غریب آدمی عزت نفس کے ساتھ دو وقت کی روٹی کما سکے. غیر ملکی قرضوں کےبوجھ سے نجات کے لیے ملکی زرعی و صنعتی پیداوار کو بڑھانا، درآمدات کو کم اور برآمدات کو بڑھانا ضروری ہے تاکہ ملکی آمدن میں اضافہ ہو سکے.

    حکومتی پالیسیوں کے تسلسل کے لیے وزراء، وزراء اعلٰی کے ساتھ ساتھ بیوروکریسی کی دلچسپی اور کام کرنے کی نیت اشد ضروری ہے. اس وقت وزراء اور وزراء اعلٰی کے ساتھ ساتھ بیوروکریسی بھی نکمی اور کرپٹ ہو چکی ہے. کوئی اپنا کام احسن طریقے سے انجام دینے کو تیار نہیں. ابھی گذشتہ ہفتے لاہور نجی دورے پر جانے کا اتفاق ہوا. ذہن میں شکریہ عمران خان کے بورڈ ہر طرف آویزاں دیکھائی دے رہے تھے کہ تبدیلی اپنا اثر افروز کر چکی ہو گی؟ صفائی شہباز شریف کا منہ چڑا رہی ہو گی؟ ماحول پر سکون اور ٹریفک خراما خرام چل رہی ہو گی. لیکن یہ خواب اس وقت ٹوٹ کر بکھر گیا جب گندگی کے ڈھیر کو ایسے دیکھا جیسے یار کو میں نے جا بجا دیکھا. شاہی قلعے کی بات کروں تو شاہی قلعے کے اطراف گندگی کے ڈھیر، بادشاہی مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے گیا تو وضو خانے میں زنگ زدہ آلودہ پانی سے وضو کرنا پڑا،مسجد کے ارد گرد کہیں کوئی صفائی والا عملہ دیکھائی نہ دیا.
    مینار پاکستان کی سیڑھیاں چڑھنے کی بچپن سے خواہش تھی کہ بلندی سے لاہور کیسا دیکھائی دیتا ہو گا لیکن یہ خواہش اس وقت دم توڑ گئی جب مینار پاکستان کے ارد گرد قلعہ نما دیوار، خار دار تار اور بھاری تالوں نے استقبال کیا. کسی سیانے سے پوچھا تو معلوم ہوا کہ مینار تو 2010 سے بند ہے کیونکہ ایک تو دہشت گردی کا خطرہ تھا دوسرا لوگ اس پر چڑھ کر خود کشیاں کرتے تھے. واللہ عالم. ایک اور شخص نے بتایا کہ مینار پاکستان دلدلی زمین کی وجہ سے ایک جانب جھک رہا ہے شاید اس لیے کسی حادثے سے بچنے کے لیے بند کر دیا گیا. وجہ کوئی بھی ہو، دہشت گردی ہو، خودکشیاں یا اپوزیشن کے جلسوں کے پروگراموں کو سبوتاژ کرنا، ایسی تاریخی عمارات کو بند کر کے ہم کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ ہم اپنے بچوں کو کیا بتائیں کہ یہ جگہ کیوں بند ہے؟ سوچییے.
    تبدیلی اگر دیکھائی دی تو یہ کہ شاہی قلعہ لاہور میں عام آدمی کی گاڑی تو اندر نہیں جا سکتی لیکن اشرافیہ کی گاڑیاں قلعے میں دندناتی پھر رہی تھیں. قلعے کے اندر شیش محل کی الگ سے ٹکٹ لگی ہوئی تھی جو کبھی تفریح کے لیے مفت تھا البتہ چاول پر نام لکھنے والے جابجا موجود تھے. شالیمار باغ جانے کے لیے لکشمی چوک سے اورنج لائن ٹرین کا انتخاب کیا. بلاشبہ مسافروں کی سفری سہولیات میں نمایاں اضافہ محسوس ہوا. شکریہ شہباز شریف دل سے نکلا. شالیمار سٹاپ پر اتر کر سڑک کے بائیں چلتے ہوئے شالیمار باغ کے مرکزی دروازے کی طرف بڑھنا شروع کیا. فٹ پاتھ پر تعمیراتی کام ہو رہا تھا اور ریڑھی بان بیچ سڑک اپنی دکان چمکائے ٹریفک کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن رہے تھے. اگر نہیں دیکھائی دی تو وہ ضلعی انتظامیہ تھی جو نہ جانے کون سے بند کمروں میں موجود تھی. شالیمار باغ کی حالت بھی گونا گوں کسمپرسی کی منہ بولتی تصویر اپنے شاندار ماضی کا نوحہ کرتی دیکھائی دی. خوبصورت فوارے بند پڑے تھے. گندگی اور جابجا خود رو گھاس آپنی بے بسی اور لاچاری بزدار حکومت کے سر ڈال رہی تھی.
    شالیمار باغ، شاہی قلعہ، مینار پاکستان، بادشاہی مسجد اور علامہ اقبال کے مزار عظیم قومی ورثہ ہے جو ہمارے بچوں کو ہمارے اسلاف کے شاندار ماضی کی یاد دلاتا ہے. اس کا تحفظ وقت کی اشد ضرورت ہے. لاہور کے دورے کے دوران مجھے شہباز شریف کی لاہور میں ترقیاتی کاموں کے حوالے سے محنت شاقہ کے تذکرے جابجا سننے کو ملے کہ وہ کیسے رات 2 بجے بھی موٹر سائیکل پر ترقیاتی کاموں کی سائٹ پر پہنچ جاتے تھے. کیا عثمان بزدار بھی کبھی شہباز شریف بن پائیں گے؟ سفر لاہور کے بعد ایک ہی صدا میرے کانوں میں گونج رہی ہے کہ کیا قابلیت دیکھ کر عثمان بزدار کو وزیر اعلٰی بنایا گیا؟ عمران خان اب بھی وقت ہے ایک یو ٹرن اور لے لو اور پنجاب کے تیرہ کروڑ عوام کو گم سم عذاب سے نکالو. ابھی بھی دیر نہیں ہوئی یہ سب لے ڈبیں گے اس ملک کی ترقی اور ریاست مدینہ کے ماڈل کو. ہوش کے ناخن لو.
    آج لاہور شہر کے مکین شھباز شریف اور عثمان بزدار حکومت کا موازنہ کرتے دکھاۓ دیتے ہیں تو ان کی توپوں کا رخ عمران خان کی طرف ہوتا ھے کہ کیسا نااھل شخص شھباز شریف کے مقابل کھڑا کیا جس نے لاہور کو کراچی بنانے کا تہیہ کر لیا ھے. صفائی کا ناقص نظام بزداری پسماندگی کا عملی مظاہرہ جابجا دکھائی دینا اس بات کی علامت ھے کہ لاھور کو کسی اہل قیادت کی اشد ضرورت ھے بصورت دیگر اس کا نقصان پی ٹی آئی کو ہی پہنچے گا بلکہ کہا جاۓ کہ پہنچ چکا ھے غلط نہ ہو گا. آواز خلق نقارہ خدا ھے عوام نے جس تبدیلی کے نام پر ووٹ دیے تھے وہ ہر طرف دم توڑ چکی ھے صرف تقریروں سے ہی حکومتیں نہیں چلتی بلکہ عوام کو عملی تبدیلی کے ثبوت دینے ہونگے وگرنہ اب سوشل میڈیا کے اس دور میں عوام باشعور ہو چکے ہیں ان کو زیادہ دیر بیوقوف نہیں بنایا جاسکتا. بقول شاعر

    ,, خوشبو آ نہیں سکتی کاغذ کے پھولوں سے ,,

    شہزاد حسین بھٹی، کالم نویس
  • تعریف ہے جو تیرے محل کے قرینے کی

    تعریف ہے جو تیرے محل کے قرینے کی

    تعریف ہے جو تیرے محل کے قرینے کی
    شامل ہیں اس میں خوشبوئیں میرے پسینے کی
    میں دار پر بھی چڑھ کے جُھکوں گا نہیں کبھی
    مجھ کو جُھکا سکے گی تمنا نہ ، جینے کی
    کیوں دوسروں کے ڈوبنے کی فکر ہے تجھے
    غیروں کو چھوڑ ، فکر کر تو اپنے جینے کی
    خواہش رہی کہ وصلِ مسلسل نصیب ہو
    حسرت رہی ہے جامِ بلاخیز پینے کی
    چھاتی سے میری ، کان لگا تھوڑی دیر کو
    پھر سُن بُکا و آہ فغاں میرے سینے کی
    جن کا ہو زور ِبازُو پر کامل یقین، وہ
    کرتے نہیں فکر کبھی بھی دفینے کی
    دنیا کے تجربوں کا یہی ہے نچوڑ اسؔد
    فطرت بدل سکی ہے نہ بدلی کمینے کی
    کلام عمران اسدؔ

    عمران اسد
    عمران اسؔد پنڈیگھیب حال مقیم مسقط عمان
  • موجِ پریشان خاطر

    موجِ پریشان خاطر

    انسان کو اللہ تعالیٰ نے فطرت پر پیدا کیا ہے اور فطرت خدا کی تخلیق میں جھلکتی ہے۔

    کہیں وسیع و عریض آسمان ہے جس کی انسانی سوچوں کی طرح کوئی وسعت نہیں تو کہیں بلند و بالا پہاڑ ہیں جو منجھے ہوئے جذبات و احساسات کی طرح انتہائی خوبصورت اور خوفناک حد تک خاموش ہیں۔

    تو کہیں صحرا ہیں جو بہت جلد اور بہت زیادہ تغیر و تبدل کا مزاج رکھتے ہیں،آج میں آپ کو اسی انسانی فطرت اور اس کے روحانی تعلق کی سیر کروانا چاہوں گی۔

    تو چلیئے تصوراتی طور پر اٹک کے شمال میں موجود وادی سوات کی سیر کو چلتے ہیں۔

    پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے جن قدرتی مناظر و مقامات سے نوازا ہے ان میں سے ایک مقام وادی سوات ہے جہاں جانے کا اتفاق ہوا۔

    ویسے تو کئی بار جا چکے لیکن آغا جہانگیر بخاری صاحب کے کہنے پر سفر نامہ پہلی مرتبہ لکھ رہی ہوں۔

    اس سفر میں کئی تجربات و مشاہدات ہوئے، مختلف ثقافتوں، زبانوں، تہذیب و تمدن، تاریخ وغیرہ کا مشاہدہ ہوا، یہ تمام اپنے اندر ایک انفرادیت رکھتے ہیں۔

    موٹر وے کی وجہ سے اب سفر بہت آسان ہو گیا ہے، پہلے پشاور سے "مردان انڈس روڈ” ہائی وے کی حالت قابل رحم تھی۔آپریشن سے پہلے سوات کا راستہ نہایت ابتر تھا لیکن بعد ازاں بہت خوبصورت سڑک بنی۔تفریحی مقامات پر ہوٹلز، پلازے، مارکیٹ وغیرہ تعمیر ہو چکے ہیں خاص کر منگورہ شہر میں دریائے سوات کے کنارے پر واقع علاقے بہت خوبصورت ہیں۔

    سوات کی ایک اور خوبصورتی دریائے سوات ہے جس کا سفر ہمارے سفر کے ساتھ رہا۔ کافی لوگوں کی اب یہی رائے تھی کہ پہلے کے مقابلے میں اب حالات کافی بہتر اور حکومتی کنٹرول میں ہیں۔

    رات آرام کے بعد صبح اٹھے تو ہوٹل کے کمرے کے باہر دریائے سوات کے دلکش نظاروں نے سفر کی تھکن اتار دی۔

    صبح کا ناشتہ مینگورہ میں کیا پھر کالام پہنچے جو سوات سے لگ بھگ 100 کلومیٹر ہے۔ سڑک کافی خراب تھی اس لیئے سفر میں کچھ مشکل پیش آئی۔

    وادی سوات کا شمار پاکستان کے پر فضا مقامات میں ہوتا ہے۔

    دریائے سوات کی سرد لہریں ، برفیلے اور بلند و بالا پہاڑ، گھنے جنگلات، سرسبز و وسیع میدان، ہر طرف ہریالی، پھلوں کے باغات، چشمے اور شفاف ندیاں، بلند آبشاریں، گلیشیر اور سرد ہوائیں، اس کے موسم اور خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتی ہیں۔

    اب کچھ وادی سوات کے بارے میں۔

    سوات جہاں اپنی خوبصورتی اور رعنائی کے لحاظ سے پوری دنیا میں مشہور ہے وہیں یہ ماضی میں آزاد و خودمختار ریاست کے ساتھ ساتھ ہزاروں سال پرانی تہذیب بھی اپنے سینے میں سموئے ہوئے ہے۔ ہر سال آثار قدیمہ کو دیکھنے کے لیئے ملکی و غیر ملکی سیاحوں کی بڑی تعداد سوات کا رخ کرتی ہے۔ یہاں 2200 کے قریب تاریخی مقامات موجود ہیں۔

    سوات ایک سابقہ ریاست تھی جسے 1970 میں ضلع کی حیثیت دی گئی۔ مالاکنڈ ڈویژن کا صدر مقام سیدو شریف ہے اس ہی ضلع میں واقع ہے۔

    سوات کو خیبرپختونخوا میں امتیازی حیثیت حاصل ہے سوات مختلف تہذیبوں، تقافتوں اور قدیمی آثار کا گہوارہ ہے۔

    سوات کا زکر سب سے پہلے "رگ وید” میں کیا گیا ہے۔یہودی مذہب میں سوات کے معنی ہی جنت کے ہیں۔

    بدھوں کا یہ Vatican City ہے۔ روایات اور بدھ مت کے دوسرے مذہبی رہنما پدما سمبھو ایارام پوجی (گوتم ثانی) سوات میں پیدا ہوئے۔ آج دنیا بھر کا "لامہ ازم” سوات ہی کی دین ہے۔

    آریاؤں نے اسے (Fare Deweling Place) کہا تھا۔ سکندر اعظم 327 قبل مسیح میں افغانستان کے راستے سوات آیا، یہاں کے قبائل سے جنگ کے دوران تاریخ میں  پہلی بار زخمی ہوا اور یہی زخم بعد ازاں اس کی موت کا سبب بنا۔

    سلطان محمود غزنوی نے لگ بھگ ایک ہزار سال قبل پوری وادی کو فتح کیا۔ غزنوی کی تعمیر کردہ مسجد آج بھی اوڈیگرام میں موجود ہے۔

    دور جدید کی وادی سوات۔

    پاکستان کے سابق فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے 1963 میں سوات کے مشہور عجائب گھر کی بنیاد رکھی.

    (سفید محل) مینگورہ سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

    ہے۔ سوات میں فلک بوس پہاڑوں اور سر سبز جنگلات کے بیچ و بیچ وادی مرغزار کا سفید محل فن تعمیر کا شاہکار ہے۔

    White Palace Swat کے نام سے اس محل کی عمارت سوات کے حکمران کا کیمپ ہاؤس ہوا کرتی تھی۔

    24 کمروں پر مشتمل white Palace vector bin فن تعمیر کا نمونہ ہے۔

    اس محل کی تعمیر کا فیصلہ والی سوات میاں گل عبد الودود بادشاہ صاحب نے 1935 میں کیا۔

    1941 میں سفید محل کو تعمیر کیا گیا۔

    وادی سوات ایک ایسی کہانی ہے جو بڑی دلچسپ اور دلکش ہے۔یہاں سیاحتی موسم یعنی جون سے اگست کے دوران سیاحوں کا خاصا رش رہتا ہے۔

    مینگورہ اور سیدو شریف۔ سطح سمندر سے 3250 فٹ بلندی پر واقع ہیں۔

    مینگورہ اور سیدو شریف کے جڑواں شہر سوات بالترتیب کمرشل اور انتظامی دارالحکومت کہلاتے ہیں۔

    مینگورہ وادی سوات کا سب سے بڑا کاروباری مرکز ہے جب کے سیدو شریف میں تمام سرکاری دفاتر کے علاؤہ اب PTDC کا موبائل اور انفارمیشن سینٹر بھی موجود ہے۔

    سیدو شریف میں افغان سیدو بابا کا مزار ہے۔ بابا جی نے 1877 میں وفات پائی۔

    بانی سوات عبد الودود کا مزار بھی قابل دید عمارت ہے۔ 160 مربع کیلومیٹر کے علاقے میں 400 سے زائد بدھ مت کی خانقاہیں ہیں۔

    اس کے ساتھ ہی وادی سوات کے خوبصورت سفر کو تمام کرتے ہوئے ایک آخری نقطہ بیان کرتی چلوں جیسا کہ پہلے پیرے میں بیان ہوا کہ یہ سفر گھومنے پھرنے اور سیر و تفریح سے زیادہ محسوس کرنے کے لائق ہے۔ ان وادیوں میں عشق الٰہی کی جو جھلک نظر آتی ہے وہ شاید عبات گاہوں میں ڈھونڈنے سے بھی نہ ملے۔

    وادی سوات میں تیزی سے بہتے ہوئے دریا کو دیکھنے سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اپنے جوش میں اپنے ہی کناروں کو ہی کاٹتا ہوا نکل جائے گا۔

    لیکن یہی دریا اٹک کے مقام پر آ کر انتہائی پر سکون، خاموش اور گہرائی میں وسیع تر ہو جاتا ہے۔

    عشق حقیقی کی مثال بھی ایسے ہی ہے جس پر قدم رکھتے ہی دریائے سوات کی طرح انسان شور شرابا کرتا ہے کیونکہ اسے معلوم نہیں ہوتا کہ وہ حقیقت سے کتنا دور ہے جیسے علامہ اقبال نے فرمایا

    یہ موجِ پریشاں خاطر کو پیغام لبِ ساحل نے دیا
    ہے دُور وصالِ بحر ابھی، تُو دریا میں گھبرا بھی گئی!