Tag: کیمبل پور

ضلع اٹک کا اولین اور قدیم نام کیمبل پور تھا جو سر جان کیمپبل سے موسوم تھا۔

  • کیمبل پور سے اٹک تک – 16

    کیمبل پور سے اٹک تک – 16

    تحریر:

    سیدزادہ سخاوت بخاری

    گزشتہ قسط میں گورنمنٹ کالج کیمبل پور کا ذکر ہورہاتھا ، جی تو چاہتا ہے کہ سب کچھ لکھ دوں مگر ایسا بوجوہ ممکن نہ ہوگا ، رہنے دیجئے ، کیا یہی کافی نہیں کہ ہمارے دور کا طالب علم طاہر خان آف باہتر آج میجر صاحب کی عرفیت کے ساتھ نامور سیاست دان ، احمد شجاع پاشا ڈائیریکٹر جنرل آئی ایس آئی ، مرزا حامد بیگ دنیائے اردو ادب کا چمکتا ستارہ ، معروف مقرر احسن حجازی ،آج شیخ احسن الدین ایڈووکیٹ ، منیر پراچہ جج ہائیکورٹ اور اکبریوسف زئی نامور صحافی بن کر ہمارے دور اور کالج کا نام روشن کرگئے ۔

    ہمارے دور کا کالج ایک منفرد حیثیت رکھتا تھا ، لیفٹینینٹ کمانڈر ظہور احمد پرنسپل ، پہلے باغ علی شیرازی اور پھر مختار اعوان ڈی پی ای ، معروف اسکالر ، شاعر اور ادیب  چودھری غلام محمد نذر صابری لائیبریرین ، حضرت علامہ مفسر قرآن قاضی محمد زاھدالحسینی ، معروف شاعر ماجدصدیقی ، استاد مکرم پروفیسرڈاکٹر سعداللہ کلیم ، افسانہ نگار انورجلال ، انشائیہ نگار مشتاق قمر ، پروفیسر الطاف حسین ، پروفیسراخترقریشی ، پروفیسر مختارصدیقی ، پروفیسرمحمدافضل ، پروفیسر غلام محمد ملک اور کئی دیگر نامور اساتذہ سے علم حاصل کرنے کا ہمیں موقع ملا ۔

    کیمبل پور سے اٹک تک – 16

    کالج لائیبریری ، مرحوم نذرصابری کی علم و عالم دوستی کی بناء پر شھر اور ضلع بھر کے علماء کی مسلسل آمد اور گفتگو سے ہر وقت مزین اور معطر رہتی تھی ۔ میری خوش قسمتی کہ مسلسل دوسال تک بحیثیت اسٹوڈینٹ لائیبریرین ، اس کتب خانے میں طلباء و طالبات کے ساتھ ساتھ اساتذہ اور علماء کی خدمت کا موقع ملا ۔

    اس صدی کے معروف اسکالر مرحوم پروفیسر ڈاکٹر غلام جیلانی برق ، حسب معمول ہر صبح دس بجے کے قریب لائیریری آجاتے تھے ۔  اگرچہ وہ بحیثیت استاد اسلامک اسٹڈیز ، اسی کالج سے ریٹائرڈ ہوچکے تھے مگر حاضر سروس پروفیسر کی طرح روزانہ کالج آکر لائیبریری میں محفل سجاتے ، علمی بحثیں ہوتیں ۔ ان کے ہم عصر ، اپنے وقت کے معروف بریلوی مکتب فکر کے عالم اور جامع مسجد حنفیہ کے خطیب حضرت قاضی انوارالحق بھی تشریف لے آتے ۔ ان کے علاوہ جید شاعر اقبال شاہ پوری ، صابر مٹھیالوی ، خواجہ محمد حضروی اور کئی دیگراہل علم و ذکاء کا مجمع لگا رھتا ۔  کمانڈر ظہور احمد پرنسپل ہونے کے ساتھ ساتھ فارسی ادب کے استاد بھی تھے ، ان کے آجانے سے محفل کا رنگ دوبالا ہوجاتا ۔

    کالج لائیبریری اس سے پہلے بٹلر بلاک میں ہوا کرتی تھی ، جب ہم سال سوم میں پہنچے تو لائیبریری کی نئی اور موجودہ عمارت تعمیر ہوئی ۔ لائیبریرین چودھری غلام محمد مرحوم کی نگرانی میں ہم نے کتب کو نئی عمارت میں منتقل کیا ۔

    مباحثے اور مشاعرے اولڈ ہوسٹل میں ہوا کرتے تھے ۔ کالج کے پاس پانی کی فراہمی کے لئے اپنا کنواں تھا جہاں بیل جوت کر روائیتی طریقے سے پانی حاصل کیا جاتا تھا لیکن اس وقت تک کالج کی مسجد تعمیر نہ ہوئی تھی ۔ ایک دن جب ہمارا اسلامیات کا پیریڈ ختم ہوا تو قاضی زاہدالحسینی صاحب نے لڑکوں کو بلاکر کہا کہ مسجد کا سنگ بنیاد رکھنا ہے ، سب لوگ لان میں جمع ہوجائیں چنانچہ بازار سے مٹھائی منگوائی گئی اور جس جگہ اب مسجد موجود ہے ، اس لان میں مسجد کی تقریب سنگ بنیاد منعقد ہوئی ۔

    ( جاری ہے )

    SAS Bukhari

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    سرپرست اٹک ای میگزین

  • کیمبل پور سے اٹک تک – 15

    کیمبل پور سے اٹک تک – 15

    تحریر:

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    گزشتہ قسط تک ملک حاکمین اور عاشق کلیم وغیرہ کا ذکر خیر ہوتا رہا ۔ آئیے اب بات ہوجائے ان حضرات کی ، جو ہمارے دور میں گورنمٹ کالج کیمبل پور کے طالب علم تھے لیکن بعد میں نامور سیاست دان ،  ادیب ، شاعر ، جج ، جرنیل ، وکیل اور بیورو کریٹ بن کر ابھرے ۔  

    1967 میں جب ہم کالج میں داخل ہوئے تو ، طاہر خان آف باہتر ،  احسن خان آف غورغشتی ، قاضی خالد محمود آف جتیال ، ممریز خان آف فورملی ، مرزا حامد بیگ ، احمد جاوید گرو ،  منیر پراچہ ، شیخ احسن الدین ، احمد شجاع پاشا ، اکبر یوسف زئی اور مظہر الدین سمیت کئی لڑکے ، ہمارے ہم جماعت یا ہم سے ایک آدھ سال سینئر ، زیر تعلیم تھے ۔

    ہم نے ابھی کالج میں قدم رکھا ہی تھا کہ انجمن اتحاد طلباء یعنی اسٹوڈنٹس یونین کے الیکشن آگئے ۔ طلباء برادری تین واضح دھڑوں میں بٹ گئی ، چھاچھی گروپ ، قاضی خالد اور احسن خان وغیرہ کی قیادت میں سامنے آیا جبکہ زمیندار طبقے سے طاہر خان آف باہتر اور دیگر طالب علم راہنماوں نے اپنا دھڑا ترتیب دیا ، تیسرا اور سب سے بڑا گروپ شہری طلباء پہ مشتمل تھا ، جس کی قیادت مرحوم اکبریوسف زئی کررہے تھے ۔

    الیکشن مہم شروع ہوئی ، ہم شہری گروپ کا حصہ تھے لھذا ہمارے لئے ووٹرز سے رابطہ نسبتا آسان تھا کیونکہ طلباء کی اکثریت کیمبل پور شہر سے تعلق رکھتی تھی ، اس کے باوجود ہم نے علاقہ چھچھ کے گاؤں گاؤں گھوم کر ووٹ اکٹھے کئے ، چھاچھیوں کے لئے شہر سے ووٹ لینا آسان نہ تھا ، ادھر زمیندار طبقے تک ہماری رسائی مشکل تھی کیونکہ وہ برادری سسٹم میں جکڑے ہوئے تھے ۔

    Government Postgraduate College Attock
    گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج اٹک – تصویر: سردار ساجد محمود خان

    قصہ کوتاہ کئی روز کی انتخابی مہم کے بعد الیکشن ڈے آن پہنچا ، دن بھر پولنگ جاری رہی ، ہر گروہ اپنی کامیابی کے لئے پرامید تھا ، ہم شہری اگرچہ تعداد میں زیادہ تھے تاہم ، طاہر خان کی کھٹڑ برادری ، اعوان اور جنوبی دیہات سے تعلق رکھنے والے زمیندار گھرانوں کے سپوت اور علاقہ چھچھ کے خوانین اور صاحبان ثروت کی موجودگی میں فتح حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ انتخابی مہم کے دوران ، درج بالا عوامل ہم شہری طلباء کے لئے اکثر دیہاتوں میں سد راہ ثابت ہوتے رہے ۔ کئی گاؤں میں ہمیں مزاحمت اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن کسی نہ کسی طور ہم نے اپنا پیغام طلباء تک پہنچایا اور باالآخر الیکشن ڈے کی شام قرعہ فال شہری گروپ کے امیدوار اکبر یوسف زئی کے نام نکلا ۔ اکبر بھائی گورنمنٹ کالج کیمبل پور کی طلباء یونین کے صدر منتخب ہوگئے ۔

    نعرے لگے ، خوشیاں منائی گئیں اور جلوس کی شکل میں اکبر یوسف زئی کو ان کے گھر تک لایا گیا ۔ ہم جیت تو گئے لیکن ناکام رہ جانے والے ساتھیوں نے ، پاکستان کی سیاسی روایات کے مطابق ، ہماری جیت تسلیم کی اور نہ ہی اپنی شکست ۔

    کالج انتظامیہ کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری ہونے کے بعد ، بٹلر بلاک کے عقب میں برق روم کے ساتھ ایک چھوٹا سا کمرہ طلباء یونین کے آفس سے کے لئے منتخب کیا گیا ۔ پراکٹورل بورڈ تشکیل ہوا ، جس میں دیگر کے علاوہ مجھے بھی نمائندگی ملی ۔

    یہاں تک تو سب اچھا تھا لیکن اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ انتہائی تکلیف دہ اور جمہوری روایات کے برعکس ، ایک ایسا رویہ تھا ، جسے میں آج تک بھلا نہیں سکا ۔

    قارئین نوٹ فرمالیں ، اگرچہ میں خود بھی ایک سیاسی کارکن رہ چکا ہوں اور میرا خاندان آج بھی ضلعی اور ملکی سیاست میں ، متحرک ہے لیکن میرا اب کسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ، میرے لئے ضلع بھر کے سیاسی زعماء قابل قدر ہیں اور جو واقعات میں قلم بند کررہا ہوں ، اس کا واحد مقصد ، نئی نسل کو کیمبل پور کی تاریخ سے روشناس کرانا ہے ۔

    عرض کررہا تھا کہ طلباء یونین کے انتخابات تک تو حالات خوشگوار رہے لیکن بقول میرؔ :

    ؔوہ آئے بزم میں اتنا تو ہم نے دیکھا میر
    پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی

    ہوا کچھ اسطرح کہ جب طلباء یونین نے سرگرمیاں شروع کیں تو حزب اختلاف نے قدم قدم پہ روڑے اٹکانا شروع کردئیے ، مشاعرہ ہو کہ مباحثہ یا کوئی بھی تقریب ، ہنگامہ آرائی سے خالی نہ ہوتی تھی ۔

    ( جاری ہے )

    SAS Bukhari

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    مسقط، سلطنت عمان

  • کیمبل  پور سے اٹک تک – 14

    کیمبل پور سے اٹک تک – 14

    تحریر:

    سیدزادہ سخاوت بخاری

    عاشق کلیم کی برطرفی کے بعد ملک حاکمین خان پنجاب کے وزیرجیل خانہ جات مقرر ہوئے ۔ محکمہ جیل کا قلم دان ان کا اپنا انتخاب تھا ۔ ہوا کچھ اسطرح کہ ایک زمانے میں کھنڈہ کے ملک الہ یارخان مرحوم وزیر جیل خانہ جات تھے اور ملک حاکمین خان کو ان سے قربت حاصل تھی ۔ ملک الہ یارخان ، ملک حاکمین کی دعوت پر شین باغ بھی تشریف لائے اور اسطرح ان کا آپسی تعلق بڑھتا گیا ۔ اس قربت نے ملک صاحب کے دل میں امنگ پیدا کی کہ اگر موقع ملا تو میں بھی جیلوں کا وزیر بنوں گا۔ اب جب اللہ نے موقع دیدیا تو وہ اپنی دیرینہ خواہش پوری کرتے ہوئے ، وزیر جیل خانہ جات بن گئے ۔

    کیا شان تھی ، کیا ٹھاٹھ باٹھ تھے ملک صاحب کے ،  کیمبل پور کے دورے پہ آئے، ہر طرف ہٹو بچو کی صدائیں ، آگے پیچھے گاڑیاں ، مبارک بادیں ، غرضیکہ ایک شادی کا سا سماں تھا ۔ اچانک اعلان کیا کہ ڈسٹرکٹ جیل کا دورہ کرنا ہے ۔ صبح کے وقت کاروان تیار ہوا ، ہم بھی ساتھ تھے ، جیل کے دروازے پہ پہنچے تو مین گیٹ کھول دیا گیا ۔ ملک صاحب نے مختلف بیرکس کا معائنہ کیا اور قیدیوں سے ملے ۔

    اس زمانے میں سرگودھا کا معروف بدمعاش اور خوف کی علامت چراغ بالی کیمبل پور جیل میں بند تھا ۔ جیلر نے ملک صاحب کو بتایا کہ چراغ بالی ہمیں بہت تنگ کرتا ہے ۔ ملک صاحب اس کے سیل کی طرف گئے ، وہ سلاخوں کے پیچھے کھڑا تھا ، اس سے مخاطب ہوکر کہا ، اوئے سیدھے ہوجاو ورنہ ٹھیک نہیں ہوگا ، وہ خاموش کھڑا رہا ۔ ملک صاحب نے دو چار ڈائیلاگ اور بولے اور آگے بڑھ گئے ۔ 

    jail
    Image by Ben Kerckx from Pixabay

    یادرہے ، پیپلز پارٹی کی حکومت نےسانحہ مشرقی پاکستان کی کوکھ سے جنم لیا تھا ۔ ہمارے تقریبا نوے ہزار قیدی بھارت کی قید میں تھے ۔ ذوالفقار علی بھٹو ، کسی طرح بھارت سے معاہدہ کرکے اپنی کھوئی ہوئی زمین اور ان قیدیوں کو واپس لانا چاھتے تھے لھذا طے پایا کہ مختلف شہروں میں عوامی ریلیاں منعقد کرکے ، عوام کی طرف سے مطالبہ کیا جائے کہ ہمارے قیدی واپس لاؤ ۔ اصل مقصد تو بھارت سے معاہدہ تھا، جنگی قیدی ہتھیار کے طور پر استعمال کئے گئے ۔

    فوجی علاقوں ، جہلم ، چکوال ، گجرات اور کیمبل پور کے ممبران اسمبلی سے کہا گیا کہ لوگوں کو بسوں اور ٹرکوں میں بھر کر راولپنڈی لایا جائے اور کمیٹی چوک سے صدر تک ریلی کے شرکاء ” ہمارے قیدی واپس لاو "

    کے نعرے لگائیں ۔

    ملک صاحب کیمبل پور آئے ، سب کو جمع کیا اور بتایا کہ کل ہم نے پنڈی جاکر ریلی میں شریک ہونا ہے ۔ بسوں اور ٹرکوں کا انتظام کیا گیا اور اس طرح ایک بہت بڑا کاروان وقت مقررہ پہ راولپنڈی پہنچ گیا ۔

    مری روڈ پر ریلی منظم کی گئی ، سب سے آگے ایک ٹرک کے اوپر ، ملک حاکمین خان ، خورشید حسن میر ، کرنل حبیب ، جاوید حکیم قریشی اور یہ فقیر سوار تھے ۔ ٹرک پر لاوڈ اسپیکر نصب تھا ، ہمارے قیدی واپس لاو اور دیگر نعرے لگوانا میری ذمہ داری تھی ، ہم نعرے لگاتے ہوئے جہاں سے گزرتے ، لوگ تالیاں بجاکر ہمارا استقبال کرتے ، ان بے چاروں کو کیا پتہ کہ یہ جلوس حکومت نے خود منظم کیا ہے ۔

    ملک صاحب کے ساتھ میری بہت ساری خوشگوار یادیں ہیں لیکن کچھ یاد رہیں کچھ بھول گئیں ۔

    ملک حاکمین خان سے پہلے کیمبل پور شہر سے عاشق کلیم ، ان سے بہت پہلے لیاقت علی خان کی کابینہ میں سردار ممتاز علی خان اور سید میر احمد شاہ ایڈووکیٹ وزیر اور مشیر رہ چکے ہیں ۔ حالیہ برسوں میں شیخ آفتاب احمد صاحب کیمبل پور شہر سےوزارت پہ فائز رہے  ۔ ان میں سے پہلے دو حضرات سے مجھے قربت حاصل رہی جبکہ باقی سب سے فقط ملاقات کا شرف حاصل ہوا ۔ ایک اور صاحب جو محلہ امین آباد میں میرے پڑوسی بھی ہیں یعنی لیفٹینینٹ جنرل جاوید اشرف قاضی ، سابق ڈی جی

    آئی ایس آئی ، مشرف دور میں ، وفاقی وزیر ریلوے ، مواصلات اور تعلیم رہ چکے ہیں اس طرح انہوں نے بھی بحیثیت وزیر کیمبل پور شہر کی نمائیندگی کا شرف حاصل کیا

    جاری ہے

    SAS Bukhari

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    مسقط، سلطنت عمان

  • کیمبل پور سے اٹک تک -9

    تحریر :سیدزادہ سخاوت بخاری

    آٹھویں قسط میں کیمبل پور سے ملحق دیہات سے آنیوالوں کو ذکر کرتے ہوئے ، لکھا تھا کہ” دیہات سے آنیوالوں نے اس شہر کی اسٹیج پہ سجنے والے زندگی کےہر ڈرامے میں فعال کردار ادا کئے ” ، علم و ادب ، مذھب ، سماج سیوا ، ثقافت اور سیاست ، غرضیکہ کوئی شعبہ ایسا نہیں ، جس میں ان کا عمل دخل نہ رہا ہو ۔اتفاق سے ان دنوں ، میں اپنے شہر کیمبل پور میں موجود ہوں اور آج جب ایک صاحب سے ملنے ، چھوئی روڈ پہ واقع ان کے آفس گیا تو ، قدم رک سے گئے ، 1970 کا زمانہ ، پیپلز پارٹی کا ابتدائی دور اور ماضی کے کچھ واقعات میرے ذہن میں گردش کرنے لگے ۔ جی ہاں ، میں اس وقت پیپلز پارٹی ضلع کیمبل پور کا ہیڈ آفس سیکریٹری تھا ، سید عاشق کلیم مرحوم ، پارٹی کے صدر اور الیکشن کی تیاریاں عروج پر تھیں لیکن زمینداروں اور جاگیرداروں کے اس ضلع میں ، بھٹو مرحوم کے نعرہء سوشلزم کو لیکر ، کوئی امیدوار سامنے آنے کی جرآت نہیں کرپارھا تھا اور کرتا بھی کیسے ، تحریک پاکستان کے راہنماء سردار شوکت حیات خان جیسی نامور سیاسی شخصیات میدان میں موجود تھیں ۔ ویسے بھی کیمبل پور روائیتی طور پر مسلم لیگ کا گڑھ رہا ہے ۔ شمس آباد کے ملک صاحبان ، واہ اور فتح جنگ کی کھٹڑ برادری ، پنڈی گھیب کے نوابزادگان ، گھیبے ، راجپوت ، تلہ گنگ جو اس وقت کیمبل پور کی تحصیل تھی ، وھاں کے ٹمن اور ملک صاحبان، کھنڈہ سے ملک اللہ یار خان اور چھچھ سے تاج خانزادہ وغیرہ ، اتنے طاقتور اور بااثر لوگ تھے کہ جن کا سامنا کرنے کے لئے پیپلزپارٹی ، اپنی بے پناہ عوامی مقبولیت کے باوجود ، مناسب امیدوار تلاش کرتی پھررہی تھی ۔ اس پس منظر میں مرحوم عاشق کلیم نے ، اس فقیر کو شہر کی صوبائی نشست کے لئے مناسب امیدوار تلاش کرنے کی ذمہ داری سونپی ۔ چونکہ ہماری رہائیش شروع سے محلہ امین آباد میں تھی لھذا ہر روز صبح و شام بجلی گھر روڈ سے گیدڑ موڑ اور پھر جی بلاک میں واقع پارٹی کے آفس جانا ہوتا تھا ۔ ایک دن جب میں چھوئی روڈ پہ ملک شیراحمدخان صاحب کے ٹال کے پاس پہنچا تو ایک سفید رنگ کی اوپل کار کے پاس کھڑے ایک خوبصورت جوان نے مجھے روک کر دعاء سلام کے بعد ، پارٹی کے بارے میں بات چیت شروع کردی ۔ میں ان صاحب کو نام اور شکل سے جانتا تھا لیکن کبھی علیک سلیک نہیں ہوئی تھی ۔ کچھ دیر گفتگو کے بعد ، میں آفس چل دیا اور خیال تک نہ آیا کہ یہ صاحب آگے چل کر ہمارے صوبائی اسمبلی کے امیدوار ہونگے ۔دوسرے روز پھر وہیں پہ ملاقات ، قصہ مختصر ملاقاتوں کی ایک سیریل شروع ہوگئی اور باالآخر ایک دن انہوں نے اپنے دل کی بات کہ دی کہ اگر پیپلزپارٹی مجھے ٹکٹ دے تو میں مسلم لیگ چھوڑ کر پی پی میں شامل ہوجاونگا ۔ اندھا کیا مانگے ، دو آنکھیں ، پارٹی نے مجھے پہلے ہی یہ ہدف دے رکھا تھا کہ صوبائی کے لئے کوئی مناسب امیدوار تلاش کروں ۔ آفس پہنچ کر ضلعی صدر مرحوم عاشق کلیم کو خوشخبری دی کہ امیدوار مل گیا ۔ کہا کون ؟ عرض کیا ابھی نام نہیں بتاونگا ، نواحی گاوں کی ملک ( اعوان ) برادری کا نوجوان ، درمیانے درجے کا زمیندار ، پیشے کے لحاظ سے ٹھیکیدار ، ایک عدد کار کا مالک اور مبلغ پچاس ھزار روپے نقد الیکشن مہم پہ خرچ کرنے کے لئے تیار ہے ۔ یاد رہے 1970 میں پچاس ھزار روپے ایک خطیر رقم تھی ۔ بات ہورہی تھی دیہات سے آنیوالوں اور شھر کے سیاسی اسٹیج پہ ان کے کردار کی ، اب دیکھئے کس طرح ایک نیا کردار جلوہ گر ہوتا ہے ۔ ۔

    ( جاری ہے )

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    سرپرست

    اٹک ای میگزین

  • کیمبلپور سے اٹک تک – 8

    کیمبلپور سے اٹک تک – 8

    تحریر:سیدزادہ سخاوت بخاری

    نواحی دیھات اور آبادیوں کے ذکر کے بغیر ، پرانے کیمبل پور کی تاریخ ، ادھوری ، لولی ، لنگڑی ، پھیکی اور بے رنگ ہوگی ۔ اس شھر کی اسٹیج پہ سجنے والے ، زندگی کے ہر ڈرامے میں ، ان دیہات کے لوگوں نے اہم کردار ادا کئے ۔ پرانا اور ابتدائی شھر تو ایک ماسٹر پلان کے تحت وجود میں آیا لیکن دائیں بائیں کے محلے اور نئی آبادیاں خود رو پودوں کی طرح ، ایسا منظر پیش کرتی تھیں ، جسطرح کسی کسان نے ، ” چھٹا ” مارکر گندم بوئی ہو ، دو گھر یہاں تو چار وھاں ، بیچ میں خالی میدان ، پگڈنڈیاں ، کچےراستے اور گزرگاھیں ۔ اس دلکش اور خوبصورت پس منظر میں ، سویرا ہوتے ہی ،سورج دیوتا کی اولین اور ننھی منی کرنوں کے جلو میں ، مذکورہ دیہات سے لوگوں کے قافلے کیمبل پور میں داخل ہوتے۔ اکثریت پیدل چل کر آتی ، تاہم کچھ لوگ تانگوں ، بیل گاڑیوں ، سائیکل اور جانوروں پہ سوار ہوکر ، شھری زندگی کے اس میلے کا حصہ بنتے ۔دیہات سے آنے والوں میں طلباء و طالبات ، معلمین و معلمات سرکاری و نجی ملازم ، تاجر ، وکیل ، ھنرمند ، مزدور اور کورٹ کچہری میں مقدمات کی پیروی کرنے والوں سے لیکر سائیں ، ملنگ اور فقیر تک شامل ہوتے ۔ جن دیہات میں چاھی زمینں تھیں وہاں کے لوگ تازہ سبزیاں اور دیسی پھل ، کالا چٹا کے دامن میں بسنے والے ، جلانے کی لکڑی ، پہاڑ میں سے جمع کیا ہوا ، جانوروں کا سوکھا گوبر ، دیسی مرغیاں اور انڈے ، بھیڑ بکریوں کا دودھ ، دیسی بکرے ، موسم گرما کی سوغاتیں ، گنگیر ، میٹھے خربوزے اور دیگر اشیاء خورد نوش لاکر فروخت کرتے اور واپسی پر آٹا ، چاول ، مرچ مصالحے ، کپڑا ، جوتے وغیرہ ، حسب ضرورت خرید کر لیجاتے ۔ ذرائع ابلاغ نہ ہونے کے برابر تھے ، ریڈیو کم کم ، ٹیلیوژن ندارد ، ٹیلیفون کی لینڈ لائن شھر کی حد تک اور وہ بھی روساء کے پاس ، موبائل فون اور سوشل میڈیا ابھی ایجاد نہیں ہوئے تھے لھذا خبریں ، سینہ بہ سینہ گشت کرتی تھیں ، باھر سے آنے والے افراد اور قافلوں کو روک کر پوچھا جاتا تھا ، کہاں سے آئے ہو ، فلاں گاوں سے ، اچھا ، کرم دین بیمار تھا ، اس کا کیا حال ہے ، جی ، اب بہتر ہے ، فلاں پیر صاحب سے دم کروایا، اب روبصحت ہے ۔ فلاں شخص شھر نہیں آرھا ، خیریت تو ہے ، جی اس کا بھائی فوج سے چھٹی آیا ہوا ہے ، اس کی شادی میں لگے ہوئے ہیں ۔ اسی طرح دیہات سے آنے والے یہ افراد ، شھر سے نئی معلومات اور سنی سنائی خبریں ساتھ لے جاتے تھے ۔ جسطرح آج ، ٹیلیوژن پہ ٹاک شوز ہوتے ہیں ، اسی طرح یہ پیدل چلنے والے ، راستے بھر مختلف موضوعات پہ بحث کرتے اور حصول معلومات کے ساتھ ساتھ سفر بھی بہ آسانی طے ہوجاتا۔ اطراف کی آبادیوں سے مالکان اور خان خوانین ، عام جنتا کے برعکس ، گھوڑوں پہ سوار ہوکر ، شھر تشریف لاتے ، صحتمند جسم ، سفید شلوار قمیص ، سفید شملے دار پگڑی ، پاوں میں قیمتی کھیڑی ، پوری شان و شوکت سے نمودار ہوتے ، راہ چلتوں سے سلام دعاء کرتے ہوئے آگے بڑھ جاتے ۔ منزل پہ پہنچ کر گھوڑا سائے میں باندھ دیا , کام نمٹایا اور خان صاحب کی سواری واپس چل دی . موٹر کار خال خال نظر آتی تھی ، روساء نے اپنے استعمال کے لئے ذاتی تانگے رکھے ہوئے تھے جنھیں بوقت ضرورت جوت کر استعمال میں لایا جاتا تھا ۔ مثلا ، ہماری آبادی میں ایک تحصیلدار صاحب تھے ، سردار سلطان محمود خان بسمل مرحوم ، انہوں نے اپنے بچوں کے اسکول آنے جانے کے لئے ، ایک خوبصورت گھوڑی تانگہ رکھا ہوا تھا ۔ ہر صبح ان کا کوچوان انہیں لیکر جاتا اور چھٹی کے بعد واپس لاتا ۔

    sultan mehmood bismil
    سردار سلطان محمود خان بسمل مرحوم

    بات دیہات کی ہورہی تھی تو عرض ہے ، ایندھن کے حوالے سے ، وہ لکڑی اور کوئلے کے استعمال کا ذمانہ تھا ، مٹی کے تیل کا چولھا عام نہیں تھا ، گیس ابھی دریافت کے ابتدائی دور میں تھی لھذا کالا چٹا پہاڑ کی لکڑی کیمبل پور کے ایندھن کی ضروریات پوری کرتی تھی ۔ پہاڑ کے قریب آبادیوں کے لوگ جنگل سے لکڑی کاٹ کر شھر لاتے اور اس طرح شھروالوں کے چولہے جلتے ۔

    (جاری ہے )

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    سرپرست

    اٹک ای میگزین

  • کیمبل پور سے اٹک تک – 7

    کیمبل پور سے اٹک تک – 7

    تحریر:

    سیدزادہ سخاوت بخاری

    کامل پور سیداں کے شرق میں ناز سینماء سے لیکر پولیس لائین تک اور اس کے عقب میں اسٹیڈیم تک ، ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن بلاک ، اعلی افسران کی رہائش گاہیں ، کمپنی باغ ، سروسز کلب ، ڈیپٹی کمشنر ہاوس اور دیگر سرکاری عمارات ہیں ۔ اسی طرح  سیشن کورٹ اور کچہری کے بیچ ، صدر پولیس اسٹیشن کے بالمقابل ، سادات کامل پور سیداں کا آبائی اور قدیمی قبرستان ہے ، جس کے اندر اپنے وقت کے ولی ، بابا توکل شاہ عرف کبوتراں والا بابا ، کا مزار ، مرجع خاص و عام ہے ۔

    اس سے ملحق جانب سڑک ، ایک تکونی قطعہ اراضی کو بلدیہ نے ، بچوں کی تفریح اور کھیل کود کے لئے ، جھولے اور کچھ پودے لگاکر ، زیارت پارک کے نام سے باغ میں تبدیل کردیا ہے ۔ یہ پہلے سے موجود نہ تھا ۔ اسی پارک کی شمالی سمت پہ ، سڑک کے ساتھ کبھی کیمبل پور کا اولیں اور اکلوتا پیٹرول پمپ ہوا کرتا تھا ، جو سیدن گاوں کی شیخ فیملی کی ملکیت میں رہا ، اب وہاں ایک کمرہ باقی ہے ، پیٹرول پمپ ندارد ۔  آجکل تو ڈیجیٹل کا زمانہ ہے ، اس وقت ہر شے مکینیکل ہوا کرتی تھی ، شیخوں کے اس پمپ پر گاڑیوں میں تیل ڈالنے کے لئے جو مشین لگی ہوئی تھی ، اس کے درمیان میں ڈیجیٹل میٹر کے بجائے ، شیشے کے دو گھڑے نصب تھے ۔ قریب ہی ایک ھینڈل لگا تھا جب تیل بھرنا مقصود ہو تو پمپ کا ورکر ،اس ہینڈل کو گھماتا تھا ، جس طرح جنریٹر یا کسی بھی  انجن کو اسٹارٹ کرنے کے لئے ، ھینڈل گھمایا جاتا ہے ۔ اسطرح پیٹرول ، زیر زمین ٹینک سے ان گھڑوں میں بھر کر گاڑی کے پیٹرول ٹینک تک چلا جاتا ۔ یہ گھڑے پیمانہ تھا ، ایک خالی ہوتا تو دوسرا بھر جاتا اور بھرنے والا ان کا شمار کرتا رھتا کہ کتنے گھڑے یا گیلن پیٹرول ڈال دیا گیا ۔

    کچھ قارئین کو شاید یہ تفصیلات پسند نہیں ، لیکن تاریخ نویسی اور نقشہ نویسی میں فرق ہوتا ہے ، مجھے کسی گم شدہ فرد کو شہر سے نکلنے کا راستہ نہیں دکھانا بلکہ نئی نسل کو پرانے شہر اور اس وقت کے طرز زندگی سے روشناس کرانا ہے ، جو اب موجود نہیں ۔

    میرے خیال سے شہر کے گلی کوچوں ، اور محلوں کی ، اس وقت کی تصویر آپ پہ واضع ہوچکی ہوگی ۔ اگلے ابواب میں ، یہاں آباد لوگوں کے طرز زندگی ، مشاغل ،  سماجی روایات ، کھیل کود ، علمی ادبی، سیاسی و تجارتی سرگرمیوں اور اہم شخصیات پہ بات ہوگی ، لیکن اس سے پہلے شھر کے گرد و نواع کا ایک جائزہ لینا بھی ضروری ہے کیونکہ کوئی بھی آبادی ، اپنے گردونواع سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی ۔

    کیمبل پور کے شمال میں کامرہ ، پنڈ سلمان مکھن ،  مدروٹہ ، ٹھیکریاں اور حاجی شاہ وغیرہ کے مواضعات ہیں ، جنوب میں ماڑی ، کنجور اور دریائے ھرو ، ھرو پار شین باغ خورد ، ڈھیری لگال ، ڈھیری چوھان ، جنوب مشرق میں جبی اکھوڑی ، ہمک اور کئی چھوٹی چھوٹی آبادیاں مشرق میں مرزا ، جسیاں ، ڈھوک پشوری اور ڈھوک شرفاء ، جبکہ مغرب میں شین باغ کلاں ، سروالہ ، شکردرہ ، پنڈوال ، ڈھوک گاما ، سالار  دکھنیر ، کرم علیاء ، جابہ ، بروٹھہ ، ڈھیر ، سوجھنڈا ، باٹا ، گھوڑے مار ، باغ نیلاب ، چھوئی اور مونگی والی  وغیرہ کے دیہات صدیوں سے آباد ہیں ۔ ان دیہات کا شہر کی تجارت ، ثقافت اور سماجی زندگی پہ گہرا اثر رہا ہے ۔

    کامرہ کلاں کا منظر
    کامرہ کلاں کا منظر

    یاد رہے ، مذکور بالا دیہات انتظامی اور تجارتی طور پر کیمبل پور شہر پہ ہی انحصار کرتے تھے لیکن ان میں سے بیشتر آبادیوں کو پکی سڑک کی سہولت نصیب نہ تھی بلکہ کئی دیہات تک تو پگڈنڈیوں سے گزر کر جانا پڑتا تھا ۔ دشوار گزار کچے راستے اور بنیادی سہولتوں کا فقدان ، ہمیشہ سے ان کا مقدر رہا ۔

    جاری ہے ……..

  • گوہر نایاب

    ( مرحوم سید رفیق بخاری کی برسی کے موقع پر نذرانہء عقیدت )

    ( الآخ المعظم و الاستاذی المکرم

    مرحوم و مغفور الحاج پروفیسر

    سید محمد رفیق احمد شاہ بخاری رحمة اللہ تعالی ( ریٹائرڈ پرنسپل )

    کی برسی کے موقع پر ، ان کے فرزند ارجمند معروف دانشور ، شاعر ، لکھاری اور آن لائن میگزین اٹک کے بانی  جناب سیّد جہانگیر علی شاہ المعروف آغا بخاری کی فرمائیش پر ، یہ چند سطور بطور ہدیہ ، اس عظیم ہستی کے نام کرتا ہوں ، کہ جن کی تربیت نے مجھے اٹھنا ، بیٹھنا ، چلنا پھرنا ، لکھنا پڑھنا اور بولنا سکھایا )

    ہدیہ تحریر :

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    الحاج سیّد رفیق بخاری مرحوم کا جنم ، سال 1938 میں ہمارے آبائی گاؤں موضع اڑتک پور کامرہ کلاں ، تحصیل و ضلع اٹک ، متحدہ ہندوستان میں اس وقت ہوا جب برٹش راج اپنے اختتامی سفر کی تیاری کررہا تھا لیکن اس وقت تک قرار داد پاکستان منظور نہیں ہوئی تھی ۔  ہندو ، مسلم اور سکھ باہم شیر و شکر مختلف شہری اور دیہی آبادیوں میں پرامن پڑوسیوں کی طرح زندگی گزار رہے تھے ۔ ہمارے گاؤں میں بھی زمانہ قدیم سے چند ہندو خاندان آباد تھے جن کا ذکر میرے بھائی مجھ سے اکثر کیا کرتے تھے ۔ ہماری جامع مسجد ( سادات ) کے قریب ہی ہندو مندر تھا جسے ہمارے لوگ "دھرم سال ” کہ کر پکارتے تھے ۔ پڑی ( قریبی پہاڑی ) کے کالے پتھروں سے بنی یہ سادہ سی عمارت ہمارے بچپن تک قائم رہی ۔ اور اس کے صدر دروازے پر لگا تالا مجھے ابھی تک یاد ہے ۔ اب اس جگہ ہمارے گاؤں کی ایک شخصیت کا ڈیرہ وجود میں آچکا ہے

    ہندووں اور ہندو مندر کا ذکر اس لئے کیا ، تاکہ قارئین  1938 کے زمانے ( قبل از تقسیم ہند ) کا معاشرتی منظر دیکھ سکیں ۔ میرے نزدیک کسی بھی شخصیت کے کردار اور سوچ و فکر کو سمجھنے کے لئے اس ماحول کو سمجھنا اولین شرط ہے کہ جس میں اس کا جنم ہوا  اور جہاں سے اس نے اپنی زندگی کا سفر شروع کیا ۔

    گاؤں میں صرف لڑکوں کے لئے ایک اسکول تھا جہاں آٹھویں جماعت تک تعلیم دی جاتی تھی اس لئے اسے مڈل اسکول کامرہ کہا جاتا تھا ۔ میرے بھائی جان نے اسی اسکول سے اپنی ابتدائی تعلیم کا آغاذ کیا اور جب وہ میٹرک کرچکے تو مزید تعلیم کے لئے ہمیں کیمبل پور شہر منتقل ہونا پڑا ۔

    یہ 1954 کی بات ہے جب ہم اس اجڑے ہوئے دیار میں وارد ہوئے ۔ اجڑے کا لفظ اس لئے استعمال کیا کہ پاکستان کو معرض وجود میں آئے ابھی فقط ساڑھے پانچ یا چھ برس گزرے تھے لھذا ہندوں کے ہجرت کرجانے کی وجہ سے شہر کی آبادی بہت کم ہونے کے ساتھ ساتھ ، منتشر اور غیر منظم شکل میں تھی ۔

    پرانے شہر میں اگرچہ ہندوستان سے ہجرت کرکے آنے والے مسلمان ، ہندوں کے چھوڑے گھروں میں مقیم ہوچکے تھے لیکن ہر وارڈ اور ہر گلی کے بعض گھروں اور مندروں کے دروازوں پر تالے پڑے تھے ۔ چھوئی روڈ کے جنوب اور جنوب مغرب کی آبادی ادھر ادھر بکھری بکھری نظر آتی تھی ۔ دو گھر ادھر تو چار ادھر اور بیچ میں زرعی زمینیں ۔ بعض عمارتیں نامکمل اور ادھوری بھی رہ گئی تھیں کیونکہ ان کے مالکان کو تقسیم ہند کی وجہ سے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر یہاں سے جانا پڑا۔ 

    قصہ کوتاہ ، ہم نے گاؤں سے نکل کر اس پرامن اور خاموش شہر سے نئی زندگی کا سفر شروع کیا ۔ بھائی جان جناب رفیق بخاریؒ کو گورنمنٹ کالج میں داخلہ دلا دیا گیا ۔ میری عمر اس وقت تقریبا 6 سال تھی لھذا مجھے ایم بی پرائمری اسکول نمبر 2 ( جسے مارکیٹ اسکول بھی کہتے تھے ) سے تعلیم شروع کرنے کا موقع ملا ۔

    جناب سید رفیق بخاریؒ مرحوم جب بی اے کرچکے تو بطور انگلش ٹیچر ان کی تعیناتی ڈی سی ہائی اسکول چھب علاقہ نرڑہ میں ہوگئی ۔ وہیں دوران تدریس انہوں نے ٹیچر ٹریننگ کالج بہاولپور سے بی ایڈ کی سند حاصل کی اور 1964 میں چھب کو خیر باد کہ کر گورنمنٹ ہائی اسکول ڈاک اسماعیل خیل تحصیل نوشہرہ صوبہ سرحد میں مستقل بنیادوں پر انگلش ٹیچر تعینات ہوگئے ۔

    کم و بیش ایک سال وہاں رہنے کے بعد ان کا تبادلہ گورنمٹ ہائی اسکول پبی ہوگیا ۔ بھائی جان کو میری تعلیم و تربیت کی اسقدر فکر تھی کہ چھب ، ڈاک اسماعیل خیل اور پبی میں تعیناتی کے دوران مجھے اپنے ساتھ رکھا اور اس طرح میں نے 1966 میں پبی ہائی اسکول سے میٹرک کی سند حاصل کرلی ۔

    1966 کے بعد میں گورنمٹ کالج کیمبل پور آگیا اور بھائی جان نے صوبہ سرحد کے مختلف علاقوں اور اضلاع میں تدریس کا سلسلہ جاری رکھا ۔ باالآخر ترقی کرتے کرتے پرنسپل کے عہدے تک پہنچ گئے ۔

    رفیق بخاریؒ پیدائیشی طور پر اعلی شرافت کا نمونہ تھے ۔ صرف شرافت اور اعلی اخلاق ہی نہیں بلکہ دینداری اور تقوے میں بھی اعلی مقام پر فائز تھے ۔ میں نے جب سے ہوش سنبھالا انہیں ہمیشہ پابند صوم صلواة اور نیک ترین لوگوں میں سے پایا ۔

    کالج کے زمانے سے ان کی صحبت شاعروں ، ادیبوں ، علماء اور اور فضلاء کے ساتھ رہی ۔ گورنمنٹ کالج کے سابق لائیبریرین مرحوم غلام محمد نذر صابری ، ڈاکٹر غلام جیلانی برق ، حکیم تائب رضوی ، جامع حنفیہ سولبازار کے بانی خطیب قاضی انوارالحق مرحوم اور اسی اعلی درجے پر فائز اہل علم سے ان کی دوستی اور تعلق قائم رہا ۔

    آپ بسلسلہء ملازمت جہاں بھی مقیم رہے ہر خورد و کلاں ان کی نیک سیرت اور اعلی اخلاق کا گرویدہ دکھائی دیا ۔ اپنے ہوں یا پرائے ، دوست احباب ہوں یا ان کے شاگرد سب کے سب ان کے اعلی کردار کے ہمیشہ قائل اور ثناء خواں رہے ۔

    آپ کو علم و ادب سے ہمیشہ گہرا شغف رہا ۔ مجلس نوادرات علمیہ اٹک اور محفل شعر و ادب کے پلیٹ فارم سے انہوں نے علمی و ادبی خدمات انجام دیں ۔ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی اہل شہر کی سماجی ، علمی ، ادبی اور فلاحی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے ۔ ان کے اعلی کردار کی بناء پر اہل علاقہ نے انہیں چیئرمین زکواة کمیٹی مقرر کردیا اور ایک عرصے تک یہ خدمت بھی انجام دیتے رہے ۔

    ان کی برسی کے موقعے پر یہ چند الفاظ میری طرف سے بطور نذرانہء عقیدت ان کی خدمت میں پیش ہیں ۔ یہ بات میں نہیں کہ رہا بلکہ ان کی وفات پر جب سوگوار ہم اہل خانہ سے تعزیت کے لئے آتے تو ہر ایک کی زبان سے یہی جملہ ادا ہوتا   ،

    شاہ جی تو ولی اللہ تھے ۔ دعاء ہے اللہ کریم میرے مشفق بھائی کے درجات اور بلند کرے اور ہم سب کو اس گوہر نایاب کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطاء ہو ۔ آمین ۔

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    سرپرست

    اٹک ویب میگزین

  • کیمبل پور سے اٹک تک- 6

    کیمبل پور سے اٹک تک- 6

    تحریر:

    سیدزادہ سخاوت بخاری

    ہم بجلی گھر روڈ پر کھڑے ایک تعلیمی ادارے کی بات کررہے تھے ، جہاں اب غلاظت کے ڈھیر لگے ہیں ۔ قصور کس کا ، مفاد پرست ، چور ، ڈاکو اور لٹیرے ، ہر سوسائیٹی میں ہوتے ہیں لیکن ، نیکی کی قوتوں کو متحرک رھنا چاھئے تاکہ معاشرہ ترقی کرتا رہے ۔

    آئیے آگے بڑھتے ہیں ، بجلی گھر موڑ سے گیدڑ چوک تک بیچ کی جگہ خالی تھی ، جو ملک شیراحمد خان کے خاندان کی ملکیت ہے ، بعد میں انہوں نے یہاں ایک تجارتی یارڈ قائم کیا جہاں اب بھی سیمنٹ سریا اور دیگر عمارتی سامان کا کاروبار ہوتا ہے ۔

    گیدڑ موڑ یا چوک : ( وجہ تسمیہ )

    یہ ، وہ جگہ ہے جہاں آکر حمام روڈ / برق روڈ ، چھوئی روڈ سے بغل گیر ہوتا ہے ، کارنر پر اسد سویٹ ہاوس ہے ۔ یہ وہ تاریخی مقام ہے جہاں چین کے شہنشاہ چنچی نے ٹریفک پولیس کی مدد سے قبضہ جما رکھا ہے ۔

    ہمارے دور میں یہ ایک کھلا علاقہ تھا ۔ جہاں اب سروالہ کی طرف منہ کرکے چنچی کھڑے ملتے ہیں ، یہاں تقسیم سے پہلے کی چند دکانیں ، ان کے عقب میں چھوٹے چھوٹے کوارٹر اور پیچھے ایک آٹا چکی موجود تھی ، اس کے بعد کھلا میدان ۔ اسی طرح شرق میں  گندے نالے تک کھلا میدان تھا ۔ گندہ نالہ سول بازار کے اختتام اور ستار چوک ( شیرانوالہ) کے عین وسط میں آتا ہے ۔ اب اسے ڈھانپ دیا گیا ہے ، شروع میں یہ معلق نالہ تھا اور مولے والی گلی اس سے منسلک نہ تھی ۔

    اس سے پہلے کہ گورا قبرستان تک پہنچ جائیں ، آپ کو یہ بتاتا چلوں کہ گیدڑ موڑ کو یہ عوامی نام کیسے عطاء ہوا ۔

    جہاں اس وقت اسد سویٹ ہاوس ہے ، اسی عمارت میں ، جو قدرے اس سے بڑی تھی ، ہمارے گوانڈی میاں چاچا نے ، چائے کی دکان بنائی ، ان کے بڑے بیٹے کا نام فاروق تھا لیکن گھر والے بچپن سے اسے پیار سے گیدڑ کہ کر پکارتے تھے ۔ بڑا ملنسار اور ھنس مکھ انسان تھا ، اسی کی عرفیت نے اس ریستوران کو گیدڑ ہوٹل کا نام دیا اور ایک لمبے عرصے تک ہوٹل کی موجودگی سے یہ نام عوامی شہرت اختیار کرگیا ۔ جب ہوٹل ختم ہوگیا تو گیدڑ ہوٹل سے گیدڑ موڑ کہا جانے لگا ۔ ایک نوجوان نے مجھ سے پوچھا کہ ” کیا یہ درست ہے کہ پرانے زمانے میں گیدڑ یہاں تک آجاتے تھے ، اس لئے اسے گیدڑ موڑ کہتے ہیں ، تو اسے یہی بتایا کہ یہ بات درست نہیں بلکہ فاروق عرف گدڑا لالہ کی وجہ سے ،اسے یہ نام نصیب ہوا ۔

    چونکہ وہ زمانہ تانگے اور بیل گاڑی کا تھا ، لھذا جسطرح آج یہاں چنچی اور سوزوکی نظر آتے ہیں ، اسی طرح گیدڑ ہوٹل کے سامنے اور اطراف بیل گاڑیاں اور تانگے پارک ہوتے تھے ۔ ایک تو یہ سروالے کی پرانا اڈہ تھا ، دوسرا گیدڑ ہوٹل کی چائے بہت لذیذ اور تھکن دور کرنے والی مشہور تھی ۔ بعض ماہرین چائے کی رائے تھی کہ گدڑ لالہ کے والد میاں چاچا چائے کو افیون کے ڈوڈے یا پوست کا تڑکا لگاتے ہیں ۔ بہرحال اس زمانے میں یہ ایک معروف اور عوامی چائے خانہ اور اڈہ تھا لیکن چند تانگے اور کچھ بیل گاڑیاں ، کوئی رش اور اژدھام نہیں کیونکہ موٹر سائیکل ، سوزوکی اور چنچی نام کی کوئی آفت موجود نہ تھی ۔

    اب آگےچلتے ہیں ، جہاں سول بازار آکر چھوئی روڈ سے ملتا ہے ، اس کے سامنے مشرق کی طرف میدان اور مغرب کی طرف گندے نالے کے ساتھ پرانی اور نئی لیکن بے ترتیب آبادی موجود تھی ۔ یہ آبادی سڑک کے ساتھ ساتھ گورا قبرستان تک پھیلی ہوئی تھی ۔  گورا قبرستان کے عقب میں جنوب مغرب کی سمت کربلا محلہ جو دراصل کامل پور سیداں کی توسیع یا ایکسٹینشن ہے ، یہاں پرانے گھر موجود تھے لیکن قبرستان سے آگے فتح جنگ روڈ پر ،  تا ڈھوک فتح ، سڑک کی دونوں اطراف ، کوئی آبادی نہ تھی ۔ ڈھوک فتح بھی فتح جنگ روڈ سے شروع ہوکر ، صرف ایک دو گلیوں کی شکل میں جانب غرب ، پنڈ غلام خان کی سمت رواں تھی ۔ اس سے آگے دریائے ہرو تک مکمل ویرانہ تھا ۔

    کامل پور سیداں

    historic building in kaml pur saydan
    کامل پور سیدان میں واقع تقسیم ہند سے قبل کی ایک تاریخی عمارت| تصویر- سید مظاہر شاہ

    یہ گاوں قدیمی ہے اور شھر کے آباد ہونے سے بہت پہلے ، موجود تھا ۔ اس کا حدود اربعہ بڑا آسان ہے ، گورا قبرستان چوک سے ناز سینما ، وھاں سے نادرا آفس ، نیچے آجائیں امام بارگاہ کے آگے سے گزر کر فتح جنگ روڈ اور گورا قبرستان ۔ یہ تھا پرانا کامل پور سیداں ۔ جانب غرب ، کوچہ پریم نگر اسی کی توسیع اور نئی آبادی ہے ۔ یہاں کھیت ہوا کرتے تھے اور گندم بوئی جاتی تھی ۔ کامل پور سیداں کا ذکر ہورہا ہے تو عرض کرتا چلوں کہ یہ چھوٹا سا گاوں ، کینٹ ایریا میں ہونے کی وجہ سے ہمیشہ صفائی کا نمونہ رھا ۔ اس کی تنگ مگر صاف ستھری گلیوں میں روشنی کے لئے پرانی طرز کے چراغدان ( Lamp Posts)نصب تھے ۔ یہاں شھر کی قدیمی امام بارگاہ واقع ہے ۔

    جاری ہے …….

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    سیّدزادہ سخاوت بخاری

    سرپرست

    اٹک ویب میگزین

  • محبتوں کے ہر ایک قصے کے ہم نشاں تھے تو تم کہاں تھے

    محبتوں کے ہر ایک قصے کے ہم نشاں تھے تو تم کہاں تھے

    محبتوں کے ہر ایک قصے کے ہم نشاں تھے تو تم کہاں تھے
    ہمارے چرچے ہر اک زباں پر رواں دواں تھے تو تم کہاں تھے
    وفا کے وعدے کئے جو تم نے وہ آج تم کو ہیں یاد آئے
    لگی تھیں جب ہم پہ تہمتیں کتنے بیکراں تھے تو تم کہاں تھے
    چڑھا کے ہم کو وفا کی سُولی پہ شہر سارا ہی ہنس رہا تھا
    کہ پتھروں کی برستی بارش میں بےنشاں تھے تو تم کہاں تھے
    وہ اب تلک دکھ ہیں ساتھ میرے جو مانگتے تھے تری محبت
    پڑی ضرورت تھی تیری جب تو نہ تم یہاں تھے تو تم کہاں تھے
    یہ میرے بالوں میں پھیلی چاندی دلا رہی ہے وہ یادِ ماضی
    تھا عزم اپنے شباب پر جذبے بھی جواں تھے تو تم کہاں تھے
    ہے کتنا آسان پھر مکر جانا کر کے وعدے وہ بےرخی سے
    شریک سارے ہمی پہ جب کتنے خوش نگاں تھے تو تم کہاں تھے
    یہ میرے لہجے کی تلخیاں بے سبب تو پھیلیں نہیں اسؔد ہیں
    خزاں رتوں میں جب اشک میرے ہوئے رواں تھے تو تم کہاں تھے

    iattock

    عمران اسدؔ

  • کیمبل پور سے اٹک تک – 5

    کیمبل پور سے اٹک تک – 5

    کیمبل پور سے اٹک تک – 5

    تحریر: سیدزادہ سخاوت بخاری

    چوتھی قسط میں ، ہم چھوئی روڈ کی جنوبی سمت کی آبادی کے تذکرے میں ریلوے پھاٹک سے ماڑی موڑ تک پہنچے تھے کہ موضوع سخن ھریالی اور شادابی کے نوحے پہ ختم ہوا ۔ فقط نوحہ ہی نہیں ، میرا جی تو ماتم کرنے کو چاھتا ہے ۔ چند ٹکوں کی خاطر اس علاقے کے ھزاروں درخت کاٹ دئے گئے تاکہ پلاٹ بیچ کر دولت جمع کی جاسکے ، سرسبز و شاداب کھیتوں کو صفحہ ھستی سے مٹادیا گیا ، زیر زمین میٹھے پانی کے جھرنوں کا نہ صرف گلا گھونٹا گیا بلکہ ، ان کی لاشوں کے اوپر ، گندے پانی کے نالے بنا دئے گئے ۔ محلہ امین آباد سے سیدھے ، شاہ آباد اور وھاں سے آگے محلہ بشیراعوان سے بائیں جانب والی گلی سے گزر کر باھر نکلیں تو سرور روڈ ، ڈھوک فتح سے گزر کر پنڈ غلام خان کے بعد کچی شکل میں ماڑی گاوں کی طرف رواں ہے لیکن ابھی اسے پختہ ہونے میں وقت لگے گا ۔ یہاں ایک مسجد اور کچھ گھر تعمیر ہوچکے ہیں ۔ اس کے بالکل سامنے جانب جنوب کبھی شھر کا معروف دھوبی گھاٹ تھا ، یہاں پر پانی کے قدرتی چشموں سے بلامعاوضہ فیضیاب ہوکر ، شھر کے دھوبی کپڑے دھویا کرتے تھے ، شھد جیسا میٹھا پانی ، پینے ، نہانے اور کپڑے دھونے کے کام آتا تھا ۔ اسی دھوبی گھاٹ کے قریب کم و بیش 20 فٹ اونچے ٹیلے سے ایک آبشار فوارے کی شکل میں ہر وقت رواں رہتی ، شھر بھر کے لڑکے ، گرمیوں میں اس سے لطف اندوز ہوتے ۔

    نئی نسل کے لئے یہ تاریخی حقیقتیں پڑھ کر یقین کرنا آسان نہ ہوگا لیکن یہی اصلی اور سچی تصویر ہے میرے کیمبل پور کی ، جہاں ہمارا بچپن ، لڑکپن اور جوانی پروان چڑھی ، جس کی صاف ستھری فضاء میں ہم کھیلے ، کودے ، دوڑے بھاگے ، شرارتیں کیں ، تعلیم کے مدارج طے کئے ، اتنا پرامن اور صاف ستھرا شھر ، پاکستان میں شاید ہی کوئی دوسرا ہو۔

    کیمبل پور سے اٹک تک – 5

    چلئے ماڑی موڑ سے آگے بڑھتے ہیں ۔ یہاں سے لیکر سڑک کی چڑھائی کے آخری سرے تک میدان تھا ۔ مدرسہ اشاعت الاسلام ، مسجد اور اس کے آس پاس کی آبادی موجود نہ تھی ۔ جہاں چڑھائی ختم ہوتی ہے اس جگہ پر ریگل نام کا سینما ، شھر کی ابتداء سے برلب سڑک موجود تھا ۔ آپ نے شاید ریگل کا نام نہ سنا ہو ، جی ھاں ، جسے بعد میں محمود محل کا نام دیا گیا ، اس کا اصلی نام ریگل تھا ۔ جب نیلام ہوا تو بھی ریگل تھا ، قصور کے شیخ خاندان نے خریدا اور فلمیں چلانا شروع کیں ۔ ایک رات حضرو کے ایک فلم بین کی سینما کے مالک شیخ محمود سے کسی بات پہ تکرار ہوگئی ، تو تو میں میں سے بات ھاتھا پائی تک پہنچی اور باالآخر فلم بین نے محمودکو چھری ماردی ، محمود موقع پہ جاں بحق ہوگیا ۔ اس کی یاد میں سینماء کا نام ریگل سے محمود محل ہوا لیکن یہ تاریخی عمارت وقت کے تھپیڑے کھا کھا کر باالآخر زمیں بوس ہوگئی ، اب ایک قطعہ زمین ہے جہاں پر کسی تاجر نے اینٹ بجری اور سیمنٹ کا یارڈ کھول رکھا ہے ۔ یہاں بتاتا چلوں کہ کیمبل پور میں 3 سینماء ھاوس تھے ۔ ایک ریگل ، جس کا ذکر ہوا اور جو اب فوت ہوچکا ہے ، دوسرا کینٹ ایریا میں کامل پور سیداں کے اس پار ، کارنر پر آج بھی ، ناگفتہ بہ اور ناقابل استعمال حالت میں ، اپنے ماتھے پر برائے فروخت کا سھرا سجائے ایستادہ ہے ۔

     اس کا بھی خاندانی اور ابتدائی نام لینسیڈاون تھا جسے بعد میں ناز کردیا گیا ۔ تیسرا اور آخری سینماء آرٹلری سینٹر کے اندر تھا ، جسے بعد میں مسجد کے طور پر استعمال کیا جانے لگا ، اب خدا جانے وھاں نماذ ادا ہوتی ہے یا جوانی پھر نہیں آنی کا شو چل رہا ہے کیونکہ اس کا استعمال کئی مرتبہ بدلا ۔ سینما سے مسجد اور مسجد سے سینماء ۔

    بات ہورہی تھی محمود محل کی تو اس سے آگے برلب سڑک گیدڑ موڑ تک پرانے گھر اور چند دوکانیں موجود تھیں ۔ البتہ سینماء سے لیکر گیدڑ موڑ تک سڑک کنارے گھروں کے عقب میں کھلا میدان اور کھیت تھے ۔ اس بیچ بجلی گھر موڑ آتا ہے ، یہ سڑک تقسیم سے پہلے کی ہے کیونکہ اسے بجلی گھر اور اس سے آگے محلہ امین آباد کے اختتام پہ واقع ھندووں کے شمشان گھاٹ تک لیجایا گیا تھا ۔ اس شمشان گھاٹ کا ذکر میں اس سے پہلے کرچکا ہوں ۔ بجلی گھر روڈ کی مغربی سمت پر چھوئی روڈ کے عقب سے لیکر امین آباد تک کھیت تھے اور ہمارے لڑکپن تک ان میں گندم بوئی جاتی تھی ۔ مشرقی سمت اکا دکا پرانے گھر موجود تھے ۔ یہاں ھندوں کے ایک اسکول کا ذکر بے جاء نہ ہوگا ۔

     جب آپ بجلی گھر روڈ پہ سفر کرتے ہیں تو بجلی گھر سے قبل ، روڈ کے ساتھ جانب شرق گلی بلال مسجد کے آغاذ میں ، ایک مستطیل نماء قطع اراضی کہ جس پر غلاظت کے انبار لگے ہوئے ہیں اور اب تو ایک کباڑیا بھی اس پہ قابض ہے ، یہاں ھندوں نے اسکول تعمیر کرنا شروع کیا تھا کہ انہیں ھجرت کرنا پڑی ۔ اس پورے پلاٹ پر ایک بہترین مکمل عمارت کھڑی تھی جسے اس شھر کے اولیں لٹیروں نے جڑوں تک اکھاڑ ڈالا ۔ آج کے دور میں اس کی تعمیر پہ 30 سے 40 کروڑ لاگت آسکتی ہے ۔ پہلے چھتیں اکھاڑی گئیں پھر ایک ایک اینٹ اکھاڑ کرلے گئے ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون ۔ یہ آنکھوں دیکھا حال ہے کوئی سنی سنائی بات نہیں ۔

    (جاری ہے )

    Title Image by Katrin from Pixabay