میرا ہر لفظ ہر کہانی دُکھ ہے

میرا ہر لفظ ہر کہانی دُکھ ہے
میرے شعروں کی روانی دُکھ ہے
جس نے غربت میں ہوں کھولی آنکھیں
اُس کا بچپن و جوانی دُکھ ہے
تو نے دیکھی نہیں حسرت میری
تجھ کو ہر بات بتانی دُکھ ہے
وہ عزیزی ہے رگِ جاں کی طرح
اُس سے بچھڑے کی نشانی دُکھ ہے
دفن خود کرتا ہوں ایسے خواب اسؔد
جن کی تعبیر بتانی دُکھ ہے


کلام: عمران اسؔد

عمران اسد
عمران اسؔد پنڈیگھیب حال مقیم مسقط عمان

عمران اسؔد

Next Post

اکھیاں وچ زمانے

ہفتہ جنوری 16 , 2021
حبدار قائم نقوی کی یہ کہانیاں پڑھ کر مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ وہ قاری کی انگلی پکڑ کر گلگت اور سیاچن کی سیر کروا رہے ہیں
اکھیاں وچ زمانے