میرا ہر لفظ ہر کہانی دُکھ ہے

میرا ہر لفظ ہر کہانی دُکھ ہے
میرے شعروں کی روانی دُکھ ہے
جس نے غربت میں ہوں کھولی آنکھیں
اُس کا بچپن و جوانی دُکھ ہے
تو نے دیکھی نہیں حسرت میری
تجھ کو ہر بات بتانی دُکھ ہے
وہ عزیزی ہے رگِ جاں کی طرح
اُس سے بچھڑے کی نشانی دُکھ ہے
دفن خود کرتا ہوں ایسے خواب اسؔد
جن کی تعبیر بتانی دُکھ ہے


کلام: عمران اسؔد

عمران اسد
عمران اسؔد پنڈیگھیب حال مقیم مسقط عمان

در بارہ عمران اسؔد

یہ بھی دیکھیں

عمران اسد

ہم کو تو فقط اپنے ہی حالات کا دُکھ ہے

ہم کو تو فقط اپنے ہی حالات کا دُکھ ہے