خد و خال

                                                گورنمنٹ کالج کیمبل پور جس کواب گورنمنٹ کالج اٹک کہاجاتا ہے۔ گورنمنٹ کالج لاہور کے بعدغالباًپنجاب کاسب سے پراناکالج ہے۔ روایت ہے کہ انتخابات جیتنے کی خوشی میں جب سرسکندرحیات مرحوم نے اپنے ضلع کوکوئی انعام دیناچاہا توکوئی بھلا وقت تھااورکسی بھلے آدمی کے منہ سے بات نکل گئی کہ یہاں کالج بنادیاجائے اور پھرکالج بن گیا۔ اس کالج کے عملے میں بڑے بڑے نامی پرنسپل اور پروفیسررہے۔ جہانگیر، اشفاق علی خان، ایف اے قریشی،کمانڈرظہوراحمد،ڈاکٹرغلام جیلانی برق، پروفیسرمحمدعثمان، شریف کنجاہی اور منیراحمدشیخ۔ کہتے ہیں جہاں سے سیلاب گزرجائے، زمین بہت زرخیز ہوجاتی ہے۔ زمین تواس ضلع کی ہمیشہ سے زرخیزرہی ہے مگربارانی ہے، بارش برسے توہریالی چھتوں اور دیوراں پر بھی اُگ آتی ہے۔ مذکورہ اساتذہ کے فیضِ تربیت سے یوں توہر میدان میں جوہرِ قابل سامنے آتے رہے، لیکن فوج اور ادب میں ’’کیمبل پور سکول آف تھاٹ‘‘ خاص طور سے نمایاں رہا۔ جہاں جنرل اختر اور جنرل علی سرفراز اور جنرل اقبال کے علاوہ ایرمارشل نورخان، انورشمیم اورکرامت رحمن نیازی کے حوالے سے کیمبل پور نے زمین،ہوا اور پانیوں پر پاکستان کاپرچم بلندرکھا۔ وہاں سیدضمیرجعفری، منظورعارف، فتح محمدملک، شورش ملک، منوبھائی، شفقت تنویرمرزا، عنایت الٰہی ملک، خالد، خاور رضوی، انوارفیروز،عبداللہ راہی اورممتازمختار جیسے لوگوں نے ادبی فتوحات کی فہرست میں بھی کیمبل پور کے نام کونیچے آنے دیا نہ مدھم ہونے دیا۔ سلطان محمودبسمل کانام بھی اسی فہرست میں شامل ہے۔ وہ زمانوی اعتبارسے عبداللہ راہی، انوارفیروز اور خاوررضوی سے مقدم، سیدضمیرجعفری اورمنظورعارف سے موخر تھے۔ ان کاشمارگورنمنٹ کالج کیمبل پور کے اس ادبی ٹولے میں ہوتاہے جس میں فتح محمدملک، شورش ملک،عنایت الٰہی ملک، منوبھائی اور شفقت تنویرمرزا نمایاں ہیں جبکہ الطاف جعفری، محمداعجاز اور نسیم پڑوی ادبی اُفق سے غروب ہوکر علی الترتیب زمینداری، ضلعی سیاست اورتجارت میں دمک رہے ہیں۔ اس وقت ایسالگتاتھا کہ یہ ساراعلمی وادبی قافلہ دوہرے شمسی نظام کی ایک دوسرے سے متصادم کششِ ثقل کے درمیان جیسے ساکت ساہو کررہ گیا ہے۔ یہ دوبظاہرمتصادم فکری نظام جن دوہستیوں کے دم سے قائم تھے، ان کوعلمی وادبی دنیاڈاکٹرغلام جیلانی برق اورپروفیسرمحمدعثمان کے ناموں سے شناخت کرتی ہے۔ پہلاعلم وادب کاآفتاب، پچھلے برس اس ظاہری دنیاکے اُفق سے غروب ہوگیا ہے اوردوسرا داتاکی نگری میں آج بھی روشن ہے جس کی کچھ کرنیں کبھی کبھی روزنامہ جنگ کی وساطت سے ہم دوردراز کونوں کھدروں میںبسنے والے لوگوں کوبھی اپنے ہونے کااحساس دلاتی رہتی ہیں۔

sultan mehmood bismil
سردار سلطان محمود خان بسملؔ مرحوم

                                                لوگ تو کہتے ہیں کہ ڈاکٹر برق مرحوم کاتعلق دائیں بازوسے تھااورپروفیسرعثمان کاجھکاؤ بائیں بازو کی طرف رہا ہے لیکن ذراگہرااُتر کر دونوں کے افکارکامشاہدہ کیاجائے تویہ ظاہری تضاد ایک حدتک جاکرختم ہوتاصاف نظرآتاہے۔ کیمبل پور کالج کے یہ دونوں عبقری اپنے اپنے راستے سے کچھ دورجاکراسی بڑے فکری دھارے میں گم ہونے لگتے ہیں جواللہ کی طرف سے رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ سلم کی وساطت سے نوعِ بشر کی پیاس بجھانے اُتراتھا۔ ڈاکٹربرق اپنے علمی خاندانی پس منظر سے نکل کرقرآن اور حدیث کے گہرے مطالعے کے بعد اورپروفیسرعثمان تفہیمِ اقبال کے مقصدسے آگے بڑھتے ہوئے فلسفۂ اسلام کی گہرائیوں میں غوطہ زن ہوکراسی معاشی ومعاشرتی عدل کے مرکز تک آپہنچتے ہیں جس نے عالمِ انسانیت کاالفقرفخری کے شعورسے نوازا اور جس میں فقراپنی تمام تر بوریانشینی کے باوصف قیصروکسریٰ کے ایوانوں کو تھرتھرادینے کی صلاحیت رکھتاتھا۔

                                                اگرمیرامشاہدہ غلط نہیں توکیمبل پور دبستان کاہررکن دائیں سے اپنے ذہنی سفرکاآغاز کرے یا بائیں سے، بالآخر اسی مرکزپرآن ٹھہرے گا جہاں سے دایاں اوربایاں سب اپنامفہوم اخذ کرتے ہیں۔سلطان محمودبسمل کوبھی اگر آپ دورسے دیکھیں تو تحصیل فتح جنگ کے ایک بڑے زمیندار گھرانے سے متعلق ہونے اورعہدے کے اعتبارسے مجسٹریٹی اختیارات کاحامل ہونے کی بناء پروہ آپ کو جاگیرداری اور بیوروکریسی کانمائندہ نظرآئے گا مگراس ظاہری خول کے اندرجھانک کردیکھیں توآپ کی ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوگی جس کے دل میں ہرانسان کے لیے پُرخلوص جذبات، سب کے لیے ایک عمومی دردمندی اورمحبت کی فراوانی ہے۔ یہی وہ اندرکاشخص ہے جواس کی غزل کے دریچوں سے جھانکتا نظرآتا ہے۔

                                                جب فطرت کی آزادنعمتیں جوسب انسانیت کاحق ہیں، کوئی ایک آدمی یاایک طبقہ سمیٹ لیناچاہتاہے تووہ ضروراحتجاج کرتاہے۔ جہاں کمزور پر طاقتورکاہاتھ اُٹھتا ہے تووہ ضرور آواز اٹھاتا ہے۔ انسانیت میں مظلوم اور ظالم کی تقسیم اورمحکوم حاکم کاامتیاز اس کوگوارا نہیں۔ منافقت کووہ برداشت نہیں کرتا۔ کم ظرف لوگوں سے اس کی نبھ نہیں سکتی۔ میں سمجھتا ہوں کہ شاعرکے اندر کایہ سچاکھراآدمی ہی دراصل جملہ انسانی اچھائیوں کی تجسیم اور صحیح انسانی فطرت کی تعبیر ہے اوراسی اندر کے آدمی سے غزل کے رشتے استوار ہوتے ہیں۔ غزل میں جب باہر کاآدمی بولنے لگے وہ اپنے تخلیقی معیار سے گرجاتی ہے۔ بسمل کی ہرغزل میں ہم اس کے اندر کے سچے اور کھرے آدمی سے متعارف ضرور ہوتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ کہیں وہ صرف ایک آدھ جھلک دکھاکراوجھل ہوجاتا ہے اورکسی غزل میں دوچار قدم آگے تک ہمارے ساتھ چلتاہے۔ اختصار کے لیے میں صرف چند ایک مثالیں پیش کروں گا:

ع:کوئی تو ہو جسے سچ بولنے کایارا ہو

                                                (یہ مصرعہ اکیلا ہی اتنااونچا ہے کہ دوسرامصرع اس کاساتھ نہیں دے پاتا)

ایسا کانٹا چبھا ہے پاؤں میں
چلنا مشکل ہوا ہے گاؤں میں

کاٹ لو گے جو سایہ دار شجر
کیسے بیٹھو گے ٹھنڈی چھاؤں میں

پہلے دھرتی کے روگ ختم کرو
پھر بسیرا کرو خلاؤں میں

یہ عادی ہوگئی ہیں آدمی کا خون پینے کے
اب ان آباد سڑکوں سے تو ویرانے ہی اچھے ہیں
بھلی لگتی ہے یوں تو ہر نئی شے اس زمانے میں
مگر احباب بسمؔل جانے پہچانے ہی اچھے ہیں

بے سرو سامان تھے جو کل تک گداؤں کی طرح
تمکنت میں آج ہیں وہ بادشاہوں کی طرح


                                                اُردو غزل کسی بھی دور میں سیاسی شعور سے یکسرمحروم نہیں ملے گی۔ یہ الگ بات ہے کہ قدیم شعرا جن علامتوں اور استعاروں میںاظہارکرتے تھے، زمانوی بُعد کی بنا پراس کا ابلاغ خاطرخواہ نہیں ہوپاتا۔ 1857ء کے بعدحالی کے ہاں نسبتاً کم اور اکبر کے ہاں زیادہ واضح صورت میں اس کااظہار ملتا ہے۔ اس کے بعدعلامہ اقبال اور کسی حدتک حسرت، فانی، اصغر، جگرتک کی تمام اُردو غزل اپنے دور کے حالات اور رجحانات کے مطابق سیاسی سوچ کی لہریں باقاعدگی کے ساتھ اپنے اندر محفوظ کرتی چلی آتی ہے۔ انجمن ترقی پسندمصنّفین کے زیرِاثر بالخصوص تقسیم ملک کے بعدتک یوں لگتاہے کہ غمِ جاناں پرغمِ دوراں کاعنصرغالب آگیا ہے۔ ترجیحات کا یہی رجحان اب تک جاری ہے۔ جدیدتردور میں ترقی پسندانہ نقطۂ نظر اگرچہ اس سوچ کاواحدمحرک نہیں رہا۔ بسمل کی غزل اس سلسلے میں بھی اپنے دورکے رجحانات کاساتھ دے رہی ہے۔

ہر ایک شخص اسی کی دہائی دیتا تھا
بڑا عجیب سا منظر دکھائی دیتا تھا
محل کے سامنے اک شور تھا قیامت کا
امیرِ شہر کو اونچا سنائی دیتا تھا

                                                شخصی اخلاص اور سیاسی شعور کے علاوہ بعض دوسرے پہلوبھی ایسے ہیں جہاں بسمل نے غزل کی وساطت سے اپنی شناخت کرانے کی کوشش کی ہے اور عام روایتی انداز کے شعرا کی قطارکوتوڑا ہے۔ دراصل بسمل کامسئلہ یہ رہاہے کہ شاعری میں اپنے جن دوستوں سے صرف مشورے کی حدتک متاثررہا،مثلاً مرزانعیم بیگ مرحوم اور جن مہربانوں سے باقاعدہ اصلاح لی، وہ غزل کے روایتی حسن کے رسیاتھے،چنانچہ بسمل کے ہاں بھی غزل کے جونئے تیورپڑھنے والے کومتوجہ کرتے ہیں، وہ روایتی خدوخال ہی کے اندرسے ابھرتے ہیں۔ اس اعتبارسے ہم بسمل کوان شعراکی صف قدیم کی جانب جھکاہوارہتاہے۔ ان روایتی خدوخال میںجدیددور کاشعورجہاںجہاں دمکتاہے، بڑامزہ دیتاہے، مثلاً:

منصور تو نہیں ہوں پہ منصور کی طرح
نظارہ ہائے دار ورسن دیکھتا ہوں میں

کچھ حسرتیں ہیں نقش ونگارِ حریمِ دل
اس قصرِ خستہ حال کا درباں ہوں کیا کروں

پوچھیں گے نہ وہ حال اگر اپنی زباں سے
مرجائیں گے اظہارِ تمنا نہ کریں گے

پہلے وہ میرے نام سے بے زار تھا مگر
وردِ زباں ہیں اب مرے اشعار دیکھنا

                                                جملہ حالات وکیفیات اور حسن وجمال کے اندازواطوار کوکسی واحدماخذ سے وابستہ محسوس کرنایاخارجی احوال وحاڈثات کی کثرت کوکسی وحدت کی سمت میں ھرکت دیناہماری اُردوغزل کاابتداہی سے ایک نمایاں فکری رجحان رہا ہے۔ بسمل کی وہ پوری غزل جس کاقافیہ،بہار، نکھاروغیرہ ہے۔ اس رجحان کی ایک عمدہ مثال ہے۔ میں صرف ایک شعرکاذکر کروں گا۔ باقی اشعار آپ خودملاحظہ فرماکراس بات کی تصدیق کرسکتے ہیں:

ترے بدن کی  مہک ہے صبا کے دامن میں
 ہر عندلیبِ چمن، نغمہ بار تجھ سے ہے

                                                آخر میں،مَیں ضلع اٹک کے مقتدرکھٹڑقبیلے سے متعلق اس شخص کے بارے میں بتاتا چلوں کہ زندگی میں اپنے قبیلے کی مانند بڑے اتارچڑھاؤدیکھنے کے بعد بھی اس کی فطرت سے ’’بوئے سلطانی‘‘ نہیں گئی اور میرے مشاہدے کے مطابق اس خاص پہلومیں یہ اپنے قبیلے کی بڑی درست نمائندگی کررہا ہے۔ اگرچہ عقیدت کی بناپراس نے اس سلطانی کی علت کارخ نعت کی طرف موڑ دیا ہے، شعر دیکھیں:

درِ سلطانِ عالمؐ کا میں اک ادنیٰ گداگر ہوں
مری فطرت سے بسملؔ بوئے سلطانی نہیں جاتی

                                                اپنی بڑائی کاشعوررکھتے ہوئے اپنے آپ کو کسی بہت بڑی بلکہ،بہت ہی بڑی ہستی کے ساتھ وابستہ کرلینا، اس کے قبیلے کی پہچان بھی ہے اوراس کی اپنی پہچان بھی۔ ’’سلطان‘‘ اور ’’بوئے سلطانی‘‘ کے باہمی فرق کاجولوگ تجربہ رکھتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ ’’سلطانی‘‘ کے دورکاگزرجاناایک مسلمہ اصول اورایک تاریخی واقعیت ہے۔ اس لیے معمول کی بات ٹھہری مگر سلطانی جاتے جاتے اپنے پیچھے جوایک شاہانہ مزاج اور بلندذہنی معیارچھوڑ جاتی ہے، میرے نزدیک دکھ اور کرب کابنیادی مآخذوہی ہوتاہے۔ اگرآپ اس کرب کاتجربہ رکھتے ہیں تو ’’ساغرِ سم‘‘ کے ذریعے شناخت کرنے میں آپ کوکوئی دقت نہیں ہونی چاہیے اوراگرآپ اس تجربے سے نہیں گزرے توبسمل کی غزل اس سے متعارف کرانے میں یقینا آپ کی معاونت کرے گی۔

ڈاکٹرسعداللہ کلیم

آغا جہانگیر بخاری

بانی مدیر و چیف ایگزیکیٹو

Next Post

یوم وصال امام احمد رضاؒ خان

جمعرات اکتوبر 28 , 2021
امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ اپنے وقت کے جید عالم فاضل تھے۔ اﷲ تعالیٰ نے آپ کی ذات میں بیک وقت بہت سی خصوصیات کو جمع فرما دیا تھا۔
Ahmad Raza