ڈگری کالج کیمبلپور، خواجہ سعید اور ڈاکٹر برق

پروفیسر خواجہ سعید 1921میں پیدا ہوئے ۔ان کا تعلق سیالکوٹ سے تھا ۔ان کے والد میونسپل کمیٹی کیمبلپور میں سینیٹری انسپیکٹر تھے اور 1953میں ریٹائر ہوئے ۔ خواجہ سعید کی ایف اے تک تعلیم کیمبلپور میں ہوئی۔1945 میں گورنمنٹ کالج کیمبلپور میں فارسی کے لیکچرار لگ گئے ۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں تیس سال اردو پڑھانے کے بعد 1981میں ریٹائر ہوئے۔انہوں نے اسی مناسبت سے اپنی روداد حیات کا نام ” گورنمنٹ کالج اور میں ” رکھا۔

کیمبلپور میں تعلیم تین اداروں میں حاصل کی،اور تینوں جگہ چارچار سال پڑھا۔ پرائمری سکول 1955 تک چوتھی جماعت تک تھے۔پھر مڈل آٹھویں تک۔

1924میں گورنمنٹ کالج کیمبلپور شروع ہوا۔ اس میں بھی چار کلاسیں تھیں۔نویں سے بارہویں تک، یعنی نویں جماعت میں کالجیٹ collegiate کا رتبہ مل جاتا تھا۔  یہی صورتحال اس وقت پنجاب کے آٹھ اور کالجوں میں بھی تھی۔

کیمبلپور میں ایک ہی پرائمری سکول تھا۔1926 میں خواجہ سعید اس میں داخل ہوئے۔چوتھی میں وظیفے کا امتحان تھا۔ سارےضلعےسے لڑکے مڈل سکول میں امتحان دینے آئے۔حساب اور اردو کا تحریری ٹیسٹ تھا،جغرافیہ کا زبانی تھا ،پورا دن ٹیسٹ ہوتا رہا۔ سعید کو چار سال کے لئے چار روپے ماہوار سکالرشپ ملا۔

ڈگری کالج کیمبلپور، خواجہ سعید اور ڈاکٹر برق

ساتویں کلاس میں استاد کمزور بچوں کو فارسی اور لائقوں کو عربی پڑھاتے تھے۔سعید کا نام عربی مضمون میں لکھا گیا۔پھر اس نے لڑجھگڑ کے فارسی کو لیا۔آٹھویں کلاس میں Tonsils کا آپریشن مشن ہسپتال ٹیکسلا سے کروایا۔  اورحسب دستور خوب آئس کریم کھائی۔

نویں میں فارسی اور سائنس کے مضمون لئے اور تھرڈ ڈیویژن میں پاس ہوا۔ ایف اے میں انگلش ، فارسی،تاریخ اور حساب پڑھا اور سیکنڈ ڈیویژن میں پاس ہوا۔ فرسٹ ڈویژن بہت کم لوگوں کی آئی تھی۔

کالج کی طرف سے لڑکوں کو ٹیکسلا اور اٹک قلعہ کی سیر کرائی گئی۔ ابیٹ آباد سے پیدل  مری کئی دنوں کا سفر کرایا گیا۔

کیمبلپور میں صرف ایف اے تک کلاسیں تھیں ۔اس کے بعد لڑکے اسلامیہ کالج پشاور یا گارڈن کالج راولپنڈی چلے جاتے تھے۔ سعید کو آبائی شہر سیالکوٹ میں مرے کالج میں داخل کرا دیا گیا۔

ایم اے فارسی کے بعد سعید صاحب نے زمیندارہ کالج گجرات بطور لکچرر جائن کرلیا.  1945 میں ڈاکٹر برق محکمہ سول سپلائی میں افسر تعلقات عامہ بن گئے۔انکی جگہ خواجہ سعید  1946 میں کیمبلپور کالج آ گئے۔اس وقت R.B.Seth رام بھیجا مل سیٹھ پرنسپل، مہاویر سنگھ  وائس پرنسپل اور مرزا انعام بیگ عربی کے استاد تھے۔ اجمل صاحب اردو ، صدیق کلیم اردو ، سید مختار حسین ریاضی۔سید فضل علی فزکس کے استاد تھے۔

ایک موقع پر مرزا انعام نے کالج میں تقریر کی۔ اس کے بعد حسب سابق برق صاحب سٹیج پر پہنچ گئے اور اپنی جوابی تقریر میں مرزا صاحب کا خوب مذاق اڑایا۔ خواجہ سعید نے اجازت لے کر جوشیلی جوابی تقریر کی  ۔اس میں برق صاحب کے دلائل کا رد کیا اور ان کے انداز بیان کا مذاق اڑایا۔ کالج ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔کالج کے اساتذہ کو  برق صاحب کی طرف سے مرزا صاحب کا مذاق اڑانا پسند نہ تھا۔ لیکن سب خاموش تھے۔ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے،ان سب کی طرف سے سعید صاحب نے جواب الجواب تقریر کرکے فرض کفایہ ادا کیا۔اس طرح مرزا صاحب کی جان چھوٹی۔

پاکسان بننے کے بعد مرزا رشید انڈین ایجوکیشن سروسز IES پرنسپل بنے۔ وہ رہتک میں پرنسپل تھے۔ نومبر 1947  میں خالی ہاتھ ہوائی جہاز سے پاکستان آئے۔

انہی دنوں ڈاکٹر برق کالج واپس آ گئے۔اس وجہ سے خواجہ سعید کو اٹک کالج چھوڑنا پڑا۔ انہوں نے چند ماہ سنٹرل ماڈل سکول لاہور اور ہائی سکول کیمبلپور میں پڑھایا ۔1950 میں ان کو گورنمنٹ کالج لاہور میں لیکچرر شپ مل گئی

ڈاکٹر عبدالسلام

Next Post

بگڑا ہوا نظامِ چمن دیکھتا ہوں میں

بدھ مارچ 30 , 2022
بگڑا ہوا نظامِ چمن دیکھتا ہوں میں ہر سُو ہجومِ رنج و محن دیکھتا ہوں میں
بگڑا ہوا نظامِ چمن دیکھتا ہوں میں