طاہر اسیر اور اولیاۓ کیمبل پور
تبصرہ نگار.۔ سید حبدار قائم
طاہر اسیر کی تصنیف اولیاۓ کیمبل پور علاقائی تاریخ، روحانی روایت اور ادبی شعور کا ایک حسین امتزاج ہے۔ یہ کتاب ضلع اٹک کی اُس مقدس سرزمین پر جنم لینے والی یا وہاں مدفون اُن جلیل القدر ہستیوں 91 ہستیوں کا تذکرہ ہے جنہوں نے اپنے علم، تقویٰ، کردار اور خدمتِ خلق کے ذریعے معاشرے کو فکری اور روحانی سمت عطا کی۔ مصنف نے اس موضوع کو نہایت عقیدت، دیانت اور تحقیقی بصیرت کے ساتھ قلم بند کیا ہے۔ بنیادی طور پر اس کتاب کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن میں چار ادوار کے اولیاء کا ذکر ہے جو درج ذیل ہے:۔
1300۔ 1500
1600۔ 1700
1800۔ 1900
1900 ۔2000
176 صفحات کی یہ کتاب مختلف کتابوں کے حوالوں کے ساتھ تیار کی گئی ہے جو مصنف کی شب و روز کاوش کا ثمر ہے
کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ طاہر اسیر نے محض روایتی انداز میں اولیاء کے تذکرے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ان کے عہد کے سماجی، مذہبی اور ثقافتی حالات کو بھی پیشِ نظر رکھا ہے۔ اس سے قاری کو یہ سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے کہ یہ شخصیات کن حالات میں اُبھریں اور انہوں نے کن مسائل کے باوجود دین و اخلاق کی شمع کو فروزاں رکھا۔ مصنف کا یہ طرزِ نگارش کتاب کو محض تذکرہ نہیں بلکہ ایک دستاویزی تاریخی مطالعہ بنا دیتا ہے۔
طاہر اسیر کی زبان سادہ، رواں اور شائستہ ہے، جس میں تصنع یا غیر ضروری لفاظی نہیں پائی جاتی۔ وہ بات کو مؤثر انداز میں مختصر مگر جامع انداز میں پیش کرنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ کہیں کہیں عقیدت کا رنگ غالب آ جاتا ہے، جو اس موضوع کے حوالے سے فطری بھی ہے، تاہم اس کے باوجود مصنف نے علمی توازن اور سنجیدگی کو برقرار رکھا ہے۔
کتاب میں شامل شخصیات کے روحانی فیوض، اخلاقی تعلیمات اور اصلاحی خدمات کو اس انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ قاری محض معلومات حاصل نہیں کرتا بلکہ ان سے فکری اور اخلاقی رہنمائی بھی پاتا ہے۔ یہی پہلو اولیاۓ کیمبل پور کو محض تاریخی کتاب کی بجائے ایک اصلاحی اور تربیتی دستاویز بناتا ہے۔
یہ کتاب خصوصاً نئی نسل کے لیے نہایت اہم ہے کیونکہ یہ انہیں اپنے علاقے کی روحانی تاریخ، مقامی شناخت اور تہذیبی ورثے سے جوڑتی ہے۔ موجودہ دور میں جب مادیت اور تیز رفتار زندگی نے انسان کو اپنی جڑوں میں جکڑ رکھا ہے، ایسی کتب قاری کو اپنی تہذیب اور اقدار کی طرف لوٹنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔
میرے خیال میں اولیاۓ کیمبل پور کی یہ جلد اول ایک سنجیدہ، بامقصد اور قابلِ قدر تصنیف ہے جو نہ صرف ضلع اٹک بلکہ مجموعی طور پر پاکستانی صوفی روایت کے مطالعے میں اہم اضافہ ہے۔ یہ کتاب محققین، طلبہ، اساتذہ اور روحانی و تاریخی ادب سے دلچسپی رکھنے والے تمام قارئین کے لیے یکساں مفید اور لائقِ مطالعہ ہے۔
آخر میں طاہر اسیر کے لیے دعاگو ہوں کہ اللہ تعالٰی ان کی علم اور رزق میں اضافہ فرماۓ۔آمین
میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے 1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے
تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ |