راہِ سلوک اور سالک محبوب
میرے تبصرے کا عنوان کتاب کے مندرجات سے میل تو نہیں کھاتا لیکن یہ عنوان دینے کی ایک خاص وجہ ہے جو مصنف کی شخصیت سے متعلق ہے۔ اگر آپ مصنف سے نہیں بھی ملے تو بھی آپ کتاب کے مطالعے کے بعد جان جائیں گے کہ میں نے تبصرے کا یہ عنوان کیوں رکھا؟ برادرم سالک محبوب اعوان گہرے صوفیانہ مزاج کے انسان ہیں اور ان کی تحریریں بھی ان کے مزاج کے عین مطابق ہوتی ہیں اسی بناء پر میں نے اپنے تبصرے کو یہ عنوان دیا!
عرض کچھ یوں ہے کہ سفر نامہ نگاری ایک ایسی ادبی صنف ہے جو ہر نوع کے قاری کے لیے قابلِ قبول ہونے کے ساتھ ساتھ غیر معمولی دلچسپی کا عنصر رکھتی ہے اور اس صنف کو ادبی و غیر ادبی دونوں طرح کے ماحول یکساں قبول کرتے ہیں۔ اگر سفر نامہ نگار سالک محبوب اعوان جیسے کہنہ مشق اور محتاط لکھاری ہوں تو سفر نامہ کا الگ ہی لطف ہوتا ہے۔ میری خوش بختی کہ میں راہِ ادب کا ادنیٰ مسافر ہوں اور مجھے اس سفر میں برادرِ مکرم سالک محبوب جیسے ہم سفر میسر ہیں جو قدم قدم پر میری رہ نمائی کا سبب ہیں۔ حیرت ہے کہ موصوف نے زیر بحث کتاب پر تاثرات قلم بند کرنے کے لیے ناچیز کا بھی انتخاب کیا جسے ادب کا طالب علم کہنا بھی شاید مناسب نہیں خیر بہ موجب حکم کتاب ہذا پر میرے تاثرات بہ صورت تبصرہ پیش خدمت ہیں۔
سالک صاحب کے ساتھ میرے تعلقات کا آغاز سال 2019 سے تب ہوا جب پروفیسر ڈاکٹر فرہاد احمد فگار کے ہم راہ وہ ہمارے گاؤں تشریف لائے۔ ان کی شخصیت کے نمایاں اوصاف میں عجز و انکسار اور شخصی مٹھاس ہے جو ان کے ملاقاتی کو ہمیشہ ان کے ساتھ جڑے رہنے پر مجبور کرتی ہے۔ یہ خوبیاں ان کی تحریر میں بھی ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ ان کی ہر تحریر گہرے مطالعاتی تجزیے اور شعوری ارتقاء کی عکاس ہوتی ہے۔ وہ جب قلم سنبھالتے ہیں تو لفظوں میں اپنی شخصیت کی شیرینی سمو کر اس انداز سے نذرِ قارئین کرتے ہیں کہ قاری مضامین مکمل ہونے تک راہِ فرار اختیار نہیں کر سکتا۔ آپ ان کا کوئی بھی مضمون اٹھا کر دیکھ لیں تو آپ میرے بیان سے متفق ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ سفر نامے کی بات کی جائے تو جوں جوں آپ ان کی تحریر کے ساتھ سفر کریں گے تو آپ محسوس کریں گے کہ آپ بہ نفسِ نفیس اس سفر میں شریکِ سفر ہیں یہ خوبی انہیں اس صنف ادب میں نمایاں مقام عطا کرتی ہے۔ بنیادی طور پر وہ ماہر معاشیات ہیں اور اس مضمون پر ان کی پہلے سے دو کتب موجود ہیں جن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ مضمون خشک سے خشک تر ہی کیوں نہ ہو جب وہ سالک بھائی کے قلم سے ہو کر قرطاس پر بکھرے گا تو وہ الگ ہی چاشنی لیے ہوئے ہو گا۔ کتاب ہذا میں سفر لاہور کی یادداشتیں بھی حصہ بنائی گئی ہیں جس میں احقر بھی موصوف کے ہم سفر رہا۔ ان مضامین میں جا بہ جا آپ مجھے بھی مصنف کے ساتھ ساتھ پائیں گے۔ سالک بھائی کے ساتھ سفر کا اپنا ہی لطف ہے جو آپ ان کے آنے والے مضامین میں بہ قدر جسہ وصول کر پائیں گے۔ ان کی تحاریر ادبی کسوٹی پر ہر زاویے سے پورا اترتی ہیں۔ آپ کے مضامین جہاں ادب کی چاشنی سے بھرپور ہیں وہیں اپنے اندر صدیوں کی تاریخ سموئے ہوئے ہیں جو مصنف کی تصنیفی صلاحیتوں کا منھ بولتا ثبوت ہیں۔
آپ جوں جوں کتاب کے ساتھ سفر کریں گے تو اس کے مندرجات میرے تبصرے پر مہرِ تصدیق ثبت کرتے جائیں گے۔
عتیق الرحمان اعوان
بانی رکن
"قلم قبیلہ” سراڑ
مظفرآباد
08 جنوری 2026

تمام تحریریں لکھاریوں کی ذاتی آراء ہیں۔ ادارے کا ان سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
کیا آپ بھی لکھاری ہیں؟اپنی تحریریں ہمیں بھیجیں، ہم نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔iattockmag@gmail.com |