قبر اندھیرے کا گھر ہے

اللہ تعالٰی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے نماز شب کی اہمیت اس وقت کچھ اور ہی  بڑھ جاتی ہے جب انسان دنیا کی رونق  نکہتِ گل، ماہتاب سے پھوٹی ہوئی کرن اور آفتاب کی ضیا کو بھول کر لحد کے اندھیروں اور موت کے مشکل ترین لمحوں کو یاد کرتا ہے۔ کیونکہ قبر انسان کو ہر روز صدا لگاتی ہے۔ کہ میں اندھیرے کا گھر ہوں، میں سانپوں اور بچھووں کا گھر ہوں لیکن ان لوگوں کے لیے نہیں جو توشہ آخرت میں نماز شب کی ضیا پاشیاں ساتھ لے کر آئیں۔ اور ان کی پیشانیاں سجدوں کے نشانوں سے روشن ہوں۔

نماز شب قبر کے اندھیرے میں روشنی بن جاتی ہے۔ اور چونکہ ہر مرنے والے انسان کی موت میں فرق ہوتا ہے۔ کسی کو عذاب قبر ہوتا ہے۔ اور کسی کے لیے قبر جنت الفردوس کا پہلا دروازہ ثابت ہوتی ہے۔ اس لیے نمازِ شب سے اپنی قبر کو روشن کرنا چاییے۔

موت ایک ایسا پھل ہے۔ جس کا ذائقہ ہر کسی نے چکھنا ہے۔ زندگی چار ساعتوں پر مشتمل ایک امتحان کا نام ہے۔اور موت ایک اٹل حقیقت اور ایک نئی زندگی کا نام ہے۔ دنیا میں لیے جانے والے چند سانس جنت کی چابی بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔اور جہنم کی چابی بھی۔ موت انسان کی زندگی میں طلاطم بپا کر دیتی ہے۔ یہ اس  ساعت کا نام ہے جسکو انبیاء نے بھی پسند نہیں کیا اور اس کا ذائقہ چکھنا ہے۔

زندگی کی اسی بے ثباتی کا ذکر کر کے علامہ اقبال فرماتے ہیں۔

زندگی انسان کی ہے مانندِ مرغِ خوش نوا

شاخ پر بیٹھا کوئی دم،چہچہایا، اڑ گیا

آہ! کیا رائے ریاضِ دہر میں ہم کیا گئے

زندگی کی شاخ سے پھوٹے، کھلے مرجھا گئے۔

موت کی بدحالی کو خوشحالی میں بدلہ جاسکتا ہے۔ اور اس کا بہترین حل نماز شب میں پوشیدہ ہے۔ کیونکہ نمازِ شب لحد کے اندھیروں میں آفتاب کی اُس پھوٹی ہوئی کرن کی مانند ہے جو زندگی کی کھیتی کو ہرا کرتی ہے۔ نمازِ شب جنت میں لے جانے کا مختیار نامہ ہے۔ عذاب قبر اور عذاب حشر کی بدحالی سے بچاو کا ذریعہ ہے ۔

 مومنین کی خوشحالی کے لیے خدا وند عالم کے پاک پیغمبرؐ نے مولا علیؑ سے ارشاد فرمایا۔ یا علیؑ! تین کام مومن کی خوشحالی کا سبب بنتے ہیں:۔

١ ۔ مومن بھائیوں کی ملاقات

٢۔ روزہ دار کا روزہ افطار کرانا

٣۔ آخرِ شب میں نماز شب پڑھنا

گویا نماز شب دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی خوشنودی خداوند متعال کا باعث ہے۔

اور اس رب العزت کی خوشنودی جب ہی ممکن ہے کہ ہم اسوہ رسولؐ اور اسوہ اہلبیت عظام سے محبت کریں ۔ اہل بیت سے محبت ،رسول خدا سے محبت ہے اور رسول اللہ سے محبت اللہ سے محبت ہے۔ محمدؐ و آل محمدؐ کے بغیر جب آپ اللہ سے محبت کا دعوٰی کریں تو محبت کے لیے محبوب کا وجود لازمی ہے اور اس خالقِ کائنات کا جسم نہیں ہے۔ وہ جس سے محبت کرتا ہے۔ اسی کا ہاتھ بن جاتا ہے۔ اسی کی زبان بن جاتا ہے۔ اسی کی آنکھ بن جاتا ہے۔ اور اس نے اپنی پہچان کے لیے اپنے بندوں میں سے بندے چن لیے ہیں۔ اور اسی کے متعلق پارہ نمبر ٢٠ سورہ قصص کی آیت نمبر ٦٨ میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے۔

وربک یخلق ما یشاء ویختار ما کان لھم الخیرة o سبحان اللہ وتعالی عما یشرکون o

“اے میرے حبیب! تمہارا پروردگار جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور چن لیتا ہے بندوں کو (انتخاب کا) کوئی اختیار نہیں ہے جن چیزوں کو یہ شریک ٹھہراتے ہیں اللہ ان سے منزہ اور برتر ہے”۔

جناب قائمِ آل محمدؐ سے اسی کے متعلق استفسار کیا گیا کہ لوگوں کو (امام) چن لینے کا اختیار کیوں نہیں دیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ کیسا امام ؟

اصلاح کرنے والا یا فساد پھیلانے والا ؟

عرض کیا گیا کہ اصلاح کرنے واالا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ ممکن ہے یا کہ نہیں ۔ کہ لوگ جسے اپنے خیال  سے اصلاح کرنے والا منتخب کریں وہ حقیقتٙٙا مفسد ہو۔ عرض کیا گیا کہ ایسا تو ممکن ہے۔ آپ نے فرمایا پس یہی وجہ ہے کہ ہے کہ لوگوں کو انتخابِ امام کا اختیار نہیں دیا گیابلکہ اللہ نے یہ کام اپنے ہی ذمے رکھا ہے۔

تو بات ہو رہی تھی محبتِ الٰہی کی ۔ تو ثابت ہوا کہ آنحضورﷺ اور آپ کی طاہر اہلبیتؑ سے محبت کا اظہار ہی الفت خدا وند قدوس ہے۔ اور محبت کا معیار یہ ہے کہ محبوب کی خوشی میں خوشی منائی جائے اور محبوب کے غم میں دل مضطرب کیا جائے ۔ اور محمدؐ و آل محمدؐ  سے محبت کا بہترین اظہار ان کے بتائے ہوئے درس پر عمل پیرا  ہونا ہے۔ تقوٰی و پرہیزگاری آپ کے ہی در سے حاصل ہوتی ہے۔ کوئی مثلِ سلیمان فارسیؓ اپنے افعال کو بجا لائے تو محبت افشا ہوگی اور اس کا ثمر بھی “سلیمان اہل بیت منی” سے ظاہر ہو گا۔

محبت کے لیے علامہ اقبال فرماتے ہیں :۔

محبت کے شرر سے دل سراپا نور ہوتا ہے

ذرا سے بیچ سے پیدا ریاضِ طور ہوتا ہے

محبت ہی وہ منزل ہے کہ منزل بھی ہے صحرا بھی

جرس بھی،کارواں بھی،راہبر بھی،راہزن بھی ہے

جلانا دل کا ہے گویا سراپا نور ہوجانا

یہ پرواز جو سوزاں ہو تو شمعِ انجمن بھی ہے

اللہ جل شانہ کی محبت کے لیے شب بیداری آئمہ معصومین کا بتایا ہوا انمول خزانہ ہے۔

تقوٰی و راست بازی، عاجزی و انکساری،اور آہوں سے اظہار استغفار کے لیے جب دل حالت اضطراب میں بار بار تڑپے تو انسان کو نماز شب میں اللہ رب اللعالمین سے گڑگڑا کر لذتِ فریاد ، لذت اشک فشانی اور لذتِ استغفار مانگنے کے لیے رجوع کرنا چاہیے ۔ اسی سوز دل سے علم و عمل کا آفتاب روشن ہو کر تیرہ و تار دنیا کو بدل کے رکھ دیتا ہے۔ اور انسان بندگی کے عمل سے معراج انسانیت پر فائز ہوجاتا ہے۔ زیست کی تاریک راتوں کو تاباں کرنے کے لیے آہ سحر بہت ضروری ہے اور یہ پوشیدہ درد دل کے نہاں خانوں میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ علامہ اقبال نے شائد اسی کے متعلق لکھا ہے:۔

جلانا ہے مجھے ہر شمع دل کو سوزِ پہناں سے

تیری تاریک راتوں میں چراغاں کرکے چھوڑوں گا

ہویدا آج اپنے زخم پنہاں کر کے چھوڑوں گا

لہو رورو کے محفل کو گلستان کر کے چھوڑوں گا

hubdar qaim

سیّد حبدار قائم

کتاب ‘ نماز شب ‘ کی سلسلہ وار اشاعت

حبدار قائم

میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے ١1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے

Next Post

حیاتی دا مقصد ہے سارا محمدؐ

جمعہ اپریل 15 , 2022
حیاتی دا مقصد ہے سارا محمدؐ میڈی زندگی دا سہارا محمدؐ
حیاتی دا مقصد ہے سارا محمدؐ