جہنم کا ایندھن نہ بنو

کیا ہم اس عظیم رب کے لیے اتنی ساعتیں بھی وقف نہیں کر سکتےکہ جس نے زیست کی یہ ساعتیں ہمیں عطا کی ہیں ۔ قرآن حکیم سورہ التحریم میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے ۔

یایھا الذین امنو اقوا انفسکم واھلیکم نارا و قودھا الناس والحجارہ

التحریم

اے ایمان والوں بچاؤ  اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔

اللہ جل شانہ بڑا رحیم ہے ۔ اُ س نے مغفرت و بخشش کے لا تعداد بہانے بنائے ہیں ۔ اس لیے کہ اُس کا کوئی بھولا بھٹکا بندہ راہ مستقیم پر آنا چاہے اور وہ کسی وقت بھی توبہ کر لے تو اللہ رب العزت اس کو بخش دیتا ہے ۔ مندرجہ بالا آیت کریمہ میں اللہ رب العزت فرماتا ہے  کہ ایک شخص کی ذمہ داری محض اپنی ذات کو جہنم کے درد ناک عذاب سے بچانے کی کوشش تک محدود نہیں بلکہ اس کا کام یہ بھی ہے کہ نظام فطرت نے جس خاندان کی سربراہی کا بار اس پر ڈالا ہے انکو بھی اپنی بساط اور طاقت کی حد تک ایسی تعلیم و تربیت دے جس سے وہ خداوند غفار کے پسندیدہ انسان بنیں اور جہنم کا ایندھن بننے کی بجائے اس غفار ذات سے مغفرت طلب کریں اور رات کی وسعتوں میں اس کے آگے سجدہ ریز ہو کر اپنے صغیرہ و کبیرہ گناہوں کی معافی طلب کریں تو وہ کریم  ان کو اتنا عطا فرمائے گا جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتے ۔ نمازِ شب میں قرآن حکیم کا پڑھنا بہت عظیم اجر کے حصول کا ضامن ہے کیونکہ درسِ انقلاب یہ اللہ کی مقدس کتاب جس وقت بھی پڑھی جائے حصولِ علم و حکمت کا باعث ہے۔ اس کی فیوض و برکات اتنی زیادہ ہیں کہ ان کا شمار کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ اسی لیے تو حکم ہے کہ

  تم میں بہتر وہ ہے جو قرآن پڑھے اور دوسرے لوگوں کو اس کی تعلیم دے

 نمازِ شب اور  قرآن حکیم کے حسیں امتزاج سے شب کی ہر ساعت نور میں جلوہ طور کا سماں پیش کرتی ہے ہر لمحہ نکھر کر گلاب بن جاتا ہے فضا کی تاریکی درخشانی میں بدل کر نمازی کو حیرت و استعجاب  سے نکال کر علم و حکمت کے کئی در وا کرتی ہے ۔ قرآن حکیم کی تلاوت نمازِ شب میں ایک عجیب لطف عطا کرتی ہے۔ خالق کائنات نے اس کا اتنا زیادہ اجر رکھا ہے کہ دور حاضر کا سیاہ کار انسان نمازِ شب پڑھ کر اعلٰی مقام پر فائز ہو جاتا ہے اسی لیے تو نمازِ شب کو مال اور دولت کی زینت قرار دیا گیا ہے ۔ جب باب علم پر دستک دیں تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ نماز شب میں قرآن حکیم فرقان حمید کی تلاوت کا اجر ہے

” ماہنامہ تحریک ” کے باب نمازِ شب کی فضیلت میں مولانا اسد علی شجاعتی فرماتے ہیں :۔

“” ایک شخص نے مولا علی کرم اللہ وجہہ سے پوچھا کہ قرآن کی تلاوت کے لیے رات کو جاگنا کیسا ہے ؟

تو آپ نے جواب میں فرمایا۔

میں مبارک باد دیتا ہوں ہر اس شخص کو جو رات کا کچھ نہ کچھ حصہ عبادت و نماز میں گزار دیتا ہے۔

مولا علی علیہ السلام

           جو شخص رات کا دسواں حصہ خدا کے لیے اور اسکی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے صرف کر دیتا ہے تو خدا فرشتوں سے کہتا ہے کہ میرے اس بندے کا ثواب آج کی شب اگنے والے تمام درختوں پتوں اور دانوں کی تعداد کے برابر لکھ دو۔اس تعداد میں دنیا میں موجود تمام چراگاہوں ، بید کی تمام شاخوں اور گھاس پھوس کی تمام پتیوں کی گنتی بھی شامل کر دو!

اور جو شخص رات کا نواں حصہ عبادت میں گزارتا ہے خدا اس کی مراد پوری کر دیتا ہے ۔ اس کو بخش دیتا ہے اور قیامت کے دن نامہ اعمال اس کے داہنے ہاتھ میں دیتا ہے ۔ اور جو شخص رات کا آٹھواں حصہ عبادت میں گزارتا ہے اس کو خدا ایسے شخص کے برابر ثواب دیتا ہے جس نے سچی نیت کے ساتھ میدان جہاد کی سختیوں کو برداشت کیا ہو اور شہید ہو گیا ہو ! صرف یہی نہیں بلکہ اس کو اتنی اجازت بھی عطا فرماتا ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کی شفاعت کر سکے۔

         اور جو  شخص رات کا ساتواں حصہ نماز پڑھتے ہوئے گزار دیتا ہے ۔ حشر کے دن قبر سے کچھ اس عالم میں نکلے گا کہ اس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح دمکتا ہوا ہوگا۔ صرف یہی نہیں بلکہ وہ پل صراط سے بہت آرام کے ساتھ گزر جائے گا۔

اور جو شخص رات کا چھٹا حصہ نماز شب پڑھنے میں گزار دیتا ہے اس کا نام خدا کی طرف رجوع کرنیوالوں میں لکھ دیا جاتا ہے اور اس کے پچھلے تمام گناہ معاف ہو جاتے ہیں ۔

اور جو شخص رات کا پانچواں حصہ عبادت و نماز میں بسر کر دیتا ہے مرنے کے بعد حضرت ابراھیم خلیل اللہؑ  کے ساتھ ہو گا۔

اور جو شخص رات کا چوتھا حصہ نماز میں صرف کرتا ہے وہ ایسے حضرات میں شمار ہو گا جو تیز ہوا کی طرح پل صراط سے گزر جائیں گے صرف یہی نہیں بلکہ بہشت میں ان کے درجوں کا بھی کوئی حساب معین نہیں ہو گا ۔

اور جو شخص رات کا تیسرا حصہ نماز پڑھتے ہوئے گزار دیتا ہو کوئی فرشتہ ایسا باقی نہیں رہتا

جو خدا کی جانب سے ملنے والے اس کے مقام کو دیکھ کر اس پر رشک نہ کرے ۔ اسے کہا جائے گا کہ جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس سے چاہو داخل ہو جاو۔

اور جو شخص آدھی رات نماز شب پڑھتے ہوئے بسر کر دیتا ہے اگر زمین کو ستر ہزار مرتبہ سونے سے بھر دیا جائے تب بھی اس کی جزا پوری نہیں ہوتی ! اگر کوئی شخص حضرت اسماعیلؑ  پیغمبر کی نسل کے ستر غلاموں کو آزاد کرے تب بھی وہ آدھی رات نماز پڑھنے والے کی برابری نہیں کر سکتا !

     اور جو شخص دو تہائی رات نماز شب پڑھتے ہوئے گزار دیتا ہے اس کی نیکیاں رات ان ذرات کی طرح کثیر ہوتی ہیں۔ جو ٹیلے کی شکل میں جمع ہوگئی ہوں اور ٹیلا بھی ایسا جو کوہ احد سے دس گنا زیادہ بڑا ہو اور جو شخص پوری رات قرآن مجید کی تلاوت ، رکوع ، سجود، اور خدا کے مسلسل ذکر میں گزار دیتا ہے تو خدا اس کو کم از کم ثواب ضرور عطا فرماتا ہے کہ اس کے تمام گناہوں کی تلافی ہو جاتی ہے وہ ایسا بھی بن جاتا ہے  جیسے آج ہی دنیا میں آیا ہو صرف یہی نہیں بلکہ خدا نے جتنی بھی قسم کی نیکیاں اور جتنے بھی درجے بنائے ہیں ۔ اتنی نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں لکھ دی جاتی ہیں ۔ اس کی قبر ہمیشہ حشر تک بر قرار رہنے والےنور سے روشن رہتی ہے ۔ اس کا دل گناہ اور حسد سے پاک رہتا ہے وہ دنیا میں بھی عذاب سے آزاد قرار دیتا ہے۔ اسے ” امان پانے والوں ” کے ساتھ محشور کیا جاتا ہے ۔ اور خدائے تعالٰی اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے ۔

اے میرے فرشتو میرے بندے کو دیکھو وہ رات بھر میری خوشنودی کے لیے بیدار رہا۔ اس کو جنت میں جگہ دو اور ایک لاکھ شہر اس کے نام لکھ دو اور ایسے شہر کہ جو اس کو پسند آئیں ۔ جو بھی اس کی خواہش ہے اور اس کے خیال میں جو  بھی ہو اسے دے دو ۔ اس کی خواہش پوری کر دو ۔ میں نے اسکی عزت بڑھا دی ہے اور اسے اپنا قرب عطا کیا ہے اس کے علاوہ بھی میں اجازت دیتا ہوں کہ اس کو اپنی مرضی سے جو چاہے میری فراہم کی ہوئی نعمتوں سے دیتے رہو۔””

جب اتنا زیادہ اجر دیکھا تو میرا وجدان یوں اظہار کرنے لگا :۔

مجھے رب کی الفت، جنوں مل گیا ہے

تہجد سے دل کو سکوں مل گیا ہے

گناہوں پہ رویا تو قائم خدا سے

ہمیشہ سکونِ دروں مل گیا ہے

hubdar qaim

سیّد حبدار قائم

کتاب ‘نماز شب’ کی سلسلہ وار اشاعت

حبدار قائم

میرا تعلق پنڈیگھیب کے ایک نواحی گاوں غریبوال سے ہے میں نے اپنا ادبی سفر 1985 سے شروع کیا تھا جو عسکری فرائض کی وجہ سے ١1989 میں رک گیا جو 2015 میں دوبارہ شروع کیا ہے جس میں نعت نظم سلام اور غزل لکھ رہا ہوں نثر میں میری دو اردو کتابیں جبکہ ایک پنجابی کتاب اشاعت آشنا ہو چکی ہے

Next Post

موم کا پتھر

ہفتہ جولائی 31 , 2021
“موم کا پتھر” کیمبل پور کے معروف شاعر، ادیب و افسانہ نگار احسان بن مجید کا افسانوی مجموعہ ہے۔
Mom Ka Pathar