ماہ و انجم ؔ کو سلام -انجم صدیقی بہرائچی

شہر بہرائچ کے قدیم  روحانی اورعلمی خانوادے  حضرت مخدوم شیخ بڈھن شاہ بہرائچی رحمہ اللہ کے چشم و چراغ مشہور و معروف شاعر سابق پرنسپل آزاد انٹر کالج بہرائچ الحاج عقیل احمد صدیقی جو ادبی دنیا میں  انجمؔ صدیقی  کے نام سے جانے اور پہچانے گئے   کچھ عرصہ قبل فالج کا اثر ہوا تھا اور تقریباً ایک ماہ تک لکھنؤ اور بہرائچ کے نرسنگ ہومس میں زیر  علاج رہے اور کچھ دنوں پہلے ہی گھر پر منتقل ہوئے جہاں عید الضحیٰ کےروز۱۰؍ ذی الحجہ  ۱۴۴۲ھ مطابق ۲۱؍ جولائی ۲۰۲۱ء کو بوقت شام چھ بجے اپنے مالک حقیقی سے جا ملے۔دوسرے دن جمعرات کو آپ کی نماز جنازہ مشہور عالم اور آپ کے عزیز حضرت مولانا شمس الدین رضوی صاحب نے مسجد شیخ قاضی چندن   میں پڑھائی اور  خاندانی قبرستان واقع آستانہ مخدوم بڈھن شاہ میں جد امجد کے قریب سپرد خاک کیا گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔

anjum bahraichi
انجم بہرائیچی

انجم  صاحب  کی پیدائش ۲؍جولائی ۱۹۴۵ءکو شہر بہرائچ کے محلہ شیخ یحیٰ پورہ(شیخیاپورہ )میں ہوئی تھی۔ آپ کے والد کا نام حاجی مجیب اللہ صدیقی تھا۔ جو صاحب زاہد شب بیدار ،مصلح قوم ،صوفی منش اور ایک درد مند اانسان تھے۔آپ کی والدہ شہر بہرائچ کے مشہور صوفی شاعر حضرت صوفی ابو محمد واصل بہرائچی (متوفی نومبر ۲۰۱۸ء) کی ہمشیرہ تھی۔ انجم ؔصدیقی کا تعلق شہر بہرائچ کے ایک قدیم علمی خانوادہ سے تھاجہاں تصوف اور شاعری کے چرچے تھے۔ آپ کی ابتدائی تعلیم ماڈل اسکول (ناز میموریل اسکول )بڑی ہاٹ میں ہوئی پھر انٹر تک گورنمنٹ انٹر کالج بہرائچ سے تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد آپ نے گورکھپوریونیورسٹی اور اودھ یونیورسٹی فیض آباد سے ایم۔ اے(اردو تاریخ)،بی۔ ایڈ،ادیب کامل کی سند حاصل کی۔ پوسٹ گریجویٹ کرنے کے بعد آپ نے شہر بہرائچ کے مشہور تعلیمی ادارہ آزاد انٹر کالج میں استاد ہو گئے اور وہی سے پرنسپل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔

انجمؔ صاحب کے ادبی سفر کا آغاز۱۹۶۴ء؁میں ہوا ۔ آپ غزل کے ممتاز شاعر ہیں۔آپ نے ملک کے تما م مشاعروں میں شرکت کی ہے اور ملک اور بیرون ملک کے ادبی جریدوں میں آپ کی غزلیں اور نظمیں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ آپ نے غزلوں اور نظموں کے علاوہ قطعات اور گیت بھی لکھے ہیں۔ انجم ؔ صدیقی کے کلام میں تصوف اور تغزل کا ایسا حسین امتزاج ملتا ہے جس کی مثال اردو ادب میں کم ہی ملتی ہے۔ مومنؔ اردو کے شہنشاہ تغزل ہیں ان کی خصوصیت یہ ہے کہ اپنے مقطوں میں انھوں نے اپنے تخلص کی رعایت سے بڑا فائدہ اٹھایا ہے۔اسی طرح انجم ؔ صاحب نے بھی اپنے مقطوں میں تخلص کا بہت شاندار استعمال کیا ہے۔

محمد نذیرخاں آپ کے بارے میں لکھتے ہیں:۔

انجم ؔ صدیقی شہر و صوبہ کے ایک معروف غزل گو شاعر ہیں۔ملک و بیرون ملک بھی کسیقدر متعارف ہیں۔آپ کی شہرت کا سبب کل ہند مشاعروں میں آپ کی شرکت اور اندرون اور  بیرون ملک کے ادبی جریدوں میں ان کی غزلوں اور نظموں کی اشاعت ہے۔                                                 انجم ؔصدیقی ایک خالص غزل گو شاعر تھے۔انہوں نے قطعات ،نظمیں اور گیت بھی لکھے تھے ،مگر ان میں بھی تغزل پوری طرح موجود ہے۔آپ میں اچھے غزل گو شاعر کی تمام صلاحتیں موجود تھی۔ان کا مذاق محبت درد وغم کا لذت شناس ہے۔نظر کی بلندی اور ذوق کی شائستگی نے ان کے کلام کو ابتذال اور رکاکت سے پاک رکھا ہے۔انجم ؔصاحب حُسن و عشق دونوں کی عظمت کے قائل ہیں۔                  

محمد نذیر خاں لکھتے ہیں :۔

’’انجم ؔصدیقی کے یہاں تصوف اور تغزل کا ایک ایسا حسین امتزاج ملتا ہے جس کی مثال اردو کے شعراء میں بہت کم ملتی ہے ۔محبوب حقیقی سے ان کا قلبی رابطہ اور تجربہ جن پیمانۂ غزل میں ڈھلتا ہے تو قوس قزح کی رنگینی اور جام و مینار کی کھنک پیدا ہو جاتی ہے۔ جس سے سامع و قاری میں وجد آور کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔تصوف کے رخ زیبا کو تغزل کے غازہ سے نکھار کر پیش کرنے کی فنکاری الفاظ کی تلاش تراکیب کی ندرت محاورات کی صحت کا التزام ان کی شاعری کو جونابناکی اور تابندگی عطا کرتے ہیں اسکی تابشیں ذہن کو منور دل کو تواناں اور احساس جمال کو تازگی بخشتی ہیں ۔(تابشیں،۱۹۹۴)

عبرت ؔ بہرائچی لکھتے ہیں:۔

”انجم ؔ کی غزل گوئی بڑے اونچے درجہ کی چیز ہے۔دبستان بہرائچ میں انجم ؔ کے نام کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ان کاشمار اچھے غزل گو شعراء میں کیا جاتا ہے ۔کلام بہت لطیف اور نازک ہوتا ہے۔غزلوں کو مہذبانہ اور شریفانہ رنگ وروپ سے آراستہ وپیراستہ کرتے ہیں۔حسرتؔ موہانی کے مداح ہے۔انجم کی فکربلندخیال آفرینی اپنی راہ آپ بنانے والی ہے۔پامالی اور فرسودہ سے ان کی طبعیت گریز کرتی ہے۔شوکت الفاظ ،تخیل کی رنگینی اور مضامین کی طر فگی ان کی غزلوں کے خاص جوہر ہیں۔ “(تابشیں،۱۹۹۴،ص ۱۴)

حضرت اظہار ؔ وارثی آپ  کے بارے میں لکھتے ہیں:۔

”انجمؔ صدیقی نے اپنی غزلوں میں غزل کی روایات کو قائم رکھتے ہوئے پر اثر انداز اور سلیس زبان میں اپنے خیالات کی ترجمانی کی ہے۔جدید عصر میں ہونے والے نت نئے تجربات اور انقلابات سے دور رہ کر انھوں نے اپنے لہجے اور اپنی شناخت کو محفوظ رکھا ہے۔ ان کی غزل کے کینوس پر معاملات حسن اور عشق کے شوخ رنگوں کی فراوانی کے باوجود بھی کہیں کہیں سماجی بدحالی ،ماحول کے کرب اور حب الوطنی کے گہرے نقوش نظر آتے ہیں۔ “(تابشیں،۱۹۹۴،ص ۱۵)

نعمت ؔ بہرائچی لکھتے ہیں:۔

”انجمؔ صدیقی صاحب انتہائی مہذب اور شریف شاعر ہیں۔یہی شرافت اور شستگی و پاکیزگی ان کے کلام میں بھی ہے۔آپ بہت احتیاط اور سمجھ بوجھ کر شعر کہتے ہیں۔آپ کا کلام ملک کے رسائل کے علاوہ لندن کے ماہنامہ ’’سفیر‘‘ نیویارک کے اردو اخبارات میں بھی شائع ہو چکا ۔ “(تذکرۂ شعرائے ضلع بہرائچ،۱۹۹۴، ص۱۲۷)

انجم صدیقی صاحب کا ایک مجموعہ کلام تابشیں(مطبوعہ۱۹۹۴ء؁) ہے جو غزلوں پر مشتمل ہے۔آپ کا ایک شعر ضلع کے رسیا پارک میں مجاہدین آزادی کے نام والے ستون کے کتبہ پر کندہ ہے۔ جو اس طرح ہے۔

جنگ آزادی کے سینانی کا یوں روشن ہے نام

انکو کرتے ہیں عقیدت سے ماہ و انجمؔ سلام

غزل

کیا خبر تھی کہ ترے ساتھ یہ دنیا ہوگی
میری جانب مری تقدیر ہی تنہا ہوگی
آرزو کی یہ سزا ہے کہ زمانہ ہے خلاف
ان سے ملنے کی خدا جانے سزا کیا ہوگی
مرمریں جسم کا چرچا لب و رخسار کی بات
میری کوئی تو غزل ان کا سراپا ہوگی
اشک غم پینے میں تکلیف تو ہوتی ہے مگر
سوچتا ہوں کہ محبت تری رسوا ہوگی
نامہ بر بھی ہے طرف دار اب ان کا انجمؔ ؔ
میرے حالات کی اب ان کو خبر کیا ہوگی

Juned

جنید احمد نور

بہرائچ، اتر پردیش

جنید احمد نور

Next Post

جہنم کا ایندھن نہ بنو

جمعہ جولائی 30 , 2021
نمازِ شب اور قرآن حکیم کے حسیں امتزاج سے شب کی ہر ساعت نور میں جلوہ طور کا سماں پیش کرتی ہے ہر لمحہ نکھر کر گلاب بن جاتا ہے
hell