اُردو غزل کا توانا شاعر …حفیظ شاہدؔ

اُردو غزل کا توانا شاعر …حفیظ شاہدؔ
محمد یوسف وحید
(مدیر:شعوروادراک خان پور)

ہر رنگِ خوب وزشت ہے میری نگاہ میں
انسان کی سرِشت ہے میری نگاہ میں
(حفیظ شاہد)
حفیظ شاہدصاحب سے ابتدائی ملاقات و تعارف جنوری ۲۰۰۴ء میں جناح ٹائون میں واقع اُن کے دولت خانے پر ہوئی تھی ۔ ادبی دنیا میں داخل ہوئے تو کچھ عرصہ ہو چکا تھا ۔ ۲۰۰۴ ء میں خان پور کے معروف تعلیمی ادارے ’ ’ حِرا پبلک ہائی سکول ‘‘ میں بطور لائبریرین کام کرتا رہاہوں ۔اسی ذمہ داری کے تحت عموماً میرا کتابوں سے واسطہ رہتا ۔ اسی دَورا ن ہی مجھے خاص طور پر حفیظ شاہد اور رفیق راشد کے ابتدائی شعری مجموعے بالترتیب (۱) ’’سفر روشنی کا ‘‘ اور چراغِ آگہی ‘‘ پڑھنے کا موقع ملا ۔
یہ جان کربے حد خوشی ہوئی کہ حفیظ شاہد اور رفیق راشد کا تعلق بھی خان پور سے ہے اور اتفاق سے دونوں احباب قریب قریب یعنی حفیظ شاہد جناح ٹائون اور رفیق راشد ماڈل ٹائون میں ہی رہائش پذیر ہیں ۔ اوّلین فرصت میں یکے بعد دیگر ے دونوں ادبی شخصیات سے ملاقات ہوئی ۔

Hafeez Shahid


میرے ادبی ذوق و شوق کے ابتدائی دَور سے ایک بات مجھے ہمیشہ متحرک اور فعال رکھتی ہے کہ نئے نئے ادبی دوستوںسے ملاقات اورادبی محفلوں میں شرکت کی جائے ۔
ادبی دنیا کے اوائل دَور میں سینکڑوں اَشعار مجھے یاد ہوا کرتے تھے۔اسی شوق کے تحت ۲۰۰۴۔۲۰۰۳ء میں ۲۰۰۰ منتخب اُردو اشعار پر مشتمل بیت بازی بھی مرتب کی ۔ اچھے شعر وں کے انتخاب اور مطالعے نے میرے اندر بھی شعر کہنے کی ہمت پید اکی ۔ ابتدائی طور پر کچھ وقت تُک بندی کرتا رہا ۔ حفیظ شاہد سے ابتدائی ملاقاتوں میں بیت بازی کامسؤدہ پیش کیا ۔ میرے ادبی ذوق کو دیکھتے ہوئے حفیظ شاہد صاحب نے مُسرّت کا اظہار کیا ۔ مسؤدے میں کچھ اَشعار کی اِصلاح بھی کی ۔بیت بازی کا وہ مسؤدہ آج بھی میرے پاس موجود ہے ۔ البتہ بعد میں دوبارہ نئے رجسٹر پربھی اسے نہایت خوش خط لکھا گیا۔
حفیظ شاہد صاحب سے ملاقاتوں کا سلسلہ وقتاً فوقتاً چلتا رہا ۔ اسی دوران ادبی ذوق کی تسکین بھی مختلف اخبارات و رسائل میں مضامین اور کہانیوں کی صورت ہوتی رہی ۔ مختلف ادبی ، سماجی اور ثقافتی فورمز میں بھی شرکت ہوتی رہی اور ساتھ ساتھ غمِ روزگار بھی چلتا رہا ۔ ۲۰۰۶ ء کے آواخر میں بچوں کے لیے ایک مجلہ شائع کرنے کا ارادہ کیا ۔ مشاورت پر حفیظ شاہد صاحب نے نہایت خوشی کا اظہار کیا ۔
سات شعر ی مجموعوںکے خالق‘ اُردو غزل کا توانا حوالہ ‘ حفیظ شاہد جسے گزشتہ ۷۰ سالوں میں اقلیمِ سخن کے نامور اور قد آور اُدبا ء و شعرا ء نے اپنے اپنے انداز اور الفاظ میں خوب صورت خراجِ تحسین پیش کیا ہے ۔
حفیظ شاہد کی ساری شاعری جدید انقلابی ، سماجی او ر معاشرتی روّیوں کے تجزیوں سے بھر پور ہونے کے ساتھ ساتھ مکمل کلاسیکی ہیئت میں غزل کے مزاج سے سراپا ہم آہنگ ہے ۔ حفیظ شاہد کی غزل میں وہی تغزل اور رنگ و مٹھاس ہے جس سے اُردو اور فارسی کی غزلیہ شاعری متصف ہے ۔ اُردو غزل گوئی میں اُن کا نام کوئی نیا نہیں ہے ۔ حفیظ شاہد کو غزل گوئی کا بڑا سلیقہہے ۔ غزل کے چند شعر ملاحظہ فرمائیں ؎
یہ اعجازِ محبت ہے، محبت بے اثر کب ہے
تمہیں اپنی خبر کب ہے، ہمیں اپنی خبر کب ہے
رموزِ زندگی کی جو حقیقت تک پہنچ جائے
میسر اہلِ دُنیا کو ابھی ایسی نظر کب ہے
ابھی دیوارِ قصرِ شامِ غم کے پار کیا دیکھیں
ہمیں حاصل چراغِ وسعتِ فکر و نظر کب ہے
ابھی اِس شہر میں اپنی پذیرائی نہیں ممکن
ابھی اِس شہر میں دستورِ توقیرِ ہُنر کب ہے
ہمیں جانا ہے شاہدؔ، منزلِ شہرِ تمنا تک
مگر آسان یہ شہرِ تمنا کا سفر کب ہے
اس غزل کے اور شعر بھی قابلِ توجہ ہیں ۔ اس کا مطلع خاص طور پر لائقِ تحسین ہے ۔ اس مطلع میں کوئی بڑا فلسفہ نہیں ہے بلکہ نہایت سادا الفاظ میں بات صرف یہ کہی گئی ہے کہ ہر آدمی اپنے ذاتی تجربے کی روشنی میں محبت کی بے کراں تاثیر کو محسوس کر سکتا ہے ۔
حفیظ شاہد کی ایک اور غز ل کے چارشعر ملاحظہ فرمائیں :
یہ پیکرِ جمال تو عتاب کے لئے نہیں
مرے خدا یہ آدمی عذاب کے لئے نہیں
یہ مجھ سے احتراز کیوں، یہ مجھ سے اجتناب کیوں
سوال تجھ سے ہے مگر جواب کے لئے نہیں
جو غم اُٹھا چکا ہے تُو انہیں نہ اب شمار کر
یہ مختصر سی زندگی حساب کے لئے نہیں
زمیں پہ شاہدِؔ حزیں حقیقتیں تلاش کر
یہ دشتِ زندگی کسی سراب کے لئے نہیں
ان اشعار میں غزل کا وہ حسن بھی ہے جو حسرت ؔ‘ جگر ‘ اور فانی بدایونی کے یہاں ملتاہے اور وہ لب و لہجہ بھی حفیظ شاہدؔ کی شاعری کے لیے مختص ہے ۔ غزل کا یہ آب و رنگ نرم و عمومی حفیظ شاہدؔ کی غزلوں میں اُن کے عہد کی مروجہ غزل گوئی کے زیرِ اَثر آیا ہے ۔’’ یہ دریا پار کرنا ہے ‘‘ سے ایک غزل کے مزید چند شعر دیکھیے :
کٹھن حالات میں اپنے ارادوں کو جواں رکھنا
ہمیں آتا ہے دل میں شعلۂ غم کو نہاں رکھنا
اکیلے گھر میں کیسے وقت کاٹو گے تنِ تنہا
کوئی تصویر لٹکا کر سرِ دیوارِ جاں رکھنا
اجل اور زندگی کی دوستی اک حرفِ باطل ہے
بہت دشوار ہے پانی پہ بنیادِ مکاں رکھنا
نہ جانے اِس میں پوشیدہ ہیں اُس کی حکمتیں کیا کیا
ہمیشہ گردشوں میں یہ زمین وآسماں رکھنا
کہاں آسان ہے اہلِ سخن کی بھیڑ میں شاہدؔ
جُدا اَوروں سے اپنا طرزِ گفتارو بیاں رکھنا

idrak


یہ اشعار اسی اندازِ غز ل گوئی کی عمدہ عکاسی ہیں جن کا سکہ ‘ امیرؔ مینائی اور داغؔ کی جمائی ہوئی محفل میں چل رہا تھا ۔ حفیظؔ کا اُسلوبِ خاص ہی یہی ہے کہ غزل کو نہایت عمدگی ، شائستگی اور پاکیزگی سے پیش کرنا ہے۔ حفیظؔ کی غزل میںبھر پور زندگی جینے کے لیے’ اُمیداور روشنی‘ عمدہ دلیل ہے ۔ روشنی ان کا پسندیدہ استعارہ ہے۔بقول حفیظ الرحمن اَحسن :
’’ حفیظ شاہدؔ کی غزل ’’زندگی آمیز بھی ہے اور زندگی آموز بھی۔‘‘ انہوں نے زندگی کو اس کی تلخیوں اور رعنائیوں کے ساتھ بیان کیا ہے۔ رجائیت حفیظ شاہدؔ کی غزلوں میں روح کی طرح سرایت کیے ہوئے ہے اور یہی رجائیت روشنی کی علامت بن کر زندگی کی تلخیوں اورتاریکیوں کو کم کر رہی ہے۔
حفیظ شاہد کی شاعری ’’زندگی آمیز بھی ہے اور زندگی آموز بھی ‘‘ کی عمدہ مثال اس غزل میں ملاحظہ فرمائیں :
پریشانی میں بھی زندہ دلی سے کام لیتا ہوں
بنامِ زندگی میں زندگی سے کام لیتا ہوں
اندھیروں میں جہاں مِلتا نہیں ہے راستہ کوئی
وہاں میں اپنے دل کی روشنی سے کام لیتا ہوں
ہمیشہ آدمی سے رابطہ رکھا ہے یوں میں نے
کسی کے کام آتا ہوں، کسی سے کام لیتا ہوں
کسی دل کا اندھیرا دُور کرنا ہو اگر مجھ کو
محبت کی مقدّس چاندنی سے کام لیتا ہوں
سلیقہ زندگی کا زندگی سے میں نے سیکھا ہے
کوئی مشکل بھی ہو خندہ لبی سے کام لیتا ہوں
پہنچنے کی کسی منزل پہ میں جلدی نہیں کرتا
سفر کوئی ہو آہستہ روی سے کام لیتا ہوں
مرے مسلک میں دھوکہ دوستوں سے کُفر ہے شاہدؔ
شکایت بھی اگر ہو دوستی سے کام لیتا ہوں
غزل کے یہ اشعار مروجہ روش سے جدا ، خاص حفیظ کے لہجے اور اُسلوب میں ہیں ۔ایسامنفر د آہنگ جسے بعد میں ان کے شاگرد یاور عظیم‘ اظہر عروج اور دیگر نے اپنایا اور اپنی شعری ریاضت و مشقت سے بامِ عروج کی طرف محوِ سفر ہیں ۔
حفیظ شاہدؔکا شمار اُردو غزل کے توانالب و لہجے کے شعراء میں ہوتا ہے ۔ حفیظ شاہدؔ کی غزل گوئی پر چند مثالوں کے ساتھ اظہارِخیال کا مقصدصرف یہ ہے کہ حفیظ شاہد نے اُردو غزل کو توانائی بخشنے کے لیے ۵۰ سالوں میں ‘چھ شعری مجموعوں میںشامل ۶۰۰ غزلوں کے ذریعے کٹھن سفر طے کیا ہے ۔حفیظ شاہد ؔنے چند نظمیں بھی کہیں ۔ چند ایک شائع بھی ہوئیں لیکن حفیظ شاہد ؔنے مجموعی طور پر اپنے کسی مجموعے میں اور بالعموم تعارف میں نظم کی طرف کوئی خاص میلان نہیں رکھا ۔
حفیظ شاہد کو اعلیٰ فطری اوصاف کے ناطے جھوٹ ، نفرت ، بغض اور منافقت سے سخت نفرت تھی ۔ لیکن منفیعتاور پراگندگی و فطرتی میلان سے انسان کہاں باز آتا ہے ۔ حفیظ شاہد ؔنے اپنے ماحول میں ایسے دوستوں کو دیکھا ہے جو تیسرے درجے کے مفادات کی خاطر مکروہ منافقت پر اُتر آتے ہیں اور پھر منافقت سے کھلی دشمنی کی راہ پر چل پڑتے ہیں۔ ایسے گندے معاشرے میںپراگندہ ذہنیت کے حامل لوگ جا بجا ملتے ہیں ۔حفیظ شاہدؔ نے ایسے منافق دوستوں کواپنی شاعری میں آئینہ دکھایا ہے۔چند اشعار ملاحظہ فرمائیں :
زباں پہ اُس کی رہا دوستی کا دعویٰ بھی
سلوک اس کا مرے ساتھ ناروا بھی رہا
………
دشمنوں سے منہ چھپاتے پھر رہے ہیں ہم حفیظؔ
بھول کر ہم آ گئے تھے دوستوں کے شہر میں
………
نہ جانے دوست مرے، کیوں ہوئے مرے دشمن
امیر ہوں نہ کوئی تخت و تاج رکھتا ہوں
بے مرحلہ در مرحلہ رودادِ مسافت
انجامِ سفر اصل میں آغازِ سفر ہے
حفیظ شاہدؔ اُردو غزل کے بلند ترین مقام پر فائز ہیں ۔ اُردو غزل کے سفر میں حفیظ شاہدؔ کا حوالہ بطور اُردو غزل کا معتبر اور مضبوط شاعر کے طور پر اُردو ادب کی تاریخ میں شمار ہوگا ۔بلاشبہ حفیظ شاہد جدید اُسلوب ِغزل کے نمائندہ اور منفرد لہجے کے شاعر ہیں۔ جن کو فکر و فن، خیال و ہنر اور جذبہ و پیرائیہ اظہار کی رعنائیاں ودیعت ہوئی ہیں۔ جن کی غزلیات کے سات مجموعے منصہ شہود پر آ کر اہلِفکر و بصیرت و صاحبانِ علم و حکمت اور نقادانِ شعر و سخن سے داد و تحسین حاصل کر چکے ہیں ۔ حفیظ شاہدؔ کی غزل میں صداقت کے پھول مہکتے اور انسانی زندگی کے احساسات چمکتے ہیں۔ حفیظ کی غزل میں مٹھاس ہے اور تغزل کی نکہت ہے۔منتخب اشعار سے لطف اُٹھاتے ہیں:
کچھ نئے منظروں میں ڈھلتی ہے
زندگی رنگ جب بدلتی ہے
نرم و نازک سی اک کلی دیکھو!
کیسے کانٹوں کے ساتھ پلتی ہے
(سفر روشنی کا)
پریشانی میں بھی زندہ دلی سے کام لیتا ہوں
بنامِ زندگی میں زندگی سے کام لیتا ہوں
ہمیشہ آدمی سے رابطہ رکھا ہے یوں میں نے
کسی کے کام آتا ہوں کسی سے کام لیتا ہوں
(چراغِ حرف)
ہم اُن سے وفائوں کا ثمر مانگ رہے ہیں
ناداں ہیں کہ پانی سے شرر مانگ رہے ہیں
اک اشک بھی آنکھوں کے سمندر میں نہیں ہے
ہم خشک سمندر سے گہر مانگ رہے ہیں
(مہتابِ غزل)
جانے کیا بات ہے کہ میں تنہا
محفلِ دوستاں میں رہتا ہوں
کیا دریچوں کو بند کرنا ہے
آندھیوں نے تو اب گزرنا ہے
(یہ دریا پار کرنا ہے)
اب مرے سامنے رہگزر اور ہے
اک سفر کٹ گیا، اک سفر اور ہے
تیرے چہرے پہ تحریر ہے اور کچھ
لیرے لب پر کہانی مگر اور ہے
(فاصلہ درمیاں وہی ہے ابھی)
یہ زندگی ہے ایک حسین خواب کی طرح
یہ زندگی ہے ایک کڑا امتحان بھی
شاہدؔ مجھے یقین ہے فصلِ بہار میں
بھر جائے گا گلوں سے مرا گلستان بھی
(سورج بدل رہا ہے)
الغرض حفیظ شاہد اُردو غزل کے روشن ماضی ، حال اور مستقبل کا نمایاں حوالہ ہیں ۔ حالیہ شمارہ میں ’’خصوصی گوشہ حفیظ شاہد ‘‘ شائع کیا جانے تھا ، لیکن تحریروںاور مواد کی فراوانی کے ساتھ ساتھ وقت کے تقاضے کو نبھاتے ہوئے نثری تحریروں کے ساتھ حفیظ شاہد کا غیر مطبوعہ کلام بھی شائع کیا جارہا ہے ۔
٭
(بحوالہ :شعوروادراک ، شمارہ نمبر6،(اپریل تا جون 2021ء)حفیظ شاہد نمبر ۔ اداریہ (اپنی بات ) مدیر کے قلم سے …)
٭٭٭

muhammad yousuf waheed

محمد یوسف وحید

Next Post

کلام غالبؔ میں حالات حاضرہ کی عکّاسی

منگل دسمبر 28 , 2021
بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا آدمی کو بھی میسّر نہیں انساں ہون
Ghalib