اٹک(سٹی رپورٹر) پندرہ سو سالہ جشن ولادت مصطفیٰ ﷺ کے موقع پر انجمن نوجوانان اسلام، جمعیت علمائے پاکستان اور مرکزی سیرت کمیٹی کے زیر اہتمام سالانہ موٹر سائیکل میلاد ریلی کبوتروں والی زیارت تا فوارہ چوک، بازار کے روایتی روٹ پر نکالی گئی۔
جس کی قیادت صاحبزادہ حافظ نسیم احمد دریائے رحمت شریف، ضلعی صدر جے یو پی الحاج مفتی ابو طیب رفاقت علی حقانی، مرکزی سیرت کمیٹی کی قیادت حاجی محمد الیاس چشتی، حاجی محمد الماس چشتی، ڈاکٹر عرفان احمد قادری، ندیم رضا خان، مجاہد ایڈووکیٹ، شہزاد احمد چشتی، حاجی صبغت اللہ بابر، صاحبزادہ مفتی محمد طیب میلادی گولڈ میڈلسٹ، صاحبزادہ ڈاکٹر محمد شعبان حقانی، ملک رجب علی حقانی، ڈاکٹر علامہ یاسر اعوان، صدر انجمن نوجوانان الفلاح چیئرمین اے این ائی ماسٹر حافظ یاسر عنایت، ناظم اعلیٰ فخر محمود نورانی، محمد ابتہاج ضیاء میروی، علامہ قاری نثار احمد چشتی، حاجی محمد عارف بھٹی، حاجی ذوالقرنین حیدر، محمد ارشد حسن سنج فورس شکردرہ، ڈاکٹر ضیاء الرحمان نورانی، مسعود احمد گجر، سیکرٹری فائنانس شیر علی قادری، صاحبزادہ سید ثناء اللہ شاہ گیلانی صاحبزادہ سید عظمت شاہ گیلانی ڈھیر شریف، ڈاکٹر محبوب احمد قادری صدر تحریک منہاج القرآن، علامہ سید ممتاز حسین شاہ سنی تحریک، خالد اعوان، صاحبزادہ ثوبان اعوان، حاجی ریاض احمد بھٹی، الحاج غلام مصطفیٰ عطاری ، صاحبزادہ فیصل محمود قادری خلیفہ سالک آباد شریف، قاری طاہر محمود جامعہ قادریہ حقانیہ، صاحبزادہ قاسم حقانی، انجمن نوجوانان الفلاح صدر ٹیم ودیگر اہم شخصیات نے کی۔
اٹک ( نمائندہ خصوصی) سالانہ میلاد مصطفیٰ ﷺ و شان اولیاء کانفرنس حضرت علامہ میاں محمد داؤد نقشبندی خلیفہ مجاز دربار عالیہ موہڑہ شریف کی نگرانی میں انکی رہائش گاہ مدنی ہاوس پر ھوئی، جس میں خصوصی خطاب پیر طریقت پیر احمد فاروق زاہد سجادہ نشین آستانہ عالیہ موہڑہ شریف کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے ولیوں سے وابستہ افراد ہر قسم کے فتنوں سے محفوظ رہتے ہیں جبکہ علامہ مولانا عبدالرسول رضوی ، علامہ مسعود احمد قادری ۔انجینئر صاحبزادہ مفتی محمد طیب میلادی گولڈ میڈلسٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ چھت پہ چڑھ سکتا نہیں کوئی سیڑھی کے بغیر رب کو پا سکتا نہیں کوئی وسیلے کے بغیر۔جیسا کہ سورہ مائدہ میں ہے اللہ تعالٰی تک پہچنے کے لیے وسیلہ تلاش کرو۔علاقہ بھر کے علماء کرام نے شرکت کی، نقابت کے فرائض محمد ارسلان بدر نے سرانجام دیئے، کثیر تعداد میں عاشقان مصطفی ﷺ اور عقیدت مند احباب نے شرکت کی.
منکیرہ میں میلاد حضرت محمدﷺ اور امام جعفر صادق علیہ السلام منایا گیا
منکیرہ (نمائندہ خصوصی) گزشتہ شب میلاد النبی ﷺ اور میلاد امام جعفر صادق علیہ السلام عاشقانِ محمد آلِ محمد ﷺ نے عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا امام بارگاہ قمر بنی ہاشم ( تھلہ امام حسینؑ) نزد نیشنل بنک منکیرہ کثیر تعداد میں مسلمانوں نے شرکت کی مقررین علماء ، ذاکرین اور شعراء کرام نے اظہارِ عقیدت پیش کیا مولانا مختار حسین مطہری نے نبی پاک ﷺ سیرت مبارک پر روشنی ڈالی اور حضرت محمد مصطفیٰ صہ کی شانِ اطہر میں اشعار بھی کہہ حاضرین نے پسند کئے معروف شاعر پروفیسر قلب عباس عابس نے حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی شانِ اطہر میں خوب صورت اشعار پڑھ کر سب سے زیادہ داد وصول کی معروف شاعر و مصنف مقبول ذکی مقبول نے امام جعفر صادقعلیہ السلام کی ولادت کے حوالے سے خوب صورت نظم پیش کی جس کو محبانِ آلِ محمدﷺ نے خوب سراہا۔
ذاکرین میں تیمور عباس شاہ ، عزادار حسین شاہ اور دیگر نے خطاب کیا جس پر مومنین کے چہرے گلاب کی طرح کھِل اُٹھے مقررین نے اپنے خطاب سے پہلے ملکِ پاکستان کی سلامتی اور بے روزگار نوجوانوں کے لئے اچھا روز گار کے لئے اللّٰہ پاک سے صدقہ محمد آلِ محمد ﷺ کا دعائیں مانگی انتظامیہ جعفریہ میلاد کمیٹی منکیرہ نے شان دار اہتمام کیا اور آخر میں مٹھائی تقسیم کی گئی ہے
برصغیر پاک و ہند میں میلادِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جلوس کی باقاعدہ ابتدا کے بارے میں کوئی واضح تاریخی حوالہ نہیں ملا، مگر عمومی طور پر میلاد النبی ﷺ کی تقریبات کا انعقاد مسلمان دنیا میں صدیوں سے ہوتا رہا ہے۔ برصغیر میں یہ روایت مغل دورِ حکومت میں زیادہ نمایاں ہوئی جب میلاد النبی ﷺ کو جوش و خروش سے منانے کی تقریبات کا اہتمام کیا جانے لگا جبکہ جلوس کی باقاعدہ شکل میں نکلنے کا آغاز برطانوی دور کے دوران 19ویں صدی کے آخر اور 20ویں صدی کے اوائل میں ہوا۔ اس زمانے میں مسلمانوں نے اپنی مذہبی شناخت اور تشخص کو اُجاگر کرنے کے لیے میلاد النبی ﷺ کے جلوس اور جلسے منعقد کرنا شروع کیے جن میں عوامی شرکت بڑھتی گئی۔
میلاد النبی ﷺ منانے کی ابتدا کے بارے میں روایتی اور تاریخی ذرائع میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ ابتدائی اسلامی تاریخ میں اہلِ بیتِ اطہار علیہ السلام، صحابہِ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اور تابعین نبی اکرمﷺ کی ولادت کا دن عقیدت اور محبت سے یاد رکھتے تھے، لیکن اس کو باضابطہ طور پر جشن یا تقریب کی صورت میں منانے کا رواج بعد میں قائم ہوا۔ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانے کا باقاعدہ آغاز فاطمی خلافت (جو شیعہ مکتب فکر کی حکومت کہلاتی رہی ہے) کے دور میں ملتا ہے جو کہ 10ویں صدی کے آس پاس مصر میں قائم ہوئی۔ فاطمی حکمرانوں نے رسول کریم و آلِ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب ایام کو باقاعدہ منانے کا آغاز کیا، بعد ازاں اہلِ سنت کے حلقوں میں میلاد النبیﷺ کی تقریبات زیادہ مقبول ہوئیں اور 12ویں صدی کے بعد اس کو زیادہ جوش و خروش سے منانا شروع کیا گیا۔
یورپ کے صلیبی حملوں کے دوران مسلمانوں کو متحد کرنے اور ان میں مذہبی حمیت بیدار کرنے کے لیے میلاد النبی ﷺ کی تقریبات کو بڑھاوا دیا گیا، اور اس کے بعد یہ روایت اسلامی دنیا کے مختلف حصوں میں پھیلتی چلی گئی، یوں میلاد النبی ﷺ کی تقریبات کا آغاز کئی صدیوں پہلے ہوا، اور وقت کے ساتھ ساتھ اس کے منانے کے طریقے اور انداز میں تبدیلی آتی رہی۔
میلاد النبی ﷺ کے جلوس میں رکاوٹ ڈالنے کے حوالے سے تاریخی اعتبار سے کسی خاص شخص یا حکمران کا نام لینا مشکل ہے، کیونکہ مختلف ادوار میں اور مختلف علاقوں میں مختلف وجوہات کی بنا پر ایسے جلوسوں میں رکاوٹیں ڈالی گئی ہیں۔ برصغیر پاک و ہند کی تاریخ میں برطانوی راج کے دوران مسلمانوں کی مذہبی تقریبات اور جلوسوں پر کئی مرتبہ پابندیاں عائد کی گئیں یا رکاوٹیں ڈالی گئیں۔ برطانوی استعمار نے سیاسی وجوہات کی بنا پر مسلمانوں کی بڑی مذہبی تقریبات کو محدود کرنے کی کوشش کی تاکہ مسلمانوں کے اجتماع کو قابو میں رکھا جا سکے اور کسی قسم کی سیاسی بغاوت یا اتحاد کی فضا پیدا نہ ہو۔ انگریز حکومت نے خاص طور پر 19ویں اور 20ویں صدی میں میلاد النبی ﷺ کے جلوسوں پر کڑی نظر رکھی، اور بعض اوقات ان کو روکنے یا محدود کرنے کی کوشش کی۔ اس کے علاوہ بعض فرقہ وارانہ تنازعات اور اختلافات کی وجہ سے بھی میلاد النبی ﷺ کے جلوسوں میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔ کچھ مسلمان فرقے میلاد منانے کی حمایت کرتے تھے جبکہ کچھ اس کی مخالفت کرتے تھے اور ہیں، جس کی وجہ سے مختلف ادوار میں اور مختلف مقامات پر میلاد کے جلوسوں کو روکنے یا ان پر پابندی لگانے کی کوششیں ہوئیں۔ عمومی طور پر برطانوی راج اور فرقہ وارانہ اختلافات کو میلاد النبی ﷺ کے جلوسوں میں رکاوٹ ڈالنے کے اولین عوامل میں شمار کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان میں میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جلوس میں رکاوٹ ڈالنے کا کوئی مخصوص اور واضح واقعہ یا شخص تاریخی اعتبار سے نمایاں نہیں ہے، لیکن عمومی طور پر یہ رکاوٹیں مختلف ادوار میں سیاسی اور فرقہ وارانہ وجوہات کی بنا پر سامنے آتی رہی ہیں۔ پاکستان کے قیام کے بعد ابتدا میں میلاد النبی ﷺ کے جلوس بغیر کسی بڑی رکاوٹ کے نکالے جاتے رہے مگر 1980 کی دہائی میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور بعض حکومتی پالیسیوں کی وجہ سے مختلف شہروں میں مذہبی جلوسوں کو روکنے یا محدود کرنے کی کوششیں ہوئیں۔ یہ خاص طور پر اُس دور میں زیادہ ہوا جب ڈکٹیٹر جنرل ضیاء کے دورِ حکومت میں فرقہ وارانہ تنازعات میں شدت آئی اور شیعہ سنی تنازعات سمیت دیگر مذہبی گروہوں کے درمیان اختلافات میں اضافہ ہوا۔ اس دور میں بعض مقامات پر میلاد النبی ﷺ یا دیگر مذہبی جلوسوں کو روکنے یا ان میں رکاوٹ ڈالنے کے واقعات پیش آئے۔ رکاوٹوں کی یہ نوعیت زیادہ تر سکیورٹی وجوہات، فرقہ وارانہ فسادات کو روکنے یا قانون و نظم برقرار رکھنے کے تناظر میں ہوتی تھی۔ اس کے علاوہ بعض اوقات علاقائی انتظامیہ یا حکومتی احکامات کی وجہ سے بھی میلاد کے جلوسوں میں رکاوٹیں ڈالنے کی اطلاعات ملتی ہیں۔
میلادِ رسول/ولادتِ رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تاریخ کے حوالے سے بھی مکتبِ اہلِ تشیع اور مکتبِ اہلِ تسنن میں اختلاف پایا جاتا ہے عمومی طور پر اور اہلِ سنت مؤرخین/اکابرین کے حوالہ جات کے مطابق 12 ربیع الاول کو حضورِِ پاک کا یومِ ولادت مانا جاتا ہے اور میلاد النبیﷺ کا خوشیوں بھرا جلوس نکالا جاتا ہے جبکہ اہلِ تشیع کے مؤرخین/علما کے مطابق 17 ربیع الاول شریف کو حضورِ خاتم النبین ﷺ کا یومِ ولادت مانا جاتا ہے تاہم ایک خوش آئند بات یہ ہے کہ ملکِ پاکستان میں شیعہ سنی مکاتبِ فکر ملکر 12 ربیع الاول کو رہبرِ دو عالم ﷺکا یومِ ولادت دھوم دھام سے مناتے ہیں۔
اٹک ( ڈاکٹر شجاع اختر اعوان)جمعیت علماء پاکستان، انجمن نوجوانان اسلام اور ڈسٹرکٹ مرکزی سیرت کمیٹی رجسٹرڈ اٹک کے زیر اہتمام زیارت پارک سے میلاد چوک المعروف فوارہ چوک اٹک شہر تک مصطفائی میلاد موٹر سائیکل ریلی زیر نگرانی نگران اعلیٰ ڈسٹرکٹ مرکزی سیرت کمیٹی (رجسٹرڈ) اٹک حاجی محمد الیاس،نائب نگران اعلیٰ راشد الرحمان خان،صدر حاجی محمد الماس،جنرل سیکرٹری ندیم رضا خان،سنیئر نائب صدر ڈاکٹر عرفان احمد قادری،سجادہ نشین دریائے رحمت شریف صاحبزادہ حافظ وحید احمد،حاحبزادہ نسیم احمد،صاحبزادہ سید ثناء اللہ شاہ گیلانی ۔ صاحبزادہ سید عظمت علی شاہ گیلانی آف ڈھیر شریف،صاحبزادہ قاری اکرام خان علوی،ڈسٹرکٹ خطیب علامہ غلام محمد صدیقی،علامہ محمد یوسف حقانی،ضلعی صدر جے یو پی مفتی ابوطیب رفاقت علی حقانی،علامہ نثار احمد چشتی، صاحبزادہ مفتی محمد طیب میلادی گولڈ میڈلسٹ ناظم اعلیٰ جامعہ حقانیہ، صاحبزادہ ڈاکٹر محمد شعبان حقانی، سابق امید واران قومی وصوبائی اسمبلی ڈاکٹر ضیاء الرحمان نورانی، محمد عارف بھٹی، ملک رجب علی حقانی صدر انجمن نوجوانان الفلاح، ڈاکٹر محمد یاسر اعوان،سید اقبال حسین وارثی،عبد القیوم بٹ،ملک مجاہد ایڈووکیٹ،سردار جازو خان آف تھٹہ،شہزاد انجم بٹ۔ حاجی محمد اکمل۔ ،شہزاد احمد چشتی،صبغت اللہ بابر،سید ظہیر شاہ،محمدعارف،خالد محمود اعوان،صدر مرکزی میلاد کمیٹی رجسٹرڈ شکردرہ محمد ارشد حسن،طارق محمود،محمد احتشام،ضلعی صدر سنی تحریک اٹک علامہ ارشد القادری،صدر یوتھ سیرت کمیٹی اٹک حافظ نصرت علی خان نکالی گئی۔
ریلی کچہری چوک،کمیٹی چوک،پلیڈر لین،مدنی چوک،منصب چوک،برق روڈ،گیدڑ چوک،ستار چوک،سول بازار اوراپنے مقررہ راستو ں سے ہوتی ہوئی میلاد چوک المعروف فوارہ چوک میں پہنچی تو وہاں اور افتتاح کے موقع پر زیارت پارک کے قریب علمائے کرام نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جشن عیدمیلاد النبیؐ میں صرف جھنڈیاں،چراغاں اور سجاوٹ نہیں بلکہ نماز باجماعت کی پابندی اور برائیوں سے اپنی نوجوان نسل کو روکنے کیلئے اسوہ حسنہ پر عمل پیرا ہو کر ہی عشق رسول ؐ کا حق ادا کیا جا سکتا ہے،مقررین نے ڈسٹرکٹ مرکزی سیرت کمیٹی رجسٹرڈ اٹک کی جانب سے کامیابی ریلی پر عہدیداران کو مبارکباد پیش کی،ریلی میلاد چوک المعروف فوارہ چوک میں اختتام پذیرہوگی،جہاں شرکاء میں مٹھائی تقسیم کی گئی ہے۔
اٹک ( ڈاکٹر شجاع اختر اعوان)مرکزی سیرت کمیٹی اٹک کا نمائندہ اجلاس حاجی محمد الیاس چشتی کی نگرانی اور حاجی محمد الماس چشتی کی صدارت میں الخیر ہاوس دارالسلام کالونی اٹک میں اختتام پذیر ہو گیا۔جس میں سیرت کمیٹی کے عہدیداران علمائے کرام اور میلاد پارٹیوں کے صدور نے شرکت کی اور شایان شان طریقے سے عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم منانے کے لیے فیصلے کے گئے اختتامی دعا مغرب کی امامت کے بعد استاذالعلماء مفتی ابوطیب رفاقت علی حقانی نے کرتے ہوئے کہا کہ یہ سال 73 کے آئین بننے میں پچاس سالہ گولڈن جوبلی کے طور منایا جائے گا۔
اجلاس میں جنرل سیکرٹری ندیم رضا خان۔محمد ریاض بھٹی نے نقابت کے فرائض انجام دیے جبکہ علامہ قاری محمد یوسف حقانی ڈاکٹر عرفان احمد قادری ۔صاحبزادہ حافظ نذیر احمد قادری۔ شہزاد احمد چشتی ۔مولانا عبدالغنی نقشبندی۔ڈاکٹر علامہ محمد یاسر اعوان۔عبدالقیوم بٹ۔حاجی محمد ثقلین ۔ملک مجاہد ایڈووکیٹ۔حاجی خلیل الرحمٰن۔صاحبزادہ محمود شاہ گیلانی ڈھیر شریف۔قاری تنزیل الرحمن۔ملک شاہد اقبال اعوان راجہ فیصل محمودقادری ۔حاجی صبغۃ اللہ بابر وجملہ نمائندگان نے اظہار خیال کیا اورسپریم کورٹ کے فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مسترد کیا اور کہا کہ ناموس رسالت ﷺ ہمارے ایمان کی بنیاد ہے عدالت اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔
منکیرہ بھکر میں جشن میلاد النبی ﷺ و محفل سیرت و نعت
منکیرہ / میں گزشتہ رات میلاد النبی ﷺ منایا گیا
منکیرہ (نمائندہ خصوصی) عاشقانِ رسول ﷺ نے جشنِ ولادت باسعادت عقیدت و احترام سے منایا معروف مقررین نے خطاب کیا ذاکر بشر حسین سالک ، مولانا زوار مختار حسین طاری ، شاہد عارف ، مقبول ذکی مقبول اور دیگر نے خطاب کیا اس پر مسرت موقع پر سب کے چہرے کھلے ہوئے تھے ذاکر بشر حسین سالک ،( جھنگ ) نے نعت خوانی کی مدرسہ دارالقرآن امام جعفر صادق علیہ السّلام کے پرنسپل مولانا زوار مختار حسین طاری نے رسول پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی حیاتِ مبارکہ پر روشنی ڈالی ذاکر شاہد عارف ، (جھنگ )نے معروف نعتیں خوبصورت ترنم کے ساتھ پیش کیں۔ معروف شاعر و ادیب اور بزمِ اوجِ ادب بھکر کے بانی و چیئرمین مقبول ذکی مقبول نے نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کی ولادت باسعادت کے حوالے سے شاندار نظم پیش کی جس میں علمی و ادبی مضامین کے ساتھ ساتھ فلسفہ بھی پایا گیا حاضرینِ محفل نے خوب سراہا اور دیگر مقررین نے بھرپور انداز میں رسول پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم اور امام جعفر صادق علیہ السّلام کی حیاتِ مبارکہ میں اظہارِ محبت بیان کیا۔
یہ محفل امام بارگاہ قمرِ بنی ہاشم (تھلہ امام حسین علیہ السّلام) نزد نیشنل بنک منکیرہ منعقد ہوئی ۔میلاد النبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم اور امام جعفر صادق علیہ السّلام جوش و خروش سے منایا گیا اہلِ علاقہ نے بھرپور شرکت کی زیرِ اہتمام میلاد کمیٹی محبانِ اہلِ بیت علیہ السّلام کا یہ سالانہ میلاد مبارک بڑی شان و شوکت کے ساتھ اپنے وقت پر ختم ہوا میلاد کمیٹی کے نوجوانوں نے آخر میں مٹھائی تقسیم کی اس روحانی و خوب صورت محفل منعقد کرنے پر مبارک باد کے مستحق ہیں
اٹک ( ڈاکٹر شجاع اختر اعوان) انجمن نوجوانان اسلام، جمعیت علمائے پاکستان، انجمن طلباء اسلام اور مرکزی سیرت کمیٹی اٹک کے زیر اہتمام سالانہ عظیم الشان مصطفائی موٹر سائیکل میلاد ریلی کبوتروں والی زیارت سے نکالی گئی۔
جس کی قیادت استاذالعلماء مفتی ابو طیب رفاقت علی حقانی ضلی صدر جمیعت علمائے پاکستان، شہزاد احمد چشتی، مرکزی سیرت کمیٹی کے عہدے داران الحاج محمد الیاس، الحاج محمد الماس چشتی، ندیم رضا خان، شہزاد انجم، عبدالقیوم بٹ، ڈاکٹر عرفان احمد قادری، حاجی صبغۃ اللہ بابر، محمد ریاض بھٹی، ڈاکٹر ضیاء الرحمن نورانی، علامہ نیاز حسین اعوان، صاحبزادہ محمد طیب میلادی گولڈ میڈلسٹ، ڈاکٹر علامہ یاسر اعوان، صاحبزادہ احتشام الحق حیدر، ڈاکٹر صاحبزادہ محمد شعبان حقانی، ڈاکٹر عرفان احمد قادری، محمد ابتہاج ضیا میروی، فخر محمود نورانی، محمد ارشد حسن سنی فورس، سید محمد اقبال شاہ، صوفی محمد فیصل نقشبندی، الحاج غلام مصطفی عطاری، صاحبزادہ سید ثنا اللہ شاہ گیلانی ڈھیر شریف، صاحبزادہ سید عظمت حسین شاہ گیلانی، محمد مسعود احمد گجر سمیت کثیر افراد تعداد میں علمائے کرام زعماء و مقتدر شخصیات نے کی۔
ریلی اٹک شہر بھر کا چکر لگانے کے بعد فوارہ چوک اٹک شہر میں اختتام پذیر ہو گئی، ریلی کے انتظامیہ نے پنجاب پولیس، ٹریفک پولیس اور ضلعی انتظامیہ کا بھرپور تعاون پر شکریہ ادا کیا.
اٹک(شجاع اختر اعوان)ڈھوک پشاوری سالانہ میلاد مصطفیؐ جلوس کے افتتاح کے موقع پر علامہ مفتی ابو طیب رفاقت علی حقانی آستانہ عالیہ خوشبوئے مدینہ نقیبیہ بانی و پرنسپل جامعہ حقانیہ اٹک کینٹ دعا کی ۔تین سعیدوں کا ذکر کیا اور کہا اس وقت میلاد مصطفی منانے کے ساتھ پیغام مصطفی پر عمل کرنے کی اشد ضرورت ہے موجودہ ڈینگی سمیت بیماروں کی کثرت ہمارے لیئے لمحہ فکریہ ہے قوم اجتماعی توبہ کرے ۔
اس موقع پر سوشل میڈیا کے نمائندے کاکا جی کے گلدستہ کے پھول میاں ضیاء بخاری اور پیر سید عاشق حسین شاہ۔علامہ نیاز حسین اعوان۔جانشین فرید الملت صاحبزادہ محمد سعید قادری۔صاحبزادہ نذیر احمد قادری۔حاجی محمد الماس چشتی صدر۔ڈاکٹر عرفان احمد قادری۔ حاجی صبغت اللہ بابر چئیرمین انجمن نوجوانان اسلام ضلع اٹک مولانا محمد سعید رضوی۔مولانا محمد افسر رضوی۔ صاحبزادہ ڈاکٹر محمد شعبان حقانی ۔رانا امجدعلی عطاری اسد سویٹس ۔رجب علی حقانی اعوان صدر انجمن نوجوانان الفلاح۔ساجد محمود قادری۔حکیم چوہدری خالد محمود۔انجینئر محمد طیب میلادی گولڈمیڈلسٹ ۔ڈھوک پشاوری کی سیرت کمیٹی کے عہدیداروں سمیت دیگر ہر شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے کثیر تعداد میں تھے۔حسب سابق تنویر احمد بن حاجی محمد وزیر وجملہ انتظامیہ نے کبوتر مہمانوں کو دیکر اڑاے اور نعرہ تکبیر اور رسالت ڈاکٹر قاری محمد یاسر اعوان کی زبان سے لگا کر جلوس کی رونق کو دوبالا کیا۔دریں اثناء الحاج قاری محمد ضیاء الدین مدنی عباسی۔علامہ مفتی ابو طیب رفاقت علی حقانی نے سالانہ میلاد مصطفی تقریبات۔ماڑی۔ملاں منصور۔بولیانوال۔ھمک۔کامرہ۔مرزا ۔جامعہ غوثیہ مدیحہ للبنات فاروق اعظم کالونی ۔ڈھوک گاما حویلی محسن شہزاد۔ڈھوک شرفا میں بھی خطاب کیا اس کے بعد سالانہ عرس مبارک موہری شریف میں بھی خطاب کریں گے
اٹک : مورخہ 12 رییع الاول 1443 ھ بمطابق 19 اکتوبر2021 ء اٹک شہر میں میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے موقع پر محلہ امین آباد اٹک شہر کی نعت خوان پارٹی انجمن خدام حبیبؐ، جس کے صدر سیّد بلال حیدر بخاری اور اراکین میں محمد وحید، ملک زین، ملک حذیفہ ،سیّد عبداللہ شاہ بخاری ،سیٗد سعلال ، ملک دانش ،محمد محسن ،محمد مشتاق، ملک گل رحمان ، ریحان نبیل اور محمد نعمان شامل ہیں کو ایک سو پچیس پارٹیوں میں سے تیسری پوزیشن کے لئے منتخب کیا گیا تھا۔ نوجوانوں کی اسی نعت خوان پارٹی نے ایک اور انعام اور اعزاز اپنے نام کیا۔
مورخہ 22 رییع الاول 1443 ھ بمطابق 29 اکتوبر2021 ء کو کامل پور سیدان اٹک کینٹ میں ایک عظیم الشان جلوس بسلسلہ میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم برآمد ہوا۔ جس میں ضلع بھر سے نعت خوان پارٹیوں نے شرکت کی اور سرکار دو عالم جدّ الحسنؑ والحسینؑ خاتم الانبیاء محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں گل ہائے عقیدت نچھاور کئے۔ جلوس اپنے روایتی رستوں سے گزرتا ہوا مرکزی امام بارگاہ پر اختتام پزیر ہوا۔ جلوس کے راستوں میں اہلیان کامل پور سیدان نے نیاز اور سبیل کے سٹال لگائے جہاں نعت خوانوں اور جلوس کے دیگر شرکاء کو لنگر و نیاز پیش کی گئی۔
اس موقع پر صوبائی وزیر عزت مآب سیّد یاور عباس بخاری اپنی رہائش گاہ کے باہر بنائے گئے اسٹیج پر موجود رہے اور تمام نعت خوانوں سے ملاقات کی اور تحائف پیش کئے۔ جب کہ نومنتخب رکن کینٹ بورڈ سیّد مہدی نقوی جلوس میں شریک رہے اور مختلف اسٹیجوں پر جا کر ان کی حوصلہ افزائی کی۔
مونس رضا بلال حیدر اور دوستوں کو ٹرافی دیتے ہوئے
جلوس کے اختتام پر مرکزی امام بارگاہ میں ایک پروقار تقریب منعقد ہوئی جس میں اول ، دوم ، سوم اور حوصلہ افزائی کے انعامات تقسیم کئے گئے۔ سیّد بلال حیدر اور ہمنوا دوسرے انعام کے حقدار ٹھہرے۔ معروف عالم دین، استاد، دانشور اورکامل پور سیدان کے سادات کے بارے میں لکھی جانے والی اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ” ہجرتوں کے مسافر” کے مصنف جناب سیّد مونس رضا صاحب نے سیّد بلال حیدر اور ہمنواؤں کو اپنے دست مبارک سے دوسری پوزیشن کی ٹرافی عنایت فرمائی۔
اس پر وقار تقریب میں سیّد مہدی نقوی، معرف نعت گو شاعر سعادت حسن آسؔ، جناب سیّد خادم حسین کربلائی کے صاحب زادگان سٰیّد مجاہد نقوی، سیّد حسنین نقوی، سیّد جواد حیدر، سیّد وقار نقوی ، سیاسی و سماجی رہنما تیمور اسلم صاحب اور عوام الناس کی کثیر تعداد موجود تھی۔ اسٹیج کی نظامت کے فرائض سیّد نزاکت نقوی صاحب نبھا رہے تھے جبکہ اس مقابلے کے منصفین میں معرف شاعر جناب عقیل ملک صاحب،نعت خوان محمدعلی کونین صاحب اور ذوالفقار خان صاحب شامل تھے۔